Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2124

کتاب الحج

روکا جانے والا قربانی کرے اور وہیں سے حلال ہوجائے جہاں اس کو روکا گیا

11 hadiths in this chapter

10083

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10083

Sahih

(۱۰۰۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ بْنُ تَوْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ یُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ کَلَّمَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ لَیَالِیَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَیْرِ فَقَالاَ لاَ یَضُرُّکَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ إِنَّا نَخَافُ أَنْ یُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَقَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُعْتَمِرِینَ فَحَالَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ دُونَ الْبَیْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ہَدْیَہُ وَحَلَقَ رَأْسَہُ ثُمَّ رَجَعَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ أَبِی بَدْرٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۱۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٧٩) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ دونوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے گفتگو کی جن راتوں میں حاجی ابن زبیر کے پاس آئے۔ ان دونوں نے کہا کہ آپ اس سال حج نہ کریں، کیوں کہ ہمیں ڈر ہے کہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ نہ بن جائے تو ابن عمر (رض) فرمانے لگے : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عمرہ کی غرض سے نکلے تو مشرکین مکہ بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بن گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی ذبح کی اور اپنا سر منڈایا پھر واپس پلٹ آئے۔

10084

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10084

Sahih

(۱۰۰۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أَخِی جُوَیْرِیَۃَ حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَاہُ : أَنَّہُمَا کَلَّمَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ لَیَالِیَ نَزَلَ الْجَیْشُ بِابْنِ الزُّبَیْرِ قَبْلَ أَنْ یُقْتَلَ قَالاَ : لاَ یَضُرُّکَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ إِنَّا نَخَافُ أَنْ یُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ قَالَ : قَدْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَحَالَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ دُونَ الْبَیْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ہَدْیَہُ وَحَلَقَ رَأْسَہُ وَأُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَۃً إِنْ شَائَ اللَّہُ أَنْطَلِقُ فَإِنْ خُلِّیَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْبَیْتِ طُفْتُ وَإِنْ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا مَعَہُ فَأَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ ثُمَّ سَارَ سَاعَۃً فَقَالَ : إِنَّمَا شَأْنُہُمَا وَاحِدٌ أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّۃً مَعَ عُمْرَتِی فَلَمْ یَحِلَّ مِنْہُمَا حَتَّی حَلَّ یَوْمَ النَّحْرِ وَأَہْدَی وَکَانَ یَقُولُ : مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ وَأَہْلَّ بِہِمَا جَمِیعًا فَإِنَّہُ لاَ یَحِلُّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا یَوْمَ النَّحْرِ وَیَطُوفَ عَنْہُمَا جَمِیعًا طَوَافًا وَاحِدًا وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ یَوْمَ یَدْخُلُ مَکَّۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ وَقَوْلُہُ : یَوْمَ یَدْخُلُ مَکَّۃَ یَرْجِعُ إِلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ یَجْزِیہِ طَوَافٌ وَاحِدٌ بَیْنَہُمَا یَوْمَ یَدْخُلُ مَکَّۃَ بَعْدَ طَوَافِ الْقُدُومِ عَنْہُمَا جَمِیعًا ثُمَّ لاَ یَحِلُّ التَّحَلُّلَ الثَّانِیَ إِلاَّ بِالطَّوَافِ بِالْبَیْتِ یَوْمَ النَّحْرِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ أَیْضًا عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ بَعْضَ بَنِی عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : لَوْ أَقَمْتَ وَإِنَّمَا أَرْدَفَہُ بِذَلِکَ لأَنَّ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ أَخِی جُوَیْرِیَۃَ أَنَّ عُبَیْدَ اللَّہِ وَ{ سَالِمًا } أَخْبَرَاہُ أَنَّہُمَا کَلَّمَا وَفِی سَائِرِ الرِّوَایَاتِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَ{ سَالِمًا } کَلَّمَا وَعَبْدُ اللَّہِ أَصَحُّ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٨٠) نافع فرماتے ہیں کہ عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے ان کو بتایا کہ ان دونوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے گفتگو کی جب ابن زبیر کے پاس لشکر آیا تھا، وہ ابھی قتل نہ ہوئے تھے۔ ان دونوں نے کہا : آپ کو نقصان نہ ہوگا اگر آپ اس سال حج نہ کریں، کیوں کہ ہمیں ڈر ہے کہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل کردی جائے گی تو عبداللہ بن عمر (رض) فرمانے لگے : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے تو مشرکین مکہ بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بن گئے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کی، سر منڈایا اور فرمایا : میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کو اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، ان شاء اللہ اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ نہ ہوئی تو بیت اللہ کا طواف کروں گا، اگر رکاوٹ بن گئی تو پھر ویسا ہی کروں گا جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا۔ آپ نے ذوالحلیفہ میں عمرہ کا احرام باندھا پھر تھوڑا سا چلے اور فرمایا : ان دونوں (حج و عمرہ) کی ایک ہی حالت ہے اور فرمایا : میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کو بھی اپنے عمرہ کے ساتھ واجب کرلیا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربانی کے دن حلال ہوئے تھے اور آپ نے قربانی کی اور فرمایا : جس نے حج و عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا تو وہ قربانی کے دن ہی حلال ہوگا اور حج و عمرہ کا ایک ہی طواف کرے گا اور صفا ومروہ کی سعی کرے گا جس دن مکہ میں داخل ہوگا۔ (ب) عبداللہ بن محمد بن اسماء کہتے ہیں : جس دن مکہ میں داخل ہوا اور صفا ومروہ کی طرف واپس آیا۔ یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ حج و عمرہ سے صرف ایک طواف کفایت کر جائے گا طواف قدوم کے بعد ، پھر دوسری حلت بیت اللہ کے بعد ہوگی قربانی کے دن۔

10085

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10085

Sahih

(۱۰۰۸۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ غَالِبٍ حَدَّثَنَا سَعْدٌ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْعَوْفِیَّ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَحَالَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَنَحَرَ ہَدْیَہُ وَحَلَقَ رَأْسَہُ بِالْحُدَیْبِیَۃِ وَقَاضَاہُمْ عَلَی أَنْ یَعْتَمِرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ وَلاَ یَحْمِلَ عَلَیْہِمْ بِسِلاَحٍ وَلاَ یُقِیمَ بِہَا إِلاَّ مَا أَحَبُّوا فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ کَمَا کَانَ صَالَحَہُمْ فَلَمَّا أَقَامَ بِہَا ثَلاَثًا أَمَرُوہُ أَنْ یَخْرُجَ فَخَرَجَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۵۵۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٨١) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کی غرض سے نکلے تو مشرکین مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بن گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے مقام پر قربانی کی اور سر منڈوایا۔ اور فیصلہ ہوا کہ آئندہ سال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کریں گے، لیکن اسلحہ نہ لائیں گے اور قیام بھی اتنا جتنی دیر وہ (کفار) چاہیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آئندہ سال عمرہ کیا جیسے ان سے صلح ہوئی تھی۔ جب آپ وہاں تین دن ٹھہرلیتے تو انھوں نے کہا : اب چلے جاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے۔

10086

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10086

Sahih

(۱۰۰۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ : زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ عَنْ فُلَیْحٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَلاَ یَحْمِلَ سِلاَحًا عَلَیْہِمْ إِلاَّ سُیُوفًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ سُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٨٢) سریج بن نعمان فلیح سے نقل فرماتے ہیں ، انھوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے، تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ نہ لائیں گے۔

10087

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10087

Sahih

(۱۰۰۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ یَعْنِی ابْنَ صَالِحٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَحَلَقَ وَجَامَعَ نِسَائَ ہُ وَنَحَرَ ہَدْیَہُ حَتَّی اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلاً۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ صَالِحٍ الْوُحَاظِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۱۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٨٣) عکرمہ، ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روک دیے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر منڈوایا، بیویوں سے ہمبستری کی اور قربانی ذبح کی اور آئندہ سال عمرہ کیا۔

10088

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10088

Sahih

(۱۰۰۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ إِسْحَاقَ وَاللَّفْظُ لأَبِی أَحْمَدَ قَالاَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُخَرَّمِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ قَوْلُہُ { لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا} قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّہَا أُنْزِلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَرْجِعَہُ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَأَصْحَابُہُ مُخَالِطُو الْحُزْنَ وَالْکَآبَۃَ قَدْ حِیلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَنَاسِکِہِمْ وَنَحَرُوا الْہَدْیَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ فَقَالَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- : لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَیَّ آیَۃٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا جَمِیعًا ۔ فَقَرَأَہَا عَلَی أَصْحَابِہِ فَقَالُوا : ہَنِیئًا مَرِیئًا لِنَبِیِّ اللَّہِ قَدْ بَیَّنَ اللَّہُ مَاذَا یَفْعَلُ بِکَ فَمَاذَا یَفْعَلُ بِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی ذَلِکَ {لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الأَنْہَارُ} رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ یُونُسَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷۸۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٨٤) شیبان قتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کا فرمان : { لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا } الایۃ (الفتح : ٢) ” اللہ تیرے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور اپنا احسان تجھ پر مکمل کرلے اور تجھے دین کے سیدھے راستے پر جمائے رکھے۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) غم و پریشانی میں تھے، کیوں کہ ان کے اور مناسک کے درمیان رکاوٹ حائل ہوگئی اور انھوں نے حدیبیہ کے مقام پر قربانیاں کی تھیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ پر یہ آیت تلاوت کی۔ انھوں نے کہا : اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبارک ہو۔ اللہ نے بیان کردیا جو اپنے نبی اور ہمارے ساتھ کرے گا ؟ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : { لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } الآیۃ (الفتح : ٥) ” تاکہ اللہ مومن مردوں اور عورتوں کو جنت میں داخل کرے جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔

10089

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10089

Sahih

(۱۰۰۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ وَعَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : لَمَّا رَجَعْنَا مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَأَصْحَابُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- قَدْ خَالَطُوا الْحُزْنَ وَالْکَآبَۃَ حَیْثُ ذَبَحُوا ہَدْیَہُمْ فِی أَمْکِنَتِہِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُنْزِلَتْ عَلَیَّ آیَۃٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا جَمِیعًا ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٨٥) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : جب ہم حدیبیہ سے واپس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ غم و پریشانی میں مبتلا تھے، جب انھوں نے اپنی قربانیاں اپنی جگہوں پر ذبح کردی تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ آیت جو میرے اوپر نازل ہوئی یہ مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔

10090

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10090

Sahih

(۱۰۰۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثَلاَثَ عُمَرٍ کُلَّہَا فِی ذِی الْقَعْدَۃِ مِنْہَا الْعُمْرَۃُ الَّتِی صُدُّ فِیہَا الْہَدْیُ فَرَاسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَہْلَ مَکَّۃَ فَصَالَحُوا عَلَی أَنْ یَرْجِعَ عَنْہُمْ فِی عَامِہِ ذَلِکَ قَالَ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْہَدْیَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ حَیْثُ حَلَّ عِنْدَ الشَّجَرَۃِ وَانْصَرَفَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٨٦) مجاہد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین عمرے ذی القعدہ میں کیے۔ ایک وہ عمرہ جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قربانی روک دی گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مکہ کو پیغام روانہ کیا تو انھوں نے صلح کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئندہ سال عمرہ کریں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے مقام پر قربانی کی ، جہاں آپ نے درخت کے پاسقیام کیا تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آئے۔

10091

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10091

Sahih

(۱۰۰۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَیْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً یَقُولُ : کَانَ مَنْزِلُ النَّبِیِّ -ﷺ- بِالْحُدَیْبِیَۃِ فِی الْحَرَّۃِ وَفِیہَا نَحَرَ الْہَدْیَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَإِنَّمَا ذَہَبْنَا إِلَی أَنَّہُ نَحَرَ فِی الْحِلِّ لأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ {ہُمُ الَّذِینَ کَفَرُوا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفًا أَنْ یَبْلُغَ مَحِلَّہُ} وَالْحَرَمُ کُلُّہُ مَحِلُّہُ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالْحُدَیْبِیَۃُ مَوْضِعٌ مِنَ الأَرْضِ مِنْہُ مَا ہُوَ فِی الْحِلِّ وَمِنْہُ مَا ہُوَ فِی الْحَرَمِ فَإِنَّمَا نَحَرَ الْہَدْیَ عِنْدَنَا فِی الْحِلِّ وَفِیہِ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الَّذِی بُویِعَ فِیہِ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی {لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ إِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ} وَقَالَ فِی قَوْلِہِ {وَلاَ تَحْلِقُوا رُئُ وسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ} مَحِلُّہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ہَا ہُنَا یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ إِذَا أُحْصِرَ نَحَرَ حَیْثُ أُحْصِرَ وَمَحِلُّہُ فِی غَیْرِ الإِحْصَارِ الْحَرَمُ وَالنَّحْرُ وَہُوَ کَلاَمٌ عَرَبِیٌّ وَاسِعٌ قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا یَدُلُّ عَلَی صِحَّۃِ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٨٧) ابوعمیس فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پڑاؤ کی جگہ حدیبیہ میں حرہ تھی، وہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کی۔ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی حل میں کی ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے : { ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہُ } الآیۃ (الفتح : ٢٥) ” جنہوں نے کفر کیا اور ادب والی مسجد سے تم کو روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی تھما دیا۔ وہ اپنی جگہ نہ پہنچ سکے “ اور اہل علم کے نزدیکحرم تو پورا قربان گاہ ہے۔ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ حدیبیہ حل میں واقع ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حل میں قربانی کی اور جہاں درخت کے پاس بیعت کی گئی۔ وہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد ہے۔ اللہ کا فرمان : { لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ } الآیۃ (الفتح : ١٨) ” اللہ ان مسلمانوں سے راضی ہوچکا، جب وہ (کیکر یا بیری کے) درخت کے تلے (حدیبیہ میں) تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ “ { وَ لَا تَحْلِقُوْا رُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ } الایۃ (البقرۃ : ١٩٦) ” اور تم اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے۔ “ جہاں پر روک دیا جائے وہیں قربانی کردی جائے اور بغیر روکے قربانی کی جگہ حرم ہے۔ [صحیح ]

10092

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10092

Sahih

(۱۰۰۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِیِّ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ کَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ فَخَرَجَ مَعَہُ مِنَ الْمَدِینَۃِ فَمَرُّوا عَلَی حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ مَرِیضٌ بِالسُّقْیَا فَأَقَامَ عَلَیْہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَتَّی إِذَا خَافَ الْفَوَاتَ خَرَجَ وَبَعَثَ إِلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَأَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَہُمَا بِالْمَدِینَۃِ فَقَدِمَا عَلَیْہِ ثُمَّ إِنَّ حُسَیْنًا أَشَارَ إِلَی رَأْسِہِ فَأَمَرَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِرَأْسِہِ فَحُلِقَ ثُمَّ نَسَکَ عَنْہُ بِالسُّقْیَا فَنَحَرَ عَنْہُ بَعِیرًا قَالَ یَحْیَی : وَکَانَ حُسَیْنٌ خَرَجَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی سَفَرِہِ ذَلِکَ۔ [حسن۔ اخرجہ مالک ۷۶۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٨٨) ابوسماء جو عبداللہ بن جعفر کا غلام ہے اس نے خبر دی کہ وہ حضرت حسین بن علی (رض) کے پاس سے گزرے جو (پیٹ کے اندر پانی جمع ہوجانے والی) بیماری میں مبتلا تھے۔ عبداللہ بن جعفر نے ان کے ہاں قیام کیا ۔ جب موت کا خوف پیدا ہو وہاں سے چلے گئے اور حضرت علی بن ابی طالب اور اسماء بنت عمیس کو روانہ کردیا جو اس وقت مدینہ میں تھے۔ اس وقت حسین صرف سر سے اشارہ کرتے تھے تو حضرت علی (رض) نے ان کے سر کو مونڈنے کا حکم دیا اور ” سقیا “ نامی جگہ پر ان کی طرف سے قربانی پیش کی گئی، ایک اونٹ نحر کیا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ حسین حضرت عثمان بن عفان (رض) کے ساتھ ایک سفر میں نکلے تھے۔

10093

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10093

Sahih

(۱۰۰۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حَلَّ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ بِالْحُدَیْبِیَۃِ فَنَحَرُوا الْہَدْیَ وَحَلَقُوا رُئُ وسَہُمْ وَحَلُّوا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ قَبْلَ أَنْ یَطَّوَّفُوا بِالْبَیْتِ وَقَبْلَ أَنْ یَصِلَ إِلَیْہِ الْہَدْیُ ثُمَّ لَمْ نَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِہِ وَلاَ مِمَّنْ کَانَ مَعَہُ أَنْ یَقْضُوا شَیْئًا وَلاَ أَنْ یَعُودُوا لِشَیْئٍ ۔ [صحیح۔ ذکرہ مالک فی الموطا ۸۰۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٨٩) امام مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ان کو خبر ملی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ حدیبیہ کے مقام پر حلال ہوئے انھوں نے قربانیاں کی اور سر منڈائے۔ وہ حلال ہوئے، بیت اللہ کے طواف اور قربانیوں کے اصل جگہ تک پہنچنے سے پہلے، ہمیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی صحابی کو بھی قضا کا حکم دیا ہو، نہ ہی آپ نے بذات خود کسی چیز کو لوٹایا ہے۔