Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2074

کتاب الحج

عمرہ کرنے والا بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سر منڈوائے یا بال کتروائے

5 hadiths in this chapter

9809

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9809

Sahih

(۹۸۰۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ : سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ وَلَمْ یَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ أَیَقَعُ بِامْرَأَتِہِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَطَافَ بِالْبَیْتِ سَبْعًا وَصَلَّی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ وَطَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَقَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ قَالَ عَمْرٌو سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ : لاَ یَقْرَبُہَا حَتَّی یَطُوفَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۸۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٠٤) عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ ہم نے ابن عمر (رض) سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا، جس نے بیت اللہ کا طواف کرلیا لیکن صفا ومروہ کا طواف نہ کیا بلکہ وہ اپنی بیوی سے مجامعت کرلی ؟ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی۔ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، اور اللہ نے فرمایا : { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (الاحزاب : ٢١) ” تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں نمونہ ہے۔ “ عمرو کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ سے سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ صفا و مروہ کا طواف کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرے۔

9810

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9810

Sahih

(۹۸۰۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّ رَجُلاً اعْتَمَرَ فَغَشِیَ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَنْ یَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ بَعْدَ مَا طَافَ بِالْبَیْتِ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : فِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نَسَکٍ فَقُلْتُ : فَأَیُّ ذَلِکَ أَفْضَلُ؟ قَالَ : جَزُورٌ أَوْ بَقَرَۃٌ۔ قُلْتُ : فَأَیُّ ذَلِکَ أَفْضَلُ؟ قَالَ : جَزُورٌ۔ خَالَفَہُ أَیُّوبُ عَنْ سَعِیدٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٠٥) ابو بشر حضرت سعید بن جبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عمرہ کیا بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد اور صفا ومروہ کے طواف سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرلی۔ ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔ میں نے پوچھا : افضل کون سا ہے۔ فرمانے لگے : اونٹ یا گائے۔ میں نے کہا : پھر کون سا افضل ہے ؟ فرمانے لگے : اونٹ۔ ایوب نے حضرت سعید سے مخالفت کی ہے۔

9811

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9811

Sahih

(۹۸۰۶)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی تَوْبَۃَ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ حَاتِمٍ النَّجَّارُ الآمُلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْجُمَحِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ رَجُلاً أَہَلَّ ہُوَ وَامْرَأَتُہُ جَمِیعًا بِعُمْرَۃٍ فَقَضَتْ مَنَاسِکَہَا إِلاَّ التَّقْصِیرَ فَغَشِیَہَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّہَا لَشَبِقَۃٌ فَقِیلَ لَہُ : إِنَّہَا تَسْمَعُ فَاسْتَحْیَا مِنْ ذَلِکَ وَقَالَ أَلاَ أَعْلَمْتُمُونِی وَقَالَ لَہَا : أَہْرِیقِی دَمًا قَالَتْ : مَاذَا؟ قَالَ : انْحَرِی نَاقَۃً أَوْ بَقَرَۃً أَوْ شَاۃً قَالَتْ : أَیُّ ذَلِکَ أَفْضَلُ؟ قَالَ : نَاقَۃٌ وَلَعَّلَ ہَذَا أَشْبَہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٠٦) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میاں بیوی نے عمرہ کا احرام باندھا۔ انھوں نے عمرہ کے مناسک ادا کرلیے، لیکن بال کتروانے باقی تھے۔ مرد نے بیوی سے بال کتروانے سے پہلے مجامعت کرلی تو ابن عباس (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا۔ فرمانے لگے : یہ تو کثیر الشہوت ہے۔ جب ان سے کہا گیا : وہ سن کر حیا محسوس کر رہے تھے اور فرمانے لگے : کیا تم مجھے اس کے بارے میں بتاتے ہو۔ فرمانے لگے : قربانی دو۔ عورت نے کہا : کیا ؟ فرمایا : اونٹ یا گائے یا بکری کی قربانی کرو۔ کہنے لگی : افضل کیا ہے ؟ فرمایا : اونٹنی شاید یہ زیادہ مناسب ہو۔

9812

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9812

Sahih

(۹۸۰۷) فَقَدْ أَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی امْرَأَتَہُ فِی عُمْرَۃٍ فَقَالَتْ : إِنِّی لَمْ أُقَصِّرْ فَجَعَلَ یَقْرِضُ شَعَرَہَا بِأَسْنَانِہِ قَالَ إِنَّہُ لَشَبِقٌ یُہَرِیقُ دَمًا۔ کَذَا قَالَ لَمْ یَذْکُرْ فِیہِ ابْنَ عَبَّاسٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد ۱۵۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٠٧) حکم حضرت سعید بن جبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے حالت عمرہ میں مجامعت کرلی اس نے کہا : میں بال نہ کترواؤں گی تو وہ اپنے دانتوں سے اس کے بال کاٹنے لگے۔ فرمانے لگے : یہ کثیر الشہوۃ ہے وہ ایک خون بہائے۔ اس میں ابن عباس کا تذکرہ نہیں ہے۔

9813

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9813

Sahih

(۹۸۰۸)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ حَدَّثَنَا جَدِّی مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ہُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ : أَنَّہُ سَأَلَ الْحَسَنَ عَنِ امْرَأَۃٍ قَدِمَتْ مُعْتَمِرَۃً فَطَافَتْ بِالْبَیْتِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَوَقَعَ عَلَیْہَا زَوْجُہَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ قَالَ لِتُہْدِی ہَدْیًا بَعِیرًا أَوْ بَقَرَۃً۔ قَالَ حُمَیْدٌ وَذَکَرَ بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّہَا لَشَبِقَۃٌ قَالَ فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ الْمَرْأَۃَ شَاہِدَۃٌ قَالَ : فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ : لِتُہْدِیَنَّ ہَدْیًا بَعِیرًا أَوْ بَقَرَۃً۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٠٨) حمیر نے حضرت حسن سے بیان کیا کہ ایک عورت عمرہ کے لیے آئی ، اس نے بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرلیا، لیکن بال کٹوانے سے پہلے اس کے خاوند نے اس سے ہمبستری کرلی۔ فرمانے لگے : وہ ایک گائے یا اونٹ کی قربانی دے۔ (ب) حمید بیان کرتے ہیں کہ بکری بن عبداللہ نے ابن عباس (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا، فرمانے لگے : یہ کثیر الشہوۃ ہے۔ ان سے کہا گیا کہ عورت موجود ہے، وہ خاموش ہوگئے۔ پھر فرمایا کہ وہ اونٹ یا گائے کی قربانی پیش کرے۔