Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2054

کتاب الحج

رمی کا آغاز

4 hadiths in this chapter

9698

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9698

Sahih

(۹۶۹۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَیْدِاللَّہِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَہُ قَالَ : لَمَّا أَتَی إِبْرَاہِیمُ خَلِیلُ اللَّہِ عَلَیْہِ السَّلاَمُ الْمَنَاسِکَ عَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ عِنْدَ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی سَاخَ فِی الأَرْضِ ثُمَّ عَرَضَ لَہُ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ الثَّانِیَۃِ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی سَاخَ فِی الأَرْضِ ثُمَّ عَرْضَ لَہُ فِی الْجَمْرَۃِ الثَّالِثَۃِ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی سَاخَ فِی الأَرْضِ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : الشَّیْطَانَ تَرْجُمُونَ وَمَِّلۃَ أَبِیکُمْ تَتَّبِعُونَ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٩٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) مناسک ادا کرنے آئے تو جمرہ عقبہ کے پاس شیطان ظاہر ہوا ، انھوں نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر وہ دوسرے جمرے کے پاس ظاہر ہوا تو انھوں نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر وہ تیسرے جمرہ کے پاس ظاہر ہوا، تو انھوں نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : تم شیطان کو رجم کرو اور اپنے والد ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو۔

9699

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9699

Zaeef

(۹۶۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَلِیٍّ الْغَزَّالُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَائَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَذَہَبَ بِہِ لِیُرِیَہُ الْمَنَاسِکَ فَانْفَرَجَ لَہُ ثَبِیرٌ فَدَخَلَ مِنًی فَأَرَاہُ الْجِمَارَ ثُمَّ أَرَاہُ جَمْعًا ثُمَّ أَرَاہُ عَرَفَاتٍ فَنَبَغَ الشَّیْطَانُ لِلنَّبِیِّ -ﷺ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی سَاخَ ثُمَّ نَبَغَ لَہُ فِی الْجَمْرَۃِ الثَّانِیَۃِ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی سَاخَ ثُمَّ نَبَغَ لَہُ فِی جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی سَاخَ فَذَہَبَ۔ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ تَفَرَّدَ بِہِ ہَکَذَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ۔ [منکر۔ ابن خزیمہ ۲۹۶۷۔ حاکم ۱/۶۵۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٩٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جبریل، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کو لے کر مناسک دکھانے گئے، ان کے لیے ” ثبیر “ نمودار ہوا، وہ منیٰ میں داخل ہوئے، انھوں نے آپ کو جمرات دکھائے پھر مزدلفہ، پھر عرفات کا میدان دکھایا تو شیطان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جمرہ کے پاس ظاہر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا، پھر وہ دوسرے جمرے کے پاس ظاہر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا، پھر وہ جمرہ عقبہ کے پاس ظاہر ہوا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا۔

9700

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9700

Sahih

(۹۶۹۵)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ الْغَنَوِیِّ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : یَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ طَافَ عَلَی بَعِیرٍ بِالْبَیْتِ وَأَنَّہُ سُنَّۃٌ قَالَ : صَدَقُوا وَکَذَبُوا قُلْتُ : مَا صَدَقُوا وَکَذَبُوا؟ قَالَ : صَدَقُوا طَافَ عَلَی بَعِیرٍ وَلَیْسَ بِسُنَّۃٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَانَ لاَ یُصْرَفُ النَّاسُ عَنْہُ وَلاَ یُدْفَعُ فَطَافَ عَلَی الْبَعِیرِ حَتَّی یَسْمَعُوا کَلاَمَہُ وَلاَ تَنَالَہُ أَیْدِیہِمْ۔ قُلْتُ : یَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَدْ رَمَلَ بِالْبَیْتِ وَأَنَّ ذَلِکَ سُنَّۃٌ۔ قَالَ : صَدَقُوا وَکَذَبُوا قُلْتُ : مَا صَدَقُوا وَکَذَبُوا؟ قَالَ : صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ وَکَذَبُوا لَیْسَتْ بِسُنَّۃٍ إِنَّ قُرَیْشًا قَالَتْ دُعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ حَتَّی یَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ فَلَمَّا صَالَحُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ عَلَی أَنْ یَجِیئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَیُقِیمُوا بِمَکَّۃَ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَأَصْحَابُہُ وَالْمُشْرِکُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَیْقِعَانَ قَالَ لأَصْحَابِہِ : ارْمُلُوا ۔ وَلَیْسَ بِسُنَّۃٍ قُلْتُ : وَیَزْعُمُ قَوْمُکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَدْ سَعَی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَأَنَّ ذَلِکَ سُنَّۃٌ قَالَ : صَدَقُوا إِنَّ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ لَمَّا أُرِیَ الْمَنَاسِکَ عَرَضَ لَہُ شَیْطَانٌ عِنْدَ الْمَسْعَی فَسَابَقَہُ فَسَبَقَہُ إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ثُمَّ انْطَلَقَ بِہِ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَتَّی أَتَی بِہِ مِنًی فَقَالَ لَہُ : مُنَاخُ النَّاسِ ہَذَا ثُمَّ انْتَہَی إِلَی جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ فَعَرَضَ لَہُ یَعْنِی الشَّیْطَانَ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی ذَہَبَ ثُمَّ أَتَی بِہِ جَمْعًا فَقَالَ : ہَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ ثُمَّ أَتَی بِہِ عَرَفَۃَ فَقَالَ : ہَذِہِ عَرَفَۃُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرِی لِمَ سُمِّیَتْ عَرَفَۃَ؟ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : لأَنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ لَہُ : أَعَرَفْتَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرِی کَیْفَ کَانَتِ التَّلْبِیَۃُ؟ قُلْتُ : وَکَیْفَ کَانَتِ التَّلْبِیَۃُ؟ قَالَ : إِنَّ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ لَمَّا أُمِرَ أَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ أُمِرَتِ الْجِبَالُ فَخَفَضَتْ رُئُ وسَہَا وَرُفِعَتْ لَہُ الْقُرَی فَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٩٥) ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا کہ آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور یہ سنت ہے، انھوں نے فرمایا کہ وہ سچ جھوٹ بولتے ہیں، میں نے کہا : کیا سچ اور جھوٹ بولتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : وہ سچ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر بیت اللہ کا طواف کیا اور یہ سنت نہیں ہے ؟ کیوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لوگوں کو ہٹایا نہیں جاتا تھا تو آپ نے اونٹ پر طواف کیا تاکہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات سنیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک ان کے ہاتھ نہ پہنچیں، میں نے کہا : وہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، تو وہ کہنے لگے : انھوں نے سچ اور جھوٹ کہا ہے، میں نے کہا : کیا سچ اور جھوٹ کہا ہے ؟ کہنے لگے : سچ یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمل کیا ہے اور جھوٹ یہ بولا ہے کہ یہ سنت ہے۔ قریش نے کہا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ دماغ والے کیڑے کی موت مرجائیں تو جب انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس بات پر صلح کی کہ وہ اگلے سال آئیں اور تین دن تک مکہ میں رہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) آئے اور مشرکین قیعقان کی طرف بیٹھے تھے، آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : رمل کرو اور یہ سنت نہیں ہے۔ میں نے کہا : آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعی کی ہے اور یہ سنت ہے۔ تو انھوں نے کہا : وہ سچ کہتے ہیں جب ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک دکھائے گئے تو سعی والی جگہ پر شیطان نمودار ہوا اور ان کے مقابلہ میں دوڑنے لگا تو ابراہیم (علیہ السلام) سبقت لے گئے، پھر جبریل (علیہ السلام) آپ کو لے چلے حتیٰ کہ منیٰ پہنچے تو کہا : یہ لوگوں کے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے۔ پھر جمرہ عقبہ پر پہنچے تو شیطان نمودار ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا پھر مزدلفہ پہنچے تو کہا : یہ مشعر حرام ہے ، پھر ان کو لے کر عرفہ آئے تو کہا : یہ عرفہ ہے، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : کیا تجھے علم ہے اس کا نام عرفہ کیوں ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، انھوں نے فرمایا : اس لیے کہ جبریل نے ان سے کہا تھا : کیا آپ نے پہچان لیا ہے ؟ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : تجھے معلوم ہے کہ تلبیہ کیسے تھا ؟ میں نے پوچھا : کیسے ہے ؟ فرمانے لگے : جب ابراہیم (علیہ السلام) کو لوگوں میں اعلانِ حج کا حکم دیا گیا تو پہاڑوں کو حکم دیا گیا انھوں نے اپنے سروں کو جھکایا اور بستیوں کو آپ (رض) کے لیے بلند کیا گیا تو آپ (رض) نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا۔ [صحیح لغیرہ۔ احمد ١/ ٢٩٧۔ ابوداود ١٨٨٥۔ طیالسی ٢٦٩٧]

9701

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9701

Sahih

(۹۶۹۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ الْحَسَنِ الْعَمِّیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَائِشَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَہُوَ ابْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ عَلَی بَعِیرٍ وَزَادَ عِنْدَ قَوْلِہِ : ثُمَّ عَرَضَ لَہُ شَیْطَانٌ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ الْوُسْطَی فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی ذَہَبَ ثُمَّ تَلَّہُ لِلْجَبِینِ وَعَلَی إِسْمَاعِیلَ قَمِیصٌ أَبْیَضٌ فَقَالَ : یَا أَبَۃِ إِنَّہُ لَیْسَ لِی ثَوْبٌ تُکَفِّنُنِی فِیہِ فَعَالَجَہُ لِیَخْلَعَہُ فَنُودِیَ مِنْ خَلْفِہِ (أَنْ یَا إِبْرَاہِیمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ) قَالَ فَالْتَفَتَ إِبْرَاہِیمُ فَإِذَا ہُوَ بِکَبْشٍ أَقْرَنَ أَعْیَنَ أَبْیَضَ فَذَبَحَہُ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَقَدْ رَأَیْتُنَا نَتَّبِعُ ذَلِکَ الضَّرْبَ مِنَ الْکِبَاشِ فَلَمَّا ذَہَبَ بِہِ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ إِلَی الْجَمْرَۃِ الْقُصْوَی فَعَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ حَتَّی ذَہَبَ ثُمَّ ذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ بِنَحْوِہِ۔ قَالَ ابْنُ عَائِشَۃَ : النَّغَفُ دِیدَانٌ تَکُونُ فِی مَنَاخِرِ الشَّاۃِ۔ [صحیح لغیرہ۔ انظر قبلہ وسندہ صالح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٩٦) ابو عاصم غنوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے ، لیکن چند باتوں کا اضافہ کیا ہے، انھوں نے کہا کہ آپ نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور یہاں پر بھی اضافہ کیا کہ پھر جمرہ ٔوسطی کے پاس شیطان ظاہر ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا ، پھر اسے پیشانی کے بل لٹایا اور اسماعیل (علیہ السلام) پر سفید رنگ کی قمیص تھی تو وہ کہنے لگے : اے ابوجان ! میرے پاس ایسا کوئی کپڑا نہیں ہے جس میں آپ مجھے کفن دیں تو وہ اس قمیص کو اتارنے لگے تو پیچھے سے آواز آئی ” اے ابراہیم ! یقیناً آپ نے خواب کو سچ کر دکھایا ہے، یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ “ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے جھانکا تو سفید رنگ کا موٹی آنکھوں اور موٹے سینگوں والا مینڈھا تھا تو انھوں نے اسے ذبح کردیا، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ہم اسی قسم کے مینڈھے تلاش کرتے ہیں، پھر جبریل (علیہ السلام) ان کو جمرہ قصوی کے پاس لے گئے تو شیطان نمودار ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا، پھر باقی حدیث اسی طرح ذکر کی۔