Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2020

کتاب الحج

مزدلفہ سے طلوع شمس سے پہلے لوٹنا

4 hadiths in this chapter

9524

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9524

Sahih

(۹۵۱۹)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَیْمُونٍ یَقُولُ : شَہِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِجَمْعٍ بَعْدَ مَا صَلَّی الصُّبْحَ وَقَفَ فَقَالَ : إِنَّ الْمُشْرِکِینَ کَانُوا لاَ یُفِیضُونَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَیَقُولُونَ : أَشْرِقْ ثَبِیرُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ خَالَفَہُمْ فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۰۰۔ ابوداود ۱۹۳۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥١٩) عمرو بن میمون فرماتے ہیں : میں عمر بن خطاب (رض) کے پاس صبح کی نماز کے بعدجمع میں حاضر ہوا تو انھوں نے کہا : مشرکین سورج طلوع ہونے سے پہلے نہیں لوٹتے تھے اور وہ کہتے : ثبیر ! روشن ہوجا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی مخالفت کی اور طلوع شمس سے پہلے لوٹے۔

9525

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9525

Sahih

(۹۵۲۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ ابْنُ الشَّرْقِیِّ الْحَافِظُ إِمْلاَئً مِنْ حَفْظِہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ ہَمَّامٍ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ لِی أَیُّوبُ وَنَحْنُ ہَا ہُنَا : اذْہَبْ بِنَا إِلَی خِبَائِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّہُ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ لاَ یَنْفِرُوا مِنْ جَمْعٍ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ قَالَ مَعْمَرٌ : فَذَہَبْتُ مَعَ أَیُّوبَ حَتَّی أَتَیْنَا فُسْطَاطَہُ فَإِذَا عِنْدَہُ قَوْمٌ مِنَ الْعَلَوِیَّۃِ وَہُوَ یَتَحَدَّثُ مَعَہُمْ فَلَمَّا بَصُرَ بِأَیُّوبَ قَامَ فَخَرَجَ مِنْ فُسْطَاطِہِ حَتَّی اعْتَنَقَ أَیُّوبَ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِہِ فَحَوَّلَہُ إِلَی فُسْطَاطٍ آخَرَ قَالَ مَعْمَرٌ کَرِہَ أَنْ یُجْلِسَہُ مَعَہُمْ قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِطَبَقٍ مِنْ تَمْرٍ فَجَعَلَ یُنَاوِلُ أَیُّوبَ فِی یَدِہِ ثُمَّ قَالَ : اذْہَبُوا إِلَی ہَؤُلاَئِ بِطَبِقٍ فَإِنَّا إِنْ بَعَثْنَا إِلَیْہِمْ تَرَکُونَا وَإِلاَّ شَنَّعُوا عَلَیْنَا۔ فَقَالَ لَہُ أَیُّوبُ : مَا ہَذَا الَّذِی بَلَغَنِی عَنْکَ؟ قَالَ : وَمَا بَلَغَکَ عَنِّی قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّکَ أَمَرْتَ النَّاسَ أَنْ لاَ یَدْفَعُوا مِنْ جَمْعٍ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّہِ خِلاَفَ سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ دَفَعَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَکِنَّ النَّاسَ یَحْمِلُونَ عَلَیْنَا وَیَرْوُونَ عَنَّا مَا لاَ نَقُولُ وَیَزْعُمُونُ أَنَّ عِنْدَنَا عِلْمًا لَیْسَ عِنْدَ النَّاسِ وَاللَّہِ إِنَّ عِنْدَ بَعْضِ النَّاسِ لَعِلْمًا لَیْسَ عِنْدَنَا وَلَکِنَّ لَنَا حَقٌّ وَقَرَابَۃٌ فَلَمْ یَزَلْ یَذْکُرُ مِنْ حَقِّہِمْ وَقَرَابَتِہِمْ حَتَّی رَأَیْتُ الدَّمْعَ یَجْرِی مِنْ عَیْنِ أَیُّوبَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٢٠) معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے کہا : ہمارے ساتھ جعفر بن محمد کے خیمے میں آؤ ، کیوں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے جمع سے نہ نکلو، معمر کہتے ہیں : میں ایوب کے ساتھ گیا حتیٰ کہ ہم اس کے خیمے پر پہنچے تو اس کے پاس علوی قوم کے لوگ موجود تھے اور وہ ان کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ جب انھوں نے ایوب کو دیکھا تو کھڑے ہوئے اور خیمے سے نکلے، ایوب کے ساتھ معانقہ کیا، پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو لے کر دوسرے خیمے کی طرف گئے، معمر کہتے ہیں : انھوں نے ان کو ان لوگوں کے ساتھ بٹھانا مناسب نہ سمجھا، پھر کھجوروں کا تھال منگوایا اور ایوب کے ہاتھ میں پکڑانے لگے، پھر کہا : ان لوگوں کی طرف طبق لے جاؤ، اگر ہم ان کی طرف بھیجیں تو وہ ہمیں چھوڑ دیں گے اور اگر نہ بھیجیں تو ہمیں برا کہیں گے تو اس کو ایوب نے کہا : یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے ؟ کہنے لگے : کیا پہنچی ہے ؟ انھوں نے کہا : مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ لوگوں کو کہتے ہیں کہ جمعہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نہ نکلو۔ انھوں نے کہا : سبحان اللہ یہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے خلاف ہے، مجھے میرے والد نے جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نکلے، لیکن لوگ ہم پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ہم سے وہ کچھ روایت کرتے ہیں جو ہم نے نہیں کہا اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ علم ہے جو لوگوں کے پاس نہیں ہے، اللہ کی قسم ! بعض لوگوں کے پاس ایسا علم ہے، جو ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہمارے لیے حق ہے اور قرابت ہے اور اپنا حق اور قرابت بیان کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے ایوب کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے دیکھے۔

9526

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9526

Sahih

(۹۵۲۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ الْمُبَارَکِ الْعَیْشِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ بْنِ مَخْرَمَۃَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَفَۃَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَہْلَ الشِّرْکِ وَالأَوْثَانِ کَانُوا یَدْفَعُونَ مِنْ ہَا ہُنَا عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ حَتَّی تَکُونَ الشَّمْسُ عَلَی رُئُ وسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَی رُئُ وسِہَا ہَدْیُنَا مُخَالِفٌ ہَدْیَہُمْ ۔ وَکَانُوا یَدْفَعُونَ مِنَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ عِنْد طُلُوعِ الشَّمْسِ عَلَی رُئُ وسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَی رُئُ وسِہَا ہَدْیُنَا مُخَالِفٌ لِہَدْیِہِمْ))۔ وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ خَطَبَ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَقَالَ : ((ہَذَا یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ)) ۔ ثُمَّ ذَکَرَ مَا بَعْدَہُ بِمَعْنَاہُ مُرْسَلاً۔ [صحیح لغیرہ۔ حاکم ۲/ ۳۰۴۔ طبرانی کبیر ۲۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٢١) مسور بن مخرمہ (رض) فرماتے ہیں : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ میں خطبہ دیا ، اللہ کی حمدوثنا بیان کی ۔ پھر کہا : امابعد ! یقیناً مشرک اور بت پرست یہاں سے سورج غروب ہونے کے قریب جاتے تھے حتیٰ کہ سورج پہاڑوں کے سروں پر ایسے ہوتا جیسے پگڑیاں آدمیوں کے سروں پر ہوتی ہیں اور ہمارا طریقہ ان کے طریقے کے مخالف ہے اور وہ مشعر حرام سے سورج کے پہاڑوں کے سروں پر طلوع ہونے کے وقت جاتے جس طرح آدمیوں کی پگڑیاں ان کے سروں پر ہوتی ہیں اور ہمارا طریقہ ان کے طریقہ کے مخالف ہے۔ اس حدیث کو عبداللہ بن ادریس نے ابن جریج سے محمد بن قیس بن مخرمہ کے واسطے سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو (اس میں) فرمایا : ((ہَذَا یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ )) یہ حج اکبر کا دن ہے “ پھر اس کے بعد والی حدیث اس کے ہم معنی مرسل ذکر کی۔

9527

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9527

Zaeef

(۹۵۲۲)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَرْبُوعَ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاقِفًا عَلَی قُزَحَ وَہُوَ یَقُولُ : أَیُّہَا النَّاسُ أَصْبِحُوا أَیُّہَا النَّاسُ أَصْبِحُوا ثُمَّ دَفَعَ فَإِنِّی لأَنْظُرُ إِلَی فَخِذِہِ قَدِ انْکَشَفَتْ مِمَّا یَحْرِشُ بَعِیرَہُ بِمِحْجَنِہِ۔ [ضعیف۔ شافعی ۱۷۲۶۔ ابن ابی شیبہ ۱۵۳۲۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٢٢) جبیر بن حویرث فرماتے ہیں : میں نے ابوبکر (رض) کو قزح پر کھڑے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے : اے لوگو ! صبح کرو، اے لوگو ! صبح کرو، پھر چلے گئے اور میں ان کی ران کو کھلا ہوا دیکھ رہا ہوں، اپنے اونٹ کو لاٹھی کے ساتھ بھگانے کی وجہ سے۔