Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 1992

کتاب الحج

حجِ افراد اور قران کرنے والوں کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کفایت کر جائے گی ۔ عرفہ کے بعد اور اگر طوافِ قدوم کے بعد انھوں نے سعی کی ہو تو عرفہ کے بعدصرف طواف پر ہی اکتفا کریں گے اور حلال ہوجائیں گے

13 hadiths in this chapter

9420

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9420

Sahih

(۹۴۱۵)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْنَا بِعُمْرَۃٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَۃِ ثُمَّ لاَ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا ))۔ قَالَتْ : فَقَدِمْتُ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلاَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : ((انْقُضِی رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ وَدَعِی الْعُمْرَۃِ))۔ قَالَتْ : فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَیْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِی مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ إِلَی التَّنْعِیمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ : ہَذِہِ مَکَانَ عُمْرَتِکِ ۔ قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِینَ کَانُوا أَہَلُّوا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ مَا رَجَعُوا مِنْ مِنًی لِحَجِّہِمْ ، وَأَمَّا الَّذِینَ کَانُوا جَمَعُوا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۱۳۴۔ مسلم ۱۲۸۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤١٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے۔ ہم نے عمرہ کا تلبیہ کہا تو رسول اللہ (رض) نے فرمایا : جس کے پاس قربانی ہے وہ حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ کہے اور پھر حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے فارغ ہو لے۔ کہتی ہیں کہ میں آئی تو حائضہ ہوگئی۔ میں نے بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف نہ کیا اور اس کا شکوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنا سر کھول دے، کنگھی کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ اور عمرہ کو چھوڑ دے ۔ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، جب ہم نے حج کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا میں نے وہاں سے عمرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیرے عمرہ کی جگہ ہے، کہتی ہیں : جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، انھوں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا پھر حلال ہوگئے۔ پھر منیٰ سے واپس آکر حج کے لیے طواف کیا اور جنہوں نے حج و عمرہ کو جمع کیا تھا انھوں نے ایک ہی طواف کیا۔

9421

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9421

Sahih

(۹۴۱۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ۔ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ وَرَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ کَذَلِکَ وَزَادَا : وَأَمَّا الَّذِینَ أَہَلُّوا بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا۔ أَمَّا حَدِیثُ الشَّافِعِیِّ فَفِی رِوَایَۃِ الْمُزَنِیِّ عَنْہُ۔ وَأَمَّا حَدِیثُ ابْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤١٦) ایضاً امام مالک (رض) سے یہ الفاظ زائد منقول ہیں : وہ لوگ جنہوں نے حج یا حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا تو انھوں نے ایک ہی طواف کیا۔

9422

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9422

Sahih

(۹۴۱۷) فَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ۔ وَإِنَّمَا أَرَادَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِقَوْلِہَا فِیہِمْ : أَنَّہُمْ إِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا السَّعْیَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِی رِوَایَۃِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤١٧) ایضاً سیدہ عائشہ (رض) کے قول سے یہ مراد ہے کہ انھوں نے ایک طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔ یہ جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت میں بھی ہے۔

9423

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9423

Sahih

(۹۴۱۸)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ قَالَ : لَمْ یَطُفِ النَّبِیُّ -ﷺ وَلاَ أَصْحَابُہُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ إِلاَّ طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَہُ الأَوَّلَ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ وَمُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ وَہَذَا لأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ مُفْرِدًا فِیمَا نَعْلَمُ وَبَعْضُ أَصْحَابِہِ کَانُوا قَارِنِینَ فَاقْتَصَرُوا عَلَی سَعْیٍ وَاحِدٍ وَأَمَّا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَکَانَتْ قَارِنَۃٌ بِإِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَی الْعُمْرَۃِ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلاَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ قَبْلَ عَرَفَۃَ فَطَافَتْ بَعْدَ ذَلِکَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۵۔ ابوداد ۱۸۹۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤١٨) (الف) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے صفا ومروہ کے درمیان صرف ایک ہی پہلا طواف کیا۔ (ب) یہ اس لیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مفرد تھے اور بعض صحابہ قارن تھے، تو انھوں نے ایک سعی کی۔ سیدہ عائشہ (رض) نے حج کو عمرہ پر داخل کیا اور عرفہ سے پہلیطواف کیا نہ صفا مروہ کی سعی کی ۔ اس کے بعد انھوں نے طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا :۔۔۔

9424

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9424

Sahih

(۹۴۱۹)مَا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا حَاضَتْ بِسَرِفَ وَطَہُرَتْ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((یَجْزِیکِ طَوَافٌ وَاحِدٌ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤١٩) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ وہ ” سرف “ میں حائضہ ہوگئیں اور عرفہ میں طہر والی ہوئیں تو ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے حج اور عمرے کے لیے صفا ومروہ کے درمیان ایک ہی طواف کفایت کر جائے گا۔

9425

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9425

Sahih

(۹۴۲۰)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ لِعَائِشَۃَ : (( طَوَافُکِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ یَکْفِیکِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ ))۔ [صحیح۔ شافعی ۵۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٢٠) عطاء کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عائشہ (رض) سے کہا : تیرا بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرنا تیرے حج و عمرے کے لیے کافی ہے۔

9426

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9426

Sahih

(۹۴۲۱) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ مِثْلَہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ وَرُبَّمَا قَالَ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ لِعَائِشَۃَ۔ قَالَ الشَّیْخُ : رَوَاہُ ابْنُ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ مَوْصُولاً۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۵۱۳۔ ابوداود ۱۸۹۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٢١) ایضاً

9427

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9427

Sahih

(۹۴۲۲)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عِصْمَۃَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ فَجَائَ تْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ حَتَّی حَاضَتْ فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا وَقَدْ أَہَلَّتْ بِالْحَجِّ فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ : یَسَعُکِ طَوَافُکِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ ۔ فَأَبَتْ فَبَعَثَ بِہَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی التَّنْعِیمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ وُہَیْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٢٢) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ انھوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا اور وہ آئیں ، ابھی بیت اللہ کا طواف بھی نہ کیا تھا کہ حائضہ ہوگئیں تو انھوں نے تمام تر مناسک ادا کیے اور حج کا تلبیہ کہا تو ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا طواف تیرے حج و عمرہ کے لیے کافی ہے، تو انھوں نے انکار کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن کو ان کے ساتھ تنعیم بھیجا تو انھوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔

9428

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9428

Sahih

(۹۴۲۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَۃَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرًا یَقُولُ : دَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ عَلَی عَائِشَۃَ وَہِیَ تَبْکِی فَقَالَ : ((مَا لَکِ تَبْکِینَ ))۔ قَالَتْ : أَبْکِی أَنَّ النَّاسَ حَلُّوا وَلَمْ أَحْلِلْ وَطَافُوا بِالْبَیْتِ وَلَمْ أَطُفْ وَہَذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ۔ قَالَ : ((إِنَّ ہَذَا أَمْرٌ کَتَبَہُ اللَّہُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِی وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ ثُمَّ حُجِّی ))۔ قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ذَلِکَ فَلَمَّا طَہَرْتُ قَالَ : ((طُوفِی بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَعُمَرَتِکِ ))۔ فَقَالَت : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَجِدُ فِی نَفْسِی مِنْ عُمْرَتِی أَنِّی لَمْ أَکُنْ طُفْتُ حَتَّی حَجَجْتُ فَقَالَ : ((اذْہَبْ بِہَا یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْہَا مِنَ التَّنْعِیمِ ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٢٣) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کیوں روتی ہے ؟ کہنے لگیں : روئی اس بات پر ہوں کہ لوگ حلال ہوگئے ، میں حلال نہیں ہوئی ۔ انھوں نے بیت اللہ کا طواف کرلیا اور میں ابھی تک نہ کرسکی اور حج کا وقت آن پہنچا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایسا معاملہ ہے جسے اللہ نے بنات آدم پر لکھ دیا ہے، لہٰذا تو غسل کر اور حج کا تلبیہ کہہ ، پھر حج کر کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب میں پاک ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرلے تو تو حج و عمرہ سے حلال ہوجائے گی تو کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اپنے دل میں عمرہ کے بارے میں کچھ محسوس کرتی ہوں کہ میں نے حج کرنے سے پہلے طواف نہیں کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبدالرحمن ! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کر والے۔

9429

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9429

Sahih

(۹۴۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ إِمْلاَئً مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی حَجَّۃِ النَّبِیِّ -ﷺ أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ فَلَمَّا کَانَتْ بِسَرِفَ حَاضَتْ فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَیْہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ :(( إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ یُصِیبُکِ مَا أَصَابَہُم ))۔ فَلَمَّا قَدِمَتِ الْبَطْحَائَ أَمَرَہَا نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ فَأَہَلَّتْ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَضَتْ نُسُکَہَا وَجَائَ تْ إِلَی الْحَصْبَائِ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتَمِرَ فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ : ((إِنَّکِ قَدْ قَضَیْتِ حَجَّکِ وَعُمْرَتَکِ))۔ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ رَجُلاً سَہْلاً إِذَا ہَوِیَتِ الشَّیْئَ تَابَعَہَا عَلَیْہِ قَالَ مَطَرٌ قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ : وَکَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ کَمَا صَنَعَتْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی غَسَّانَ مَالِکِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٢٤) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والے حج میں عمرہ کا تلبیہ کہا۔ جب سرف تک پہنچیں تو حائضہ ہوگئیں ۔ یہ بات ان کو ناگوار گزری تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بنات آدم میں سے ہے تجھے بھی وہی کچھ ہوتا ہے جو ہوتا ہے۔ جب وہ بطحاء پہنچی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو حکم دیا ، انھوں نے حج کا تلبیہ کہا اور جب تمام مناسک ادا کرلیے تو حصباء میں آئیں اور عمرہ کا ارادہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے اپنا حج اور عمرہ کرلیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نرم آدمی تھے ، جب کچھ آسان ہوتا تو اسی کو لے لیتے۔

9430

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9430

Sahih

(۹۴۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِینَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَیْرِ فَکَلَّمَہُ ابْنَاہُ سَالِمٌ وَعَبْدُ اللَّہِ فَقَالاَ : لاَ یَضُرُّکَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ إِنَّا نَخَافُ أَنْ یَکُونَ بَیْنَ النَّاسِ قِتَالٌ فَیُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ۔ قَالَ : إِنْ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ حِینَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَحَلَقَ وَرَجَعَ وَإِنِّی أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَۃً ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الشَّجَرَۃِ فَلَبَّی بِعُمْرَۃٍ حَتَّی إِذَا أَشْرَفَ بِظَہْرِ الْبَیْدائِ قَالَ : مَا أَمْرُہُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ إِنْ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْعُمْرَۃِ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْحَجِّ اشْہَدُوا أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّۃً مَعَ عُمْرَتِی قَالَ وَلَیْسَ مَعَہُ یَوْمَئِذٍ ہَدْیٌ فَسَارَ حَتَّی بَلَغَ قُدَیْدَ ابْتَاعَ بِہَا ہَدْیًا فَقَلَّدَہُ وَأَشْعَرَہُ وَسَاقَہُ مَعَہُ حَتَّی إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ طَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکَانَ یَقُولُ : مَنْ جَمَعَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ کَفَاہُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَلَمْ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۳۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٢٥) نافع کہتے ہیں کہ جب حجاج ابن زبیر (رض) کے پاس آیا اور ابن عمر (رض) نے حج کا ارادہ کیا تھا تو ان کے بیٹوں سالم اور عبداللہ نے ان سے کہا کہ اگر آپ اس سال حج نہ بھی کریں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ لوگوں کے درمیان لڑائی شروع ہوجائے گی تو وہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوجائیں گے۔ وہ کہنے لگے : اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جس طرح ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا تھا جب قریش آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوگئے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر منڈوایا اور واپس آگئے اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کا ارادہ کیا ہے، پھر درخت کے پاس گئے اور عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب بیداء پر چڑھے تو کہنے لگے کہ معاملہ تو دونوں کا ایک سا ہی ہے۔ اگر میرے اور عمرہ کے درمیان حائل ہوگیا تو میرے اور حج کے درمیان حائل ہوا گیا۔ گواہ ہوجاؤ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ ساتھ حج کی نیت بھی کرلی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس قربانی نہ تھی، وہ چلے حتیٰ کہ قدید پہنچے، وہاں سے قربانی خریدی اس کو قلادہ پہنایا اور اشعار کیا اور اس کو اپنے ساتھ لے گئے، حتیٰ کہ جب مکہ داخل ہوئے تو ان دونوں (حج و عمرہ) کے لیے ایک ہی طواف کیا بیت اللہ کا بھی اور صفا ومروہ کا بھی اور وہ فرماتے تھے جو حج و عمرہ کو جمع کرے اس کو ایک ہی طواف کافی ہے اور وہ حلال نہ ہوے حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہوئے۔

9431

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9431

Zaeef

(۹۴۲۶)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ۔ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ الْمَدَنِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((مَنْ جَمَعَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ طَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعَی لَہُمَا سَعْیًا وَاحِدًا))۔ زَادَا فِی رِوَایَتِہِمَا : ((وَلَمْ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا))۔ وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ : ((دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ))۔ وَقِیلَ فِی مَعْنَاہُ دَخَلَتْ فِی أَجْزَائِ أَفْعَالِ الْحَجِّ فَاتَّحَدَتَا فِی الْعَمَلِ فَلاَ یَطُوفُ الْقَارِنُ أَکْثَرَ مِنْ طَوَافٍ وَاحِدٍ لَہُمَا وَکَذَلِکَ السَّعْیُ کَمَا لاَ یُحْرِمُ لَہُمَا إِلاَّ إِحْرَامًا وَاحِدا۔ وَرَوَی الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ عَنْ رَجُلٍ أَظُنُّہُ إِبْرَاہِیمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِی الْقَارِنِ : یَطُوفُ طَوَافَیْنِ وَیَسْعَی سَعْیًا قَالَ الشَّافِعِیُّ وَہَذَا عَلَی مَعْنَی قَوْلِنَا یَعْنِی یَطُوفُ حِینَ یَقْدَمُ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ لِلزِّیَارَۃِ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَلَیْہِ طَوَافَانِ وَسَعْیَانِ وَاحْتَجَّ فِیہِ بِرِوَایَۃٍ ضَعِیفَۃٍ عَنْ عَلِیٍّ وَجَعْفَرٍ یَرْوِی عَنْ عَلِیٍّ قَوْلَنَا وَقَدْ رُوِّینَاہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ ۔ قَالَ الشَّیْخُ أَصَحُّ مَا رُوِیَ فِی الطَّوَافَیْنِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا: [منکر۔ طحاوی فی شرح المعانی ۲/۱۹۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٢٦) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے حج و عمرہ کو جمع کیا وہ ان دونوں کے لیے ایک ہی طواف کرے اور صفا و مروہ کیا یک ہی سعی کرے اور حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہوجائے۔ (ب) جابر بن عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرماتے ہیں کہ عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے افعال حج میں داخل ہیں۔ دونوں عمل میں متحد ہیں۔ قارن ایک طواف سے زیادہ نہیں کرے گا اسی طرح سعی ہے ان کا احرام بھی ایک ہی ہوگا۔ (ج) علی بن ابی طالب (رض) قارن کے بارے میں فرماتے ہیں : وہ دو طواف اور ایک سعی کرے گا۔ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : یہی ہمارے قول کا معنی ہے کہ طواف قدوم اور صفا و مروہ کی سعی کرے گا ، پھر طواف زیارت کرے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں : دو طواف اور دو سعی کرے گا ۔ انھوں نے ایک ضعیف روایت سے دلیل پکڑی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں زیادہ صحیح ہے وہ جو سیدنا علی (رض) سے دو طوافوں کے متعلق منقول ہے۔

9432

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9432

Sahih

(۹۴۲۷)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ مَنْصُورٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی نَصْرٍ قَالَ : لَقِیتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ أَہْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَأَہَلَّ ہُوَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَقُلْتُ : ہَلْ أَسْتَطِیعُ أَنْ أَفْعَلَ کَمَا فَعَلْتَ؟ قَالَ : ذَلِکَ لَوْ کُنْتَ بَدَأْتَ بِالْعُمْرَۃِ۔ قُلْتُ : کَیْفَ أَفْعَلُ إِذَا أَرَدْتُ ذَلِکَ؟ قَالَ : تَأْخُذُ إِدَاوَۃً مِنْ مَائٍ فَتُفِیضُہَا عَلَیْکَ ثُمَّ تُہِلُّ بِہِمَا جَمِیعًا ثُمَّ تَطُوفُ لَہُمَا طَوَافَیْنِ وَتَسْعَی لَہُمَا سَعْیَیْنِ وَلاَ یَحِلُّ لَکَ حَرَامٌ دُونَ یَوْمِ النَّحْرِ۔ قَالَ مَنْصُورٌ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِمُجَاہِدٍ قَالَ : مَا کُنَّا نُفْتِی إِلاَّ بِطَوَافٍ وَاحِدٍ فَأَمَّا الآنَ فَلاَ نَفْعَلُ۔ کَذَا رُوِیَ عَنْ فُضَیْلٍ عَنْ مَنْصُورٍ۔ وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مَنْصُورٍ فَلَمْ یَذْکُرْ فِیہِ السَّعْیَ وَکَذَلِکَ شُعْبَۃُ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ وَأَبُو نَصْرٍ ہَذَا مَجْہُولٌ فَإِنْ صَحَّ فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ بِہِ طَوَافَ الْقُدُومِ وَطَوَافَ الزِّیَارَۃِ وَأَرَادَ سَعْیًا وَاحِدًا عَلَی مَا رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَصَاحِبَاہُ فَلاَ یَکُونُ لِرِوَایَۃِ جَعْفَرٍ مُخَالِفًا وَقَدْ رُوِیَ بِأَسَانِیدَ ضِعَافٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا قَدْ ذَکَرْتُہُ فِی الْخِلاَفِیَّاتِ وَمَدَارُ ذَلِکَ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ وَحَفْصِ بْنِ أَبِی دَاوُدَ۔ وَعِیسَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَحَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَکُلُّہُمْ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِشَیْئٍ مِمَّا رَوَوْہُ مِنْ ذَلِکَ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [حسن لغیرہ۔ دارقطنی ۲/ ۲۶۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٤٢٧) ابو نضر فرماتے ہیں کہ میں علی (رض) سے ملا اور انھوں نے حج و عمرہ کا احرام باندھا تھا اور میں نے صرف حج کا تو میں نے کہا : کیا میں اس طرح کرسکتا ہوں جس طرح آپ نے کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ممکن ہے اگر تو عمرے سے ابتدا کرے۔ میں نے کہا : اگر میں عمرہ کا ارادہ کروں تو کیسے کروں ؟ انھوں نے کہا : پانی کا ایک لوٹا لے اس کو اپنے اوپر بہا ، پھر ان دونوں کا تلبیہ کہہ۔ پھر ان دونوں کے لیے دو طواف کر اور دو سعی کر اور یوم نحر سے پہلے تیرے لیے کوئی بھی حرام چیز حلال نہ ہوگی۔