Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 1819

کتاب الحج

صاحبِ استطاعت عاقل، بالغ، آزاد مسلمان پر حج کی فرضیت کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” اور جو لوگ راستے کی طاقت رکھتے ہوں ان لوگوں پر اللہ کی خاطر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ جہانوں سے بےنیاز ہے۔ “

9 hadiths in this chapter

8609

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8609

Zaeef

(۸۶۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ} یَقُولُ : مَنْ کَفَرَ بِالْحَجِّ فَلَمْ یَرَ حَجَّہُ بِرًّا وَلاَ تَرْکَہُ إِثْمًا۔ [ضعیف۔ تفسیر طبری: ۳/ ۳۵۷، تفسیر ابن ابی حاتم: ۳/ ۳۹۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦٠٦) عبداللہ بن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان : ” اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ جہانوں سے بےنیاز ہے “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے حج کا انکار کیا اور اسے نیکی اور اس کے ترک کو گناہ نہ سمجھا۔

8610

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8610

Sahih

(۸۶۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُونَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُومَنْصُورٍ: الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرِ الإِسْلاَمِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ} قَالَتِ الْیَہُودُ : فَنَحْنُ مُسْلِمُونَ۔ قَالَ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ: فَأَخْصَمَہُمْ بِحُجَّتِہِمْ یَعْنِی فَقَالَ لَہُمُ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((إِنَّ اللَّہَ فَرَضَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ حِجَّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلاً)) فَقَالُوا: لَمْ یُکْتَبْ عَلَیْنَا وَأَبَوْا أَنْ یَحُجُّوا۔ قَالَ اللَّہُ {وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ} قَالَ عِکْرِمَۃُ: وَمَنْ کَفَرَ مِنْ أَہْلِ الْمِلَلِ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالِمِینَ۔[صحیح۔ الدر المنثور: ۲/۲۷۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦٠٧) عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ” اور جس نے اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کیا تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ “ نازل ہوئی تو یہودیوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں تو ان کو ان کے دعویٰ میں غلط ثابت کیا گیا، یعنی ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر حج بیت اللہ فرض کیا ہے جو اس کے راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔ “ تو وہ کہنے لگے : ” ہم پر فرض نہیں ہے “ اور انھوں نے حج کرنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ } عکرمہ کہتے ہیں کہ اہل ادیان میں سے جو بھی اس کا انکار کرے تو اللہ تعالیٰ جہان والوں سے بےنیاز ہے۔

8611

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8611

Sahih

(۸۶۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ} مَنْ إِنْ حَجَّ لَمْ یَرَہُ بِرًّا ، وَمَنْ تَرَکَہُ لَمْ یَرَہُ إِثْمًا۔ وَرُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ مِثْلَ مَا قَالَ عِکْرِمَۃُ۔ [صحیح۔ تفسیر طبری: ۳/ ۳۵۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦٠٨) مجاہد کہتے ہیں کہ { وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ } سے مراد وہ شخص ہے کہ جو اگر حج کرے تو اسے نیکی نہ سمجھے اور جو اس کو ترک کرے اور گناہ نہ سمجھے۔

8612

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8612

Zaeef

(۸۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الإِسْلاَمِ دِینًا} قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ قَالَ أَہْلُ الْمِلَلِ کُلُّہُمْ : نَحْنُ مُسْلِمُونَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ {وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ} قَالَ یَعْنِی عَلَی النَّاسِ فَحَجَّ الْمُسْلِمُونَ وَتَرَکَہُ الْمُشْرِکُونَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦٠٩) مجاہد فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی { وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الإِسْلاَمِ دِینًا } تو تمام اہل ادیان نے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت { وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ } ” لوگوں پر اللہ کی رضا کی خاطر بیت اللہ کا حج فرض ہے۔ “ نازل فرمائی تو مسلمانوں نے حج کیا اور مشرکین نے نہ کیا۔

8613

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8613

Sahih

(۸۶۱۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا کَہْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ بُرَیْدَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ طَلَعَ رَجُلٌ شَدِیدُ بَیَاضِ الثِّیَابِ شَدِیدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لاَ یُرَی عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ ، وَلاَ نَعْرِفُہُ حَتَّی جَلَسَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَسْنَدَ رُکْبَتَہُ إِلَی رُکْبَتہُ ، وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِی عَنِ الإِسْلاَمِ مَا الإِسْلاَمُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وتُقِیمَ الصَّلاَۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃِ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ السَّبِیلَ))۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : صَدَقْتَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ-ﷺ- : ((یَا عُمَرُ أَتَدْرِی مَنِ السَّائِلُ؟))۔ قُلْتُ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ : ((ذَاکَ جِبْرِیلَ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِینَکُمْ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہَیْنِ عَنْ کَہْمَسٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۸، نسائی۴۹۹۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦١٠) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انتہائی سیاہ بالوں اور بہت ہی سفید کپڑوں والا شخص نمودار ہوا، اس پر نہ تو سفر کے آثار تھے اور نہ ہی ہم اس کو جانتے تھے حتیٰ کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھٹنوں کے ساتھ ملا دیے اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھا ، پھر کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے کہ اسلام کیا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے تو اس آدمی نے کہا کہ آپ سچ فرماتے ہیں (اس ساری حدیث کو ذکر کیا) ۔ پھر کہا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! کیا تو جانتا ہے، یہ سائل کون تھا ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔

8614

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8614

Sahih

(۸۶۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی کِتَابِ مَعْرِفَۃِ الْحَدِیثِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کُنَّا نُہِینَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ شَیْئٍ وَکَانَ یُعْجِبُنَا أَنْ یَأْتِیَہُ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ فَیَسْأَلَہُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ۔ فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْہُمْ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُکَ فَزَعَمَ أَنَّکَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّہَ أَرْسَلَکَ قَالَ : ((صَدَقَ))۔ قَالَ : فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ ؟ قَالَ : ((اللَّہُ))۔ قَالَ : فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ؟ قَالَ : ((اللَّہُ))۔ قَالَ : فَمَنْ نَصَبَ ہَذِہِ الْجِبَالَ؟ قَالَ : ((اللَّہُ))۔ قَالَ : فَمَنْ جَعَلَ فِیہَا ہَذِہِ الْمَنَافِعَ؟ قَالَ : ((اللَّہُ))۔ قَالَ : فَبِالَّذِی خَلَقَ السَّمَائَ وَالأَرْضَ ، وَنَصَبَ الْجِبَالَ ، وَجَعَلَ فِیہَا ہَذِہِ الْمَنَافِعَ آللَّہُ أَرْسَلَکَ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَیْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِنَا وَلَیْلَتِنَا قَالَ : ((صَدَقَ))۔ قَالَ : فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ آللَّہُ أَمَرَکَ بِہَذَا؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَیْنَا صَدَقَۃً فِی أَمْوَالِنَا؟ قَالَ : ((صَدَقَ))۔ قَالَ : فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ آللَّہُ أَمَرَکَ بِہَذَا؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَیْنَا صَوْمَ شَہْرٍ فِی سَنَتِنَا قَالَ : ((صَدَقَ))۔ قَالَ : فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ آللَّہُ أَمَرَکَ بِہَذَا قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَیْنَا حَجَّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلاً۔ قَالَ : ((صَدَقَ))۔ قَالَ : فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ آللَّہُ أَمَرَکَ بِہَذَا؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔ قَالَ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لاَ أَزِیدُ عَلَیْہِنَّ وَلاَ أَنْقُصُ مِنْہُنَّ۔ فَلَمَّا مَضَی قَالَ : ((لَئِنْ صَدَقَ لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ عَنْ أَبِی النَّضْرِ ہَاشِمِ بْنِ الْقَاسِمِ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَرَوَاہُ مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَعَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦١١) سیدنا انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی بھی چیز کا سوال کرنے سے منع کیا جاتا تھا اور ہم یہ چاہتے تھے کہ دیہاتیوں میں سے کوئی شخص آئے اور وہ سوال کرے اور ہم سنیں، تو ایک شخص انھیں میں سے آیا اور اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاصد آیا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سمجھتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے، اس بدوی نے کہا : آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے۔ اس نے پوچھا : زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے، اس نے کہا کہ یہ پہاڑ کس نے نصب کیے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے۔ اس نے کہا : تو ان میں یہ فائدے کس نے رکھے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے۔ تو اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، پہاڑوں کو نصب کیا اور ان میں فوائد رکھے، کیا اللہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد یہ گمان کیا ہے کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے، اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد نے یہ سمجھا ہے کہ ہمارے ذمہ ہمارے مالوں کا صدقہ بھی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے۔ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا : آپ کے قاصد نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر حج بیت اللہ فرض ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا : اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول بنایا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! تو وہ کہنے لگا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میں ان میں نہ تو کمی کروں گا، نہ اضافہ۔ جب وہ چلا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں جائے گا۔

8615

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8615

Sahih

(۸۶۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِیِ بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیِ عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَۃٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّی یَسْتَیْقِظَ ، وَعَنِ الصَّغِیرِ حَتَّی یَبْلُغَ الْحِنْثَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّی یُفِیقَ))۔ وَرُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِیِ ظَبْیَانَ وَأَبِی الضُّحَی عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦١٢) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : 1 سویا ہوا شخص جب تک وہ بیدار نہ ہو۔ 2 بچہ جب تک وہ بالغ نہ ہو۔ 3 دیوانہ، جب تک اس کو افاقہ نہ ہو۔

8616

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8616

Sahih

(۸۶۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَیُّمَا صَبِیٍّ حَجَّ ، ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ فَعَلَیْہِ أَنْ یَحُجَّ حَجَّۃً أُخْرَی ، وَأَیُّمَا أَعْرَابِیٍّ حَجَّ ، ثُمَّ ہَاجَرَ فَعَلَیْہِ حَجَّۃٌ أُخْرَی ، وَأَیُّمَا عَبْدٍ حَجَّ ، ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَیْہِ حَجَّۃٌ أُخْرَی))۔ [صحیح۔ ابن خزیمہ ۳۰۵۰۔ حاکم ۱/ ۶۵۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦١٣) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بچہ بھی حج کرے اور پھر وہ سن بلوغت کو پہنچ جائے تو اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہے، جو کوئی دیہاتی حج کرے پھر ہجرت کرلے تو اس پر لازم ہے کہ دوسرا حج کرے، جو بھی غلام حج کرلے، پھر وہ آزاد ہوجائے تو اس پر پھر حج کرنا ضروری ہے۔

8617

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8617

Sahih

۸۶۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا حَجَّ الأَعْرَابِیُّ ، ثُمَّ ہَاجَرَ فَإِنَّ عَلَیْہِ حَجَّۃَ الإِسْلاَمِ ، وَکَذَلِکَ الْعَبْدُ وَالصَّبِیُّ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ مَوْقُوفًا ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۴۸۷۵]

اردو ترجمہ · Urdu

((٨٦١٤) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب دیہاتی حج کرلے پھر ہجرت کرے تو اس پر اسلام کا حج فرض ہے اور اسی طرح غلام اور بچے کا معاملہ ہے۔