Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 14 · Chapter 1787

روزوں کا بیان

جس نے سال بھر کے روزے رکھنا ناپسند کیا مگر عبادت میں میانہ روی کو پسند کیا جو اپنے پر کمزوری سے ڈرتا ہے

4 hadiths in this chapter

8476

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8476

Sahih

(۸۴۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْمَکِّیَّ وَکَانَ شَاعِرًا وَکَانَ لاَ یُتَّہَمُ فِی الْحَدِیثِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یَقُولُ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّکَ تَصُومُ الدَّہْرَ ، وَتَقُومُ اللَّیْلَ؟))۔ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : ((إِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ ہَجَمَتْ لَہُ الْعَیْنُ وَنَفِہَتْ لَہُ النَّفْسُ۔ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الدَّہْرَ۔ صُمْ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ صَوْمُ الدَّہْرِ کُلِّہِ))۔ قَالَ فَقُلْتُ : فَإِنِّی أُطِیقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ : ((فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ کَانَ یَصُومُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا وَلاَ یَفِرُّ إِذَا لاَقَی))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٤٧٣) عبداللہ بن عمر (رض) عمرو بن عاص (رض) سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا کہ تو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اور ہمیشہ رات کا قیام کرتا ہے۔ میں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو ایسا کرے گا تو تیری آنکھیں دھنس جائیں گی اور تیرا نفس لاغر ہوجائے گا ۔ جس نے سال بھر کے روزے رکھے اس کا کوئی روزہ مقبول نہیں ہوگا تو ہر مہینے کے تین روزے رکھ ۔ یہ پورے سال کے روزے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : اس سے زیادہ کی مجھ میں طاقت ہے۔ پھر تو داؤد (علیہ السلام) جیسے روزے رکھا کر وہ ایک دن کا روزہ رکھتا اور ایک دن کا افطار کرتا اور جب دشمن کو ملتے تھے تو بھاگتے نہیں تھے۔

8477

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8477

Sahih

(۸۴۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزِیدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ حَدَّثَنِی یَحْیَی حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَصُومُ النَّہَارَ وَتَقُومُ اللَّیْلَ))۔ قَالَ قُلْتُ : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ((فَلاَ تَفْعَلْ۔ نَمْ ، وَقُمْ ، وَصُمْ ، وَأَفْطِرْ فَإِنَّ لِجَسَدِکَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِعَیْنَیْکَ عَلَیْکَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ، وَإِنَّ بِحَسْبِکَ أَنْ تَصُومَ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ۔ فَإِنَّ کُلَّ حَسَنَۃٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا ، وَإِذَا ذَاکَ صِیَامُ الدَّہْرِ کُلِّہِ))۔ قَالَ : فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَیَّ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَجِدُ قُوَّۃً قَالَ : ((فَصُمْ مِنْ کُلِّ جُمُعَۃٍ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ))۔ قَالَ : فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَیَّ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَجِدُ قُوَّۃً۔ قَالَ : ((فَصُمْ صِیَامَ نَبِیِّ اللَّہِ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ، وَلاَ تَزِدْ عَلَی ذَلِکَ))۔ قَالَ فَقُلْتُ : وَمَا کَانَ صِیَامُ نَبِیِّ اللَّہِ دَاوُدَ؟ قَالَ : ((نِصْفَ الدَّہْرِ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٤٧٤) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا میں تجھے خبر نہ دوں کہ تو صائم النہار اور قائم الیل ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ایسے ہی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کر بلکہ تو سو اور قیام کر اور روزہ رکھ اور روزہ افطارکر تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے ، تجھ پر تیری آنکھ کا حق ہے ، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے، تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے تیرے لیے یہ کافی ہے کہ تو ہر ماہ میں تین روزے رکھے اور بیشک ہر نیکی دس گناہ ہے جب تو یہ کرے گا تو صائم الامر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں : میں نے سختی کی تو مجھ پر بھی سختی کی گئی ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھ میں طاقت ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو ہر ہفتے میں تین روزے رکھ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں استطاعت رکھتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) کے روزے رکھ اور اس سے زیادہ نہ کر۔ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) کے روزے کیا تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدھا سال۔

8478

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8478

Sahih

(۸۴۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ((وَلاَ تَزِیدَنَّ عَلَیْہِ))۔ وَزَادَ فِی آخِرِہِ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو یَقُولُ بَعْدَ مَا أَدْرَکَہُ الْکِبَرُ : یَا لَیْتَنِی قَبِلْتُ رُخْصَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ وَحُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٤٧٥) ابن المبارک (رض) کہتے ہیں کہ اوزاعی نے ایسے ہی حدیث بیان کی مگر یہ کہ انھوں نے کہا کہ اس سے زیادہ نہ کرنا اور آخر میں اضافہ بھی کیا کہ عبداللہ بن عمر بوڑھے ہونے کے بعد کہا کرتے تھے کاش میں رخصت قبول کرلیتا۔

8479

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8479

Sahih

(۸۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَرِیرٍ الْمَعْوَلِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِیِّ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ کَیْفَ صَوْمُکَ أَوْ کَیْفَ تَصُومُ؟ قَالَ فَسَکَتَ عَنْہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًا۔ فَلَمَّا أَنْ سَکَنَ عَنْہُ الْغَضَبُ سَأَلَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ کَیْفَ صَومُکَ أَوْ کَیْفَ تَصُومُ؟ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ الدَّہْرَ کُلَّہُ؟ قَالَ : ((لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ)) أَوْ قَالَ ((مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَیْنِ وَأَفْطَرَ یَوْمًا؟ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((وَمَنْ یُطِیقُ ذَلِکَ یَا عُمَرُ لَوَدِدْتُ أَنِّی فَعَلْتُ ذَلِکَ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمًا وَأَفْطَرَ یَوْمًا؟ قَالَ : ((ذَاکَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ))۔ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَ عَرَفَۃَ؟ قَالَ : ((یُکَفِّرُ السَّنَۃَ وَالسَّنَۃَ الَّتِی قَبْلَہَا))۔ قَالَ : أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ ثَلاَثًا مِنَ الشَّہْرِ؟ قَالَ : ((ذَاکَ صَوْمُ الدَّہْرِ))۔ قَالَ : أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَ عَاشُورَائَ ؟ قَالَ : یُکَفِّرُ السَّنَۃَ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ؟ قَالَ : ((ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیہِ وَیَوْمٌ أُنْزِلَتْ عَلَیَّ فِیہِ النُّبُوَّۃُ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَبَّانَ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ یَزِیدَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٤٧٦) ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ کے نبی آپ کے روزے کیسے ہیں یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کس طرح رکھتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ۔ اسے کوئی جواب نہ دیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ تھما تو عمر بن خطاب (رض) نے پوچھا : اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیسے روزے رکھتے ہیں اور اس کے متعلق بتائیے جو پورا سال روزے رکھتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ ایسے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا ۔ پھر انھوں نے کہا : اللہ کے رسول ! جس نے دو دن روزہ رکھا اور یک افطار کیا اس کے بارے میں بتائیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! اس کی طاقت کون رکھتا ہے ؟ میں چاہتا ہوں کہ ایسا کروں۔ انھوں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس نے ایک روزہ رکھا اور ایک افطار کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے۔ پھر کہا : اللہ کے رسول ! جس نے یوم عرفہ کا روزہ رکھا اس کی خبر دو ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال کے گناہ مٹا دے گا اور ایک سال پہلے کے بھی۔ پھر انھوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کی خبر دیں جس نے ہر ماہ تین روزے رکھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ سال بھر کے روزے ہیں۔ پھر کہا : اس کی خبر دیں جس نے عاشور اء کا روزہ رکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال کے گناہ معاف ہوں گے ۔ پھر کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کی خبردیں جس نے پیر کا روزہ رکھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جس میں میں پید ا ہوا اور مجھ پر نبوت نازل کی گئی۔