Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 14 · Chapter 1707

روزوں کا بیان

حاملہ اور دودھ پلانے والی اگر بچے کے بارے میں ڈرتی ہوں تو افطار کرلیں اور ہر دن گندم سے ایک صدقہ کریں پھر قضا کریں

3 hadiths in this chapter

8080

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8080

Sahih

(۸۰۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : رُخِّصَ لِلشَّیْخِ الْکَبِیرِ وَالْعَجُوزِ الْکَبِیرَۃِ فِی ذَلِکَ وَہُمَا یُطِیقَانِ الصَّوْمَ أَنْ یُفْطِرَا إِنْ شَائَ ا وَیُطْعِمَا مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا ، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِکَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} وَثَبَتَ لِلشَّیْخِ الْکَبِیرِ وَالْعَجُوزِ الْکَبِیرَۃِ : إِذَا کَانَا لاَ یُطِیقَانِ الصَّوْمَ ، وَالْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا۔ لَفْظُ حَدِیثِ مَکِّیٍّ وَفِی رِوَایَۃِ رَوْحٍ وَالْحُبْلَی وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔[صحیح۔ اخرجہ ابن جارود]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠٧٧) سعید بن جبیر (رض) ابن عباس (رض) سے فرماتے ہیں کہ بوڑھے بزرگ ور بوڑھی عورت کو اس میں رخصت دی گئی ہے اگرچہ وہ دونوں روزے کی طاقت رکھتے ہوں، انھیں افطار کی رخصت ہے اگر وہ چاہیں تو ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائیں۔ پھر یہ اجازت منسوخ کردی گئی۔ اس آیت سے { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ }۔ پھر بوڑھے مرد اور عورت کے لیے اجازت رہ گئی، جب وہ روزے کی طاقت نہ رکھیں، حاملہ اور دودھ پلانے والی جب ڈر محسوس کریں تو افطار کرلیں اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائیں۔ ایک روایت میں ہے حبلی کے الفاظ ہیں۔

8081

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8081

Sahih

(۸۰۷۸) وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : وَالْحُبْلَی وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا عَلَی أَوْلاَدِہِمَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠٧٨) محمد بن ابو عدی سعید سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے حدیث میں بیان کیا کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی جب اپنے بچوں کے بارے میں ڈریں تو افطار کرلیں اور مساکین کو کھلادیں۔

8082

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8082

Sahih

(۸۰۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَی وَلَدِہَا فَقَالَ : تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ۔ زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی حَدِیثِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ مَالِکٌ : وَأَہْلُ الْعِلْمِ یَرَوْنَ عَلَیْہَا مَعَ ذَلِکَ الْقَضَائَ قَالَ مَالِکٌ : عَلَیْہَا الْقَضَائُ لأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ} قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رَوَی أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ لَبِیبَۃَ أَوِ ابْنِ أَبِی لَبِیبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ امْرَأَۃً صَامَتْ حَامِلاً فَاسْتَعْطَشَتْ فِی رَمَضَانَ فَسُئِلَ عَنْہَا ابْنُ عُمَرَ فَأَمَرَہَا أَنْ تُفْطِرَ وَتُطْعِمَ کُلَّ یَوْمٍ مِسْکِینًا مُدًّا ، ثُمَّ لاَ یَجْزِیہَا فَإِذَا صَحَّتْ قَضَتْہُ۔ ذَکَرَہُ أَبُو عُبَیْدٍ فِی کِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ ، وَہَذَا قَوْلُ مُجَاہِدٍ تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ وَتَقْضِی۔ وَفِی رِوَایَۃِ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ تُفْطِرَانِ وَتَقْضِیَانِ ، وَفِی رِوَایَۃِ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ : الْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتْ أَفْطَرَتْ وَأَطْعَمَتْ ، وَالْحَامِلُ إِذَا خَافَتْ عَلَی نَفْسِہَا أَفْطَرَتْ وَقَضَتْ کَالْمَرِیضِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠٧٩) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے حاملہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب وہ اپنے بچے کے بارے میں ڈرے تو انھوں نے کہا : افطار کرے اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلادے اور حسن فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی جب ڈرے گی تو افطار کرے گی اور مسکین کو کھلائے گی مگر حاملہ جب ڈرے گی تو افطار کرے گی اور قضاکرے گی مریضہ کی طرح۔ (امام شافعی اور مالک فرماتے ہیں کہ اور اہل علم بھی کہتے ہیں کہ اس پر قضا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ } شیخ فرماتے ہیں کہ انس بن عیاضی عبداللہ بن عمرو کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ایک عورت نے روزہ رکھا اور اسے پیاس لگی ، اس کے متعلق ابن عمر (رض) سے پوچھا گیا تو انھوں نے افطار کا حکم دیا اور ایک مسکین کو کھلانے کا۔