Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 14 · Chapter 1702

روزوں کا بیان

اس روایت کا بیان جس میں ہے کہ اس صورت میں ایک دن کے روزے کی قضا ہے

8 hadiths in this chapter

8058

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8058

Sahih

(۸۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لَہُ : ((اقْضِ یَوْمًا مَکَانَہُ))۔ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ الدَّرَاوَرْدِیِّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ وَإِبْرَاہِیمُ سَمِعَ الْحَدِیثَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَلَمْ یَذْکُرْ عَنْہُ ہَذِہِ اللَّفْظْۃَ فَذَکَرَہَا عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ وَرَوَاہَا أَیْضًا أَبُو أُوَیْسٍ الْمَدَنِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠٥٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔

8059

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8059

Sahih

(۸۰۵۶) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَہُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ الَّذِی یُفْطِرُ فِی رَمَضَانَ أَنْ یَصُومَ یَوْمًا مَکَانَہُ۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ الأَیْلِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ دارقطنی]

اردو ترجمہ · Urdu

٨٠٥٦۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو ایک روزے کی قضا کا حکم دیا جس نے رمضان میں روزہ توڑا تھا۔

8060

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8060

Sahih

(۸۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَنْتِفُ شَعَرَ رَأْسِہِ وَیَدُقُّ صَدْرَہُ وَیَقُولُ : ہَلَکَ الأَبْعَدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ہَلاَکًا مَاذَا؟))۔ قَالَ: إِنِّی وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی الْیَوْمَ وَذَلِکَ فِی رَمَضَانَ قَالَ: ((ہَلْ عِنْدِکَ رَقَبَۃٌ تُعْتِقُہَا؟))۔ قَالَ: لاَ۔ فَقَالَ: ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ صِیَامَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ؟))۔ قَالَ: لاَ۔ قَالَ: ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ إِطْعَامَ سِتِّینَ مِسْکِینًا؟))۔ قَالَ: لاَ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ بِعَرَقٍ عَظِیمٍ فِیہِ صَدَقَۃُ مَالِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَیْنَ السَّائِلُ؟))۔ قَالُوا: قَدِ انْصَرَفَ قَالَ: عَلَیَّ بِہِ۔ فَجَائَ ہُ الرَّجُلُ فَقَالَ: ((خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ کَفَّارَۃً لِمَا صَنَعْتَ))۔ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَعَلَی أَحْوَجَ مِنِّی وَأَہْلِ بَیْتِی وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَحْوَجُ مِنِّی وَمِنْ أَہْلِ بَیْتِی قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ قَالَ : ((فَکُلْ وَأَطْعِمْ أَہْلَ بَیْتِکَ وَاقْضِ یَوْمًا مَکَانَہُ))۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ دارقطنی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠٥٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جو بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہلاکت کس وجہ سے ؟ اس نے کہا : آج میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا اور یہ رمضان ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تیرے پاس غلام ہے کہ تو اسے آزاد کرے ؟ اس نے کہا : نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاسکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ پھر وہ آدمی پلٹ گیا تو لوگوں میں سے ایک اپنے مال کا صدقہ لے کر کھجوروں کا بڑا ٹوکرا لے کر آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سائل کہاں ہے ؟ انھوں نے کہا : وہ پھر گیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے میرے پاس لاؤ۔ ایک آدمی اسے لایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے لو اور صدقہ کردو جو تو نے کیا اس کا کفارہ ہوجائے گا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا مجھ سے زیادہ محتاج پر ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں اور میرے گھر والوں سے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں نظر آگئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے لو اور اپنے اہل کو کھلادو اور اس کی ایک دن کی قضاکرو۔

8061

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8061

Sahih

(۸۰۵۸) قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ وَعَطَاء ٌ الْخَرَاسَانِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ۔ (ت) وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا فِی حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠٥٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَعَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ یَنْتِفُ شَعَرَہُ وَیَدْعُو وَیْلَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ( (وَیْحَکَ مَا لَکَ ؟ ) ) ۔ قَالَ : إِنَّ الأَخِرَ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ لَہُ : ( (أَعْتِقْ رَقَبَۃً ) ) ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُہَا قَالَ : ( (فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ) ) ۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : ( (فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا) ) ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : ( (خُذْ ہَذَا فَأَطْعِمْہُ سِتِّینَ مِسْکِینًا) ) ۔ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَفْقَرُ إِلَیْہِ مِنَّا۔ قَالَ : ( (کُلْ أَنْتَ وَعِیَالُکَ ) ) ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد ]

8062

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8062

Sahih

(۸۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَعَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ یَنْتِفُ شَعَرَہُ وَیَدْعُو وَیْلَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((وَیْحَکَ مَا لَکَ؟))۔ قَالَ : إِنَّ الأَخِرَ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ لَہُ : ((أَعْتِقْ رَقَبَۃً))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُہَا قَالَ : ((فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : ((فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : ((خُذْ ہَذَا فَأَطْعِمْہُ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَفْقَرُ إِلَیْہِ مِنَّا۔ قَالَ : ((کُلْ أَنْتَ وَعِیَالُکَ))۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠٥٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے، ایک آدمی اپنے بال نوچتا ہوا اور ویل بکتا ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ پر افسوس تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا : میں وہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر دے۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ، اس نے کہا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا کھجور کا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے اور ساٹھ مسکینوں کو کھلادے۔ اس نے کہا : یا نبی اللہ ! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو اور تیرا عیال کھاؤ۔

8063

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8063

Sahih

(۸۰۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِثْلِ حَدِیثِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ حَدِیثَ الْوَاقِعِ وَزَادَ فِیہِ قَالَ عَمْرٌو : وَأَمَرَہُ أَنْ یَقْضِیَ یَوْمًا مَکَانَہُ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ دارقطنی] وَرَوَاہُ أَیْضًا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ وَقَالَ : زَادَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ فِی حَدِیثِہِ فَأَمَرَہُ أَنْ یَصُومَ یَوْمًا مَکَانَہُ۔ وَرَوَاہُ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ خَالَفَ الْجَمَاعَۃَ فِی إِسْنَادِہِ فَقَالَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠٦٠) عمرو بن شعیب (رض) اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے ایسی ہی حدیث نقل فرماتے ہیں۔ ابوہریرہ (رض) کی حدیث بھی اس طرح ہے مگر عمرو نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ایک دن کی قضاء کا حکم دیا۔ یحییٰ بن ابی طالب نے یزید بن ہارون کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عمروبن شعیب نے ان الفاظ کی زیادتی کی ہے کہ اسے اس کے عوض ایک روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

8064

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8064

Zaeef

(۸۰۶۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہَ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الزُّبَیْرِیُّ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَاقَعَ أَہْلَہُ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَعْتِقْ رَقَبَۃً))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ : ((صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : لاَ أَقْدِرُ عَلَیْہِ قَالَ : ((أَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ : ((خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَجِدُ أَحْوَجَ إِلَی ہَذَا مِنِّی وَمِنْ أَہْلِ بَیْتِی فَقَالَ : ((کُلْہُ أَنْتَ وَأَہْلُ بَیْتِکَ وَصُمْ یَوْمًا مَکَانَہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ))۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ [منکر الاسناد۔ دارقطنی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠٦١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیاجو رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر اس نے کہا : میں نہیں پاتا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ، اس نے کہا : میں اس کی قدرت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا اور اس نے کہا : میں نہیں پاتا ، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے لو اور صدقہ کر دو ۔ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نہیں پاتاجو مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ اس کا محتاج ہو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کھا اور تیرے گھر والے کھائیں، اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھ لینا اور استغفار کر۔

8065

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8065

Sahih

(۸۰۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : أَتَی أَعْرَابِیٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَنْتِفُ شَعْرَہُ وَیَضْرِبُ نَحْرَہُ وَیَقُولُ : ہَلَکَ الأَبْعَدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَمَا ذَاکَ))۔ قَالَ : أَصَبْتُ أَہْلِی فِی رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تَعْتَقُ رَقَبَۃً؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تُہْدِیَ بَدَنَۃً؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَاجْلِسْ))۔ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ : ((خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ))۔ قَالَ : مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّی قَالَ : ((فَکُلْہُ وَصُمْ یَوْمًا مَکَانَ مَا أَصَبْتَ))۔ قَالَ عَطَاء ٌ : فَسَأَلْتُ سَعِیدًا کَمْ فِی ذَلِکَ الْعَرَقِ؟ قَالَ : مَا بَیْنَ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا إِلَی عِشْرِینَ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَطَائٍ۔ وَرَوَاہُ دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَطَائٍ بِزِیَادَۃِ ذِکْرِ صَوْمِ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یُذْکَرِ الْقَضَائَ وَلاَ قَدْرَ الْعَرَقِ ، وَرُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی لَفْظِ الْحَدِیثِ وَالاِعْتَمِادُ عَلَی الأَحَادِیثِ الْمَوْصُولَۃِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ مالک]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠٦٢) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جو اپنے بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹتا تھا اور کہہ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا : رمضان میں میں اپنی بیوی کو جا پہنچا اور میں روزے سے تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ غلام آزاد کرے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ اونٹ کی قربانی دے اس نے کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر بیٹھ جا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا : اسے لے جا اور صدقہ کردے۔ اس نے کہا : میں اپنے سے زیادہ کسی کو محتاج نہیں پاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو کھا اور ایک دن کا روزہ رکھ اس کی وجہ سے جو تو نے کیا ہے۔ عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ اس ٹوکرے میں کتنی کھجور تھیں تو انھوں نے کہا : پندرہ سے بیس صاع تک۔ ابوداؤد بن ہند سے بیان کیا ہے وہ دو مہینے کے متواتر روزے ہیں مگر اس میں قضاء اور وزن کا تذکرہ نہیں کیا۔