Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 13 · Chapter 2725

صدقات کا بیان

چٹی والے لوگوں کے حصے کا بیان

5 hadiths in this chapter

13199

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13199

Sahih

(۱۳۱۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ رِئَابٍ عَنْ کِنَانَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَسْأَلُہُ فِی حَمَالَۃٍ فَقَالَ : إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ حُرِّمَتْ إِلاَّ فِی ثَلاَثٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَۃً حَلَّتَ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُؤَدِّیَہَا ثُمَّ یُمْسِکَ وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَہُ حَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُصِیبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ثُمَّ یُمْسِکَ وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ حَاجَۃٌ أَوْ فَاقَۃٌ حَتَّی یَتَکَلَّمَ ثَلاَثَۃٌ مِنْ ذَوِی الْحِجَی مِنْ قَوْمِہِ لَقَدْ حَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ فَمَا سِوَی ذَلِکَ مِنَ الْمَسَائِلِ فَہُوَ سُحْتٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٩٣) قبیصہ بن مخارق فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تاکہ میں آپ سے اپنے قرض کے بارے میں سوال کروں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سوال کرنا حرام ہے، سوائے تین اشخاص کے : ایک وہ بندہ جس پر قرض کا بوجھ ہے اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے قرض کو ادا کرلے، پھر وہ سوال کرنے سے رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آگئی اور اس کا مال سارا تباہ ہوگیا اس کے لیے بھی سوال کرنا حلال ہے، یہاں تک کہ وہ آسودہ حال ہوجائے تو وہ سوال کرنے سے رک جائے۔ تیسرا وہ آدمی جس کو کوئی ضرورت پڑگئی ہو یا اس کو فاقہ پہنچا ہو اور تین معتبر افراد اس کی قوم میں سے گواہی دے دیں تو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز ہے، اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے۔

13200

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13200

Sahih

(۱۳۱۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ الضَّبِّیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ رِئَابٍ حَدَّثَنَا کِنَانَۃُ بْنُ نُعَیْمٍ الْعَدَوِیُّ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ مُخَارِقٍ الْہِلاَلِیِّ قَالَ : تَحَمَّلْتُ حَمَالَۃً فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَسْأَلُہُ فِیہَا فَقَالَ : أَقِمْ یَا قَبِیصَۃُ حَتَّی تَأْتِیَنَا الصَّدَقَۃُ فَنَأْمُرَ لَکَ بِہَا ۔ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا قَبِیصَۃُ إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ لأَحَدِ ثَلاَثَۃٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَۃً فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُصِیبَہَا ثُمَّ یُمْسِکَ وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَہُ فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُصِیبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ حَتَّی یَقُولَ ثَلاَثَۃٌ مِنْ ذَوِی الْحِجَی مِنْ قَوْمِہِ أَنْ قَدْ أَصَابَتْ فُلاَنًا فَاقَۃٌ فَحَلَّتْ لَہُ الصَّدَقَۃُ حَتَّی یُصِیبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ فَمَا سِوَی ذَلِکَ مِنَ الْمَسْأَلَۃِ یَا قَبِیصَۃُ سُحْتٌ یَأْکُلُہَا صَاحِبُہَا سُحْتًا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَقُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٩٤) ایضاً ۔

13201

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13201

Sahih

(۱۳۱۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ قَالَ قُرِئَ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْوَاسِطِیِّ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْقُشَیْرِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ جَدِّی قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا قَوْمٌ تُسْأَلُ أَمْوَالُنَا فَقَالَ : لِیَسْأَلْ أَحَدُکُمْ فِی الْحَاجَۃِ أَوِ الْفَتْقِ لِیُصْلِحَ بَیْنَ قَوْمِہِ فَإِذَا بَلَغَ أَوْ کَرُبَ اسْتَعَفَّ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ: الْفَتْقُ الْحَرْبُ تَکُونُ بَیْنَ الْفَرِیقَیْنِ فَتَقَعُ بَیْنَہُمُ الدِّمَائُ وَالْجِرَاحَاتُ فَیَحْمِلُہَا رَجُلٌ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ بِذَلِکَ فَیَسْأَلَ فِیہَا حَتَّی یُؤَدِّیَہَا إِلَیْہِمْ وَقَوْلُہُ اسْتَغْنَی أَوْ کَرُبَ یَقُولُ : دَنَا مِنْ ذَلِکَ وَقَرُبَ مِنْہُ وَقَوْلُہُ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ہُوَ بِکَسْرِ السِّینِ وَکُلُّ شَیْئٍ سَدَدْتَ بِہِ خَلَلاً فَہُوَ سِدَادٌ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٩٥) حضرت معاویہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم ایسی قوم ہیں کہ ہم سے مانگنے والے بہت ہیں، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک ضرورت کے وقت یا لڑائی کے وقت مانگے تاکہ اس مال کے ذریعے اپنی قوم میں صلح کروائے۔ جب معاملہ ختم ہوجائے یا ختم ہونے کے قریب ہوجائے تو رک جائے۔ ابوعبید کہتے ہیں، فتق کا معنی جنگ ہے، جس سے دو گروہ ہلاک و زخمی ہوتے ہیں تو وہ آدمی صلح کے لیے مانگتا ہے، استغنی او کرب کا معنی نزدیک ہونا ہے۔

13202

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13202

Zaeef

(۱۳۱۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبَّادٍ الصَّنْعَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنِیٍّ إِلاَّ لِخَمْسَۃٍ لِعَامِلٍ عَلَیْہَا أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاہَا بِمَالِہِ أَوْ غَارِمٍ أَوْ غَازٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ مِسْکِینٍ تُصُدِّقَ عَلَیْہِ مِنْہَا فَأَہْدَی مِنْہَا لِغَنِیٍّ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٩٦) ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ مال دار اشخاص کے علاوہ صدقہ کسی مال دار پر جائز نہیں ہے۔ 1 صدقہ لینے والا (عامل) 2 کسی آدمی نے اپنے مال سے صدقے کی چیز کو خریدا۔ 3 کوئی چٹی شدہ آدمی 4 اللہ کے رستے میں غزوہ کرنے والا غازی۔ 5 ۔ وہ مال دار کہ کسی مسکین کو صدقہ دیا گیا تو اس نے تحفے میں کسی مال دار کو دے دیا۔

13203

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13203

Sahih

(۱۳۱۹۷) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا عُقَیْلٌ وَیُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِی دَیْنًا جَہِدَ فِی قَضَائِہِ فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ یَقْضِیَہُ فَأَنَا وَلِیُّہُ ۔ [صحیح۔ احمد ۶/ ۷۴، ح: ۱۵۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٩٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے جس بندے نے کوئی قرض چھوڑا اور اس نے اس کے ادا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ادائیگی سے پہلے فوت ہوگیا تو میں اس کا ولی ہوں (یعنی ادا کرنے والا) ۔