Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 13 · Chapter 1643

صدقات کا بیان

مال کے حقوق کا بیان

4 hadiths in this chapter

7788

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7788

Sahih

(۷۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ یَعْنِی ابْنَ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ ، وَلاَغَنَمٍ ، وَلاَ بَقَرٍ لاَ یُؤَدِّی حَقَّہَا إِلاَّ أُقْعِدَ لَہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَأُہُ ذَاتُ الظِّلْفَۃِ بِظِلْفِہَا ، وَتَنْطِحُہُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِہَا لَیْسَ یَوْمَئِذٍ فِیہَا جَمَّاء ٌ ، وَلاَ مَکْسُورَۃُ الْقَرْنِ ۔ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا حَقُّہَا؟ قَالَ : ((إِطْرَاقُ فَحْلِہَا ، وَإِعَارَۃُ دَلْوِہَا ، وَمَنِیحَتُہَا ، وَحَلَبُہَا عَلَی الْمَائِ ، وَحَمْلٌ عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ، وَلاَ مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لاَ یُؤَدِّی زَکَاتَہُ إِلاَّ تَحَوَّلَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَعَ یَتْبَعُ صَاحِبَہُ حَیْثُمَا ذَہَبَ وَہُوَ یَفِرُّ مِنْہُ وَیُقَالُ : ہَذَا مَالُکَ الَّذِی کُنْتَ تَبْخَلُ بِہِ ، فَإِذَا رَأَی أَنَّہُ لاَ بُدَّ لَہُ مِنْہُ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی فِیہِ فَجَعَلَ یَقْضَمُہَا کَمَا یَقْضَمُ الْفَحْلُ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ بِمَعْنَاہُ قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ وَسَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَقُولُ ہَذَا الْقَوْلُ ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : مِثْلَ قَوْلِ عُبَیْدٍ وَقَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَقُولُ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا حَقُّ الإِبِلِ؟ قَالَ : ((حَلَبُہَا عَلَی الْمَائِ ، وَإِعَارَۃُ دَلْوِہَا ، وَإِعَارَۃُ فَحْلِہَا ، وَمَنِیحَتُہَا ، وَحَمْلٌ عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ))۔ [صحیح۔ مسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

٧٧٨٥۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ہے کوئی اونٹوں والا اور نہ بکریوں والا اور نہ گائے والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا مگر اسے قیامت کے دن ایک میدان میں بٹھایا جائے گا۔ پھر اسے کھروں والے اپنے کھروں سے روندیں گے اور سینگوں والے اپنے سینگوں سے ماریں گے ۔ اس دن کوئی جانور گنجا نہیں ہوگا اور نہ ہی ٹوٹے سینگوں والا ۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کان کا کیا حق ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے سانڈ کو اس پر چھوڑنا ، اس کا دود ھ عاریت پر دینا اور اسے دوھنا اور اللہ کی راہ میں اس پر سوار ہونا اور آدمی اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو اسے قیامت کے دن بڑے ازدھا میں تبدیل کردیا جائے گا جو اپنے مال دارمالک کا پیچھا کرے گا وہ جہاں بھی چلا جائے اور وہ اس سے بھاگے گا اور اسے کہا جائے گا : تیرا مال یہ ہیجس کی وجہ سے تو بخل کیا کرتا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تب اپنے ہاتھ کو منہ میں ڈالے گا تو وہ اسے نگلنا شروع کردے گا جیسے جانور چباتا ہے۔ ابو زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر (رض) سے سنا کہ ایک آدمی نے کہا : اونٹ کا کیا حق ہے تو آپ نے فرمایا : اس کا پانی پر دوہنا اس کا دودھ عاریت پر دینا اور اس کے سانڈ کو عاریت پر دینا اور اس کو کو اللہ کی راہ میں اس پر سواری کرنا۔

7789

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7789

Sahih

(۷۷۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ : أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فَذَکَرَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَرِوَایَۃُ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُنْقَطِعَۃٌ وَرِوَایَتُہُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مُسْنَدَۃٌ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

٧٧٨٦۔ ابن جریج فرماتے ہیں : مجھے ابن زبیر (رض) نے خبر دی کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا ۔۔۔آگے پوری حدیث بیان کی۔

7790

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7790

Sahih

(۷۷۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ : ((وَلاَ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ یُعْطِی حَقَّہَا ، وَمِنْ حَقِّہَا حَلَبُہَا یَوْمَ وِرْدِہَا إِلاَّ وَہِیَ تُجْمَعُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لاَ یَفْقِدُ مِنْہَا فَصِیلاً وَاحِدًا ، ثُمَّ یُبْطَحُ لَہَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَأُہُ بِأَخْفَافِہَا ، وَتَعَضُّہُ بَأَفْوَاہِہَا کُلَّمَا مَرَّ بِہِ آخِرُہَا رَجَعَ عَلَیْہِ أَوَّلُہَا فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِینَ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی یُقْضَی بَیْنَ النَّاسِ فَیُرَی سَبِیلَہُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّۃِ ، وَإِمَّا إِلَی النَّارِ۔۔۔))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یُونُسَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی ، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ۔ وَرَوَاہُ سُہَیْلُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : ((مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ یُؤَدِّی زَکَاتَہَا ۔ وَلَمْ یَذْکُرِ اللَّفْظَ فِی الْحَلْبِ))۔ وَرَوَاہُ أَبُو عُمَرَ الْغُدَّانِیُّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِمَعْنَاہُ فِیمَنْ لاَ یُؤَدِّی حَقَّہَا۔ فَقِیلَ لَہُ : وَمَا حَقُّ الإِبِلِ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ؟ قَالَ: تُعْطِی الْکَرِیمَۃَ، وَتَمْنَحُ الْغَزِیرَۃَ، وَتُفْقِرُ الظَّہْرَ، وَتُطْرِقُ الْفَحْلَ، وَتَسْقِی اللَّبَنَ۔[صحیح۔ اخرجہ مسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

٧٧٨٧۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ نہیں کوئی اونٹ والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا اس کے دو ھنے کا حق وارد ہونے کے وقت مگر یہ قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے ان میں سے ایک بچہ بھی گم نہیں ہوگا۔ پھر اسے صاف میدان میں ڈال دیا جائے گا ، وہ اپنے ناخنوں سے اسے روندیں گے اور منہ سے اسے کا ٹیں گے، جب اس پر آخری گزرے گا تو پہلا پلٹ آئے گا۔ یہ ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی یہاں تک کہ لوگوں میں فیصلہ کردیا جائے اور وہ اپنا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دیکھ لے۔ آگے مکمل حدیث ذکر کی۔ امام مسلم نے صحیح میں سہیل بن ابی صالح کی سند سے بیان کیا کہ کوئی بھی اونٹوں والا جو اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا مگر (صلب) وغیرہ کے لفظ بیان نہیں کیے ۔ نیز ابوہریرہ (رض) سے انھیں معانی میں حدیث بیان کی جو اس کا حق ادا نہیں کرتا تو کہا گیا : اے ابوہریرہ ! یہ اونٹ کا حق کیا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : سواری کے لیے دینا، دودھ پلانا اس کی پیٹھ حاضر کرنا اور سانڈ کو چھوڑنا اور دودھ پلانا۔

7791

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7791

Sahih

(۷۷۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی عُمَرَ الْغُدَّانِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَذَکَرَہُ۔ وَاللَّفْظُ مُخْتَلِفٌ إِلاَّ مَا نَقَلْتُہُ مِنْ لَفْظِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ قَدْ تُوہِمُ أَنَّ تَفْسِیرَ الْحَقِّ فِی رِوَایَۃِ أَبِی صَالِحٍ مِنْ قَوْلِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ کَمَا ہُوَ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عُمَرَ الْغُدَّانِیِّ مِنْ قَوْلِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ وَقَدْ ذَہَبَ أَکْثَرُ الْعُلَمَائِ : إِلَی أَنَّ وُجُوبَ الزَّکَاۃِ نَسَخَ وُجُوبَ ہَذِہِ الْحُقُوقِ سِوَی الزَّکَاۃِ مَا لَمْ یُضْطَرَّ إِلَیْہِ غَیْرُہُ وَقَدْ مَضَتِ الدِّلاَلَۃُ عَلَی ذَلِکَ فِی أَوَّلِ کِتَابِ الزَّکَاۃِ وَقَدْ وَرَدَتْ أَخْبَارٌ فِی التَّحْرِیضِ عَلَی الْمَنِیحَۃِ وَہِی مَحْمُولَۃٌ عَلَی الاِسْتِحْبَابِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم]

اردو ترجمہ · Urdu

٧٧٨٨۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) اس حدیث کو نقل فرماتے ہیں، مگر اس کے الفاظ مختلف ہیں اور جو میں نے ابوہریرہ (رض) کے الفاظنقل کیے ہیں۔