Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 11 · Chapter 1581

زکوۃ کا بیان

عامل کو خوش کرنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

7531

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7531

Zaeef

(۷۵۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا أَتَاکُمُ الْمُصَدِّقُ فَلاَ یُفَارِقْکُمْ إِلاَّ عَنْ رِضًا))۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یُوَفُّوُہُ طَائِعِینَ وَلاَ یَلْوُوہُ لاَ أَنْ یُعْطُوہُ مِنْ أَمْوَالِہِمْ مَا لَیْسَ عَلَیْہِمْ فَبِہَذَا نَأْمُرُہُمْ وَنَأْمُرُ الْمُصَدِّقَ۔ وَہَذَا الَّذِی قَالَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مُحْتَمَلٌ لَوْلاَ مَا فِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہِلاَلٍ الْعَبْسِیِّ مِنَ الزِّیَادَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٥٢٩) جرید بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے پاس عاملِ زکوۃ آئے تو وہ جب تک خوش نہ ہو تم سے جدا نہ ہونے پائے (ایسا مال دو جس سے وہ خوش ہوجائے) ۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ تم طیب نفس سے اسے پورا پورا دو ، اس سے اعراض نہ کرو نہ ان کو ان اموال سے دو جو ان کا حق نہیں ہم ہی انھیں حکم دیتے ہیں اور مصدق کو بھی اور جو بات امام شافعی (رح) نے کہی ہے وہ بھی یہی ہے۔

7532

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7532

Sahih

(۷۵۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ (ح) وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ وَہَذَا حَدِیثُ أَبِی کَامِلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہِلاَلٍ الْعَبْسِیُّ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : جَائَ نَاسٌ یَعْنِی مِنَ الأَعْرَابِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا : إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِینَ یَأْتُونَا فَیَظْلِمُونَا قَالَ : ((أَرْضُوا مُصَدِّقِیکُمْ))۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ : وَإِنْ ظَلَمُونَا قَالَ : أَرْضُوا مُصَدِّقِیکُمْ ۔ زَادَ عُثْمَانُ : وَإِنْ ظُلِمْتُمْ ۔ وَقَالَ أَبُو کَامِلٍ فِی حَدِیثِہِ قَالَ جَرِیرٌ : مَا صَدَرَ عَنِّی مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلاَّ وَہُوَ عَنِّی رَاضٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ وَعَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحِیمِ۔ [صحیح۔ مسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٥٣٠) جریر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ کچھ دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے پاس کچھ عامل آئے ہیں جو ہمارے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے عاملین کو خوش کرو ، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ ہم پر زیادتی بھی کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے عاملین کو خوش کریں۔ عثمان نے یہ بات زیادہ کی اگرچہ تم ظلم کیے جاؤ۔ ابو کامل اپنی حدیث میں فرماتے ہیں کہ ابن جریر نے کہا : اس کے بعد کوئی عامل ہم سے ناراض ہو کر نہیں گیا۔

7533

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7533

Sahih

(۷۵۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا مُطَیَّنٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِیفٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا أَتَاکَ الْمُصَدِّقُ فَأَعْطِہِ صَدَقَتَکَ فَإِنِ اعْتَدَی عَلَیْکَ فَوَلِّہِ ظَہْرَکَ وَلاَ تَلْعَنْہُ وَقُلِ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَحْتَسِبُ عِنْدَکَ مَا أُخِذَ مِنِّی))۔ وَفِی ہَذَا کَالدِّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّہُ رَأَی الصَّبْرَ عَلَی تَعَدِّیہِمْ ، وَکَذَلِکَ فِی حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((خَلُّوا بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَا یَبْتَغُونَ فَإِنَ عَدَلُوا فَلأَنْفُسِہِمْ ، وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَیْہَا))۔ وَقَدْ مَضَی فِی بَابِ الاِخْتِیَارِ فِی دَفْعِ الصَّدَقَۃِ إِلَی الْوَالِی۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَارٌ کَثِیرَۃٌ فِی الصَّبْرِ عَلَی ظُلْمِ الْوُلاَۃِ وَذَلِکَ مَحْمُولٌ عَلَی أَنَّہُ أَمَرَ بِالصَّبْرِ عَلَیْہِ إِذَا عَلِمَ أَنَّہُ لاَ یَلْحَقْہُ غَوْثٌ وَأَنَّ مَنْ وَلاَّہُ لاَ یَقْبِضُ عَلَی یَدَیْہِ ، فَإِذَا کَانَ یُمْکِنُہُ الدَّفْعُ أَوْ کَانَ یَرْجُو غَوْثًا۔ [صحیح۔ الحاکم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٥٣١) ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب زکوۃ لینے والا آئے تو اسے زکوۃ دے دو ، اگر وہ تم پر زیادتی کرتا ہے تو اس سے منہ موڑ لو مگر برا بھلا نہ کہو، بلکہ کہو : اے میرے اللہ ! میں تجھی سے اس کا اجر چاہتا ہوں جو کچھ مجھ سے لیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے درمیان رہو اور جو وہ چاہتے ہیں اس کے درمیان سے ہٹ جاؤ اگر انصاف کریں گے تو ان کے لیے اگر ظلم کریں گے تو عذاب انہی پر ہوگا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے والیوں کے صبر کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں اور یہ بھی اسی پر محمول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبر کا حکم دیا جب کہ اس کو علم بھی ہو کہ کوئی معاون نہ ہوگا اور جو والی ہے اس کے ہاتھ کو روکا نہیں جاسکتا جب تک اس کا دفع کرنا ممکن نہ ہو یا مدد کی امید نہ ہو۔

7534

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7534

Zaeef

(۷۵۳۲) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَیْنَمَا ہُوَ فِی بَیْتِہَا وَعِنْدَہُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِہِ یَتَحَدَّثُونَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَمْ صَدَقَۃُ کَذَا وَکَذَا مِنَ التَّمْرِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((کَذَا وَکَذَا))۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّ فُلاَنًا تَعَدَّی عَلَیَّ فَأَخَذَ مِنِّی کَذَا وَکَذَا فَازْدَادَ صَاعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَکَیْفَ إِذَا سَعَی عَلَیْکُمْ مَنْ یَتَعَدَّی عَلَیْکُمْ أَشَدَّ مِنْ ہَذَا التَّعَدِّی))۔ فَخَاضَ النَّاسُ وَبُہِرَ الْحَدِیثُ حَتَّی قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ کَانَ رَجُلاً غَائِبًا عَنْکَ فِی إِبِلِہِ وَمَاشِیَتِہِ وَزَرْعِہِ فَأَدَّی زَکَاۃَ مَالِہِ فَتَعَدَّی عَلَیْہِ الْحَقَّ فَکَیْفَ یَصْنَعُ وَہُوَ غَائِبٌ عَنْکَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ أَدَّی زَکَاۃَ مَالِہِ طِیِّبَ النَّفْسِ بِہَا یُرِیدُ بِہِ وَجْہَ اللَّہِ وَالدَّارَ الآخِرَۃَ لَمْ یُغَیِّبْ شَیْئًا مِنْ مَالِہِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَتَعَدَّی عَلَیْہِ الْحَقَّ فَأَخَذَ سِلاَحَہُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَہُوَ شَہِیدٌ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ احمد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٥٣٢) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ صحابہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اتنی کھجوروں کی زکوۃ کتنی ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا : ایسے ایسے ۔ پھر آدمی نے کہا : فلاں نے مجھ پر زیادتی کی ہے اور اتنی اتنی زکوۃ لی اور ایک صاع اضافی لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ وقت کیسا ہوگا جب تم پر اس سے بھی زیادہ زیاتی کرنے والے ہوں گے تو لوگ اس بات میں گہر گئے اور بات بڑھ گئی یہاں تک کہ ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! اگر کوئی آپ سے دور اپنے اونٹوں، جانوروں اور کھیتوں میں ہو اور وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتا رہے ، پھر اس کے حق میں اس پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ کیا کرے ، جب کہ وہ آپ سے دور ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اپنے مال کی زکوۃ طیب نفس سے ادا کی اور وہ صرف اللہ کی رضا اور آخرت چاہتا ہے تو وہ اپنے مال میں سے کچھ غائب نہیں کرے گا اور وہ نماز قائم کرتا ہے، پھر اس پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اپنے اسلحہ کو پکڑتا ہے پھر لڑائی کرتا ہے اور قتل کردیا جاتا ہے تو وہ شہید ہے۔