Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 11 · Chapter 1533

زکوۃ کا بیان

زکوۃ لوگوں کے عمدہ مال میں سے نہ لی جائے

11 hadiths in this chapter

7304

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7304

Sahih

(۷۳۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعِیدٍ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا أُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ صَیْفِیٍّ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا عَلَی الْیَمَنِ قَالَ: ((إِنَّکَ تَقْدَمُ عَلَی قَوْمٍ أَہْلِ کِتَابٍ فَلْیَکُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلَیْہِ عِبَادَۃُ اللَّہِ عَزَّوَجَلَّ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّہَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللَّہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِہِمْ وَلَیْلَتِہِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللَّہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْہِمْ زَکَاۃً تُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِہَا فَخُذْ مِنْہُمْ، وَتَوَقَّ کَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ أُمَیَّۃَ بْنِ بِسْطَامَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣٠٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ (رض) کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا : تو ایک ایسی قوم کے پاس جا رہا ہے جو اہل کتاب ہیں۔ سو تو انھیں سب سے پہلے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دینا، جب وہ اللہ کو جان لیں تو پھر انھیں بتا : اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ یہ کرلیں تو انھیں آگاہ کرو کہ اللہ نے ان پر زکوۃ بھی فرض کی ہے جو مال داروں سے وصول کر کے غریبوں کو دی جائے گی۔ جب وہ اس بات کی اطاعت کرلیں تو وہ ان سے لو اور ان کے عمدہ اموال سے بچ۔

7305

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7305

Sahih

(۷۳۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ مَیْسَرَۃَ أَبِی صَالِحٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : سِرْتُ أَوْ قَالَ أَخْبَرَنِی مَنْ سَارَ مَعَ مُصَدِّقِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِذَا فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَنْ لاَ یِأْخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ ، وَلاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ))۔ وَکَانَ إِنَّمَا یَأْتِی الْمِیَاہَ حِینَ تَرِدُ الْغَنَمُ فَیَقُولُ : أَدُّوا صَدَقَاتِ أَمْوَالِکُمْ قَالَ فَعَمَدَ رَجُلٌ مِنْہُمْ إِلَی نَاقَۃٍ کَوْمَائَ قَالَ قُلْتُ : یَا أَبَا صَالِحٍ مَا الْکَوْمَائُ قَالَ عَظِیمَۃُ السَّنَامِ - قَالَ - فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَہَا قَالَ فَقَالَ : إِنِّی أُحِبُّ أَنْ تَأْخُذَ خَیْرَ إِبِلِی قَالَ فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَہَا قَالَ : فَخَطَمَ لَہُ أُخْرَی دُونَہَا فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَہَا ، ثُمَّ خَطَمَ لَہُ أُخْرَی دُونَہَا فَقَبِلَہَا وَقَالَ : إِنِّی آخِذُہَا وَأَخَافُ أَنْ یَجِدَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : عَمَدْتَ إِلَی رَجُلٍ فَتَخَیَّرْتَ عَلَیْہِ إِبِلَہُ۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣٠٤) سوید بن غفلہ (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے اس نے خبر دی جو عامل کے ساتھ گیا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں، جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ وہ دودھ پلانے والا جانور نہ لے اور نہ ہی جدا جدا چرنے والیوں کو اکٹھا کرے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے تو وہ ان کے پاس پانی پلانے کی جگہ پر آتے اور انھیں کہتے، جب بکریاں وہاں آتیں کہ اپنے اموال کی زکوۃ ادا کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی کو ماء اونٹنی کا قصد کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے ابو صالح ! یہ کو ماء کیا ہے تو انھوں نے بتایا : عظیم کوہان والی۔ وہ کہتے ہیں، انھوں نے اسے لینے سے انکار کردیا تو اس نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ تم میرے عمدہ اونٹوں میں سے لو مگر مصدق نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور پھر اس نے دوسرا پیش کیا تو انھوں نے وہ لینے سے بھی انکار کردیا پھر اس نے تیسرا پیش کیا تو انھوں نے وہ قبول کرلیا اور کہا کہ میں لے تو رہا ہوں مگر میں ڈرتا ہوں کہ پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا مؤاخذہ نہ کریں اور کہیں کہ تو ایک ایسے شخص کے پاس گیا اور تو نے اسے اس کے اونٹوں میں اختیار دے دیا۔

7306

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7306

Sahih

(۷۳۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ - یَعْنِی ابْنَ مَنْصُورٍ - حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا ہِلاَلُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ مَیْسَرَۃَ أَبِی صَالِحٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَتَیْتُہُ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : إِنَّ فِی عَہْدِی أَنْ لاَ آخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ ، وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ وَلاْ یُجْمَعُ بَیْنَ مُتَفَرِّقٍ۔ وَأَتَاہُ رَجُلٌ بِنَاقَۃٍ کَوْمَائَ فَقَالَ : خُذْہَا فَأَبَی۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣٠٥) سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مصدق آیا تو میں اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا، میں نے ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میرے عہد میں یہ بات شامل ہے کہ میں دودھ پلانے والا جانور نہ لوں اور نہ ہی جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا کروں اور نہ ہی یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا کروں تو اس کے پاس ایک آدمی بڑی کوہان والی اونٹنی لے کر آیا اور اس نے کہا : یہ وصول کرلو مگر مصدق نے وصول کرنے سے انکار کردیا۔

7307

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7307

Sahih

(۷۳۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ أَبِی لَیْلَی الْکِنْدِیِّ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : أَخَذْتُ بِیَدِ مُصَدِّقِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَتَیْتُہُ بِنَاقَۃٍ عَظِیمَۃٍ فَقَالَ : أَیُّ سَمَائٍ تُظِلُّنِی ، وَأَیُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِی إِذَا أَخَذْتُ خِیَارَ مَالِ امْرِئٍ فَأَتَیْتُہُ بِنَاقَۃٍ مِنَ الإِبِلِ فَقَبِلَہَا۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن ماجہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣٠٦) سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عامل کا ہاتھ پکڑا اور ایک بڑی اونٹنی کے پاس لے آیا تو وہ کہنے لگا کہ کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اٹھائے گی ، اگر میں کسی کا عمدہ مال وصول کروں گا تو پھر میں اس کے پاس اونٹوں میں سے ایک اونٹنی لایاتو وہ انھوں نے قبول کرلی۔

7308

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7308

Sahih

(۷۳۰۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الطَّیَالِسِیُّ حَمُّویَہْ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ عَنْ شَرِیکٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ أَبِی لَیْلَی الْکِنْدِیِّ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : أَتَی مُصَدِّقُ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَخَذْتُ بِیَدِہِ وَأَخَذَ بِیَدِی فَقَرَأْتُ فِی عَہْدِہِ : أَنْ لاَ یُجْمَعَ بَیْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ یُفَرَّقَ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْیَۃَ الصَّدَقَۃِ - قَالَ - فَأَتَاہُ رَجُلٌ بِنَاقَۃٍ عَظِیمَۃٍ مُلَمْلَمَۃٍ فَأَبَی أَنْ یَأْخُذَہَا ، ثُمَّ أَتَاہُ بِأُخْرَی دُونَہَا فَأَبَی أَنْ یَأْخُذَہَا ، ثُمَّ أَتَاہُ بِأُخْرَی دُونَہَا فَأَبَی أَنْ یَأْخُذَہَا ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِی ، وَأَیُّ سَمَائٍ تُظِلُّنِی إِذَا أَنَا أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ أَخَذْتُ خِیَارَ إِبِلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ۔ وَقَدْ مَضَی فِی حَدِیثِ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ حِینَ خَرَجَ مُصَدِّقًا۔ وَفِیہِ دِلاَلَۃٌ عَلَی جَوَازِ الأَخْذِ إِذَا تَطَوَّعَ بِہِ صَاحِبُہُ۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣٠٧) سوید بن غفلہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عامل آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں نے اس کی تحریر میں یہ بات پڑھی کہ یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے اور جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا نہ کیا جائے زکوۃ کے ڈر سے۔ ایک آدمی بڑی اونٹنی لے کر حاضر ہوا تو انھوں نے اسے وصول کرنے سے انکار کردیا، پھر وہ اس کے علاوہ دوسری لایا تو انھوں نے اس سے بھی انکار کردیا، پھر وہ اس کے علاوہ اور لایا تو اس سے بھی انکار کردیا اور کہا : کون سی زمین مجھے اٹھائے گی اور کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا جب کہ میں یہ لوں گا۔ ابی بن کعب کی حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جب وہ عامل بن کر نکلے اور اس میں نفلی صدقہ لینے کے جواز کی دلیل ہے۔

7309

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7309

Zaeef

(۷۳۰۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنِ حَازِمٍ قَالَ : رَأَیْتُ رَجُلاً فِی مَکَانِ أَیُّوبَ عَلَیْہِ جُبَّۃُ صُوفٍ وَفِی رِوَایَۃِ الْحَارِثِ قَالَ : رَأَیْتُ فِی مَجْلِسِ أَیُّوبَ أَعْرَابِیًّا عَلَیْہِ جُبَّۃُ صُوفٍ فَلَمَّا رَأَی الْقَوْمَ یَتَحَدَّثُونَ قَالَ حَدَّثَنِی مَوْلاَیَ قُرَّۃُ بْنُ دُعْمُوصٍ قَالَ : أَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ فَإِذَا النَّبِیُّ -ﷺ- قَاعِدٌ وَأَصْحَابُہُ حَوْلَہُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْہُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَدْنُوَ مِنْہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اسْتَغْفِرْ لِلْغُلاَمِ النُّمَیْرِیِّ۔ فَقَالَ : ((غَفَرَ اللَّہُ لَکَ))۔ قَالَ : وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الضَّحَّاکَ سَاعِیًا - قَالَ - فَجَائَ بِإِبِلٍ جلَّۃٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَتَیْتَ ہِلاَلَ بْنَ عَامِرٍ وَنُمَیْرَ بْنَ عَامِرٍ وَعَامِرَ بْنَ رَبِیعۃٍ فَأَخَذْتَ جِلَّۃَ أَمْوَالِہِمْ؟))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی سَمِعْتُکَ تَذْکُرُ الْغَزْوَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِیَکَ بِإِبِلٍ تَرْکَبُہَا وَتَحْمِلُ عَلَیْہَا أَصْحَابَکَ قَالَ : ((وَاللَّہِ لَلَّذِی تَرَکْتَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الَّذِی جِئْتَ بِہِ اذْہَبْ فَرُدَّہَا عَلَیْہِمْ وَخُذْ صَدَقَاتِہِمْ مِنْ حَوَاشِی أَمْوَالِہِمْ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحارث]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣٠٨) قرہ بن دعموص (رض) فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے اور صحابہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارد گرد تھے۔ میں نے چاہا کہ میں آپ سے قریب ہو کر بیٹھوں مگر میں قریب نہ جاسکا ۔ پھر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اپنے نمیری غلام کے لیے استغفار کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تجھے معاف کرے ۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ضحاک کو عامل بنا کر بھیجا تو وہ ایک بڑا اونٹ لے آئے تو اسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ہلال بن عامر اور نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس آیا ہے اور ان کے عمدہ مال کو لیا ہے تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے سنا آپ غزوے کا تذکرہ کر رہے تھے تو میں نے چاہا کہ ایسا اونٹ لاؤں جس پر آپ سوار ہوں اور آپ کے صحابہ بھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! جو تو چھوڑ کہ آیا ہے وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب تھا جسے تو لے کر آیا ہے جا اور اسے واپس لوٹا اور ان کے عام مال سے زکوۃ وصول کر۔

7310

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7310

Zaeef

(۷۳۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی رَجُلاَنِ مِنْ أَشْجَعَ : أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ الأَنْصَارِیَّ کَانَ یَأْتِیہِمْ مُصَدِّقًا فَیَقُولُ لِرَبِّ الْمَالِ : أَخْرِجْ إِلَیَّ صَدَقَۃَ مَالِکَ فَلاَ یَقُودُ إِلَیْہِ شَاۃً فِیہَا وَفَائٌ مِنْ حَقِّہِ إِلاَّ قَبِلَہَا۔ قَالَ مَالِکٌ : السُّنَّۃُ عِنْدَنَا أَنَّہُ لاَ یُضَیِّقُ عَلَی النَّاسِ فِی زَکَاتِہِمْ ، وَأَنْ یَقْبَلَ مِنْہُمْ مَا دَفَعُوا مِنْ زَکَاۃِ أَمْوَالِہِمْ۔ قَالَ الشَّیْخُ إِذَا کَانَ فِیمَا دَفَعُوا وَفَائٌ مِنَ الْحَقِّ کَمَا رَوَاہُ فِی حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ مالک]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣٠٩) محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ مجھے دو آدمیوں نے خبر دی جو اشجع قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ انصاری (رض) ان کے پاس عامل کی حیثیت سے آئے تھے اور وہ صاحب مال سے کہنے لگے : اپنے مال کی زکوۃ نکالو تو وہ جو بھی بکری زکوۃ میں لاتے تو وہ اسے قبول کرلیتے ۔ مالک کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ زکوۃ وصول کرنے میں لوگوں کو تنگ نہ کریں اور یہ ان سے قبول کریں جو وہ زکوۃ میں ادا کریں۔ شیخ فرماتے ہیں کہ یہ جب کہ زکوۃ پوری پوری ہو جو اس پر واجب ہو جیسا کہ محمد بن مسلمہ کی حدیث میں بیان ہوچکا۔

7311

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7311

Zaeef

(۷۳۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاً مُصَدِّقًا قَالَ : ((لاَ تَأْخُذْ مِنْ حَزَرَاتِ أَنْفَسِ النَّاسِ شَیْئًا خُذِ الشَّارِفَ وَالْبَکْرَ وَذَوَاتِ الْعَیْبِ))۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣١٠) ہشام بن عروہ (رض) اپنے والد سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو عامل بنا کر بھیجا اور فرمایا : لوگوں کے عمدہ مال میں سے وصول نہ کر ، بلکہ بوڑھی ، بچی اور عیب والی بھی قبول کرلے۔

7312

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7312

Sahih

(۷۳۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ یَقُولُ : لاَ تَأْخُذْ خِیَارَ أَمْوَالِہِمِ خُذِ الشَّارِفَ وَہِیَ الْمُسِنَّۃُ الْہَرِمَۃُ وَالْبَکْرَ وَہُوَ الصَّغِیرُ مِنْ ذُکُورِ الإِبِلِ وَإِنَّہُ کَانَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمَ قَبْلَ أَنْ یُؤْخَذَ النَّاسُ بِالشَّرَائِعِ۔ قَالَ الشَّیْخُ الْحَدِیثُ مُرْسَلٌ وَقَدْ یُتَصَوَّرُ عِنْدَنَا أَخْذُ الذُّکُورِ وَالصَّغَارِ وَالْمَعِیبَۃِ إِذَا کَانَتْ مَاشِیُتُہُ کُلُّہَا کَذَلِکَ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣١١) ابو عبید فرماتے ہیں کہ تو ان کے عمدہ مال میں سے وصول نہ کر بلکہ تو بوڑھی قبول کر اور بکر یعنی چھوٹی عمر والا اونٹ اور یہ شروع اسلام میں تھا ، اس سے پہلے کہ لوگ شریعت سیکھتے۔ شیخ فرماتے ہیں : یہ حدیث مرسل ہے ہمارے نزدیک یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جب تمام مویشی عیب دارو مذکر ہوں تو مذکر، چھوٹے اور عیب دار کو ہی لے لیا جائے۔

7313

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7313

Sahih

(۷۳۱۲) وَرُوِّینَا عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ: إِذَا انْتَہَی الْمُصَدِّقُ إِلَی الْغَنَمِ صَدَعَہَا صَدْعتَیْنِ فَیَأْخُذُ صَاحِبُ الْغَنَمِ خَیْرَ الصَّدْعَیْنِ وَیَأْخُذُ صَاحِبُ الصَّدَقَۃِ مِنَ الصَّدْعِ الآخَرِ۔[صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣١٢) حکم بیان فرماتے ہیں : جب عامل بکریوں کے پاس آتا تو انھیں دو حصوں میں تقسیم کرتا ، پھر بکریوں والا عمدہ حصہ پیش کرتا اور عامل دوسرے حصے میں سے وصول کرتا۔

7314

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7314

Sahih

(۷۳۱۳) وَرُوِّینَا عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّہُ قَالَ : یَصْدَعُہَا ثَلاَثَۃَ أَصْدَاعٍ ثُلُثٌ خِیَارٌ ، وَثُلُثٌ وَسَطٌ ، وَثُلُثٌ دُونٌ فَیَدَعُ الْمُصَدِّقُ الْخِیَارَ وَیَأْخُذُ مِنَ الْوَسَطِ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْہُمَا بِہِمَا جَمِیعًا۔ وَقَدْ حَکَی الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ ہَذَیْنِ الْمَذْہَبَیْنِ مِنْ غَیْرِ تَسْمِیَۃِ قَائِلِیہِمَا۔ وَرُوِّینَا عَنِ الزُّہْرِیِّ مِثْلَ قَوْلِ الْقَاسِمِ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : یَخْتَارُ صَاحِبُ الْغَنَمِ الثُّلُثَ ثُمَّ اخْتَارُوا مِنَ الثُّلُثَیْنِ الْبَاقِیَیْنِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣١٣) قاسم بن محمد فرماتے ہیں : وہ ان کے تین حصے کرتے ، ایک تہائی عمدہ ایک تہائی درمیانے جانور اور ایک تہائی اس سے کمزور عامل عمدہ کو چھوڑ کر درمیانے میں سے وصول کرتا۔ عمر بن خطاب (رض) سے یہ بات بیان کی گئی کہ بکریوں والا ایک ثلث کو چن لے گا پھر باقی دو ثلث میں سے وہ منتخب کریں گے۔