Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 11 · Chapter 1532

زکوۃ کا بیان

بکریوں کی عمر جس میں جو زکوۃ فرض ہے سعر بن دیسم فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں نے اس بکری کے بارے میں کہا جو ان کو دی تھی کہ یہ شافع ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لینے سے منع کیا ہے، شافع وہ بکری ہوتی ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو ۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : پھر تم کونسی وصول کرو گے ؟ تو انھوں نے کہا : جذعہ یا ثنیہ عمر کی بکری ۔ فرماتے ہیں : میں نے ان کے لیے وہی نکالا تو انھوں نے کہا : اسے ہمارے اونٹ کی طرف اٹھاؤ تو میں نے انھیں پکڑا دیا تو وہ اپنے اونٹ پر اٹھا کرلے گئے۔

3 hadiths in this chapter

7301

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7301

Zaeef

(۷۳۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی سُفْیَانَ حَدَّثَنِی مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَۃَ فَذَکَرَہُ۔ إِلاَّ أَنَّ شَیْخَنَا لَمْ یُثْبِتِ اسْمَ سَعْرِ بْنِ دَیْسَمٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣٠٠) عمرو بن ابی سفیان فرماتے ہیں : مجھے مسلم بن شعبہ نے ایسے ہی حدیث سنائی ، مگر یہ کہ ہمارا شیخ مضبوط حافظے کا نہیں، جن کا نام سعر بن دیسم ہے۔

7302

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7302

Sahih

(۷۳۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ أَبَاہُ سُفْیَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ عَلَی الطَّائِفِ وَمَخَالِیفِہَا فَخَرَجَ مُصَدِّقًا فَاعْتَدَّ عَلَیْہِمْ بِالْغَذَائِ وَلَمْ یَأْخُذْہُ مِنْہُمْ فَقَالُوا لَہُ : إِنْ کُنْتَ مُعْتَدًّا عَلَیْنَا بِالْغَذَائِ فَخُذْہُ مِنَّا فَأَمْسَکَ حَتَّی لَقِیَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ : اعْلَمْ أَنَّہُمْ یَزْعُمُونَ أَنَّا نَظْلِمُہُمْ نَعْتَدُّ عَلَیْہِمْ بِالْغَذَائِ وَلاَ نَأْخُذُہُ مِنْہُمْ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : فَاعْتَدَّ عَلَیْہِمْ بِالْغَذَائِ حَتَّی بِالسَّخْلَۃِ یَرُوحُ بِہَا الرَّاعِی عَلَی یَدِہِ وَقُلْ لَہُمْ : لاَ آخُذُ مِنْکُمُ الرِّبَا وَلاَ الْمَاخِضَ ، وَلاَ ذَاتَ الدَّرِ ، وَلاَ الشَّاۃَ الأَکُولَۃَ ، وَلاَ فَحْلَ الْغَنَمِ وَخُذِ الْعَنَاقَ الْجَذَعَۃَ وَالثَّنِیَّۃَ فَذَلِکَ عَدْلٌ بَیْنَ غِذَائِ الْمَالِ وَخِیَارِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣٠١) بشر بن عاصم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر (رض) نے اس کے والد سفیان بن عبداللہ کو طائف پر عامل بنا کر بھیجا اور اس کے گردو نواح میں بھی تو وہ زکوۃ لینے کے لیے نکلے۔ سو انھوں نے ان پر غذا میں زیادتی کی اور ان سے وہ نہ لی تو انھوں نے کہا : اگر تو ہم پر غذا میں زیادتی کرتا ہے تو پھر تو ہم سے لے جا تو وہ زکوۃ لینے سے رک گیا حتیٰ کہ عمر (رض) سے ملاقات کی اور کہا : میرا خیال ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میں نے ان پر غذا میں زیادتی کر کے ظلم کیا ہے اور میں ان سے نہیں لیتا تو عمر (رض) نے اسے کہا کہ تو ان کی غذا میں زیادتی کر، یہاں تک کہ وہ بکری کے بچے بھی ساتھ لائیں اور ان سے کہہ دو کہ میں تم سے سود نہیں لیتا اور نہ ہی میں کمزور اور دو دھ والی اور نہ ہی بوڑھی بکری اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لوں گا، بلکہ میں تو ان سے بکری کا بچہ جذعہ (سال سے کم عمرکا) وصول کروں اور دوندا (ثنیہ) وصول کروں گا یہ مال وغذا کے درمیان عدل اور اس کی عمدگی ہے۔

7303

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7303

Sahih

(۷۳۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُوأَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُفْیَانَ الثَّقَفِیِّ عَنْ جَدِّہِ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَہُ مُصَدِّقًا وَکَانَ یَعُدُّ عَلَی النَّاسِ بِالسَّخْلِ فَقَالُوا : أَتَعُدُّ عَلَیْنَا بِالسَّخْلِ وَلاَ تَأْخُذُ مِنْہُ شَیْئًا فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : نَعَمْ نَعُدُّ عَلَیْہِمْ بِالسَّخْلَۃِ یَحْمِلُہَا الرَّاعِی وَلاَ نَأْخُذُہَا وَلاَ نَأْخُذُ الأَکُولَۃَ وَلاَ الرُّبَی وَلاَ الْمَاخِضَ وَلاَ فَحْلَ الْغَنَمِ وَنَأْخُذُ الْجَذَعَۃِ وَالثَّنِیَّۃِ وَذَلِکَ عَدْلٌ بَیْنَ غِذَائِ الْمَالِ وَخِیَارِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٣٠٢) سفیان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ عمربن خطاب (رض) نے اسے عامل بنا کر بھیجا اور وہ ان کے ساتھ زیادتی کرتے تھے ان کے بچوں میں تو وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے بکری کے بچے بھی شمار کرتے ہو ! مگر ان میں سے لیتے نہیں ہو ۔ جب وہ عمر بن خطاب کے پاس آئے تو اس بات کا تذکرہ کیا تو عمر بن خطاب نے فرمایا : ہاں ہم ان کے بچے شمار کریں گے اس کا چرواہا اسے اٹھائے گا مگر اسے نہیں لیں گے اور نہ ہی بوڑھی بکری اور نہ بچوں والی اور نہ ہی حاملہ اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لیں گے، بلکہ ہم جذعہ یا ثنیہ عمر کی بکریاں وصول کریں گے اور یہ مال وغذا میں برابری ہے۔