Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 10 · Chapter 1512

جنازوں کا بیان

قبرستان میں جوتے پہن کر چلنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

7216

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7216

Sahih

(۷۲۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ الْبَیْرُوتِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی الأَنْصَارِیُّ وَدَاوُدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْفَارْیَابِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ یَقُولُ حَدَّثَنِی بُسْرُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحَضْرَمِیُّ أَنَّہُ سَمِعَ وَاثِلَۃَ بْنَ الأَسْقَعِ اللَّیْثِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((لاَ تَجْلِسُوا عَلَی الْقُبُورِ وَلاَ تُصَلُّوا إِلَیْہَا))۔ لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَائٌ إِلاَّ أَنَّ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ مَزْیَدٍ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الأَسْقَعِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِیُّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، وَرَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ بُسْرٍ عَنْ أَبِی إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیِّ عَنْ وَاثِلَۃَ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ فِی کَرَاہِیَۃِ ذَلِکَ وَالتَّشْدِیدِ فِیہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٢١٥) ابو مرثد غنوی فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی ادھر منہ کر کے نماز ادا کرو۔ ان دونوں احادیث کے الفاظ برابر ہیں سوائے ابن مزید کی روایت کے جو واثلہ بن اسقع سے نقل ہوئی ہے۔

7217

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7217

Sahih

(۷۲۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ النَّحْوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ حَدَّثَنِی خَالِدُ بْنُ سُمَیْرٍ حَدَّثَنِی بَشِیرُ بْنُ نَہِیکٍ قَالَ حَدَّثَنِی بَشِیرٌ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ اسْمُہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ زَحْمَ بْنَ مَعْبَدٍ فَقَالَ لَہُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا اسْمُکَ؟))۔ قَالَ : زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ((أَنْتَ بَشِیرٌ))۔ فَکَانَ اسْمَہُ قَالَ : بَیْنَا أَنَا أُمَاشِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((یَا ابْنَ الْخَصَاصِیَۃِ مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَی اللَّہِ تُمَاشِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ))- ۔ فَقُلْتُ : مَا أَنْقِمُ عَلَی اللَّہِ شَیْئًا کُلُّ خَیْرٍ فَعَلَ بِیَ اللَّہِ۔ فَأَتَی عَلَی قُبُورِ الْمُشْرِکِینَ فَقَالَ : ((لَقَدْ سُبِقَ ہَؤُلاَئِ بِخَیْرٍ کَثِیرٍ))۔ ثَلاَثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ أَتَی عَلَی قُبُورِ الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ : ((لَقَدْ أَدْرَکَ ہَؤُلاَئِ خَیْرًا کَثِیرًا))۔ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَبَیْنَمَا ہُوَ یَمْشِی إِذْ حَانَتْ مِنْہُ نَظْرَۃٌ فَإِذَا بِرَجُلٌ یَمْشِی بَیْنَ الْقُبُورِ عَلَیْہِ نَعْلاَنِ فَقَالَ : ((یَا صَاحِبَ السِّبْتِیَّتَیْنِ وَیْحَکَ أَلْقِ سِبْتِیَّتَیْکَ))۔ فَنَظَرَ فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَلَعَ نَعْلَیْہِ فَرَمَی بِہِمَا۔ وَہَذَا حَدِیثٌ قَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ شَیْبَانَ وَلاَ یُعْرَفُ إِلاَّ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٢١٦) بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بشیر نے (جس کا جاہلیت کا نا زحم بن معبد تھا) حدیث بیان کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : زحم بن معبد۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بشیر ہے تو اس کا نام یہی ٹھہرا فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا رہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن خصاصیۃ ! تو نے صبح نہیں کی مگر اس حالت میں کہ تو اللہ سے بدلہ لے رہا ہے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہا ہے تو میں نے کہا : میں اللہ تعالیٰ سے کوئی بدلہ نہیں لے رہا، میرے ساتھ میرے اللہ نے سب بھلا ہی کیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے قبرستان آئے اور فرمایا : یہ لوگ ایسے جن جن سے بہت سی خبر سبقت لے جا چکی ہے۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ دھرائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کی قبروں کے پاس آئے اور فرمایا : انھوں نے بہت زیادہ بھلائی حاصل کی ہے ، تین بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی کہا اور آپ ایسے ہی چلتے رہے کہ ایک ایسے شخص پر نظر پڑی جو قبرستان کے درمیان چل رہا تھا اور اس کے کہ اوپر جوتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جوتوں والے ! اپنے جوتے پھینک دے ، اس نے دیکھا کہ آپ تو اللہ کے رسول ہیں تو اس نے جوتے اتار کر پھینک دے۔

7218

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7218

Sahih

(۷۲۱۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ - یَعْنِی ابْنَ عَطَائٍ - عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِی قَبْرِہِ وَتَوَلَّی عَنْہُ أَصْحَابُہُ إِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ ۔ یَأْتِیہِ مَلَکَانِ فَیَقُولاَنِ مَا کُنْتَ تَقُولُ فِی ہَذَا الرَّجُلِ - یَعْنِی مُحَمَّدًا - -ﷺ- قَالَ : فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَقُولُ : أَشْہَدُ أَنَّہُ عَبْدُ اللَّہِ وَرَسُولُہُ فَیُقَالُ لَہُ انْظُرْ إِلَی مَقْعَدِکَ فِی النَّارِ قَدْ أَبْدَلَکَ اللَّہُ مَقْعَدًا فِی الْجَنَّۃِ فَیَرَاہُمَا جَمِیعًا)) رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَۃَ عَنْ عَبْدِالْوَہَّابِ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔ فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ النَّبِیُّ -ﷺ- رَأَی بِنَعْلَیْہِ قَذَرًا فَأَمَرَہُ أَنْ یَخْلَعَہُمَا لأَجْلِ ذَلِکَ ، وَیُحْتَمَلُ غَیْرَ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ البخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٢١٧) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک بندہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے ، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا لیتے ہیں اور کہتے ہیں : تو اس آدمی کے بارے کیا کہتا ہے ، یعنی (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کے بارے میں۔ انھوں نے کہا : اگر وہ مومن ہے تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا بندہ اور رسول ہے تو اسے کہا جاتا ہے تو اپنا ٹھکانا دوزخ میں دیکھ لے، مگر اللہ نے تیرا ٹھکانا جنت میں تبدیل کردیا ہے تو وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتوں میں گندگی گی دیکھی ہو اور اسی وجہ سے ان کے اتارنے کا حکم دیا اور اس کے علاوہ کا بھی احتمال ہے۔