Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 10 · Chapter 1497

جنازوں کا بیان

بغیر آواز نکالے اور بغیر بین کیے رونے کی اجازت کا بیان

4 hadiths in this chapter

7150

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7150

Sahih

(۷۱۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِابْنَۃِ ابْنَتِہِ وَنَفْسُہَا تَقَعْقَعُ کَأَنَّہَا فِی شَنٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لِلَّہِ مَا أَخَذَ وَلِلَّہِ مَا أَعْطَی ، وَکُلٌّ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی))۔ قَالَ وَبَکَی فَقَالَ لَہُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَبْکِی وَقَدْ نَہَیْتَ عَنِ الْبُکَائِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا ہِیَ رَحْمَۃٌ جَعَلَہَا اللَّہُ فِی قُلُوبِ عِبَادِہِ ، وَإِنَّمَا یَرْحَمُ اللَّہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَائَ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ۔ [صحیح۔ البخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧١٤٩) اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ کا نواسہ لایا گیا اور اس کی سانس اٹک رہی تھی، جیسے مشکیزے میں ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور جو اس نے دے دیا اور ہر ایک اپنے وقت مقررہ کی طرف جا رہا ہے۔ اسامہ (رض) فرماتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رو دیے تو سعد بن عبادہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ روتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہی تو رونے سے منع کیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک یہ تو رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ بھی اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتے ہیں۔

7151

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7151

Sahih

(۷۱۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وُلِدَ لِی اللَّیْلَۃُ غُلاَمٌ فَسَمَّیْتُہُ بِأَبِی إِبْرَاہِیمَ))۔ ثُمَّ دَفَعَہُ إِلَی أُمِّ سَیْفٍ امْرَأَۃِ قَیْنٍ بِالْمَدِینَۃِ - یُقَالُ لَہُ أَبُو سَیْفٍ - فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَزُورُہُ وَانْطَلَقْتُ مَعَہُ فَانْتَہَیْنَا إِلَی أَبِی سَیْفٍ وَہُوَ یَنْفُخُ بِکِیرِہِ - قَالَ - وَالْبَیْتُ مُمْتَلِئٌ دُخَانًا قَالَ فَأَسْرَعْتُ الْمَشْیَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَیْتُ أَبَا سَیْفٍ فَقُلْتُ: جَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَمْسِکْ أَمْسِکْ فَأَمْسَکَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَدَعَا بِالصَّبِیِّ فَضَمَّہُ إِلَیْہِ وَقَالَ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ۔ قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَیْتُہُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَکِیدُ بِنَفْسِہِ فَدَمَعَتْ عَیْنَا رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((تَدْمَعُ الْعَیْنُ وَیَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلاَ نَقُولُ إِلاَّ مَا یُرْضِی رَبَّنَا ، وَاللَّہِ یَا إِبْرَاہِیمُ إِنَّا بِکَ لَمَحْزُونُونَ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہُدْبَۃَ وَشَیْبَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ وَرَوَاہُ مُوسَی عَنْ سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧١٥٠) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک رات میرے ہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام ابراہیم رکھا، پھر اسے ام سیف کی طرف لوٹا دیا جو مدینہ میں دودھ پلانے والی تھی اور اسے ابو سیف کہا جاتا تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی زیارت کے لیے چلے اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلا تو ہم ابو سیف کے پاس چلے گئے اور وہ بھٹی جلا رہا تھا اور اس کا گھر دھویں سے بھرا ہواتھا فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے تیز تیز چلنا شروع کردیا اور میں ابو سیف کے پاس آیا اور کہا : رک جا رک جا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے ہیں ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو آپ نے بچے کو منگوایا اور اپنے ساتھ چمٹالیا اور فرمایا : چاہیے کہ تو ماشاء اللہ کہے۔ انس (رض) فرماتے ہیں : میں نے اسے آپ کے سامنے دیکھا اور وہ تنگی محسوس کررہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آنکھ بہتی ہے ، دل غم گین ہوتا ہے اور ہم نہیں کہتے مگر وہ بات جو ہمارے رب کو خوش کرے۔ اللہ کی قسم ! اے ابراہیم ہم تیری وجہ سے نہایت غمزدہ ہیں۔

7152

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7152

Zaeef

(۷۱۵۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : خَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی النَّخْلِ فَإِذَا ابْنُہُ إِبْرَاہِیمُ یَجُودُ بِنَفْسِہِ فَوَضَعَہُ فِی حِجْرِہِ فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : أَتَبْکِی وَأَنْتَ تَنْہَی النَّاسَ؟ قَالَ : ((إِنِّی لَمْ أَنْہَ عَنِ الْبُکَائِ ، إِنَّمَا نَہَیْتُ عَنِ النَّوْحِ ، صَوْتَیْنِ أَحْمَقَیْنِ فَاجِرَیْنِ صَوْتٍ عِنْدَ نَغَمَۃٍ لَہْوٍ وَلَعِبٍ وَمَزَامِیرِ شَیْطَانٍ ، وَصَوْتٍ عِنْدَ مُصِیبَۃٍ خَمْشِ وُجُوہٍ ، وَشَقِّ جُیُوبٍ ، وَرَنَّۃٍ وَہَذَا ہُوَ رَحْمَۃٌ وَمَنْ لاَ یَرْحَمْ لاَ یُرْحَمْ یَا إِبْرَاہِیمُ لَوْلاَ أَنَّہُ أَمْرٌ حَقٌّ وَوَعَدٌ صِدْقٌ وَأَنَّ آخِرَنَا سَیَلْحَقُ بِأَوَّلِنَا لَحَزِنَّا عَلَیْکَ حُزْنًا ہُوَ أَشَدُّ مِنْ ہَذَا وَإِنَّا بِکَ لَمَحْزُونُونَ تَبْکِی الْعَیْنُ وَیَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلاَ نَقُولُ مَا یُسْخِطُ الرَّبَّ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ الترمذی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧١٥١) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبد الرحمن بن عوف (رض) کے ساتھ کھجوروں کی طرف تشریف لے گئے، جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیٹا ابراہیم اپنی جان اللہ کے سپرد کررہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اپنی گود میں رکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں بہنا شروع ہوگئیں تو عبد الرحمن بن عوف نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو لوگوں کو منع کرتے ہیں اور خود رو رہے ہیں ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے رونے سے منع نہیں کیا بلکہ میں تو نوحہ کرنے سے منع کرتا ہوں اور احمقوں کی طرح آواز نکالنے سے جو فاجر لوگ آواز نکالتے ہیں نغمے اور لہو ولعب کے ساتھ اور شیطان کی دھن کے ساتھ اور مصیبت کے وقت اس آواز سے جس کے ساتھ چہرہ چھیلنا بھی ہو ، گریبان چاک کرنا بھی ہو اور یہ رنا تو رحم ہے اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ اے ابراہیم اگر یہ حق نہ ہوتا اور سجا وعدہ نہ ہوتا اور یہ کہ ہر بعد میں آنے والاپہلوں سے ملنے والانہ ہوتا ہم اس قدر غم کرتے جو اس سے کہیں زیادہ ہوتاجو ہم تیری جدائی سے غم زدہ ہیں آنکھیں رو رہی ہیں اور دل غم گین ہے اور ہم وہ بات نہیں کریں گے جو ہمارے رب کو ناراض کرے۔

7153

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7153

Sahih

(۷۱۵۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّی الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : اشْتَکَی سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ شَکْوًی لَہُ فَأَتَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعُودُہُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہِ وَجَدَہُ فِی غَشِیَّۃٍ فَقَالَ : أَقَدْ قَضَی ۔ فَقَالُوا : لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَبَکَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا رَأَی الْقَوْمُ بُکَائَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَکَوْا فَقَالَ : ((أَلاَ تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّہَ لاَ یُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَیْنِ وَلاَ بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَکِنْ یُعَذِّبُ بِہَذَا وَأَشَارَ إِلَی لِسَانِہِ أَوْ یَرْحَمُ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَصْبَغَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧١٥٢) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ (رض) بیمار ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیمار داری کے لیے آئے اور عبد الرحمن بن عوف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود (رض) بھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے تو ان پر غشی طاری تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : کیا فوت ہوچکے ہیں ؟ تو کہا گیا : نہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رو دیے۔ جب قوم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رو نے کو دیکھا تو وہ بھی رو دیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم سنتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسوں سے عذاب نہیں کرتے اور نہ ہی دل کے غمناک ہونے سے، بلکہ عذاب تو اس سے ہوتا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا یا رحم کیا جاتا ہے۔