Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 10 · Chapter 1487

جنازوں کا بیان

اہل میت کے لیے کھانا تیار کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

7097

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7097

Sahih

(۷۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((اصْنَعُوا لآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاہُنَّ مَا یَشْغَلُہُنَّ أَوْ أَتَاہُمْ مَا یَشْغَلُہُمْ))۔ جَعْفَرٌ ہَذَا ہُوَ ابْنِ خَالِدِ بْنِ سَارَۃَ مَخْزُومِیٌّ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٠٩٦) عبداللہ بن جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آل جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان کے پاس ایسی پریشانی آئی ہے جس نے انھیں مصروف کردیا ہے۔ جعفر سارہ بن خالد مخزومی کا بیٹا ہے۔

7098

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7098

Sahih

(۷۰۹۷) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَارَۃَ الْمَخْزُومِیُّ أَخْبَرَنِی أَبِی وَکَانَ صَدِیقًا لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ جَعْفَرٍ قَالَ : لَمَّا نَعَی جَعْفَرٌ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((اصْنَعُوا لآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاہُمْ أَمْرٌ یَشْغَلُہُمْ))۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٠٩٧) عبداللہ بن جعفر فرماتے ہیں : جب جعفر کی موت کی خبر آئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آل جعفر کے لیے کھانا تیار کرو ان کے پاس ایسی پریشانی آئی ہے جس نے انھیں مصروف کردیا ہے۔

7099

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7099

Sahih

(۷۰۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی الَّلیثُ حَدَّثَنِی عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا کَانَتْ إِذَا مَاتَ مَیِّتٌ مِنْ أَہْلِہَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِکَ النِّسَائُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلاَّ أَہْلَہَا وَحَامَتَہَا أَمَرَتْ بِبُرْمَۃٍ مِنْ تَلْبِینَۃٍ فَطَبَخَتْ وَصَنَعَتْ ثَرِیدًا ، ثُمَّ صَبَّتِ التَّلْبِینَۃَ عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَتْ : کُلُوا مِنْہَا فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((التَّلْبِینَۃُ مَجَمَّۃ لِفُؤَادِ الْمَرِیضِ تَذْہَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ بخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٠٩٨) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ان کے اہل میں سے کوئی فوت ہو جاتاتو اس کے لیے عورتیں اکٹھی ہوجاتیں، پھر وہ جدا ہوجاتیں، سوائے اس کے گھر والوں اور قریبی رشتہ داروں کے۔ پھر وہ تلبینے سے حریرہ بنانے کا حکم دیتیں، پھر اسے پکایا جاتا اور ثرید بنایا جاتا ، پھر اس پر تلبینہ ڈالتی اور کہتیں : اس میں سے کھاؤ۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ تلبینہ دل کے مریض کے لیے قوت کا باعث ہے اور کچھ غم کو بھی ہلکا کرتا ہے۔