Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 97

پاکی کا بیان

بغیر وضو قرآن چھونا منع ہے

6 hadiths in this chapter

407

Sunan Al Kubra Bayhaqi #407

Sahih

(۴۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِی الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کَانَ فِی کِتَابِ النَّبِیِّ -ﷺ -لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: ((أَنْ لاَ تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلاَّ عَلَی طُہْرٍ)) [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٠٨) سیدنا عبداللہ بن ابوبکر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط جو عمرو بن حزم کے نام تھا اس میں یہ تھا کہ تو قرآن کو باوضو ہو کر ہاتھ لگا۔

408

Sunan Al Kubra Bayhaqi #408

Sahih

(۴۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی أَہْلِ الْیَمَنِ بِکِتَابٍ فِیہِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّیَاتُ، وَبَعَثَ بِہِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ: ((وَلاَ یَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلاَّ طَاہِرٌ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤٠٩) سیدنا ابوبکر بن محمد بن حزم اپنے دادا سے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن والوں کو خط لکھا جس میں فرائض ‘ سنن اور دیتوں کا ذکر تھا اور عمرو بن حزم کے ساتھ ان کو بھیجا۔ پھر انھوں نے لمبی حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو صرف باوضو شخص چھوئے۔

409

Sunan Al Kubra Bayhaqi #409

Sahih

(۴۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنَ ثَوَابٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((لاَ یَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلاَّ طَاہِرًا)) ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الطبرانی ۱/۳۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤١٠) سلیمان بن موسیٰ کہتے ہیں : میں نے سالم سے سنا، وہ اپنے باپ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قرآن کو صرف باوضو ہی چھوئے۔ “

410

Sunan Al Kubra Bayhaqi #410

Sahih

(۴۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّہُ قَالَ: کُنْتُ أُمْسِکُ الْمُصْحَفَ عَلَی سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ فَاحْتَکَکْتُ فَقَالَ سَعْدٌ: لَعَلَّکَ مَسَسْتَ ذَکَرَکَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ۔ قَالَ: قُمْ فَتَوَضَّأْ۔ فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۵۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤١١) معصب بن سعد سے روایت ہے کہ میں سیدنا سعد بن أبی وقاص (رض) کے سامنے مصحف شریف پڑھتا تھا تو (ایک دن) میں اٹکنے لگا۔ سیدنا سعد (رض) نے کہا : شاید تو نے اپنی شرم گاہ کو چھوا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! تو انھوں نے کہا : کھڑا ہو اور وضو کر۔ میں کھڑا ہوا میں نے وضو کیا، پھر واپس لوٹا۔

411

Sunan Al Kubra Bayhaqi #411

Sahih

(۴۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ: شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنِ الأَعْمَشِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَّانِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: کُنَّا مَعَ سَلْمَانَ فَخَرَجَ فَقَضَی حَاجَتَہُ ، ثُمَّ جَائَ فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ لَوْ تَوَضَّأْتَ لَعَلَّنَا أَنْ نَسْأَلَکَ عَنْ آیَاتٍ۔ قَالَ: إِنِّی لَسْتُ أَمَسُّہُ ، إِنَّمَا لاَ یَمَسُّہُ إِلاَّ الْمُطَہَّرُونَ۔ فَقَرَأَ عَلَیْنَا مَا شِئْنَا۔ لَفْظُ حَدِیثِ وَکِیعٍ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الأَعْمَشِ۔ (ت) وَرَوَاہُ أَبُو الأَحْوَصِ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ سَلْمَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۹۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤١٢) عبد الرحمن بن زید فرماتے ہیں کہ ہم سلیمان کے ساتھ تھے وہ اپنی حاجت پوری کر کے آئے تو میں نے کہا : اے ابوعبداللہ ! کاش آپ وضو کرلیتے شاید ہم آپ سے آیات کے متعلق سوال کرتے۔ انھوں نے فرمایا : میں نے اس شرمگاہ نہیں چھوا، پھر فرمایا : اس قرآن مجید کو صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔ پھر انھوں نے جو چاہا پڑھا۔

412

Sunan Al Kubra Bayhaqi #412

Zaeef

(۴۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ یَعْنِی الأَزْرَقَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ مُتَقَلِّدًا بِسَیْفِہِ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ قِیلَ لَہُ: إِنَّ خَتَنَکَ وَأُخْتَکَ قَدْ صَبَئَا وَتَرَکَا دِینَکَ الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ۔ فَمَشَی عُمَرُ حَتَّی أَتَاہُمَا وَعِنْدَہُمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ یُقَالُ لَہُ خَباب وَکَانُوا یَقْرَئُ ونَ {طہ} فَقَالَ عُمَرُ: أَعْطُونِی الْکِتَابَ الَّذِی ہُوَ عِنْدَکُمْ فَأَقْرَأَہُ۔ قَالَ: وَکَانَ عُمَرُ یَقْرَأُ الْکِتَابَ، فَقَالَتْ أُخْتُہُ: إِنَّکَ رِجْسٌ ، وَإِنَّہُ لاَ یَمَسُّہُ إِلاَّ الْمُطَہَّرُونَ ، فَقُمْ فَاغْتَسِلْ أَوْ تَوَضَّأْ۔ قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ الْکِتَابَ فَقَرَأَ {طہ} وَلِہَذَا الْحَدِیثِ شَوَاہِدُ کَثِیرَۃٌ۔ (ق) وَہُوَ قَوْلُ الْفُقَہَائِ السَّبْعَۃِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۳۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٤١٣) سیدنا انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر (رض) اپنی تلوار لٹکا کر نکلے، پھر انھوں نے حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ کا بہنوئی اور بہن بےدین ہوگئے ہیں اور انھوں نے تیرے دین کو چھوڑ دیا ہے تو سیدنا عمر (رض) چلے اور یہاں تک ان کے پاس آئے، ان کے پاس مہاجرین میں سے ایک شخص تھا جس کو خباب کہا جاتا تھا، وہ دونوں سورة طٰہٰ کی تلاوت کر رہے تھے، عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے پاس جو کتاب ہے وہ مجھے دو ، انھوں نے ان کو پڑھ کر سنایا اور سیدنا عمر (رض) کتاب پڑھا کرتے تھے۔ ان کی بہن نے کہا : بلاشبہ تم ناپاک ہو اس کو تو صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں آپ جا کر غسل کریں یا وضو، راوی کہتا ہے : سیدنا عمر (رض) کھڑے ہوئے، وضو کیا کتاب پکڑی اور سورة طٰہٰ کی تلاوت کی۔ اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔ (ب) اہل مدینہ کے فقہائے سبعہ کا قول ہے۔