Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 90

پاکی کا بیان

وضو کی فضیلت کا بیان

4 hadiths in this chapter

380

Sunan Al Kubra Bayhaqi #380

Sahih

(۳۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ۔ (ح) قَالاَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَ مِنْ وَجْہِہِ کُلُّ خَطِیئَۃٍ نَظَرَ إِلَیْہَا بِعَیْنَیْہِ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ ، فَإِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَ مِنْ یَدَیْہِ کُلُّ خَطِیئَۃٍ بَطَشَتْہَا یَدَاہُ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَیْہِ خَرَجَتْ کُلُّ خَطِیئَۃٍ مَشَتْہَا رِجْلاَہُ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ حَتَّی یَخْرُجَ نَقِیًّا مِنَ الذُّنُوبِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۴۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٨١) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے ہر گناہ نکل جاتا ہے۔ جس کو اپنی آنکھوں سے پانی کی شکل میں دیکھتا ہے یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ (نکل جاتا ہے) اور جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس کے ہاتھ نے کیا، پانی کے ساتھ یا فرمایا : پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اور جب اپنے پاؤں کو دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس کے پاؤں نے کیا، پانی کے آخری قطرے کے ساتھ۔ حتیٰ کہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو کر نکل جاتا ہے۔ “

381

Sunan Al Kubra Bayhaqi #381

Sahih

(۳۸۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو عَمْرٍو: ُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیمِ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَبُو عَمَّارٍ وَیَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ السُّلَمِیُّ فَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلاً فِی قُدُومِہِ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ -مَکَّۃَ ، ثُمَّ قُدُومِہِ عَلَیْہِ بِالْمَدِینَۃِ ، قَالَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا الْوُضُوئُ ؟ حَدِّثْنِی عَنْہُ۔ قَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یُقَرِّبُ وَضُوئَ ہُ فَیُمَضْمِضُ وَیَسْتَنْشِقُ فَیَسْتَنْثِرُ إِلاَّ خَرَجَتْ خَطَایَا فَمِہِ وَخَیَاشِیمِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ کَمَا أَمَرَہُ اللَّہُ إِلاَّ خَرَجَتْ خَطَایَا وَجْہِہِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْیَتِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ یَغْسِلُ یَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ إِلاَّ خَرَجَتْ خَطَایَا یَدَیْہِ مِنْ أَنَامِلِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ یَمْسَحُ رَأْسَہُ إِلاَّ خَرَجَتْ خَطَایَا رَأْسِہِ مِنْ أَطْرَافِ شَعَرِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ إِلاَّ خَرَجَتْ خَطَایَا رِجْلَیْہِ مِنْ أَنَامِلِہِ مَعَ الْمَائِ ، فَإِنْ ہُوَ قَامَ فَصَلَّی فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ وَمَجَّدَہُ بِالَّذِی ہُوَ لَہُ أَہْلٌ ، وَفَرَّغَ قَلْبَہُ لِلَّہِ إِلاَّ انْصَرَفَ مِنْ خَطِیئَتِہِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِیِّ عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ عَنْ عِکْرِمَۃَ: ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أَمَرَہُ اللَّہُ ۔ وَلَمْ یَذْکُرْ فِی إِسْنَادِہِ یَحْیَی بْنَ أَبِی کَثِیرٍ۔ (ت) وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الذُّہْلِیِّ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَاحْتَجَّ بِہِ فِی وُجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَیْنِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۸۳۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٨٢) سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ تشریف لے جانے اور مدینہ واپس تشریف لانے کے متعلق طویل حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وضو کیا ہے ؟ مجھے بتلائیے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب انسان پانی اپنے قریب کرتا ہے، اس کے بعد کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی چڑھاتا ہے۔ پھر ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور ناک کے بانسے سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنا چہرہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا تو پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے اطراف اور داڑھی سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے انگلیوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر سر کا مسح کرتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر ٹخنوں تک اپنے قدموں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے پاؤں کی انگلیوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے تو اس کی بزرگی بیان کرتا ہے جس کے وہ اہل ہیں اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کردیتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوجاتا ہے جیسے آج ہی اس کی والدہ نے اس کو جنم دیا ہے۔ (ب) عکرمہ سے روایت ہے کہ پھر آپ نے اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھویا جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا۔ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کا ذکر نہیں ہے۔ (ج) ابو ولید نے اس روایت سے پاؤں دھونے کے واجب ہونے کی دلیل لی ہے۔

382

Sunan Al Kubra Bayhaqi #382

Sahih

(۳۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ فِیہِ ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ أَنْفِہِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ وَجْہِہِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَیْنَیْہِ ، فَإِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ یَدَیْہِ حَتَّی تَخْرُجَ الْخَطَایَا مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ یَدَیْہِ ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِہِ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ رَأْسِہِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَیْہِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَیْہِ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ رِجْلَیْہِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَیْہِ ، ثُمَّ کَانَ مَشْیُہُ إِلَی الْمَسْجِدِ وَصَلاَتُہُ نَافِلَۃً لَہُ))۔ (ج) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ یَقُولُ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولَ یَرْوِی عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ صَحَابِیٌّ وَیُقَالُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ ، وَالصُّنَابِحِیُّ صَاحِبُ أَبِی بَکْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَیْلَۃَ ، وَالصُّنَابِحِیُّ صَاحِبُ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ یُقَالُ لَہُ الصُّنَابِحُ بْنُ الأَعْسَرِ۔ کَذَا قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ۔ وَزَعَمَ الْبُخَارِیُّ أَنَّ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ وَہِمَ فِی ہَذَا ، وَإِنَّمَا ہُوَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَیْلَۃَ الصُّنَابِحِیُّ لَمْ یَسْمَعْ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وھذا الحدیث مرسل، وعبدالرحمن ھو الذی روی عن أبی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ۔ والصنابح بن الأعسر صاحب النبی ﷺ قال الإمام أحمد: وقد رواہ البخاری فی التاریخ من حدیث مالک بن أنس ھکذا ثم قال: وتابعہ ابن أبی مریم عن أبی غسان عن زید۔ ورواہ إسحاق بن عیسی بن الطباع عن مالک، فقال: عن الصنابحی أبی عبداللہ، واحتج بآثار ذکرھا علی أن الأمر فیہ کما قال۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۴/۳۴۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٨٣) عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کے ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی پلکوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں پھر جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے کانوں کے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے قدموں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور نماز ادا کرنا اس کے لیے اجر وثواب میں زیادتی کا باعث ہے۔ (ب) یحییٰ بن معین عطاء بن یسار سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ صنابحی (رض) جو ابو عبداللہ کے نام سے مشہور ہیں، ابوبکر عبدالرحمن بن عسیلہ کے اور قیس بن ابو حازم کے دوست ہیں اور وہ صنابح بن ا عسر کے نام سے مشہور ہیں، یہ قول یحییٰ بن معین کا ہے۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ مالک بن انس کو ان کے نام کے متعلق وہم ہوا ہے وہ تو ابو عبداللہ کے نام سے مشہور ہیں۔ عبدالرحمن بن عسیلہ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سماع ثابت نہیں، یہ حدیث مرسل ہے، عبدالرحمن نے سیدنا ابوبکر صدیق (رض) سے روایت کیا ہے اور صنابح بن اعسر صحابیٔ رسول ہیں۔ امام احمد (رح) کہتے ہیں کہ امام بخاری (رح) نے تاریخ میں مالک بن انس سے اسی طرح روایت کیا ہے پھر فرمایا : ان کی متابعت ابن ابی مریم عن ابو غسان عن زید کی ہے۔ امام مالک (رح) نے صنابحی ابوعبداللہ نے روایت بیان کی ہے، اس کی رواۃ اور آثار کو قابلِ حجت سمجھتا ہے۔

383

Sunan Al Kubra Bayhaqi #383

Sahih

(۳۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ وَأَبُو بَدْرٍ: شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ مِہْرَانَ الأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -قَالَ: ((اسْتَقِیمُوا وَلَنْ تُحْصُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ مِنْ أَفْضَلِ))۔ قَالَ أَبُو بَدْرٍ: ((مِنْ خَیْرِ أَعْمَالِکُمُ الصَّلاَۃَ ، وَلَنْ یُحَافِظَ عَلَی الْوُضُوئِ إِلاَّ مُؤْمِنٌ ))۔ [صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ ۲۷۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٨٤) سیدنا ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” سیدھے رہو اور تم شمار نہیں کیے جاؤ گے ” جان لو بیشک افضل۔۔۔“ ابو بدر نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ تمہارے اعمال میں سے بہتر نماز ہے اور وضو پر محافظت صرف مومن کرتا ہے۔