Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 77

پاکی کا بیان

وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے

28 hadiths in this chapter

328

Sunan Al Kubra Bayhaqi #328

Sahih

(۳۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ: الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَکَرِیَّا الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ کَانَ یُقْرَأُ { وَامْسَحُوا بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ } قَالَ: عَادَ الأَمْرُ إِلَی الْغَسْلِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٢٩) سیدنا ابن عباس (رض) پڑھا کرتے تھے : { وَامْسَحُوا بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ } اور فرماتے پاؤں کا حکم دھونے کی طرف لوٹ گیا۔

329

Sunan Al Kubra Bayhaqi #329

Zaeef

(۳۳۰) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَی قُرَیْشٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ کَانَ یَقْرَؤُہَا کَذَلِکَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٠) سیدنا علی (رض) بھی اسی طرح پڑھا کرتے تھے (یعنی أَرْجُلَکُمْ ) ۔

330

Sunan Al Kubra Bayhaqi #330

Zaeef

(۳۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ { وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ } قَالَ: رَجَعَ الأَمْرُ إِلَی الْغَسْلِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣١) سیدنا ابن مسعود (رض) { وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ } پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ پاؤں دھونے کا حکم ہے۔

331

Sunan Al Kubra Bayhaqi #331

Sahih

(۳۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: رَجَعَ الْقُرْآنُ إِلَی الْغَسْلِ وَقَرَأَ {وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ} بِنَصْبِہَا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبہ ۱۹۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٢) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ قرآن کا حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے (یعنی پاؤں کو دھونے کا حکم ہے) اور آپ نے { وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ } نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔

332

Sunan Al Kubra Bayhaqi #332

Sahih

(۳۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَیْسٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: رَجَعَ الْقُرْآنُ إِلَی الْغَسْلِ وَقَرَأَ { وَأَرْجُلَکُمْ } بِنَصْبِہَا۔ [صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح المعانی ۱/۴۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٣) مجاہد فرماتے ہیں : قرآن کا حکم دھونے کی طرف لوٹ آیا ہے اور آپ نے { وَأَرْجُلَکُمْ } نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔

333

Sunan Al Kubra Bayhaqi #333

Zaeef

(۳۳۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَؤُہَا {وَأَرْجُلَکُمْ} نَصَبًا۔ [ضعیف جدًا]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٤) عطاء سے روایت کہ وہ { وَأَرْجُلَکُمْ } کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔

334

Sunan Al Kubra Bayhaqi #334

Zaeef

(۳۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی عَنْ أُسَیْدِ بْنِ یَزِیدَ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ کَانَ یَنْصِبُہَا {وَأَرْجُلَکُمْ} قَالَ وَأَخْبَرَنَا ہَارُونُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَیْلاَنَ {وَأَرْجُلَکُمْ} نَصَبًا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٥) حضرت عبد الرحمن (رض) { وَأَرْجُلَکُمْ } کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔

335

Sunan Al Kubra Bayhaqi #335

Zaeef

(۳۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ مِینَائَ قَالُونُ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَی نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی نُعَیْمٍ الْقَارِئِ ہَذِہِ الْقِرَائَ ۃَ غَیْرَ مَرَّۃٍ فَذَکَرَ فِیہَا { بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ} مَفْتُوحَۃً۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٦) عیسیٰ بن میناء قالون فرماتے ہیں کہ میں نے نافع بن عبد الرحمن بن ابو نعیم قاری سے یہ قراءت کئی مرتبہ پڑھی، انھوں نے بھی { بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ } منصوب پڑھا ہے۔

336

Sunan Al Kubra Bayhaqi #336

Sahih

(۳۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ أَخْبَرَنِی الْوَلِیدُ بْنُ حَسَّانَ الثَّوْرِیُّ: أَنَّہُ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَی أَبِی مُحَمَّدٍ: یَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَزِیدَ الْحَضْرَمِیِّ وَکَانَ عَالِمًا بِوُجُوہِ الْقِرَائَ اتِ وَذَکَرَ فِیہَا {وَأَرْجُلَکُمْ} مُنْتَصِبَ اللاَّمِ۔ (ت)وَبَلَغَنِی عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ یَزِیدَ التَّیْمِیِّ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَؤُہَا نَصْبًا۔ وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرٍ الْیَحْصُبِیِّ وَعَنْ عَاصِمٍ بِرِوَایَۃِ حَفْصٍ وَعَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ بِرِوَایَۃِ الأَعْشَی وَعَنِ الْکِسَائِیِّ کُلُّ ہَؤُلاَئِ نَصَبُوہَا وَمَنْ خَفَضَہَا فَإِنَّمَا ہُوَ لِلْمُجَاوَرَۃِ۔ قَالَ الأَعْمَشُ: کَانُوا یَقْرَئُ ونَہَا بِالْخَفْضِ وَکَانُوا یَغْسِلُونَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٧) (الف) ولید بن حسان ثوری نے ابو محمد یعقوب بن اسحاق بن یزید حضرمی پر قرآن پڑھا اور وہ قرآن کی قراءت وں کے عالم تھے، انھوں نے بھی { وَأَرْجُلَکُمْ } کو منصوب پڑھا ہے۔ (ب) ابراہیم بن یزید تیمی بھی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔ (ج) کسائی فرماتے ہیں کہ تمام نحوی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے اور جس نے اس کو مجرور پڑھا ہے وہ قریب ہونے کی بنا پر پڑھا ہے۔ (د) اعمش فرماتے ہیں : وہ اسے مجرور پڑھتے تھے اور پاؤں دھوتے تھے۔

337

Sunan Al Kubra Bayhaqi #337

Zaeef

(۳۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَأَبُو الْقَاسِمِ: طَلْحَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الآدَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ قَالَ: اغْسِلُوا الْقَدَمَیْنِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أُمِرْتُمْ۔ (ت) وَرُوِّینَا فِی الْحَدِیثِ الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-فِی الْوُضُوئِ ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أَمَرَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔(ق)وَفِی ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَمَرَ بَغَسْلِہِمَا۔ وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی: [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٨) (الف) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں : قدموں کو ٹخنوں تک اس طرح دھوؤ جس طرح تم کو حکم دیا گیا ہے۔ (ب) عمرو بن عبسہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وضو کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : آپ نے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک اس طرح دھویا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا ہے۔ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے پاؤں دھونے کا حکم دیا ہے۔

338

Sunan Al Kubra Bayhaqi #338

Sahih

(۳۳۹) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ قَالَ: خَطَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ یُوسُفَ النَّاسَ فَقَالَ: اغْسِلُوا وُجُوہَکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ فَاغْسِلُوا ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا وَعَرَاقِیبَہُمَا ، فَإِنَّ ذَلِکَ أَقْرَبُ إِلَی جَنَّتِکُمْ۔فَقَالَ أَنَسٌ: صَدَقَ اللَّہُ وَکَذَبَ الْحَجَّاجُ ((فَامْسَحُوا بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ)) قَالَ: قَرَأَہَا جَرًّا۔ (ق) فَإِنَّمَا أَنْکَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْقِرَائَ ۃَ دُونَ الْغَسْلِ فَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-مَا دَلَّ عَلَی وُجُوبِ الْغَسْلِ۔ وَأَمَّا الَّذِی: [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٩) موسیٰ بن انس فرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ اپنے چہروں، ہاتھوں اور پاؤں کو دھوؤ اور اس کے ظاہری اور اندرونی اور اوپر والے حصے کو دھوؤ، بیشک یہ تمہاری جنت کے زیادہ قریب ہے (یعنی جنت میں لے جانے کا سبب ہے) ۔ (ب) سیدنا انس (رض) فرماتے ہیں : اللہ نے سچ کہا اور حجاج نے جھوٹ کہا : وہ أَرْجُلَکُمْ کو مجرور پڑھتے تھے۔ (ج) سیدنا انس (رض) نے اس قراءت کا انکار کیا ہے جس میں غسل کا تذکرہ نہیں ہے۔ اسی طرح ہم نے سیدنا انس بن مالک کی وہ روایت بیان کی ہے جس میں غسل کے وجوب کا ذکر ہے۔

339

Sunan Al Kubra Bayhaqi #339

Sahih

(۳۴۰) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو بَکْرِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ: أَنَّ عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ أَرْسَلَہُ إِلَی الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ یَسْأَلُہَا عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی صِفَۃِ وُضُوئِ النَّبِیِّ -ﷺ-وَفِیہِ قَالَتْ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ۔ قَالَتْ: وَقَدْ أَتَانِی ابْنُ عَمٍّ لَکَ تَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: مَا أَجِدُ فِی الْکِتَابِ إِلاَّ غَسْلَتَیْنِ وَمَسْحَتَیْنِ۔ (ق) فَہَذَا إِنْ صَحَّ فَیَحْتَمِلُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَرَی الْقِرَائَ ۃَ بِالْخَفْضِ وَأَنَّہَا تَقْتَضِی الْمَسْحَ ثُمَّ لَمَّا بَلَغَہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-تَوَعَّدَ عَلَی تَرْکِ غَسْلِہِمَا أَوْ تَرْکِ شَیْئٍ مِنْہُمَا ذَہَبَ إِلَی وُجُوبِ غَسْلِہِمَا وَقَرَأَہَا نَصَبًا وَقَدْ رُوِّینَا عَنْہُ أَنَّہُ قَرَأَہَا نَصَبًا۔ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی: [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۹۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٤٠) عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں کہ علی بن حسین (رض) نے انھیں ربیع بنت معوذ (رض) کی طرف بھیجا کہ وہ رسول اللہ کے وضو کے (طریقے کے) بارے میں پوچھے، انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے طریقے کے بارے میں حدیث بیان کی، جس میں ہے کہ آپ نے اپنے پاؤں کو دھویا۔ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس (رض) آئے، میں نے انھیں حدیث بیان کی تو انھوں نے فرمایا کہ میں صرف کتاب (قرآن) میں دو دفعہ دھونے اور دو بار مسح کو پاتا ہوں۔ اگر یہ بات صحیح ہو تو اس میں احتمال ہے کہ ابن عباس (رض) قراءت کو مجرور خیال کرتے تھے، حالانکہ وہ مسح کا تقاضا کرتی ہے۔ جب ابن عباس (رض) کو یہ بات پہنچی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے نہ دھونے والے کو ڈانٹا ہے یا کسی چیز کے چھوڑنے کو ڈانٹا ہے تو پھر ابن عباس (رض) پاؤں کے دھونے کو واجب سمجھتے تھے اور آیت کو منصوب پڑھتے تھے۔ ابن عباس (رض) سے منصوب پڑھنے کی قراءت بھی روایت کی گئی ہے۔

340

Sunan Al Kubra Bayhaqi #340

Sahih

(۳۴۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُحِبُّونَ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-یَتَوَضَّأُ؟ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ: ثُمَّ اغْتَرَفَ غَرْفَۃً أُخْرَی فَرَشَّ عَلَی رِجْلِہِ وَفِیہَا النَّعْلُ ، وَالْیُسْرَی مِثْلَ ذَلِکَ ، وَمَسَحَ بِأَسْفَلِ النَّعْلَیْنِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٤١) عطاء بن یسار کہتے ہیں : ہم کو سیدنا ابن عباس (رض) نے کہا : کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو بتلاؤں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیسے وضو کیا کرتے تھے ؟ پھر لمبی حدیث ذکر کی، فرماتے ہیں : پھر آپ نے دوسرا چلو بھرا تو اپنے پاؤں پر چھڑ کا اور اس میں جوتی تھی اور بائیں پاؤں میں بھی ایسا ہی کیا اور جوتیوں کے نیچے مسح کیا۔

341

Sunan Al Kubra Bayhaqi #341

Sahih

(۳۴۲) وَالَّذِی أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-فَأَدْخَلَ یَدَہُ فِی الإِنَائِ ، فَاسْتَنْشَقَ وَمَضْمَضَ مَرَّۃً وَاحِدَۃً ، ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فَصَبَّ عَلَی وَجْہِہِ مَرَّۃً وَاحِدَۃً وَصَبَّ عَلَی یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ ، وَمَسَحَ رَأْسَہُ مَرَّۃً ، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَۃَ مَائٍ فَرَشَّ عَلَی قَدَمَیْہِ وَہُوَ مُنْتَعِلٌ۔ (ت) فَہَکَذَا رَوَاہُ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ وَقَدْ خَالَفَہُمَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ وَوَرْقَائُ بْنُ عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ۔ [حسن۔ أخرجہ الطحاوی ۱/۷۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٤٢) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ کلی کی، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، ایک مرتبہ اپنے چہرے پر پانی ڈالا اور اپنے ہاتھوں پر دو مرتبہ پانی ڈالا اور ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلو لیا اور اپنے قدموں پر چھینٹے دیے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جوتی پہنے ہوئے تھے۔

342

Sunan Al Kubra Bayhaqi #342

Sahih

(۳۴۳) أَمَّا حَدِیثُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ فَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَدُ بْنُ أَحْمَدَ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا أَخْبَرَنَا الرَّمَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ تَوَضَّأَ۔فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَۃً مِنْ مَائٍ ثُمَّ رَشَّ عَلَی رِجْلِہِ الْیُسْرَی ، ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَعْنِی یَتَوَضَّأُ۔ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیِّ ، وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: أَخَذَ غَرْفَۃً مِنْ مَائٍ فَرَشَّ عَلَی رِجْلِہِ یَعْنِی الْیُمْنَی حَتَّی غَسَلَہَا ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَۃً أُخْرَی فَغَسَلَ بِہَا رِجْلَہُ الْیُسْرَی، ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَتَوَضَّأُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۴۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٤٣) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا۔۔۔ پھر پانی کا ایک چلو لیا ، پھر اپنے بائیں پاؤں پر چھینٹے مارے ۔ پھر فرمایا : اسی طرح میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (ب) ابو سلمہ خزاعی سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی کا ایک چلو لیا، پھر دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے، اس کو دھویا، پھر دوسرا چلو لیا ، اس کے ساتھ اپنا بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا : میں نے اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

343

Sunan Al Kubra Bayhaqi #343

Sahih

(۳۴۴) وَأَمَّا حَدِیثُ ابْنِ عَجْلاَنَ فَأَخْبَرْنَاہُ أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو اللَّیْثِ: نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ الْفَرَائِضِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ: ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَۃً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُمْنَی ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَۃً فَغَسَلَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ النسائی ۲/۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٤٤) زید بن اسلم نے یہ روایت اپنی سند سے بیان کی ہے، فرماتے ہیں : پھر آپ نے ایک چلو لیا اور اپنا دایاں پاؤں دھویا پھر چلو لیا اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔

344

Sunan Al Kubra Bayhaqi #344

Sahih

(۳۴۵) وَأَمَّا حَدِیثُ وَرْقَائَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلاَ أُرِیکُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ: فَغَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّۃً مَرَّۃً ، وَمَضْمَضَ مَرَّۃً وَاسْتَنْشَقَ مَرَّۃً ، وَغَسَلَ وَجْہَہُ مَرَّۃً ، وَذِرَاعَیْہِ مَرَّۃً مَرَّۃً وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّۃً ، وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّۃً مَرَّۃً ثُمَّ قَالَ: ہَذَا وُضُوئُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَقَدْ ذَکَرْنَا الرَّوَایَاتِ فِیمَا مَضَی إِلاَّ رِوَایَۃَ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَہِیَ فِیمَا۔ [صحیح لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٤٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : کیا میں تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو نہ دکھاؤں ؟ پھر انھوں نے ایک مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ایک مرتبہ کلی کی، ایک مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، ایک مرتبہ اپنے بازؤں کو دھویا اور ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا اور ایک مرتبہ اپنے پاؤں کو دھویا، پھر فرمایا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو ہے۔

345

Sunan Al Kubra Bayhaqi #345

Sahih

(۳۴۶) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ مِینَائَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَۃً فَغَسَلَ بِہَا رِجْلَہُ الْیُمْنَی ، وَأَخَذَ حَفْنَۃً فَغَسَلَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی۔ (ق) فَہَذِہِ الرِّوَایَاتُ اتَّفَقَتْ عَلَی أَنَّہُ غَسَلَہُمَا وَحَدِیثُ الدَّرَاوَرْدِیِّ یُحْتَمِلُ أَنْ یَکُونَ مُوَافِقًا لَہَا بِأَنْ یَکُونْ غَسَلَہُمَا فِی النَّعْلِ۔ (ج) وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ لَیْسَ بِالْحَافِظِ جِدًّا فَلاَ یُقْبَلُ مِنْہُ مَا یُخَالِفُ فِیہِ الثِّقَاتِ الأَثْبَاتَ، کَیْفَ وَہُمْ عَدَدٌ وَہُوَ وَاحِدٌ؟ وَقَدْ رَوَی الثَّوْرِیُّ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَا یُوَافِقُ رِوَایَۃَ الْجَمَاعَۃِ۔ [صحیح لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٤٦) زید بن اسلم اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ نے ایک چلو لیا، اس کے ساتھ اپنا دایاں پاؤں دھویا پھر ایک چلو لیا اور اس سے اپنا بایاں پاؤں دھویا۔ (ب) ان تمام روایات میں پاؤں دھونے پر اتفاق ہے۔ در اور دی کی حدیث میں یہ احتمال ہے کہ شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاؤں جوتے میں ہی دھوئے ہوں۔ (ج) ہشام بن سعید زیادہ مضبوط نہیں ہیں، ان کی ثقہ راویوں سے مخالفت قابل قبول نہیں۔ کیونکہ وہ پوری جماعت ہیں اور یہ اکیلا ہے۔

346

Sunan Al Kubra Bayhaqi #346

Sahih

(۳۴۷) حَدَّثَنِی الْبَیْرُوتِیُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا ھِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، قَالَ: قَالَ ابن عَبَّاسٍ: أَتُحِبُّوْنَ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: فَدَعَا بِإِنَائٍ فِیْہِ مَائٌ، ثُمَّ ذَکَرَ وُضُوئَ ہُ، وَقَالَ فِیْہِ: ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَۃً مِنْ مَائٍ فَرَشً عَلَی رِجْلِہِ الْیُمْنَی وَفِیْھَا النَّعْلُ، ثُمَّ مَسَحَ بِیَدِہِ مِنْ فَوْقِ الْقَدَمِ وَمِنْ تَحْتِ الْقَدَمِ وَمِنْ تَحْتِ الْقَدَمِ، ثُمَّ فَعَلَ بِالْیُسْرَی مِثْلَ ذَلِکَ۔ ھَذَا أَصَحُّ حَدِیْثٍ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فی ھَذَا إِلَی مَا یُوَافِقُ رِوَایَۃَ الْجَمَاعَۃِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۴۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٤٧) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو (وہ طریقہ) بیان کروں جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کیا کرتے تھے ؟ پھر آپ (رض) نے پانی کا برتن منگوایا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا طریقہ ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ پھر آپ نے پانی کا ایک چلو لیا اور اپنے دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے اور پاؤں میں جوتا تھا، پھر پاؤں کے اوپر اور نیچے مسح کیا، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی یہی عمل کیا۔

347

Sunan Al Kubra Bayhaqi #347

Sahih

(۳۴۸) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الطُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاضِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی سَمِینَۃَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَزِیدَ الْجَرْمِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ کِلاَہُمَا عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلاَ أُرِیکَ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَتَوَضَّأَ مَرَّۃً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ وَعَلَیْہِ نَعْلُہُ۔ (ق) فَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ غَسَلَ رِجْلَیْہِ فِی النَّعْلَیْنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٤٨) عطاء بن یسار سے سیدنا ابن عباس (رض) نے کہا : کیا میں تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو نہ دکھاؤں ؟ پھر ایک مرتبہ وضو کیا اور اپنے پاؤں کو دھویا اور پاؤں میں جوتیاں تھیں۔

348

Sunan Al Kubra Bayhaqi #348

Sahih

(۳۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ قَدْ رُوِیَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -مَسَحَ عَلَی ظُہُورِ قَدَمَیْہِ ، وَرُوِیَ أَنَّہُ رَشَّ ظُہُورَہُمَا ، وَأَحَدُ الْحَدِیثَیْنِ مِنْ وَجْہٍ صَالِحِ الإِسْنَادِ لَوْ کَانَ مُنْفَرِدًا ثَبَتَ ، وَالَّذِی خَالَفَہُ أَکْثَرُ وَأَثْبَتُ مِنْہُ ، وَأَمَّا الْحَدِیثُ الآخَرُ فَلَیْسَ مِمَّا یُثْبِتُ أَہْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ لَوِ انْفَرَدَ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَإِنَّمَا عَنَی بِالْحَدِیثِ الأَوَّلِ حَدِیثَ الدَّرَاوَرْدِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ زَیْدٍ ، وَعَنَی بِالْحَدِیثِ الآخَرِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ حَدِیثَ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ فِی الْمَسْحِ عَلَی ظُہُورِ الْقَدَمَیْنِ۔ وَقَدْ بَیَّنَّا أَنَّہُ أَرَادَ إِنْ صَحَّ ظَہْرَ الْخُفَّیْنِ وَہُوَ مَذْکُورٌ فِی باب الْمَسْحِ عَلَی الْخُفِّ بِعِلَلِہِ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ فِی مَعْنَی الْحَدِیثِ الأَوَّلِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٤٩) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قدموں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظاہری حصے پر چھینٹے مارے تھے۔ (ب) ان دونوں میں سے ایک حدیث صحیح سند کے ساتھ ہے، اگرچہ اس میں تفرد ہے، یعنی جنہوں نے اس کی مخالفت کی ہے وہ تعداد میں زیادہ اور ثقہ ہیں۔ دوسری حدیث اہل علم کے ہاں ثابت نہیں۔ اگرچہ یہ بھی منفرد ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ پہلی حدیث سے مراد دراوردی وغیرہ کی حدیث ہے جو زید (رض) سے منقول ہے اور دوسری حدیث سے مراد عبد خیر کی حدیث ہے جو حضرت علی (رض) سے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنے کے متعلق ہے۔

349

Sunan Al Kubra Bayhaqi #349

Sahih

(۳۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ رُکَانَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ الْخَوْلاَنِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَیَّ عَلِیٌّ بَیْتِی فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَجِئْنَا بِقَعْبٍ یَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِیبَہُ حَتَّی وُضِعَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَقَدْ بَالَ فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلاَ أَتَوَضَّأُ لَکَ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَلْتُ: بَلَی ، فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی۔ قَالَ: فَوُضِعَ لَہُ إِنَائٌ ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ مَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدَیْہِ فَصَکَّ بِہِمَا وَجْہَہُ وَأَلْقَمَ إِبْہَامَیْہِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَیْہِ قَالَ ثُمَّ عَادَ مِثْلَ ذَلِکَ ثَلاَثًا ، ثُمَّ أَخَذَ کَفًّا مِنْ مَائٍ بِیَدِہِ الْیُمْنَی فَأَفْرَغَہَا عَلَی نَاصِیَتِہِ ، ثُمَّ أَرْسَلَہَا تَسِیلُ عَلَی وَجْہِہِ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنَی إِلَی الْمِرْفَقِ ثَلاَثًا ، ثُمَّ یَدَہُ الأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ مِنْ ظُہُورِہِمَا، ثُمَّ أَخَذَ بِکَفَّیْہِ مِنَ الْمَائِ فَصَکَّ عَلَی قَدَمِہِ وَفِیہَا النَّعْلُ فَتَلَّہَا ، ثُمَّ عَلَی الرِّجْلِ الأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ۔ قَلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔ قَالَ فَقَلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔ قَلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔ قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ لاَ أَدْرِی مَا ہَذَا الْحَدِیثُ وَکَأَنَّہُ رَأَی الْحَدِیثَ الأَوَّلَ أَصَحَّ ، یَعْنِی حَدِیثَ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ۔ (ق) قَالَ الشَّیْخُ: یُحْتَمَلُ إِنْ صَحَّ أَنْ یَکُونَ غَسَلَہُمَا فِی النَّعْلَیْنِ فَقَدْ رُوِّینَا مِنْ أَوْجُہٍ کَثِیرَۃٍ عَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ غَسَلَ رِجْلَیْہِ فِی الْوُضُوئِ۔ مِنْہَا مَا: [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٥٠) (الف) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ علی (رض) میرے گھر تشریف لائے، آپ (رض) نے پانی منگوایا، ہم ایک پیالہ لے کر آئے جس میں ایک مدیا اس کے قریب پانی تھا، وہ آپ کے سامنے رکھا گیا، سیدنا علی (رض) نے پیشاب کیا اور فرمایا : اے ابن عباس ! کیا میں آپ کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح کا وضو نہ کروں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ راوی کہتا ہے : آپ کے لیے برتن رکھا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، کلی کی اور اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر کلی کی اور اپنے ہاتھوں سے پانی لے کر اپنے چہرے پر ڈالا اور اپنے انگوٹھوں کو اپنے کانوں میں داخل کیا۔ راوی کہتا ہے : پھر اسی طرح تین مرتبہ کیا۔ پھر پانی کی ایک ہتھیلی اپنے دائیں ہاتھ سے لی تو اس کو اپنی پیشانی پر ڈالا، پھر اس کو اپنے چہرے پر بہنے دیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر دوسرے ہاتھ کو بھی ایسے ہی دھویا، پھر اپنے سر اور کانوں کے ظاہری حصے کا مسح کیا، پھر پانی کی دو ہتھیلیاں لیں تو ان کو اپنے قدموں پر ڈالا اور جو جوتا پاؤں میں تھا تو اس کو تر کیا۔ پھر دوسرے پاؤں پر بھی ایسے ہی کیا ۔ میں نے کہا : جوتیوں میں ؟ فرمایا : ہاں جو تیوں میں۔ راوی کہتا ہے : میں نے کہا : کیا جوتیوں میں ؟ فرمایا : جوتیوں میں۔ میں نے کہا : جوتیوں میں ؟ فرمایا : جوتیوں میں۔

350

Sunan Al Kubra Bayhaqi #350

Sahih

(۳۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ زَائِدَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ دَعَا بِوَضُوئٍ فَأُتِیَ بِإِنَائٍ فِیہِ مَائٌ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ: ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنَی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ عَلَی قَدَمِہِ الْیُمْنَی ، ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرَی ، ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنَی عَلَی قَدَمِہِ الْیُسْرَی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرَی ، ثُمَّ قَالَ: ہَذَا طُہُورُ نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۷۹/۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٥١) حضرت علی (رض) نے وضو کا پانی منگوایا، ایک پانی والا برتن لایا گیا۔۔۔ اس میں ہے کہ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا، پھر اسے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر پانی بہایا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر فرمایا : یہ ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو۔

351

Sunan Al Kubra Bayhaqi #351

Sahih

(۳۵۲) وَمِنْہَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ: الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ۔ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا رَبِیعَۃُ الْکِنَانِیُّ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ: أَنَّہُ سَمِعَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَسُئِلَ عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَأَرَاقَ الْمَائَ فِی الرَّحَبَۃِ ، ثُمَّ قَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثَلاَثًا وَوَجْہَہُ ثَلاَثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلاَثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ حَتَّی أَلَمَّ أَنْ یَقْطُرَ ، وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ، ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَتَوَضَّأُ۔ لَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الْفَقِیہِ قَوْلُہُ حَتَّی أَلَمَّ أَنْ یَقْطُرَ۔ وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔ [حسن۔ اخرجہ البزار ۵۶۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٥٢) زر بن حبیش سے روایت ہے کہ سیدنا علی (رض) سے رسول اللہ کے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے ایک برتن میں پانی ڈالا، پھر پوچھا : سائل کہاں ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے متعلق پوچھا تھا ؟ پھر اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ اور اپنے بازؤ وں کو تین مرتبہ اور اپنے سر کا مسح کیا اور قریب تھا کہ سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں اور اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر کہا : اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کیا کرتے تھے۔

352

Sunan Al Kubra Bayhaqi #352

Sahih

(۳۵۳) وَمِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی حَیَّۃَ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ حَتَّی أَنْقَاہُمَا ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلاَثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا ، وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلاَثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَغَسَلَ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ، ثُمَّ قَامَ وَأَخَذَ فَضْلَ وَضُوئِہِ فَشَرِبَہُ وَہُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّی أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ طُہُورُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی حَیَّۃَ وَثَبَتَ فِی مِثْلِ ہَذِہِ الْقَصَّۃِ أَنَّہُ مَسَحَ وَأَخْبَرَ أَنَّہُ وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحَدِّثْ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٥٣) ابو حیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی (رض) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کو دھویا اور ان کو صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر کھڑے ہوئے اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور اس کو کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا : مجھے پسند ہے کہ آپ کو دکھاؤں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو کیسے تھا۔

353

Sunan Al Kubra Bayhaqi #353

Sahih

(۳۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَیْسَرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ صَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ قَعَدَ فِی حَوَائِجِ النَّاسِ فِی رَحَبَۃِ الْکُوفَۃِ حَتَّی حَضَرَتْ صَلاَۃُ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَتَی بِکُوزٍ مِنْ مَائٍ فَأَخَذَ مِنْہُ حَفْنَۃً وَاحِدَۃً ، فَمَسَحَ بِہَا وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ وَرَأْسَہُ وَرِجْلَیْہِ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَہُ وَہْوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا یَکْرَہُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -صَنَعَ کَمَا صَنَعْتُ وَقَالَ: ہَذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحَدِّثْ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ بِبَعْضِ مَعْنَاہُ۔ (ق) وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ الثَّابِتِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْحَدِیثَ الَّذِی رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِی الْمَسْحِ عَلَی الرِّجْلَیْنِ إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا عَنَی بِہِ وَہُوَ طَاہِرٌ غَیْرُ مُحْدَثٍ إِلاَّ أَنَّ بَعْضَ الرُّوَاۃِ کَأَنَّہُ اخْتَصَرَ الْحَدِیثَ فَلَمْ یَنْقُلْ قَوْلَہُ ہَذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحَدِّثْ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۲۹۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٥٤) سیدنا علی بن ابو طالب (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر لوگوں کی ضروریات کے لیے کوفہ کی ایک گلی میں بیٹھے، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہوگیا، پھر پانی کا ایک پیالہ لے کر آئے تو اس سے ایک چلو لیا اور اس کے ساتھ اپنے چہرے، ہاتھوں، سر اور پاؤں کا مسح کیا، پھر کھڑے ہوئے اور بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا : لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس طرح کیا ہے اور فرمایا : یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہیں ہوتا۔ (ب) اس صحیح حدیث میں دلیل ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بےوضو نہ ہو تو وہ ایسا کرلے۔ گویا حدیث مختصر ہے اور یہ قول نقل نہیں کیا گیا : ھٰذَا وُضُوْئُ مَنْ لَّمْ یُحَدِّثُ ۔

354

Sunan Al Kubra Bayhaqi #354

Sahih

(۳۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبِی أَخْبَرَنَا ابْنُ الأَشْجَعِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ دَعَا بِکُوزٍ مِنْ مَائٍ ثُمَّ قَالَ: أَیْنَ ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُمْ یَکْرَہُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا؟ قَالَ: فَأَخَذَہُ فَشَرِبَ وَہُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیفًا، وَمَسَحَ عَلَی نَعْلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -مَا لَمْ یُحَدِّثْ۔ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی اللَّیْثِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ الرَّحْمَنِ الأَشْجَعِیِّ۔ [حسن۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲/۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٥٥) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا ، پھر فرمایا : کہاں ہیں وہ لوگ جو کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں ؟ راوی کہتا ہے کہ سیدنا علی (رض) نے اس (پیالے) کو پکڑا اور کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر ہلکا وضو کیا اور اپنی جوتیوں پر مسح کیا، پھر فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کیا ہے جب تک کوئی بےوضو نہ ہو۔

355

Sunan Al Kubra Bayhaqi #355

Sahih

(۳۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ الْبَزَّازُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی اللَّیْثِ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُبَیْدِ الرَّحْمَنِ الأَشْجَعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ دَعَا بِکُوزٍ مِنْ مَائٍ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیفًا ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَی نَعْلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا وُضُوئُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -لِلطَّاہِرِ مَا لَمْ یُحَدِّثْ۔ (ق) وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ مَا رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ فِی الْمَسْحِ عَلَی النَّعْلَیْنِ إِنَّمَا ہُوَ فِی وُضُوئٍ مُتَطَوَّعٍ بِہِ لاَ فِی وُضُوئٍ وَاجِبٍ عَلَیْہِ مِنْ حَدَثٍ یُوجِبُ الْوُضُوئَ، أَوْ أَرَادَ غَسْلَ الرِّجْلَیْنِ فِی النَّعْلَیْنِ، أَوْ أَرَادَ الْمَسْحَ عَلَی جَوْرَبَیْہِ وَنَعْلَیْہِ کَمَا رَوَاہُ عَنْہُ بَعْضُ الرُّوَاۃِ مُقَیَّدًا بِالْجَوْرَبَیْنِ ، وَأَرَادَ بِہِ جَوْرَبَیْنِ مُنْعَلَیْنِ فَثَابِتٌ عَنْہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَسْلُ الرِّجْلَیْنِ ، وَثَابِتٌ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -غَسْلُ الرِّجْلَیْنِ وَالْوَعِیدُ عَلَی تَرْکِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲۰۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٥٦) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، پھر ہلکا وضو کیا، پھر اپنے جوتیوں پر مسح کیا، پھر فرمایا : اسی طرح پاک آدمی کے لیے وضو ہے جب تک وہ بےوضو نہ ہو۔ (ب) سیدنا علی (رض) سے منقول جوتوں پر مسح کے متعلق روایت نفلی وضو کے متعلق ہے نہ کہ فرض وضو سے متعلق اور پاؤں جوتوں میں دھونے سے مراد موزوں پر مسح کرنا ہے جسے بعض رواۃ جرابوں کی قید کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور جو ربین سے مراد چمڑے والی ہیں اس لیے کہ حضرت علی (رض) سے پاؤں کا دھونا ثابت ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پاؤں دھونا ثابت ہے اور نہ دھونے پر سخت وعید ہے۔