Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 277

پاکی کا بیان

زمزم کو کھینچنے کا بیان

10 hadiths in this chapter

1261

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1261

Zaeef

(۱۲۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ زَنْجِیًّا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ یَعْنِی فَمَاتَ ، فَأَمَرَ بِہِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأُخْرِجَ ، وَأَمَرَ بِہَا أَنْ تُنْزَحَ قَالَ فَغَلَبَتْہُمْ عَیْنٌ جَائَ تْہُمْ مِنَ الرُّکْنِ ، فَأَمَرَ بِہَا فَدُسَّتْ بِالْقَبَاطِیِّ وَالْمَطَارِفِ حَتَّی نَزَحُوْہَا ، فَلَمَّا نَزَحُوْہَا انْفَجَرَتْ عَلَیْہِمْ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ : أَنَّ زَنْجِیًّا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ ، فَأَمَرَہُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ بِنَزْحِہِ ، وَہَذَا بَلاَغٌ بَلَغَہُمَا۔ (ج) فَإِنَّہُمَا لَمْ یَلْقَیَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَلَمْ یَسْمَعَا مِنْہُ۔ وَرَوَاہُ جَابِرٌ الْجُعْفِیُّ مَرَّۃً عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّۃً عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ نَفْسِہِ : أَنَّ غُلاَمًا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ فَنُزِحَتْ۔ (ج) وَجَابِرٌ الْجُعْفِیُّ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ۔ (ج) وَابْنُ لَہِیعَۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ : لاَ نَعْرِفُہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَمْزَمُ عِنْدَنَا مَا سَمِعْنَا بِہَذَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۳۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٦٢) ابن سیرین سے روایت ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر کر مرگیا۔ سیدنا ابن عباس (رض) نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور فرمایا : کنویں کا سارا پانی نکالا جائے۔ کہتے ہیں : وہ : چشمہ ان پر غالب آگیا جو رکن کی جانب سے پھوٹ رہا تھا۔ ابن عباس کے حکم پر اس چشمے کو ختل لکڑیوں کے ساتھ بند کردیا گیا۔ جب لوگوں نے اس کو کھینچا خالی کرلیا اور لکڑیوں کو کھینچا تو وہ پھوٹ کر بہنے لگا۔ (ب) ابو عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گرگیا تو سیدنا ابن عباس (رض) نے اسے کھینچ کر نکالنے کا حکم دیا۔ یہ خبر ان دونوں کو ملی۔ (ج) ان دونوں کی سیدنا ابن عباس (رض) سے ملاقات اور سماع ثابت ہیں۔ (د) جابر جعفی کبھی ابو طفیل عن ابن عباس سے اور کبھی ابوطفیل خود ہی روایت کرتا ہے کہ ایک غلام زمزم میں گرگیا تو اس کو کھینچ کر نکالا گیا۔ جابر جعفی قابل حجت نہیں (ر) ابن لھیعہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے اور ابن لھیعہ قابل حجت نہیں۔ (س) زعفرانی امام شافعی (رح) کا قول ذکر کرتے ہیں کہ اس روایت کو ابن عباس (رض) سے نقل کرنا معلوم نہیں۔ زمزم ہمارے پاس ہے اس کے متعلق کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا گیا۔

1262

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1262

Sahih

(۱۲۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ شِیرُوَیْہِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ سُفْیَانَ یَعْنِی ابْنَ عُیَیْنَۃَ یَقُولُ : أَنَا بِمَکَّۃَ مُنْذُ سَبْعِینَ سَنَۃً لَمْ أَرَ أَحَدًا صَغِیرًا وَلاَ کَبِیرًا یَعْرِفُ حَدِیثَ الزَّنْجِیِّ الَّذِی قَالُوا إِنَّہُ وَقَعَ فِی زَمْزَمٍ ، مَا سَمِعْتُ أَحَدًا یَقُولُ نُزِحَ زَمْزَمُ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَکَذَلِکَ لاَ یَنْبَغِی لأَنَّ الآثَارَ قَدْ جَائَ تْ فِی نَعْتِہَا أَنَّہَا لاَ تُنْزَحُ وَلاَ تُذَمُّ۔ لاَ أَدْرِی أَبُو قُدَامَۃَ حَکَاہُ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ أَوْ أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ لِمُخَالِفِیہِ قَدْ رَوَیْتُمْ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَنَّہُ قَالَ : ((الْمَائُ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ)) ۔ أَفَتُرَی أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یَرْوِی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -خَبْرًا وَیَتْرُکُہُ إِنْ کَانَتْ ہَذِہِ رِوَایَتُہُ وَتَرْوُونَ عَنْہُ : أَنَّہُ تَوَضَّأَ مِنْ غَدِیرٍ یُدَافِعُ جِیفَۃً ، وَتَرْوُونَ عَنْہُ : الْمَائُ لاَ یَنْجُسُ ، فَإِنْ کَانَ شَیْئٌ مِنْ ہَذَا صَحِیحًا فَہُوَ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ لَمْ یَنْزَحْ زَمْزَمَ لِلنَّجَاسَۃِ وَلَکِنْ لِلتَّنْظِیفِ إِنْ کَانَ فَعَلَ ، وَزَمْزَمُ لِلشُّرْبِ وَقَدْ یَکُونُ الدَّمُ ظَہَرَ عَلَی الْمَائِ حَتَّی رُئِیَ فِیہِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٦٣) ابن عیینہ کہتے ہیں : میں ستر سال سے مکہ میں تھا میں نے چھوٹے اور بڑے کسی کو نہیں دیکھا جو زنجی کی حدیث کو جانتا ہو اور وہ (حدیث) جو انھوں نے بیان کی کہ کوئی زمزم میں گرگیا تھا ۔ میں نے کسی سے نہیں سنا جو کہتا ہو کہ زمزم کو خالی کیا گیا۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ زمزم کے بارے میں تو آثار ہیں کہ اس کا پانی نہیں نکالا جائے گا اور نہ اس کی بےحرمتی ہوگی۔ مجھے معلوم نہیں کہ ابو قدامہ نے اس کو ابوعبید عن ابو ولید فقیہ سے بیان کیا ہے۔ امام شافعی (رح) نے اس کی مخالفت میں ابن عباس (رض) کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ آپ کی کیا رائے ہے کہ سیدنا ابن عباس (رض) کی یہ روایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے تو پھر اس کے مقابل اس روایت کی کیا حیثیت ہی جو تم بیان کرتے ہو کہ انھوں نے (کنویں) سے وضو کیا۔ پھر یہ بھی کہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ اگر یہحبشیوالی حدیث صحیح ہو تو معنی یہ ہے کہ پانی نجاست کی وجہ سے صرف صفائی کے لیینکالا۔ زمزم پانی کی بارے میں ہے کہ کبھی کبھار اس پر خون کے آثار دیکھے جاتے تھے۔

1263

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1263

Sahih

(۱۲۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -تَوَضَّأَ بِمَائٍ ، فَقِیلَ لَہُ اسْتَحَمَّتْ بِہِ فُلاَنَۃُ الآنَ یَعْنِی امْرَأَۃً مِنْ نِسَائِہِ قَالَ : ((إِنَّ الْمَائَ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۳۹۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٦٤) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی سے وضو کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا، یعنی آپ کی بیویوں میں سے کسی نی بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ “

1264

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1264

Zaeef

(۱۲۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی وَزِیَادُ بْنُ الْخَلِیلِ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِی جَفْنَۃٍ ، فَجَائَ النَّبِیُّ -ﷺ -لِیَتَوَضَّأَ أَوْ لِیَغْتَسِلَ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ جُنُبًا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِنَّ الْمَائَ لاَ یُجْنِبُ))۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٦٥) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی بیوی نے ٹپ میں غسل کیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تاکہ اس سے وضو کریں یا غسل کریں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ “

1265

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1265

Zaeef

(۱۲۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مَائِ الْحَمَّامِ فَقَالَ : الْمَائُ لاَ یَجْنُبُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۱۵۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٦٦) یحییٰ بن عبید کہتے ہیں : میں نے سیدنا ابن عباس (رض) سے حمام کے پانی سے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا : پانی ناپاک نہیں ہوتا۔

1266

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1266

Zaeef

(۱۲۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفَرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرَبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْبَعٌ لاَ یَنْجُسْنَ : الإِنْسَانُ وَالْمَائُ وَالثَّوْبُ وَالأَرْضُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٦٧) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ چار چیزیں ناپاک نہیں ہوتیں : آدمی ‘ پانی ‘ کپڑا اور زمین۔

1267

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1267

Zaeef

(۱۲۶۸) وَقَالَ أَبُو یَحْیَی الْحِمَّانِیُّ عَنْ زَکَرِیَّا فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : أَرْبَعٌ لاَ یَجْنُبْنَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ الطَّوَابِیقِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی الْحِمَّانِیُّ ۔۔۔۔۔ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٦٨) ابو یحییٰ حمانی نے اس کو بیان کیا ہے۔

1268

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1268

Sahih

(۱۲۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یَزِیدَ الرِّشْکِ عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : لَیْسَتْ عَلَی الْمَائِ جَنَابَۃٌ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَنَحْنُ نَرْوِی عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَوْلَنَا وَنَرْوِی عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : أَنَّہُ أَمَرَ رَجُلاً یَغْتَسِلُ فِی بِئْرٍ مِنْ جَنَابَۃٍ وَیُرْوَی عَنْ عُمَرَ قَرِیبًا مِنْہُ۔ وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٦٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ پانی پر ناپاکی نہیں آتی ۔ (ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارا موقف وہ ہے جو ہم زید بن ثابت اور قاسم بن محمد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک شخص کو کنویں میں غسل جنابت کرنے کا حکم دیا اور سیدنا عمر سے اس کے ہم معنی روایت منقول ہے۔

1269

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1269

Zaeef

(۱۲۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ حِکَایَۃً عَنْ خَالِدٍ الْوَاسِطِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ عَنْ عَلِیٍّ : فِی الْفَأْرَۃِ تَقَعُ فِی الْبِئْرِ فَتَمُوتُ قَالَ : تُنْزَحُ حَتَّی تَغْلِبَہُمْ۔ فَہَذَا غَیْرُ قَوِیٍّ۔ لأَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِیِّ لَمْ یَسْمَعْ عَلِیًّا فَہُوَ مُنْقَطِعٌ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ رَوَی ابْنُ أَبِی یَحْیَی عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَۃُ فِی الْبِئْرِ فَمَاتَتْ فِیہَا نُزِحَ مِنْہَا دَلْوٌ أَوْ دَلْوَانِ یَعْنِی فَإِنْ تَفَسَّخَتْ نُزِحَ مِنْہَا خَمْسَۃٌ أَوْ سَبْعَۃٌ وَہَذَا أَیْضًا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۷۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٧٠) (الف) سیدنا علی (رض) نے اس چوہیا کے متعلق فرمایا جو کنویں میں گر کر مرگئی تھی کہ اسے نکالا جائے تو یہ لوگوں پر غالب آگیا تھا۔ یہ روایت مضبوط نہیں؛ کیونکہ ابو بختری نے سیدنا علی (رض) سے نہیں سنا۔ یہ روایت منقطع ہے۔ (ب) سیدنا علی بن أبی طالب (رض) فرماتے ہیں : جب چوہیا کنویں میں گر کر مرجائے تو اس سے ایک یا دو ڈول کھینچے جائیں گے اور اگر پھٹ جائے تو پانچ یا سات ڈول کھینچے جائیں گے اور یہ روایت بھی منقطع ہے۔

1270

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1270

Sahih

(۱۲۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ فِی احْتَجِاجِ مَنِ احْتَجَّ بِالأَثْرِ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ قُلْتُ : فَیُخَالَفُ مَا جَائَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -إِلَی قَوْلِ غَیْرِہِ۔ قَالَ : لاَ۔ قُلْتُ : قَدْ فَعَلْتَ ، وَخَالَفْتَ مَعَ ذَلِکَ عَلِیًّا وَابْنَ عَبَّاسٍ ، زَعَمْتَ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ : إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَۃُ فِی الْبِئْرِ نُزِحَ مِنْہَا سَبْعَۃُ أَوْ خَمْسَۃُ أَدْلاَئٍ ، وَزَعَمْتَ أَنَّہَا لاَ تَطْہُرُ إِلاَّ بِعِشْرِینَ أَوْ ثَلاَثِینَ وَزَعَمْتَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسِ نَزَحَ زَمْزَمَ مِنْ زَنْجِیٍّ وَقَعَ فِیہَا ، وَأَنْتَ تَقُولُ : یَکْفِی مِنْ ذَلِکَ أَرْبَعُونَ أَوْ سِتُّونَ دَلْوًا ، وَہَذَا عَنْ عَلِیٍّ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ غَیْرُ ثَابِتٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٧١) امام شافعی (رح) سے اس کے متعلق منقول ہے جو علی (رض) اور ابن عباس (رض) کے اثر کی مخالفت کرتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے علاوہ روایت کی مخالفت کی جائے گی۔ انھوں نے کہا : نہیں : میں نے کہا : آپ نے اس کے باوجود علی اور ابن عباس (رض) کی مخالفت کی ہے ؟ آپ نے گمان کیا کہ سیدنا علی (رض) نے کہا : جب کنویں میں چوہا گرجائے تو اس سے سات یا پانچ ڈول کھینچے جائیں گے اور آپ نے دعویٰ کیا کہ وہ پاک نہیں ہوگا مگر بیس بائیس (ڈول کھینچنے) سے اور آپ نے گمان کیا کہ ابن عباس (رض) نے زنجی سے جو اس میں گرگیا تھا زمزم کا پانی نکالا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ چالیس یا ساٹھ ڈول کافی ہیں۔ یہ علی اور ابن عباس (رض) سے ثابت نہیں ہے۔