Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 252

پاکی کا بیان

کھڑے پانی میں نجاست گرجائے اور وہ دو مٹکوں سے کم ہو

3 hadiths in this chapter

1113

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1113

Sahih

(۱۱۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((لاَ یُبَالُ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ الَّذِی لاَ یَجْرِی ثُمَّ یُغْتَسَلُ مِنْہُ))۔ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِذَا اسْتَیْقَظَ أَحَدُکُمْ فَلاَ یَضَعْ یَدَہُ فِی الْوُضُوئِ حَتَّی یَغْسِلَہَا ، فَإِنَّہُ لاَ یَدْرِی أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہُ))۔ رَوَاہُمَا مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ فَإِنْ عَجَنَ بِہِ یَعْنِی بِالْمَائِ النَّجِسِ عَجِینًا لَمْ یَؤْکَلْ وَأَطْعَمَہُ الدَّوَابَّ۔ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ : وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ عَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ أَنَّہُ یُطْعِمُہُ الدَّجَاجَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۸۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کیا جائے، یعنی وہ پانی جو جار ی نہ ہو کہ پھر اس سے غسل کرے اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس کو دھونہ لے اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔ (ب) زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے قدیم کتاب میں لکھا ہے کہ اگر نجس پانی کے ساتھ آٹا مل جائے تو وہ نہیں کھایا جاسکتا بلکہ وہ جانوروں کو کھلا دیا جائے۔ (ج) امام احمد فرماتے ہیں : عطاء اور مجاہد سے منقول ہے وہ ایسا آٹا مرغیوں کو کھلا دیتے تھے۔

1114

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1114

Sahih

(۱۱۱۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی : إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی الأَنْصَارِیُّ وَہَارُونُ بْنُ مُوسَی الْفَرْوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ : أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -الْحِجْرَ أَرْضَ ثَمُودَ فَاسْتَقَوْا مِنْ بِیَارِہَا وَعَجَنُوا بِہِ ، فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -أَنْ یُہَرِیقُوا مَا اسْتَقَوْا وَیُطْعِمُوا الإِبِلَ الْعَجِینَ ، وَأَمَرَہُمْ أَنْ یَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِی کَانَتْ تَرِدُہَا النَّاقَۃُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَی الأَنْصَارِیِّ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ۔ وَہَذَا الْمَائُ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ نَجِسًا فَحِینَ کَانَ مَمْنُوعًا مِنِ اسْتِعْمَالِہِ أَمَرَ بِإِرَاقَتِہِ وَأَمَرَ بِإِطْعَامِ مَا عُجِنَ بِہِ الإِبِلَ فَکَذَلِکَ مَا یَکُونُ مَمْنُوعًا مِنْہُ لِنَجَاسَتِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۱۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٥) (الف) سیدنا نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نے انھیں خبر دی کہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مقام حجر پر اترے، یہ ثمود کی زمین تھی۔ صحابہ نے ان کے کنوؤں سے پانی لیا اور آٹا گوندھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حاصل کردہ پانی بہانے کا حکم دیا اور آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی فرمایا : وہ اس پانی کو استعمال کریں جہاں وہ اونٹنی آتی تھی۔ (ب) انس بن عیاض (رح) سے روایت ہے کہ یہ پانی اگرچہ نجس نہ تھا لیکن اس کا استعمال ممنوع تھا، اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہانے کا حکم دیا اور آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دیا۔ یہ نجاست کی وجہ سے ممنوع نہ تھا۔ (بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم تھا)

1115

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1115

Zaeef

(۱۱۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ سَلْمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -سُئِلَ عَنْ عَجِینٍ وَقَعَ فِیہِ قَطَرَاتٌ مِنْ دَمٍ ، فَنَہَی النَّبِیُّ -ﷺ -عَنْ أَکْلِہِ۔ قَالَ الْوَلِیدُ : لأَنَّ النَّارَ لاَ تُنَشِّفُ الدَّمَ۔ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ ہَکَذَا حَدَّثَنَاہُ ابْنُ سَلْمٍ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ۔ وَإِنَّمَا یَرْوِی ہَذَا سُوَیْدٌ عَنْ نُوحِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ۔ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَاہُ صَالِحُ بْنُ أَبِی الْجِنِّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْمَنْبِجِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ نُوحِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ جَارِیَۃً لَہُمْ عَجَنَتْ لَہُمْ عَجِینًا فِی جَفْنَۃٍ فَأَصَابَتْ یَدُہَا حَدِیدَۃٌ فِی الْعَجِینِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : ((لاَ تَأْکُلُوہُ)) قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَسُوَیْدٌ الَّذِی خَلَطَ فِی رِوَایَۃِ ہَذَا الْحَدِیثِ فَمَرَّۃً رَوَاہُ عَنْ نُوحٍ عَنِ الْحَسَنِ وَمَرَّۃً عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ۔ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَعَامَّۃُ حَدِیثِہِ مِمَّا لاَ یُتَابِعُہُ الثِّقَاتُ عَلَیْہِ ، وَہُوَ ضَعِیفٌ کَمَا وَصَفُوہُ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنَ مَعِینٍ وَغَیْرَہُمَا مِنَ الأَئِمَّۃِ ضَعَّفُوا سُوَیْدًا۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی الاوسط ۱/۸۲۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٦) (الف) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آٹے کے متعلق سوال کیا گیا جس میں خون کے قطرے گرپڑے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کھانے سے منع فرما دیا۔ (ب) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک لونڈی نے کسی برتن میں آٹا گوندھا تو اس کے ہاتھ کو زخم لگا، جس کی وجہ سے آٹے میں خون کے قطرے گرے، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے نہ کھاؤ۔