Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 233

پاکی کا بیان

تیمم کے بعد پانی مل جائے تو جنبی غسل کرے اور بےوضو وضو کرے

6 hadiths in this chapter

1045

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1045

Zaeef

(۱۰۴۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِی جَمِیلَۃَ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ : کُنَّا فِی سَفَرٍ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ -وَإِنَّا سِرْنَا لَیْلَۃً حَتَّی إِذَا کُنَّا فِی آخِرِ اللَّیْلِ وَقَعْنَا فِی تِلْکَ الْوَقْعَۃِ -وَلاَ وَقْعَۃَ أَحْلَی عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْہَا قَالَ -فَمَا أَیْقَظَنَا إِلاَّ حَرُّ الشَّمْسِ ، وَکَانَ أَوَّلَ مِنَ اسْتَیْقَظَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ -یُسَمِّیہِمْ عَوْفٌ -ثُمَّ کَانَ الرَّابِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ -إِذَا نَامَ لَمْ یُوقِظْہُ أَحَدٌ حَتَّی یَکُونَ ہُوَ الْمُسْتَیْقِظَ ، لأَنَّا لاَ نَدْرِی مَا یَحْدُثُ لَہُ فِی نَوْمِہِ -قَالَ -فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ عُمَرُ وَرَأَی مَا أَصَابَ النَّاسَ -وَکَانَ رَجُلاً أَجْوَفَ جَلِیدًا -کَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیرِ قَالَ فَمَا زَالَ یُکَبِّرُ وَیَرْفَعُ صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیرِ حَتَّی اسْتَیْقَظَ لِصَوْتِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ شَکَوْنَا إِلَیْہِ الَّذِی أَصَابَنَا فَقَالَ : ((لاَ ضَیْرَ)) أَوْ ((لاَ ضَرَرَ))۔ شَکَّ عَوْفٌ فَقَالَ : ((ارْتَحِلُوا))۔ فَارْتَحَلَ النَّبِیُّ -ﷺ - وَسَارَ غَیْرَ بَعِیدٍ فَنَزَلَ ، فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ وَنَادَی بِالصَّلاَۃِ ، وَصَلَّی بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلاَتِہِ إِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ یُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ : ((مَا مَنَعَکَ یَا فُلاَنُ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ؟))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ وَلاَ مَائَ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((عَلَیْکَ بِالصَّعِیدِ فَإِنَّہُ یَکْفِیکَ))۔ قَالَ : فَسَارَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فَشَکَا إِلَیْہِ النَّاسُ الْعَطَشَ قَالَ فَنَزَلَ فَدَعَا فُلاَنًا -یُسَمِّیہِ عَوْفٌ -وَدَعَا عَلِیًّا فَقَالَ : ((اذْہَبَا فَابْتَغِیَا لَنَا الْمَائَ))۔ فَانْطَلَقَا فَإِذَا ہُمَا بِامْرَأَۃٍ بَیْنَ مَزَادَتَیْنِ أَوْ سَطِیحَتَیْنِ مِنْ مَائٍ عَلَی بَعِیرٍ لَہَا قَالَ فَقَالاَ لَہَا : أَیْنَ الْمَائُ؟ قَالَتْ : عَہْدِی بِالْمَائِ أَمْسِ ہَذِہِ السَّاعَۃَ ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ -قَالَ عَبْدُ الْوَہَّابِ : یَعْنِی عِطَاشٌ - قَالَ فَقَالاَ لَہَا : انْطَلِقِی إِذًا۔ فَقَالَتْ : إِلَی أَیْنَ؟ فَقَالاَ : إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَتْ : ہُوَ الَّذِی یُقَالُ لَہُ الصَّابِئُ؟ قَالاَ : ہُوَ الَّذِی تَعْنِینَ فَانْطَلِقِی۔ قَالَ : فَجَائَ ا بِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -وَحَدَّثَاہُ الْحَدِیثَ ، فَاسْتَنْزَلَہَا عَنْ بَعِیرِہَا ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -بِإِنَائٍ فَأَفْرَغَ فِیہِ مِنْ أَفْوَاہِ الْمَزَادَتَیْنِ أَوِ السَّطِیحَتَیْنِ ، فَمَضْمَضَ فِی الْمَائِ وَأَعَادَہُ فِی أَفْوَاہِ الْمَزَادَتَیْنِ أَوِ السَّطِیحَتَیْنِ ثُمَّ أَوْکَأَ أَفْوَاہَہُمَا ، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِیَ ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : ((اشْرَبُوا اسْتَقُوا))۔ فَاسْتَقَی مَنْ شَائَ ، وَشَرِبَ مَنْ شَائَ۔ قَالَ وَکَانَ آخِرَ ذَلِکَ أَنْ أَعْطَی الَّذِی أَصَابَتْہُ الْجَنَابَۃُ إِنَائً مِنْ مَائٍ فَقَالَ : اذْہَبْ فَأَفْرِغْہُ عَلَیْکَ ۔ وَہْیَ قَائِمَۃٌ تُبْصِرُ مَا یُفْعَلُ بِمَائِہَا قَالَ وَایْمُ اللَّہِ مَا أَقْلَعَ عَنْہَا حِینَ أَقْلَعَ وَإِنَّہُ یُخَیَّلُ إِلَیْنَا أَنَّہَا أَمْلأُ مِنْہَا حِینَ ابْتَدَأَ فِیہَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((اجْمَعُوا لَہَا))۔ فَجَمَعُوا لَہَا مِنْ بَیْنِ دُقَیِّقَۃٍ وَسُوَیِّقَۃٍ حَتَّی جَمَعُوا لَہَا طَعَامًا ، وَجَعَلُوہُ فِی ثَوْبِہَا فَحَمَلُوہُ وَوَضَعُوہُ بَیْنَ یَدَیْہَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((تَعْلَمِینَ وَاللَّہِ إِنَّا مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِکِ شَیْئًا ، وَلَکِنَّ اللَّہَ ہُوَ الَّذِی سَقَانَا))۔ قَالَ : فَأَتَتْ أَہْلَہَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَیْہِمْ فَقَالُوا لَہَا : مَا حَبَسَکِ یَا فُلاَنَۃُ؟ قَالَتْ : الْعَجَبُ أَتَانِی رَجُلاَنِ فَذَہَبَا بِی إِلَی ہَذَا الصَّابِئِ ، فَفَعَلَ بِمَائِی کَذَا وَکَذَا لِلَّذِی کَانَ ، فَوَاللَّہِ إِنَّہُ لأَسْحَرُ مِنْ بَیْنِ ہَذِہِ وَہَذِہِ أَوْ إِنَّہُ لَرَسُولُ اللَّہِ حَقًّا۔ قَالَ : فَکَانَ الْمُسْلِمُونَ یُغِیرُونَ عَلَی مَنْ حَوْلِہَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَلاَ یُصِیبُونَ الصِّرْمَ الَّذِی ہِیَ فِیہِ ، فَقَالَتْ یَوْمًا لِقَوْمِہَا : إِنَّ ہَؤُلاَئَ الْقَوْمَ عَمْدًا یَدَعُونَکُمْ ، ہَلْ لَکُمْ فِی الإِسْلاَمِ؟ فَأَطَاعُوہَا فَجَائُوا جَمِیعًا فَدَخَلُوا فِی الإِسْلاَمِ۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ عَوْفٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٦) عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں ساری رات چلے۔ رات کے آخری حصے میں ہم منزل پر پہنچے۔ ہم پڑاؤ کے لیے ٹھہر گئے اور مسافر کے لیے اس سے میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی گرمی نے بیدار کیا جو پہلے بیدار ہوا وہ فلاں اور فلاں تھا (سیدنا عوف (رض) نے ان کا نام بھی لیا ہے) پھر چوتھے سیدنا عمر بن خطاب (رض) تھے، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی بھی بیدار نہیں کرتا تھا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ہی بیدار ہوتے۔ اس لیے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند میں کیا نئی بات ہوتی تھی۔ راوی کہتا ہے : جب عمر (رض) بیدار ہوئے اور دیکھا جو لوگوں سے معاملہ پیش آیا تو ایک موٹا آدمی تھا۔ اس نے تکبیر اونچی آواز سے کہی، وہ تکبیر کہتا رہا اور اپنی آواز بلند کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کی آواز پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوگئے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی جو ہمارے ساتھ واقعہ پیش تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی نقصان کی بات نہیں (عوف (رض) کو شک ہے ضَیْر کے الفاظ کہے یا ضَرَرَ کے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوچ کرو ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ کیا اور تھوڑی دیرچلے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے، پانی منگوایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور نماز کے لیے اذان کہی اور لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب نماز سے پھرے تو دیکھا ایک شخص الگ بیٹھا ہوا تھا اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فلاں ! آپ کو کس چیز نے منع کیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی تھا اور پانی نہیں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مٹی کو لازم پکڑ وہ تجھے کافی ہے۔ راوی کہتا ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے لوگوں نے پیاس کی شکایت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فلاں کو بلایا ( عوف (رض) نے ان کا نام بھی لیا ہے) اور علی (رض) کو بلایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں جاؤ ہمارے لیے پانی تلاش کرو ۔ ہم چلے اچانکہم ایسی عورت کے پاسپہنچے جو اپنے اونٹ پر دو مٹکوں کے درمیان تھی ۔ انھوں نے کہا : پانی کہاں ہے ؟ اس نے کہا : کل اس وقت پانی کی جگہ کو میں نے چھوڑا، ہماری جماعت پیچھے ہے۔ عبد الوہاب کہتے ہیں : یعنی وہ پیاسے ہیں، ان دونوں نے اس کو کہا : تم ہمارے ساتھ آؤ۔ اس نے کہا : کہاں ؟ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں۔ اس نے کہا : یہ وہی ہے جس کو صابی کہا جاتا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں وہی جو تو مراد لے رہی ہے۔ تو چل وہ دونوں اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لے آئے اور انھوں نے اس کی باتیں بیان کیں اور اس کو اونٹ پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک برتن منگوایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مٹکوں کے منہ سے پانی نکلا، پانی میں کلی کی اور دوبارہ اس کو مٹکوں میں لوٹا دیا۔ پھر ان کے منہ کو بند کردیا اور اس کے پانی کے نکلنے کے سوراخ کو کھول دیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو فرمایا : پیو اور پلاؤ تو جس نے چاہا پیا اور جس نے چاہا پلایا اور آخر میں جس شخص کو جنابت تھی اس کو ایک برتن میں پانی دیا اور کہا : اپنے بدن پر اس پانی کو بہاؤ، وہ عورت اس کیفیت کو دیکھ رہی تھی اور اپنے پانی کے ساتھ ہونے والی حالت بھی دیکھ رہی تھی ۔ راوی کہتا ہے : قسم ہے اس شخص نے ضرورت کے مطابق پانی استعمال کیا اور یہیدکھائی دیتا تھا کہ وہ برتن پہلے سے زیادہ بھرا ہوا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس عورت کے لیے کچھ کھانے پینے کی اشیاء جمع کی جائیں تو انھوں نے اس کے لیے آٹا اور ستو جمعکر کے اس کے لیے کھانے کا سامان تیار کردیا اور اس کھانے کو کپڑے میں ڈال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس عورت کو مخاطب کر کے فرمانے لگے : اللہ کی قسم ! تو جانتی ہے تیرے پانی کو ہم نے کم نہیں کیا لیکن اللہ نے ہم کو پلایا۔ یہ عورت اپنے علاقے میں کچھ دیر سے پہنچی تو اہل قبیلہ نے کہا : کس چیز نے تجھے دیر کروائی تو اس عورت نے حیرت زدہ ہو کر کہا : دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے اس صابی (نعوزب اللہ) کے پاس لے گئے ۔ پھر اس عورت نے سارا واقعہ سنالیا اور کہنے لگی : قسم ہے یہ اس علاقے میں سب سے بڑا جادو گر ہے یا سچا رسول ہے۔ راوی کہتا ہے : بعد میں مسلمان ان کے علاقہ کے ارد گرد مشرکین پر حملہ کرتے تھے تو ان کے علاقے ہاتھ تک نہ لگاتے تھے تو اس عورت نے قبیلے والوں کہا : یہ قوم جان بوجھ کر تم کو چھوڑتے ہیں۔ کیا تم کو پسند نہیں کہ تم مسلمان ہو جاؤقوم ان کی بات مان کر تمام کے تمام مسلمان ہوگئی۔

1046

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1046

Zaeef

(۱۰۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّیْسَابُورِیُّ وَہُوَ أَخُو أَبِی عَمْرِو بْنِ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِیرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَائٍ یَقُولُ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ : أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی مَسِیرٍ فَأَدْلَجُوا لَیْلَتَہُمْ حَتَّی إِذَا کَانُوا فِی وَجْہِ الصُّبْحِ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فَغَلَبَتْہُمْ أَعْیُنُہُمْ حَتَّی ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، فَکَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَیْقَظَ مِنْ مَنَامِہِ أَبُو بَکْرٍ ، وَکَانَ لاَ یُوقِظُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -مِنْ مَنَامِہِ أَحَدٌ حَتَّی یَسْتَیْقِظَ النَّبِیُّ -ﷺ -فَاسْتَیْقَظَ عُمَرُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَجَعَلَ یُکَبِّرُ وَیَرْفَعُ صَوْتَہُ حَتَّی اسْتَیْقَظَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ رَأَی الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ قَالَ : ((ارْتَحِلُوا))۔ فَسَارَ بِنَا حَتَّی ابْیَضَّتِ الشَّمْسُ ، فَنَزَلَ فَصَلَّی ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَلَمْ یُصَلِّ مَعَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : ((یَا فُلاَنُ مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَنَا؟))۔ قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ۔ فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَیَمَّمَ بِالصَّعِیدِ ثُمَّ صَلَّی ، وَعَجَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -فِی رُکُوبٍ بَیْنَ یَدَیْہِ لِطَلَبِ الْمَائِ ، وَکُنَّا قَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِیدًا ، فَبَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَۃٍ سَادِلَۃٍ رِجْلَیْہَا بَیْنَ مَزَادَتَیْنِ ، فَقُلْنَا لَہَا : أَیْنَ الْمَائُ؟ فَقَالَتْ : أَیْہَاہْ أَیْہَاہْ لاَ مَائَ ۔ فَقُلْنَا : کُمْ بَیْنَ أَہْلِکِ وَبَیْنَ الْمَائِ؟ قَالَتْ : یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔ قُلْنَا : انْطَلِقِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ فَقَالَتْ : وَمَا رَسُولُ اللَّہِ؟ فَلَمْ نُمَلِّکْہَا مِنْ أَمْرِہَا شَیْئًا حَتَّی اسْتَقْبَلْنَا بِہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَحَدَّثَتْہُ بِمِثْلِ الَّذِی حَدَّثَتْنَا غَیْرَ أَنَّہَا حَدَّثَتْہُ أَنَّہَا مُؤْتِمَۃٌ ، فَأَمَرَ بِمَزَادَتَیْہَا فَمَجَّ فِی الْعَزْلاَوَیْنِ الْعُلْیَاوَیْنِ ، فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِینَ رَجُلاً حَتَّی رَوِینَا وَمَلأْنَا کُلَّ قِرْبَۃٍ مَعَنَا وَإِدَاوَۃٍ ، وَغَسَلْنَا صَاحِبَنَا غَیْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِیرًا وَہِیَ تَکَادُ تَنُضُّ مِنَ الْمِلْئِ ، ثُمَّ قَالَ لَنَا : ((ہَاتُوا مَا عِنْدَکُمْ))۔ فَجَمَعْنَا لَہَا مِنَ الْکِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّی صَرَّ لَہَا صُرَّۃً فَقَالَ لَہَا : ((اذْہَبِی فَأَطْعِمِی ہَذَا عِیَالَکِ ، وَاعْلَمِی أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِکِ شَیْئًا))۔ فَلَمَّا أَتَتْ أَہْلَہَا قَالَتْ : لَقَدْ لَقِیتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ ہُوَ نَبِیٌّ کَمَا زَعَمُوا۔ فَہَدَی اللَّہُ ذَلِکَ الصِّرْمَ بِتِلْکَ الْمَرْأَۃِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِیدِ عَنْ سَلْمِ بْنِ زَرِیرٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٧) عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر میں تھے۔ جب صبح ہونے کے قریب تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑاؤ ڈالا۔ تمام لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج بلند ہونے لگا، سب سے پہلے سیدنا ابوبکر (رض) کی آنکھ کھلی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی بیدار نہ کرتا تھا ۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود جاگتے، پھر سیدنا عمر (رض) اٹھے تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر کے قریب بیٹھ کر اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ سورج چمک رہا ہے تو فرمایا : یہاں سے کوچ کرو، صحابہ کرام نے وہاں سے کوچ کیا یہاں تک کہ سورج سفید ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑاؤ ڈالا اور نماز پڑھی، اسی دوران ایک شخص نے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ تم تیمم کر کے نماز پڑھو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چند شہسواروں کے ساتھ پانی ڈھونڈنے کے لیے بھیجا، اس حال میں کہ ہم شدید پیاسے تھے۔ ابھی ہم پانی کی تلاش میں تھے کہ ایک عورت پر نظر پڑی، جس کے سر پر دو مشکیزے تھے ۔ ہم نے اس سے پوچھا : پانی کہاں ہے ؟ اس نے کہا : اوہ یہاں پانی کہاں سے آیا ۔ ہم نے کہا : تمہاری علاقے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ تو اس نے کہا : ایک دن اور ایک رات۔ صحابہ نے کہا : تو ہمارے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چل۔ اس نے کہا : کیا رسول اللہ کے پاس ؟ ہم نے اس سے کچھ گفتگو نہ کی اور اسے آپ کے پاس لے آئے، اس نے پھر وہی بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دہرائی اور یہ بھی کہا کہ لوگ میرے انتظار میں ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے دونوں مشکیزوں کو اتروایا اور ان کا منہ کھول کر اس میں لعاب ڈالا تو ہم چالیس پیاسے لوگوں نے اس قدر پیا کہ ہم سیر ہوگئے اور تمام برتن بھر لیے اور اس جنبی کو بھی غسل کروادیا، لیکن ہم نے کسی بھی جانور کو پانی نہ پلایا اور مشکیزے پانی کی کثرت کی وجہ سے چھلکنے لگے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کہا، جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ ! تو ہم نے روٹی کے ٹکڑے اور کھجور جمع کر کے ایک تھیلے میں آپ کی خدمت میں پیش کردیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے کہا : یہ لے جاؤ اور اہل خانہ کو کھلاؤ۔

1047

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1047

Sahih

(۱۰۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ وَہُوَ ابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّاجِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو رَجَائٍ الْعُطَارِدِیُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ لِلرَّجُلِ : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ؟))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ۔ قَالَ : ((فَتَیَمَّمْ بِالصَّعِیدِ فَإِذَا فَرَغْتَ فَصْلِّ ، فَإِذَا أَدْرَکْتَ الْمَائَ فَاغْتَسِلْ))۔ وَذَکَرُوا الْحَدِیثَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٨) سیدنا عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص سے فرمایا : تجھے نماز پڑھنے سے کس چیز نے منع کیا تھا ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مٹی سے تیمم کر، جب فارغ ہوجائے تو نماز پڑھ اور پانی مل جائے تو غسل کر۔ “

1048

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1048

Sahih

(۱۰۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : تَمَارَی ابْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارٌ فِی الرَّجُلِ تُصِیبُہُ الْجَنَابَۃُ وَلاَ یَجِدُ الْمَائَ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لاَ یُصَلِّی حَتَّی یَجِدَ الْمَائَ ۔ وَقَالَ عَمَّارٌ : کُنْتُ فِی الإِبِلِ فَأَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ ، فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَی الْمَائِ فَتَمَعَّکْتُ کَمَا تَتَمَعَّکُ یَعْنِی الدَّوَابَّ ، ثُمَّ أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ مِنْ ذَلِکَ التَّیَمُّمُ بِالصَّعِیدِ، فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَی الْمَائِ اغْتَسَلْتَ))۔[صحیح لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٩) ناجیہ بن کعب کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود اور عمار (رض) نے اس شخص کے متعلق بحث و تکرار کی جو جنبی ہوگیا تھا اور پانی نہیں ملا تھا، سیدنا ابن مسعود (رض) نے فرمایا : وہ نماز نہیں پڑھے گا جب تک اسے پانی نہ ملے اور سیدنا عمار (رض) نے فرمایا : میں اونٹوں (کے باڑے) میں تھا ۔ میں جنبی ہوگیا ۔ میرے پاس پانی نہیں تھا۔ میں (مٹی میں) لوٹ پوٹ ہواجی سے چوپایہ کرتا ہے، پھر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (یہ واقعہ) ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پاک مٹی سے تیمم کافی تھا جب تجھے پانی مل جائے تو غسل کرلے۔ “

1049

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1049

Sahih

(۱۰۵۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : اجْتَمَعَتْ غُنَیْمَۃٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : یَا أَبَا ذَرٍّ ابْدُ فِیہَا ۔ فَبَدَوْتُ إِلَی الرَّبَذَۃِ ، فَکَانَتْ تُصِیبُنِی الْجَنَابَۃُ فَأَمْکُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : ((أَبُو ذَرٍّ))۔ فَسَکَتُّ فَقَالَ : ((ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ أَبَا ذَرٍّ ، لأُمِّکَ الْوَیْلُ))۔ فَدَعَا بِجَارِیَۃٍ فَجَائَ تْ بِعُسٍّ مِنْ مَائٍ ، فَسَتَرَنِی بِثَوْبِی ، وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَۃِ فَاغْتَسَلَتُ ، فَکَأَنِّی أَلْقَیْتُ عَنِّی جَبَلاً ، فَقَالَ : ((الصَّعِیدُ الطَّیِّبُ وَضُوئُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَی عَشْرِ سِنِینَ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَائَ فَأَمْسِسْہُ جِلْدَکَ فَإِنَّ ذَلِکَ خَیْرٌ))۔ [صحیح لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٠) سیدنا ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مال غنیمت جمع ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوذر ! میں جنبی ہوگیا تو پانچ یا چھ دن ٹھہرا رہا، پھر میں رسول اللہ کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو ذر ! میں خاموش ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے ابو ذر ! تیری ماں تجھے گم پائے تیری ماں کیلئے ہلاکت ہو۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لونڈی کو بلایا وہ پانی کا ایک برتن لے کر آئی، اس نے مجھے اپنے کپڑے کے ساتھ پردہ کیا اور میں نے پالان سے پردہ کیا، پھر میں نے غسل کیا گویا مجھ سے پہاڑہٹ گیا ہو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ دس سال نہ ملے اور جب تجھے پانی مل جائے اپنے جسم پر بہا ، یہ بہتر ہے۔

1050

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1050

Sahih

(۱۰۵۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ … فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ وَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ: اجْتَمَعَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -غَنَمٌ مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَۃِ۔ وَلَمْ یَذْکُرِ الإِبِلَ وَالْوَیْلَ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥١) خالد حذاء نے اسی طرح بیان کیا ہے فرماتے ہیں : میں نے ابو ذر (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صدقہ کی بکریاں اکٹھی ہوئیں۔ ابوذر (رض) نے ” ابل “ اور ” ویل “ کا ذکر نہیں کیا۔ باقی اسی کے معنی میں ہے۔