Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 214

پاکی کا بیان

جنبی کے بغیر وضو و غسل کے سوجانے کا بیان

4 hadiths in this chapter

973

Sunan Al Kubra Bayhaqi #973

Sahih

(۹۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنُ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -کَانَ یَنَامُ وَہُوَ جُنُبٌ وَلاَ یَمَسُّ مَائً۔ [صحیح۔ دون قولہ ’’ولا یمس مائ‘‘]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٤) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ (بعض اوقات) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالت جنابت میں سو جاتے تھے اور پانی نہیں چھوتے تھے۔

974

Sunan Al Kubra Bayhaqi #974

Sahih

(۹۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُوخَیْثَمَۃَ۔قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : سَأَلْتُ الأَسْوَدَ بْنَ یَزِیدَ وَکَانَ لِی جَارًا وَصَدِیقًا عَمَّا حَدَّثَتْہُ عَائِشَۃُ عَنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -قَالَتْ: کَانَ یَنَامُ أَوَّلَ اللَّیْلِ وَیُحْیِی آخِرَہُ، ثُمَّ إِنْ کَانَتْ لَہُ إِلَی أَہْلِہِ حَاجَۃٌ قَضَی حَاجَتَہُ، ثُمَّ یَنَامُ قَبْلَ أَنْ یَمَسَّ مَائً، فَإِذَا کَانَ عِنْدَ النِّدَائِ الأَوَّلِ قَالَتْ وَثَبَ ، فَلاَ وَاللَّہِ مَا قَالَتْ قَامَ وَأَخَذَ الْمَائَ، وَلاَ وَاللَّہِ ما قَالَتِ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِیدُ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ حَاجَۃٌ تَوَضَّأَ وُضُوئَ الرَّجُلِ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ صَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ دُونَ قَوْلِہِ : قَبْلَ أَنْ یَمَسَّ مَائً۔ وَذَاکَ لأَنَّ الْحُفَّاظَ طَعَنُوا فِی ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ وَتَوَہَّمُوہَا مَأْخُوذَۃٌ عَنْ غَیْرِ الأَسْوَدِ وَأَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ رُبَّمَا دَلَّسَ فَرَأَوْہَا مِنْ تَدْلِیسَاتِہِ وَاحْتَجُّوا عَلَی ذَلِکَ بِرِوَایَۃِ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنِ الأَسْوَدِ بِخِلاَفِ رِوَایَۃِ أَبِی إِسْحَاقَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے اول حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصے میں بیدار ہوجاتے، پھر اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی بیوی کے ساتھ کوئی حاجت ہوتی تو اس کو پورا کرتے، پھر پانی چھونے سے پہلے سو جاتے، جب پہلی اذان ہوتیتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوراًکھڑے ہوتے۔ اللہ کی قسم ! عائشہ (رض) نے نہیں کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور پانی لیا اور اللہ کی قسم ! عائشہ (رض) نے نہیں کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا اور میں جانتا ہوں کہ عائشہ (رض) کی کیا مراد تھی، اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی حاجت نہ ہوتی تو نماز کی طرح وضو کرتے، پھر دو رکعتیں ادا کرتے۔

975

Sunan Al Kubra Bayhaqi #975

Sahih

(۹۷۶) أَمَّا حَدِیثُ إِبْرَاہِیمَ فَأَخْبَرْنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا کَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ یَنَامَ أَوْ یَأْکُلَ تَوَضَّأَ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵/۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٦) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب حالت جنابت میں ہوتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سونے یا کھانے کا ارادہ رکھتے تو وضو کرتے۔

976

Sunan Al Kubra Bayhaqi #976

Sahih

(۹۷۷) وَأَمَّا حَدِیثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ فَأَخْبَرْنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَ وُضُوئُ النَّبِیِّ -ﷺ -إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَتْ : کَانَ یَتَوَضَّأُ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ یَنَامُ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَحَدِیثُ أَبِی إِسْحَاقَ السَّبِیعِیِّ صَحِیحٌ مِنْ جِہَۃِ الرِّوَایَۃِ وَذَلِکَ أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ بَیَّنَ فِیہِ سَمَاعَہُ مِنَ الأَسْوَدِ فِی رِوَایَۃِ زُہَیْرِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَنْہُ وَالْمُدَلِّسُ إِذَا بَیَّنَ سَمَاعَہُ مِمَّنْ رَوَی عَنْہُ وَکَانَ ثِقَۃً فَلاَ وَجْہَ لِرَدِّہِ۔ وَوَجْہُ الْجَمْعِ بَیْنَ الرِّوَایَتَیْنِ عَلَی وَجْہٍ یُحْتَمَلُ ، وَقَدْ جَمَعَ بَیْنَہُمَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ سُرَیْجٍ فَأَحْسَنَ الْجَمْعَ وَذَلِکَ فِیمَا۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الْوَلِیدِ الْفَقِیہَ فَقُلْتُ : أَیُّہَا الأُسْتَاذُ قَدْ صَحَّ عِنْدَنَا حَدِیثُ الثَّوْرِیِّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -کَانَ یَنَامُ وَہُوَ جُنُبٌ وَلاَ یَمَسُّ مَائً۔ وَکَذَلِکَ صَحَّ حَدِیثُ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیَنَامُ أَحَدُنَا وَہُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ : ((نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ))۔ فَقَالَ لِی أَبُو الْوَلِیدِ : سَأَلْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ بْنَ سُرَیْجٍ عَنِ الْحَدِیثَیْنِ فَقَالَ : الْحُکْمُ لَہُمَا جَمِیعًا ، أَمَّا حَدِیثُ عَائِشَۃَ فَإِنَّمَا أَرَادَتْ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -کَانَ لاَ یَمَسُّ مَائً لِلْغُسْلِ ، وَأَمَّا حَدِیثُ عُمَرَ فَمُفَسَّرٌ ذَکَرَ فِیہِ الْوُضُوئَ وَبِہِ نَأْخُذُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٧) (الف) عبد الرحمن بن اسود کے باپ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے پوچھا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو کیسے تھا جب آپ حالت جنابت میں سونے کا ارادہ کرتے ؟ فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز جیسا وضو کرتے تھے، پھر سو جاتے تھے۔ (ج) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالتِ جنابت میں سو جاتے تھے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ (د) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں وضو کرکے سو سکتا ہے۔ “ (ر) شیخ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو ولید نے بیان کیا۔ میں نے ابوالعباس بن سریج سے ان دونوں حدیثوں کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا : دونوں روایات کا ایک ہی حکم ہے۔ حدیث عائشہ (رض) میں ان کی مراد یہ تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل کے لیے پانی کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ حدیث عمر مفسر ہے جس میں وضو کا ذکر ہے ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔