Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 19

پاکی کا بیان

مردار کے بالوں سے فائدہ اٹھانے کا بیان

16 hadiths in this chapter

74

Sunan Al Kubra Bayhaqi #74

Sahih

(۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ:مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ طَہْمَانَ الرَّقَاشِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ قَالَ قَالَ مُعَاوِیَۃُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَقُولُ: ((لاَ تَرْکَبُوا الْخَزَّ وَلاَ النِّمَارَ)) قَالَ مُحَمَّدٌ: وَکَانَ مُعَاوِیَۃُ إِذَا حَدَّثَ مِثْلَ ہَذَا عَنْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-لَمْ یُتَّہَمْ۔ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ۔ (ق) وَہُوَ فِی الْخَزِّ مَحْمُولٌ عَلَی التَّنْزِیہِ وَدَلِیلُہُ یَرِدُ فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ (ت) وَرَوَی أَبُو الشَّیْخِ الْہُنَائِیُّ عَنْ مُعَاوِیَۃَ ہَکَذَا فِی جُلُودِ النُّمُورِ۔ [صحیح۔ أخرجہ أحمد ۷/۹۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٥) حضرت معاویہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : ” تم ریشم اور چیتوں کی کھالوں پر سوار نہ ہو۔ “ (ب) ریشم کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا اس کی دلیل ” کتاب الصلوٰۃ “ میں آئے گی۔ ان شاء اللہ (ج) ابو شیخ نہائی نے حضرت معاویہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ اسی طرح چیتوں کی کھالوں میں بھی۔

75

Sunan Al Kubra Bayhaqi #75

Zaeef

(۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِیلِ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْنَابُلْسِیُّ بِالرَّمْلَۃِ قَالَ حَدَّثَ أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ الْبَغْدَادِیُّ وَأَنَا حَاضِرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((ادْفِنُوا الأَظْفَارَ وَالشَّعَرَ وَالدَّمَ فَإِنَّہَا مَیْتَۃٌ))۔ (ج) قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ حَدَّثَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ نَافِعٍ بِأَحَادِیثَ لَمْ یُتَابِعْہُ أَحَدٌ عَلَیْہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی ہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ قَدْ رُوِیَ فِی دَفْنِ الظُّفُرِ وَالشَّعَرِ أَحَادِیثُ أَسَانِیدُہَا ضِعَافٌ۔ [منکر۔ أخرجہ ابن عدی فی الکامل ۴/۲۰۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٦) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ناخنوں ‘ بالوں اور خون کو دفن کر دو ، کیونکہ یہ مردار ہیں۔ “ (ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ ناخن اور بال دفن کرنے والی احادیث کی اسناد ضعیف ہیں۔

76

Sunan Al Kubra Bayhaqi #76

Sahih

(۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی وَاقِدٍ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((مَا قُطِعَ مِنَ الْبَہِیمَۃِ وَہِیَ حَیَّۃٌ فَہُوَ مَیْتَۃٌ)) (ق) وَقَدْ یُحْتَجُّ بِہَذَا الْحَدِیثِ فِی الشَّعَرِ وَالظُّفُرِ وَإِنَّمَا وَرَدَ عَلَی سَبَبٍ۔ وَہُوَ فِیمَا۔ [صحیح لغیرہ۔ أخرجہ المؤلف فی معرفۃ السنن ۵۶۰۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٧) حضرت ابو واقد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے کہا : ” زندہ جانور سے جو (حصہ) کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے۔ “ (ب) اس حدیث سے بالوں اور ناخنوں کے بارے میں حجت لی جاتی ہے۔

77

Sunan Al Kubra Bayhaqi #77

Sahih

(۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ قَالَ: قَدِمَ النَّبِیُّ -ﷺ-الْمَدِینَۃَ وَالنَّاسُ یَجُبُّونَ أَسْنَامَ الإِبِلِ وَیَقْطَعُونَ أَلْیَاتِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((مَا قُطِعَ مِنَ الْبَہِیمَۃِ وَہِیَ حَیَّۃٌ فَہُوَ مَیْتَۃٌ ))۔ وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا: [صحیح لغیرہ۔ أخرجہ لہذا الفظ ابن الجعد فی مسندہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٨) ابو واقد لیثی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ اونٹوں کی کوہان کو پسند کرتے تھے اور دنبوں کی چکی بھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زندہ جانور کا جو حصہ زندہ ہونے کی حالت میں کاٹ لیا جائے وہ مراد ہے (اس کا کھانا حرام ہے) ۔ (ب) ہمارے بعض اصحاب نے اس سے حجت لی ہے۔

78

Sunan Al Kubra Bayhaqi #78

Sahih

(۷۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ۔قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ مُنْذُ حِینٍ قَالَ أَخْبَرَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ مَیْمُونَۃَ أَخْبَرَتْہُ: أَنَّ دَاجِنَۃً کَانَتْ لِبَعْضِ نِسَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَمَاتَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((أَلاَ أَخَذْتُمْ إِہَابَہَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہِ؟))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِیِّ۔ (ق)قَالَ فَخَصَّ الإِہَابَ بِالاِسْتِمْتَاعِ بِہِ۔ وَمَنْ قَالَ بِالْقَوْلِ الآخَرِ احْتَجَّ بِمَا: [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۰۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٩) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ (رض) نے ان کو خبر دی کہ امہات المؤمنین میں سے کسی کے پاس پالتو جانور تھا جو مرگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتار لیا، پھر تم اس سے فائدہ حاصل کرتیں ! (ب) عثمان نوفلی کہتے ہیں کہ انھوں نے چمڑے کو فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ خاص کیا۔

79

Sunan Al Kubra Bayhaqi #79

Sahih

(۸۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبِّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-وَجَدَ شَاۃً مَیْتَۃً أُعْطِیَتْہَا مَوْلاَۃٌ لِمَیْمُونَۃَ مِنَ الصَّدَقَۃِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((ہَلاَّ انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِہَا؟)) فَقَالُوا: إِنَّہَا مَیْتَۃً۔فَقَالَ: ((إِنَّمَا حَرُمَ أَکْلُہَا))۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ کَثِیرِ بْنِ عُفَیْرٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی طَاہِرٍ کِلاَہُمَا عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ (ق) قَالُوا:فَخَصَّ الأَکْلَ بِالتَّحْرِیمِ۔ وَقَدْ رَوَی أَبُو بَکْرٍ الْہُذَلِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ زِیَادَۃً لَمْ یُتَابِعْہُ عَلَیْہَا ثِقَۃٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۴۲۱، مسلم۳۶۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٠) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مردہ بکری دیکھی جو سیدہ میمونہ (رض) نے آزاد کردہ غلام کو صدقہ سے دی گئی تھی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا ؟ “ انھوں نے عرض کیا : وہ مردار ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس کا صرف (گوشت) کھانا حرام ہے۔ “ (ب) فقہا کہتے ہیں کہ آپ نے صرف کھانا حرام قرار دیا ہے۔ ابوبکر ہذلی نے زہری سے اس روایت میں کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جن کی کسی ثقہ نے متابعت نہیں کی۔

80

Sunan Al Kubra Bayhaqi #80

Zaeef

(۸۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ:أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا شَبابۃُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْہُذَلِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا حَرُمَ مِنَ الْمَیْتَۃِ مَا یُؤْکَلُ مِنْہَا وَہُوَ اللَّحْمُ ، فَأَمَّا الْجِلْدُ وَالسِّنُّ وَالْعَظْمُ وَالشَّعَرُ وَالصُّوفُ فَہُوَ حَلاَلٌ۔ (ج) قَالَ عَلِیٌّ: أَبُو بَکْرٍ الْہُذَلِیُّ ضَعِیفٌ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ: ہَذَا الْحَدِیثُ لَیْسَ یَرْوِیہِ إِلاَّ أَبُو بَکْرٍ الْہُذَلِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:أَنَّہُ کُرِہَ مِنَ الْمَیْتَۃِ لَحْمُہَا ، فَأَمَّا السِّنُّ وَالشَّعَرُ وَالْقَدُّ فَلاَ بَأْسَ بِہِ۔ قَالَ یَحْیَی: أَبُو بَکْرٍ الْہُذَلِیُّ لَیْسَ بِشَیْئٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی: [بالحل۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۴۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مردار کا گوشت کھانا حرام ہے، لیکن اس کی کھال، کوہان، ہڈی، بال اور اون حلال ہے۔ (ب) علی بن مدینی کہتے ہیں : ابوبکر ہذلی ضعیف راوی ہے۔ (ج) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مردار کا گوشت حرام ہے، لیکن اس کی کوہان، بال اور کھال میں کوئی حرج نہیں۔ (د) یحییٰ بن معین کہتے ہیں : ابوبکر ہذلی قابل حجت نہیں ہے۔

81

Sunan Al Kubra Bayhaqi #81

Zaeef

(۸۲) وَقَدْ رَوَاہُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ بِإِسْنَادِہِ:إِنَّمَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-مِنَ الْمَیْتَۃِ لَحْمَہَا ، فَأَمَّا الْجِلْدُ وَالشَّعَرُ وَالصُّوفُ فَلاَ بَأْسَ بِہِ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَیْلِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُسْرِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَخِیہِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مُسْلِمٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ۔ (ج) قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی: عَبْدُ الْجَبَّارِ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف جدًا۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۴۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٢) امام زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردار کا گوشت حرام قرار دیا ہے، لیکن اس کی کھال، بال اور اون (کے استعمال) میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ شیخ علی بن عمر کہتے ہیں کہ عبدالجبار راوی ضعیف ہے۔

82

Sunan Al Kubra Bayhaqi #82

Zaeef

(۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو طَلْحَۃَ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِبَیْرُوتَ حَدَّثَنَا أَبُو أَیُّوبَ: سُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ-تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَقُولُ: ((لاَ بَأْسَ بِمَسْکِ الْمَیْتَۃِ إِذَا دُبِغَ ، وَلاَ بَأْسَ بِصُوفِہَا وَشَعَرِہَا وَقُرُونِہَا إِذَا غُسِلَ بِالْمَائِ)) (ج) قَالَ عَلِیٌّ: یُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ مَتْرُوکٌ وَلَمْ یَأْتِ بِہِ غَیْرُہُ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْقَبَّانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ قَالَ: یُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ أَبُو الْفَیْضِ کَاتِبُ الأَوْزَاعِیِّ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ۔ [باطل۔ أخرجہ المؤلف فی المعرفۃ ۳۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٣) ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ (رض) سے سنا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : مردار کو کھال رنگنے کے بعد استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اس کی اون، بال اور سینگ بھی جب انھیں دھو لیا جائے۔ علی کہتے ہیں کہ علی بن یوسف متروک ہے، اس کے علاوہ اس حدیث کو کوئی بیان نہیں کرتا۔ (ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری (رح) کہتے ہیں کہ ابوفیض یوسف بن سفر جو اوزاعی کا کاتب ہے منکر الحدیث ہے۔

83

Sunan Al Kubra Bayhaqi #83

Zaeef

(۸۴) قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قَیْسٍ الْبَصْرِیِّ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ إِنَّمَا حَرُمَ مِنَ الْمَیْتَۃِ لَحْمُہَا وَدَمُہَا۔أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ قَالَ قَالَہُ إِسْرَائِیلُ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْیَنَ عَنْ أَبِی حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قَیْسٍ مِثْلَہُ۔ [ضعیف۔ فیہ عبد اللہ بن قیس بصری] وَمَنْ قَالَ بِطَہَارَۃِ الشَّعَرِ الَّذِی عَلَی جِلْدِ الْمَیْتَۃِ إِذَا دُبِغَ الْجِلْدُ احْتَجَّ بِمَا:

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٤) عبداللہ بن قیس بصری نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو فرماتے ہوئے سنا کہ مردار کا گوشت اور اس کا خون حرام ہے۔ (ب) جنہوں نے بالوں کو پاک قرار دیا ہے جو مردار کی کھال کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جب کھال کو دباغت دی جائے تو وہ پاک ہوجاتے ہیں۔ یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔

84

Sunan Al Kubra Bayhaqi #84

Sahih

(۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ طَارِقٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ أَنَّ أَبَا الْخَیْرِ حَدَّثَہُ قَالَ: رَأَیْتُ عَلَی ابْنِ وَعْلَۃَ السَّبَائِیِّ فَرْوًا فَمَسِسْتُہُ فَقَالَ: مَا لَکَ تَمَسُّہُ؟ قَدْ سَأَلْتُ عَنْہُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: إِنَّا نَکُونُ بِالْمَغْرِبِ وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ ، نُؤْتَی بِالْکَبْشِ فَیَذْبَحُونَہُ وَنَحْنُ لاَ نَأْکُلُ ذَبَائِحَہُمْ ، وَنُؤْتَی بِالسِّقَائِ فِیہِ الْوَدَکُ۔فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-قَالَ: ((دِبَاغُہُ طَہُورُہُ)) رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَیْرِہِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِیعِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۰۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٥) ابو الخیر کہتے ہیں کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی پر بالوں کا بنا ہوا لباس دیکھا تو میں نے اس کپڑے کو چھوا، انھوں نے پوچھا : تم اس کو چھو کر کیوں دیکھ رہے ہوں ؟ میں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے سوال کیا کہ ہم مغرب میں بربر اور مجوس قوم کے ساتھ رہتے ہیں اور ہمارے پاس مینڈھے لائے جاتے ہیں وہ ذبح کرتے تھے ہم ان کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے۔ ہمارے پاس مشکیزے لائے جاتے ہیں جن میں چربی ہوتی ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس کا رنگنا اس کا پاک کرنا ہے۔ “

85

Sunan Al Kubra Bayhaqi #85

Zaeef

(۸۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَبِی بَحْرٍ -وَکَانَ یَنْزِلُ بِالْکُوفَۃِ وَکَانَ أَصْلُہُ بَصْرِیًّا -یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّہُ قَالَ فِی الْفِرَائِ: ذَکَاتُہُ دِبَاغُہُ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی۔ [ضعیف۔ فیہ محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦) سیدنا عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے ” فرائ “ (چمڑے) کے متعلق ارشاد فرمایا : اس کا پاک ہونا رنگنے سے ہے۔

86

Sunan Al Kubra Bayhaqi #86

Sahih

(۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی فَأَتَاہُ رَجُلٌ ذُو ضَفِیرَتَیْنِ فَقَالَ: یَا أَبَا عِیسَی حَدِّثْنِی مَا سَمِعْتَ مِنْ أَبِیکَ فِی الْفِرَائِ۔قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی: أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ-فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أُصَلِّی فِی الْفِرَائِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((فَأَیْنَ الدِّبَاغُ؟)) قَالَ ثَابِتٌ:فَلَمَّا وَلَّی قُلْتُ مَنْ ہَذَا؟ قَالَ: سُوَیْدُ بْنُ غَفَلَۃَ۔ وَرَوَاہُ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی بِإِسْنَادِہِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَہُوَ غَلَطٌ۔ [ضعیف۔ فیہ محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلـٰی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٧) حضرت ثابت بنانی سے روایت ہے کہ میں عبد الرحمن بن لیلیٰ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو دو مینڈھوں والا ایک شخص آیا اور اس نے کہا : اے ابو عیسیٰ ! اس کے بارے میں بیان کریں جو آپ نے فراء (چمڑے) کے بارے میں اپنے والد سے سنا، انھوں نے فرمایا : مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں فراء (چمڑے) پر نماز پڑھ لوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دباغت کس لیے ہے ؟ “ ثابت (رض) کہتے ہیں : جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : سوید بن غفلہ۔ (ب) بعض لوگوں نے عبیداللہ بن موسیٰ عن ثابت عن انس کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن یہ روایت صحیح نہیں ہے۔

87

Sunan Al Kubra Bayhaqi #87

Sahih

(۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ یُعْرَفُ بِأَبِی الشَّیْخِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِیدِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الأَزْدِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ تَرَی فِی الصَّلاَۃِ فِی الْفِرَائِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((فَأَیْنَ الدِّبَاغُ؟)) الإِسْنَادُ الأَوَّلُ أَوْلَی أَنْ یَکُونَ مَحْفُوظًا۔ (ج) وَابْنُ أَبِی لَیْلَی ہَذَا کَثِیرُ الْوَہَمِ۔ [ضعیف: وفیہ محمد بن أبی لیلی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٨) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! فراء نامی چمڑے پر نماز پڑھنے کے متعلق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا خیال ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دباغت کس لیے ہے ؟ “ (یعنی رنگنے کے بعد اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں) (ب) پہلی سند کا محفوظ ہونا زیادہ صحیح ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کثیر الوہم ہے۔

88

Sunan Al Kubra Bayhaqi #88

Zaeef

(۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنِ الْفِرَائِ فَقَالَتْ: لَعَلَّ دِبَاغَہَا یَکُونُ ذَکَاتَہَا۔ [فی سندہ الأعمش الحافظ الثقۃ المدلس…]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٩) ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے فراء چمڑے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : امید ہے کہ اس کو رنگنا اس کو پاک کردے گا۔

89

Sunan Al Kubra Bayhaqi #89

Sahih

(۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمٍّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ: سَأَلَ دَاوُدُ السَّرَّاجُ الْحَسَنَ عَنْ جُلُودِ النُّمُورِ وَالسَّمُّورِ تُدْبَغُ بِالْمِلْحِ قَالَ: دِبَاغُہَا طَہُورُہَا۔ (ت) قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رَوَی عَمْرُو بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ فِی صُوفِ الْمَیْتَۃِ: اغْسِلْہُ۔ وَرُوِیَ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ کَرِہَ ذَلِکَ۔ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ وَالْحَکَمِ وَحَمَّادٍ أَنَّہُمْ کَرِہُوا اسْتِعْمَالَ شَعَرِ الْخِنْزِیرِ۔ [ضعیف۔ فیہ داؤد السراج وھو التقفی المصری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٠) حضرت داؤد سراج نے حسن (رح) سے چیتوں اور بندروں کی کھال کے متعلق پوچھا کہ اگر انھیں نمک سے دباغت دی جائے تو انھوں نے فرمایا : ان کو دباغت دینا ان کو پاک کرنا ہے۔ (ب) شیخ فرماتے ہیں : حضرت حسن سے مردار کی اون کے متعلق منقول ہے کہ اس کو دھو لیا جائے۔ (ج) حضرت عطاء اس کو ناپسند کرتے تھے۔ (د) ابن سیرین، حکم اور حماد ; سے منقول ہے کہ وہ خنزیر کے بالوں کے استعمال کو حرام سمجھتے تھے۔