Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 153

پاکی کا بیان

حدث کی جگہ کے علاوہ سے خون نکلنے پر وہ وضو نہ کرنا

9 hadiths in this chapter

662

Sunan Al Kubra Bayhaqi #662

Zaeef

(۶۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی صَدَقَۃُ بْنُ یَسَارٍ عَنْ عَقِیلِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ ، فَأَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ امْرَأَۃَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَافِلاً أَتَی زَوْجُہَا وَکَانَ غَائِبًا ، فَلَمَّا أُخْبِرَ الْخَبَرَ حَلَفَ لاَ یَنْتَہِی حَتَّی یُہَرِیقُ فِی أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ دَمًا ، فَخَرَجَ یَتْبَعُ أَثَرَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْزِلاً فَقَالَ : ((مَنْ رَجُلٌ یَکْلَؤُنَا لَیْلَتَنَا ہَذِہِ؟))۔ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالاَ : نَحْنُ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : فَکُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ ۔ فَلَمَّا أَنْ خَرَجَا إِلَی فَمِ الشِّعْبِ قَالَ الأَنْصَارِیُّ لِلْمُہَاجِرِیِّ : أَیُّ اللَّیْلِ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَنْ أَکْفِیَکَہُ أَوَّلَہُ أَوْ آخِرَہُ؟ قَالَ : بَلْ اکْفِنِی أَوَّلَہُ۔ فَاضْطَجَعَ الْمُہَاجِرِیُّ فَنَامَ ، وَقَامَ الأَنْصَارِیُّ یُصَلِّی ، وَأَتَی زَوْجُ الْمَرْأَۃِ فَلَمَّا رَأَی شَخْصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّہُ رَبِیئَۃُ الْقَوْمِ فَرَمَاہُ بِسَہْمٍ ، فَوَضَعَہُ فِیہِ فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ ، وَثَبَتَ قَائِمًا یُصَلِّی ، ثُمَّ رَمَاہُ بِسَہْمٍ آخَرَ فَوَضَعَہُ فِیہِ ، فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ ، وَثَبَتَ قَائِمًا یُصَلِّی ثُمَّ عَادَ لَہُ الثَّالِثَۃَ فَوَضَعَہُ فِیہِ ، فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ ، ثُمَّ رَکَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ أَہَبَّ صَاحِبَہُ فَقَالَ : اجْلِسْ فَقَدْ أُتِیتَ۔ فَوَثَبَ فَلَمَّا رَآہُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنَّہُ قَدْ نَذِرَا بِہِ فَہَرَبَ ، فَلَمَّا رَأَی الْمُہَاجِرِیُّ مَا بِالأَنْصَارِیِّ مِنَ الدِّمَائِ قَالَ : سَبْحَانَ اللَّہِ أَفَلاَ أَہْبَبْتَنِی أَوَّلَ مَا رَمَاکَ؟ قَالَ : کُنْتُ فِی سُورَۃٍ أَقْرَأُہَا ، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَہَا حَتَّی أُنْفِدَہَا ، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَیَّ الرَّمْیَ رَکَعْتُ فَآذَنْتُکَ ، وَایْمُ اللَّہِ لَوْلاَ أَنْ أُضِیعَ ثَغْرًا أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِحِفْظِہِ لَقُطِعَ نَفْسِی قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَہَا أَوْ أُنْفِدَہَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۹۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٦٣) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں کھجوروں کے موسم میں نکلے تو ایک مسلمان کسی مشرکہ عورت پر واقع ہوا ، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپسی کے لیے چلے تو اس عورت کا خاوند آیا اور وہ صحابی غائب تھا، جب اس کو خبر ہوئی تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں خون ریزی نہ کرلے، پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نشانات قدم کے پیچھے پیچھے چلا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور کہا : آج رات ہماری پہرے داری کون کرے گا ؟ ایک مہاجر اور ایک انصار کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم (یہ کام کریں گے) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دونوں وادی کے شروع میں چلے جاؤ۔ جب وہ وادی کے شروع والے حصے میں جانے کے لیے نکلے تو ایک انصاری نے مہاجر سے کہا : تجھے رات میں کون سا حصہ پسند ہے، یعنی تو رات کے ابتدائی حصے میں سوئے گا یا آخری میں۔ تاکہ میں تیری طرف سے پہرے داری کروں۔ انصاری نے کہا : رات کے ابتدائی حصے میں۔ مہاجر لیٹ کر سو گیا، انصاری نے کھڑے ہو کر نماز شروع کردی۔ اس عورت کا خاوند آیا اس نے دیکھا کہ محافظ ہے تو اس نے تیر پھینکا جو اس کے جسم میں پیوست ہوگیا، انصاری نے کھینچ کر نکل دیا اور اپنی جگہ کھڑے نماز جاری رکھی، اس نے دوسرا تیر پھینکا، وہ بھی جسم میں پوست ہوگیا، انصاری نے کھینچ کر نکال دیا اور نماز جاری رکھی، تیسری مرتبہ پھر ایسا ہوا پھر اس نے رکوع و سجود کیا، پھر اپنے ساتھی کو بیدار کیا اور کہا : اٹھ بیٹھ اب تیری باری ہے تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ جب آدمی نے دونوں کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ وہ چوکنے ہوگئے ہیں تو وہ دوڑ گیا، جب مہاجر نے انصاری کے خون کو دیکھا تو کہا : سبحان اللہ ! تو نے مجھے تیر لگنے کے بعد کیوں نہ اٹھا دیا ؟ انصاری نے کہا : میں ایسی سورت پڑھ رہا تھا کہ میں نے ناپسند کیا کہ اسے مکمل کرنے سے پہلے روک دوں، جب اس نے مجھ پر مسلسل تیر پھینکے تو میں نے نماز مکمل کی اور تجھے بتلایا۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھے پہرے کے ضائع ہونے کا ڈر نہ ہوتا جس کی حفاظت کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا تھا تو اس سورت کے مکمل کرنے سے پہلے میری جان بھی چلی جاتی تو مجھے پروا نہ تھی۔

663

Sunan Al Kubra Bayhaqi #663

Zaeef

(۶۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ : الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی صَدَقَۃُ بْنُ یَسَارٍ عَنْ عَقِیلِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ مُخْتَصَرًا وَفِی آخِرِہِ : فَلَمَّا رَأَی الْمُہَاجِرِیُّ مَا بِالأَنْصَارِیِّ مِنَ الدِّمَائِ قَالَ : سَبْحَانَ اللَّہِ أَلاَّ أَنْبَہْتَنِی أَوَّلَ مَا رَمَی؟ قَالَ : کُنْتُ فِی سُورَۃٍ أَقْرَأُہَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَہَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۹۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٦٤) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے اسی کے ہم معنی مختصر روایت بیان کی ہے، اس کے آخر میں ہے : جب مہاجر نے انصاری کے خون کو دیکھا تو کہا : سبحان اللہ ! تو نے مجھے کیوں نہیں بتایا جب اس نے پہلی دفعہ (تیر) مارا تھا ؟ اس نے کہا : میں ایک سورت پڑھ رہا تھا میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو درمیان میں کاٹ دوں۔

664

Sunan Al Kubra Bayhaqi #664

Sahih

(۶۶۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ إِذَا احْتَجَمَ غَسَلَ مَحَاجِمَہُ۔ وَرَوَی الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ ہَذَا۔ وَعَنْ رَجُلٍ عَنْ لَیْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اغْسِلْ أَثَرَ الْمَحَاجِمِ عَنْکَ وَحَسْبُکَ۔ وَرُوِّینَا فِیہِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- إِلاَّ أَنَّ فِی إِسْنَادِہِ ضَعْفًا۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٦٥) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ جب سینگی لگواتے تو سینگی والی جگہوں کو دھوتے۔ (ب) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ تو اپنے جسم سے سینگی کے نشانات کو دھو ڈال۔

665

Sunan Al Kubra Bayhaqi #665

Zaeef

(۶۶۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُقَاتِلٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو أَیُّوبَ الْقُرَشِیُّ بِالرَّقَّۃِ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ وَلَمْ یَزِدْ عَلَی غَسْلِ مَحَاجِمِہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۵۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٦٦) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سینگی لگوائی نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا اور نہ ہی سینگی والی جگہوں سے زیادہ کسی عضو کو دھویا۔ (جہاں سینگی لگی تھی صرف اسی کو دھویا) ۔

666

Sunan Al Kubra Bayhaqi #666

Sahih

(۶۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنِ التَّیْمِیِّ عَنْ بَکْرٍ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیَّ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ عَصْرَ بَثْرَۃً فِی وَجْہِہِ فَخَرَجَ شَیْئٌ مِنْ دَمٍ فَحَکَّہُ بَیْنَ إِصْبَعَیْہِ ثُمَّ صَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ وَرُوِّینَا فِی مَعْنَی ہَذَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ثُمَّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَالْحَسَنِ وَطَاوُسٍ وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : لَیْسَ عَلَی الْمُحْتَجِمِ وُضُوئٌ ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۴۶۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٦٧) بکربن عبداللہ مزنی سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر (رض) کو دیکھا ، آپ نے اپنے پھوڑے کو دبا یا تو اس سے کچھ خون نکلا جو انھوں نے اپنی دو انگلیوں کے درمیان کھرچ دیا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ (ب) سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں،: سالم بن عبداللہ، حسن اور طاؤس قاسم بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں : سینگی لگوانے پر وضو نہیں ہے۔

667

Sunan Al Kubra Bayhaqi #667

Zaeef

(۶۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ زَاطِیَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْمُجَالِدِ عَنْ أَبِی الْحَکَمِ الدِّمَشْقِیِّ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ نُسِیٍّ حَدَّثَہُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الأَشْعَرِیِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّہُ قَالَ : لَیْسَ الْوُضُوئُ مِنَ الرُّعَافِ وَالْقَیْئِ وَمَسِّ الذَّکَرِ وَمَا مَسَّتِ النَّارُ بِوَاجِبٍ۔ فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ نَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ))۔ فَقَالَ : إِنَّ قَوْمًا سَمِعُوا وَلَمْ یَعُوا ، کُنَّا نُسَمِّی غَسْلَ الْیَدِ وَالْفَمِ وُضُوئً ا وَلَیْسِ بِوَاجِبٍ ، إِنَّمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمُؤْمِنِینَ أَنْ یَغْسِلُوا أَیْدِیَہُمْ وَأَفْوَاہَہُمْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَیْسَ بِوَاجِبٍ۔ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ تَکَلَّمُوا فِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱۳۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٦٨) سیدنا معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ نکسیر ، قے ، شرمگاہ کو چھونے اور جس (چیز) کو آگ نے چھوا ہے اس سے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ ان سے کہا گیا کہ صحابہ کرام) (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو کرو۔ انھوں نے کہا : لوگوں نے سنا تو ہے لیکن اس کو یاد نہیں رکھا۔ ہم ہاتھوں کو دھونے اور منہ کے دھونے کا نام وضو رکھا کرتے تھے اور یہ واجب نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مومنوں کو حکم دیا کہ آگ پر پکی چیزوں سے اپنے ہاتھ اور منہ دھوئیں اور یہ واجب نہیں ہے۔

668

Sunan Al Kubra Bayhaqi #668

Zaeef

(۶۶۹) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا قَائَ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ أَوْ قَلَسَ أَوْ رَعَفَ فَلْیَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِیَبْنِ عَلَی مَا مَضَی مِنْ صَلاَتِہِ مَا لَمْ یَتَکَلَّمْ))۔ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : ہَذَا الْحَدِیثُ رَوَاہُ ابْنُ عَیَّاشٍ مَرَّۃً ہَکَذَا ، وَمَرَّۃً قَالَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ وَکِلاَہُمَا غَیْرُ مَحْفُوظٍ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ أَبِی عِصْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ : أَحْمَدُ بْنُ حُمَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ یَقُولُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ مَا رَوَی عَنْ الشَّامِیِّینَ صَحِیحٌ ، وَمَا رَوَی عَنْ أَہْلِ الْحِجَازِ فَلَیْسَ بِصَحِیحٍ۔ قَالَ: وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ عَنْ حَدِیثِ ابْنِ عَیَّاشٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ قَائَ أَوْ رَعَفَ۔ الْحَدِیثَ فَقَالَ ہَکَذَا رَوَاہُ ابْنُ عَیَّاشٍ ، وَإِنَّمَا رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِیہِ وَلَمْ یُسْنِدْہُ عَنْ أَبِیہِ لَیْسَ فِیہِ عَائِشَۃَ۔ [منکر۔ أخرجہ ابن ماجہ ۱۲۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٦٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کسی کو نماز میں قے ، سبز رنگ کا پانی یا نکسیر آئے تو وہ وضو کرے، پھر جو نماز پڑھ لی اسی پر بنیاد رکھے جب تک اس نے بات نہ کی ہو۔ (ب) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قے کی یا ڈکارلی۔۔۔ باقی مکمل حدیث ذکر کی۔

669

Sunan Al Kubra Bayhaqi #669

Sahih

(۶۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَانِئٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ طَیْفُورٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ یَحْیَی قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا قَائَ أَحَدُکُمْ أَوْ قَلَسَ أَوْ وَجَدَ مَذْیًا وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ فَلْیَنْصَرِفْ فَلْیَتَوَضَّأْ ، وَلْیَرْجِعْ فَلْیَبْنِ عَلَی صَلاَتِہِ مَا لَمْ یَتَکَلَّمْ))۔ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ قَالَ لَنَا أَبُو بَکْرٍ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی یَقُولُ : ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَہُوَ مُرْسَلٌ۔ وَأَمَّا حَدِیثُ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ الَّذِی یَرْوِیہِ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ فَلَیْسَ بِشَیْئٍ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِیہِ : لَیْسَتْ ہَذِہِ الرِّوَایَۃُ بِثَابِتَۃٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَحَمَلُہُ مَعَ مَا رُوِیَ فِیہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَغَیْرِہِ عَلَی غَسْلِ بَعْضِ الأَعْضَائِ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ مَرَّۃً ہَکَذَا مُرْسَلاً کَمَا رَوَاہُ الْجَمَاعَۃُ وَہُوَ الْمَحْفُوظُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَہُوَ مُرْسَلٌ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ : فِیمَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُمَا کَانَا یَرْعَفَانِ فَیَتَوَضَّآنِ وَیَبْنِیَانِ عَلَی مَا صَلَّیَا ، قَدْ رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُمَا لَمْ یَکُونَا یَرَیَانِ فِی الدَّمِ وُضُوئً ا وَإِنَّمَا مَعْنَی وُضُوئِہِمَا عِنْدَنَا غَسْلُ الدَّمِ وَمَا أَصَابَ مِنَ الْجَسَدِ لاَ وُضُوئَ الصَّلاَۃِ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّہُ غَسَلَ یَدَیْہِ مِنْ طَعَامٍ ثُمَّ مَسَحَ بِبَلَلِ یَدَیْہِ وَجْہَہُ وَقَالَ : ہَذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ۔ وَہَذَا مَعْرُوفٌ مِنْ کَلاَمِ الْعَرَبِ یُسَمَّی وُضُوئً ا لِغَسْلِ بَعْضِ الأَعْضَائِ لاَ لِکَمَالِ وُضُوئِ الصَّلاَۃِ ، ہَذَا مَعْنَی مَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْوُضُوئِ مِنَ الرُّعَافِ عِنْدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَلَیْسَتْ ہَذِہِ الرِّوَایَۃُ بِثَابِتَۃٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَعَلَی ہَذَا یُحْمَلُ مَا رُوِیَ عَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْقَیْئِ إِنْ صَحَّتِ الرِّوَایَۃُ فِیہِ۔ [ضعیف أخرجہ الدار قطنی [۱/۱۵۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٧٠) ابن جریج اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی شخص قے ، سبز رنگ کا پانی یا مذی پائے اور وہ نماز میں ہو تو وہ پھر جائے، وضو کرے اور واپس آکر اپنی گزشتہ نماز پر بنیاد رکھے۔ جب تک اس نے بات نہ کی ہو۔ (ب) محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ابن جریج سے مرسل ہونا صحیح ہے۔ (ج) ابن جریج کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن عائشہ کی سند سے ہے اور اس کو اسماعیل بن عیاش روایت کرتے ہیں ثابت نہیں۔ (د) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ابن جریج جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں یہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہے اور انھوں نے سیدنا ابن عمر (رض) وغیرہ سے جو روایت کی ہے اس کو بعض نے اعضاء کے دھونے پر محمول کیا ہے۔ (ر) شیخ کہتے ہیں کہ اس کو اسماعیل بن عیاش مرسل بیان کرتا ہے۔ ایک جماعت ابن جریج سے محفوظ بیان کرتی ہے اور وہ مرسل ہی ہے۔ (ز) امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اور ابن مسیب سے جو منقول ہے کہ وہ دونوں ڈکار لیتے ، پھر وضو کرتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب وہ نماز پڑھ چکے ہوتے۔ ہم نے جو ابن عمر (رض) اور ابن مسیب سے روایت کیا ہے کہ وہ دونوں خون بہنے میں وضو کے قائل نہیں۔ ہمارے ہاں اس سے مراد خون دھونا ہے اور جو چیز جسم کو لگی ہے نہ کہ نماز والا وضو۔ (س) سیدنا ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے کھانا کھانے کے بعد دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے ہاتھوں کی تری کو چہرے پر پھیرا اور فرمایا : یہ اس شخص کا وضو جو بےوضو نہیں ہوا۔ عربوں کے کلام میں معروف ہے کہ وہ بعض اعضا دھونے کو وضو کہتے تھے۔ صرف نماز کے لیے کہے جانے والے کو وضو نہیں کہتے تھے۔ ابن جریج سے جو روایت ڈکار کے متعلق وضو کرنے میں ہے، ہمارے ہاں اس سے یہی مراد ہے۔

670

Sunan Al Kubra Bayhaqi #670

Sahih

(۶۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَعِیشَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ حَدَّثَنِی مَعْدَانَ بْنُ طَلْحَۃَ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَائَ فَأَفْطَرَ۔ فَلَقِیتُ ثَوْبَانَ فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : أَنَا صَبَبْتُ لَہُ وَضُوئَہُ۔ وَإِسْنَادُ ہَذَا الْحَدِیثِ مُضْطَرِبٌ وَاخْتَلَفُوا فِیہِ اخْتِلاَفًا شَدِیدًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَہُوَ مَذْکُورٌ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ فِی الْخِلاَفِیَّاتِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۳۸۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٧١) سیدنا ابو دردائ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قے کی تو روزے کو چھوڑ دیا۔ میں ثوبان (رض) کو دمشق کی مسجد میں ملا اور اس کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پانی انڈیلا تھا۔ یہ روایت مضطرب ہے، اس میں شدید اختلاف ہے۔ واللہ اعلم۔