Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 140

پاکی کا بیان

سجدے کی حالت میں سو جانے کا بیان

7 hadiths in this chapter

596

Sunan Al Kubra Bayhaqi #596

Zaeef

(۵۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ یَزِیدَ الدَّالاَنِیِّ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَامَ فِی سُجُودِہِ حَتَّی غَطَّ وَنَفَخَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ نِمْتَ۔ فَقَالَ : ((إِنَّمَا یَجِبُ الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ وَضْعَ جَنْبَہُ ، فَإِنَّہُ إِذَا وَضْعَ جَنْبَہُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُہُ)) ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ فِی الْحَدِیثِ : إِنَّمَا الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا ، فَإِنَّہُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُہُ ۔[ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱۲۷۴۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٥٩٧) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے میں سو گئے اور نیند نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھانپ لیا یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ سو گئے تھے، آپ نے فرمایا : جو پہلو کے بل سو جائے اس پر وضو ہے اور جس نے اپنے پہلو رکھ لیے (یعنی لیٹ گیا) تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔ (ب) بعض نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے۔ بلاشبہ جو لیٹ گیا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑھ جاتے ہیں۔

597

Sunan Al Kubra Bayhaqi #597

Zaeef

(۵۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِیُّ عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَجِبُ الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ جَالِسًا أَوْ قَائِمًا أَوْ سَاجِدًا حَتَّی یَضَعَ جَنْبَہُ ، فَإِنَّہُ إِذَا وَضْعَ جَنْبَہُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُہُ))۔ تَفَرَّدَ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَلَی ہَذَا الْوَجْہِ یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو خَالِدٍ الدَّالاَنِیُّ۔ قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ : سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : ہَذَا لاَ شَیْئَ۔ (ت) رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَہُ ، وَلَمْ یَذْکُرْ فِیہِ أَبَا الْعَالِیَۃِ۔ (ج) وَلاَ أَعْرِفُ لأَبِی خَالِدٍ الدَّالاَنِیِّ سَمَاعًا مِنْ قَتَادَۃَ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ قَوْلُہُ : ((الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا))۔ ہُوَ حَدِیثٌ مُنْکَرٌ لَمْ یَرْوِہِ إِلاَّ یَزِیدُ الدَّالاَنِیِّ عَنْ قَتَادَۃَ۔ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ شُعْبَۃُ : إِنَّمَا سَمِعَ قَتَادَۃُ مِنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ أَرْبَعَۃَ أَحَادِیثَ : حَدِیثُ یُونُسَ بْنِ مَتَّی ، وَحَدِیثُ ابْنِ عُمَرَ فِی الصَّلاَۃِ ، وَحَدِیثُ : الْقُضَاۃُ ثَلاَثَۃٌ۔ وَحَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِی رِجَالٌ مَرْضِیُّونَ مِنْہُمْ عُمَرُ وَأَرْضَاہُمْ عِنْدِی عُمَرُ یَعْنِی فِی : لاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَسَمِعَ أَیْضًا حَدِیثَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیمَا یَقُولُ عِنْدَ الْکَرْبِ ، وَحَدِیثُہُ فِی رُؤْیَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِہِ مُوسَی وَغَیْرِہِ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَذَکَرْتُ حَدِیثَ یَزِیدَ الدَّالاَنِیِّ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَقَالَ : مَا لِیَزِیدَ الدَّالاَنِیِّ یُدْخِلُ عَلَی أَصْحَابِ قَتَادَۃَ۔ قَالَ الشَّیْخُ یَعْنِی بِہِ مَا ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَنَّہُ لاَ یُعْرَفُ لأَبِی خَالِدٍ الدَّالاَنِیِّ سَمَاعٌ مِنْ قَتَادَۃَ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَی أَوَّلَہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمْ یَذْکُرُوا شَیْئًا مِنْ ہَذَا۔ (ت) وَقَالَ عِکْرِمَۃُ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَحْفُوظًا۔ وَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((تَنَامُ عَیْنَایَ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی))۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٥٩٨) (الف) عبد السلام بن حرب اسی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بیٹھ کر یا کھڑا ہو کر یا سجدہ کی حالت میں میں سو جائے اس پر وضو نہیں ہے جب تک اپنا پہلو نہ رکھ دے (یعنی لیٹ جائے) جب اس نے اپنے پہلو رکھ دیے تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑگئے۔ (ب) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میری آنکھیں سوجاتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ “ (ب) امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری (رح) سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا : اس (حدیث) کی کوئی حقیقت نہیں۔ (ج) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ راوی کا یہ کہنا الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا منکر ہے۔ (د) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ شعبہ نے ابو عالیہ سے چار احادیث سنی ہیں : حدیث یونس بن متی، حدیث ابن عمر غار کے متعلق، حدیث القضاۃ ثلاثۃ، حدیث ابن عباس لا صلوۃ بعد العصر۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کی روایت کہ مصیبت کے وقت کیا پڑھا جائے اور سفر معراج میں موسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کی رؤیت وغیرہ کی روایت بھی۔

598

Sunan Al Kubra Bayhaqi #598

Sahih

(۵۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوبَ وَحُمَیْدٍ وَحَمَّادٍ الْکُوفِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَامَ حَتَّی سُمِعَ لَہُ غَطِیطٌ فَقَامَ فَصَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ قَالَ عِکْرِمَۃُ : إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ مَحْفُوظًا۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۳۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٥٩٩) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خراٹوں کی آواز آنے لگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ عکرمہ کہتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محفوظ تھے ۔

599

Sunan Al Kubra Bayhaqi #599

Sahih

(۶۰۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ دُونَ الزِّیَادَۃِ الَّتِی تَفَرَّدَ بِہَا أَبُو خَالِدٍ الدَّالاَنِیُّ۔ (ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَغَیْرُہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی حَدِیثِ الْمَبِیتِ دُونَ تِلْکَ الزِّیَادَۃِ۔ (ق) وَنَوْمُہُ ہَذَا کَانَ مُضْطَجِعًا ، وَکَانَ -ﷺ- یَتْرُکُ الْوُضُوئَ مِنْہُ مَخْصُوصًا۔ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ مَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٠٠) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خراٹے لیے، پھر کھڑے ہوئے نماز ادا کی اور وضو نہیں کیا۔ (ب) اسی طرح ابن عباس (رض) کی رات گزارنے والی حدیث ہے جس میں یہ زیادتی نہیں ہے۔ (ج) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند لیٹ کر تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو نہیں کیا، یہ آپ کا خاصہ ہے جس پر یہ حدیث دلالت کر رہی ہے۔

600

Sunan Al Kubra Bayhaqi #600

Sahih

(۶۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو کُرَیْبًا یُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِی مَیْمُونَۃَ ذَاتَ لَیْلَۃً ، فَلَمَّا کَانَ فِی بَعْضِ اللَّیْلِ قَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوئً ا خَفِیفًا - یُخَفِّفُہُ عَمْرٌو وَیُقَلِّلُہُ جِدًّا - ثُمَّ قَامَ یُصَلِّی ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ قُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ فَحَوَّلَنِی فَجَعَلَنِی عَنْ یَمِینِہِ ، ثُمَّ صَلَّی مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ ، ثُمَّ جَائَہُ الْمُنَادِی فَآذَنَہُ بِالصَّلاَۃِ۔ وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً أُخْرَی : ثُمَّ قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَصَلَّی بِنَا وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ قَالَ سُفْیَانُ قُلْنَا لِعَمْرٍو : إِنَّ أُنَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَنَامُ عَیْنُہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ۔ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَقُولُ: رُؤْیَا الأَنْبِیَائِ وَحْیٌ۔ وَقَرَأَ{إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ} [الصافات:۱۰۲] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ إِلاَّ أَنَّہُمَا قَالاَ قَالَ سُفْیَانُ : وَہَذَا لِلنَّبِیِّ -ﷺ- خَاصَّۃً لأَنَّہُ بَلَغَنَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۱۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٠١) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ (رض) کے پاس ٹھہرا۔ رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سا وضو کیا ( عمرو اس کو ہلکا اور بہت تھوڑا بیان کرتے ہیں) پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی کھڑا ہوا۔ میں نے ویسے ہی وضو کیا جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا، پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بائیں جانب کھڑا ہوا۔ آپ نے نماز پڑھی پھر آپ لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے، پھر اعلان کرنے والا آیا ۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے متعلق بتایا۔ اور دوسری مرتبہ سفیان بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے عمرو کو کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔ عمرو کہتے ہیں : میں نے عبید بن عمیر سے سنا وہ کہتے تھے کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور بطور دلیل یہ آیت پڑھی {إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ }[الصافات : ١٠٢] (ب) بخاری اور مسلم میں ہے کہ سفیان کہتے ہیں : یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہمیں پہنچا ہے جو ہمارے لیے دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔

601

Sunan Al Kubra Bayhaqi #601

Sahih

(۶۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ فِی حَدِیثٍ ذَکَرَہُ فِی صَلاَۃِ اللَّیْلِ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ : ((یَا عَائِشَۃُ إِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ (ت) وَرُوِّینَا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ -ﷺ- کَانَ تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ۔ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ : وَکَذَلِکَ الأَنْبِیَائُ صَلَوَاتُ اللَّہُ عَلَیْہِمْ تَنَامُ أَعْیُنُہُمْ وَلاَ تَنَامُ قُلُوبُہُمْ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۹/۱۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٠٢) (الف) سیدہ عائشہ (رض) نے رات کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ (ب) سیدنا انس بن مالک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتا تھا ، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے۔

602

Sunan Al Kubra Bayhaqi #602

Sahih

(۶۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ أَخْبَرَنِی أَبُو صَخْرٍ أَنَّہُ سَمِعَ یَزِیدَ بْنَ قُسَیْطٍ یَقُولُ: أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : لَیْسَ عَلَی الْمُحْتَبِی النَّائِمِ وَلاَ عَلَی الْقَائِمِ النَّائِمِ وَلاَ عَلَی السَّاجِدِ النَّائِمِ وُضُوئٌ حَتَّی یَضْطَجِعَ ، فَإِذَا اضْطَجَعَ تَوَضَّأَ۔ وَہَذَا مَوْقُوفٌ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٦٠٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ گوٹھ مار کر سونے والے پر، کھڑے ہو کر سونے والے پر اور سجدے میں سونے والے پر وضو نہیں ہے جب تک لیٹ نہ جائے۔ جب لیٹ گیا تو وضو کرے گا (یہ موقوف روایت ہے) ۔