Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 14

پاکی کا بیان

کسی چیز کے اندرونی حصے کو رنگنا گویا اس کے باہر کے حصے کو رنگنا ہے اور تمام مائع چیزوں میں اس سے نفع اٹھانا جائز ہے

5 hadiths in this chapter

53

Sunan Al Kubra Bayhaqi #53

Sahih

(۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ رَبِیعَۃَ أَنَّ أَبَا الْخَیْرِ حَدَّثَہُ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ وَعْلَۃَ السَّبَائِیُّ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: إِنَّا نَکُونُ بِالْمَغْرِبِ فَتَأْتِینَا الْمَجُوسُ بِالأَسْقِیَۃِ فِیہَا الْمَائُ وَالْوَدَکُ۔فَقَالَ: اشْرَبْ۔فَقُلْتُ: أَرَأْیٌ تَرَاہُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((دِبَاغُہَا طَہُورُہَا))۔ رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۶۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٥٣) ابن وعلہ سبائی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے پوچھا کہ ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو ہمارے پاس مجوسی مشکیزے لاتے ہیں جس میں پانی اور چربی ہوتی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : پی لیا کرو۔ میں نے کہا : کیا یہ تمہاری رائے ہے ؟ ابن عباس (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ” اس کو رنگنا ہی اس کا پاک کرنا ہے۔ “

54

Sunan Al Kubra Bayhaqi #54

Zaeef

(۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِی عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ عَنْ سَوْدَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ-قَالَتْ مَاتَتْ شَاۃٌ لَنَا فَدَبَغْنَا مَسْکَہَا فَمَا زِلْنَا نَنْتَبِذُ فِیہِ حَتَّی صَارَ شَنًّا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ (ب) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْمَاعِیلَ۔ وَکَذَا رَوَاہُ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْمَاعِیلَ فَقَالَ مَیْمُونَۃَ بَدَلَ سَوْدَۃَ۔ [أخرجہ البخاری ۶۳۰۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٥٤) ام المومنین سیدہ سودہ (رض) سے روایت ہے کہ ہماری ایک بکری مرگئی، ہم نے اسی کا چمڑا رنگ لیا اور ہم برابر اس میں نبیذ بناتے رہے حتیٰ کہ وہ مشکیزہ بن گیا۔

55

Sunan Al Kubra Bayhaqi #55

Sahih

(۵۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ عَنْ مَیْمُونَۃَ۔ وَرَوَاہُ سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ کَمَا۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات وسندہ متصل]

اردو ترجمہ · Urdu

(٥٥) عبید اللہ نے سیدہ میمونہ سے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے اور سماک بن حرب نے عکرمہ (رض) سے نقل کیا ہے۔

56

Sunan Al Kubra Bayhaqi #56

Zaeef

(۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَتْ شَاۃٌ لِسَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَاتَتَ فُلاَنَۃُ تَعْنِی الشَّاۃَ۔قَالَ: فَلَوْلاَ أَخَذْتُمْ مَسْکَہَا ۔قَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْکَ شَاۃٍ قَدْ مَاتَتْ۔فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: إِنَّمَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَیْتَۃً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِیرٍ}[الأنعام: ۱۴۵] ((وَإِنَّکُمْ لاَ تَطْعَمُونَہُ إِنَّمَا تَدْبُغُونَہُ فَتَنْتَفِعُونَ بِہِ))فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہَا فَسَلَخَتْ مَسْکَہَا فَدَبَغَتْہُ فَاتَّخَذَتْ مِنْہُ قِرْبَۃً حَتَّی تَخَرَّقَتْ عِنْدَہَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن حبان ۵۰۴۱۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٥٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ (رض) کی ایک بکری مرگئی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! فلاں کی بکری مراد تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا : ” تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتارا ؟ “ آپ نے عرض کیا : اس بکری کا چمڑا جو مرگئی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَیْتَۃً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِیرٍ } [الأنعام : ١٤٥] ترجمہ : کہہ دیجیے میں اس وحی سے جو میری طرف کی گئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو۔ تم اس کو کھاتے نہیں تم اس کو رنگتے ہو اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہو۔ انھوں نے اس (بکری) کی طرف کسی کو بھیجا، اس نے اس کا چمڑا اتارا اور اسے رنگ کر مشکیزہ بنایا حتیٰ کہ وہ ان کے پاس ہی ختم ہوگیا۔

57

Sunan Al Kubra Bayhaqi #57

Zaeef

(۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ وَالْعَبَّاسُ النَّرْسِیُّ أَنَّ أَبَا عَوَانَۃَ حَدَّثَہُمْ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ۔ [ضعیف۔ مضی فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٥٧) ابو عوانہ نے اس کو اور دوسری ہم معنی روایت کو اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔