Sunan al-Daraqutni #1408
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَلا أَدْرِي أَزَادَ أَمْ نَقَصَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: لا، وَمَا ذَلِكَ؟ "، قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا، فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمُوهُ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، ثُمَّ يُتِمُّ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ " ."
EnglishUnverified translation
Sayyiduna Abdullah bin Masoud (may Allah be pleased with him) narrates: Once the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) offered a prayer. The narrator of this tradition, Ibrahim, narrates: I do not know whether the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) mentioned any increase or decrease in this prayer. (Sayyidna Abdullah Radiyallahu Anhu narrates:) When the Holy Prophet (Sallallahu Alaihi Wasallam) greeted him, he was asked: O Messenger of Allah, has there been any new order regarding prayer? The Prophet (PBUH) said no, why what happened? The people said, "You have prayed like this." The Prophet, peace and blessings of God be upon him, straightened his legs, turned his face towards the Qibla, and prostrated himself twice. If he is in doubt about his prayer, he should try to find the correct form, then complete the prayer according to the same calculation, then offer salutations and after that do Sajdah twice.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی اس روایت کے راوی ابراہیم بیان کرتے ہیں: مجھے یہ نہیں پتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس نماز میں کسی اضافہ ہوجانے کا ذکر کیا گیا ہے یا کسی کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیراتو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یارسول اللہ کیا نماز کے بارے میں کوئی نیاحکم آیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں، کیوں کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا، آپ نے اس طرح نماز ادا کی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ٹانگیں سیدھی کیں، اپنا رخ قبلے کی طرف کیا اور دو مرتبہ سجدہ سہو کرکے سلام پھیردیا جب آپ نے سلام پھیر دیا تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا، اگر نماز کے بارے میں کوئی نیاحکم نازل ہواہوتا تو میں بتا دیتا میں بھی انسان ہوں میں بھی اسی طرح بھول جاتاہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو، تو جب میں کوئی چیز بھول جاؤں تو مجھے یاد کروادیاکرو اور جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے تو وہ درست صورت کے بارے میں کوشش کرے، پھر اسی حساب سے نماز کو مکمل کرے، پھر سلام پھیرے اور اس کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرے۔