حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنِي جَدِّي ، ثنا أبِي ، ثنا ابْنُ سَمْعَانَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: إِنِّي رُبَّمَا كُنْتُ مَعَ الإِمَامِ، قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي، ثُمَّ قَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ . فَإِنِّي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنِّي قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لَهُ، يَقُولُ عَبْدِي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَيَذْكُرُنِي عَبْدِي، ثُمَّ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأَقُولُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، ثُمَّ يَقُولُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَأَقُولُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، ثُمَّ يَقُولُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، فَأَقُولُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، ثُمَّ يَقُولُ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، فَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَآخِرُ السُّورَةِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . ابْنُ سَمْعَانَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ: مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَابْنُ عَجْلانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، وَأَبُو أُوَيْسٍ وَغَيْرُهُمْ عَلَى اخْتِلافٍ مِنْهُمْ فِي الإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْهُمْ عَلَى الْمَتْنِ، فَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلافِ مَا رَوَاهُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَى بِالصَّوَاب."
EnglishUnverified translation
Sayyiduna Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrates the saying of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) who does not recite Surah Al-Fatiha while praying, his prayer is not complete. The narrator narrates: I said: O Sayyidna Abu Huraira! Sometimes I follow the example of the Imam, he pinched (something) on my shin and said: Then recite it in your heart, because I heard the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) saying: Allah Ta'ala says: I have divided the prayer (reciting) into two parts between myself and my servants, and half of it is for him. My servant mentioned my greatness then he says, Ayak Nabad Wayak Nasta'in, so this verse will be divided into two parts between me and my servant, the last part of the surah is for my servant and what my servant asked for he will get. The narrator named Ibn Simaan is Abdullah bin Simaan and this person is a abandoned hadeeth. A group of reliable narrators have narrated this hadith on the authority of Alaa bin Abd al-Rahman. These narrators include Imam Malik bin Anas, Shaykh Ibn Jarij, Shaykh Ruh bin Qasim, Shaykh Ibn Aayynah, Ibn Ajlan, Hasan bin Hur, Abu Wais and others. These men have quoted differences in the authenticity of this hadith, but they agree on the text. So it will be considered correct to quote all these gentlemen unanimously against the narration narrated by Ibn Samaan, Allah knows best.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابوہریریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص نماز پڑھتے ہوئے سورة فاتحہ نہیں پڑھتا وہ نماز مکمل نہیں ہوتی پوری نہیں ہوتی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ! بعض اوقات میں امام کی اقتداء میں ہوتا ہوں انہوں نے میری پنڈلی پر (کوئی چیز) چبھوتے ہوئے فرمایا پھر تم دل میں اسے پڑھ لو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:۔ '' اللہ تعالیٰ ٰ فرماتا ہے: میں نے نماز (میں قرات) کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے اس کا نصف حصہ اس کے لیے ہے میرا بندہ نماز کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہے تو میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے پھر وہ کہتا ہے، الحمدللہ رب العالمین، تو میں کہتاہوں میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے پھر وہ کہتا ہے الرحمن، تو میں کہتاہوں میرے بندے نے میری تعریف کی پھر وہ کہتا ہے مالک، تو میں کہتاہوں میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی پھر وہ کہتا ہے، ایاک نعبد وایاک نستعین، تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہوگی، سورت کا آخری حصہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔ ابن سمعان نامی راوی، عبداللہ بن سمعان ہے اور یہ شخص متروک الحدیث ہے۔ ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اس حدیث کو علاء بن عبدالرحمن کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ ان راویوں میں امام مالک بن انس، شیخ ابن جریج، شیخ روح بن قاسم، شیخ ابن عیینہ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابواویس اور دیگر حضرات شامل ہیں ان حضرات نے اس روایت کی سند میں اختلاف نقل کیا ہے تاہم متن پر ان کا اتفاق ہے ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنی روایت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ نقل نہیں کیے۔ تو ان تمام حضرات کا متفقہ طور پر ابن سمعان کی نقل کردہ روایت کے خلاف نقل کرنا درست سمجھا جائے گا، باقی اللہ تعالیٰ ٰ بہتر جانتا ہے۔