Sunan al-Daraqutni #771
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، نا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ فَنَامُوا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ لا يُوقِظُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ وَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ فَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ، قَالَ: ارْتَحِلُوا "، فَسَارَ شَيْئًا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ نزل فَصَلَّى بِنَا، وَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " يَا فُلانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا؟ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ الصَّعِيدَ ثُمَّ صَلَّى، فَعَجَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ أَطْلُبُ الْمَاءَ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، قُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: إِيهَاتٌ إِيهَاتٌ لا مَاءَ، قُلْ??َا: كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ؟ قَالَتْ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، قُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللَّهِ؟ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِها شَيْئًا حَتَّى اسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ، قَالَ: فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَجَّ فِي الْعَزْلاوَيْنِ، فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلا حَتَّى رَوِينَا، وَمَلأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ، وَغَسَلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسُقْ بَعِيرًا وَهِيَ تَكَادُ تَتَصَدَّعُ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ لَنَا: " هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ "، فَجَمَعَ لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى صَرَّ لَهَا صُرَّةً، فَقَالَ: " اذْهَبِي فَأَطْعِمِي عِيَالَكَ وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا "، فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا، قَالَتْ: لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِيُّ كَمَا زَعَمُوا، فَهَدَى اللَّهُ ذَلِكَ الصَّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، وَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا . أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ، عَنْ سَلْمِ بْنِ زُرَيْرٍ."
EnglishUnverified translation
Sayyiduna Imran bin Hussain (RA) narrates that once we were traveling with the Prophet (PBUH) until morning approached. So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered us to camp. When the people caught their eye, they fell asleep, until the sun rose. The first to wake up was Sayyiduna Abu Bakr. No one would wake up the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) from sleep until he himself woke up. When Sayyiduna Umar woke up, he saw that the sun had risen. So he sat on the head of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and began to say Takbeer in a loud voice, until the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) woke up. When you woke up, you saw that the sun had risen. So you left. You traveled a bit, until the sun shone brightly. So you stopped and led us in prayer. One of the attendees stayed away. He did not pray with us. When the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) finished the prayer, he inquired, "What has prevented you from praying with us?" He said, "O Messenger of Allah! I have received Janabat." So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered him to perform tayammum with clay and perform the prayer. Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) sent me ahead with some horsemen to find water, for we were very thirsty. While we were travelling, we saw a woman with two muskets. We asked him, "Where is the water?" "There is no water here," he said. We inquired, "How far is it between us and the water?" He replied, "One day and one night." We said, "Go to the Messenger of Allah." He said, "Where are the Messengers of Allah?" So we took it to the service of the Holy Prophet. She told the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) the same thing that she told us, but she added that she was the mother of orphans. So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered about his muskets, whose mouths were opened from the bottom side. So we forty thirsty people drank water from it until we were full. We filled every pot and bowl we had. We gave water to our companion for bathing, but we did not water our camels. Then the Prophet (PBUH) ordered, "Bring whatever you have." Then the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) collected pieces of bread, dates, etc. for him and tied a bundle to him and said, "You go and feed it to your family, and know that We have not reduced your water in any way." When she went to her house, she said, "I have met the greatest magician, or rather he is a prophet, as people have described." The narrator says that because of this woman, Allah blessed her tribe with guidance. That woman also became a Muslim and her clan members also became Muslims. Imam Bukhari, may God have mercy on him, has narrated this tradition on the authority of Abu Waleed along with this chain of transmission, while Imam Muslim, may God have mercy on him, has narrated this tradition on the authority of Ahmad bin Saeed al-Darmi.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، یہاں تک کہ صبح کا وقت قریب آیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا۔ لوگوں کی آنکھ لگ گئی تو وہ سو گئے، یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا۔ سب سے پہلے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نیند سے بیدار نہیں کرتا تھا جب تک آپ خود بیدار نہ ہوتے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہوگیا ہے۔ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرہانے بیٹھ گئے اور بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوگئے۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہوگیا ہے۔ تو آپ وہاں سے روانہ ہوئے۔ آپ نے کچھ سفر کیا، یہاں تک کہ سورج اچھی طرح چمکدار ہوگیا۔ تو آپ نے پڑاؤ کیا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ حاضرین میں سے ایک شخص الگ رہا۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہ کی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ختم کی تو آپ نے دریافت کیا، \تمہیں کس چیز نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ہے؟\" اس نے عرض کیا، \"یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے۔\" تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ مٹی کے ذریعہ تیمم کر کے نماز ادا کر لے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ سواروں کے ساتھ مجھے آگے بھیج دیا تاکہ ہم پانی تلاش کریں، کیونکہ ہم شدید پیاسے تھے۔ ہم سفر کر رہے تھے، وہاں ہمیں ایک عورت نظر آئی جس کے پاس دو مشکیزے تھے۔ ہم نے اس سے دریافت کیا، \"پانی کہاں ہے؟\" اس نے بتایا، \"یہاں کہیں پانی نہیں ہے۔\" ہم نے دریافت کیا، \"ہمارے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟\" اس نے جواب دیا، \"ایک دن اور ایک رات کا۔\" ہم نے کہا، \"تم اللہ کے رسول کے پاس چلو۔\" اس نے کہا، \"اللہ کے رسول کہاں ہیں؟\" تو ہم اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی وہی بات بتائی جو اس نے ہمیں بتائی تھی، تاہم اس نے یہ اضافی بات بتائی کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مشکیزوں کے بارے میں حکم دیا، جن کا منہ نیچے کی طرف سے کھول دیا گیا۔ تو ہم چالیس پیاسے لوگوں نے اس میں سے پانی پیا، یہاں تک کہ ہم سیراب ہوگئے۔ ہم نے اپنے پاس موجود ہر برتن اور پیالے کو بھر لیا۔ ہم نے اپنے ساتھی کو غسل کے لیے پانی دیا، البتہ ہم نے اپنے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا، \"تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے لے آؤ۔\" پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے روٹی کے ٹکڑے، کھجور وغیرہ اکٹھے کروائے اور اسے ایک توڑا باندھ دیا اور ارشاد فرمایا، \"تم جاؤ اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلاؤ، اور یہ بات جان لو کہ ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی۔\" جب وہ اپنے گھر گئی تو اس نے بتایا، \"میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر وہ نبی ہے، جیسا کہ لوگوں نے بیان کیا ہے۔\" راوی کہتے ہیں کہ اس عورت کی وجہ سے اللہ نے اس کے قبیلے والوں کو ہدایت نصیب کی۔ وہ عورت بھی مسلمان ہوگئی اور اس کے قبیلے والے بھی مسلمان ہوگئے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو ابو الولید کے حوالے سے اس سند کے ہمراہ نقل کیا ہے، جبکہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس روایت کو احمد بن سعید الدارمی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔""