Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 3 · Chapter 2

Prayer

بَابُ الْوُضُوءِ وَالتَّيَمُّمِ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَباب: مشرکین کے برتن میں سے وضو کرنا یا تیمم کرنا۔

8 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

771

Sunan al-Daraqutni #771

Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، نا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ فَنَامُوا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ لا يُوقِظُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ وَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ فَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ، قَالَ: ارْتَحِلُوا "، فَسَارَ شَيْئًا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ نزل فَصَلَّى بِنَا، وَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " يَا فُلانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا؟ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ الصَّعِيدَ ثُمَّ صَلَّى، فَعَجَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ أَطْلُبُ الْمَاءَ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، قُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: إِيهَاتٌ إِيهَاتٌ لا مَاءَ، قُلْ??َا: كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ؟ قَالَتْ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، قُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللَّهِ؟ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِها شَيْئًا حَتَّى اسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ، قَالَ: فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَجَّ فِي الْعَزْلاوَيْنِ، فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلا حَتَّى رَوِينَا، وَمَلأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ، وَغَسَلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسُقْ بَعِيرًا وَهِيَ تَكَادُ تَتَصَدَّعُ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ لَنَا: " هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ "، فَجَمَعَ لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى صَرَّ لَهَا صُرَّةً، فَقَالَ: " اذْهَبِي فَأَطْعِمِي عِيَالَكَ وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا "، فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا، قَالَتْ: لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِيُّ كَمَا زَعَمُوا، فَهَدَى اللَّهُ ذَلِكَ الصَّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، وَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا . أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ، عَنْ سَلْمِ بْنِ زُرَيْرٍ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Imran bin Hussain (RA) narrates that once we were traveling with the Prophet (PBUH) until morning approached. So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered us to camp. When the people caught their eye, they fell asleep, until the sun rose. The first to wake up was Sayyiduna Abu Bakr. No one would wake up the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) from sleep until he himself woke up. When Sayyiduna Umar woke up, he saw that the sun had risen. So he sat on the head of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and began to say Takbeer in a loud voice, until the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) woke up. When you woke up, you saw that the sun had risen. So you left. You traveled a bit, until the sun shone brightly. So you stopped and led us in prayer. One of the attendees stayed away. He did not pray with us. When the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) finished the prayer, he inquired, "What has prevented you from praying with us?" He said, "O Messenger of Allah! I have received Janabat." So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered him to perform tayammum with clay and perform the prayer. Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) sent me ahead with some horsemen to find water, for we were very thirsty. While we were travelling, we saw a woman with two muskets. We asked him, "Where is the water?" "There is no water here," he said. We inquired, "How far is it between us and the water?" He replied, "One day and one night." We said, "Go to the Messenger of Allah." He said, "Where are the Messengers of Allah?" So we took it to the service of the Holy Prophet. She told the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) the same thing that she told us, but she added that she was the mother of orphans. So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered about his muskets, whose mouths were opened from the bottom side. So we forty thirsty people drank water from it until we were full. We filled every pot and bowl we had. We gave water to our companion for bathing, but we did not water our camels. Then the Prophet (PBUH) ordered, "Bring whatever you have." Then the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) collected pieces of bread, dates, etc. for him and tied a bundle to him and said, "You go and feed it to your family, and know that We have not reduced your water in any way." When she went to her house, she said, "I have met the greatest magician, or rather he is a prophet, as people have described." The narrator says that because of this woman, Allah blessed her tribe with guidance. That woman also became a Muslim and her clan members also became Muslims. Imam Bukhari, may God have mercy on him, has narrated this tradition on the authority of Abu Waleed along with this chain of transmission, while Imam Muslim, may God have mercy on him, has narrated this tradition on the authority of Ahmad bin Saeed al-Darmi.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، یہاں تک کہ صبح کا وقت قریب آیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا۔ لوگوں کی آنکھ لگ گئی تو وہ سو گئے، یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا۔ سب سے پہلے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نیند سے بیدار نہیں کرتا تھا جب تک آپ خود بیدار نہ ہوتے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہوگیا ہے۔ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرہانے بیٹھ گئے اور بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوگئے۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہوگیا ہے۔ تو آپ وہاں سے روانہ ہوئے۔ آپ نے کچھ سفر کیا، یہاں تک کہ سورج اچھی طرح چمکدار ہوگیا۔ تو آپ نے پڑاؤ کیا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ حاضرین میں سے ایک شخص الگ رہا۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہ کی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ختم کی تو آپ نے دریافت کیا، \تمہیں کس چیز نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ہے؟\" اس نے عرض کیا، \"یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے۔\" تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ مٹی کے ذریعہ تیمم کر کے نماز ادا کر لے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ سواروں کے ساتھ مجھے آگے بھیج دیا تاکہ ہم پانی تلاش کریں، کیونکہ ہم شدید پیاسے تھے۔ ہم سفر کر رہے تھے، وہاں ہمیں ایک عورت نظر آئی جس کے پاس دو مشکیزے تھے۔ ہم نے اس سے دریافت کیا، \"پانی کہاں ہے؟\" اس نے بتایا، \"یہاں کہیں پانی نہیں ہے۔\" ہم نے دریافت کیا، \"ہمارے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟\" اس نے جواب دیا، \"ایک دن اور ایک رات کا۔\" ہم نے کہا، \"تم اللہ کے رسول کے پاس چلو۔\" اس نے کہا، \"اللہ کے رسول کہاں ہیں؟\" تو ہم اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی وہی بات بتائی جو اس نے ہمیں بتائی تھی، تاہم اس نے یہ اضافی بات بتائی کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مشکیزوں کے بارے میں حکم دیا، جن کا منہ نیچے کی طرف سے کھول دیا گیا۔ تو ہم چالیس پیاسے لوگوں نے اس میں سے پانی پیا، یہاں تک کہ ہم سیراب ہوگئے۔ ہم نے اپنے پاس موجود ہر برتن اور پیالے کو بھر لیا۔ ہم نے اپنے ساتھی کو غسل کے لیے پانی دیا، البتہ ہم نے اپنے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا، \"تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے لے آؤ۔\" پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے روٹی کے ٹکڑے، کھجور وغیرہ اکٹھے کروائے اور اسے ایک توڑا باندھ دیا اور ارشاد فرمایا، \"تم جاؤ اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلاؤ، اور یہ بات جان لو کہ ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی۔\" جب وہ اپنے گھر گئی تو اس نے بتایا، \"میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر وہ نبی ہے، جیسا کہ لوگوں نے بیان کیا ہے۔\" راوی کہتے ہیں کہ اس عورت کی وجہ سے اللہ نے اس کے قبیلے والوں کو ہدایت نصیب کی۔ وہ عورت بھی مسلمان ہوگئی اور اس کے قبیلے والے بھی مسلمان ہوگئے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو ابو الولید کے حوالے سے اس سند کے ہمراہ نقل کیا ہے، جبکہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس روایت کو احمد بن سعید الدارمی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔""

772

Sunan al-Daraqutni #772

Sahih

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا أَبُو دَاوُدَ ، نا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَارَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ثُمَّ عَرَّسْنَا فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ إِلا بِحَرِّ الشَّمْسِ، فَاسْتَيْقَظَ مِنَّا سِتَّةٌ قَدْ نَسِيتُ أَسْمَاءَهُمْ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَعَلَ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ احْتَبَسَهُ فِي حَاجَتِهِ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ التَّكْبِيرَ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتْ صَلاتُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ تَذْهَبْ صَلاتُكُمُ ارْتَحِلُوا مِنْ هَذَا الْمَكَانِ "، فَارْتَحَلَ فَسَارَ قَرِيبًا، ثُمَّ نزل فَصَلَّى، فَقَالَ: " أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَتَمَّ صَلاتَكُمْ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلانًا لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا، فَقَالَ لَهُ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ؟ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، قَالَ: " فَتَيَمَّمِ الصَّعِيدَ وَصَلِّهِ فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَى الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ "، وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا فِي طَلَبِ الْمَاءِ، وَمَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا إِدَاوَةٌ مثل أُذُنَيِ الأَرْنَبِ بَيْنَ جِلْدِهِ وَثَوْبِهِ، إِذَا عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَدَرْنَاهُ بِالْمَاءِ، فَانْطَلَقَ حَتَّى ارْتَفَعَ عَلَيْهِ النَّهَارُ وَلَمْ يَجِدْ مَاءً فَإِذَا شَخْصٌ، قَالَ عَلِيٌّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَكَانَكُمْ حَتَّى نَنْظُرَ مَا هَذَا، قَالَ: فَإِذَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ، فَقِيلَ لَهَا: يَا أَمَةَ اللَّهِ أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: لا مَاءَ وَاللَّهِ لَكُمُ اسْتَقَيْتُ أَمْسِ، فَسِرْتُ نَهَارِي وَلَيْلِي جَمِيعًا وَقَدْ أَصْبَحْنَا إِلَى هَذِهِ السَّاعَةِ، قَالُوا لَهَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَمَنْ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَجْنُونُ قُرَيْشٍ؟ قَالُوا: إِنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، وَلَكِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا هَؤُلاءِ دَعُونِي فَوَاللَّهِ لَقَدْ تَرَكْتُ صِبْيَةً لِي صِغَارًا فِي غَنِيمَةٍ قَدْ خَشِيتُ أَنْ لا أُدْرِكَهُمْ حَتَّى يَمُوتَ بَعْضُهُمْ مِنَ الْعَطَشِ، فَلَمْ يُمَلِّكُوهَا مِنْ نَفْسِهَا شَيْئًا حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا، فَأَمَرَ بِالْبَعِيرِ فَأُنِيخَ ثُمَّ حَلَّ الْمَزَادَةَ مِنْ أَعْلاهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ عَظِيمٍ فَمَلأَهُ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى الْجُنُبِ، فَقَالَ: " اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ "، قَالُوا: أَيْمُ اللَّهِ مَا تَرَكْنَا مِنْ إِدَاوَةٍ وَلا قِرْبَةِ مَاءٍ وَلا إِنَاءٍ إِلا مَلأَهُ مِنَ الْمَاءِ وَهِيَ تَنْظُرُ ثُمَّ شَدَّ الْمَزَادَةَ مِنْ أَعْلاهَا وَبَعَثَ بِالْبَعِيرِ، وَقَالَ: " يَا هَذِهِ دُونَكِ مَاءَكِ فَوَاللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنِ اللَّهِ زَادَ فِيهِ مَا نَقَصَ مِنْ مَائِكِ قَطْرَةٌ "، وَدَعَا لَهَا بِكِسَاءٍ فَبُسِطَ، ثُمَّ قَالَ لَنَا: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَأْتِ بِهِ "، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِخُلُقِ النَّعْلِ، وَبِخُلُقِ الثَّوْبِ، وَالْقَبْضَةِ مِنَ الشَّعِيرِ، وَالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ، وَالْفَلْقَةِ مِنَ الْخُبْزِ حَتَّى جَمَعَ لَهَا ذَلِكَ، ثُمَّ أَوْكَاهُ لَهَا فَسَأَلَهَا عَنْ قَوْمِهَا فَأَخْبَرَتْهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ حَتَّى أَتَتْ قَوْمَهَا، قَالُوا: مَا حَبَسَكِ؟ قَالَتْ: أَخَذَنِي مَجْنُونُ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ إِنَّهُ لأَحَدُ الرَّجُلَيْنِ إِمَّا أَنْ يَكُونَ أَسْحَرَ مَا بَيْنَ هَذِهِ، وَهَذِهِ تَعْنِي السَّمَاءَ وَالأَرْضَ، أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، قَالَ: فَجَعَلَ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُغِيرُ عَلَى مَنْ حَوْلَهُمْ وَهُمْ آمِنُونَ، قَالَ: فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ لِقَوْمِهَا: أَيْ قَوْمٍ وَاللَّهِ مَا أَرَى هَذَا الرَّجُلَ إِلا قَدْ شَكَرَ لَكُمْ مَا أَخَذَ مِنْ مَائِكِمْ أَلا تَرَوْنَ يُغَارُ عَلَى مَنْ حَوْلَكُمْ وَأَنْتُمْ آمِنُونَ لا يُغَارُ عَلَيْكُمْ هَلْ لَكُمْ فِي خَيْرٍ؟ قَالُوا: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: نَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنُسْلِمُ، قَالَ: فَجَاءَتْ تَسُوقُ بِثَلاثِينَ أَهْلَ بَيْتٍ حَتَّى بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمُوا ."

EnglishUnverified translation

Al-Husayn ibn Isma'il narrated to us, Ali ibn Muslim narrated to us, Abu Dawud narrated to us, Abbad ibn Rashid narrated to us: I heard Abu Raja' al-'Utaridi say: I heard Imran ibn Husayn say: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, traveled with us one night, then we stopped to rest, and we did not wake up until the heat of the sun. Six of us woke up - I have forgotten their names - then Abu Bakr, may Allah be pleased with him, woke up and began to prevent them from waking the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, saying: "Perhaps Allah has detained him for a purpose of His." So Abu Bakr began to say the takbir loudly, and the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, woke up. They said: "O Messenger of Allah, our prayer has passed!" The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: "Your prayer has not passed. Move on from this place." So he moved on and traveled a short distance, then dismounted and prayed, and said: "Indeed, Allah has completed your prayer for you." They said: "O Messenger of Allah, so-and-so did not pray with us." He said to him: "What prevented you from praying?" He said: "O Messenger of Allah, I had a state of major impurity (janabah)." He said: "Then perform tayammum with the earth and pray with it, and when you are able to find water, then perform ghusl." The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, sent Ali to search for water. Each of us had a small water container, like the ears of a rabbit, between his skin and his garment - whenever the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, became thirsty, we would hasten to give him water. He went until the day grew high and he did not find water. Then he spotted a figure. Ali, may Allah be pleased with him, said: "Stay where you are until we see what this is." He said: There was a woman between two water-skins. It was said to her: "O servant of Allah, where is water?" She said: "There is no water for you, by Allah! I drew water yesterday, and I have traveled all day and all night, and we have reached this hour." They said to her: "Go to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him." She said: "And who is the Messenger of Allah?" They said: "Muhammad, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him." She said: "The madman of Quraysh?" They said: "He is not a madman, but he is the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him." She said: "O you people, leave me alone! By Allah, I have left behind young children of mine with the flock, and I fear I will not reach them before some of them die of thirst." But they gave her no choice in the matter until they brought her to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him. He ordered the camel to be made to kneel, then he untied the water-skin from its top, then called for a large vessel and filled it with water, then handed it to the man in a state of major impurity, and said: "Go and perform ghusl." They said: "By Allah, we did not leave a single water container, water-skin, or vessel without filling it with water, while she watched." Then he tied up the water-skin from its top and sent the camel back, and said: "O woman, here is your water. By Allah, if Allah had not added to it, what has decreased from your water would not be even a single drop." He called for a cloak for her and it was spread out, then he said to us: "Whoever has something with him, let him bring it." So a man would come with a worn-out sandal, a worn-out garment, a handful of barley, a handful of dates, or a piece of bread, until they had gathered that for her. Then he tied it up for her and asked her about her people, and she told him. He said: So she went until she came to her people. They said: "What kept you?" She said: "The madman of Quraysh took hold of me. By Allah, he is one of two things: either he is the greatest sorcerer between this - meaning the sky - and this - meaning the earth - or he is truly the Messenger of Allah." He said: The cavalry of the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, began raiding those around them while they remained safe. He said: So the woman said to her people: "O my people, by Allah, I see that this man has been grateful to you for what he took of your water. Do you not see that those around you are being raided while you remain safe, not being raided? Do you want something good?" They said: "What is it?" She said: "We go to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, and we submit (become Muslims)." He said: So she came leading thirty households until they gave their allegiance to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, and they became Muslims.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر سفر کرتے رہے۔ پھر ہم نے رات کے وقت پڑاؤ کیا اور سو گئے، تو ہم سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوئے۔ ہم میں سے چھ لوگ بیدار ہوئے، ان کے نام میں بھول گیا ہوں۔ پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیدار کرنے سے منع کیا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے اللہ نے کسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں ٹھہرایا ہو۔ پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے رہے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے۔ لوگوں نے عرض کی، \ہماری نماز قضا ہوگئی ہے۔\" نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، \"تمہاری نماز رخصت نہیں ہوئی۔ تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔\" پھر ہم لوگ روانہ ہوئے اور سفر کرتے رہے۔ ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور نماز ادا کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، \"اب تمہاری نماز مکمل ہوگئی ہے۔\" لوگوں نے عرض کی، \"یا رسول اللہ! فلاں شخص نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔\" نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا، \"تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی؟\" اس نے عرض کیا، \"مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی۔\" نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، \"تم مٹی سے تیمم کر کے نماز ادا کر لو، جب تم پانی پر قادر ہو جاؤ گے تو غسل کر لینا۔\" پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کی تلاش میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ ہم میں سے ہر ایک شخص کے پاس خرگوش کے کانوں جتنا برتن تھا، جو اس کے کپڑوں اور جسم کے درمیان تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیاس محسوس ہوئی تو ہم تیزی سے آگے بڑھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا۔ ایک شخص نظر آیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا، \"تم لوگ یہاں ٹھہرو، میں دیکھتا ہوں کہ یہ کون ہے؟\" راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک عورت تھی جس کے پاس پانی کے دو مشکیزے تھے۔ اس سے دریافت کیا گیا، \"اے اللہ کی بندی! یہاں پانی کہاں ہے؟\" اس نے جواب دیا، \"یہاں کوئی پانی نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میں گزشتہ کل پانی کی تلاش میں نکلی تھی۔ میں نے پورا دن اور پوری رات سفر کیا ہے، اب یہ وقت آگیا ہے۔\" تو ان لوگوں نے کہا، \"تم اللہ کے رسول کے پاس چلو۔\" تو اس نے کہا، \"اللہ کا رسول کون ہے؟\" لوگوں نے بتایا، \"سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اللہ کے رسول ہیں۔\" اس نے کہا، \"جو مجنون ہیں جو قریش سے تعلق رکھتے ہیں؟\" لوگوں نے کہا، \"وہ مجنون نہیں ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں۔\" اس عورت نے کہا، \"مجھے چھوڑ دو، میں اپنے چھوٹے بچوں اور بکریوں کے پاس چھوڑ کر آئی ہوں۔ مجھے ڈر ہے کہ ان میں سے کوئی ایک پیاس کی وجہ سے مر نہ جائے۔\" لیکن ان لوگوں نے اس کی ایک نہ چلنے دی اور اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق اس کا اونٹ بٹھا دیا گیا۔ پھر اس کے مشکیزے کو اوپر کی طرف سے کھولا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بڑا برتن منگوایا، اسے پانی سے بھر دیا، وہ جنبی شخص کو دیا گیا۔ آپ نے فرمایا، \"تم جاؤ اور غسل کرو۔\" راوی بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! ہم نے وہاں موجود ہر برتن اور ہر مشکیزہ کو پانی سے بھر لیا۔ وہ عورت دیکھتی رہی۔ پھر اس کے مشکیزے کا منہ اوپر کر کے بند کر دیا گیا، پھر اونٹ کو کھڑا کر دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، \"اے عورت! یہ تمہارا پانی ہے۔ اللہ کی قسم! اللہ نے اس میں اضافہ کیا ہے، تمہارے پانی میں سے ایک قطرہ بھی کم نہیں ہوا۔\" پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت اس عورت کے لیے ایک چادر لائی گئی۔ آپ نے فرمایا، \"جس شخص کے پاس جو بھی چیز ہو وہ لائے۔\" کوئی شخص جوتا لے کر آیا، کوئی شخص کپڑا لے کر آیا، کوئی شخص مٹھی بھر جو لے آیا، کوئی شخص مٹھی بھر گندم لے آیا، یہاں تک کہ وہ سب کچھ اس کے لیے لایا گیا اور اسے باندھ کر دے دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اس کی قوم کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ عورت چلی گئی اور اپنی قوم میں چلی گئی۔ ان لوگوں نے دریافت کیا، \"تم کہاں رہ گئی تھی؟\" اس نے بتایا، \"مجھے قریش سے تعلق رکھنے والے مجنون نے پکڑ لیا تھا۔ اللہ کی قسم! اس میں ایک چیز ہے، یا تو وہ اس اور اس کے درمیان جادوگر ہے۔\" اس عورت کی مراد آسمان اور زمین تھی، \"یا وہ واقعی ہی اللہ کے رسول ہیں۔\" راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے فوجی دستے اس کی قوم کے آس پاس لوگوں پر حملے کرتے رہے، لیکن وہ محفوظ لوگ رہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا، \"اے قوم! اللہ کی قسم! میرا یہ خیال ہے کہ یہ صاحب تمہارے شکریہ کے طور پر ایسا کر رہے ہیں، جو انہوں نے تمہارا پانی استعمال کیا تھا۔ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ تمہارے آس پاس کے لوگوں پر حملہ کیا جا رہا ہے اور تم لوگ محفوظ ہو، تم پر حملہ نہیں کیا جاتا؟ کیا تم لوگ بھلائی چاہتے ہو؟\" لوگوں نے دریافت کیا، \"وہ کیا ہے؟\" اس عورت نے کہا، \"ہم اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیں۔\" راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ تیس خاندانوں کو لے کر آئی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کر لی اور اسلام قبول کر لیا۔""

773

Sunan al-Daraqutni #773

Sahih

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، وَالْقَاسِمُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، نا عَوْفٌ الأَعْرَابِيُّ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، نا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَإِنَّا سَرَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةِ وَلا وَقْعَةَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَى مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِيهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا فُلانُ، مَا لَكَ لَمْ تُصَلِّ مَعَنَا؟ "، قَالَ: أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلا مَاءَ، فَقَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ "، وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا: وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي الإِنَاءِ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي أَفْوَاهِهِمَا وَأَوْكَأَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِيَ، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ أَنِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا، فَسَقَى مَنْ سَقَى، وَاسْتَقَى مَنِ اسْتَقَى، وَآخَرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الرَّجُلَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنَ الْمَاءِ، فَقَالَ: " أَفْرِغْهُ عَلَيْكَ "، وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَصْنَعُ بِمَائِهَا، وَأَيْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَا حِينَ أَقْلَعَ وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلأً مِمَّا كَانَتْ حَيْثُ ابْتَدَأَ فِيهَا، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَهُ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Imran bin Hussain (RA) narrates that we were on a journey with the Prophet (PBUH). We walked all night. When the last part of the night happened, we fell asleep. There is nothing more enjoyable than sleeping at this time. The heat of the sun woke us up. He has quoted the previous hadith. The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) inquired, "O such and such a person! Did you not pray with us?" He said, "O Messenger of Allah! I was afflicted with Janabat and there is no water." So the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "You use clay, it will be better for you." There are also words in this tradition that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) called for a vessel, poured water into the vessel through the mouths of the musketeers, then he rinsed it, put the water in the vessel again, then he again poured that water into the muskets and closed their mouths from the top and opened them from the bottom. Then he announced to the people, "Let them drink water themselves and water their animals." He who wanted to drink himself drank, and he who fed the animals also fed them. In the end, water was given to the person who was afflicted with Janabat. He gave him a pot of water and said, "Pour it over your body." The woman stood and watched what was happening to her water. The narrator says that by Allah! When their mouths were closed, it seemed as if the muskets were even fuller than they had been in the beginning. He has narrated the rest of the hadith like this.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے۔ ہم رات بھر چلتے رہے۔ جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہم اس وقت سو گئے۔ اس وقت سونے سے زیادہ لطف انگیز چیز کوئی نہیں ہے۔ سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کر دیا۔ انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا، \اے فلاں شخص! تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟\" اس نے عرض کیا، \"یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی اور پانی موجود نہیں ہے۔\" تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، \"تم مٹی استعمال کرو، وہ تمہارے لیے بہتر ہوگی۔\" اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن منگوایا، مشکیزوں کے منہ کے ذریعہ برتنوں میں پانی ڈالا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلی کی، برتن میں دوبارہ اس پانی کو ڈال دیا، پھر آپ نے وہ برتن پانی دوبارہ ان مشکیزوں میں ڈال دیا اور ان کا منہ اوپر سے بند کر دیا اور نیچے کی طرف سے کھول دیا۔ پھر لوگوں میں یہ اعلان کیا، \"وہ خود بھی پانی پی لیں اور اپنے جانوروں کو بھی پلا دیں۔\" جس نے خود پینا تھا خود پی لیا، جس نے جانوروں کو پلانا تھا ان کو بھی پلا دیا۔ آخر میں اس شخص کو پانی دیا تھا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ اسے پانی کا ایک برتن دیا اور فرمایا، \"اسے اپنے جسم پر بہا لو۔\" وہ عورت کھڑی ہوئی اور دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جب ان کے منہ کو بند کیا گیا تو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مشکیزے پہلے سے بھی زیادہ بھرے ہوئے ہیں جتنے آغاز میں تھے۔ انہوں نے باقی حدیث اسی کی مانند نقل کی ہے۔""

774

Sunan al-Daraqutni #774

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو كَرْخَوَيْهِ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فِي الرَّجُلِ يَكُونُ فِي السَّفَرِ فَتُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ وَمَعَهُ الْمَاءُ الْقَلِيلُ يَخَافُ أَنْ يَعْطَشَ، قَالَ: يَتَيَمَّمُ وَلا يَغْتَسِلُ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ali (may Allah be pleased with him) says about such a person who is traveling, if he has Janabat and does not have water with him, due to which he is afraid of being thirsty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ جو سفر کر رہا ہو، اسے جنابت لاحق ہو جائے اور اس کے پاس پانی بھی موجود نہ ہو، جس کی وجہ سے اسے پیاسے رہنے کا اندیشہ ہو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص تیمم کر لے گا، وہ غسل نہیں کرے گا۔

775

Sunan al-Daraqutni #775

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَذْعُورٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَتَيَمَّمَ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا " ."

EnglishUnverified translation

It is narrated about Sayyiduna Abdullah bin Umar that once the funeral was brought, he was not in the state of ablution at that time. He performed Tayammum and offered the funeral prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ منقول ہے کہ ایک مرتبہ جنازہ لایا گیا، وہ اس وقت وضو کی حالت میں نہیں تھے۔ انہوں نے تیمم کر کے نماز جنازہ ادا کی۔

776

Sunan al-Daraqutni #776

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَعْدٍ ، نا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، نا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَدْ سَلَسَ مِنْهُ الْبَوْلُ، فَكَانَ يُدَارِي مَا غَلَبَهُ مِنْهُ فَلَمَّا غَلَبَهُ أَرْسَلَهُ، وَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ يَخْرُجُ مِنْهُ " ."

EnglishUnverified translation

Al-Khajri bin Zayd narrates that Sayyidna Zayd bin Thabit (RA) had the disease of dropping urine and he used to pray while the drops were coming out.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خارجہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو پیشاب کے قطرے خارج ہونے کی بیماری تھی اور وہ اس طرح نماز ادا کر لیتے تھے جب کہ قطرے خارج ہو رہے ہوتے تھے۔

777

Sunan al-Daraqutni #777

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: كَبِرَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ حَتَّى سَلَسَ مِنْهُ الْبَوْلُ، فَكَانَ يُدَارِيهِ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِذَا غَلَبَ عَلَيْهِ تَوَضَّأَ وَصَلَّى " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Al-Khajri bin Zayd narrates that Sayyidna Zayd bin Thabit (RA) said Takbeer, then drops of his urine started coming out. They tried to hold back as much as they could, but when he overcame them, they performed ablution and prayed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا خارجہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی، پھر ان کے پیشاب کے قطرے خارج ہونے لگے۔ جہاں تک وہ کر سکتے تھے، انہوں نے روکنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ ان پر غالب آگیا، انہوں نے وضو کر کے نماز ادا کر لی۔

778

Sunan al-Daraqutni #778

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ، نا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: لَوْ سَالَ عَلَى فَخِذِي مَا انْصَرَفْتُ " . قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي الْبَوْلَ إِذَا كَانَ مُبْتَلًى."

EnglishUnverified translation

Saeed bin Musayyib says that if it is flowing on my knees, then I will not finish the prayer. A narrator named Sufyan states that it refers to urine, i.e. when a person is suffering from an illness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اگر وہ میرے زانوں پر بہہ رہا ہو تو پھر میں نماز ختم نہیں کروں گا۔ سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد پیشاب ہے، یعنی جب آدمی بیماری میں مبتلا ہو۔