Sunan al-Daraqutni #901
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وأَبُو أُمَيَّةَ ، ومُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا الشَّافِعِيُّ ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، قَالَ: فَقُلْتُ لأَبِي مَحْذُورَةَ : أَيْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبِرْنِي، قَالَ: نَعَمْ، خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا فِي بَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلاةِ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟ "، فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ وَصَدَّقُوا، فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي، فَقَالَ: " قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلاةِ "، فَقُمْتُ وَلا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَأْمُرُنِي بِهِ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: " قُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " ارْجِعْ فَامْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " قُلْ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ "، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ وَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أَمَرَّ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ حَتَّى بَلَغَتْ يَدُهُ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: " قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ "، وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنْتُ بِالصَّلاةِ عَلَى أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ آلِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَلَى نَحْوِ مَا أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ . هَذَا حَدِيثُ الرَّبِيعِ وَلَفْظُهُ ."
EnglishUnverified translation
Abdullah Bin Mahreez narrates: This Sahib was under the care of Sayyidna Abu Mahzoora Radiyallahu Anhu, when he was sent to Syria, he used to say: I said to Sayyidna Abu Mahzoora Radiyallahu Anhu: Uncle, I am going to go to Syria, I am afraid that I will not be able to ask you about your call to prayer. I went out with some people. We were on the way to Hunain. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was returning from Hunain. Lia: You sent someone to take us until we were brought and stood before the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). All the people pointed towards me: they said rightly: So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) left them all and stopped me. I got up at that time and there was nothing more distasteful to me than what the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) had given me. I stood in front of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar, Ashdaan, Laala illa Allah, Ashhad in Laala illa Allah, Ashhad in Muhammad Rasool Allah, Ashhad in Muhammad Rasool Allah. Then he said to me: Read it again! And spread your voice then you said to me: Now read this: Ashdaan Lailaha illa Allah Ashhad in Lailaha illa Allah Ashhad in Muhammad Rasulullah Ashhad in Muhammad Rasulullah Hai Ali Salat Hai Ali Salat Hai Ali Falah Hai Ali Falah Allah Akbar Allah Akbar La ilaha but Allah. When I finished the call to prayer, the Prophet (peace be upon him) called me and gave me a bag containing some silver. Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) placed his blessed hand on the forehead of Sayyidina Abu Mahzoora, then moved his hand on his face, then moved it on his chest, then moved it on his liver until the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) moved his blessed hand to the navel of Sayyiduna Abu Mahzoora, then the Prophet (peace be upon him) said: May he bless you and shower blessings on you. I allow you to do this. At that time, whatever dislike I had for the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) disappeared and it was all transformed into love for the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). Then I went to Sayyiduna Uttab bin Asaid, who was the governor appointed by the Prophet (peace be upon him), and I started giving the call to prayer under the order of the Prophet (peace be upon him). A narrator named Ibn Juraj has narrated this: I heard this hadith from a man from the descendants of Sayyiduna Abu Mahzoora Radiyallahu Anhu, in the same way that Ibn Muhairiz narrated this hadith to me.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عبداللہ بن محریز بیان کرتے ہیں: یہ صاحب سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش تھے جب انہیں شام بھیجا جانے لگا تو یہ بیان کرتے: میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: چچاجان میں شام جانے لگاہوں مجھے یہ اندیشہ ہے میں آپ سے آپ کی اذان کے بارے میں دریافت نہیں کرسکوں گا: تو آپ مجھے اس بارے میں بتائیے تو انہوں نے جواب دیا: ہاں! میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا ہم حنین کے راستے میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے راستے میں ہمارا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قافلے) سے سامنا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موذن نے نماز کے لیے اذان دی سیدنا ابومحذورہ فرماتے ہیں: ہم نے موذن کی اذان سنی تو ہم نے بھی بلند آواز میں ان الفاظ کو دہرایا ہم اس کا مذاق اڑا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آواز کو سن لیا: آپ نے ہمیں لینے کے لیے کسی کو بھیجا یہاں تک کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لا کر کھڑا کردیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا تم میں سے وہ کون شخص ہے جس کی آواز بلند تھی اور میں نے سنی؟ سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا: انہوں نے ٹھیک کہا: تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو! میں اٹھا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو حکم مجھے دیا تھا میرے نزدیک اس سے زیادہ ناپسندیدہ اور کوئی چیز نہیں تھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذات خود اذان دینے کا طریقہ سکھایا اور فرمایا: تم یہ پڑھو:۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اسے دوبارہ پڑھو! اور اپنی آواز کو پھیلاؤ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اب تم یہ پڑھو:۔ اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔ جب میں نے اذان مکمل کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی عطاء کی جس میں تھوڑی سی چاندی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا محذورہ کی پیشانی پر رکھا پھر ہاتھ ان کے چہرے پر پھیرا ان کے سینے پر پھیرا پھر ان کے جگر پر پھیرا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا ابومحذورہ کی ناف تک پھیرا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ٰ تمہارے اندر برکت نصیب کرے اور تمہارے اوپر برکتیں نازل فرمائے میں تمہیں اس بات کی اجازت دیتاہوں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے میرے من میں جتنی بھی ناپسندیدگی تھی وہ سب ختم ہوگئی اور وہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں تبدیل ہوگئی پھر میں سیدنا عتاب بن اسید کے پاس گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ گورنر تھے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت اذان دینا شروع کردی۔ ابن جریج نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سے اسی طرح یہ روایت سنی ہے جس طرح ابن محیریز نے مجھے یہ حدیث سنائی تھی یہ روایت ربیع نامی راوی کی نقل کردی ہے اس کے الفاظ بھی انہی کے ہیں۔