Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 3 · Chapter 14

Prayer

بَابٌ فِي ذِكْرِ أَذَانِ أَبِي مَحْذُورَةَ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهِباب: حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان کی تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف · بَابُ ذِكْرِ سَعْدٍ الْقَرَظِباب: حضرت سعدالقرظ کا تذکرہ

6 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

901

Sunan al-Daraqutni #901

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وأَبُو أُمَيَّةَ ، ومُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا الشَّافِعِيُّ ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، قَالَ: فَقُلْتُ لأَبِي مَحْذُورَةَ : أَيْ عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبِرْنِي، قَالَ: نَعَمْ، خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا فِي بَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلاةِ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟ "، فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ وَصَدَّقُوا، فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي، فَقَالَ: " قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلاةِ "، فَقُمْتُ وَلا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَأْمُرُنِي بِهِ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: " قُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " ارْجِعْ فَامْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " قُلْ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ "، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ وَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أَمَرَّ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ حَتَّى بَلَغَتْ يَدُهُ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: " قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ "، وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنْتُ بِالصَّلاةِ عَلَى أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ آلِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَلَى نَحْوِ مَا أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ . هَذَا حَدِيثُ الرَّبِيعِ وَلَفْظُهُ ."

EnglishUnverified translation

Abdullah Bin Mahreez narrates: This Sahib was under the care of Sayyidna Abu Mahzoora Radiyallahu Anhu, when he was sent to Syria, he used to say: I said to Sayyidna Abu Mahzoora Radiyallahu Anhu: Uncle, I am going to go to Syria, I am afraid that I will not be able to ask you about your call to prayer. I went out with some people. We were on the way to Hunain. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was returning from Hunain. Lia: You sent someone to take us until we were brought and stood before the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). All the people pointed towards me: they said rightly: So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) left them all and stopped me. I got up at that time and there was nothing more distasteful to me than what the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) had given me. I stood in front of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar, Ashdaan, Laala illa Allah, Ashhad in Laala illa Allah, Ashhad in Muhammad Rasool Allah, Ashhad in Muhammad Rasool Allah. Then he said to me: Read it again! And spread your voice then you said to me: Now read this: Ashdaan Lailaha illa Allah Ashhad in Lailaha illa Allah Ashhad in Muhammad Rasulullah Ashhad in Muhammad Rasulullah Hai Ali Salat Hai Ali Salat Hai Ali Falah Hai Ali Falah Allah Akbar Allah Akbar La ilaha but Allah. When I finished the call to prayer, the Prophet (peace be upon him) called me and gave me a bag containing some silver. Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) placed his blessed hand on the forehead of Sayyidina Abu Mahzoora, then moved his hand on his face, then moved it on his chest, then moved it on his liver until the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) moved his blessed hand to the navel of Sayyiduna Abu Mahzoora, then the Prophet (peace be upon him) said: May he bless you and shower blessings on you. I allow you to do this. At that time, whatever dislike I had for the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) disappeared and it was all transformed into love for the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). Then I went to Sayyiduna Uttab bin Asaid, who was the governor appointed by the Prophet (peace be upon him), and I started giving the call to prayer under the order of the Prophet (peace be upon him). A narrator named Ibn Juraj has narrated this: I heard this hadith from a man from the descendants of Sayyiduna Abu Mahzoora Radiyallahu Anhu, in the same way that Ibn Muhairiz narrated this hadith to me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن محریز بیان کرتے ہیں: یہ صاحب سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش تھے جب انہیں شام بھیجا جانے لگا تو یہ بیان کرتے: میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: چچاجان میں شام جانے لگاہوں مجھے یہ اندیشہ ہے میں آپ سے آپ کی اذان کے بارے میں دریافت نہیں کرسکوں گا: تو آپ مجھے اس بارے میں بتائیے تو انہوں نے جواب دیا: ہاں! میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا ہم حنین کے راستے میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے راستے میں ہمارا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قافلے) سے سامنا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موذن نے نماز کے لیے اذان دی سیدنا ابومحذورہ فرماتے ہیں: ہم نے موذن کی اذان سنی تو ہم نے بھی بلند آواز میں ان الفاظ کو دہرایا ہم اس کا مذاق اڑا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آواز کو سن لیا: آپ نے ہمیں لینے کے لیے کسی کو بھیجا یہاں تک کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لا کر کھڑا کردیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا تم میں سے وہ کون شخص ہے جس کی آواز بلند تھی اور میں نے سنی؟ سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا: انہوں نے ٹھیک کہا: تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو! میں اٹھا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو حکم مجھے دیا تھا میرے نزدیک اس سے زیادہ ناپسندیدہ اور کوئی چیز نہیں تھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذات خود اذان دینے کا طریقہ سکھایا اور فرمایا: تم یہ پڑھو:۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اسے دوبارہ پڑھو! اور اپنی آواز کو پھیلاؤ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اب تم یہ پڑھو:۔ اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔ جب میں نے اذان مکمل کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی عطاء کی جس میں تھوڑی سی چاندی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا محذورہ کی پیشانی پر رکھا پھر ہاتھ ان کے چہرے پر پھیرا ان کے سینے پر پھیرا پھر ان کے جگر پر پھیرا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا ابومحذورہ کی ناف تک پھیرا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ٰ تمہارے اندر برکت نصیب کرے اور تمہارے اوپر برکتیں نازل فرمائے میں تمہیں اس بات کی اجازت دیتاہوں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے میرے من میں جتنی بھی ناپسندیدگی تھی وہ سب ختم ہوگئی اور وہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں تبدیل ہوگئی پھر میں سیدنا عتاب بن اسید کے پاس گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ گورنر تھے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت اذان دینا شروع کردی۔ ابن جریج نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سے اسی طرح یہ روایت سنی ہے جس طرح ابن محیریز نے مجھے یہ حدیث سنائی تھی یہ روایت ربیع نامی راوی کی نقل کردی ہے اس کے الفاظ بھی انہی کے ہیں۔

902

Sunan al-Daraqutni #902

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَأَدْرَكْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ يُؤَذِّنُ كَمَا حَكَى ابْنُ مُحَيْرِيزٍ، وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى مَا حَكَى ابْنُ جُرَيْجٍ وَسَمِعْتُهُ يُقِيمُ، فَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " . وَأَحْسَبُهُ يَحْكِي الإِقَامَةَ خَبَرًا كَمَا يَحْكِي الأَذَانَ."

EnglishUnverified translation

Rabi' states: Imam Shafi'i has said this: I found Ibrahim bin Abdul Aziz and he gave Azad in the same way as Ibn Muhairiz narrated. I think that he has described this Iqamah as the same tradition as he has described the incident of Azan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربعی بیان کرتے ہیں: امام شافعی نے یہ بات بتائی ہے: میں نے ابراہیم بن عبدالعزیز کو پایا انہوں نے اسی طرح اذاد دی جس طرح ابن محیریز نے بیان کی ہے میں نے انہیں اپنے والد کے حوالے سے ابن محیریز کے حوالے سے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اسی مفہوم کی روایت نقل کرتے ہوئے سنا ہے جیسی ابن جریج نے بیان کی ہے میں نے انہیں اقامت کہتے ہوئے سنا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:۔ میرا یہ خیال ہے انہوں نے اس اقامت کو اسی روایت کے طور پر بیان کیا ہے جس طرح انہوں نے اذان کا واقعہ بیان کیا ہے۔

903

Sunan al-Daraqutni #903

Sahih

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، ثنا حَجَّاجٌ ، قَالَ: نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَطْلُبُهُمْ، قَالَ: فَسَمِعْنَاهُمْ يُؤَذِّنُونَ لِلصَّلاةِ فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ سَمِعْتُ فِي هَؤُلاءِ تَأْذِينَ إِنْسَانٍ حَسَنِ الصَّوْتِ "، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَأَذَّنَّا كُلُّنَا رَجُلا رَجُلا فَكُنْتُ آخِرَهُمْ، فَقَالَ حِينَ أَذَّنْتُ: " تَعَالَ "، فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِي وَبَارَكَ عَلَيَّ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " اذْهَبْ فَأَذِّنْ عِنْدَ الْبَيْتِ "، قُلْتُ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَعَلَّمَنِي الأَذَانَ كَمَا يُؤَذَّنُ الآنَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ، أَكْبَرُ اللَّهُ، أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فِي الأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ . قَالَ: وَعَلَّمَنِي الإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ كُلَّهُ عُثْمَانُ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Mahzoora Radiyallahu Anhu narrates: The Prophet, may God bless him and grant him peace, went to Hunain. I followed him with ten men from Mecca. The person gave the adhan separately, I gave the adhan last, then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: You come forward! Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) made me sit in front of him, then he put his hand on my forehead and prayed for me three times, then he said: Go and call the Adhan to the House of Allah. I said: How is that? Ya Rasulullah! So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) taught me the way of calling the call to prayer, the way the call to prayer is given today (the words of the calling to call to prayer were): Allah is great, Allah is great, Allah is great. These words are used in the first call to prayer in the morning. "Salaat khair min sleep Salat khair min sleep". Sayyiduna Abu Mahzoora (may Allah be pleased with him) narrates that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) taught me how to say the words of Iqamah twice (his words are: "The height of the prayer, the height of the prayer, Allahu Akbar, Allahu Akbar, Lailaha illa Allah".

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین تشریف لے گئے، میں مکہ کے دس آدمیوں کے ساتھ پیچھے گیا وہ بیان کرتے ہیں: ہم نے ان لوگوں کو نماز کے لیے اذان دیتے ہوئے سنا تو ہم بھی اٹھ کر اذان دینے لگے، ہم ان کا مذاق اڑا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ان لوگوں میں ایسے شخص کی اذان سنی ہے، جس کی آواز بہت اچھی ہے، پھر آپ نے ہمیں بلوایا، پھر ہم میں سے ہر ایک شخص نے الگ الگ اذان دی، میں نے سب سے آخر میں اذان دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم آگے آؤ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھالیا پھر میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے تین مرتبہ دعا کی، پھر ارشاد فرمایا: جاؤ اور بیت اللہ کے پاس اذان دو میں نے عرض کی: وہ کیسے؟ یارسول اللہ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اذان کا طریقہ سکھایا، جس طرح آج کل اذان دی جاتی ہے (اذان کے الفاظ یہ تھے):۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔ یہ صبح کی پہلی اذان میں الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ '' الصلاۃ خیر من النوم الصلاۃ خیر من النوم ''۔ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اقامت کے کلمات بھی دو مرتبہ کہنے کا طریقہ تعلیم دیا ہے (اس کے الفاظ یہ ہیں:)۔ '' قد قامت الصلاۃ قد قامت الصلاۃ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ ''۔

904

Sunan al-Daraqutni #904

نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ مَوْلًى لَهُمْ، عَنْ أَبِيهِ السَّائِبِ ، وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ ، قَالا: قَالَ أَبُو مَحْذُورَةَ: خَرَجْتُ فِي عَشَرَةِ فِتْيَانٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ وَهُوَ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيْنَا، فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتُونِي بِهَؤُلاءِ الْفِتْيَانِ، فَقَالَ: أَذِّنُوا "، فَأَذَّنُوا فَكُنْتُ آخِرَهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، هَذَا الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ اذْهَبْ فَأَذِّنْ لأَهْلِ مَكَّةَ وَقُلْ لِعَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَذِّنْ لأَهْلِ مَكَّةَ، وَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِي، وَقَالَ: قُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، مَرَّتَيْنِ ثُمَّ ارْجِعْ، وَأَشْهِدْ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَإِذَا أَذَّنْتَ بِالأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، فَقُلِ: الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ مَرَّتَيْنِ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، أَسَمِعْتَ؟ " ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لا يَجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلا يَفْرِقُهَا، لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abu Mahzoora Radiyallahu Anhu narrates: I went to Hunain along with ten young people with the Prophet PBUH. At that time, the Prophet PBUH was the most disliked person to us. When these people gave the call to prayer, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Yes! This is the person from whom I heard the call to prayer. You go and call the call to prayer for the people of Makkah and you say to Atab that the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) has given this order: I call the call to prayer for the people of Makkah. Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar. These words are two times, Ashhad in laala illa Allah, you should read this twice, Ashhad in Muhammad Rasool Allah, Hai ali Salat, twice Hay Ali al Falah, twice Allah akbar, Allah akbar la ilaha illa Allah, when you give the first call to prayer in the morning, say: Salat khair min al-Num. The narrator narrates: Sayyiduna Abu Mahzoora (RA) did not cut the hair of his forehead and did not make alms there because the Prophet (PBUH) touched him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں دس نوجوانوں کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین کے لیے روانہ ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت تھے، ہم اٹھ کر اذان دینے لگے ہم (دراصل ان لوگوں کا) مذاق اڑا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان نوجوانوں کو میرے پاس لاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اذان دو! ان لوگوں نے اذان دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں! یہ وہ شخص ہے جس کی میں نے اذان سنی تھی تم جاؤ اور اہل مکہ کے لیے اذان دیا کرو اور تم عتاب سے کہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے: میں اہل مکہ کے لیے اذان دوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور کہا: تم یہ کہو۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ۔ یہ کلمات دو مرتبہ ہیں، اشھد ان لاالہ الا اللہ، تم دو بار یہ پڑھو اشھد ان محمد رسول اللہ، حی علی الصلاۃ، دو مرتبہ حی علی الفلاح دو مرتبہ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ جب تم صبح کی پہلی اذان دو تو یہ کہو: الصلاۃ خیر من النوم یہ کلمات دو مرتبہ ہیں جب تم اقامت کہو، تو ان کلمات کو دو مرتبہ کہو: قدقامت الصلاۃ، کیا تم نے یہ بات سن لی ہے؟:۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ اپنی پیشانی کے بال نہیں کٹواتے تھے اور وہاں مانگ نہیں نکالتے تھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔

905

Sunan al-Daraqutni #905

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: نا الْحُمَيْدِيُّ ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي مَحْذُورَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْقَى هَذَا الأَذَانَ عَلَيْهِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Mahzoora (RA) narrates: The Prophet (PBUH) taught these words for the call to prayer: Allah is great, Allah is great, Allah is great.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان کے یہ الفاظ سکھائے تھے:۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔

906

Sunan al-Daraqutni #906

Da'if

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وَثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالا: نا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: ثنا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَائِذٍ الْقَرَظُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ، وَعَمَّارُ ، وَعُمَرُ ابْنَا حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ الْقَرَظِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الأَذَانَ أَذَانُ بِلالٍ الَّذِي أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِقَامَتُهُ، وَهُوَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ "، ثُمَّ يَرْجِعُ، فَيَقُولُ: " أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ "، وَالإِقَامَةُ وَاحِدَةٌ وَاحِدَةٌ، وَيَقُولُ: " قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ مَرَّةً وَاحِدَةً "، قَالَ سَعْدُ بْنُ عَائِذٍ: وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا سَعْدُ إِذَا لَمْ تَرَ بِلالا مَعِيَ فَأَذِّنْ "، وَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: " بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ يَا سَعْدُ، إِذَا لَمْ تَرَ بِلالا مَعِيَ فَأَذِّنْ "، قَالَ: فَأَذَّنَ سَعْدٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَاءٍ ثَلاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ: فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ بِلالٌ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ لَهُ عُمَرُ: إِلَى مَنْ أَدْفَعُ الأَذَانَ يَا بِلالُ؟ قَالَ: إِلَى سَعْدٍ ؛ فَإِنَّهُ قَدْ أَذَّنَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَاءٍ، فَدَعَى عُمَرُ سَعْدًا، فَقَالَ: الأَذَانُ إِلَيْكَ وَإِلَى عَقِبِكَ مِنْ بَعْدَكِ، وَأَعْطَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَنَزَةَ الَّتِي كَانَ يَحْمِلُ بِلالٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أمْشِ بِهَا بَيْنَ يَدَيَّ كَمَا كَانَ بِلالٌ يَمْشِي بِهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَرْكَزَهَا بِالْمُصَلَّى فَفَعَلَ."

EnglishUnverified translation

Ammar bin Saad narrates the statement of his father Sayyidna Saad Saad al-Qurz: This is the call to prayer of Sayyidna Bilal Radiyallahu Anhu, which was ordered by the Holy Prophet. Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar, Ashhadan Lailaha illa Allah, Ashhad in Lailaha illa Allah, Ashhad in Muhammad Rasulullah, Ashhad in Muhammad Rasulullah, then he returns and says Ashhad in Lailaha illa Allah, Ashhad in Lailaha illa Allah, Ashhad in Muhammad Rasulullah, Ashhad in Muhammad Rasulullah, Hai Ali Salat, Hai Ali Salat Hai Ali Al Falah, Hai Ali Falah Allah Akbar, Allah Akbar, La ilaha but Allah. His words of Iqamah are: The words of Iqamah became one by one, similarly this sentence was also said once: Sayyidna Saad Radiyallahu Anhu says: The Holy Prophet, may God bless him and grant him peace, said to me: Saad! When you do not see Bilal with me, then give the adhan. The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) turned his blessed hand over his head and said: O Saad! May Allah bless you! When you do not see Bilal with me, give the call to prayer. The narrator used to say: When Syedna Bilal asked (the Caliph at that time) Sayyidna Umar bin Khattab (RA) for permission to go to Jihad, then Sayyidna Umar (RA) asked him: O Bilal, to whom should I entrust the call to prayer? He replied: Sa'd's, because he gave the call to prayer for the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) in Quba'. Sayyiduna Umar called Sa'd and said: The task of giving the call to prayer is entrusted to you and it will be entrusted to your children after you. Sayyiduna Bilal (RA) used to take it and walk it in front of the Prophet (PBUH) and bury it in the Eid Gah, so Sayyidna Sa'd did the same.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عماربن سعد اپنے والد سیدنا سعدسعد القرظ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: یہ اذان سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان ہے، جس کا حکم انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا تھا۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ ثم یرجع فیقول اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان لاالہ الا اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔ ان کی اقامت کے الفاظ یہ ہیں: اقامت کے الفاظ ایک ایک ہوگئے، اسی طرح یہ جملہ بھی ایک مرتبہ کہا: جائے گا قدقامت الصلاۃ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا تھا: اسے سعد! جب تم بلال کو میرے ساتھ نہ دیکھو تو تم اذان دے دیاکرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے سر پر پھیرا اور ارشاد فرمایا اے سعد! اللہ تعالیٰ ٰ تمہیں برکت نصیب کرے! جب تم بلال کو میرے ساتھ نہ دیکھو تو اذان دے دیاکرو راوی بیان کرتے ہیں: پھر حضڑت سعد نے قباء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تین مرتبہ اذان دی۔ راوی بیان کرتے: جب سیدنا بلال نے (اس وقت کے خلیفہ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے جہاد میں جانے کی اجازت مانگی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: اے بلال اب میں اذان کا کام کس کے سپرد کروں؟ تو انہوں نے جواب دیا: سعد کے، کیونکہ انہوں نے قباء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اذان دی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد کو بلایا اور فرمایا: اذان دینے کا کام تمہارے سپرد ہے اور تمہارے بعد تمہارے اولاد کے سپرد ہوگا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہ نیز عطا کیا جسے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اٹھایا کرتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تم اسے لے کر میرے آگے چلا کرو، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے چلا کرتے تھے اور اسے عید گاہ میں گاڑ دیا کرتے تھے، تو سیدنا سعد نے ایسا ہی کیا۔