Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 27 · Chapter 6

Beverages

تَوْرِيثُ الْجَدَّاتِتَوْرِيثُ الْجَدَّاتِ

12 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4131

Sunan al-Daraqutni #4131

مرسل

نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ جَدَّاتٍ السُّدُسَ، اثْنَتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abd al-Rahman bin Yazid (RA) narrates that the Prophet (PBUH) ordered three grandmothers and grandmothers to pay one-sixth of it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دادیوں اور نانیوں کو چھٹاحصہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا ‘ ان میں سے دوباپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی (یعنی دو دادیاں تھیں اور ایک نانی تھی)۔

4132

Sunan al-Daraqutni #4132

Da'if

قُرِئَ عَلَى أَبِي قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَعْطَى الْمِيرَاثَ أُمَّ الأُمِّ، دُونَ أُمِّ الأَبِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَارِثَةَ، وَقَدْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا، أَوْ قَالَ مَرَّةً: رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ الَّتِي لَوْ أَنَّهَا مَاتَتْ هِيَ لَمْ تَرِثْهَا، " فَجَعَلَهُ بَيْنَهُمَا " ."

EnglishUnverified translation

Qasim bin Muhammad narrates that two grandmothers (namely, Yadadi and Nani) came to Sayyidna Abu Bakr, so Sayyidna Abu Bakr named Nani instead of the grandmother, and Abd al-Rahman bin Sahl said to them: 'They have participated in the Battle of Badr.' O Caliph Messenger! You have given the inheritance to her so that if she dies, she (the woman) will not be her heir.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ دو دادیاں (یانانیاں یادادی اور نانی) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دادی کی بجائے نانی کو وارث قراردیاتوعبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ‘ یہ غزوہ بدر میں شریک ہوچکے ہیں (راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں) بنوحارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے یہ کہا: اے سیدنا ابوبکر! اے خلیفہ رسول! آپ نے وراثت اسے دے دی ہے کہ اگر یہ مرجاتی تو (حومہ عورت) اس کی وارث نہ بنتی ‘ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں (دادی اور نانی) کو (مرحومہ عورت کا) وارث قراردیا۔

4133

Sunan al-Daraqutni #4133

Da'if

قُرِئَ عَلَى أَبِي قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، حَدَّثَكُمْ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ جَدَّتَيْنِ أَتَيَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أُمَّ الأُمِّ، وَأُمَّ الأَبِ فَأَعْطَى الْمِيرَاثَ أُمَّ الأُمِّ، دُونَ أُمِّ الأَبِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، أَخُو بَنِي حَارِثَةَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ قَدْ أَعْطَيْتَ الَّتِي لَوْ أَنَّهَا مَاتَتْ لَمْ تَرِثْهَا، فَجَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ بَيْنَهُمَا " ، يَعْنِي: السُّدُسَ."

EnglishUnverified translation

Qasim bin Muhammad narrates that a grandmother and a grandmother came to the service of Sayyidna Abu Bakr (Radi Allahu Anhu). There was a grandmother and a grandmother. So Sayyidna Abu Bakr (Radi Allahu Anhu) ordered to pay the legacy to the grandmother. He did not order for the grandmother. Abd al-Rahman bin Sahl, who belonged to Banu Haritha, said to him: O Caliph Messenger! You have ordered to pay it so that if she died, she would not be his heir, then Sayyiduna Abu Bakr (RA) ordered to pay both of them (the narrator says:) i.e. ordered to pay one-sixth part.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ ایک دادی اور ایک نانی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئیں ‘ ایک نانی تھی اور ایک دادی تھی ‘ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نانی کو وراثت ادا کرنے کا حکم دیا ‘ دادی کے لیے حکم نہیں دیاتوعبدالرحمن بن سہل نے جو بنوحارثہ سے تعلق رکھتے تھے ‘ ان سے کہا: اے خلیفہ رسول! آپ نے اسے ادائیگی کرنے کا حکم دیا ہے کہ اگر یہ مرجاتی تو وہ مرحومہ اس کی وارث نہ بنتی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ادائیگی کرنے کا حکم دیا (راوی کہتے ہیں:) یعنی چھٹے حصے کی ادائیگی کا حکم دیا۔

4134

Sunan al-Daraqutni #4134

Sahih

نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا أَبُو مُجَاهِدٍ الْخُرَاسَانِيُّ اسْمُهُ هِشَامٌ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَعْطَى الْجَدَّةَ أُمَّ الأُمِّ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهَا أُمٍّ السُّدُسَ " ."

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Baridah narrates from his father that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) had ordered the grandmother to pay one-sixth of the share while there was no mother below her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے نانی کو چھٹاحصہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اس سے نیچے کے مرتبے میں کوئی ماں موجود نہ ہو۔

4135

Sunan al-Daraqutni #4135

نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الْجَدَّةَ السُّدُسَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Muaqal bin Yasar (RA) narrates that the Prophet (PBUH) gave Nani (Yadadi) a sixth portion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نانی (یادادی) چھٹاحصہ عطاء کیا تھا۔

4136

Sunan al-Daraqutni #4136

مرسل

نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ ثَلاثَ جَدَّاتٍ، اثْنَتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ " ."

EnglishUnverified translation

Ibrahim bin Yazid narrates that the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) declared three children as heirs, two of them were from the father's side and one was from the mother's side (that is, there were two grandmothers and one was a grandmother).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن یزید بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین جدات کو وارث قراردیا تھا ‘ ان میں سے دو باپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی (یعنی دو دادیاں تھیں اور ایک نانی تھی)۔

4137

Sunan al-Daraqutni #4137

نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا بَحْرُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُوَرِّثُ ثَلاثَ جَدَّاتٍ إِذَا اسْتَوَيْنِ، ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ " ."

EnglishUnverified translation

Al-Khaari bin Zayd narrates this about his father Sayyidna Zayd bin Thabit (RA): He had inherited three valleys of grandmothers, while they were of the same rank, two of them from the father's side and one from the mother's side.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خارجہ بن زید اپنے والد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے تین وادیوں ‘ نانیوں کو وارث قراردیا تھا جبکہ وہ ایک ہی مرتبے کی تھیں ‘ ان میں سے دوباپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی۔

4138

Sunan al-Daraqutni #4138

نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُوَرِّثُ ثَلاثَ جَدَّاتٍ، ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأُمِّ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأَبِ " ، كَذَا قَالَ."

EnglishUnverified translation

It has been narrated about Sayyidna Zayd bin Thabit (RA) that he named three wadis and grandmothers as heirs, of which two were from the maternal side and one was from the father's side.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے تین وادیوں اور نانیوں کو وارث قراردیاتھاجن میں سے دوماں کی طرف سے تھیں اور ایک باپ کی طرف سے تھی۔

4139

Sunan al-Daraqutni #4139

نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَابِرٍ الْقَطَّانُ ، نَا عُمَرُ بْنُ خَالِدٍ، نَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، أَنَّهُ جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Uthman Ghani (RA) says: I testify about Sayyidna Abu Bakr Sadiq (RA) that he has given the status of grandfather and father.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات گواہی دے کر کہتاہوں کہ انہوں نے داداکوباپ کا درجہ دیا ہے۔

4140

Sunan al-Daraqutni #4140

Sahih

نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تُرَجِّلُهُ فَنَزَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: دَعْهَا تُرَجِّلُكَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ جِئْتُكَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي إِنِّي جِئْتُكَ لِنَنْظُرَ فِي أَمْرِ الْجَدِّ، فَقَالَ زَيْدٌ: " لا وَاللَّهِ مَا تَقُولُ فِيهِ؟ "، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هُوَ بِوَحْيٍ حَتَّى نَزِيدَ فِيهِ وَنُنْقِصَ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ تَرَاهُ فَإِنْ رَأَيْتَهُ وَافَقْتَنِي تَبِعْتُهُ وَإِلا لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ فِيهِ شَيْءٌ، فَأَبَى زَيْدٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا، وَقَالَ: قَدْ جِئْتُكَ وَأَنَا أَظُنُّكَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِي، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فِي السَّاعَةِ الَّتِي أَتَاهُ الْمَرَّةَ الأُولَى فَلَمْ يَزَلْ بِهِ، حَتَّى قَالَ: " فَسَأَكْتُبُ لَكَ فِيهِ "، فَكَتَبَهُ فِي قِطْعَةِ قَتَبٍ وَضَرَبَ لَهُ مثلا: إِنَّمَا مَثَلُهُ مثل شَجَرَةٍ تُنْبِتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ فَخَرَجَ فِيهَا غُصْنٌ، ثُمَّ خَرَجَ فِي غُصْنٍ غُصْنٌ آخَرُ، فَالسَّاقُ يَسْقِي الْغُصْنَ فَإِنْ قَطَعْتَ الْغُصْنَ الأَوَّلَ رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْغُصْنِ، وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِي رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الأَوَّلِ، فَأُتِيَ بِهِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ، ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَةَ الْقَتَبِ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِي الْجَدِّ قَوْلا وَقَدْ أَمْضَيْتُهُ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ أَوَّلَ جَدٍّ كَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْمَالَ كُلَّهُ مَالَ ابْنِ ابْنِهِ دُونَ إِخْوَتِهِ، فَقَسَمَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " ."

EnglishUnverified translation

Aqeel bin Khalid narrates: Saeed bin Sulaiman narrated to his father about his grandfather Zayd bin Thabit (RA) that once Sayyidna Umar (RA) asked for permission to enter his house. Zayd Radiyallahu Anhu said: O Commander of the Faithful! If you had sent me a message, 'I would have come to you', then Sayyidna Umar (RA) said: I have come to you on a mission, 'I have come to inquire about the ruling about Dada,' then Sayyidna Zayd (RA) said: 'No! By Allah! What is your opinion about this? So Sayyiduna Umar said: There is no revelation in this matter that we are guilty of any increase or decrease. This is a matter in which you have to give your opinion. If I understand that your opinion is in accordance with my opinion, then I will accept it. Otherwise, there will be no blame on you in this regard. He said: I have come here because you will solve my problem. Then Sayyiduna Umar came to Sayyidna Zayd again at the same time that he had come on the first day and discussed with him about it. Sayyidna Zayd said: I will give you something to write about this. So he wrote it on a piece of palan and explained it with an example. It grows on top of the stem, a branch comes out of it, then another branch comes out of it, that stem conveys the water to this branch, if the first branch is cut, the water will come to this branch, and if the second branch is cut, the water will go to the first branch. He said: I apply what Zayd has said about Dada. The narrator narrates: Sayyidna Umar (RA) was the first grandfather with whom this situation happened. He took all his wealth, that is, he took the property of his grandson and did not take the property of his sisters (i.e. granddaughters).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں: سعید بن سلیمان نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ‘ انہیں اجازت مل گئی (وہ اندر آئے تو دیکھا) ان کا سرایک کنیز کے ہاتھ میں ہے جوان کے بالوں کو کنگھی کررہی ہے ‘ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نیاپناسرالگ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے کنگھی کرنے دو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! آپ مجھے پیغام بھجوا دیتے ‘ میں اپ کے پاس آجاتا ‘ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ایک کام سے آپ کے پاس آیاہوں ‘ میں دادا کے بارے میں حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں! اللہ کی قسم! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس بارے میں کوئی وحی کا حکم تو ہے نہیں کہ ہم کسی اضافے یاکمی کے مرتکب ہوں ‘ یہ تو ایک ایسامعاملہ ہے جس میں تم نے اپنی رائے دینی ہے ‘ اگر میں اس کے بارے میں یہ سمجھوں گا کہ تمہاری رائے میری رائے کے مطابق ہے ‘ تو میں اس کو مان لوں گا ‘ ورنہ تم پر اس بارے میں کوئی الزام نہیں ہوگا ‘ لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں تشریف لے گئے ‘ آپ نے فرمایا: میں تویہاں اس لیے آیا تھا کہ تم میرا مسئلہ حل کردوگے ‘ اسکے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوبارہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے پاس اسی وقت آئے جس وقت میں وہ پہلے دن آئے تھے اور ان کے ساتھ اس بارے میں گفت و شنید کرتے رہے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بارے میں آپ کو کچھ لکھ کے دے دیتاہوں ‘ تو انہوں نے پالان کے ٹکڑے کے اوپر تحریر کرکے دیا اور اسے ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ‘ اس کی مثال ایک درخت کی طرح ہے جو ایک ہی تنے کے اوپر اگتا ہے ‘ اس میں سے ایک ٹہنی نکلتی ہے ‘ پھر اس میں سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے ‘ وہ تنا اس ٹہنی تک پانی کو پہنچاتا ہے ‘ اگر پہلی ٹہنی کو کاٹ دیا جائے تو پانی اس ٹہنی کی طرف آ جائے گا اور اگر دوسری کو کاٹ دیا جائے تو پانی پہلی والی ٹہنی کی طرف چلا جائے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر آگئے تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں اس ٹکڑے پر لکھی ہوئی تحریر سنائی ‘ پھر ارشاد فرمایا: زید نے دادا کے بارے میں جو بات کہی ہے میں اسے لاگوکرتاہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ پہلے دادا تھے جن کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی ‘ انہوں نے اس کا سارامال لے لیا ‘ یعنی اپنے پوتے کا مال لے لیا اور اس کی بہنوں کا (یعنی پوتیوں کا) مال نہیں لیا ‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد اس مال کو تقسیم کروادیا تھا۔

4141

Sunan al-Daraqutni #4141

نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الإِخْوَةَ لِلأَبِ وَالأُمِّ مَا كَانَتْ ."

EnglishUnverified translation

It is narrated about Sayyiduna Umar (RA) that he had ruled that in the presence of siblings (of the deceased), the grandfather would also be a sharer, regardless of the number of siblings.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا تھا (میت کے) سگے بہن بھائیوں کی موجودگی میں دادا بھی حصے دار ہوگا ‘ خواہ سگے بہن بھائیوں کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔

4142

Sunan al-Daraqutni #4142

نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ ، عَنِ الْجَدِّ وَالإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ، وَالأُمِّ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الإِخْوَةَ لِلأَبِ، وَالأُمِّ، وَالإِخْوَةَ لِلأَبِ مَا كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ ثُلُثِ الْمَالِ، فَإِنْ كَثُرَ الإِخْوَةُ فَأَعْطَى الْجَدَّ الثُّلُثَ، وَكَانَ لِلأُخُوَّةِ مَا بَقِيَ، لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ، وَقَضَى أَنَّ بَنَى الأَبِ وَالأُمِّ هُمْ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْ بَنِي الأَبِ ذُكُورِهِمْ وَنِسَائِهِمْ، أَنَّ بَنِي الأَبِ يُقَاسِمُونَ الْجَدِّ بِبَنِي الأَبِ وَالأُمِّ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِمْ، وَلا يَكُونُ لِبَنِي الأَبِ شَيْءٌ مَعَ بَنِي الأَبِ وَالأُمِّ إِلا أَنْ يَكُونَ بَنُو الأَبِ يَرُدُّونَ عَلَى بَنَاتِ الأَبِ وَالأُمِّ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ بَعْدَ فَرَائِضِ بَنَاتِ الأَبِ وَالأُمِّ فَهُوَ لِلأُخُوَّةِ مِنَ الأَبِ، لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ ."

EnglishUnverified translation

Yunus bin Yazid narrates that I inquired from Zuhri about the inheritance of a person who is survived by a grandfather and siblings. Zahri said: Saeed bin Musayb, Ubaidullah bin Abdullah and Qubaysa bin Zuayb have stated that Sayyidna Umar (RA) had given this decision: "The grandfather will share with his siblings and the siblings from the father's side, while one-third of the wealth is better in his favor." It will be given according to the calculation. They also gave this decision. Full-siblings have more rights than co-siblings from the father's side, whether they are male or female. However, if the co-siblings from the father's side are present with the full-siblings, then they will also get their share. If there is anything left after the obligatory share of the sisters, it will be given by the father to the co-brothers under the principle of equal share for one male and two female.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یونس بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے زہری سے ایسے شخص کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا جس کے پس ماندگان میں ایک دادا اور سگے بہن بھائی ہوتے ہیں۔ زہری بتایا: سعید بن مسیب ‘ عبیداللہ بن عبداللہ اور قبیصہ بن ذؤیب نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ دیا تھا ‘ داداسگے بہن بھائیوں اور باپ کی طرف سے شریک بہن بھائیوں کے ساتھ حصہ دار ہوگا جبکہ ایک تہائی مال میں سے مقاسمت کے اس کے حق میں بہتر ہو ‘ اگر بہن بھائیوں کی تعداد زیادہ ہو ‘ تو داداکو ایک تہائی حصہ دے دیا جائے گا اور باقی سب بہن بھائیوں کو ایک مذکرکاحصہ دومؤنث کے برابر کے حساب سے دیا جائے گا ‘ انہوں نے یہ فیصلہ بھی دیا تھا ‘ سگے بہن بھائی صرف باپ کی طرف سے شریک بہن بھائیوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں ‘ خواہ وہ مذکرہوں یامؤنث ہوں ‘ البتہ اگر باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی ‘ سگے بہن بھائیوں کے ساتھ موجودہوں تو انہیں بھی ان کا حصہ ملے گا البتہ باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی سگے بہن بھائیوں کے ہمراہ کچھ حاصل نہیں کریں ماسوائے اس صورت کے جب باپ کی طرف سے شریک بھائی سگی بہنوں کی طرف (وراثت کو) لوٹادیں اور سگی بہنوں کے فرض حصے کے بعد اگر کچھ باقی رہ جائے گا تو وہ باپ کی طرف سے شریک بھائیوں کو ایک مذکرکے لیے دومؤنث کے برابر حصے کے اصول کے تحت مل جائے گا۔