نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تُرَجِّلُهُ فَنَزَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: دَعْهَا تُرَجِّلُكَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ جِئْتُكَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي إِنِّي جِئْتُكَ لِنَنْظُرَ فِي أَمْرِ الْجَدِّ، فَقَالَ زَيْدٌ: " لا وَاللَّهِ مَا تَقُولُ فِيهِ؟ "، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هُوَ بِوَحْيٍ حَتَّى نَزِيدَ فِيهِ وَنُنْقِصَ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ تَرَاهُ فَإِنْ رَأَيْتَهُ وَافَقْتَنِي تَبِعْتُهُ وَإِلا لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ فِيهِ شَيْءٌ، فَأَبَى زَيْدٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا، وَقَالَ: قَدْ جِئْتُكَ وَأَنَا أَظُنُّكَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِي، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فِي السَّاعَةِ الَّتِي أَتَاهُ الْمَرَّةَ الأُولَى فَلَمْ يَزَلْ بِهِ، حَتَّى قَالَ: " فَسَأَكْتُبُ لَكَ فِيهِ "، فَكَتَبَهُ فِي قِطْعَةِ قَتَبٍ وَضَرَبَ لَهُ مثلا: إِنَّمَا مَثَلُهُ مثل شَجَرَةٍ تُنْبِتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ فَخَرَجَ فِيهَا غُصْنٌ، ثُمَّ خَرَجَ فِي غُصْنٍ غُصْنٌ آخَرُ، فَالسَّاقُ يَسْقِي الْغُصْنَ فَإِنْ قَطَعْتَ الْغُصْنَ الأَوَّلَ رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْغُصْنِ، وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِي رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الأَوَّلِ، فَأُتِيَ بِهِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ، ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَةَ الْقَتَبِ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِي الْجَدِّ قَوْلا وَقَدْ أَمْضَيْتُهُ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ أَوَّلَ جَدٍّ كَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْمَالَ كُلَّهُ مَالَ ابْنِ ابْنِهِ دُونَ إِخْوَتِهِ، فَقَسَمَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " ."
EnglishUnverified translation
Aqeel bin Khalid narrates: Saeed bin Sulaiman narrated to his father about his grandfather Zayd bin Thabit (RA) that once Sayyidna Umar (RA) asked for permission to enter his house. Zayd Radiyallahu Anhu said: O Commander of the Faithful! If you had sent me a message, 'I would have come to you', then Sayyidna Umar (RA) said: I have come to you on a mission, 'I have come to inquire about the ruling about Dada,' then Sayyidna Zayd (RA) said: 'No! By Allah! What is your opinion about this? So Sayyiduna Umar said: There is no revelation in this matter that we are guilty of any increase or decrease. This is a matter in which you have to give your opinion. If I understand that your opinion is in accordance with my opinion, then I will accept it. Otherwise, there will be no blame on you in this regard. He said: I have come here because you will solve my problem. Then Sayyiduna Umar came to Sayyidna Zayd again at the same time that he had come on the first day and discussed with him about it. Sayyidna Zayd said: I will give you something to write about this. So he wrote it on a piece of palan and explained it with an example. It grows on top of the stem, a branch comes out of it, then another branch comes out of it, that stem conveys the water to this branch, if the first branch is cut, the water will come to this branch, and if the second branch is cut, the water will go to the first branch. He said: I apply what Zayd has said about Dada. The narrator narrates: Sayyidna Umar (RA) was the first grandfather with whom this situation happened. He took all his wealth, that is, he took the property of his grandson and did not take the property of his sisters (i.e. granddaughters).
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں: سعید بن سلیمان نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ‘ انہیں اجازت مل گئی (وہ اندر آئے تو دیکھا) ان کا سرایک کنیز کے ہاتھ میں ہے جوان کے بالوں کو کنگھی کررہی ہے ‘ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نیاپناسرالگ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے کنگھی کرنے دو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! آپ مجھے پیغام بھجوا دیتے ‘ میں اپ کے پاس آجاتا ‘ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ایک کام سے آپ کے پاس آیاہوں ‘ میں دادا کے بارے میں حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں! اللہ کی قسم! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس بارے میں کوئی وحی کا حکم تو ہے نہیں کہ ہم کسی اضافے یاکمی کے مرتکب ہوں ‘ یہ تو ایک ایسامعاملہ ہے جس میں تم نے اپنی رائے دینی ہے ‘ اگر میں اس کے بارے میں یہ سمجھوں گا کہ تمہاری رائے میری رائے کے مطابق ہے ‘ تو میں اس کو مان لوں گا ‘ ورنہ تم پر اس بارے میں کوئی الزام نہیں ہوگا ‘ لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں تشریف لے گئے ‘ آپ نے فرمایا: میں تویہاں اس لیے آیا تھا کہ تم میرا مسئلہ حل کردوگے ‘ اسکے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوبارہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے پاس اسی وقت آئے جس وقت میں وہ پہلے دن آئے تھے اور ان کے ساتھ اس بارے میں گفت و شنید کرتے رہے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بارے میں آپ کو کچھ لکھ کے دے دیتاہوں ‘ تو انہوں نے پالان کے ٹکڑے کے اوپر تحریر کرکے دیا اور اسے ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ‘ اس کی مثال ایک درخت کی طرح ہے جو ایک ہی تنے کے اوپر اگتا ہے ‘ اس میں سے ایک ٹہنی نکلتی ہے ‘ پھر اس میں سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے ‘ وہ تنا اس ٹہنی تک پانی کو پہنچاتا ہے ‘ اگر پہلی ٹہنی کو کاٹ دیا جائے تو پانی اس ٹہنی کی طرف آ جائے گا اور اگر دوسری کو کاٹ دیا جائے تو پانی پہلی والی ٹہنی کی طرف چلا جائے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر آگئے تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں اس ٹکڑے پر لکھی ہوئی تحریر سنائی ‘ پھر ارشاد فرمایا: زید نے دادا کے بارے میں جو بات کہی ہے میں اسے لاگوکرتاہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ پہلے دادا تھے جن کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی ‘ انہوں نے اس کا سارامال لے لیا ‘ یعنی اپنے پوتے کا مال لے لیا اور اس کی بہنوں کا (یعنی پوتیوں کا) مال نہیں لیا ‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد اس مال کو تقسیم کروادیا تھا۔