Sunan al-Daraqutni #684
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا أَكَانَ يَتَيَمَّمُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لا يَتَيَمَّمُ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6، فَقَالَ لَهُ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرُدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: فَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ تَمْسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ " . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَرَ عُمَرُ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ، وَقَالَ يُوسُفُ: " أَنْ تَضْربَ بِكَفَّيْكَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ تَمْسَحَهُمَا ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ "، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَمْ تَرَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ."
EnglishUnverified translation
Shaqiq narrates: Once I was sitting with Sayyidna Abdullah bin Masoud and Sayyidna Abu Musa Ash'ari (may Allah be pleased with them). Sayyidna Abu Musa Ash'ari (RA) said: "O Abu Abd al-Rahman! What do you think if a person who becomes janib does not get water for a month, he will continue to perform tayammum during that time?" So Sayyiduna Abdullah said: "He will not perform Tayammum, even if he does not get water for a month." So Sayyiduna Abu Musa Ash'ari said: "Then what will you say about this verse? Which is present in Surah Al-Maida (God's guidance) 'then you do not find water, then perform tayammum through pure soil'." Sayyiduna Abdullah Bin Mas'ud Radiyallahu Anhu said: "If people are given permission in this regard, a time will soon come when they will find the water cold, so they will start doing tayammum with pure mud." The narrator narrates: Sayyiduna Abu Musa asked him: "You dislike him for this reason?" He replied: "Yes." So Sayyidna Abu Musa said to him: "Didn't you hear what Ammar said to Sayyidna Umar?" (He narrated): The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) sent me on some errand. I got sidetracked, I didn't get water. I collapsed into the mud like an animal. Then I attended the service of the Holy Prophet. When I mentioned this to him, the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: "It was enough for you that you would wipe both hands on the ground with one of them and then wipe your face with both of them." So Sayyidna Abdullah replied: "You did not think about Sayyidna Umar Radiyallahu Anhu, Sayyidna Umar was not satisfied with the statement of Sayyidna Ammar Radi Allahu Anhu." The words of a narrator named Yusuf are: "You wipe both your hands on the ground, then wipe your face and both arms with them." Sayyidna Abdullah said: "Have you not seen this? Sayyidna Umar (may Allah be pleased with him) did not content himself with the statement of Sayyidna Ammar (may Allah be pleased with him)."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
شقیق بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابو عبدالرحمن! آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے وہ اس دوران تیمم کرتا رہے گا؟“ تو سیدنا عبداللہ نے ارشاد فرمایا: ”وہ تیمم نہیں کرے گا، اگرچہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے فرمایا: ”پھر آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے؟ جو سورة مائدہ میں موجود ہے (ارشاد باری تعالیٰ) ’پھر تم پانی نہیں پاتے ہو تو پاک مٹی کے ذریعے تیمم کر لو‘۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو اس بارے میں اجازت دے دی جائے تو عنقریب ایسا وقت آئے گا جب انہیں پانی ٹھنڈا لگے گا تو وہ پاک مٹی سے تیمم کرنے لگیں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ نے ان سے دریافت کیا: ”آپ اس وجہ سے اس کو ناپسند کرتے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ نے ان سے فرمایا: ”آپ نے وہ بات نہیں سنی؟ جو عمار رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی؟“ (انہوں نے بیان کیا تھا): نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام کے سلسلے میں بھیجا۔ میں جنبی ہو گیا مجھے پانی نہ ملا۔ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا جس طرح کوئی جانور ہو جاتا ہے۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ آپ سے کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا کافی تھا کہ تم دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ان میں سے ایک کے ذریعے دوسرے پر مسح کر لیتے پھر ان دونوں کے ذریعے اپنے چہرے کا مسح کر لیتے۔“ تو سیدنا عبداللہ نے جواب دیا: ”آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں غور نہیں کیا، سیدنا عمر نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بیان پر قناعت نہیں کی تھی۔“ یوسف نامی راوی کے الفاظ یہ ہیں: ”تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ان کا مسح کرو پھر ان کے ذریعے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کر لو۔“ سیدنا عبداللہ نے یہ فرمایا: ”کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بیان پر قناعت نہیں کی (یعنی اکتفا نہیں کیا)۔“