حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، نَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَأَنَا فِي تِبَاعَةٍ لِي هَكَذَا، قَالَ: أَبِيعُهَا، فَمَرَّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ تُفْلِحُوا، وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ بِالْحِجَارَةِ وَقَدْ أَدْمَى كَعْبَيْهِ وَعُرْقُوبَيْهِ وَهُوَ، يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لا تُطِيعُوهُ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، فَقَالُوا: هَذَا غُلامُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ؟، قَالُوا: هَذَا عَمُّهُ عَبْدُ الْعُزَّى وَهُوَ أَبُو لَهَبٍ، فَلَمَّا ظَهَرَ الإِسْلامُ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ أَقْبَلْنَا فِي رَكْبٍ مِنَ الرَّبَذَةِ وَجَنُوبِ الرَّبَذَةِ حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ وَمَعَنَا ظَعِينَةٌ لَنَا، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ إِذْ أَتَانَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ؟، قُلْنَا: مِنَ الرَّبَذَةِ وَجَنُوبِ الرَّبَذَةِ، قَالَ: وَمَعَنَا جَمَلٌ أَحْمَرُ، قَالَ: تَبِيعُونِي جَمَلَكُمْ هَذَا؟، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: بِكُمْ؟، قُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَمَا اسْتَوْضَعْنَا شَيْئًا، وَقَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِرَأْسِ الْجَمَلِ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَتَوَارَى عَنَّا، فَتَلاوَمْنَا بَيْنَنَا، وَقُلْنَا: أَعْطَيْتُمْ جَمَلَكُمْ مَنْ لا تَعْرِفُونَهُ، فَقَالَتِ الظَّعِينَةُ: لا تَلاوَمُوا فَقَدْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ مَا كَانَ لِيَحْقَرَكُمْ، مَا رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ أَشْبَهَ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مِنْ وَجْهِهِ، فَلَمَّا كَانَ الْعِشَاءُ أَتَانَا رَجُلٌ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ، أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ، وَإِنَّهُ أَمَرَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ هَذَا حَتَّى تَشْبَعُوا وَتَكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا، قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا، وَاكْتَلْنَا حَتَّى اسْتَوْفَيْنَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ، وَهُوَ يَقُولُ: يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، فَقَالَ: أَلا لا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ " ."
EnglishUnverified translation
Sayyidna Tariq bin Abdullah Moharibi (RA) narrates that I visited the Prophet (PBUH) twice. Once I saw him in the market of Dhul Majaz. I was there with my goods which I had kept there for sale. Similarly, when the Prophet (PBUH) passed by, he was wearing a red halwa and he was saying in a loud voice, O people! A man was walking behind you holding a stone, the person who had seriously injured you was saying, O people, do not listen to them because they are lying, so I asked who is this sir? So people said that this is a young man from the descendants of Abdul Muttalib. People said that it was his uncle Abd al-Azi (says the narrator) it was Abul Hab. Then when Islam prevailed and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) came to Madinah, we came with some horsemen from Rabdah and the southern areas of Rabdah, and we camped near Madinah. There was a woman with us. We replied from Rabdah and the narrator from the southern areas of Rabdah says that we had red camels with us. They inquired whether you will sell your camels. So we answered yes, they inquired, for how much? We said: In exchange for so many sa's of dates, they did not ask us to make any reduction. Then they took hold of the camel's head and went inside the city and disappeared from our sight. We began to blame each other. I have seen a thing (which proves it) that they will not disgrace you. I have not seen the face of any person like that. You look more like the fourteenth moon than a young one. Then when it was time for Isha, a person came to us and said, "Peace be upon you. I am the messenger of Allah's Messenger who has come to you. He has instructed you to eat your fill of these dates and measure them completely." The next day we entered the city of Madinah, and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was standing on the pulpit and giving a sermon to the people. He was saying: The giving hand is the upper hand and you start the spending on the person who is under your care, your mother, your father, your sister, your brother and your closest loved one. Then an Ansari stood up and said, O Messenger of Allah, this Banu Taalba, who killed such and such a person in the time of Jahiliyyah. He will not pay ransom on behalf of his children.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو مرتبہ زیارت کی ہے ایک مرتبہ میں نے آپ کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا ہے میں اپنے سامان کے ساتھ وہاں موجود تھا جو میں نے فروخت کرنے کے لیے وہاں رکھا ہوا تھا، اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے گزرے تو آپ نے سرخ حلہ زیب تن کیا ہوا تھا اور آپ بلند آواز میں یہ ارشاد فرما رہے تھے، اے لوگو! لاالہ الا اللہ پڑھ لو توفلاح پاجاؤ گے ایک شخص پتھر پکڑ کر آپ کے پیچھے جارہا تھا، جس نے آپ کو شدید زخمی کردیا تھا وہ شخص یہ کہتا جارہا تھا، اے لوگو ان کی بات نہ مانو کیونکہ یہ جھوٹ بولتے ہیں تو میں نے پوچھایہ کون صاحب ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا یہ عبدالمطلب کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ہیں، میں نے دریافت کیا یہ ان کے پیچھے جانے والاشخص جوا نہیں پتھر ماررہا تھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ان کا چچا عبدالعزی ہے (راوی کہتے ہیں) یہ ابوالہب تھا۔ پھر جب اسلام غالب ہوگیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے توہم ربدہ سے اور ربدہ کے جنوبی علاقوں سے کچھ سواروں کے ہمراہ آئے اور مدینہ منورہ کے قریب ہم نے پڑاؤ کیا ہمارے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں راوی کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران ایک صاحب ہمارے پاس تشریف لائے جنہوں نے دوسفید کپڑے پہن رکھے تھے، انہوں نے سلام کیا، ہم نے انہیں جواب دیا، انہوں نے دریافت کیا آپ لوگ کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے جواب دیا ربدہ سے اور ربذہ کے جنوبی علاقوں سے راوی کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سرخ اونٹ بھی تھے انہوں نے دریافت کیا کیا تم اپنے اونٹ فروخت کرو گے؟ تو ہم نے جواب دیا جی ہاں انہوں نے دریافت کیا، کتنے کے عوض میں؟ ہم نے کہا: کھجوروں کے اتنے اتنے صاع کے عوض میں، تو انہوں نے ہمیں کوئی کمی کرنے کے لیے نہیں کہا: پھر انہوں نے اونٹ کے سر کو پکڑا اور مدینے کے اندر چلے گئے اور ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگئے توہم لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے کہا: کہ تم لوگوں نے اپنااونٹ ایک ایسے شخص کودے دیا جس سے تم واقف ہی نہیں ہو تو وہ عورت (جو ہمارے ساتھ تھی) وہ بولی: تم ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو میں نے ان صاحب کے چہرے میں ایک ایسی چیز دیکھی ہے (جس سے یہ ثابت ہوتا ہے) کہ یہ تمہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے میں نے کسی بھی شخص کا چہرہ ایسا نہیں دیکھا جوان سے زیادہ چودھویں کے چاند سے مشابہت رکھتا ہو پھر جب عشاء کا وقت ہوا تو ایک شخص ہمارے پاس آیا اور بولاالسلام علیکم، میں اللہ کے رسول کا قاصد ہوں جو تمہارے پاس آیا ہوں، انہوں نے تمہیں یہ ہدایت کی ہے کہ تم ان کھجوروں کو سیر ہو کرکھالو اور پوری طرح سے ماپ بھی لو راوی کہتے ہیں ہم نے انہیں سیر ہو کرکھایا اور پھر پوری طرح ماپ لیا اگلے دن ہم مدینہ شہر میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو کرلوگوں کو خطبہ دے رہے تھے آپ ارشاد فرما رہے تھے۔ دینے والا ہاتھ اوپروالا ہوتا ہے اور تم اس شخص پر خرچ کا آغاز کرو جو تمہارے زیر کفالت ہو، تمہاری والدہ، تمہارے والد تمہاری بہن، تمہارا بھائی اور تمہارے درجہ بدرجہ قریبی عزیز تو ایک انصاری کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی یارسول اللہ یہ بنوثعلبہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کیا تھا، آپ ہمیں ان سے بدلہ دلوادیے تو نبی نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھ لیا آپ نے ارشاد فرمایا، باپ اپنی اولاد کی طرف سے تاوان ادا نہیں کرے گا۔