Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 1 · Chapter 41

Purification

بَابُ مَا رُوِيَ فِي النَّوْمِ قَاعِدًا لَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَباب: بیٹھے ہوئے سو جانا وضو نہیں توڑتا، اس بارے میں جو کچھ منقول ہے · بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبْوَالِ الْإِبِلِباب: اونٹ کے پیشاب سے متعلق جو کچھ منقول ہے

4 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

473

Sunan al-Daraqutni #473

قُرِئَ عَلَى قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ: حَدَّثَكُمْ طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ ، نا أَبُو هِلالٍ ، نا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَنَامُ فَلا نُحْدِثُ لِذَلِكَ وُضُوءًا " . صَحِيحٌ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Anas (may Allah be pleased with him) narrates: We used to come to the mosque of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and go to sleep. This tradition is authentic.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں آ جاتے تھے، اور سو جایا کرتے تھے تو ہم لوگ (سو جانے کی وجہ سے) دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے۔ یہ روایت مستند ہے۔

474

Sunan al-Daraqutni #474

أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقَظُونَ لِلصَّلاةِ، حَتَّى إِنِّي لأَسْمَعُ لأَحَدِهِمْ غَطِيطًا ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلا يَتَوَضَّئُونَ " . قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: هَذَا عِنْدَنَا وَهُمْ جُلُوسٌ صَحِيحٌ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Anas (RA) narrates: I saw the Companions of the Holy Prophet (SAW) who used to get up to pray, and sometimes I even heard one of them snoring, but they would get up and pray again and not perform ablution again. A narrator named Ibn Mubarak has stated this: "For us, this order is when these people used to sleep while sitting." This hadith is authentic.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے، انہیں نماز پڑھنے کے لیے اٹھایا جاتا تھا، یہاں تک کہ بعض اوقات میں ان میں سے کسی کے خراٹے بھی سن لیتا تھا، لیکن وہ پھر اٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ ابن مبارک نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: ”ہمارے نزدیک یہ حکم اس وقت ہے جب یہ لوگ بیٹھے ہوئے سو جاتے تھے۔“ یہ حدیث مستند ہے۔

475

Sunan al-Daraqutni #475

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ حَتَّى يُخْفِقُوا بِرُءُوسِهِمْ، ثُمَّ يَقُومُونَ يُصَلُّونَ وَلا يَتَوَضَّئُونَ " . صَحِيحٌ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Anas (may Allah be pleased with him) narrates: The Companions of the Holy Prophet (may Allah bless him and grant him peace) used to wait for the call to prayer until Isha, until their heads were bowed down (i.e. they fell asleep), then they would get up and perform the prayer and not perform ablution again. This tradition is authentically transmitted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم عشاء کی اذان کے انتظار میں ہوتے تھے، یہاں تک کہ ان کے سر جھک جایا کرتے تھے (یعنی وہ سو جاتے تھے)، پھر وہ اٹھ کر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ یہ روایت مستند طور پر منقول ہے۔

476

Sunan al-Daraqutni #476

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، نا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ شِئْتُمْ خَرَجْتُمْ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا "، فَفَعَلُوا ذَلِكَ وَصَحُّوا فَأَقْبَلُوا عَلَى الرُّعَاةِ فَقَتَلُوهُمْ، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَتُرِكُوا بِالْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Anas bin Malik (may Allah be pleased with him) narrates: Some people from the ``Arina tribe came to Madinah to serve the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). The climate there did not suit them, so the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said to them: "If you people want, go to the charity camels and drink their milk and urine there." They did so and they recovered, then they went to the herdsman of those camels and killed him and took the camels of the Prophet with them and left Islam and became apostates. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) sent people after him. When they were caught, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) cut off their hands and feet and put stitches in their eyes and then threw them on the rocky ground until they died in that state.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”عرینہ“ قبیلے کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے، وہاں کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم لوگ چاہو تو صدقے کے اونٹوں کی طرف چلے جاؤ اور وہاں ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا تو وہ تندرست ہو گئے، پھر وہ لوگ ان اونٹوں کے چرواہے کے پاس گئے اور اسے قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹوں کو اپنے ساتھ ہانک کر لے گئے اور اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگوں کو بھیجا۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور پھر انہیں پتھریلی زمین پر ڈال دیا گیا، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔