Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 27 · Chapter 2660

سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات و اطوار

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی

2 hadiths in this chapter

4055

Silsila Sahiha #4055

Sahih

- (ذاك إبراهيم عليه السلام. يعني: انه خير البرية).- (ذاك إبراهيم عليه السلام. يعني: أنّه خير البريّة).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے خیر البرّیہ! (‏‏‏‏یعنی مخلوقات میں سے بہترین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (‏‏‏‏وصف تو) ابراہیم علیہ السلام کا تھا۔“

4056

Silsila Sahiha #4056

Sahih

-" عجبت لصبر اخي يوسف وكرمه - والله يغفر له - حيث ارسل إليه ليستفتي في الرؤية، ولو كنت انا لم افعل حتى اخرج، وعجبت لصبره وكرمه - والله يغفر له - اتى ليخرج فلم يخرج حتى اخبرهم بعذره، ولو كنت انا لبادرت الباب".-" عجبت لصبر أخي يوسف وكرمه - والله يغفر له - حيث أرسل إليه ليستفتي في الرؤية، ولو كنت أنا لم أفعل حتى أخرج، وعجبت لصبره وكرمه - والله يغفر له - أتى ليخرج فلم يخرج حتى أخبرهم بعذره، ولو كنت أنا لبادرت الباب".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنے بھائی یوسف علیہ السلام، اﷲ تعالیٰ ٰ ان کو معاف فرمائے، کے صبر اور کشادہ دلی پر بڑا تعجب ہے، جب ان کی طرف خواب کی تعبیر بیان کرنے کا پیغام بھیجا گیا۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تعبیر بیان کرنے سے پہلے (‏‏‏‏جیل سے) باہر نکل آتا۔ بس ان کے صبر اور فیاضی پر بڑا تعجب ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے، ان کے پاس آدمی آیا تاکہ وہ باہر نکل آئیں لیکن وہ اس وقت تک نہ نکلے، جب تک ان پر اپنے عذر کی وضاحت نہیں کر دی۔ اگر میں ہوتا تو دروازے کی طرف لپک پڑتا۔ اگر ”اپنے آقا کے پاس میرا تذکرہ کرنا“ (‏‏‏‏سورۃ یوسف: ۴۲) والی بات نہ ہوتی تو وہ جیل میں نہ ٹھہر تے، جب کہ وہ غیر اللہ سے پریشانی کا ازالہ چاہ رہے تھے۔“