Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 26 · Chapter 2595

جنت اور جہنم

الکوثر کی تفسیر اور اس کی کیفیت

3 hadiths in this chapter

3972

Silsila Sahiha #3972

Sahih

-" اعطيت الكوثر، فإذا هو نهر يجري [كذا على وجه الارض] ولم يشق شقا، فإذا حافتاه قباب الؤلؤ، فضربت بيدي إلى تربته، فإذا هو مسكة ذفرة، وإذا حصاه اللؤلؤ".-" أعطيت الكوثر، فإذا هو نهر يجري [كذا على وجه الأرض] ولم يشق شقا، فإذا حافتاه قباب الؤلؤ، فضربت بيدي إلى تربته، فإذا هو مسكة ذفرة، وإذا حصاه اللؤلؤ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» ‏‏‏‏ (۱۰۸-الکوثر:۱) ”بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے۔“ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کوثر عطا کی گئی ہے، وہ ایک نہر ہے جو بغیر شق کے سطح زمین پر چلتی ہے، اس کے کناروں پر لؤلؤ موتیوں کے قبے ہیں، میں نے اپنا ہاتھ اس کی مٹی پر مارا تو کیا دیکھتا کہ وہ تو انتہائی تیز مہکنے والی کستوری ہے اور اس کی کنکریاں لؤلؤ موتی ہیں۔“

3973

Silsila Sahiha #3973

Sahih

- (بينا انا اسير في الجنة؛ إذ عرض لي نهر حافتاه قباب اللؤلؤ، قلت للملك: ما هذا [يا جبريل]؟! قال: هذا الكوثر الذي اعطاكه الله، قال: ثم ضرب بيده إلى طينه (¬1)، فاستخرج مسكا، ثم رفعت لي سدرة المنتهى، فرايت عندها نورا عظيما).- (بينا أنا أسير في الجنة؛ إذ عُرضَ لي نهرٌ حافتاه قباب اللؤلؤ، قلت للملك: ما هذا [يا جبريل]؟! قال: هذا الكوثر الذي أعطاكه الله، قال: ثم ضرب بيده إلى طينه (¬1)، فاستخرج مسكاً، ثم رُفعت لي سِدرةُ المنتهى، فرأيت عندها نوراً عظيماً).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں چل رہا تھا، کہ ایک نہر تک جا پہنچا، اس کے کناروں پر لؤلؤ کے قبے تھے۔ میں نے فرشتے سے کہا: جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ وہی نہر کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی۔“ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس کی مٹی پر مارا اور (‏‏‏‏مٹی کی جگہ پر) کستوری نکالی۔ ”پھر «سدرة المنتهى» کو میرے سامنے لایا گیا، میں نے اس کے پاس بہت زیادہ نور دیکھا۔“

3974

Silsila Sahiha #3974

Sahih

-" ذاك نهر اعطانيه الله - يعني - في الجنة، اشد بياضا من اللبن واحلى من العسل فيه طير اعناقها كاعناق الجزر. قال عمر: إن هذه لناعمة: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اكلتها انعم منها".-" ذاك نهر أعطانيه الله - يعني - في الجنة، أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل فيه طير أعناقها كأعناق الجزر. قال عمر: إن هذه لناعمة: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكلتها أنعم منها".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا: کوثر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”‏‏‏‏وہ جنت میں ایک نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس میں ایسے پرندے ہیں جن کر گردنیں اونٹنیوں کی گردنوں کی طرح ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تو بڑے موٹے تازے پرندے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو کھانا اس سے بھی زیادہ خوشگوار ہو گا۔“