Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 24 · Chapter 2384

فتنے، علامات قیامت اور حشر

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض .، بدعتی لوگ حوض سے دور دھتکار دیے جائیں گے

3 hadiths in this chapter

3703

Silsila Sahiha #3703

Sahih

- (إن لي حوضا ما بين الكعبة وبيت المقدس، ابيض مثل اللبن؛ آنيتة عدد النجوم، وإني لاكثر الانبياء تبعا يوم القيامة).- (إن لي حوضاً ما بينَ الكعبةِ وبيتِ المقدِسِ، أبيضَ مثلَ اللّبن؛ آنِيَتُةُ عدَدَ النُّجُومِ، وإني لأكثرُ الأنبياءِ تبعاً يومَ القيامةِ).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض کی وسعت کی مسافت کعبہ سے بیت المقدس کی مسافت جتنی ہے، اس کا پانی دودھ کی طرح سفید ہے، اس کے آبخورے ستاروں کی تعداد کے بقدر ہیں اور قیامت والے دن میرے پیروکار سب انبیاء کے امتیوں سے زیادہ ہوں گے۔“

3704

Silsila Sahiha #3704

Sahih

-" حوضي ما بين عدن إلى عمان ماؤه اشد بياضا من الثلج واحلى من العسل واكثر الناس ورودا عليه فقراء المهاجرين الشعث رءوسا، الدنس ثيابا، الذين لا ينكحون المتنعمات ولا تفتح لهم ابواب السدد، الذين يعطون الحق الذي عليهم ولا يعطون الذي لهم".-" حوضي ما بين عدن إلى عمان ماؤه أشد بياضا من الثلج وأحلى من العسل وأكثر الناس ورودا عليه فقراء المهاجرين الشعث رءوسا، الدنس ثيابا، الذين لا ينكحون المتنعمات ولا تفتح لهم أبواب السدد، الذين يعطون الحق الذي عليهم ولا يعطون الذي لهم".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض (‏‏‏‏کی وسعت) عدن سے عمان تک ہے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، وہاں آنے والوں میں اکثریت مہاجرین کی ہو گی، جو اب پراگندہ بالوں والے اور میلے کپڑے والے ہیں، وہ آسودہ حال عورتوں سے شادی نہیں کر سکتے، بند دروازے ان کے لیے نہیں کھولے جاتے اور وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، لیکن ان کے حقوق پورے نہیں کئے جاتے۔“

3705

Silsila Sahiha #3705

Sahih

- (ترد علي امتي الحوض، وانا اذود الناس عنه؛ كما يذود الرجل إبل الرجل عن إبله، قالوا: يا نبي الله! اتعرفنا؟ قال: نعم، لكم سيما ليست لاحد غيركم، تردون علي غرا محجلين من آثار الوضوء. وليصدن عني طائفة منكم، فلا يصلون، فاقول: يا رب! هؤلاء من اصحابي؟! فيجيبني ملك فيقول: وهل تدري ما احدثوا بعدك؟!).- (تَرِدُ عليَّ أمتي الحوض، وأنا أذود الناس عنه؛ كما يذود الرجل إبل الرجل عن إبله، قالوا: يا نبي الله! أتعرفنا؟ قال: نعم، لكم سيما ليست لأحد غيركم، تردون علي غراً محجلين من آثار الوضوء. وليصدن عني طائفة منكم، فلا يَصِلُون، فأقول: يا رب! هؤلاء من أصحابي؟! فيجيبني ملكٌ فيقول: وهل تدري ما أحدثوا بعدك؟!).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت حوض پر میرے پاس آئے گی۔ میں کچھ لوگوں کو اس سے یوں دھتکاروں گا، جیسے کوئی آدمی دوسرے کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے دور دھتکارتا ہے۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہاری ایک ایسی علامت ہو گی، جو دوسروں کی نہیں ہو گی، تم میرے پاس اس حال میں آؤ گے کہ وضو کے اثر کی وجہ سے تمہاری پیشانی، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں چمکتے ہوں گے۔ لیکن تم میں ایک گروہ کو مجھ سے روک لیا جائے گا، وہ (‏‏‏‏مجھ تک) نہ پہنچ پائیں گے۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں؟ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا اور کیا آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد (‏‏‏‏دین میں) بدعتوں کو رواج دیا تھا؟!“