Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 23 · Chapter 2294

فضائل و مناقب اور معائب و نقائص

مدینہ منورہ کی فضیلت

7 hadiths in this chapter

3498

Silsila Sahiha #3498

Sahih

-" إنما المدينة كالكير تنفي خبثها، وينصع طيبها".-" إنما المدينة كالكير تنفي خبثها، وينصع طيبها".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسلام پر بیعت کی، لیکن اسے مدینہ میں بخار ہو گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔ وہ دوسری مرتبہ آیا اور کہا: مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔ وہ تیسری دفعہ آیا اور کہا: مجھے میری بیعت واپس کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا (‏‏‏‏بالآخر اجازت نہ ملنے کے باوجود) وہ بدو مدینہ منورہ سے نکل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ تو دھونکنی اور بھٹی ہے، یہ خبیث چیز کی نفی کر دیتا ہے اور طیب چیز کو نکھارتا ہے۔ ‏‏‏‏“

3499

Silsila Sahiha #3499

Sahih

- (إنها طيبة، تنفي الخبث؛ كما تنفي النار خبث الفضة).- (إنها طَيْبةُ، تَنفِي الخَبَثَ؛ كما تنفِي النارُ خَبَثَ الفِضّةِ).

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (‏‏‏‏مدینہ) طیبہ ہے، یہ (‏‏‏‏گناہوں کی) خباثت کی اس طرح نفی کرتا ہے جیسے آگ چاندی کے کھوٹ کو ختم کر دیتی ہے۔“ یہ حدیث سیدنا زید بن ثابت، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا جابر، سیدنا ابوامامہ اور سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے۔

3500

Silsila Sahiha #3500

Sahih

-" من استطاع منكم ان لا يموت إلا بالمدينة فليمت بها، فإنه من يمت بها يشفع له، او يشهد له".-" من استطاع منكم أن لا يموت إلا بالمدينة فليمت بها، فإنه من يمت بها يشفع له، أو يشهد له".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ صفیہ بنت ابو عبید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مدینہ (‏‏‏‏منورہ) میں فوت ہونے کی طاقت رکھتا ہو، اسے چاہیئے کہ وہ مدینہ (‏‏‏‏منورہ) میں فوت ہو، کیونکہ جو یہاں فوت ہو گا، اس کی شفاعت کی جائے گی یا اس کی شہادت دی جائے گی۔

3501

Silsila Sahiha #3501

Sahih

-" إنها طيبة، وإنها تنفي الخبث، كما تنفي النار خبث الحديد".-" إنها طيبة، وإنها تنفي الخبث، كما تنفي النار خبث الحديد".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس آیت «فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ» ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو۔“ (۴-النساء:۸۸) کے بارے میں کہا: جب صحابہ کرام غزوۂ احد سے واپس لوٹے تو وہ (‏‏‏‏منافقوں کے بارے میں) دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک کا خیال تھا کہ ان کو قتل دیا جائے اور دوسرے کا خیال تھا کہ قتل نہ کیا جائے۔ ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: «فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ» ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو۔“ } اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ (‏‏‏‏مدینہ) طیّبہ ہے، یہ خباثت کی نفی کرتا ہے، جیسے آگ لوہے کی میل کچیل صاف کر دیتی ہے۔“

3502

Silsila Sahiha #3502

Sahih

-" امرت بقرية تاكل القرى، يقولون: يثرب، وهي المدينة، تنفي الناس، كما ينفي الكير خبث الحديد".-" أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون: يثرب، وهي المدينة، تنفي الناس، كما ينفي الكير خبث الحديد".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم دیا گیا ہے جس (‏‏‏‏کے باسی) دوسری بستیوں پر غالب آ جائیں گے۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، جبکہ وہ مدینہ ہے، جو لوگوں سے برائیوں کو اس طرح دور کرتی ہے، جس طرح دھونکنی لوہے کی میل کچیل صاف کر دیتی ہے۔“ ایک اور روایت میں ہے: ”لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی اپنے چچیرے بھائی یا کسی رشتہ دار کو یوں بلائے گا: (‏‏‏‏مدینہ کو چھوڑو اور) خوشحالی کی طرف آؤ، آسودگی کی طرف آؤ۔ لیکن مدینہ میں بسیرا کرنا ان کے لیے بہتر ہو گا۔ کاش انہیں اس حقیقت کا علم ہوتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کوئی آدمی مدینہ سے بےرغبتی کرتے ہوئے نکل جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس سے بہترین فرد کو لے آئے گا۔ آگاہ رہو! مدینہ تو دھونکنی ہے جو خبیث لوگوں کو خارج کر دیتا ہے۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مدینہ شر پسند لوگوں (‏‏‏‏کو جلاوطن کر کے ان کی) یوں نفی نہ کر دے گا جس طرح کہ بھٹی لوہے کی کھوٹ کو ختم کر دیتی ہے۔“

3503

Silsila Sahiha #3503

Sahih

-" من اخاف اهل المدينة اخافه الله".-" من أخاف أهل المدينة أخافه الله".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اہل مدینہ کو ڈرایا، اللہ اس کو خوف دلائے گا۔“

3504

Silsila Sahiha #3504

Sahih

-" اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة او اشد، وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بالجحفة".-" اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد، وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بالجحفة".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما بیمار ہو گئے، میں ان کے پاس گئی اور پوچھا: ابا جان! کیا حال ہے؟ بلال! کیسے ہو؟ وہ کہتی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیمار ہوتے تو کہا کرتے تھے: ہر کوئی صبح کے وقت اپنے اہل میں ہوتا ہے اور موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جب بخار سے شفایاب ہوتے تو کمزور پنڈلی کو اٹھاتے اور گاتے ہوئے کہتے: ہائے کاش! مجھے یہ پتہ چل جائے کہ کیا میں ایک رات گزاروں گا وادی میں اور میرے اردگرد اذخر اور جلیل قسم کے گھاس ہوں گے میں مجنہ چشمے کے پانی پر جاؤں گا کیا مجھے شامہ اور طفیل پہاڑ نظر آئیں گے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہم کو مدینہ سے مکہ کی مثل یا اس سے بھی زیادہ محبت کرنا نصیب فرما دے، اس کو بیماریوں سے پاک کر دے، ہمارے مد اور صاع میں برکت فرما اور اس میں پائے جانے والے بخار کو جحفہ میں منتقل کر دے۔“ مسند احمد کی روایت میں ہے: جب جحفہ میں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو بلوغت سے پہلے ہی بخار اسے پچھاڑ دیتا تھا۔