Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 23 · Chapter 2127

فضائل و مناقب اور معائب و نقائص

نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب، آپ صلى اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے جنت کے دروازے پر دستک دیں گے

8 hadiths in this chapter

3169

Silsila Sahiha #3169

Sahih

-" انا اول من ياخذ بحلقة باب الجنة فاقعقعها".-" أنا أول من يأخذ بحلقة باب الجنة فأقعقعها".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں وہ پہلا شخص ہوں جو جنت کے دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹاوں گا۔“ ‏‏‏‏

3170

Silsila Sahiha #3170

Sahih

-" آتي باب الجنة يوم القيامة، فاستفتح، فيقول الخازن: من انت؟ فاقول: محمد، فيقول: بك امرت ان لا افتح لاحد قبلك".-" آتي باب الجنة يوم القيامة، فأستفتح، فيقول الخازن: من أنت؟ فأقول: محمد، فيقول: بك أمرت أن لا أفتح لأحد قبلك".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روز قیامت جنت کے دروازے پر آ کر اسے کھولنے کا مطالبہ کروں گا۔ دربان پوچھے گا: آپ کون ہیں؟ میں جواب دوں گا: میں محمد ہوں۔ (‏‏‏‏یہ سن کر) وہ کہے گا: آپ کے بارے میں مجھے حکم دیا گیا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے (‏‏‏‏جنت کا) دروازہ نہیں کھولنا۔“

3171

Silsila Sahiha #3171

Sahih

-" امشوا امامي، وخلوا ظهري للملائكة".-" امشوا أمامي، وخلوا ظهري للملائكة".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تم لوگ میرے سامنے چلو اور میری پشت (‏‏‏‏والی سمت) فرشتوں کے لیے خالی کر دو۔“

3172

Silsila Sahiha #3172

Sahih

-" رات امي كانه خرج منها نور اضاءت منه قصور الشام".-" رأت أمي كأنه خرج منها نور أضاءت منه قصور الشام".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری ماں نے دیکھا کہ ایک نور ان سے خارج ہوا، جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا۔“

3173

Silsila Sahiha #3173

Sahih

-" سالت ربي مسالة وودت اني لم اساله، قلت: يا رب! كانت قبلي رسل منهم من سخرت له الرياح ومنهم من كان يحيي الموتى، [وكلمت موسى]. قال: الم اجدك يتيما فآويتك؟ الم اجدك ضالا فهديتك؟ الم اجدك عائلا فاغنيتك؟ الم اشرح لك صدرك ووضعت عنك وزرك؟ قال: فقلت بلى يا رب! [فوددت ان لم اساله]".-" سألت ربي مسألة وودت أني لم أسأله، قلت: يا رب! كانت قبلي رسل منهم من سخرت له الرياح ومنهم من كان يحيي الموتى، [وكلمت موسى]. قال: ألم أجدك يتيما فآويتك؟ ألم أجدك ضالا فهديتك؟ ألم أجدك عائلا فأغنيتك؟ ألم أشرح لك صدرك ووضعت عنك وزرك؟ قال: فقلت بلى يا رب! [فوددت أن لم أسأله]".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا، لیکن بعد میں چاہا کہ نہ کیا ہوتا تو بہتر ہوتا۔ میں نے کہا: اے میرے رب! مجھ سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں، تو نے کسی کے لیے ہواؤں کو مسخر کیا، کوئی (‏‏‏‏ تیری توفیق سے) مردوں کو زندہ کرتا تھا اور موسیٰ علیہ السلام سے تو نے (‏‏‏‏ براہ راست) کلام کی۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: کیا میں نے تجھے یتیم پا کر مقام نہیں دیا، کیا تجھے راہ بھولا پا کر ہدایت نہیں دی، کیا تجھے نادار پا کر تونگر نہیں بنا دیا، کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تجھ پر سے تیرا بوجھ نہیں اتار دیا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، (‏‏‏‏اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے چپ کرا دیا)۔ میں نے چاہا کہ میں نے سوال نہ کیا ہوتا۔“

3174

Silsila Sahiha #3174

Sahih

-" انا دعوة ابي إبراهيم، وبشرى عيسى عليهما السلام، ورات امي حين حملت بي انه خرج منها نور اضاءت له قصور الشام، واسترضعت في بني سعد بن بكر، فبينا انا في بهم لنا اتاني رجلان عليهما ثياب بيض، معهما طست من ذهب مملوء ثلجا، فاضجعاني، فشقا بطني، ثم استخرجا قلبي فشقاه فاخرجا منه علقة سوداء فالقياها، ثم غسلا قلبي وبطني بذلك الثلج، حتى إذا انقياه رداه كما كان، ثم قال احدهما لصاحبه: زنه بعشرة من امته. فوزنني بعشرة، فوزنتهم، ثم قال: زنه بمائة من امته. فوزنني بمائة فوزنتهم، ثم قال: زنه بالف من امته، فوزنني بالف فوزنتهم، فقال: دعه عنك فلو وزنته بامته لوزنهم".-" أنا دعوة أبي إبراهيم، وبشرى عيسى عليهما السلام، ورأت أمي حين حملت بي أنه خرج منها نور أضاءت له قصور الشام، واسترضعت في بني سعد بن بكر، فبينا أنا في بهم لنا أتاني رجلان عليهما ثياب بيض، معهما طست من ذهب مملوء ثلجا، فأضجعاني، فشقا بطني، ثم استخرجا قلبي فشقاه فأخرجا منه علقة سوداء فألقياها، ثم غسلا قلبي وبطني بذلك الثلج، حتى إذا أنقياه رداه كما كان، ثم قال أحدهما لصاحبه: زنه بعشرة من أمته. فوزنني بعشرة، فوزنتهم، ثم قال: زنه بمائة من أمته. فوزنني بمائة فوزنتهم، ثم قال: زنه بألف من أمته، فوزنني بألف فوزنتهم، فقال: دعه عنك فلو وزنته بأمته لوزنهم".

اردو ترجمہ · Urdu

خالد بن معدان، اصحاب رسول سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اپنے بارے میں بتلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میں اپنے باپ ابراہیم ‏‏‏‏علیہ السلام کی دعا اور عیسی علیہ السلام کی بشارت ہوں، جب میری ماں کو میرا حمل ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ ایک نور ان سے نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے، مجھے بنو سعد بن بکر قبیلے میں دودھ پلایا گیا۔ میں وہاں بکریاں چرا رہا تھا، میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے، ان کے پاس برف سے بھری ہوئی سونے کی پلیٹ تھی، انھوں نے مجھے لٹا دیا، میرے پیٹ کو چاک کیا، پھر دل کو نکالا، اس کو پھاڑا اور اس سے سیاہ رنگ کا بستہ خون کا ٹکڑا نکال کر پھینک دیا، پھر میرے دل اور پیٹ کو برف سے دھویا، جب انھیں صاف کر لیا تو اپنی اپنی جگہ پر لوٹا دیا۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا: ان کی امت کے دس افراد سے ان کا وزن کرو۔ چنانچہ انہوں نے دس افراد سے میرا وزن کیا، میں بھاری رہا۔ پھر اس نے کہا: ان کی امت کے سو افراد سے ان کا وزن کرو۔ سو اس نے سو (‏‏‏‏۱۰۰) افراد سے میرا وزن کیا، میں وزنی رہا۔ پھر اس نے کہا: ہزار آدمیوں سے ان کا وزن کرو، چنانچہ اس نے ہزار افراد سے میرا وزن کیا نتیجتاً میں بھاری رہا (‏‏‏‏بلآخر) اس نے کہا: چھوڑیئے، اگر تم ان کی پوری امت سے ان کا وزن کرو تو پھر بھی یہ وزن میں غالب رہیں گے۔“

3175

Silsila Sahiha #3175

Sahih

- (وزنت بالف من امتي فرجحتهم، فجعلوا يتناثرون علي من كفة الميزان).- (وُزِنْتُ بألفٍ من أمَّتي فرجَحْتُهم، فجعلُوا يتناثرون عليَّ من كِفَّةِ الميزان).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناابوذررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ایک ہزار افراد سے میرا وزن کیا گیا، میں وزنی رہا (‏‏‏‏اور ان کا پلڑا اتنا اوپر کو اٹھ گیا کہ) وہ اس سے مجھ پر گرنا شروع ہو گئے۔“

3176

Silsila Sahiha #3176

Sahih

-" انا دعوة ابي إبراهيم، وكان آخر من بشر بي عيسى ابن مريم عليه الصلاة والسلام".-" أنا دعوة أبي إبراهيم، وكان آخر من بشر بي عيسى ابن مريم عليه الصلاة والسلام".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اپنے بارے میں آگاہ کیجیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور سب سے آخر میں میری بشارت دینے والے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تھے۔“