[4/363] [4/364] وَحَدَّثَنَا صَالِحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ ، مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ أَبَا ذَرٍّ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : فَتَأَمَّلْنَا هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ الْمَذْكُورَتَيْنِ فِي هَذِهِ الْآثَارِ ، فَوَجَدْنَا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : { اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ } قَدْ جَاءَ بِلَفْظِ الْعَدَدِ الَّذِي فَوْقَ الِاثْنَيْنِ ، وَكَانَ مِثْلُ ذَلِكَ مِمَّا تَقُولُهُ الْعَرَبُ الْتَقَى الْعَسْكَرَانِ فَقَتَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا . وَوَجَدْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَذْكُورِينَ فِيهِمَا قَدْ سُمُّوا فِي هَذِهِ الْآثَارِ وَهُمْ شَيْبَةُ وَعُتْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ . وَوَجَدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا الْمَذْكُورِينَ فِيهِمَا قَدْ سُمُّوا لَنَا فِي هَذِهِ الْآثَارِ وَهُمْ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - وَعُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ - عَلَيْهِمُ السَّلَامُ ، وَكَانَ الَّذِي أَوْعَدَ اللهُ الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَذْكُورِينَ فِيهِمَا كَائِنًا مِنْهُ فِيهِمْ . وَوَجَدْنَا مَا وَعَدَهُ الَّذِينَ آمَنُوا الْمَذْكُورِينَ فِيهِمَا كَائِنًا لَا مَحَالَةَ ؛ لِأَنَّهُ وَعْدٌ مِنَ اللهِ وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ [4/365] وَذَلِكَ مِمَّا لَا يُخَلِفُهُ نَسْخٌ ؛ لِأَنَّ النَّسْخَ إِنَّمَا يَلْحَقُ الشَّرَائِعَ ، فَيَنْسَخُ مِنْهَا مَا كَانَ حَرَامًا إِلَى أَنْ يَجْعَلَهُ حَلَالًا ، وَمَا كَانَ مِنْهَا حَلَالًا إِلَى أَنْ يَجْعَلَهُ حَرَامًا ، فَأَمَّا مَا أَخْبَرَ مِنْهَا أَنَّهُ فَاعِلُهُ ثَوَابًا عَلَى عَمَلٍ قَدْ كَانَ مِمَّنْ عَمِلَهُ ، فَهَذَا مِمَّا لَا يَلْحَقُهُ نَسْخٌ ، فَهَذِهِ أَحْوَالُ هَذَيْنِ الْفَرِيقَيْنِ فِي الْآخِرَةِ . ثُمَّ وَجَدْنَاهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَتْبَعَ وَعْدَهُ الَّذِينَ آمَنُوا الْمَذْكُورِينَ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ بِقَوْلِهِ : { وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ } ، فَكَانَ ذَلِكَ إِخْبَارًا مِنْهُ عَنْ أَحْوَالِهِمُ الَّتِي يَكُونُونَ عَلَيْهَا فِي الدُّنْيَا رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ ، وَهِيَ الْأَحْوَالُ الْمَحْمُودَةُ الَّتِي لَا ذَمَّ مَعَهَا . وَوَجَدْنَا قَوْلَهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِاللُّغَةِ { وَهُدُوا } بِمَعْنَى ثَبَتُوا كَمِثْلِ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ { اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ } أَيْ : ثَبِّتْنَا لِلصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ ، وَمَنْ كَانَتْ أَحْوَالُهُ فِي الدُّنْيَا هَذِهِ الْأَحْوَالَ الْمَحْمُودَةَ وَأَحْوَالُهُ فِي الْآخِرَةِ الْأَحْوَالَ الَّتِي ذَكَرَهَا عَزَّ وَجَلَّ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ كَانَ بِذَلِكَ مِنْ أَهْلِ الْمَنَازِلِ الْعُلْيَا فِي الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ .
EnglishUnverified translation
And Salih narrated to us, he said: Said narrated to us, he said: Hushaym narrated to us, he said: Sulayman al-Taymi informed us, from Abu Mijlaz, from Qays ibn Abbad, the like, except he did not mention Abu Dharr. Abu Jafar said: We examined these two verses, and found Allah's saying: they disputed - in the plural above two, as Arabs say: the two armies met and some killed others. We found the disbelievers named: Shaybah and Utbah sons of Rabiah, and al-Walid ibn Utbah. We found the believers named: Hamzah ibn Abd al-Muttalib, Ali ibn Abi Talib, Ubaydah ibn al-Harith ibn al-Muttalib, upon them peace. What Allah threatened the disbelievers with will befall them. What He promised the believers will certainly be, for Allah does not break the appointment; abrogation does not attach to it, for abrogation only attaches to laws, making unlawful lawful and vice versa, not to what He informed He will do as reward for a deed. These are the states of the two parties in the Hereafter. Then we found Him follow His promise to the believers with: And they are guided to the good of speech and guided to the path of the Praiseworthy - information of their states in this world, may Allah be pleased with them, praiseworthy states with no blame. We found His saying And they are guided, per linguists, meaning: they are made firm, like Guide us to the straight path - make us firm upon it. Whoever's states in this world are these, and in the Hereafter those mentioned, is of the highest stations in both. And with Allah is success.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
اور ہمیں صالح نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے ابو مجلز سے، قیس بن عباد سے خبر دی، اسی کی مثل سوائے کہ انہوں نے ابو ذر کا ذکر نہ کیا۔ ابو جعفر نے کہا: ہم نے ان دو آیتوں پر غور کیا، اور پایا اللہ کا قول: انہوں نے جھگڑا - دو سے اوپر عدد کے لفظ سے آیا، جیسا عرب کہتے ہیں: دو لشکر ملے تو ایک نے دوسرے کو قتل کیا۔ اور پایا کفر کرنے والے ان میں نامزد ہیں: شیبہ و عتبہ پسران ربیعہ، اور ولید بن عتبہ۔ اور پایا ایمان والے نامزد ہیں: حمزہ بن عبد المطلب و علی بن ابی طالب و عبیدہ بن حارث بن مطلب علیہم السلام۔ اور کافروں کو جو وعید وہ ان میں واقع ہوگی۔ اور مؤمنوں کا وعدہ ضرور واقع ہوگا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اور یہ اس میں سے ہے جسے نسخ نہیں پہنچتا، کیونکہ نسخ صرف شرائع کو لاحق ہوتا ہے، حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرتا ہے۔ رہا جو اس نے خبر دی کہ وہ عمل کے ثواب میں کرے گا تو اسے نسخ نہیں پہنچتا۔ یہ دونوں فریقوں کے آخرت کے احوال ہیں۔ پھر پایا کہ مؤمنوں کے وعدے کے بعد فرمایا: اور انہیں پاکیزہ قول کی ہدایت کی گئی اور حمید کی راہ کی ہدایت کی گئی - یہ ان کے دنیا کے احوال کی خبر ہے رضوان اللہ علیہم، محمود احوال جن کے ساتھ مذمت نہیں۔ اور پایا اہل لغت کے نزدیک وھدوا کا معنی ثبت کیا گیا، جیسا فاتحہ میں: ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت دے - یعنی ہمیں ثابت رکھ۔ جس کے دنیا کے احوال یہ محمود ہوں اور آخرت کے وہ مذکور تو وہ دنیا و آخرت میں اعلی منازل والوں میں سے ہے۔ وباللہ التوفیق۔