1242 - حَدَّثَنَا فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، قَالَ : أَنَا شَرِيكٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : فَلَمْ يَكُنْ فِي هَذَا عِنْدَنَا دَلِيلٌ ، عَلَى أَنَّهُ قَدْ كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا لِأَنَّهُ قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَضْطَرِبَ لِحْيَتُهُ بِتَسْبِيحٍ سَبَّحَهُ ، أَوْ دُعَاءٍ ، أَوْ غَيْرِهِ . وَلَكِنَّ الَّذِي حَقَّقَ الْقِرَاءَةَ مِنْهُ فِي هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مَنْ قَدْ رَوَيْنَا عَنْهُ الْآثَارَ الَّتِي فِي الْفَصْلِ الَّذِي قَبْلَ هَذَا . فَلَمَّا ثَبَتَ بِمَا ذَكَرْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَحْقِيقُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَانْتَفَى مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [1/209] مِمَّا يُخَالِفُ ذَلِكَ ، رَجَعْنَا إِلَى النَّظَرِ بَعْدَ ذَلِكَ ، هَلْ نَجِدُ فِيهِ مَا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ أَحَدِ الْقَوْلَيْنِ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَا . فَاعْتَبَرْنَا ذَلِكَ ، فَرَأَيْنَا الْقِيَامَ فِي الصَّلَاةِ فَرْضًا ، وَكَذَلِكَ الرُّكُوعَ ، وَكَذَلِكَ السُّجُودَ ، وَهَذَا كُلُّهُ مِنْ فَرْضِ الصَّلَاةِ ، وَهِيَ بِهِ مُضَمَّنَةٌ لَا تُجْزِئُ الصَّلَاةُ إِذَا تُرِكَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي سَائِرِ الصَّلَوَاتِ سَوَاءً . وَرَأَيْنَا الْقُعُودَ الْأَوَّلَ سُنَّةً ، لَا اخْتِلَافَ فِيهِ فَهُوَ فِي كُلِّ الصَّلَوَاتِ سَوَاءٌ . وَرَأَيْنَا الْقُعُودَ الْأَخِيرَ فِيهِ اخْتِلَافٌ بَيْنَ النَّاسِ . فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ : هُوَ فَرْضٌ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ : إِنَّهُ سُنَّةٌ ، وَكُلُّ فَرِيقٍ مِنْهُمْ قَدْ جَعَلَ ذَلِكَ فِي كُلِّ الصَّلَوَاتِ سَوَاءً . فَكَانَتْ هَذِهِ الْأَشْيَاءُ مَا كَانَ مِنْهَا فَرْضًا فِي صَلَاةٍ ، فَهُوَ فَرْضٌ فِي كُلِّ الصَّلَوَاتِ ، وَكَانَ الْجَهْرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ لَيْسَ بِفَرْضٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ . وَلَيْسَتِ الصَّلَاةُ بِهِ مُضَمَّنَةً كَمَا كَانَتْ مُضَمَّنَةً بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِيَامِ فَذَلِكَ قَدْ يَنْتَفِي مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ وَيَثْبُتُ فِي بَعْضِهَا وَالَّذِي هُوَ فَرْضٌ وَالصَّلَاةُ بِهِ مُضَمَّنَةٌ لَا تُجْزِئُ إِلَّا بِإِصَابَتِهِ إِذَا كَانَ فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ فَرْضًا ، كَانَ فِي سَائِرِهَا كَذَلِكَ . فَلَمَّا رَأَيْنَا الْقِرَاءَةَ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ وَاجِبَةً فِي قَوْلِ هَذَا الْمُخَالِفِ لَا بُدَّ مِنْهَا ، وَلَا تُجْزِئُ الصَّلَاةُ إِلَّا بِإِصَابَتِهَا ، كَانَ كَذَلِكَ هِيَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ . فَهَذِهِ حُجَّةٌ قَاطِعَةٌ ، عَلَى مَنْ يَنْفِي الْقِرَاءَةَ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، مِمَّنْ يَرَاهَا فَرْضًا فِي غَيْرِهَا . وَأَمَّا مَنْ لَا يَرَى الْقِرَاءَةَ مِنْ صُلْبِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ الْحُجَّةَ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، يَقْرَأُ فِي كُلِّهِمَا فِي قَوْلِهِ وَيَجْهَرُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْهُمَا ، وَيُخَافِتُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ . فَلَمَّا كَانَتْ سُنَّةُ مَا بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ هِيَ الْقِرَاءَةَ ، وَلَمْ تَسْقُطْ بِسُقُوطِ الْجَهْرِ ، كَانَ النَّظَرُ عَلَى ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ السُّنَّةُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، لَمَّا سَقَطَ الْجَهْرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ أَنْ لَا يُسْقِطَ الْقِرَاءَةَ قِيَاسًا عَلَى مَا ذَكَرْنَا مِنْ ذَلِكَ . وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ ، وَأَبِي يُوسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمُ اللهُ . وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
EnglishUnverified translation
1242 - Fahd ibn Sulayman narrated to us, he said: Muhammad ibn Sa'id ibn al-Asbahani narrated to us, he said: Sharik, Abu Mu'awiyah and Waki' informed us, from al-A'mash, then he mentioned with its chain the like of it. Abu Ja'far said: In this there is no proof, in our view, that he used to recite in them, for his beard may have moved due to a tasbih he uttered, or a supplication, or other than that. But what established his recitation in these two prayers is from those we have reported the reports from in the section before this. When it was established by what we mentioned from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) that he did recite in Zuhr and Asr, and what was reported from Ibn Abbas that contradicts that was negated, we returned to examining after that whether we find therein what indicates the correctness of one of the two views we mentioned. We considered that and saw that standing in prayer is obligatory, and likewise bowing, and likewise prostration, and all of this is from the obligation of prayer, and prayer contains it such that prayer does not suffice if anything of that is omitted, and that is the same in all prayers. And we saw the first sitting is a Sunnah, with no disagreement therein, and it is the same in all prayers. And we saw the last sitting is disputed among people: some say it is obligatory and some say it is a Sunnah, and each group made that the same in all prayers. So these things, whatever of them is obligatory in one prayer is obligatory in all prayers. And audible recitation in night prayer is not obligatory but a Sunnah, and prayer is not bound by it as it is bound by bowing, prostration and standing. So that may be absent in some prayers and established in others. But what is obligatory, with which prayer is bound and does not suffice without attaining it, when it is obligatory in some prayers it is likewise in the rest. When we saw recitation in Maghrib, Isha and Fajr is necessary in the view of this opponent, unavoidable, and prayer does not suffice without it, it is likewise in Zuhr and Asr. This is a decisive proof against whoever denies recitation in Zuhr and Asr among those who deem it obligatory in others. As for whoever does not deem recitation part of the essence of prayer, the proof against him is that we have seen Maghrib and Isha recited in both in his view, aloud in the first two rak'ahs of them and silently in the rest. When the Sunnah of what is after the first two rak'ahs was recitation, and it did not fall by the absence of audibility, the analogy is that the Sunnah in Zuhr and Asr is likewise: the absence of audibility does not remove recitation, by analogy with what we mentioned. And this is the view of Abu Hanifah, Abu Yusuf and Muhammad, may Allah have mercy on them. And that was reported from a group of the Companions of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him).
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
1242 - ہمیں فہد بن سلیمان نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن سعید بن اصبہانی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شریک اور ابومعاویہ اور وکیع نے خبر دی، اعمش سے، پھر اسی سند سے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔ ابوجعفر نے کہا: ہمارے نزدیک اس میں اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ ان دونوں میں قراءت کرتے تھے، کیونکہ ممکن ہے آپ کی داڑھی کسی تسبیح یا دعا یا اس کے علاوہ کسی چیز سے ہلی ہو۔ لیکن ان دونوں نمازوں میں آپ کی قراءت کو ثابت کرنے والی وہ روایات ہیں جو ہم نے اس سے پہلے فصل میں روایت کی ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ سے ظہر و عصر میں قراءت کا ثبوت ہوگیا، اور ابن عباس سے اس کے خلاف مروی روایت منتفی ہوگئی، تو ہم اس کے بعد نظر کی طرف لوٹے: کیا ہم اس میں مذکورہ دو قولوں میں سے ایک کی صحت پر دلیل پاتے ہیں۔ ہم نے غور کیا تو دیکھا کہ نماز میں قیام فرض ہے، اسی طرح رکوع، اسی طرح سجود، اور یہ سب نماز کے فرض میں سے ہیں، اور نماز ان پر مشتمل ہے کہ اگر ان میں سے کچھ چھوٹ جائے تو نماز کافی نہیں ہوتی، اور یہ تمام نمازوں میں برابر ہے۔ اور ہم نے دیکھا کہ پہلا قعود سنت ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں، اور وہ تمام نمازوں میں برابر ہے۔ اور ہم نے دیکھا کہ آخری قعود میں لوگوں کا اختلاف ہے: بعض کہتے ہیں فرض ہے، بعض کہتے ہیں سنت ہے، اور ہر فریق نے اسے تمام نمازوں میں برابر رکھا۔ تو یہ چیزیں، ان میں سے جو کسی نماز میں فرض ہے وہ تمام نمازوں میں فرض ہے۔ اور رات کی نماز میں قراءت کا جہر فرض نہیں بلکہ سنت ہے، اور نماز اس پر مشتمل نہیں جیسے رکوع و سجود و قیام پر مشتمل ہے، تو وہ بعض نمازوں سے منتفی ہو سکتا ہے اور بعض میں ثابت۔ اور جو فرض ہے اور نماز اس پر مشتمل ہے کہ اس کے بغیر کافی نہیں، جب وہ بعض نمازوں میں فرض ہے تو باقی میں بھی ایسے ہی ہے۔ جب ہم نے دیکھا کہ اس مخالف کے قول میں مغرب و عشاء و صبح میں قراءت واجب ہے، ناگزیر ہے، اور اس کے بغیر نماز کافی نہیں، تو وہ ظہر و عصر میں بھی ایسے ہی ہے۔ یہ اس شخص پر قاطع حجت ہے جو ظہر و عصر سے قراءت کی نفی کرتا ہے جبکہ وہ اسے باقی میں فرض مانتا ہے۔ اور جو قراءت کو نماز کے اصل میں سے نہیں مانتا، اس پر حجت یہ ہے کہ ہم نے دیکھا مغرب و عشاء میں اس کے قول کے مطابق دونوں میں قراءت ہوتی ہے، پہلی دو رکعتوں میں جہر اور باقی میں اخفاء۔ جب پہلی دو رکعتوں کے بعد کی سنت قراءت ہے، اور وہ جہر کے ساقط ہونے سے ساقط نہیں ہوئی، تو نظر کا تقاضا یہ ہے کہ ظہر و عصر میں بھی سنت ایسے ہی ہو: ان میں جہر کا ساقط ہونا قراءت کو ساقط نہ کرے، مذکورہ پر قیاس کرتے ہوئے۔ اور یہ ابوحنیفہ اور ابویوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے۔