220 - حَدَّثَنَا فَهْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَبَلَغَكَ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَسَحَ الْقَدَمَيْنِ ؟ قَالَ : لَا . وَقَدْ زَعَمَ زَاعِمٌ أَنَّ النَّظَرَ يُوجِبُ مَسْحَ الْقَدَمَيْنِ فِي وُضُوءِ الصَّلَاةِ قَالَ : لِأَنِّي رَأَيْتُ حُكْمَهُمَا بِحُكْمِ الرَّأْسِ أَشْبَهَ لِأَنِّي رَأَيْتُ الرِّجْلَ إِذَا عُدِمَ الْمَاءُ فَصَارَ فَرْضُهُ التَّيَمُّمَ ، يُيَمِّمُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَلَا يُيَمِّمُ رَأْسَهُ وَلَا رِجْلَيْهِ . فَلَمَّا كَانَ عَدَمُ الْمَاءِ يُسْقِطُ فَرْضَ غَسْلِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ إِلَى فَرْضٍ آخَرَ وَهُوَ التَّيَمُّمُ ، وَيُسْقِطُ فَرْضَ الرَّأْسِ وَالرِّجْلَيْنِ لَا إِلَى فَرْضٍ ، ثَبَتَ بِذَلِكَ أَنَّ حُكْمَ الرِّجْلَيْنِ فِي حَالِ وُجُودِ الْمَاءِ كَحُكْمِ الرَّأْسِ لَا كَحُكْمِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ . فَكَانَ مِنَ الْحُجَّةِ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ أَنَّا رَأَيْنَا أَشْيَاءَ يَكُونُ فَرْضُهَا الْغَسْلَ فِي حَالِ وُجُودِ الْمَاءِ ثُمَّ يَسْقُطُ ذَلِكَ الْفَرْضُ فِي حَالِ عَدَمِ الْمَاءِ لَا إِلَى فَرْضٍ ، مِنْ ذَلِكَ الْجُنُبُ عَلَيْهِ أَنْ يَغْسِلَ سَائِرَ بَدَنِهِ بِالْمَاءِ فِي حَالِ وُجُودِهِ وَإِنْ عُدِمَ الْمَاءُ وَجَبَ عَلَيْهِ التَّيَمُّمُ فِي وَجْهِهِ وَيَدَيْهِ . فَأُسْقِطَ فَرْضُ حُكْمِ سَائِرِ بَدَنِهِ بَعْدَ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ لَا إِلَى بَدَلٍ ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ بِدَلِيلِ أَنَّ مَا سَقَطَ فَرْضُهُ مِنْ ذَلِكَ لَا إِلَى بَدَلٍ كَانَ فَرْضُهُ فِي حَالِ وُجُودِ الْمَاءِ هُوَ الْمَسْحَ ، فَكَذَلِكَ أَيْضًا لَا يَكُونُ سُقُوطُ فَرْضِ الرِّجْلَيْنِ فِي حَالِ عَدَمِ الْمَاءِ لَا إِلَى بَدَلٍ ، بِدَلِيلِ أَنَّ حُكْمَهُمَا كَانَ فِي حَالِ وُجُودِ الْمَاءِ هُوَ الْمَسْحَ . فَبَطَلَتْ بِذَلِكَ عِلَّةُ الْمُخَالِفِ إِذَا كَانَ قَدْ لَزِمَهُ فِي قَوْلِهِ ، مِثْلُ مَا أَلْزَمَ خَصْمَهُ .
EnglishUnverified translation
220 - Fahd narrated to us, he said: Muhammad ibn Said narrated to us, he said: Abd al-Salam narrated to us, from Abd al-Malik, he said: I said to Ata: Has it reached you from any of the Companions of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) that he wiped the two feet? He said: No. And one who claimed has claimed that reasoning necessitates wiping the two feet in the ablution for prayer. He said: Because I saw their ruling more resembling the ruling of the head, for I saw that when water is unavailable and its obligation becomes tayammum, one wipes the face and hands and does not wipe the head nor the feet. So since absence of water drops the obligation of washing the face and hands to another obligation, namely tayammum, and drops the obligation of the head and feet not to a substitute, that proves that the ruling of the two feet in the presence of water is like the ruling of the head, not like the ruling of the face and hands. So part of the proof against him in that is that we see things whose obligation is washing in the presence of water, then that obligation drops in the absence of water not to a substitute: among them the junub, who must wash his whole body with water when present, but if water is unavailable, tayammum in the face and hands becomes obligatory upon him. So the obligation of the rest of his body after the face and hands is dropped not to a substitute, yet that was not proof that what dropped not to a substitute had wiping as its obligation in the presence of water. Likewise, the dropping of the obligation of the two feet in the absence of water not to a substitute is not proof that their ruling in the presence of water was wiping. So the opponent's cause is thereby nullified, since he is bound in his saying by the like of what he bound his disputant to.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
220 - ہمیں فہد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبد السلام نے عبد الملک سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عطاء سے کہا: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی سے پہنچا کہ اس نے دونوں قدموں کا مسح کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اور ایک دعویٰ کرنے والے نے دعویٰ کیا کہ نظر نماز کے وضو میں دونوں قدموں کے مسح کو واجب کرتی ہے۔ انہوں نے کہا: کیونکہ میں نے دیکھا کہ ان کا حکم سر کے حکم سے زیادہ مشابہ ہے، کیونکہ میں نے دیکھا کہ جب پانی نہ ہو اور اس کا فرض تیمم ہو جائے تو چہرے اور ہاتھوں کا تیمم کیا جاتا ہے اور سر اور پاؤں کا تیمم نہیں کیا جاتا۔ پس جب پانی کی عدم موجودگی چہرے اور ہاتھوں کے دھونے کے فرض کو دوسرے فرض یعنی تیمم کی طرف منتقل کرتی ہے اور سر اور پاؤں کے فرض کو بغیر بدل کے ساقط کرتی ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ پانی کی موجودگی میں دونوں پاؤں کا حکم سر کے حکم کی طرح ہے، چہرے اور ہاتھوں کے حکم کی طرح نہیں۔ پس اس میں ان کے خلاف دلیل یہ ہے کہ ہم نے ایسی چیزیں دیکھیں جن کا فرض پانی کی موجودگی میں غسل ہوتا ہے پھر پانی کی عدم موجودگی میں وہ فرض بغیر بدل کے ساقط ہو جاتا ہے: ان میں سے جنبی ہے جس پر پانی کی موجودگی میں سارے بدن کا دھونا واجب ہے اور جب پانی نہ ہو تو چہرے اور ہاتھوں میں تیمم واجب ہوتا ہے۔ پس چہرے اور ہاتھوں کے بعد باقی بدن کے فرض کا حکم بغیر بدل کے ساقط کر دیا گیا، اور یہ دلیل نہ تھی کہ جو بغیر بدل کے ساقط ہوا اس کا فرض پانی کی موجودگی میں مسح تھا۔ اسی طرح پانی کی عدم موجودگی میں دونوں پاؤں کے فرض کا بغیر بدل کے ساقط ہونا دلیل نہیں کہ پانی کی موجودگی میں ان کا حکم مسح تھا۔ پس اس سے مخالف کی علت باطل ہو گئی، جبکہ اس کے قول میں وہی لازم آیا جو اس نے اپنے خصم پر لازم کیا تھا۔