Sahih Ibn Khuzaymah #303
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ الْعَطَّارُ ، نا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ الصَّلاةَ أَوَّلُ مَا افْتُرِضَتْ رَكْعَتَانِ، فَأُقِرَّتْ صَلاةُ السَّفَرِ، وَأُتِمَّتْ صَلاةُ الْحَضَرِ" ، فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: فَمَا لَهَا كَانَتْ تُتِمُّ؟ فَقَالَ: إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ. نا بِهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِمِثْلِهِ غَيْرُ، أَنَّهُ قَالَ فِي كُلِّهَا: عَنْ"
EnglishUnverified translation
Narrated by Abdul-Jabbar bin Al-Ala Al-Attar, narrated by Sufyan, who said: I heard Al-Zuhri, saying: Urwa bin Al-Zubayr told me that he heard Aisha She says: “Prayer was first assumed to be two rak’ahs, then the travel prayer was established, and the urban prayer was completed.” So I said to Urwa: What was the matter with her? Done? He said: It interpreted what Othman interpreted. Sa`id ibn Abd al-Rahman al-Makhzoumi told us about it. Sufyan told us, in a different way, that he said in all of them: On the authority of
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک ابتداء میں نماز دورکعت فرض ہوئی تھی پھر سفر کی نماز (دورکعت) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز (چار رکعت) مکمّل کر دی گئی۔ تومیں نے عروہ سے کہا کہ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ (سفر میں) پوری نماز ادا کرتی ہیں تو اُنہوں نے جواب دیا وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاویل جیسی تاویل کرتی تھیں۔ امام صاحب اپنے استاد سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سند مذکورہ روایت ہی کی طرح بیان کرتے ہیں مگر اس میں «سمع، اخبرني» کی بجائے تمام جگہ «عن» سے روایت کی گئی ہے۔