Sahih Ibn Khuzaymah #258
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ أَوْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ، لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ فَأَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ" ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ثُمَّ خَرَجَ. ح نا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى نَحْوَهُ، وَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ يَذْكُرُهُ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ، غَيْرُ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ:\" مِنْ نُحَاسٍ\" حِينَ جَعَلَ الْحَدِيثَ، عَنْ عُرْوَةَ بِلا شَكٍّ"
EnglishUnverified translation
Muhammad bin Rafi’ told us, Abdul Razzaq told us, Muammar informed us, on the authority of Al-Zuhri, on the authority of Urwa or Amra, on the authority of Aisha, may God Almighty be pleased with her. On her authority, she said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said during his illness in which he died: “They poured on me seven sacrifices whose vessels were not permissible. “Perhaps I will rest and be with the people.” Aisha said: “So we made him sit in a copper basin made of copper, and we poured water over him from them until He started indicating to us that we had done so, then he left. Muhammad bin Yahya related it to us, and said: I heard Abd al-Razzaq mention it, on the authority of Muammar, on the authority of al-Zuhri, on the authority of Urwa, on the authority of Aisha. Likewise, except that he did not say: “of copper” when he made the hadith undoubtedly narrated on the authority of Urwa.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تھے، فرمایا: ”مُجھ پر سات مشکیزوں سے پانی ڈالو جن کے سر بندھن کھولے نہ گئے ہوں۔ شاید کہ میں سکون پاؤں تو لوگوں کو وصیت کروں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے تانبے کے ٹب میں بٹھایا اور ان مشکیزوں میں سے پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرڈالا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرنے لگے کہ تم نے تعمیل ارشاد کردی ہے۔ (یعنی رُک جاؤ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لےگئے، اما م صاحب اپنے استاد محمد بن یحییٰ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں مگر اُنہوں نے «من نحاس» ”پیتل کا ٹب“ نہیں کہا، لیکن اُنہوں نے یہ روایت بیشک حضرت عروہ ہی سے بیان کی ہے۔ (جبکہ پچھلی سند میں عروہ یا عمرہ سے بیان کیا تھا)۔