Sahih Ibn Khuzaymah #279
نا نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يَأْتِي أَهْلَهُ يَلْبَسُ الثَّوْبَ فَيَعْرَقُ فِيهِ نَجِسًا ذَلِكَ؟ فَقَالَتْ: قَدْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تُعِدُّ خِرْقَةً أَوْ خِرَقًا، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ مَسَحَ بِهَا الرَّجُلُ الأَذَى عَنْهُ، وَلَمْ يَرَ أَنَّ ذَلِكَ يُنَجِّسُهُ"""
EnglishUnverified translation
Na Saeed bin Abdul Rahman Al Makhzoumi, on the authority of Sufyan, on the authority of Yahya bin Saeed, on the authority of Al Qasim bin Muhammad, he said: I asked Aisha about A man comes to his family, wears a garment, and sweats impurity from it. Is that? She said: “The woman was preparing a rag or rags, and if that was the case, the man would wipe away the dirt on him with it, and he did not see that that would defile him.”
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اُس شخص کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی کے پاس آتا ہے (اُس سے ہمبستری کرتا ہے) پھر اپنے کپڑے پہنتا ہے تو اُسے اُس میں پسینہ آجاتا ہے، کیا ناپاک ہوجاتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ عورت پُرانےکپڑے کا ٹکڑا یا ٹکڑے رکھا کرتی تھی پھر جب یہ ہوتا (یعنی مرد ہم بستری کرتا) تو مرد اس ٹکڑے سے گندگی صاف کر لیتا اور وہ نہیں سمجھتا تھا کہ (پسینے سے) اس کے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے۔