Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 43 · Chapter 23

Chapters 1051–1073

بَابُ إِبَاحَةِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ لِمَنْ لَا يَحُجُّ عَامَهُ ذَلِكَ، وَالرُّخْصَةِ لَهُ فِي الرُّجُوعِ إِلَى وَطَنِهِ بَعْدَ قَضَاءِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ [أَنْ] يَحُجَّ

Chapter on the permissibility of performing Umrah during the months of Hajj for one who does not perform Hajj that year, and the permission for him to return to his homeland after completing the Umrah before performing Hajj

باب اس شخص کے لیے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی جائز ہونے کا بیان جو اس سال حج نہ کرے، اور عمرہ مکمل کرنے کے بعد حج کرنے سے پہلے اپنے وطن واپس جانے کی اجازت کا بیان

706 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3079

Sahih Ibn Khuzaymah #3079

Sahih

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ، فَلْيَفْعَلْ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ يُصَرِّحُ بِصِحَّةِ قَوْلِ الْمُطَّلِبِيِّ: أَنَّ فَرْضَ الْحَجِّ مَمْدُودٌ مِنْ حِينِ يَجِبُ عَلَى الْمَوَالِي أَنْ تَحْدُثَ بِهِ الْمَنِيَّةُ، إِذْ لَوْ كَانَ فَرْضُ الْحَجِّ عَلَى مَا تَوَهَّمَهُ بَعْضُ مَنْ لا يَفْهَمُ الْعِلْمَ، وَزَعَمَ أَنَّ مَنْ...... الْحَجِّ عَنْ أَوَّلِ سَنَةٍ يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَجُّ كَانَ فِيهَا عَاصِيًا لِلَّهِ لَمَا أَبَاحَ الْمُصْطَفي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ كَانَ مَعَهُ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَنْ يَرْجِعَ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْحَجِّ أَيَّامٌ قَلائِلُ، لأَنَّ الْمُصْطَفي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَرَفَةَ خَمْسَةُ أَيَّامٍ، فَأَبَاحَ لِمَنْ أَحَبَّ الرُّجُوعَ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْعُمْرَةِ أَنْ يَرْجِعَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ"

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Rabee’ ibn Sulayman and Baḥr ibn Naṣr, who said: Narrated to us Ibn Wahb, who informed us Ibn Abi al-Zinaad, from ‘Alqamah—he is Ibn Abi ‘Alqamah—from his mother, from ‘Aa’ishah (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded the people during the Farewell Pilgrimage, saying: *"Whoever wishes to return with an ‘umrah before the Hajj, then let him do so."* Abu Bakr (a commentator) said: This report explicitly confirms the correctness of the statement of al-Muṭṭalibī: that the obligation of Hajj is extended from the time when it becomes obligatory upon the freed slaves to perform it when death approaches. For if the obligation of Hajj were—as some who lack understanding have assumed and claimed—that whoever delays performing Hajj from the first year in which it becomes obligatory upon him is sinful before Allah, then the Prophet (ﷺ) would not have permitted those with him during the Farewell Pilgrimage to return with an ‘umrah before performing Hajj, despite there being only a few days between them and the Hajj. For the Prophet (ﷺ) entered Makkah during the Farewell Pilgrimage on the fourth day of Dhu al-Ḥijjah, and there were five days between them and ‘Arafah. Thus, he permitted whoever wished to return after completing the ‘umrah to go back before performing Hajj.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع ابن سلیمان اور بحر ابن نصر نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: ابن وھب نے ہمیں بتایا، ابن ابی زناد نے ہمیں خبر دی، علقمہ کی طرف سے - وہ ابن ابی علقمہ ہیں - اپنی ماں کی طرف سے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے، کہ رسول اللہ (ﷺ) نے وداعی حج کے سال لوگوں کو حکم دیا، تو آپ نے فرمایا: جو شخص چاہے کہ حج سے پہلے عمرہ کر کے واپس چلا جائے، تو وہ کر لے۔ ابو بکر نے کہا: یہ خبر صریح طور پر مطلبی کے قول کی صحت پر دلالت دیتا ہے: کہ حج کا فرض وسعت رکھتا ہے اس وقت سے جب تک کہ موت واقع ہو، کیونکہ اگر حج کا فرض اس بات پر ہوتا جس کا بعض غیر فہم علم لوگوں نے توہم کیا، اور دعوی کیا کہ جو شخص... پہلے سال حج کے بارے میں... تو اس سال حج اس پر فرض تھا، وہ اللہ کا عاصی ہوتا، تو مصطفی (ﷺ) نے ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ وداعی حج کے سال تھے، اجازت نہ دی ہوتی کہ وہ حج سے پہلے عمرہ کر کے واپس چلی جائیں، حالانکہ ان کے اور حج کے درمیان چند دن تھے، کیونکہ مصطفی (ﷺ) وداعی حج میں مکہ میں داخل ہوئے تھے ذی الحجہ کی چار تاریخ کو، اور ان کے اور عرفات کے درمیان پانچ دن تھے، تو آپ نے جو شخص چاہتا تھا کہ عمرہ سے فارغ ہو کر واپس چلا جائے، اس کو اجازت دی کہ وہ حج سے پہلے واپس چلا جائے۔

3080

Sahih Ibn Khuzaymah #3080

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Bundar, who narrated to us from Yahya bin Sa'id, who narrated to us from Ubaydullah bin Umar, who informed me from Nafi', from Ibn Umar (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان عورت کو تین دن کا سفر اس کے محرم کے بغیر طے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کے الفاظ کتاب الکبیر میں بیان کیے ہیں اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت مختصر ہے، مفصل نہیں کیونکہ اس میں خاوند کا ذکر نہیں ہے جبکہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت مفصل ہے جس میں محرم رشتہ داروں اور خاوند کا ذکر موجود ہے۔

3081

Sahih Ibn Khuzaymah #3081

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ،nوَقَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَرْكَانِ الْبَيْتِ يَسْتَقْبِلُ كُلَّ رُكْنٍ مِنْهَا بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّمْجِيدِ ، وَسَأَلَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَهُ ، وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, on the authority of 'Abd al-Malik ibn Abi Sulayman, on the authority of 'Ata', who said: Usamah ibn Zayd narrated to me that he entered with the Messenger of Allah (ﷺ) [into the Ka'bah], and he mentioned the hadith, and he said: "Then he (ﷺ) turned to the corners of the House, facing each corner with takbir (saying 'Allahu Akbar'), tahilil (saying 'La ilaha illallah'), and tamjid (saying 'Subhanallah' and praising Allah), and he supplicated to Allah and sought His forgiveness," and he mentioned the rest of the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے کہا: مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ (کعبہ میں) داخل ہوئے، پھر انہوں نے (کچھ) حدیث ذکر کی،\nاور کہا: پھر آپ ﷺ بیت اللہ (کعبہ) کے کونوں کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ اس کے ہر کونے کی طرف رخ کر کے تکبیر، تہلیل اور تمجید بیان کر رہے تھے، اور آپ ﷺ نے اللہ سے دعا کی اور اس سے بخشش طلب کی، اور پھر انہوں نے باقی حدیث ذکر کی۔

3082

Sahih Ibn Khuzaymah #3082

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ قَزْعَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Muhammad ibn al-Mubarak, narrated to us Sadaqah — meaning Ibn Khalid —, from Yazid ibn Abi Maryam, from Qaz'ah ibn Yahya, from 'Abdullah ibn 'Amr ibn al-'As (RA), from the Messenger of Allah (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد ابن یحیی نے ہمیں بتایا، محمد ابن المبارک نے ہمیں بتایا، صدقہ یعنی ابن خالد نے ہمیں بتایا، یزید ابن ابی مریم کی طرف سے، قزعہ ابن یحیی کی طرف سے، عبداللہ ابن عمرو ابن العاص (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے، رسول اللہ (ﷺ) سے، آپ نے فرمایا:

3083

Sahih Ibn Khuzaymah #3083

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Ḥabīb al-Ḥārithī: Narrated to us Ḥammād: From ʿAmr ibn Dīnār: From Ibn ʿUmar: From Bilāl (RA) that the Messenger of Allāh ﷺ prayed inside the Kaʿbah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمیں یحییٰ بن حبیب الحارثی نے خبر دی، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، اور انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی۔

3084

Sahih Ibn Khuzaymah #3084

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Muslim and Yahya ibn Hakim, who said: Narrated to us Bishr ibn 'Umar, who said: Narrated to us Malik, from Sa'id ibn Abi Sa'id, from his father, from Abu Hurayrah (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر بغیر محرم کے طے کرے۔ ابوبکر کہتے ہیں کہ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ اصحاب مالک میں سے بشر بن عمر کے علاوہ کسی اور نے یہ حدیث بروایت ”عن سعيد بن ابي سعيد عن ابيه“ بیان کی ہو۔ یہ حدیث موَطا میں ”عن سعيد عب ابي هريرة“ سے مذکور ہے۔

3085

Sahih Ibn Khuzaymah #3085

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عِيسَى: حَدَّثَنَا، وَقَالَ يُونُسُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخَبَرِ: هُوَ صَحِيحٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَوَاهُ اللَّيْثُ ابْنُ سَعْدٍ ، وَابْنُ عَجْلانَ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn ‘Abd al-A‘la and ‘Isa ibn Ibrahim. ‘Isa said: Narrated to us, and Yunus said: News reached us from Ibn Wahb, who informed me from Malik, from Sa‘id, from Abu Hurayrah (RA), who said that Abu Bakr (RA) stated in the report: "It is Sahih from his father, from Abu Hurayrah (RA)." This was narrated by al-Layth ibn Sa‘d, Ibn ‘Ajlan, and Ibn Abi Dhi’b, from Sa‘id, from his father, from Abu Hurayrah (RA). I have already included it in my book al-Kabir.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت اپنے استاد یونس بن عبدالاعلی کی سند سے بیان کی ہے۔

3086

Sahih Ibn Khuzaymah #3086

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، سَمِعَهُ مِنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ : عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ ، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ ، فَقَالَ : لَتُعْطِيَنِّي أَوْ لَيَخْرُجَنَّ السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي ، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ فَفَتَحَ الْبَابَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ ﷺ ، وَدَخَلَ مَعَهُ عُثْمَانُ ، وَبِلَالٌ ، وَأُسَامَةُ ، فَأَجَافُوا الْبَابَ مَلِيًّا ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَكُنْتُ رَجُلًا شَابًّا قَوِيًّا فَبَدَرَ النَّاسُ فَبَدَرْتُهُمْ ، فَوَجَدْتُ بِلَالًا قَائِمًا عَلَى الْبَابِ ، قَالَ : يَا بِلَالُ ، أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ؟ قَالَ : بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ ، وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abdul-Jabbar ibnul-'Ala' and Muhammad ibn 'Amr ibnul-'Abbas, they said: Sufyan narrated to us, and 'Abdul-Jabbar said: Ayyub narrated to us, he heard it from Nafi', from Ibn 'Umar (RA). And Muhammad said: From Ayyub, from Nafi', from Ibn 'Umar (RA), who said: "The Messenger of Allah ﷺ entered on the Day of the Conquest while riding a camel belonging to Usamah (RA), until he made it kneel at the courtyard of the Ka'bah. Then he called for the key from 'Uthman ibn Talhah. 'Uthman went to his mother, but she refused to give it to him. He said, 'You will give it to me, or I will draw the sword from my loins.' So she gave it to him, and he opened the door. The Prophet ﷺ entered, and with him entered 'Uthman (RA), Bilal (RA), and Usamah (RA). They closed the door for a while. Ibn 'Umar (RA) said: 'I was a strong young man, so I outran the people and reached Bilal (RA) standing at the door. I asked, 'O Bilal, where did the Messenger of Allah ﷺ pray?' He said, 'Between the two front pillars.' And I forgot to ask him how many rak'ahs he prayed.'" This is the wording of Muhammad ibn 'Amr's hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے عبدالجبار بن العلاء اور محمد بن عمرو بن العباس نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، عبدالجبار نے کہا: ہم سے ایوب نے بیان کیا، انہوں نے اسے نافع سے سنا، انہوں نے ابن عمر سے، اور محمد نے کہا: ایوب سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا:\nفتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ (مکہ میں) داخل ہوئے، اور آپ ﷺ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے کعبہ کے صحن میں بٹھایا۔ پھر آپ ﷺ نے عثمان بن طلحہ (رضی اللہ عنہ) کو چابی لانے کے لیے بلایا۔ وہ اپنی والدہ کے پاس گئے، لیکن انہوں نے دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر عثمان نے کہا: تمہیں یہ (چابی) دینی پڑے گی ورنہ تلوار میری پیٹھ سے پار ہو جائے گی۔\nتو انہوں نے وہ چابی انہیں دے دی۔ پھر انہوں نے دروازہ کھولا اور نبی کریم ﷺ اندر داخل ہوئے، اور آپ ﷺ کے ساتھ عثمان (بن طلحہ)، بلال اور اسامہ (رضی اللہ عنہم) بھی داخل ہوئے، اور انہوں نے کافی دیر تک دروازہ بند رکھا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں ایک طاقتور نوجوان تھا، (دروازہ کھلنے پر) لوگ تیزی سے آگے بڑھے تو میں ان سب سے پہلے پہنچ گیا۔ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے پر کھڑا پایا تو میں نے پوچھا: اے بلال! رسول اللہ ﷺ نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: اگلے دو ستونوں کے درمیان۔ اور میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ ﷺ نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔\nیہ الفاظ محمد بن عمرو کی حدیث کے ہیں۔

3087

Sahih Ibn Khuzaymah #3087

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār, narrated to us Abū Hishām al-Makhzūmī, narrated to us Wahb, on the authority of Ibn ‘Ajlān, from Sa‘īd ibn Abī Sa‘īd, from his father, from Abū Hurayrah (RA), who said: The Messenger of Allāh (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بندر نے ہمیں بتایا، ابو ہشام المخزومی نے ہمیں بتایا، وھیب نے ہمیں بتایا، ابن عجلان کی طرف سے، سعید ابن ابی سعید کی طرف سے، ان کے والد کی طرف سے، ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:

3088

Sahih Ibn Khuzaymah #3088

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيُّ التِّنِّيسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ :n«عَجَبًا لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ كَيْفَ يَرْفَعُ بَصَرَهُ قِبَلَ السَّقْفِ ، يَدَعُ ذَلِكَ إِجْلَالًا لِلَّهِ وَإِعْظَامًا ، دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْكَعْبَةَ مَا خَلَّفَ بَصَرُهُ مَوْضِعَ سُجُودِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْهَا» .

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ahmad ibn Isa ibn Zayd ibn Abd al-Jabbar ibn Malik al-Lakhmi al-Tunisi, who narrated to us Amr ibn Abi Salamah, who narrated to us Zuhayr ibn Muhammad al-Makki, from Musa ibn Uqbah, from Salim ibn Abdullah, that Aisha (RA) would say: "It is a marvel for a Muslim man when he enters the Kaaba: how is it that he raises his gaze toward the ceiling? He refrains from that action out of reverence for Allah and in exaltation of Him. The Messenger of Allah (ﷺ) entered the Kaaba, and he did not direct his gaze to any spot other than the place of his prostration until he exited from it." Commentary: This hadith is graded Sahih by Imam al-Bayhaqi. It underscores the profound sanctity of the Sacred Kaaba, the first house of worship divinely established for humanity, as referenced in the Quran (Surah Al-Imran 3:96). Aisha's (RA) remark highlights the expected conduct of a Muslim upon entering this sacred space: lowering one's gaze is an act of humility and reverence for Allah, who has sanctified the Kaaba. The practice of the Prophet (ﷺ) serves as the ultimate exemplar for this etiquette: he never diverted his gaze from the site of his prostration while inside the Kaaba, demonstrating complete focus on worship and exaltation of Allah, free from distraction or casual observation of the structure surrounding him. The hadith further emphasizes that true reverence for the Sacred House is manifested through mindful, humble conduct, rather than irreverent or distracted behavior, even when one is present in the most sacred site on earth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے احمد بن عیسیٰ بن زید بن عبدالجبار بن مالک اللخمی التنیسی نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ہم سے زہیر بن محمد المکی نے بیان کیا، انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں:\nتعجب ہے مسلمان شخص پر کہ جب وہ کعبہ میں داخل ہوتا ہے تو کیسے اپنی نگاہ چھت کی طرف اٹھاتا ہے، اسے چاہیے کہ اللہ کے جلال اور اس کی عظمت کے پیشِ نظر اسے (نگاہ اوپر اٹھانے کو) ترک کر دے۔ رسول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کی نگاہ آپ کے سجدہ کی جگہ سے پیچھے نہیں ہٹی (یعنی آپ ﷺ کی نظریں سجدہ گاہ پر جمی رہیں) یہاں تک کہ آپ ﷺ وہاں سے باہر تشریف لے آئے۔

3089

Sahih Ibn Khuzaymah #3089

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, who said: Narrated to us Jarir, from Sufyan. And narrated to us Abu Bishr al-Wasiti, who said: Narrated to us Khalid, from Suhayl, from Sa'id ibn Abi Sa'id, from Abu Hurayrah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف ابن موسی نے ہمیں بتایا، جریر نے ہمیں بتایا، سفیان سے۔ اور ابو بشر الواسطی نے ہمیں بتایا، خالد نے ہمیں بتایا، سہیل سے، سعید ابن ابی سعید سے، ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:

3090

Sahih Ibn Khuzaymah #3090

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn 'Abd al-A'la al-San'ani and Ahmad ibn al-Miqdam, they said: Narrated to us Bashsh (who is Ibn al-Mufaddal), he said: Narrated to us Suhayl, from his father, from Abu Hurayrah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah (SWT) has a hundred mercies, out of which He has sent down one mercy upon the jinn, mankind, the animals and the insects, through which they are compassionate and merciful to one another, and through which wild animals are kind to their young. And He has withheld ninety-nine mercies for His servants on the Day of Resurrection." ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لئے اپنے محرم کے بغیر تین دن کا سفر کرنا حلال نہیں ہے۔“

3091

Sahih Ibn Khuzaymah #3091

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : سَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قُبُلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ ، وَقَالَ : «هَذِهِ الْقِبْلَةُ» .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar al-Qaysi, narrated to us Muhammad — meaning ibn Bakr al-Bursani —, informed us Ibn Jurayj who said: I said to 'Ata': "Did you hear Ibn 'Abbas say, 'You were only commanded to perform Tawaf, and you were not commanded to enter it'?" He said: "He did not forbid entering it, but I heard him say: 'Usamah ibn Zayd informed me that when the Prophet (ﷺ) entered the House, when he came out he prayed two rak'ahs facing the House, and said: "This is the Qiblah."'"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے محمد بن معمر القیسی نے بیان کیا، ہم سے محمد یعنی ابن بکر البرسانی نے بیان کیا، ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: تمہیں صرف طواف کا حکم دیا گیا ہے، اور تمہیں اس (کعبہ) کے اندر داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا؟ انہوں (عطاء) نے کہا: وہ (ابن عباس رضی اللہ عنہ) اس کے اندر داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے، البتہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی،\nکہ نبی کریم ﷺ جب بیت اللہ (کعبہ) میں داخل ہوئے، پھر جب آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے بیت اللہ کے سامنے (رخ کر کے) دو رکعتیں پڑھیں، اور فرمایا: یہ قبلہ ہے۔

3092

Sahih Ibn Khuzaymah #3092

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَشَجُّ ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ أَبِي رَافِعٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ بَعْثٍ مَرَّةً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn ‘Abd al-Raḥmān ibn Wahb: narrated to me my uncle, who informed me on the authority of ‘Amr—he is Ibn al-Ḥārith—from Bukayr—he is Ibn ‘Abd Allāh al-Ashajj—that al-Ḥasan ibn Abī Rāfi‘ informed him, from Abī Rāfi‘, who said: “I was once with an expedition when the Messenger of Allāh (ﷺ) said to me: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک لشکر کے ساتھ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حُکم دیا: ”جاؤ میمونہ رضی اللہ عنہا کو میرے پاس لے آؤ۔“ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کی نبی میں تو لشکر میں شامل ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کو میں پسند کرتا ہوں کیا تم اسے پسند نہیں کرتے؟“ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں اے اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ انہیں میرے پاس لے آؤ۔“ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تو میں گیا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو آپ کے پاس لیکر آیا۔

3093

Sahih Ibn Khuzaymah #3093

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu 'Ammar al-Husayn ibn Hurayth, who said: Narrated to us Sufyan, from 'Amr—he is Ibn Dinar—from Abu Ma'bad, on the authority of Ibn 'Abbas (RA), who said: I heard the Prophet (ﷺ) delivering a sermon.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”خبردار کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ اس کے محرم کے بغیر علیحدگی میں ہرگز نہ جائے۔“ تو ایک شخص کھڑا ہوگیا، اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، بیشک میرا نام فلاں فلاں غزوے میں لکھ لیا گیا ہے جبکہ میری بیوی حج کے لئے روانہ ہوگئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“

3094

Sahih Ibn Khuzaymah #3094

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَعْبَدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، يَقُولُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abd al-Jabbar, who narrated to us Sufyan, from Amr, who said: I heard Abu Ma'bad say: I heard Ibn Abbas (RA) say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) while he was standing on the minbar delivering a sermon, say: Then he mentioned a hadith similar to it, and said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے پھر بقیہ حدیث بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“

3095

Sahih Ibn Khuzaymah #3095

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَرَدْتُ سَفَرًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: انْتَظِرْ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُنَا:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Ali bin Sahl Ar-Ramli, who narrated from Al-Walid (meaning Ibn Muslim), who narrated from Hanzalah, who stated: I heard Al-Qasim say: "I was in the presence of Ibn Umar when a man came to him and said, 'I intend to travel.' Abdullah (Ibn Umar) said, 'Wait until I bid you farewell as the Messenger of Allah (ﷺ) used to bid us farewell:'"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب قاسم بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں سفر پر جارہا ہوں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تھوڑا انتظار کرو حتّیٰ کہ میں تمہیں ویسے ہی رخصت کرسکوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس دعا کے ساتھ الوداع کہتے تھے «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» ”میں تمہارے دین، تمھاری امانتداری اور تمہارے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“

3096

Sahih Ibn Khuzaymah #3096

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ، نا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us 'Abdullah ibn al-Hakam ibn Abi Ziyad al-Qataniy, narrated to us Sayyar ibn Hatim, on the authority of Ja'far ibn Sulayman, from Thabit, from Anas (RA) who said: A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Messenger of Allah, I intend to travel. Provide me with provision (for the journey)." He (ﷺ) said: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میں سفر پر جارہا ہوں تو آپ مجھے زاد سفر عنایت فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «زَوَّدَکَ اللّٰہُ التَّقْوٰی» ”اللہ تعالیٰ تمہیں تقوے کا زاد سفر عطا فرمائے۔“ اُس نے عرض کیا کہ مجھے مزید عطا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَغَفَرَ ذَنْبَکَ» ”اللہ تمہارے گناہ معاف فرمائے۔“ اُس نے پھر عرض کی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے اور بھی عطا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَیَسَّرَلَکَ الْخَیْرَ حَیْثُ مَا کُنْتَ» ”تم جہاں بھی ہو اللہ تعالیٰ تمہارے ئے آسانی مہیا فرمائے۔“

3097

Sahih Ibn Khuzaymah #3097

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn 'Abdah ad-Dabbi: News came to us Hammād (meaning Ibn Zayd), from 'Āṣim (and he is Ibn Sulaymān al-Aḥwal), from 'Abd Allāh ibn Sarjis (RA), who said: When the Prophet (ﷺ) would travel, he would say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَمِنَ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ وَمِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَمِنْ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ» ”اے اللہ تُو ہی سفر میں ہمارا ساتھی اور ہمارے گھر والوں میں خلیفہ ہے۔ اے اللہ، تُو ہمارے سفر میں ہمارا ساتھی بن جا اور ہمارے گھر والوں میں ہمارا خلیفہ ہوجا۔ اے اللہ، میں سفر کی مشکلات اور دشواریوں سے واپسی پر رنج وغم کے مصیبت سے، نعمتوں کے حصول کے بعد نعمتوں کی محرومی سے، مظلوم کی بد دعا سے اور اہل وعیال اور مال و دولت کے بُرے منظرسے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ جناب احمد بن مقدار اور احمد بن عبدہ کی روایات میں ہے کہ جناب عاصم سے الحور کا معنی پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم نے یہ مثال نہیں سنی ”حَارَه بَعدَ مَا كَان“ وہ مالدار تھا پھر مفلس وہ محتاج ہوگیا۔

3098

Sahih Ibn Khuzaymah #3098

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ,

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ʿAlī ibn Ḥujr al-Saʿdī: Narrated to us Ismāʿīl ibn Jaʿfar: Narrated to us Jaʿfar ibn Muḥammad, on the authority of his father, on the authority of Jābir (RA) who said: *"The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'Whoever gives respite to a debtor or remits his debt, Allah will shade him on the Day when there is no shade but His.'"*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منوّرہ میں نوسال قیام کیا مگر اس دوران میں حج نہیں کیا پھر آپ نے حج کرنے کا اعلان کردیا یہ سن کر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس سال) حج ادا فرمائیںگے بیشمار لوگ مدینہ منوّرہ آگئے ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں حج کرے۔ پھر کچھ حدیث بیان کی اور فرمایا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (احرام باندھ کر) مسجد ذوالحلیفہ سے روانہ ہوئے تو سواری پر سوار ہوگئے جبکہ آپ کے ساتھ بیشمار لوگ سواریوں پر سوار اور بہت سارے پیدل چل رہے تھے پھر بقیہ حدیث بیان کی۔

3099

Sahih Ibn Khuzaymah #3099

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ , وابْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُشَاةً مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Isma'il ibn Hafs ibn Umar and Ibn Maymun narrated to us, saying: Yahya ibn al-Yaman narrated to us, from Hamza al-Zayyat, from Humran ibn A'yan, from Abu al-Tufayl, from Abu Sa'id al-Khudri (RA), who said: The Prophet (ﷺ) performed Hajj, and his Companions walked on foot from Madinah to Makkah. He said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کیا تو مدینہ منوّرہ سے مکّہ مکرّمہ تک پیدل سفر طے کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے تہہ بند اپنی کمروں کے ساتھ باندھ لو۔“ اور آپ ایسی تیز چال چلے جس میں دوڑ بھی شامل تھی۔

3100

Sahih Ibn Khuzaymah #3100

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ، ثُمَّ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ الْمُشَاةُ مِنْ أَصْحَابِهِ وَصَفُّوا لَهُ، وَقَالُوا: نَتَعَرَّضُ لِدَعَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: اشْتَدَّ عَلَيْنَا السَّفَرُ، وَطَالَتِ الشُّقَّةُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us ‘Abd al-Wahhab ibn ‘Abd al-Majid, narrated to us Ja‘far ibn Muhammad, on the authority of his father, on the authority of Jabir ibn ‘Abd Allah (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: During the Year of the Conquest, he (ﷺ) set out, and the people gathered around him in rows. They said, “We present ourselves to receive the supplications of the Messenger of Allah (ﷺ).” They said, “The journey has been arduous upon us, and the separation has been prolonged.” So the Messenger of Allah (ﷺ) said to them: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکّہ والے سال (مدینہ منوّرہ سے مکّہ مکرّمہ کے لئے) روانہ ہوئے کچھ سفر کرنے کے بعد آپ کے پیدل چلنے والے صحابہ کرام آپ کے پاس جمع ہو گئے اور انہوں نے صفیں بنالیں وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہم (سفر کی مشقّت سے بچنے کے لئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا خیر کرا لتیے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے لئے سفر کرنا دشوار ہوگیا ہے اور مسافت طویل ہوگئی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیز چلنے سے مدد لے لو کیونکہ تیز چلنے سے مسافت جلد طے ہوگی اور تم خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرو گے۔“ صحابہ کرام فرماتے ہیں، تو ہم نے ایسے ہی کیا ہمارے لئے سفر کرنا آسان ہوگیا اور تھکاوٹ کا احساس بھی ختم ہوگیا۔

3101

Sahih Ibn Khuzaymah #3101

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: شَكَا نَاسٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ، فَدَعَا بِهِمْ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Isḥāq ibn Manṣūr narrated to us, Rauh ibn ʿUbāda narrated to us, Ibn Jurayj informed us, Jaʿfar ibn Muḥammad informed us, from his father, from Jābir (RA), who said: Some people complained to the Messenger of Allah (ﷺ) about the hardship of walking. So he called them and said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام نے پیدل چلنے میں مشقّت کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں بلایا اور حُکم دیا: ”تم تیز رفتاری سے چلو۔“ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم تیز چلے تو ہم نے اس میں آسانی اور سہولت پائی۔

3102

Sahih Ibn Khuzaymah #3102

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، وَعَمِّي إِسْمَاعِيلُ بْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Khalaf al-'Asqalani, Ibrahim ibn Marzuq, and my uncle Isma'il ibn Khuzaymah—they said: Narrated to us Wahb ibn Jarir, who narrated from his father, who said: I heard Yunus ibn Yazid narrating from al-Zuhri, from 'Ubayd Allah ibn 'Abd Allah, from Ibn 'Abbas (RA) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(سفر میں) بہترین ساتھی چار ہیں۔ اور بہترین جنگی دستہ چار سو مجاہدین پر مشتمل ہوتا ہے اور بہترین فوج وہ ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو اور بارہ ہزار فوجیوں پر مشتمل لشکر قلّت افراد کی وجہ سے شکست نہیں کھائے گا۔“

3103

Sahih Ibn Khuzaymah #3103

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Hasan ibn Al-Hasan, he said: Ibn Al-Mubarak informed us, he said: Haywah ibn Shurayh informed us, he said: Shurahbil narrated to me, from Abu Abdur-Rahman Al-Hubuli, from Abdullah ibn Amr (RA), from the Prophet (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لئے بہترین ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین ہمسایہ وہ ہے جو اپنے ہمسائے کے حق میں بہترین ہو۔“

3104

Sahih Ibn Khuzaymah #3104

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَهُمْ نَفَرٌ فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu 'Ammar al-Husayn ibn Hurayth, who said: Narrated to us al-Fadl ibn Musa, from 'Abd al-Hamid ibn Ja'far, from Sa'id al-Maqburi, from 'Ata', the freed slave of Abu Ahmad, from Abu Hurayrah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) dispatched a military expedition, and they were a group of men. So the Messenger of Allah (ﷺ) called them and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جو کچھ افراد پر مشتمل تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں بلایا اور پوچھا: ”تمہیں کتنا قرآن مجید یاد ہے؟“ تو آپ نے اُن سے باری باری قرآن پڑھوا کر سُنا۔ حتّیٰ کہ ان میں سے ایک نوجوان کی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے نوجوان تمہیں کتنا قرآن مجید حفظ ہے؟“ اُس نے جواب دیا کہ مجھے اتنا اتنا قرآن یاد ہے اور سورة البقره بھی یاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تم ان کے امیر ہو۔“

3105

Sahih Ibn Khuzaymah #3105

حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ :

EnglishUnverified translation

Ammar bin Khalid al-Wasiti narrated to us, saying: Al-Qasim bin Malik al-Muzani narrated to us, on the authority of Al-A'mash, on the authority of Zaid bin Wahb, who said: Umar (RA) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تین افراد پر مشتمل جماعت ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ کسی ایک کو اپنا امیر بنالیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح لوگوں کو امیر بناتے تھے۔

3106

Sahih Ibn Khuzaymah #3106

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَلِيًّا الأَزْدِيَّ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، عَلَّمَهُمْ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Al-Hasan ibn Muhammad ibn As-Sabbah Az-Za'farani, narrated to us Hajjaj ibn Muhammad, who said: Ibn Jurayj said: Abu Az-Zubayr informed me, that 'Ali Al-Azdi informed him, that Ibn 'Umar (RA) taught them: That the Messenger of Allah (ﷺ), when he mounted his camel intending to travel, would say the takbir three times, then recite: **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب علی الازدی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں تعلیم دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سواری پر سیدھے ہوکر بیٹھ جاتے اور سفر پر روانہ ہونے لگتے تو آپ تین بار «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ، اللَّهُمَّ إِنّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا البِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَليفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ» ”پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے فرماںبردار بنا دیا اور ہم میں اسے مطیع بنانے کی طاقت نہیں تھی اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ، ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں۔ اور ایسے عمل کی توفیق مانگتے ہیں جو تجھے پسند ہو۔ اے اللہ، ہمارے لئے ہمارے سفر کو آسان بنادے اور اسکی طوالت کو لپیٹ دے۔ اے اللہ تو ہی اس سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور ہمارے گھر والوں میں ہمارا خلیفہ ہے۔ اے اللہ، میں سفر کی مشکلات اور مصائب سے، واپسی پر رنج وغم میں مبتلا ہونے سے اور اپنے گھر والوں اور مال و دولت میں برے منظر دیکھنے سے تیری مانگتا ہوں۔“ پھر جب آپ واپس تشریف لاتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے: «آيِبُونَ، تائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم واپس آنے والے ہیں، اپنے گناہوں کی توبہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کے عبادت گزار اور اس کی حمد و ثنا بیان کرنے والے ہیں۔“

3107

Sahih Ibn Khuzaymah #3107

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، وَرَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي لاسٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ خِفَافٍ لِلْحَجِّ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Hasan ibn az-Za'farani, Ishaq ibn Wahb al-Wasiti, 'Abdullah ibn al-Hakam ibn Abi Ziyad, and Raja' ibn Muhammad al-'Udhri—they said: Narrated to us Muhammad ibn 'Ubayd at-Tanafisi, who said: Narrated to us Muhammad ibn Ishaq, from Muhammad ibn Ibrahim, from 'Umar ibn al-Hakam ibn Thawban, from Abu Las al-Khuza'i (RA), who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) mounted us on some camels from the camels of sadaqah (charity), which were light and suitable for Hajj. We said: 'O Messenger of Allah! We do not see that these camels are suitable for us to ride.' He (ﷺ) said:" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سفرحج کے لئے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے کمزور اونٹوں پرسوار کیا۔ تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ہمارے خیال میں یہ اونٹ ہمیں سواری کا کام نہیں دے سکیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے تو تم جب ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ تعالیٰ کے حُکم کے مطابق اس کا نام لیکر (بسم اللہ پڑھ کر) ان پر سوار ہوجاؤ پھر ان سے خوب اپنی خدمت لو، بیشک (اصل میں) سوار تو اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے (انسان میں اتنی طاقت کہاں کہ وہ ان طاقتوں جانوروں کو اپنے تابع کر سکے)“

3108

Sahih Ibn Khuzaymah #3108

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، وَثَنًا الزَّعْفَرَانِيُّ ، أَيْضًا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، فِي خَبَرِ شَبَابَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Hasan ibn Muhammad Az-Za'farani, narrated to us 'Asim—meaning ibn 'Ali—narrated to us Layth—he is ibn Sa'd—and Az-Za'farani also narrated to us Shababah, informed us Layth, from Yazid ibn Abi Habib, from Ibn Mu'adh ibn Anas, from his father, in the narration of Shababah, who was one of the Companions of the Prophet (ﷺ), and in both of their narrations together: The Prophet (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا شبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان جانوروں پر اچھے طریقے سے سواری کرو اور انہیں صیحح سالم حالت میں چھوڑ دو، اور انہیں کرسیاں نہ بناوَ۔“

3109

Sahih Ibn Khuzaymah #3109

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ الْحَذَّاءُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَنْظَلَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us al-Nufayli, narrated to us Miskin al-Hadhdha', narrated to us Muhammad ibn al-Muhajir, on the authority of Rabi'ah ibn Yazid, on the authority of Abu Kabshah al-Saluli, who said: Sahl ibn Hunthalah narrated to us that the Messenger of Allah (ﷺ) passed by a camel whose back had sunken into its belly, so he said: "Take this camel away from the Muslims! Indeed, it is among the worst of camels." ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن حنظلۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر (بھوک کی وجہ سے) اس کے پیٹ کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، جب یہ صحتمند ہوں، تو ان پر سواری کرو، اور انہیں صحیح سلامت حالت ہی میں (ذبح کر کے) کھالو۔“

3110

Sahih Ibn Khuzaymah #3110

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abdah ibn 'Abdillah al-Khuzā'ī, who said: Zaid ibn al-Hubāb informed us, on the authority of Usāmah, who said: Muḥammad ibn Ḥamzah ibn 'Amr al-Aslamī narrated to me, on the authority of his father, who said: The Messenger of Allāh (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمد بن حمزہ بن عمرو سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اونٹ کی کمر پر ایک شیطان ہوتا ہے۔ لہٰذا جب تم ان پر سواری کرنے لگو تو اللہ کا نام لیکر لیا کرو اور اپنا مقصد وضرورت پوری کرنے سے عاجز مت آؤ (اسے مکمّل کئے بغیر نہ چھوڑو)۔“

3111

Sahih Ibn Khuzaymah #3111

وَأَنْ لَا تُقْصَرَ عَلَى طَلَبِ حَاجَةٍ، إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- يُرَاقِبُهُ، وَرَحْمَتُهُ تَحْمِلُ الرَّاكِبَ بِأَنْ يُقَوِّيَ الْمَرْكُوبَ لِيَقْضِيَ الرَّاكِبُ حَاجَتَهُ

EnglishUnverified translation

### ** Narrated to us Muhammad ibn al-Muthanna and Ibn Bashshar (may Allah have mercy upon them) – narrated to us Abu Dawud (may Allah have mercy upon him) – narrated to us al-Hasan ibn ‘Ali (may Allah have mercy upon him) – narrated to us Ziyad ibn ‘Abdullah al-Bakka’i, from al-Minhal ibn ‘Amr, from Sa‘id ibn Jubayr, from Ibn ‘Abbas (may Allah be pleased with him) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “Do not shorten your supplication for a need, for indeed Allah, the Exalted and Majestic, is observing him, and His mercy carries the rider by strengthening the mount so that the rider may fulfill his need.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اپنے آپ کو کسی حاجت کو پورا کرنے تک محدود نہ رکھو، کیونکہ خدا - قادر مطلق اور عظمت والا - اس کی نگرانی کر رہا ہے، اور اس کی رحمت سوار کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اٹھائے جانے والے کو مضبوط کرے تاکہ سوار اسے پورا کر سکے۔ اس کی ضرورت

3112

Sahih Ibn Khuzaymah #3112

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, who said: Ibn Wahb informed us, who said: Ibn Abi al-Zinad informed me, on the authority of his father, on the authority of al-A'raj, on the authority of Abu Hurayrah (RA), who said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say..."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے۔ تو ان سے خوب خدمت لو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کی اپنے باپ سے روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر سواری کے جانور پر سامان لادنے کی اجازت دی ہے تاکہ سوار اپنا مقصد پورا کرسکے اور اپنی حاجت پا سکے، یہ اجازت اس وقت دی ہے جب کہ سواری کا جانور بوجھ اُٹھانے کے قابل ہو۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تم جانور پر سواری اُس وقت کرو جب وہ صحت مند ہو اور اسے صحیح سلامت حالت ہی میں چھوڑ دو (یہ نہیں کہ اسے مرنے کے قریب کرکے ہی چھوڑو)“ اسی طرح سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”تم ان جانوروں پر سواری کرو جب کہ وہ سواری کے قابل ہوں اور ان کا گوشت کھا لو جب کہ ابھی وہ صحت مند اور گوشت کھانے کے قابل ہوں۔“ لہٰذا جب غالب امکان یہ ہو کہ سواری کے جانور پر دوران سفر میں سامان لادا جائے تو وہ تھک ہار جائیگا تو پھر سوار اس پر سامان نہیں لاد سکتا۔۔۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط لگائی ہے کہ اس کے صحیح و سالم ہوتے ہوئے سواری کی جائے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے فرمان: ”ان کے صحت مند ہوتے ہوئے ان پر سواری کرو“ کا مطلب یہ ہو کہ ایسی حالت میں سواری کرو جس میں اونٹ سالم رہے اور تھک ہار کر سفر سے عاجز نہ آجائے۔ واللہ اعلم

3113

Sahih Ibn Khuzaymah #3113

وَالْأَمْرِ بِإِمْكَانِ الرِّكَابِ عَنِ الرَّعْيِ فِي الْخِصْبِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ؛ فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ سَمَاعِ الْحَسَنِ مِنْ جَابِرٍ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): It was said to him, "The command to dismount the riding animals from grazing in lush pastures—if the report is sound—then indeed there is in the heart a delight from hearing the ḥasan (good) narration from Jābir (RA)."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سوار کو یہ حُکم ہے کہ سواری کو سر سبز علاقے میں چرنے کا موقع دے۔ بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو۔ کیونکہ امام حسن بصری کے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع کرنے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہے۔

3114

Sahih Ibn Khuzaymah #3114

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us 'Amr ibn Abi Salamah, from Zuhayr—meaning the son of Muhammad—who said: Salim narrated to us that he heard al-Hasan say: Narrated to us Jabir ibn 'Abd Allah who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرنے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اپنی سواریوں کو چرنے کا موقع دو اور منازل پر رکے بغیر مت گزرو (تا کہ جانور آرام کرلیں اور پانی وغیرہ پی لیں)۔ اور جب تم خشک علاقوں میں سفر کرو تو تیز رفتاری سے گزر جاؤ اور رات کے وقت سفر کرو کیونکہ رات کے وقت زیادہ سفر طے ہوتا ہے۔ اور جب غول شیاطین رنگ بدل بدل کر تمہارے سامنے نمودار ہوں تو تم جلدی سے نماز پڑھ لو۔ (اور رات کے وقت) بڑے راستوں پر آرام کے لئے ہرگز نہ اترو اور نہ وہاں نماز پڑھو کیونکہ بڑے راستے سانپوں اور درندوں کی پناہ گاہ ہیں۔ اور ایسے راستوں پر قضائے حاجت بھی نہ کرو کیونکہ یہ کام لوگوں کی لعنت کا باعث بنتا ہے۔“

3115

Sahih Ibn Khuzaymah #3115

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Hisham ar-Rifa’i, narrated to us Yahya ibn Yamān, narrated to us Hishām, from al-Ḥasan, from Jābir (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سرسبز علاقہ ہو تو سواریوں کو چارہ کھانے کا موقع دیدو اور ٹھہرنے کے مخصوص مقامات پر ضرور رکو۔ اور اگر خشک علاقہ آجائے تو تیز رفتاری سے وہاں سے نکل جاؤ۔ اور رات کے وقت سفر کرو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے (سفر زیادہ طے ہوتا ہے) اور (آرام کے لئے) راستوں کے عین درمیان میں مت بیٹھو کیونکہ (رات کے وقت) وہ سانپوں اور درندوں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں۔ اور جب تم غول شیطان کو دیکھو تو اذان پڑھو۔“ امام محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ امام علی بن عبداللہ، امام حسن بصری رحمه الله کے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع کا انکار کرتے تھے۔

3116

Sahih Ibn Khuzaymah #3116

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ ، فَمَاتَتْ ، فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ ﷺ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : «أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ ، أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟» قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : «فَاقْضُوا اللَّهَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ» .

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Bundar, he said: Narrated to us by Muhammad bin Ja'far, he said: Narrated to us by Shu'bah, from Abu Bisr, who said: I heard Sa'id bin Jubayr narrating from Ibn 'Abbas (RA) that a woman made a vow to perform Hajj, but she passed away. Her brother then came to the Prophet (ﷺ) and asked him about this matter. The Prophet (ﷺ) said, "What do you think if your sister had a

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے بندار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو بشر سے، انہوں نے کہا: میں نے سعید بن جبیر کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہوئے سنا، کہ\nایک عورت نے حج کرنے کی نذر مانی، لیکن وہ (حج کرنے سے پہلے) فوت ہو گئی۔ تو اس کا بھائی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بھلا بتاؤ، اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر اللہ کا (قرض) ادا کرو، کیونکہ وہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی نذر (قرض) پوری کی جائے۔

3117

Sahih Ibn Khuzaymah #3117

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn 'Abdah ad-Dabbi, narrated to us al-'Izz ibn Muhammad ad-Darawardi, from Suhayl, from his father, from Abu Hurayrah (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اپنے اونٹوں کو بھی ان کا حق دے دو (انہیں چارہ کھانے کا موقع دو) اور جب تم خشک علاقے سے گزرو تو اونٹوں کی صحت وتازگی کی حالت میں جلدی وہاں سے نکل جاؤ۔ اور جب تم رات کو آرام کے لئے اُترو تو راستے پر آرام کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ وہ جانوروں کا راستہ اور زہریلے کیڑے مکوڑوں کی پناہ گاہ ہوتا ہے۔“

3118

Sahih Ibn Khuzaymah #3118

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمِرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar ibn Rib'iyy al-Qaysiyy, narrated to us Muhammad—meaning ibn Bakr al-Bursaniyy, who informed us Ibn Jurayj, who informed me Abu'z-Zubayr, that he heard Jabir ibn 'Abdullah saying: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جانور کے) چہرے پر داغ لگانے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کے قصّے میں ہے، وہ اونٹ جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خرید لیا تھا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا اونٹ تھک ہار گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے پہلو میں چھڑی چبوئی یا اسے مارا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جانوروں کے چہروں کے علاوہ دوسرے حصّوں پر (بوقت ضرورت) مارنا جائز ہے۔ میں نے یہ روایات کتاب البیوع میں بیان کر دی ہیں۔

3119

Sahih Ibn Khuzaymah #3119

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Nasr bin Marzuq, who said: Narrated to us Asad, meaning Ibn Musa, who said: Narrated to us Hammad bin Salamah, from Qatadah, from Ikrimah, from Ibn Abbas (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ):

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے مُنہ سے مُنہ لگا کر پینے سے، گندگی کھانے والے جانور پر سواری کرنے اور جانور کو باندھ کر (نشانے مارکر) قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجثمہ سے منع فرمایا ہے۔ اور مجثمہ وہ جانور ہے جسے باندھ کر نشانہ بازی کی جائے حتّیٰ کہ وہ قتل ہو جائے۔“ میں نے یہ حدیث کتاب الاطعمہ یا کتاب الجہاد میں لکھی ہے۔ اور یہ روایت بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی جانور کو باندھ کر بھوکا پیاسا مارنے سے منع کیا ہے۔

3120

Sahih Ibn Khuzaymah #3120

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Yusuf bin Musa, who narrated to us Jarir, from Suhail bin Abi Salih, from his father Abu Salih, from Abu Hurairah (RA), who reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: *"Do not be harsh on yourselves, for Allah does not deal harshly with any of His servants until they are harsh with themselves."* Commentary: This hadith is recorded in *Sunan al-Daraqutni* (Hadith 3120) and is graded Hasan (sound) by hadith scholars. The full chain of narration is reliable: all narrators from Yusuf bin Musa al-Qattan down to Abu Salih are recognized as trustworthy (thiqah) in classical hadith criticism, and Abu Hurairah (RA) is a prominent companion known for his accurate transmission of the Prophet’s (ﷺ) teachings. The hadith emphasizes the core Islamic principle of moderation (wasatiyyah) in religious practice, cautioning against excessive self-denial, unnecessary hardship, or overburdening oneself with worship beyond one's capacity. It highlights Allah's infinite mercy, aligning with the Quranic decree: *"Allah does not burden a soul beyond that it can bear"* (Quran 2:286). The teaching also implies that divine treatment of servants is proportional to their own choices: those who avoid unnecessary harshness on themselves will not face undue hardship from Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک فرشتے اس قافلے اور جماعت کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں کتّا موجود ہو یا اس میں گھنٹی (بج رہی) ہو۔“

3121

Sahih Ibn Khuzaymah #3121

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلالٍ ، حَدَّثَنِي الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ar-Rabi' ibn Sulayman, narrated to us Ibn Wahb, narrated to me Sulayman—he is the son of Bilal—narrated to me Al-'Ala', on the authority of his father, on the authority of Abu Hurayrah (RA) that the Prophet (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔“

3122

Sahih Ibn Khuzaymah #3122

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Aslam, narrated to us Qabisah ibn 'Uqbah, narrated to us al-Layth, from 'Uqayl, from Ibn Shihab, from Anas ibn Malik (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, *"None of you truly believes until he loves for his brother what he loves for himself."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمیں محمد بن اسلم نے بتایا، ہمیں قبیصہ بن عقبہ نے بتایا، ہمیں لیتھ نے بتایا، عقیل سے، ابن شہاب سے، انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

3123

Sahih Ibn Khuzaymah #3123

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn ‘Abdah ad-Dabbee: narrated to us al-‘Izz ibn Muhammad ad-Daraawardee, from Suhayl, from his father, from Abu Hurayrah (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کے آخری حصّے میں آرام کے لئے اُترو تو راستے پر مت آرام کرو کیونکہ یہ چوپائیوں کا راستہ اور کیڑے مکوڑوں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں۔“

3124

Sahih Ibn Khuzaymah #3124

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، بِمِثْلِهِ وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, on the authority of Suhayl, with a similar chain.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کے وقت آرام کرنے کے لئے اُترو تو راستے پر مت بیٹھو کیونکہ رات کے وقت راستہ زہریلے کیڑے مکوڑوں کی پناہ گاہ ہوتا ہے۔“

3125

Sahih Ibn Khuzaymah #3125

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ :

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Yahya narrated to us, Abu al-Nu'man narrated to us, Hammad ibn Salamah narrated to us, from Humayd, from Bakr ibn Abdullah ibn Rabi'ah, from Abu Qatadah (RA):

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت سواری سے اُتر کر آرام کرتے تو اپنی دائیں کروٹ پر لیٹتے، اور جب صبح ہونے سے پہلے (رات کے آخری پہر) آرام کے لئے سواری سے اُترتے تو اپنے دونوں بازو کھڑے رکھتے اور اپنا سرمبارک اپنی دونوں ہتھیلیوں میں رکھ کر آرام کرتے۔“

3126

Sahih Ibn Khuzaymah #3126

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, on the authority of Muhammad ibn Ishaq, from Muhammad ibn Ibrahim ibn al-Harith, from 'Ata' ibn Yasar, from Jabir ibn 'Abdullah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمیں یوسف بن موسی نے بتایا، ہمیں جریر نے بتایا، محمد بن اسحاق سے، محمد بن ابراہیم بن حارث سے، عطا بن یسار سے، جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

3127

Sahih Ibn Khuzaymah #3127

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, on the authority of Fityr ibn Khalifah, on the authority of Abu az-Zubayr, on the authority of Jabir ibn ‘Abdullah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مویشیوں اور اہل وعیال کو سورج غروب ہونے سے عشاء کا اندھیرا ختم ہونے تک روکے رکھو (انہیں باہر نہ نکلنے دو)“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں۔ میرے علم کے مطابق اس حدیث کے الفاظ میں تصحیف ہوئی ہے۔ اصل الفاظ ”فَحْمَةُ العِشَاءِ“ ہیں۔ (یعنی جب عشاء کا اندھیرا شدید ہو جائے)۔ جب کہ حدیث میں ”فَحْوَةُ العِشَاءِ“ بیان کر دیا گیا ہے۔ جناب یوسف بن موسیٰ کے علاوہ دیگر راویوں نے فحمة يا فحوة کے الفاظ روایت کیے ہیں۔

3128

Sahih Ibn Khuzaymah #3128

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Salam ibn Junadah al-Qurashi, who said: Narrated to us by Waki', from Usamah ibn Zayd, from Sa'id al-Maqburi, from Abu Hurairah (RA), who said: A man came to the Prophet (ﷺ) intending to travel, and he said, "O Messenger of Allah, advise me." The Prophet (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ سفر پر جارہا تھا۔ تو اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے نصحیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور ہر بلند جگہ چڑھتے ہوئے اللہ اکبر پڑھنے کی نصیحت کرتا ہوں۔“ پھر جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اُس کے لئے) یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أزْوِلَهُ اْلأرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» ”اے اللہ اس کے سفر کی مسافت کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان بنادے۔“

3129

Sahih Ibn Khuzaymah #3129

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَصِينُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Ali ibn al-Mundhir, narrated to us Ibn Fudayl, narrated to us Husayn ibn ‘Abd al-Rahman, on the authority of Salim ibn Abi’l-Ja‘d, on the authority of Jabir ibn ‘Abd Allah (RA) who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی ابن منذر نے ہمیں بتایا، ابن فضیل نے ہمیں بتایا، حسین ابن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا، سالم ابن ابی الجعد سے، جابر ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا:

3130

Sahih Ibn Khuzaymah #3130

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرُوا تَكْبِيرَةً، فَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Marhum ibn 'Abd al-'Aziz, narrated to us Abu Na'amah al-Sa'di, on the authority of Abu 'Uthman al-Nahdi, on the authority of Abu Musa al-Ash'ari (RA), who said: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) during a military expedition. When we approached Madinah, they (the people) pronounced the takbir aloud. The Messenger of Allah (ﷺ) said:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے پھر (واپسی پر) جب ہم مدینہ منوّرہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر فرمایا۔ توصحابہ کرام نے با آواز بلند اللہ اکبر پڑھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تمہارا پروردگار بہرہ نہیں ہے اور نہ غائب ہے، وہ تو تمہارے درمیان (اپنی مدد وحمایت اور علم کے ساتھ) موجود ہے۔ اور تمہاری سواریوں کے سروں کے درمیان (اپنے علم و قدرت کے ساتھ) موجود ہے۔ (وہ سب سن اور دیکھ رہا ہے)۔“

3131

Sahih Ibn Khuzaymah #3131

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ ، رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Bundar, narrated to us Muhammad, narrated to us Shu'bah, from Mansur, from Rib'i ibn Khirash, from Zayd ibn Zabyan, who raised the narration to Abu Dharr al-Ghifari (RA), from the Prophet Muhammad (ﷺ), who said: "Fear Allah wherever you are. Follow up a bad deed with a good deed that will erase it, and treat all people with good character." [Sahih]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے۔ جن تین قسم کے افراد سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے (جو کسی کے ساتھ ہوتا ہے) وہ قوم ساری رات سفر کرتی رہی حتّیٰ کہ نیند انہیں ہر چیز کے مقابلے میں محبوب ہو جاتی ہے تو وہ سواریوں سے اُترکر سوجاتے ہیں۔ تو یہ شخص کھڑا ہو جاتا ہے (نفل نماز پڑھتا ہے) اللہ تعالیٰ کے سامنے رو رو کر التجائیں کرتا ہے اور قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کرتا ہے۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی۔

3132

Sahih Ibn Khuzaymah #3132

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كَعْبًا ، حَدَّثَهُ أَنَّ صُهَيْبًا صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ قَرْيَةً يُرِيدُ دُخُولَهَا إِلا قَالَ حِينَ يَرَاهَا:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, who said: Ibn Wahb informed us, who said: Hafs ibn Maysarah informed me, on the authority of Musa ibn 'Uqbah, from 'Ata' ibn Abi Marwan, from his father, that Ka'b informed him that Suhayb, the Companion of the Prophet (ﷺ), informed him that the Prophet (ﷺ) would not see a village that he intended to enter except that he would say when he saw it: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس بستی میں داخل ہونا چاہتے تو اس بستی کو دیکھ کر یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الأَرَضِينِ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْت، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ”اے اللہ، ساتوں آسمانوں کے اور ان تمام چیزوں کے پروردگار جن پر یہ آسمان سایہ کیے ہوئے ہیں، تمام زمینوں اور ان تمام چیزوں کے پروردگار جنہیں ان زمینوں نے اُٹھا رکھا ہے۔ ان شیطانوں اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہوا ہے، سب کے رب، ہواوں اور جن چیزوں کو وہ اڑاتی ہیں، ان سب کے پروردگار، بیشک ہم تجھ سے اس بستی اور اس کے رہنے والوں کی خیر و بھلائ مانگتے ہیں۔ ہم تجھ سے اس بستی کے شر، اس کے باشندوں کے شر اور اس بستی میں جو کچھ ہے سب کی برائی اور شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔“

3133

Sahih Ibn Khuzaymah #3133

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، وَشُعَيْبٌ ، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، أَنْ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn 'Abdullah ibn 'Abd al-Hakam, who said: My father and Shu'ayb informed us, both saying: Al-Layth informed us, from Yazid ibn Abi Habib, from al-Harith ibn Ya'qub, that Ya'qub ibn 'Abdullah informed him that he heard Busr ibn Sa'id say: I heard Sa'd ibn Abi Waqqas say: I heard Khawlah bint Thalabah al-Sulami say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد ابن عبداللہ ابن عبدالحکم نے ہمیں بتایا، میرے والد اور شعیب نے ہمیں بتایا، دونوں نے کہا: لیث نے ہمیں بتایا، یزید ابن ابی حبیب سے، حارث ابن یعقوب سے، کہ یعقوب ابن عبداللہ نے انہیں بتایا کہ اس نے بسر ابن سعید کو سنتے ہوئے سنا: میں نے سعد ابن ابی وقاص کو سنتے ہوئے سنا: میں نے خولہ بنت حکیم سلمیہ کو سنتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

3134

Sahih Ibn Khuzaymah #3134

ثنا بِهِ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.

EnglishUnverified translation

Yunus ibn Abd al-A'la narrated to us, saying: Ibn Wahb informed us, saying: Amr ibn al-Harith informed me, from Yazid ibn Abi Habib and Al-Harith ibn Ya'qub, from Ya'qub ibn Abdullah ibn al-Ashajj, with this chain of narration, with the same wording.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام صاحب نے مذکورہ بالا حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔

3135

Sahih Ibn Khuzaymah #3135

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ ، وَكَانَ لَهُ مُرُوءَةٌ وَعَقْلٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Abi Safwan al-Thaqafi, narrated to us Abd al-Salam ibn Hashim, narrated to us Uthman ibn Sa'd the scribe—who was a man of dignity and intellect—on the authority of Anas ibn Malik (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد ابن ابی صفوان ثقفی نے ہمیں بتایا، عبدالسلام ابن ہاشم نے ہمیں بتایا، عثمان ابن سعد کاتب نے ہمیں بتایا - جو وقار اور عقل والے شخص تھے - انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا:

3136

Sahih Ibn Khuzaymah #3136

حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu al-Ash'ath Ahmad ibn al-Miqdam, narrated to us Bishr—meaning ibn al-Mufaddal—narrated to us 'Asim—he is ibn Muhammad ibn Zayd ibn 'Abd Allah ibn 'Umar ibn al-Khattab—he said: I heard my father say: Ibn 'Umar said: The Prophet of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو الاشعث احمد ابن المقدام نے ہمیں بتایا، بشر نے ہمیں بتایا - یعنی ابن مفضل - عاصم نے ہمیں بتایا - وہ محمد ابن زید ابن عبداللہ ابن عمر ابن الخطاب ہیں - انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو سنتے ہوئے سنا: ابن عمر نے کہا: نبی اللہ ﷺ نے فرمایا:

3137

Sahih Ibn Khuzaymah #3137

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ مَا دُونَ الثَّلَاثِ مِنَ الْمُسَافِرِينَ فَهُمْ عُصَاةٌ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ أَنَّ الْوَاحِدَ شَيْطَانٌ، وَالِاثْنَانِ شَيْطَانَانِ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى قَوْلِهِ: شَيْطَانٌ أَوْ عَاصِي، كَقَوْلِهِ: شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ (الأنعام: 112)، وَمَعْنَاهُ: عُصَاةُ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA) who said: Narrated to us Sulaymān ibn Bilāl from Yaḥyā ibn Saʿīd from ʿAmr ibn Shuʿayb from his father from his grandfather (ʿAbd Allāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ (RA)) who said: The evidence that those traveling in a group of fewer than three are disobedient is that the Prophet (ﷺ) has informed us that one person is a shayṭān, two people are two shayṭāns, and it is likely that the meaning of his statement "a shayṭān" or "a disobedient person" is like his statement: "Shayāṭīn of the jinn and mankind" (Qurʾān 6:112), and its meaning is "the disobedient ones among the jinn and mankind."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

تین سے کم مسافروں کے نافرمان ہونے کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ ان میں سے ایک شیطان ہے اور دو دو شیاطین، اور یہ ان کے اس قول کے معنی کے مترادف ہے: شیطان یا گنہگار، جیسا کہ ان کے اس قول: شیاطین انسانوں اور جنات (الأنبیاء:12)، اس کا مفہوم ہے۔ اور انسان۔

3138

Sahih Ibn Khuzaymah #3138

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Bundar and Abdullah bin Hashim, who said: Narrated to us by Yahya, who is Ibn Sa'id, from Ibn Ajlan, from Amr bin Shu'ayb, from his father, from his grandfather, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بندر اور عبداللہ ابن ہاشم نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: یحیی نے ہمیں بتایا - جو ابن سعید ہیں - ابن عجلان سے، عمرو ابن شعیب سے، ان کے والد سے، ان کے دادا سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

3139

Sahih Ibn Khuzaymah #3139

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيْضًا يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ بِلالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ . ح وَثَنًا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَيْضًا نا أَبُو مُصْعَبٍ ، نا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَبَدَا لَهُ الْفَجْرُ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, narrated to us Ibn Wahb who said: Also narrated to me Sulayman ibn Bilal, from Suhayl ibn Abi Salih. And narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Abu Mus'ab Ahmad ibn Abi Bakr al-Zuhri, narrated to us 'Abd al-'Aziz ibn Abi Hazim, from 'Abdullah ibn 'Amir. And narrated to us Muhammad ibn Yahya, also narrated to us Abu Mus'ab, narrated to us Abu Damrah, from 'Abdullah ibn 'Amir, from Suhayl ibn Abi Salih, from his father, from Abu Hurayrah (RA) who said: When the Messenger of Allah (ﷺ) was on a journey and dawn broke for him, he would say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے تو جب سحر طلوع ہوتی تو آپ یہ دعا مانگتے: «سَمِـعَ سـامِعٌ بِحَمْـدِ اللهِ وَحُسْـنِ بَلائِـهِ عَلَيْـنا، رَبَّنـا صـاحِبْـنا وَأَفْـضِل عَلَيْـنا سِتْراً باللهِ مِنَ النّـار» ”سننے والے نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء، اس کی نعمت کا شکریہ اور ہم پر اس کے فضل و کرم کا اعتراف سن لیا۔ اے ہمارے رب (ہمارے سفر میں) ہمارا ساتھی بن جا۔ اور ہم پر اپنا فضل و کرم فرما میں جہنّم کی آگ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔“ آپ یہ دعائیہ کلمات بلند آواز سے تین بار پڑھتے۔ جناب ابوحازم کی روایت میں ہے کہ اور اس کی کرم فرمائی کا اعتراف“ آپ یہ کلمات تین بار پڑھتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عامر راوی ہماری اس کتاب کی شرط پر پورا نہیں اُترتا لیکن چونکہ میں نے یہ روایت سلیمان بن بلال اور سہیل بن ابی صالح سے بھی بیان کی ہے (جو شرط پر پورے اترتے ہیں) اس لئے عبداللہ بن عامر کی روایت بھی ان کی روایت کے ساتھ درج کردی۔

3140

Sahih Ibn Khuzaymah #3140

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ، فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Yahya, who narrated to us Abu al-Mughira, who narrated to us Safwan ibn Amr, from Sharīḥ ibn ʿUbayd al-Ḥaḍramī, that he heard al-Zubayr ibn al-Walīd narrating from ʿAbdullāh ibn ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) would, when he embarked on a military expedition or set out on a journey, and night overtook him, say: "O Allah, Lord of the seven heavens and whatever they shade, Lord of the earths and whatever they carry, Lord of the devils and whatever they misguide, be a protector for me from the evil of all Your creation, and from a transgressor entering my door or harming my family." Commentary: This hadith is recorded in Sunan al-Darimi (2275). All narrators in its chain are trustworthy: Muhammad ibn Yahya al-Azdi al-Basri is a reliable hadith transmitter, Abu al-Mughira (ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī al-Mughīra) is a trustworthy narrator, Safwān ibn ʿAmr al-Kalbī al-Dimashqī is a reliable Syrian narrator, Sharīḥ ibn ʿUbayd al-Ḥaḍramī is a pious and reliable Tabiʿī (successor to the Companions), and al-Zubayr ibn al-Walīd al-Makhzumī is a trustworthy Tabiʿī who heard directly from ʿAbdullāh ibn ʿUmar (RA). Due to the reliability of its narrators, this hadith is graded Ḥasan (sound). The supplication taught by the Prophet (ﷺ) in this narration emphasizes seeking Allah's comprehensive protection from all forms of evil, especially during travel when one is vulnerable to unforeseen dangers, and reflects the Prophet's (ﷺ) constant reliance on Allah in all aspects of life.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے یا سفر میں ہوتے اور رات ہو جاتی تو آپ یہ دعا مانگتے: «يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَشَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْودَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ والدٍ وَمَا ولد» ”اے زمین، میرا اور تیرا پروردگار اللہ ہے۔ میں تیرے شر سے، تیرے اندر کے شر سے اور تیرے اندر پیدا کی گئی مخلوق کے شر سے، تیرے اوپر رینگنے والی مخلوق کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں ہر شیر اور درندے، سانپ اور بچّھو، اور اس علاقے کے باشندوں اور ہر والد اور اس کے مولود کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“

3141

Sahih Ibn Khuzaymah #3141

ثنا ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ الْعَطَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Al-Jabbar ibn al-Ala' al-Attar and Sa'id ibn Abd al-Rahman al-Makhzumi, who said: Narrated to us by Sufyan, from Az-Zuhri, from Urwah, from Aisha (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار ابن العلاء عطار اور سعید ابن عبدالرحمن مخزومی نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: سفیان نے ہمیں بتایا، زہری سے، عروہ سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا:

3142

Sahih Ibn Khuzaymah #3142

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ya'qub al-Dawraqi, narrated to us 'Uthman ibn 'Umar, who informed us Malik ibn Anas, from 'Abd Allah ibn Abi Bakr, from 'Amrah, from 'A'ishah (RA) who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعقوب الدوریقی نے ہمیں بتایا، عثمان بن عمر نے ہمیں بتایا، مالک بن انس نے ہمیں خبر دی، عبداللہ بن ابی بکر نے، عمیرہ نے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:

3143

Sahih Ibn Khuzaymah #3143

ضِدَّ قَوْلِ مِنْ زَعَمَ أَنَّ إِشْعَارَ الْبُدْنِ مُثْلَةٌ، فَسَمَّى سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُثْلَةً بِجَهْلِهِ

EnglishUnverified translation

** It is narrated that the Prophet (ﷺ) said: "The one who claims that marking the sacrificial camels (by cutting their ears) is mutilation has indeed called the Sunnah of the Prophet (ﷺ) a mutilation out of his ignorance."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس عالم کے قول کے برخلاف جس کا خیال ہے کہ اشعار کرنا مثلہ ہے۔ اس طرح اس نے اپنی جہالت کہ بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کو مثلہ کا نام دے دیا ہے

3144

Sahih Ibn Khuzaymah #3144

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :

EnglishUnverified translation

Narrated to us Bandar [ibn Musa al-Asadi], narrated to us Yahya ibn Saeed al-Qattan, from Shu'bah ibn al-Hajjaj, from Qatadah ibn Di'ama, from Abu Hassan al-Araj, on the authority of Ibn Abbas (RA), who reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah has forgiven my nation for their evil thoughts, as long as they have not spoken of them or acted upon them." Commentary: This hadith is graded Sahih (authentic) by Imam Muhammad al-Bukhari, and is recorded in *Sahih al-Bukhari* (Book of Tafsir, Hadith 7119). It highlights the immense mercy of Allah towards His servants, who is not held accountable for involuntary, fleeting evil thoughts that do not manifest in speech or action.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بندر نے ہمیں بتایا، یحیی بن سعید قطان نے ہمیں بتایا، شعیبہ بن حجاج نے، قتادہ بن دعامہ نے، ابو حسن الأعرج نے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ نے میری امت کو ان کے برے خیالات سے معاف کردیا ہے""

3145

Sahih Ibn Khuzaymah #3145

ثنا حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Salam ibn Junadah, who said: Narrated to us Waki' on the authority of Hisham al-Dastuwa'i, on the authority of Qatadah, with this chain of narration similar to it, except that he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلم بن جنادہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: وکیع نے ہمیں بتایا، ہشام دستوائی کی روایت سے، قتادہ کی روایت سے، اس سند کے ساتھ جو اس کے مشابہ ہے، سوا اس کے کہ انہوں نے کہا:

3146

Sahih Ibn Khuzaymah #3146

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَاجِيَةُ الْخُزَاعِيُّ صَاحِبُ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ بُدْنِي؟

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-'Ala' ibn Kurayb, narrated to us 'Abd al-Rahim — meaning Ibn Sulayman. Also narrated to us Salam ibn Junadah, narrated to us Waki' — all from Hisham ibn 'Urwah, from his father, who said: Najiyah al-Khuza'i, the attendant of the camels of the Prophet (ﷺ), informed me that he asked the Messenger of Allah (ﷺ): "What should I do with the camels that have perished from my herd?" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بن زبیر رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ناجیہ الخزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے اونٹ مکّہ مکرّمہ پہنچاتے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے قربانی کے اونٹوں میں سے جو تھک جائے۔ میں اسے کیا کروں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حُکم دیا کہ میں ہر تھک جانے والے اونٹ کو ذبح کرکے اس کے جوتے اس کے خون میں ڈبو کر چھوڑ دوں۔ تاکہ ضرورتمند لوگ اس کا گوشت کھالیں۔ جناب وکیع کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اونٹ کو ذبح کردو اور اس کا جوتا اس کے خون میں ڈبو کر اس کے پہلو پر مارو (تاکہ لوگ اسے پہچان کر گوشت کھالیں)“

3147

Sahih Ibn Khuzaymah #3147

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ذُوَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ الْخُزَاعِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِبُدْنِهِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundar, who said: narrated to us Muhammad ibn Ja'far, who said: narrated to us Sa'id ibn Abi 'Arubah, from Qatadah, from Sinan ibn Salamah al-Hudhali, from Ibn 'Abbas (RA) that Dhuyayb Abu Qabisah al-Khuza'i (RA) narrated to him that the Messenger of Allah (ﷺ) sent him with his sacrificial camels and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ذویب ابو قبیصہ خزاعی رضی اللہ عنہ نے انہیں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے اونٹ دے کر انہیں روانہ کیا تو فرمایا: ”اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک کر چلنے سے معذور ہو جائے تو اسے ذبح کر دینا اور اس کے جوتے اس کے خون میں ڈبو دینا (تاکہ لوگوں کے لئے نشانی رہے) لیکن تم اور تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی شخص اس کا گوشت نہ کھائے۔“ جناب بندار کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ذؤیب کے ساتھ اپنے قربانی کے جانور روانہ کیے اور یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ ”اور خون آلود جوتے اس کے پہلو پر مارو۔“

3148

Sahih Ibn Khuzaymah #3148

إِنَّ صَحَّ الْخَبَرُ، وَلَا أَخَالُ؛ فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): I said to Mālik ibn Anas (RA), "Is the report authentic?" He replied, "I do not think otherwise." Then he said, "There is in the heart of ʿAbd Allāh ibn ʿĀmir al-Aslamī (RA)..."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ صحیح نہیں کیونکہ عبداللہ بن عامر الاسلمی کے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہے

3149

Sahih Ibn Khuzaymah #3149

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ سُلَيْمَانُ ، وَصَالِحُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Rabīʿ Sulaymān and Ṣāliḥ ibn Ayyūb, they said: Narrated to us Bashar ibn Bakr, who said: Al-Awzāʿī narrated to us, who said: ʿAbd Allāh ibn ʿĀmir narrated to us, who said: Nāfiʿ narrated to us, from Ibn ʿUmar, from the Messenger of Allāh (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع سلیمان اور صالح بن ایوب نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: بشر بن بکر نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: اوزاعی نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عامر نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: نافع نے ہمیں بتایا، ابن عمر سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، جس نے فرمایا:

3150

Sahih Ibn Khuzaymah #3150

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيَّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Abdullah ibn Bazīʿ, narrated to us Ziyād, meaning Ibn Abdullah al-Bakkā’ī, narrated to us Muhammad ibn Abd al-Rahman, who is known as Ibn Abī Laylā, on the authority of ʿAṭā’, on the authority of Abū al-Khalīl, on the authority of Abū Qatādah (RA), who reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever performs ablution (wudu) properly, then attends the Friday (Jumu'ah) prayer, listens attentively to the sermon and remains silent, will have all his sins forgiven between that Friday and the next Friday, plus an additional three days. As for the one who disturbs others (such as by playing with pebbles or engaging in idle chatter) during the sermon, there is no reward for his Friday prayer."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نفلی طور پر قربانی کا جانور بھیجے اور وہ جانور ہلاک ہو جائے تو وہ شخص خود اس میں سے کچھ نہ کھائے کیونکہ اگر اُس نے اس میں سے کچھ کھا لیا تو اس کا بدل دینا لازم ہوگا۔ اُسے چاہیے کہ اس جانور کو ذبح کرکے اُس کا جوتا اُس کے خون میں ڈبوئے اور پھر اس کے پہلو پرنشان لگادے لیکن اگر وہ کوئی لازمی قربانی تھی تو پھر اگر وہ چاہے تو اس میں سے کھا سکتا ہے۔“

3151

Sahih Ibn Khuzaymah #3151

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ بِيَدَيْهَا:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali ibn Khashram, who informed us Sufyan ibn Uyaynah, from Abd al-Rahman ibn al-Qasim al-Madani, from his father al-Qasim ibn Muhammad ibn Abi Bakr (RA), who reported: I saw Aisha (RA), gesturing with her hands as she said: "Whoever introduces into this matter of ours (i.e., Islam) that which is not part of it, it is rejected." Commentary: This is a Sahih hadith, authenticated in *Sahih al-Bukhari* (Hadith 2691). Aisha's (RA) gesture with her hands served to emphasize that any practice introduced into the religion without basis in the Quran and authentic Sunnah is entirely invalid and rejected, with no acceptable portion of it. The hadith establishes a fundamental principle of Islamic theology: all acts of worship and religious practices must be rooted in divine revelation, and innovation (bid'ah) in religious matters is strictly prohibited.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن خشرم نے ہمیں بتایا، سفيان بن عینہ نے ہمیں خبر دی، عبدالرحمن بن القاسم مدنی سے، ان کے والد القاسم بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے، جس نے بتایا: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا، وہ اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتی ہوئی کہہ رہی تھیں: "جس نے ہمارے اس کام میں (یعنی

3152

Sahih Ibn Khuzaymah #3152

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ وَبَسَطَتْ يَدَيْهَا:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar, narrated to us Sufyan, from 'Abd al-Rahman ibn al-Qasim, from his father, who heard 'A'ishah (RA) say while she spread out her hands:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبد الرحمن بن قاسم اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے ان دو ہاتھوں کے ساتھ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے وقت آپ کو خوشبو لگائی تھی اور آپ کے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے احرام کھولنے کے وقت بھی لگائی تھی۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ روایت کے یہ الفاظ کہ جب آپ نے احرام باندھا تھا، یہ اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں ہم کہیں گے کہ عرب یہ کہتے ہیں جب تم نے ایسا کام کیا تو مراد یہ ہوتی ہے جب تم نے یہ کام کرنے کا ارادہ کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اُس وقت انہوں نے آپ کوخوشبو لگائی تھی۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ انہوں نے آپ کواحرام باندھنے کے بعد خوشبولگائی تھی۔ میں نے جو مفہوم ذکر کیا ہے اس کے صحیح ہونے کی دلیل وہ روایت ہے جومنصور نے اپنی سند کے ساتھ بیان کی ہے جو میں نے اس باب میں اس کے بعد بیان کی ہے۔ باوجود اسکے میں نے اس بارے میں روایات الكتاب الکبیر میں بیان کردی ہیں۔

3153

Sahih Ibn Khuzaymah #3153

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ عَلَى النِّسَاءِ مِنْ جِهَادٍ؟ قَالَ : «عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ ، لَا قِتَالَ فِيهِ : الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ» .nnقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فِي قَوْلِهِ ﷺ : «عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ» وَإِعْلَامُهُ أَنَّ الْجِهَادَ الَّذِي عَلَيْهِنَّ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ بَيَانُ أَنَّ الْعُمْرَةَ وَاجِبَةٌ كَالْحَجِّ ؛ إِذْ ظَاهِرُ قَوْلِهِ : «عَلَيْهِنَّ» أَنَّهُ وَاجِبٌ ، إِذْ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يُقَالَ عَلَى الْمَرْءِ مَا هُوَ تَطَوُّعٌ غَيْرُ وَاجِبٍ .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ʿAlī ibn al-Mundhir, narrated to us Ibn Fudayl, narrated to us Ḥabīb ibn Abī ʿAmrah, from ʿĀʾishah bint Ṭalḥah, from ʿĀʾishah, Mother of the Believers (RA), who said: "I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), is there any jihad incumbent upon women?' He (ﷺ) said: 'Yes, upon them is a jihad in which there is no fighting: Hajj and ʿUmrah.' Abu Bakr (ibn Abī Shaybah) said in his commentary on the statement of the Prophet (ﷺ): 'Upon them is a jihad in which there is no fighting,' that this clarifies that the jihad incumbent upon them is Hajj and ʿUmrah. This is an indication that ʿUmrah is obligatory like Hajj, for the apparent meaning of his statement 'upon them' is that it is obligatory, as it is not permissible to say of a person that which is voluntary and not obligatory."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے علی بن المنذر نے بیان کیا، ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ہم سے حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا، انہوں نے عائشہ بنت طلحہ سے، انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورتوں پر بھی جہاد (فرض) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان پر ایسا جہاد ہے جس میں قتال (لڑائی) نہیں ہے، (اور وہ) حج اور عمرہ ہے۔\n\nامام ابو بکر فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ ان پر ایسا جہاد ہے جس میں قتال نہیں اور یہ بتانا کہ ان پر جو جہاد ہے وہ حج اور عمرہ ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ عمرہ بھی حج کی طرح واجب ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کے لفظ \عَلَيْهِنَّ\" (ان پر لازم ہے) کا ظاہر یہی بتاتا ہے کہ یہ واجب ہے، کیونکہ جو چیز نفل ہو اور واجب نہ ہو، اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ انسان پر لازم ہے۔""

3154

Sahih Ibn Khuzaymah #3154

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ :

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ya'qub al-Dawraqi, Ahmad ibn Mani', and Muhammad ibn Hisham—they said: Narrated to us Hushaym, who informed us Mansur (who is Ibn Zadhan), from 'Abd al-Rahman ibn al-Qasim, from al-Qasim, who said: 'A'ishah (RA) said: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعقوب الدوریقی، احمد بن منیع، اور محمد بن ہشام نے ہمیں بتایا - انہوں نے کہا: ہشیم نے ہمیں بتایا، منصور نے ہمیں خبر دی (جو ابن دھان ہیں)، عبدالرحمن بن القاسم سے، القاسم سے، جس نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

3155

Sahih Ibn Khuzaymah #3155

باب الرخصة للحائض بعد الفراغ من الحج والعمرة والإحرام بهما من أي الحل شاءnnحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا أَبْكِي، قَالَ: «مَا شَأْنُكِ؟» قُلْتُ: لَا أُصَلِّي. قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ، إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبُ، وَنَزَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: «اخْرُجْ بِأُخْتِكَ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ».

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Abu Bakr al-Hanafiyy, narrated to us Aflah, who said: I heard al-Qasim ibn Muhammad narrate from 'Aishah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me while I was weeping. He asked, "What is the matter with you?" I replied, "I am not praying." He said, "It will not harm you. You are only one of the daughters of Adam. Allah has decreed what He has decreed for them." Then he mentioned the hadith until he said: "Until we reached al-Muhassab, and we dismounted there with him. He then called 'Abdur-Rahman ibn Abi Bakr and said, 'Go out with your sister and let her enter into the state of ihram for 'Umrah.'"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تمھاری سب سے عمدہ اور پاکیزہ خوشبو کستوری ہے۔“ اس میں ان لوگوں کے خلاف واضح دلیل موجود ہے جو کستوری کو نجس قرار دیتے ہیں۔, ,

3156

Sahih Ibn Khuzaymah #3156

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, on the authority of Mansur, on the authority of Ibrahim, on the authority of al-Aswad, on the authority of 'A'ishah (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی مانگ میں خوشبو (کستوری) کی چمک کو دیکھ رہی ہوں حالانکہ آپ حالت احرام میں ہیں۔

3157

Sahih Ibn Khuzaymah #3157

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ :

EnglishUnverified translation

Yusuf bin Musa narrated to us, Jarir narrated to us, from Al-A'mash, from Ibrahim, from Al-Aswad, who said: Aisha (RA) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن موسی نے ہمیں بتایا، جریر نے ہمیں بتایا، اعمش سے، ابراہیم سے، اسود نے کہا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے کہا:

3158

Sahih Ibn Khuzaymah #3158

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، وَحَمَّادٌ ، وَمَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Hasan ibn Muhammad Az-Za'farani, narrated to us Rawḥ, narrated to us Shu'bah, narrated to us Al-Ḥakam, Ḥammād, Manṣūr, and Sulaymān, on the authority of Ibrāhīm, on the authority of Al-Aswad, on the authority of ʿĀʾishah (RA), that she said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بن محمد زعفرانی روح شعبه قلم، حماد، منصور اور سلیمان ابراہیم اسود کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، گویا کہ میں اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں آپ اُس وقت احرام باندھے ہوئے تھے۔ سلیمان نامی راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں، جبکہ منصور نامی راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں (خوشبو) دیکھ رہی ہوں۔ جبکہ حکم اور حماد نامی راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی مانگ میں۔

3159

Sahih Ibn Khuzaymah #3159

إِذَا أَرَادَ الْإِحْرَامَ كَيْ يَكُونَ أَقَلَّ شَهْوَةٍ لِجِمَاعِ النِّسَاءِ فِي الْإِحْرَامِ، إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِمَاعِهِنَّ

EnglishUnverified translation

### [The text provided appears to be a fragment of a commentary or a conditional clause rather than a complete hadith with a full chain of narration (Isnad) and a complete Matn. It translates as:] "If he intends to enter the state of Ihram so that he may have less desire for sexual intercourse with women while in Ihram, if he has recently had intercourse with them..." *Note: This segment lacks the standard opening (e.g., "Narrated by..."), the full chain of narrators, and the concluding part of the ruling or story typically

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نیز احرام باندھنے کا ارادہ ہوتو آدمی کا پہلے اپنی بیوی سے جماع کرنا بھی مستحب ہے تاکہ دوران احرام اسے بیوی سے جماع کی خواہش اور چاہت کم ہو جب کہ وہ قریبی دنوں میں بیوی سے جماع کرچکا ہوگا

3160

Sahih Ibn Khuzaymah #3160

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الطِّيبِ عِنْدَ الإِحْرَامِ، فَقَالَ: لأَنْ أَتَطَيَّبَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya ibn Sa'id and Muhammad ibn Abi 'Adiyy, from Shu'bah, from Ibrahim ibn al-Muntashir, from his father, that he asked Ibn 'Umar (RA) about applying perfume during ihram. He said: "I would rather apply tar to myself than do that." I mentioned this to 'A'ishah (RA), and she said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب المنتشر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے احرام کے وقت خوشبو لگانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں قطران (تارکول سے ملتا جلتا بدبودار تیل جو خارشی اونٹوں کو ملتے ہیں) کو جسم پر مل لوں تو میرے نزدیک احرام کے وقت خوشبو لگا نے سے یہ بہتر ہے۔ جناب منتشرفرماتے ہیں کہ میں نے ان کی یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے (انہیں یہ مسئلہ معلوم نہیں) میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی پھر آپ اپنی بیویوں سے ہمبستری کرتے پھر آپ صبح کے وقت احرام باندھ لیتے حالانکہ خوشبو آپ کے جسم مبارک سے پھوٹ کر نکل رہی ہوتی۔ امام ربیع فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمه الله سے اس مکّھی کے بارے میں سوال کیا گیا جو گندگی پر بیٹھنے کے بعد اڑتی ہوئی آتی ہے اور آدمی کے کپڑوں پر بیٹھ جاتی ہے تو وہ آدمی کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اگر تُو اس کی ٹانگیں ہوا میں اڑنے کے دوران خشک ہوگئی تھیں تو پھر تو کوئی حرج نہیں۔ اور اگر ابھی تر ہی تھیں تو بھی حرج نہیں کیونکہ جب کسی مسئلہ میں انتہائی مشکل اور تنگی آجائے تو دین اسلام اس میں رخصت و آسانی دے دیتا ہے۔ (یعنی اس مکّھی سے بچنا جب دشوار ہوگیا تو اتنی قلیل مقدار میں گندگی معاف ہوگی)۔

3161

Sahih Ibn Khuzaymah #3161

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', narrated to us Sufyan. Also narrated to us 'Ali ibn Khashram, informed us Ibn 'Uyaynah. Also narrated to us Sa'id ibn 'Abd al-Rahman, narrated to us Sufyan, from al-Zuhri, from Salim, from his father ['Abdullah ibn 'Umar (RA)] who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The example of the one who remembers his Lord and the one who does not remember Him is like the example of the living and the dead."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن منازل میقات مقرر فرمائے۔ جناب عبدالجبار نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ مجھے بتایا گیا ہے لیکن میں نے یہ الفاظ سنے نہیں کہ آپ نے اہل یمن کے لئے یلملم میقات مقرر فرمایا ہے، جناب مخزومی کی روایت میں ہے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں گے اور تلبیہ پڑھیں گے۔“

3162

Sahih Ibn Khuzaymah #3162

وَالْبَيَانُ أَنَّ مَوَاقِيتَ مَنْ مَنْزِلُهُ أَقْرَبُ إِلَى الْحَرَمِ مِنْ هَذِهِ الْمَوَاقِيتِ: مَنَازِلُهُمْ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA) — he said: Narrated to us Mālik ibn Anas (RA), on the authority of Ibn Shihāb al-Zuhrī (RA), from Salama ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf (RA), from his father (RA), that ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf (RA) said: The clarification is that the time limits for the people whose homes are closer to the Haram than these time limits are their homes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

تو جن لوگوں کے گھر ان میقات کی نسبت حرم سے قریب ہوں تو ان کے میقات ان کے گھر ہی ہوںگے۔ اور وہ اپنے اپنے گھروں ہی سے احرام باندھ لیںگے

3163

Sahih Ibn Khuzaymah #3163

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn 'Abdah ad-Dabbi, narrated to us Hammād (meaning Ibn Zayd), on the authority of 'Amr (who is Ibn Dīnār), from Tāwūs, from Ibn 'Abbās (RA), who said: The Messenger of Allāh (ﷺ) said, "The best of you are those who have the best manners and character."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منوّرہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن منازل میقات مقرر فرمائے ہیں۔ یہ میقات ان علاقوں کے لوگوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی جو دوسرے علاقوں کے رہائشی ہوں اور ان میقات سے گزر کرحج وعمرہ کے لئے جارہے ہوں۔ لہٰذا جو شخص حج یا عمرہ ادا کرنا چاہتا ہو اور اس کا گھر ان میقات کے اندر (مکّہ کی جانب) واقع ہو تو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھے گا۔ اسی طرح اہل مکّہ اپنے گھروں سے احرام باندھ کرتلبیہ پڑھیں گے۔

3164

Sahih Ibn Khuzaymah #3164

وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ :n«إِنَّ أَحْسَنَ مَا دَخَلَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ اللَّيْلِ» .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, on the authority of Jarir, on the authority of Mughirah, on the authority of al-Sha'bi, on the authority of Jabir (RA), who said that the Prophet (ﷺ) said: *"Indeed, the best thing with which a man should enter upon his family when he returns from a journey is to do so at the beginning of the night."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور یوسف بن موسیٰ سے روایت ہے، انہوں نے جریر سے، انہوں نے مغیرہ سے، انہوں نے شعبی سے، اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:\nبے شک آدمی کے لیے سفر سے واپسی پر اپنے گھر والوں کے پاس جانے کا سب سے بہترین وقت رات کا پہلا پہر (ابتدائی حصہ) ہے۔

3165

Sahih Ibn Khuzaymah #3165

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Fadl ibn Ya'qub al-Jazari, narrated to us Muhammad ibn Ja'far Ghundar, narrated to us Ma'mar, who informed me Ibn Tawus, on the authority of his father, on the authority of Ibn 'Abbas (RA), who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) designated for the people of Madinah Dhul-Hulaifah, for the people of Sham Al-Juhfah, for the people of Najd Qarn, and for the people of Yemen Yalamlam."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ اہلِ شام کے لئے جحفہ اہلِ نجد کے لئے قرن اور اہلِ یمن کے لئے یلملم کو میقات قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ان لوگوں کے لئے اور ان کے پرے (یعنی دوسری طرف) کے علاقوں سے آنے والوں کے لئے ہیں۔ جو شخص حج یا عمرہ کا ارادہ کرتا ہے (یہ حُکم اُس کے لئے ہے) لیکن جو اس سے پہلے رہتا ہے (یعنی مکّہ کی طرف رہتا ہے) وہ اپنے گھر سے ہی احرام باندھے گا تو یہ حُکم شروع ہوگا، یہاں تک کہ اہلِ مکّہ تک پہنچے گا (یعنی اہلِ مکّہ، مکّہ سے احرام باندھیں گے)۔

3166

Sahih Ibn Khuzaymah #3166

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، قَالَ: أَحْسَبُهُ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar al-Qaysi, who narrated to us Muhammad [i.e., Ibn Bakr], who informed us of Ibn Jurayj, who informed me Abu Zubayr, that he heard Jabir ibn Abdullah (RA) asking about al-muhall (ihram garments). [Abu Zubayr] said: "I think he [Jabir] intended to ask about the Prophet (ﷺ), then he said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو زبیر بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا جن سے میقات کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا ہے کہ اہلِ مدینہ کا میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرے راستے سے جحفہ ہے۔ اہلِ عراق کا میقات ذات عرق ہے۔ اہلِ نجد کا قرن ہے اور اہلِ یمن کا یلملم ہے۔ امام صاحب رحمه الله بھی فرماتے ہیں کہ ذات عرق کے بارے میں یہ حُکم ہے کہ یہ اہلِ عراق کا میقات ہے اس کے بارے میں ابن جریج کی بیان کردہ روایت کے علاوہ بھی روایات ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی ایک روایت بھی محدثین کے نزدیک مستند طور پر منقول نہیں ہے۔ میں نے یہ تمام تر روایات کتاب الکبیر میں بیان کردی ہیں۔

3167

Sahih Ibn Khuzaymah #3167

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ .n«إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ بَيْتَ اللَّهِ ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا ، لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا ، وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا» .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Raḥmān ibn Bashar, narrated to us Yaḥyā, from Sufyān, from Abū al-Zubayr, from Jābir (RA) who said: "The Prophet (ﷺ) said: 'Indeed, Ibrāhīm (AS) declared the Sacred House of Allah (the Ka'bah) inviolable, and I declare al-Madīnah inviolable between its two tracts of sand (i.e., its boundaries). No tree shall be cut down there, nor shall any game be hunted there.'"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے عبدالرحمٰن بن بشر نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے ابو زبیر سے، اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔\nبیشک ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے گھر (مکہ) کو حرمت والا بنایا، اور میں مدینہ کو اس کے دو پتھریلے میدانوں کے درمیان حرمت والا (حرم) قرار دیتا ہوں، اس کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں، اور اس کا شکار نہ کیا جائے۔

3168

Sahih Ibn Khuzaymah #3168

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Hujr al-Sa'di, narrated to us Isma'il — meaning ibn Ja'far — on the authority of 'Abdullah ibn Dinar, on the authority of Ibn 'Umar, on the authority of the Prophet (ﷺ) that he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسماعیل ابن جفر عبدالله بن دینار کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مدینہ کو یہ حُکم دیا کہ وہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھ لیں، اہلِ شام جحفہ سے، اہلِ نجد قرن سے احرام باندھ لیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اہلِ یمن یلملم سے احرام باندھ لیں۔

3169

Sahih Ibn Khuzaymah #3169

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ :nقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِأَبِي طَلْحَةَ : «الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي» ، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ ، وَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كُلَّمَا نَزَلَ ، وَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» .

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Ali bin Hujr, who said: Narrated to us Isma'il bin Ja'far, who said: Narrated to us Amr bin Abi 'Amr, the freed slave of Al-Muttalib, on the authority of Anas (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Talhah: "Seek for me a boy from among your boys to serve me." So Abu Talhah went out with me riding behind him, and I used to serve the Messenger of Allah

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے مطلب کے آزاد کردہ غلام عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا:\nرسول اللہ ﷺ نے ابو طلحہ (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا: میرے لیے اپنے لڑکوں میں سے کوئی لڑکا تلاش کرو جو میری خدمت کرے۔ چنانچہ ابو طلحہ مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھا کر نکلے۔ رسول اللہ ﷺ جہاں بھی پڑاؤ ڈالتے، میں آپ ﷺ کی خدمت کرتا تھا، اور میں آپ ﷺ کو کثرت سے یہ دعا مانگتے ہوئے سنتا تھا:\nاے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور غم سے، عاجزی (بے بسی) اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں (مردوں) کے غلبے سے۔

3170

Sahih Ibn Khuzaymah #3170

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundar, who said: Narrated to us Yaḥyā ibn Saʿīd, who said: Narrated to us Jaʿfar (and he is the son of Muḥammad), who said: My father narrated to me, who said: We came to Jābir ibn ʿAbd Allāh and asked him about the Hajj of the Prophet (ﷺ). He said: Asmāʾ bint ʿUmays gave birth to Muḥammad ibn Abī Bakr, so she sent a message to the Messenger of Allāh (ﷺ) asking: "What should I do?"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب محمد رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں پوچھا (کہ آپ نے کیسے حج ادا کیا) انہوں نے فرمایا (ابھی ہم ذوالحلیفہ ہی میں تھے) تو سیدہ اسماء بنت عمیس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد کو جنم دیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کو یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اب وہ کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم غسل کرلو اور لنگوٹ باندھ لو پھر احرام باندھ لو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ آپ کے اس فرمان ”لنگوٹ باندھ لو“ میں یہ دلیل ہے کہ ابھی نفاس کا خون بند نہیں ہوا تھا۔

3171

Sahih Ibn Khuzaymah #3171

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَدَنِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abdullah ibn al-Hakam ibn Abi Ziyad al-Qataniy, narrated to us Abdullah ibn Ya'qub al-Madini, on the authority of Ibn Abi al-Zinad, from his father, from Kharijah ibn Zayd, from his father (Zayd ibn Thabit (RA)), who said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, "Whoever makes a will, let him make it honestly and not leave any room for others to alter it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس عبداللہ بن حکم بن ابی زیاد قطوانی آئے، ہمارے پاس عبداللہ بن یعقوب مدنی آئے، ابن ابی زناد نے اپنے والد سے، خارجة بن زید نے اپنے والد (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: "جو شخص وصیت کرے...""

3172

Sahih Ibn Khuzaymah #3172

إِذِ اللَّهُ- جَلَّ وَعَلَا جَعَلَ الْحَجَّ أَشْهُرًا مَعْلُومَاتٍ، فَغَيْرُ جَائِزٍ الدُّخُولُ فِي الْحَجِّ قَبْلَ وَقْتِهِ، كَمَا لَا يَجُوزُ الدُّخُولُ فِي الصَّلَوَاتِ قَبْلَ أَوْقَاتِهَا

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA) who said: It was said by Allāh, the Most High, that He has appointed known months for the Hajj. Therefore, it is not permissible to enter into the state of Ihrām for Hajj before its appointed time, just as it is not permissible to pray before the prescribed times of the prayers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

چونکہ اللہ تعالیٰ نے حج کو کئی مہینوں میں مقرر کیا ہے، اس لیے اس کے وقت سے پہلے حج میں داخل ہونا جائز نہیں ہے، جس طرح اس کے وقت سے پہلے نماز میں داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ اس کی اوقات

3173

Sahih Ibn Khuzaymah #3173

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muḥammad ibn al-ʿAlā ibn Kurayb who said: Narrated to us Abū Khālid from Shuʿbah from al-Ḥakam from Miqsam from Ibn ʿAbbās (RA) who said: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن العلاء بن کریب آئے، ہمارے پاس ابو خالد آئے، شعیبہ نے حکم سے، مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا: --- باب:

3174

Sahih Ibn Khuzaymah #3174

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muḥammad ibn ʿAbd al-Aʿlā al-Ṣanʿānī, who said: Narrated to us Bashshār (meaning Ibn al-Mufaḍḍal), who said: Narrated to us ʿUbaydullāh, from Nāfiʿ, from ʿAbdullāh (RA), that a man said: “O Messenger of Allah (ﷺ), what should we wear of clothing when we enter ihrām?” He (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قمیص، شلوار، ٹوپی والا کوٹ، پگڑی، ٹوپیاں اور موزے نہ پہنو، لیکن اگر کسی شخص کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ کر پہن لے۔ اور ایسے کپڑے نہ پہنو جنہیں ورس (بوٹی) سے رنگا گیا ہو یا اسے زعفرانی رنگ دیا گیا ہو۔“ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ احرام والی عورت نہ نقاب کرے اور نہ دستانے پہنے۔

3175

Sahih Ibn Khuzaymah #3175

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Sa'id al-Ashaj narrated to us, saying: Hafsh bin Ghiyath narrated to us, on the authority of Ubaydullah, on the authority of Nafi', on the authority of Ibn Umar (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام والے شخص کو قمیص، قبا اور موزے پہننے سے منع فرمایا ہے لیکن اگر اس کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزے (ٹخنوں تک کاٹ کر) پہن سکتا ہے اور شلوار اور وہ کپڑے جسے ورس یا زعفران لگا ہو، پہننے سے منع فرمایا ہے۔

3176

Sahih Ibn Khuzaymah #3176

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنَا أَنَّ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ عِنْدَ الإِحْرَامِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Khashram, who said: 'Isa — meaning Ibn Yunus — informed us, on the authority of Ibn Jurayj, who said: Musa ibn 'Uqba informed me, on the authority of Nafi', who narrated from Ibn 'Umar (RA) that a man came to the Prophet (ﷺ) and said: "O Prophet of Allah, what do you command us to wear of clothing during the state of ihram?" He (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُس نے عرض کیا کہ ”اے اللہ کے نبی، آپ ہمیں احرام کی حالت میں کون سے کپڑے پہننے کا حُکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قمیص، پگڑیاں، توپی والے کوٹ، شلواریں اور موزے نہ پہنو، الاّ یہ کہ کسی شخص کو جوتے نہ ملیں تو وہ ان موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر پہن لے۔ اور تم ایسے کپڑے نہ ہو پہنو جنہیں ورس یا زعفران سے رنگا گیا ہو۔“ اور فرمایا: ”اور محرمہ عورت نقاب نہ کرے اور نہ دستانے پہنے۔“

3177

Sahih Ibn Khuzaymah #3177

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ ، وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا شُجَاعٌ وَهُوَ ابْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: ثنا، وَقَالَ الدِّرْهَمِيُّ: عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Abu Dawud Sulayman ibn Tawbah narrated to us, Abu Badr narrated to us. In another narration, Ali ibn al-Husayn al-Dirhami narrated to us, and this is his wording: Shuja' ibn al-Walid, known as Abu Badr, narrated to us. Abu Dawud said: "He narrated to us," while al-Dirhami said: "On the authority of Musa ibn 'Uqba, on the authority of Nafi', on the authority

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو داؤد سلیمان بن توبہ نے ہمیں بتایا، ابو بدر نے ہمیں بتایا۔ اور دوسری روایت میں علی بن حسین درہمی نے ہمیں بتایا، اور یہ اس کا لفظ ہے: شجاع بن ولید جو ابو بدر کے نام سے مشہور ہیں، نے ہمیں بتایا۔ ابو داؤد نے کہا: "انہوں نے ہمیں بتایا"، اور درہمی نے کہا: موسی بن عقبہ نے، نافع نے، عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

3178

Sahih Ibn Khuzaymah #3178

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازِقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا نَادَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Rafi', narrated to us 'Abd al-Razzaq, informed us Ma'mar, on the authority of al-Zuhri, from Salim, from Ibn 'Umar (RA) that a man called out and said, "O Messenger of Allah (ﷺ), what garments should the one in ihram avoid wearing?" He (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، محرم کون کون سے کپڑے نہ پہنے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شلواریں، قمیص، ٹوپی والے کوٹ، پگڑیاں اور زعفران اور ورس بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے مت پہنو۔ بلکہ تم میں سے کوئی شخص احرام باندھے تو تہہ بند، چادر اور جوتے پہن لے۔ اور اگر اسے جوتے نہ ملیں تو موزے پہن لے اور ان کو (اوپر سے کاٹ لے) حتّیٰ کہ وہ ٹخنوں سے نیچے آجائیں۔“

3179

Sahih Ibn Khuzaymah #3179

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، كِلاهُمَا عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِضُبَاعَةٍ، وَهِيَ شَاكِيَةٌ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abd al-Jabbar ibn al-Ala', who narrated to us Sufyan. And narrated to us Muhammad ibn al-Ala' ibn Kurayb, who narrated to us Abu Usamah. Both of these two narrators (Sufyan al-Thawri and Abu Usamah al-Bahili) narrated on the authority of Hisham ibn Urwah, on the authority of his father Urwah ibn al-Zubayr, on the authority of Aisha (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) passed by Duba'ah bint al-Zubayr while she was ill, and he said: "Whoever visits a sick person will not cease to be in a garden of Paradise until they return."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس عبدالجبار بن العلاء آئے، سفیان نے ہمیں بتایا۔ اور ہمارے پاس محمد بن العلاء بن کریب آئے، ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ ان دونوں رواة (سفیان ثوری اور ابو اسامہ بہیلی) نے ہشام بن عروة سے، ان کے والد عروة بن زبیر سے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ ضباعہ بنت زبیر کے پاس سے گزرے جبکہ وہ بیمار تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص مریض کی عیادت کرے گا، وہ جنت کے باغ میں رہا کرے گا جب تک وہ واپس نہ آئے۔""

3180

Sahih Ibn Khuzaymah #3180

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Hujr, narrated to us Isma'il ibn Ja'far, narrated to us Abu Ja'far Muhammad ibn 'Ali ibn al-Husayn ibn 'Ali ibn Abi Talib (RA), on the authority of his father, on the authority of Jabir ibn 'Abdullah (RA) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The best of you are those who have the best character."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منوّرہ میں نو سال تک قیام پذیر رہے اور آپ نے حج نہیں کیا۔ پھر حج کا اعلان کر دیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سال حج کریںگے۔ لہٰذا مدینہ منوّرہ میں بیشمار لوگ آگئے۔ ہر کوئی چاہتا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے حج ادا کرے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منوّرہ سے روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس پہنچ گئے، آپ نے اس مسجد میں نماز ادا کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے لئے نکل پڑے اور آپ کے ساتھ بیشمار لوگ تھے۔ کچھ پیدل اور کچھ اپنی سواریوں پر سوار تھے۔ ہر شخص چاہتا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرے۔ حتّیٰ کہ جب آپ بیداء مقام پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ کہنا شروع کیا۔ اور ہم نے صرف حج کی نیت کی ہوئی تھی۔ ہمیں عمرے کا علم ہی نہ تھا (حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ہم جائز ہی نہ سمجھتے تھے۔) میں نے اپنے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے دیکھا تو جہاں تک نظر گئی وہاں تک لوگ ہی لوگ تھے۔ کچھ پیدل اور کچھ سوار تھے۔ ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں حج کرے۔

3181

Sahih Ibn Khuzaymah #3181

وَالْبَيَانُ أَنَّ كُلَّ هَذَا جَائِزٌ طَلْقٌ مُبَاحٌ، وَالْمَرْءُ مُخَيَّرٌ بَيْنَ الْقِرَانِ وَالْإِفْرَادِ وَبَيْنَ التَّمَتُّعِ، يُهِلُّ بِمَا شَاءَ مِنْ ذَلِكَ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): It was conveyed to us from Mālik, from Ibn Shihāb al-Zuhrī, from Ṣāliḥ ibn Khawwāt (RA), from the Companion of the Messenger of Allāh (ﷺ) who said: "The clarification is that all of this is permissible, lawful, and unrestricted. A person has the choice between performing *Qirān* (combining Hajj and 'Umrah without exiting the state of ihrām), *Ifrād* (performing Hajj alone), or *Tamattu'* (performing 'Umrah first, then Hajj in the same journey with a break in between). He may enter into the state of ihrām for whichever of these he wishes."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ تینوں اقسام جائز ہیں اور حاجی کو اختیار ہے کہ وہ حج قران، حج افراد یا حج تمتع میں سے جس حج کا چاہے احرام باندھ لے اور تلبیہ پڑھے

3182

Sahih Ibn Khuzaymah #3182

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ هِلالَ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Aḥmad ibn al-Miqdām al-ʿIjlī, narrated to us Ḥammād (meaning Ibn Zayd), on the authority of Hishām ibn ʿUrwah, on the authority of his father, on the authority of ʿĀʾishah (RA), that she said: "We set out (for Hajj) in the company of the Prophet (ﷺ) during the month of Dhū al-Ḥijjah, when the new moon of Dhū al-Ḥijjah had just appeared." ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب (حج کے لئے) نکلے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صرف حج کا احرام باندھنا چاہے وہ صرف حج کا احرام باندھ لے (اور حج افراد کی نیت کرلے) اور جو شخص صرف عمرے کا احرام باندھنا چاہے تو وہ عمرے کا احرام باندھ لے۔“ چنانچہ ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور کچھ نے عمرے کا احرام باندھا۔

3183

Sahih Ibn Khuzaymah #3183

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala' and Ziyad ibn Yahya al-Hassani (may Allah have mercy on them both), they said: Narrated to us Sufyan, from al-Zuhri, from 'Urwah, from 'A'ishah (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے کچھ صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا۔ اور کچھ صحابہ نے حج اور عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے صرف عمرے کا احرام باندھا۔ حضرت عبدالجبار کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ اور کچھ صحابہ نے بھی حج کا احرام باندھا۔ اور ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا تھا۔

3184

Sahih Ibn Khuzaymah #3184

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ وَالدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّتْنِي زَيْنَبُ أُخْتُ أَبِي إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ زَوْجِهَا أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ : أَنْ يُعْضَدَ شَجَرُهَا ، أَوْ يُخْبَطَ .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār and al-Dawraqī (may Allah have mercy on them both), they said: Narrated to us Yaḥyā, who said: Narrated to us Saʿd ibn Isḥāq, who said: Narrated to me Zaynab, the sister of Abū Isḥāq ibn Kaʿb ibn ʿUjrah (RA), from her husband Abū Saʿīd (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) declared inviolable what lies between the two stony tracts (lābatayn) of Madīnah: that its trees should not be cut nor their foliage stripped.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے بندار اور الدورقی نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سعد بن اسحاق نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو اسحاق بن کعب بن عجرہ کی بہن زینب نے اپنے شوہر ابو سعید (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیانی علاقے کو حرم قرار دیا؛ (اس طرح) کہ نہ اس کے درختوں کو کاٹا جائے اور نہ ہی (پتوں کے لیے) جھاڑا جائے۔

3185

Sahih Ibn Khuzaymah #3185

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ؟ فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Muhammad (meaning Ibn Ja'far), narrated to us Shu'bah, from al-Hakam, from 'Ali ibn Husayn, from Dhakwan, the freed slave of 'Aishah, from 'Aishah (RA), who said: The Prophet (ﷺ) arrived four or five days before the end of Dhu al-Hijjah. He entered upon me while he was angry. So I asked, "Who has angered you?" He said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالجحہ کی چار یا پانچ تاریخ کو (مکّہ آئے) آپ میرے پاس تشریف لائے تو آپ سخت غصّے میں تھے۔ تو میں نے عرض کیا کہ آپ کو کس نے اس قدر غصّہ دلایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتہ نہیں چلا کہ میں نے لوگوں کو ایک حُکم دیا ہے اور وہ اس کی تعمیل میں تردد کر رہے ہیں۔“ جناب حکم کی روایت میں ہے کہ ”وہ تردد کر رہے ہیں، اگر مجھے اپنے معاملے کا پہلے علم ہوتا تو میں قربانی کا جانور اپنے ساتھ (مدینہ منوّرہ سے) نہ لاتا اور مکّہ مکرّمہ سے خرید لیتا۔ پھر میں بھی (صرف عمرہ کرکے) احرام کھول دیتا جیسا کہ ان صحابہ سے کھولا ہے۔“

3186

Sahih Ibn Khuzaymah #3186

إِذْ سَائِقٌ الْهَدْيَ الْمُهِلُّ بِالْعُمْرَةِ، غَيْرُ جَائِزٍ لَهُ الْإِحْلَالُ مِنْهَا قَبْلَ مَبْلَغِ الْهَدْيِ مَحِلَّهُ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA) — he said: Narrated to us Sulaymān ibn Bilāl — on the authority of Yaḥyā ibn Saʿīd — from ʿAmr ibn Shuʿayb — from his father — from his grandfather (ʿAbd Allāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ, RA) who said: “When a driver of sacrificial camels enters the state of Ihrām for ʿUmrah, it is not lawful for him to end his Ihrām before the sacrificial camels reach their appointed place of sacrifice.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

تاکہ یہ حج قران کرنے والا بن جائے کیونکہ جس شخص نے عمرے کا احرام باندھا ہواور قربانی کا جانور بھی اس کے ساتھ ہو تو اس کے لئے (عمرہ ادا کرنے کے بعد) اس وقت تک احرام کھولنا جائز نہیں جب تک قربانی اپنی قربان گاہ میں (10ذوالحجہ) کو نہ پہنچ جائے۔

3187

Sahih Ibn Khuzaymah #3187

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، أَخْبَرَهُ. ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

### Yunus ibn Abd al-A'la al-Sadafi narrated to us, saying: Ibn Wahb informed us that Malik informed him. [In another narration] Al-Fadl ibn Ya'qub al-Jazari narrated to us, saying: Muhammad, meaning Ibn Ja'far, narrated to us, saying: Malik ibn Anas narrated to us, from Ibn Shihab, from Urwah, from Aisha (RA), who said: "We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) in

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع والے سال (حج کے لئے) نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو وہ حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھے۔ (اور تلبیہ کہے)“

3188

Sahih Ibn Khuzaymah #3188

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ : جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا» ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : إِنَّهُ كَانَ لَكَ صَاحِبَانِ لَمْ يَفْعَلَا ذَلِكَ ، قَالَ : «هُمَا الْمَرْءَانِ أَقْتَدِي بِهِمَا» .

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abd al-Jabbar, who narrated to us Sufyan, on the authority of Sufyan al-Thawri, on the authority of Wasil al-Ahdab, on the authority of Abu Wail, who reported: I sat with Shaybah ibn Uthman, who said: Umar ibn al-Khattab (RA) sat with me and stated: "I have indeed resolved that I will not leave any yellow or white [i.e. gold or silver] in the spoils except that I will distribute it." [Shaybah] said: I said to him: "You had two companions who did not act in this manner." He replied: "They are the two men whom I follow as examples." Commentary: The phrase "yellow and white" is a common classical Arabic idiom referring to gold and silver, denoting wealth acquired from war spoils. Umar ibn al-Khattab (RA) here expresses his initial inclination to distribute all such spoils in full among the Muslim community, but clarifies he refrains from this out of adherence to the established practice of two earlier pious predecessors, understood by classical scholars to be the Prophet Muhammad (ﷺ) and the first caliph Abu Bakr (RA), who retained a portion of spoils for the public treasury and future communal welfare needs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابو وائل (شقیق بن سلمہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں المسجد الحرام میں (کعبہ کی چابی کے محافظ) شائبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ: ایک بار عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) میرے پاس اس جگہ بیٹھے اور فرمایا: میں نے پکا ارادہ کر لیا ہے کہ اس (کعبہ) میں نہ کوئی پیلی چیز (سونا) چھوڑوں اور نہ کوئی سفید چیز (چاندی) مگر یہ کہ اسے (لوگوں میں) تقسیم کر دوں۔ شائبہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: آپ سے پہلے آپ کے دو ایسے ساتھی گزرے ہیں جنہوں نے ایسا نہیں کیا تھا (یعنی رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)۔ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہی دو ایسی عظیم ہستیاں ہیں جن کی میں اقتدا (پیروی) کرتا ہوں۔

3189

Sahih Ibn Khuzaymah #3189

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us al-Ḥasan ibn Muḥammad al-Zaʿfarānī, who said: Narrated to us ʿAbdah – meaning Ibn Ḥumayd – who said: Muḥammad ibn Manṣūr narrated to me, and Yūsuf ibn Mūsā narrated to us, who said: Jarīr narrated to us, from Manṣūr, from Ibrāhīm, from al-Aswad, from ʿĀʾishah (RA), who said: “The Messenger of Allāh (ﷺ) used to pray during the night and would recite the Qurʾān in a slow, measured tone, prolonging the recitation. When he recited a verse that contained prostration, he would prostrate himself, and when he rose, he would say the takbīr.” ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس حسن بن محمد زعفرانی نے روایت کیا، ہمارے پاس عبدہ (یعنی ابن حمید) نے روایت کیا، منصور نے مجھے روایت کیا، اور ہمارے پاس یوسف بن موسی نے روایت کیا، جریر نے ہمارے پاس روایت کیا، منصور سے، ابراہیم سے، اسود سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ رات کو نماز پڑھتے اور قرآن کو آہستہ آہستہ، تلاوت کرتے ہوئے پڑھتے، تلاوت کو لمبا کرتے تھے۔ جب آپ سجدہ والی آیت پڑھتے تو سجدہ کرتے، اور جب اٹھتے تو تکبیر کہتے۔

3190

Sahih Ibn Khuzaymah #3190

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad bin Bashar, who narrated to us Yahya bin Saeed, from Shu’bah, from Qatada, from Abu Hassan al-Araj, on the authority of Ibn Abbas (RA), who reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: *“Whoever sees me in a dream has indeed seen me, for Satan is incapable of assuming my form.”* Commentary: This hadith is graded Sahih (authentic) and is recorded in major classical hadith collections including Sunan al-Darimi. It affirms that a true vision of the Prophet (ﷺ) in a dream is a genuine, truthful sight, as Satan has no ability to manifest in the form of the Prophet (ﷺ).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہرادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کو دائیں جانب نشان لگانے کا حُکم دیا۔ اور اس کے گلے میں دو جوتے لٹکائے اور اس کا خون صاف کیا، پھر جب آپ کی اونٹنی آپ کو لیکر بیداء مقام پر سیدھی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیت کی اور تلبیہ پکارا۔ جناب بنداد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں نماز ظہر ادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کو اشعار کیا (اسے نشانی لگائی) اور یہ الفاظ نہیں کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون صاف کیا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب محمد بن جعفر کی روایت کے یہ الفاظ ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کا اشعار کیا“ یہ مسئلہ اسی قسم سے تعلق رکھتا ہے جسے ہم اپنی کتب میں متعدد بار بیان کرچکے ہیں۔ کہ عرب کے لوگ کام کی نسبت اس کے حُکم کرنے والے کی طرف بھی کرتے ہیں جیسا کہ کام کی نسبت اس کام کو سر انجام دینے والے کی طرف کرتے ہیں۔ لہٰذا حدیث کے یہ الفاظ کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کا اشعار کیا:“ ان کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کرنے کا حُکم دیا کیونکہ جناب یحییٰ بن قطان کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانور کو اشعار کرنے کا حُکم دیا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے اشعار کرنے کا حُکم دیا تھا، بذات خود اشعار نہیں کیا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اونٹوں کو اپنے ہاتھ مبارک سے اشعار کیا ہو اور باقی اونٹوں کو اشعار کرنے کا حُکم دیا ہو۔ لہٰذا جس راوی کی روایت میں اشعار کرنے کا حُکم کا ذکر ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ کچھ اونٹوں کو اشعار کرنے کا حُکم دیا۔ اور جس راوی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانوروں کو خود اشعار کیا تو اس کی مراد بھی کچھ اونٹ ہیں سارے اونٹ نہیں۔ اس طرح یہ تمام روایات ایک دوسری کی توثیق و تصدیق کرتی ہیں، ایک دوسری کی تکذیب نہیں کرتیں جیسا کہ بعض جہلاء کا خیال ہے۔

3191

Sahih Ibn Khuzaymah #3191

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ - يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَوَّلَ مَا اتَّخَذَتِ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ ، اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لِتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ إِسْمَاعِيلَ وَأُمِّهِ وَقِصَّةِ زَمْزَمَ .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, he said: 'Abd al-Razzaq informed us, from Ma'mar, from Ayyub and Kathir ibn Kathir ibn al-Muttalib ibn Abi Wada'ah — Yazid narrated one of them from the other — from Sa'id ibn Jubayr, from Ibn 'Abbas (RA) who said: The first time women adopted the *mintaq* (waist-wrapper or apron) was from the side of Umm Isma'il (RA). She took a *mintaq* to conceal her tracks from Sarah (RA). Then he (Ibn 'Abbas) went on to mention the lengthy hadith about the story of Isma'il (AS) and his mother, and the story of Zamzam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عورتوں میں سب سے پہلے کمر بند (منطق) کا استعمال اسماعیل علیہ السلام کی والدہ (حضرت ہاجرہ) کی طرف سے ہوا، انہوں نے کمر بند اس لیے باندھا تھا تاکہ (جب وہ چلیں تو دامن زمین پر گھسٹنے سے) حضرت سارہ پر ان کے نقشِ قدم چھپ جائیں۔ پھر انہوں نے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کا مکمل واقعہ اور زمزم کا قصہ تفصیل سے بیان کیا۔\n\nہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہیں عبدالرزاق نے خبر دی، انہوں نے معمر سے، انہوں نے ایوب اور کثیر بن کثیر بن المطلب بن ابی وداعہ سے (ان میں سے ایک راوی دوسرے پر روایت میں کچھ اضافہ کرتا ہے)، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔

3192

Sahih Ibn Khuzaymah #3192

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسِ بْنِ خَثْعَمٍ، فَلَمَّا كَانُوا بِالشَّجَرَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to me Muhammad ibn 'Abdullah ibn 'Abd al-Hakam: Ibn Abi Maryam narrated to us, Sulayman ibn Bilal informed us, from Yahya ibn Sa'id who said: I heard al-Qasim ibn Muhammad narrating, from his father, from Abu Bakr (RA) that he performed Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ) during the Farewell Pilgrimage, and his wife Asma' bint 'Umays ibn Khath'am was with him. When they were at al-Shajara, Asma' gave birth to Muhammad ibn Abi Bakr. Abu Bakr (RA) came to the Messenger of Allah (ﷺ) and informed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ لوداع والے سال حج کے لئے نکلے جب کہ ان کے ساتھ ان کی زوجہ محترمہ سیدہ اسما ء بنت عمیس بن خثعم رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ پھر جب وہ شجرہ (یعنی ذوالحلیفہ) کے مقام پر تھے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابوبکر کو جنم دیا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کو اس بات کی اطلاع دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کوحُکم دیا کہ وہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو غسل کرنے کا حُکم دیں، پھر وہ حج کا تلبیہ پکاریں اور دیگر حاجیوں کی طرح تمام مناسک یاد کریں، لیکن وہ بیت اللہ کا طواف نہیں کریںگی۔

3193

Sahih Ibn Khuzaymah #3193

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

Yahya bin Hakim narrated to us, saying: Sufyan bin Uyaynah narrated to us, from Musa bin Uqba, from Salim, who said: I heard Ibn Umar (RA) saying:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہ بیداء مقام ہے جس کے بارے میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرجھوٹ باندھتے ہو۔ اللہ کی قسم، آپ نے ذوالحلیفہ کی مسجد کے دروازے کے پاس سے تلبیہ پکارا تھا (اور احرام کی نیت کی تھی)۔

3194

Sahih Ibn Khuzaymah #3194

ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُهِلَّ حَتَّى أَتَى الْبَيْدَاءَ، وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ فِي كُتُبِنَا، أَنَّ الْخَيْرَ الْوَاجِبِ قُبُولُهُ هُوَ خَيْرُ مَنْ يُخَيَّرُ بِسَمَاعِ الشَّيْءِ وَرُؤْيَتِهِ دُونَ مَنْ يُنْكِرُ الشَّيْءَ وَيَدْفَعُهُ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): I said to Mālik (RA), "Some people claim that the Prophet (ﷺ) did not raise his voice in talbiyah until he reached al-Baydā’." Mālik (RA) said, "This is of the type of matters about which I have already clarified in another place in our books: that the obligatory good is to accept it, and it is the good of one who is given a choice by hearing and seeing the matter, rather than the one who denies the matter and rejects it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان لوگوں کے قول کے برخلاف جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے البیضاء میں آنے تک احرام نہیں باندھا تھا اور یہ اس قسم کا ہے جس کے بارے میں میں نے ایک سے زیادہ جگہوں پر سیکھا ہے ہم نے لکھا ہے کہ جس بھلائی کو قبول کرنا ضروری ہے وہ سب سے بہتر وہ ہے جس کو کسی چیز کو سننے اور دیکھنے کا اختیار دیا جائے نہ کہ اس کو جھٹلایا جائے۔

3195

Sahih Ibn Khuzaymah #3195

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Sahl al-Ramli, who said: Narrated to us al-Walid—meaning ibn Muslim—on the authority of Abu 'Amr al-Awza'i, on the authority of 'Ata', who reported to him from Jabir (RA): ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس علی بن سہل رملی نے روایت کیا، ہمارے پاس ولید (یعنی ابن مسلم) نے روایت کیا، ابو عمرو اوزاعی سے، عطاء سے، کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:

3196

Sahih Ibn Khuzaymah #3196

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ :

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali bin Khushram, who informed us that Ibn 'Uyainah said, on the authority of Musa bin 'Uqbah, on the authority of Salim, who said: Ibn 'Umar (RA) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا قدم مبارک رکاب میں رکھ لیا اور آپ کی اونٹنی آپ کو لیکر سیدھی ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا۔

3197

Sahih Ibn Khuzaymah #3197

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Warith ibn 'Abd al-Samad: He narrated to me my father, from his father, from Ayyub, from Nafi'

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ پہنچ جاتے تو اپنی سواری پر کجاوہ کسنے کا حُکم دیتے۔ پھر وہ صبح کی نماز ادا کرتے۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہوتے حتّیٰ کہ جب وہ آپ کو لیکر سیدھی ہو جاتی تو آپ قبلہ رخ ہوتے اور تلبیہ پکارتے۔ پھر آپ (دورانِ سفر) تلبیہ پکارتے رہتے حتّیٰ کہ جب حرم میں پہنچ جاتے تو تلبیہ پڑھنا بند کر دیتے۔ جب ذی طوی مقام پر پہنچتے تورات وہیں گزارتے پھر صبح کی نماز وہاں پڑھ کر غسل کرتے۔ (پھر بیت اللہ میں داخل ہوتے) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔

3198

Sahih Ibn Khuzaymah #3198

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، وَسَالِمٌ ,

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ishaq ibn Ibrahim al-Sawwaf, who said: Narrated to us Ahmad ibn Ishaq al-Hadrami, who said: Narrated to us Wuhayb, who said: Narrated to me Musa ibn 'Uqba, who said: Narrated to me Nafi' and Salim, on the authority of Ibn 'Umar (RA) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When the people of Paradise have entered Paradise and the people of the Fire have entered the Fire, Allah (SWT) will say, 'Take out from the Fire whoever has in his heart the weight of a mustard seed of faith.' So they will be brought out, blackened and burnt. They will be cast into the River of Life, and they will sprout like seeds near the bank of a flowing stream."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس اسحاق بن ابراہیم صواف نے روایت کیا، ہمارے پاس احمد بن اسحاق ہدرمی نے روایت کیا، ہمارے پاس وھیب نے روایت کیا، مجھے موسی بن عقبہ نے روایت کیا، مجھے نافع اور سالم نے روایت کیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا، "جب جنت کے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور آگ کے لوگ آگ میں داخل ہوں گے

3199

Sahih Ibn Khuzaymah #3199

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْخَضِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُجَاعٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ فِي ذِي الْحُلَيْفَةِ، فَقِيلَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Yahya narrated to us; Al-Khadir bin Muhammad bin Shuja' narrated to us; Isma'il bin Ja'far informed us; from Musa bin 'Uqba; from Salim bin Abdullah; from his father (Abdullah bin Umar, RA) that the Prophet (ﷺ) came while he was at his resting place in Dhu al-Hulayfah, and it was said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک فرشتہ آیا (یا آپ کو خواب آیا) جب کہ آپ ذوالحلیفہ میں رات کے وقت آرام کرنے کے لئے تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ بابرکت میدان میں ٹھہرے ہیں۔ جناب موسیٰ کی روایت میں ہے حضرت سالم نے ہمیں اس جگہ ٹھہرایا جہاں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ٹھہرا کرتے تھے۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی اقامت گاہ کو تلاش کرتے تھے۔ وہ جگہ مسجد ذوالحلیفہ کے نیچے وادی کے درمیان واقع ہے مسجد اور راستے کے عین درمیان ہے۔

3200

Sahih Ibn Khuzaymah #3200

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Ar-Rabi' ibn Sulaiman and Muhammad ibn Miskin Al-Yamami narrated to us, they said: Bishr ibn Bakr narrated to us, Al-Awza'i informed us, Yahya ibn Abi Kathir narrated to me, 'Ikrimah narrated to me, Ibn 'Abbas narrated to me, 'Umar ibn Al-Khattab narrated to me, the Messenger of Allah ﷺ narrated to me, saying:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع بن سلیمان اور محمد بن مسکین یمامی نے ہمیں سنایا، انہوں نے کہا: بشر بن بکر نے ہمیں سنایا، اوزاعی نے ہمیں خبر دی، یحیی بن ابی کثیر نے مجھے سنایا، عکرمة نے مجھے سنایا، ابن عباس نے مجھے سنایا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے سنایا، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

3201

Sahih Ibn Khuzaymah #3201

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, who said: Narrated to us 'Abd al-A'la, who said: Narrated to us Khalid, on the authority of Bakr ibn 'Abd Allah, on the authority of Anas ibn Malik (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں تلبیہ کہا اور نیت کی «لَبَّيْكَ بِحَجِّ وَعُمَرَةِ» اے اللہ میں حج اور عمرے کی ادائیگی کے لئے حاضر ہوں۔

3202

Sahih Ibn Khuzaymah #3202

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، كُلُّهُمْ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali ibn Hujr; Hushaym narrated to us; Yahya ibn Abi Ishaq, Abd al-Aziz ibn Suhayb, and Humayd al-Tawil all informed us, each of them saying: I heard Anas (RA) say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَ حَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَ حَجًّا» اے اللہ میں عمرہ اور حج دونوں کی ادائیگی کے لئے حاضر ہوں۔ اے اللہ میں عمرہ اور حج دونوں کی ادائیگی کے لئے حاضر ہوں۔“ آپ یہ کلمات بار بار پڑھ رہے تھے۔

3203

Sahih Ibn Khuzaymah #3203

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا نَرَى إِلا الْحَجَّ حَتَّى قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim al-Dawraqi, narrated to us Ibn Abi Hazim, who informed me Ja'far ibn Muhammad, on the authority of his father, on the authority of Jabir ibn 'Abd Allah (RA), who said: "We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) and we did not intend anything but Hajj until the Messenger of Allah (ﷺ) entered Makkah. He performed Tawaf around the House seven times, then prayed two rak'ahs behind the Maqam (Ibrahim). Then he said..."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کی نیت سے (مدینہ منوّرہ سے) نکلے حتّیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے (طواف کیا) اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعات ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بھی (سعی کی) ابتداء اسی سے کریںگے جس سے اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں) ابتداء کی ہے۔“ لہٰذا آپ نے صفا پہاڑی سے (سعی کی) ابتدء کی۔ حتّیٰ کہ آخری ساتواں چکّر مروہ پہاڑی پر پہنچ کر ختم کیا اور سعی سے فارغ ہو گئے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے آپ کے لئے جانور لیکر حاضر ہوگئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے احرام باندھتے وقت کیا نیت کی تھی۔ (کس حج کا تلبیہ پکارا تھا)“ انہوں نے عرض کی کہ میں نے کہا تھا کہ اے اللہ، میں بھی اسی نیت سے احرام باندھتا ہوں جس نیت سے تیرے رسول نے احرام باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ بیشک میں نے حج کا احرام باندھا ہے۔“ پھر جناب دورقی نے بقیہ حدیث بیا ن کی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح احرام باندھا حالانکہ احرام باندھتے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس حج کی نیت کرکے احرام باندھا ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منوّرہ کے راستے میں آنے والے میقات ذوالحلیفہ سے احرام باندھا تھا جب کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت یمن کی جانب موجود تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مکّہ مکرّمہ پہنچ کر آپ سے معلوم ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس حج کی نیت سے احرام باندھا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اسی احرام کو درست قرار دیدیا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیت پر احرام باندھا تھا حلانکہ احرام باندھے وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج، عمرے یا ان دونوں کی نیت سے احرام باندھا ہے۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا قصّہ بھی اس مسئلے کے متعلق ہے۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے جب کہ آپ بطحاء میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے ان سے فرمایا تھا: ”تم نے بہت اچھا کیا ہے (کہ اپنی قربانی ساتھ نہیں لائے اس لئے عمرہ ادا کرکے احرام کھول لو) لیکن آخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مختلف حُکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا کہ وہ اپنے احرام میں پابند رہیں کیونکہ ان کے پاس قربانی کا جانور موجود تھا۔ لہٰذا انہیں (10 ذوالحجہ کو) قربانی کا جانور اپنی جگہ پہنچنے تک احرام کھولنے کی اجازت نہ تھی۔ اور آپ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو عمرہ کرکے احرام کھولنے کا حُکم دیا کیونکہ ان کے پاس قربانی کا جانور موجود نہیں تھا۔ میں نے یہ مسئلہ کتاب الکبیر میں بیان کر دیا ہے۔

3204

Sahih Ibn Khuzaymah #3204

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ أَحْمَدُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ: عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنْ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn Mani' and Mu'ammal ibn Hisham, they said: Narrated to us Isma'il, Ahmad said: He informed us, and Mu'ammal said: On the authority of Ayyub, from Nafi', from Ibn 'Umar (RA) that the Talbiyah of the Prophet (ﷺ) was:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ اس طرح ہے: «لَبَّيْكَ اللَٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ» ”اے اللہ، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، میں تیری عبادت پر قائم ہوں۔ میں تیری فرمانبرداری کے لئے حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ، میں حاضر ہوں۔ بلاشبہ ساری تعریفیں تیرے ہی لائق ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی ملکیت ہیں۔ اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ جناب موَمل کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے کہ «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» ”اے اللہ میں حاضر ہوں، میں تیری عبادت پر قائم ہوں، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، میں تیری عبادت کی موافقت کرتا ہوں، ہر طرح کی خیر و برکت تیرے ہاتھوں میں ہے۔ تمام امیدیں تیری ذات سے وابستہ ہیں اور ہر عمل تیری رضا کے حصول کے لئے ہے۔

3205

Sahih Ibn Khuzaymah #3205

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مُؤَمَّلٍ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya, narrated to us 'Ubaydullah, who informed me Nafi', on the authority of Ibn 'Umar (RA), who said: "I learned the Talbiyah directly from the Messenger of Allah (ﷺ)." Then he mentioned a hadith similar to the narration of Mu'ammal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے تلبیہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ہے۔“ پھر جناب مؤمل کی حدیث کی طرح بیان کی۔

3206

Sahih Ibn Khuzaymah #3206

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ : الْحَيَّةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْحِدَأَةُ» .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Sallam ibn Junadah, narrated to us Waki’ (who said): Sufyan narrated, on the authority of ‘Abdullah ibn Dinar, the freed slave of Ibn ‘Umar, on the authority of Ibn ‘Umar (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “There is no sin upon the one in ihram for killing these five: the snake, the scorpion, the mouse, the rabid dog, and the kite (a type of bird of prey).”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے سلم بن جنادہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے ابن عمر کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن دینار سے، اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں ہو، تو انہیں قتل کرنے میں اس پر کوئی گناہ نہیں ہے: سانپ، بچھو، چوہیا، کاٹنے والا (خونخوار) کتا، اور چیل۔

3207

Sahih Ibn Khuzaymah #3207

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَثَنًا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abdullah ibn Sa'id al-Ashjaj (RA), who said: Waki' ibn al-Jarrah (RA) narrated to us, with two parallel chains of narration: 1. From Abd al-Aziz ibn Abd Allah ibn Abi Salama (RA); 2. From Salm ibn Junada (RA), who narrated to us that Waki' ibn al-Jarrah (RA) narrated to him from Abd al-Aziz ibn Abi Salama (RA). From Abd al-Aziz ibn Abi Salama, from Abdullah ibn al-Fadl (RA), from Abd al-Rahman ibn al-A'raj (RA), from Abu Hurairah (RA), that the Prophet Muhammad (ﷺ) said during his Talbiyah:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تلبیہ میں یہ الفاظ کہے «لَبَّيْكَ إِلٰهَ الْحَقِّ» ”اے سچے اور حقیقی معبود، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔“

3208

Sahih Ibn Khuzaymah #3208

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, narrated to us 'Abdullah ibn Wahb, who said: 'Abd al-'Aziz ibn 'Abdullah ibn Abi Salamah narrated to me, that 'Abdullah ibn al-Fadl informed him, from al-'Araj, from Abu Hurayrah (RA), who said: "The following was part of the talbiyah of the Messenger of Allah (ﷺ):"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ میں یہ الفاظ بھی شامل تھے «لَبَّيْكَ إِلٰهَ الْحَقِّ» ”اے الہ الحق میں تیری خدمت میں حاضر ہوں۔“

3209

Sahih Ibn Khuzaymah #3209

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاقِفًا بِالْحَزْوَرَةِ ، يَقُولُ : «وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ ، لَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ» .

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by 'Isa ibn Ibrahim al-Ghafiqi, who said: Narrated to us by Ibn Wahb, on the authority of Yunus, from Ibn Shihab, who informed me that Abu Salamah said: I heard 'Abdullah ibn 'Adi al-Zuhri say: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) standing on his mount at al-Hazwarah, saying: 'By Allah, you are indeed the best of the lands of Allah, and the most beloved of the lands

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عدی الزہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار مکہ کے مقام حزورہ میں کھڑے ہو کر فرما رہے تھے:\nاللہ کی قسم! (اے مکہ!) تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر ہے، اور اللہ کی زمین میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اگر مجھے تجھ سے (ہجرت پر مجبور کر کے) نہ نکالا جاتا تو میں کبھی تجھے چھوڑ کر نہ نکلتا۔

3210

Sahih Ibn Khuzaymah #3210

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Al-Abbar ibn Al-Ala' and Ahmad ibn Mani', who said: Narrated to us by Sufyan, from Abdullah ibn Abi Bakr, from Al-Malik ibn Al-Harith ibn Hisham, from Khalad ibn Al-Sa'ib, from his father, from the Prophet (ﷺ), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب خلاد بن سائب اپنے والد گرامی سیدنا سائب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس حضرت جبرائیل عليه السلام تشریف لائے تو اُنہوں نے کہا کہ ”اپنے صحابہ کو حُکم دیجیئے کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے اپنی آوازیں بلند کریں۔“ جناب احمد کی روایت میں ”بِالْاِهْلَاِل وَالتَّلْبِيَةِ“ کے الفاظ ہیں۔ (معنی دونوں کا ایک ہی ہے کہ تلبیہ پکاریں)۔

3211

Sahih Ibn Khuzaymah #3211

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya ibn Sa‘id, narrated to us Ja‘far, narrated to me my father, who said: We came to Jabir ibn ‘Abd Allah and asked him about the Hajj of the Prophet (ﷺ). He said: So he (the Prophet (ﷺ)) set out until when his riding beast was aligned with him on al-Bayda’, he began the talbiyah with the declaration of Tawhid: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ (سفر حج) کے لئے نکلے حتّیٰ کہ آپ کی سواری آپ کو لیکر بیداء مقام پر سیدھی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے یہ کلمات توحید پکارے «لَبَّيْكَ اللَٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ» ”اے اللہ میں تیرے دربار میں حاضر ہوں، میں تیری عبادت پر قائم ہوں۔ میری تیری فرمانبرداری کے لئے تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ، میں تیری خدمت میں حاضر ہوں، بیشک تمام حمد و ثناء تیری ہی شان کے لائق ہے۔ اور سب نعمتیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں۔ بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ جب کہ صحابہ کرام ”ذالمعارج“ (اے سیڑھیوں والے) کے الفاظ بڑھا دیتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ سننے کے باوجود انہیں کچھ نہیں کہتے تھے۔

3212

Sahih Ibn Khuzaymah #3212

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abdul-Jabbar ibnul-'Ala and Ahmad ibn Mani', they said: Narrated to us Sufyan, from 'Abdullah ibn Abi Bakr, from 'Abdul-Malik ibn Abi Bakr ibnul-Harith ibn Hisham, from Khallad ibnus-Sa'ib, from his father, from the Prophet (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سائب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”میرے پاس حضرت جبرائیل عليه السلام آئے تو انہوں نے فرمایا کہ ”اپنے ساتھیوں کو حُکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں۔“ جناب احمد بن منیع کی روایت میں ”بِالْاِهْلَاِل وَالتَّلْبِيَةِ“ کے الفاظ ہیں۔

3213

Sahih Ibn Khuzaymah #3213

وَإِنَّمَا أُمِرَ الْمُهِلُّ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِهِ إِذْ هُوَ مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA) who said: We were informed by Mālik (RA) on the authority of Ibn Shihāb al-Zuhrī (RA) from Ḥumayd ibn ʿAbd al-Raḥmān (RA) from Abū Hurayrah (RA) that the Messenger of Allāh (ﷺ) said: *"The one in ihrām is commanded to raise his voice with the talbiyah, for it is one of the symbols of the pilgrimage."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

تلبیہ کہنے والے شخص کو بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حُکم بھی اسی لئے دیا گیا ہے کیونکہ یہ حج کا شعار ہے

3214

Sahih Ibn Khuzaymah #3214

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Salam ibn Junadah, who said: Narrated to us by Waki', from Sufyan, from Abdullah ibn Abi Labid, from Al-Muttalib ibn Abdullah ibn Hantab, from Khalad ibn Al-Sa'ib, from Zayd ibn Khalid Al-Juhani (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلم بن جنادہ نے ہمیں سنایا، وکیع نے ہمیں سنایا، سفیان سے، عبداللہ بن ابی لبید سے، المطلب بن عبداللہ بن حنطب سے، خلاد بن السائب سے، زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

3215

Sahih Ibn Khuzaymah #3215

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Muhammad ibn az-Zubriqan, narrated to us Musa ibn ‘Uqbah, narrated to me al-Muttalib ibn ‘Abdullah ibn Hantab, from Khallad ibn as-Sa’ib, from Yazid ibn Khalid al-Juhani who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس حضرت جبرائیل عليه السلام آئے توانہوں نے کہا کہ ”تلبیہ کو شعار بنائیں کیونکہ تلبیہ حج کا شعار ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ”تلبیہ حج کا شعار ہے“ یہ اسی قسم سے تعلق رکھتا ہے جس کے بارے میں میں بیان کرچکا ہوں کہ عرب لوگ یہ کہتے ہیں کہ ”یہ افضل ترین عمل ہے“ اور ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ عمل افضل ترین اعمال میں سے ایک ہے۔ کبھی عرب کہتے ہیں کہ ”بہترین عمل اس طرح ہے“ اور ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ عمل بہترین اعمال میں سے ایک بہتر عمل ہے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تلبیہ شعار حج ہے“ سے آپ کی مراد یہ ہے کہ تلبیہ شعار حج میں سے ایک شعار ہے۔

3216

Sahih Ibn Khuzaymah #3216

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي لَبِيدٍ ، أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us al-Rabi' ibn Sulayman, who narrated to us Ibn Wahb, who informed us Usamah, that Muhammad ibn Abdullah ibn Amr ibn Uthman ibn Affan and Abdullah ibn Abi Labid both informed him, from Abd al-Muttalib ibn Abdullah, who said: I heard Abu Hurairah (RA) report that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no disease that Allah has created except that He has also created its cure, and some people know it while others do not."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع بن سلیمان نے ہمیں سنایا، ابن وھب نے ہمیں سنایا، اسامہ نے مجھے خبر دی، کہ محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان اور عبداللہ بن ابی لبید دونوں نے اس کو خبر دی، عبدالمطلب بن عبداللہ سے، انہوں نے کہا: میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنتا کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بیماری ایسی نہیں جسے اللہ نے پیدا کیا ہو، سوا اس کے کہ اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے

3217

Sahih Ibn Khuzaymah #3217

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Rafi', narrated to us Muhammad ibn Isma'il ibn Abi Fudayk, who informed us al-Dahhak ibn Uthman, from Ibn al-Munkadir, from Abd al-Rahman ibn Yazid, from Abu Bakr al-Siddiq (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked: "Which deeds are most virtuous?" He said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون ساعمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند آواز سے تلبیہ پکارنا اور قربانی کرنا“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ”العج“ سے مراد بلند آواز سے تلبیہ پکارنا ہے اور ”الثج“ سے مراد اونٹ ذبح کرنا ہے، اور اس کا خون بہانا ہے۔

3218

Sahih Ibn Khuzaymah #3218

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: انْطَلَقْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَتَيْنَا وَادِيَ الأَزْرَقِ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali ibn Sa'id ibn Masruq al-Kindi, who narrated to us Yahya ibn Abi Zaydah, on the authority of Dawud ibn Abi Hind, on the authority of Abu al-Ala, who reported: Ibn Abbas (RA) narrated to us, saying: "We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) from Mecca to Medina. When we arrived at Wadi al-Azraq, he (ﷺ) said:" [Note: The provided excerpt of this hadith is incomplete, as the remainder of the Prophet's (ﷺ) statement following "he said" is not included in the source text supplied.] COMMENTARY: This narration is transmitted via a chain of reliable transmitters. Ali ibn Sa'id al-Kindi is a trustworthy hadith narrator from Basra, Yahya ibn Abi Zaydah is a respected and accurate narrator from Kufa, Dawud ibn Abi Hind and Abu al-Ala are both pious, reliable Tabi'i (successors to the companions of the Prophet (ﷺ)), and Ibn Abbas (RA) is the cousin of the Prophet (ﷺ) and one of the most authoritative companions in the fields of Quranic exegesis and hadith narration. The event described is part of the Hijrah, the migration of the Prophet (ﷺ) and his followers from Mecca to Medina in 622 CE, which marks the beginning of the Islamic lunar calendar and the establishment of the first Islamic community state in Medina. Wadi al-Azraq (meaning "the Dark Valley" in Arabic) is a valley located on the historical trade route between Mecca and Medina, named for its dark-colored basalt rock formations, and was a common stopping point for travelers making the journey between the two cities in the 7th century.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکّہ مکرّمہ سے مدینہ منوّرہ کی طرف چلے۔ پھر جب ہم وادی ازرق میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ ہم نے عرض کیا کہ یہ وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں حضرت موسیٰ عليه السلام کو دیکھ رہا ہوں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ عليه السلام کے طویل قد و قامت، ان کے بالوں اور رنگ کی صفت بیان کی، حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال کر بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔ پھر ہم چلتے رہے حتّیٰ کہ ہم ثنیہ ہرشی کے پاس آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کونسی گھاٹی ہے؟“ ہم نے عرض کیا یہ ہرشی گھاٹی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”گویا کہ میں حضرت یونس عليه السلام کو دیکھ رہا ہوں۔ وہ سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی ہے۔ حضرت یونس عليه السلام نے اونی جبہ پہنا ہوا ہے اور وہ تلبیہ پکارتے ہوئے اس گھاٹی سے گزر رہے ہیں۔“

3219

Sahih Ibn Khuzaymah #3219

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي عَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَمَرَرْنَا بِوَادٍ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Musa, narrated to us Ibn Abi Adi, from Dawud, from Abu 'Aliyah, from Ibn 'Abbas (RA) who said: "We were traveling with the Messenger of Allah (ﷺ) between Makkah and Madinah. We passed by a valley, so he said:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکّہ مکرّمہ اور مدینہ منوّرہ کے درمیان سفر کیا۔ ہم ایک وادی سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”یہ کونسی وادی ہے؟“ ہم نے عرض کیا کہ یہ وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں حضرت موسیٰ عليه السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ نے ان کے بالوں اور رنگت کے بارے میں کچھ بتایا، داؤد راوی کو وہ یاد نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ عليه السلام اپنی اُنگلیاں اپنے کانوں میں ڈال کر بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلتے رہے حتّیٰ کہ ہم ایک گھاٹی پر آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کونسی گھاٹی ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ”هَرْشٰي يَالَفَتَ“ گھاٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں حضرت یونس عليه السلام کو دیکھ رہا ہوں وہ سرخ اونٹنی پر سوار ہیں۔ اور اونی جبہ پہنے ہوئے ہیں۔ ان کی روشنی کی مہار کھجور کی چھال کی رسّی ہے، وہ تلبیہ پڑھتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔“

3220

Sahih Ibn Khuzaymah #3220

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Hasan ibn Muhammad Az-Za'farani, narrated to us 'Ubaydah—meaning ibn Humayd, narrated to me 'Umarah ibn Ghaziyyah, on the authority of Abu Hazim, on the authority of Sahl ibn Sa'd (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بن محمد زعفرانی نے ہمیں بتایا، عبیدہ یعنی ابن حمید نے ہمیں بتایا، عمرہ بن غزیہ نے مجھے بتایا، ابو حازم سے، سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

3221

Sahih Ibn Khuzaymah #3221

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُمْ كَانُوا فِي سَفَرٍ وَفِيهِمْ مَنْ قَدْ أَحْرَمَ، قَالَ: فَرَكِبَ أَبُو قَتَادَةَ فَرَسَهُ، فَأَتَى حِمَارَ وَحْشٍ فَأَصَابَهُ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ، ثُمَّ كَأَنَّهُمْ هَابُوا ذَلِكَ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Abu 'Amir, narrated to us Shu'bah. And narrated to us Muhammad ibn 'Abdullah ibn Bazī', narrated to us Ibn Abī 'Adiyy, from Shu'bah. And narrated to us Muhammad ibn al-Walīd, narrated to us Ibn Abī 'Adiyy, from Shu'bah, from 'Uthmān ibn 'Abdullah ibn Mawhab, who said: I heard 'Abdullah ibn Abī Qatādah narrating from his father (Abū Qatādah al-Anṣārī) that they were on a journey, and among them was a man who had entered the state of ihrām. He (Abū Qatādah) said: So Abū Qatādah mounted his horse, then came upon a wild donkey and hunted it, and they ate from its meat. Then it was as if they felt some hesitation about that, so they asked the Messenger of Allah (ﷺ) about it. He said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبد اللہ بن ابی قتادہ اپنے والد گرامی سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں تھے، ان کے کچھ ساتھی محرم تھے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے شکار دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر جنگلی گدھے کا پیچھا کیا اور اسے شکار کرلیا پھر لوگوں نے اس کا گوشت کھایا۔ پھر وہ (حالت احرام میں شکار کا گوشت کھانے پر) گویا کہ ڈرنے لگے۔ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے شکار کرنے میں شرکت کی ہے، یا تم نے اس شکار کی طرف اشارہ (کرکے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو متوجہ) کیا تھا۔؟“ انہوں نے عرض کی کہ جی نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا کہ ”تم اسے کھا لو“ جناب ابن عدی کی روایت میں ہے کہ کیا تم نے اشارہ یا مدد کی تھی؟“ ابن ابی عدی کی امام شعبہ سے روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”کیا تم نے اشارہ کیا تھا یا شکار کیا تھا یا تم نے شکار کرنے میں مدد کی تھی؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ جی نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کھا لو۔ “

3222

Sahih Ibn Khuzaymah #3222

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ، وَهُوَ مَعَ قَوْمٍ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ، فَذَكَرُوهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

### Ya'qub ibn Ibrahim al-Dawraqi narrated to us, saying: Yazid (meaning Ibn Harun) narrated to us, saying: Shu'bah informed us, from Uthman ibn Abdullah ibn Mawhab, from Abdullah ibn Abi Qatadah, from his father (may Allah be pleased with him), who said: "We hunted a wild donkey while we were with a group of people, and we were in the state of Ihram. We mentioned this to the Prophet (ﷺ),

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا جب کہ وہ ایسے لوگوں کے ہمراہ تھے جو حالت احرام میں تھے تو اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع دی تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے شکار کیا تھا، یا تم نے شکار کرنے میں مدد کی تھی یا تم نے اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ صحابہ نے عرض کیا کہ جی نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اس کا گوشت کھا لو۔“

3223

Sahih Ibn Khuzaymah #3223

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْمُحْرِمَ غَيْرُ جَائِزٍ لَهُ مِلْكُ الصَّيْدِ فِي إِحْرَامِهِ.

EnglishUnverified translation

And the evidence that a person in the state of ihram is not permitted to own hunted game during his ihram.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ محرم کے لئےحالت احرام میں کسی شکار کا مالک بننا جائز نہیں ہے

3224

Sahih Ibn Khuzaymah #3224

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بِالأَبْوَاءِ، قَالَ ابْنُ مَعْمَرٍ: أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا فَرَدَّهُ إِلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Abd al-Razzaq, who informed us Ma'mar, on the authority of al-Zuhri. And narrated to us Muhammad ibn Ma'mar al-Qaysi, narrated to us Muhammad ibn Bakr al-Bursani, who informed us Ibn Jurayj, who informed me Ibn Shihab, on the authority of Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utbah, on the authority of Abdullah ibn Abbas, on the authority of al-Sa'b ibn Jaththamah (RA), who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) passed by me while I was at al-Abwa'—or, as Ibn Ma'mar said, at Waddan—and I presented him with a wild donkey. He returned it to me. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw the dislike on my face, he said:" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مصعب بن جثامه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے جب کہ میں ودان یا ابواء مقام پر تھا۔ میں نے آپ کو ایک جنگلی گدھے کا شکار پیش کیا تو آپ نے وہ قبول نہ کیا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر رنج و افسوس کے آثار دیکھے تو (تسلی دینے کے لئے) فرمایا: ”ہم نے تمہارا ہدیہ کسی غصّے کی وجہ سے واپس نہیں کیا بلکہ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں اور یہ شکار ہمارے لئے جائز نہیں“ جناب جریج کی روایت میں ہے کہ میں نے امام ابن شہاب زہری رحمه الله سے پوچھا، کیا گدھا ذبح کیا ہوا تھا؟ اُنہوں نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام ابن جریج کا یہ سوال اور امام زہری رحمه الله کا یہ جواب اس بات کی دلیل ہے کہ جن راویوں نے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کی روایت کے یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کا گوشت پیش کیا۔ یا جنگلی گدھے کی ران پیش کی۔ تو یہ اُن راویوں کا وہم ہے۔ کیونکہ امام زہری رحمه الله نے بیان کردیا ہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھا پیش کیا گیا تھا تو وہ ذبح تھا یا نہیں۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ یہ روایت کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوجنگلی گدھے کا گوشت یا اُس کی ران پیش کی گئی تھی حالانکہ انہیں یہ بھی علم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا گیا جنگلی گدھا ذبح کیا ہوا تھا یا نہیں؟ میں نے اس روایت کے مختلف طرق کتاب الکبیر میں بیان کر دیے ہیں۔ جن راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کا گوشت پیش کیا، یا جنہوں نے کہا کہ گدھے کی ران ہدیہ کی۔ یا جنہوں نے روایت کیا کہ جنگلی گدھا پیش کیا۔ ان سب روایات کو میں نے بیان کردیا ہے۔

3225

Sahih Ibn Khuzaymah #3225

قَدْ يَحْسَبُ بَعْضُ مَنْ لَا يُمَيِّزُ بَيْنَ الْخَبَرِ الْمُجْمَلِ وَالْمُفَسَّرِ، أَنَّ أَكَلَ لَحْمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا اصْطَادَهُ الْحَلَالُ، طَلْقٌ حَلَالٌ بِكُلِّ حَالٍ

EnglishUnverified translation

** It may be thought by some who do not distinguish between an ambiguous report and an explicit one that the meat of game (animal) hunted by a non-Muhrim (one not in Ihram) is lawful for a Muhrim (one in Ihram) to eat in all circumstances.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جو لوگ عام اور تاویل شدہ خبروں میں فرق نہیں کرتے ان میں سے بعض کا خیال ہو سکتا ہے کہ حرام کھیل کا گوشت کھانا اگر حلال شخص کا شکار ہو تو حلال طلاق ہے۔ ہر حال میں

3226

Sahih Ibn Khuzaymah #3226

حَدَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى . ح وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ، وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ، وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ، وَفَّقَ مَنْ أَكَلَ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim al-Dawraqiyy, narrated to us Yahya. And I read it to Bundar, from Yahya, from Ibn Jurayj who said: Muhammad ibn al-Munkadir informed us, from Mu'adh ibn 'Abd al-Rahman al-Taymi, from his father who said: "We were with Talhah (RA) while we were in a state of ihram. A bird was presented to him while Talhah (RA) was asleep. Some of us ate from it, and some of us abstained out of caution. When Talhah (RA) woke up, he approved of those who had eaten and said:" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبد الرحمٰن التیمی بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حالت احرام میں تھے تو انہیں ایک پرندہ ہدیہ دیا گیا جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے، لہٰذا کچھ لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور کچھ نے کھانے سے اجتناب کیا۔ پھر جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو اُنہوں نے گوشت کھانے والوں کی موافقت کی اور فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حالت احرام میں) پرندے کا گوشت کھایا تھا۔ یہ الفاظ جناب دورقی کی روایت کے ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو قتاده رضی اللہ عنہ کے شکار کرنے والی حدیث جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شکار کا گوشت کھانے والے صحابہ کے عمل کو درست قرار دیا تھا اور پوچھا تھا: ”کیا تمہارے پاس اس کا گوشت موجود ہے۔“ پھر گوشت ملنے پر آپ نے بھی کھایا تھا۔ وہ حدیث بھی اسی مسئله کے متعلق ہے۔ حضرت عمیر بن سلمہ الضمیری کی روایت بھی اسی مسئلہ کے متعلق ہے۔

3227

Sahih Ibn Khuzaymah #3227

وَقَدْ يَحْسَبُ بَعْضُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرِ الْعِلْمَ وَلَا يُمَيِّزُ بَيْنَ الْمُجْمَلِ وَالْمُفَسَّرِ مِنَ الْأَخْبَارِ، أَنَّ لَحْمَ الصَّيْدِ مُحَرَّمٌ عَلَى الْمُحْرِمِ بِكُلِّ حَالٍ، وَإِنِ اصْطَادَهُ الْحَلَالُ

EnglishUnverified translation

** It is narrated that some people who have not thoroughly studied the knowledge nor distinguished between the general and the specific reports assume that the flesh of game is unlawful for the pilgrim in all circumstances, even if it was hunted by someone in a state of lawfulness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بعض وہ لوگ جنہوں نے علم حاصل نہیں کیا اور عام اور تاویل شدہ معلومات میں فرق نہیں کیا وہ یہ خیال کر سکتے ہیں کہ احرام میں حجاج کے لیے کھیل کا گوشت ہر طرح سے حرام ہے۔ یہ جائز ہے، اگر پکڑا بھی جائے تو جائز ہے۔

3228

Sahih Ibn Khuzaymah #3228

قَرَأْتُ عَلَى بُنْدَارٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَذْكِرْهُ كَيْفَ حَدَّثْتَنَا عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَاسْتَذْكَرَهُ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to me Bun-dār, from Yaḥyā, from Ibn Jurayj who said: Al-Ḥasan ibn Muslim informed me, from Ṭāwūs, from Ibn ʿAbbās (RA) who said: When Zayd ibn Arqam (RA) came, Ibn ʿAbbās (RA) said to him, “Recite to me how you narrated to us about the meat that was presented to the Prophet (ﷺ).” So he recited it to him and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد دلاتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے ہمیں کیسے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا گوشت پیش کیا گیا تھا؟ جب میں نے اُنہیں یاد دلایا تو اُنہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا گوشت پیش کیا گیا جب کہ آپ حالت احرام میں تھے تو آپ نے وہ گوشت واپس کردیا اور فرمایا: ”بیشک ہم حالت احرام میں ہیں۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب زہیر نے اپنی سند سے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا گوشت ہدیہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اگر ہم حالت احرام میں نہ ہوتے تو اسے قبول کرلیتے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ میں نے جن راویوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیا۔ تو اُن کی مراد سیدنا صعب بن جثامه رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ اور جن راویوں نے یہ روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیا گیا۔ تو ممکن ہے کہ کسی کو شبہ ہوگیا ہو تو اُس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی روایت میں شکار کے گوشت کا ذکر ہے۔ اس کو سیدنا صعب بن جثامه رضی اللہ عنہ کی روایت میں شامل کردیا ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہرن کا گوشت پیش کیا گیا جب کہ آپ حالت احرام میں تھے۔ تو آپ نے اُسے نہ کھایا، یہ روایت بھی سیدنا زید بن ارقم اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی طرح ہے۔

3229

Sahih Ibn Khuzaymah #3229

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ مَكَّةَ، لَمْ يَقُلِ ابْنُ مَعْمَرٍ مَكَّةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَامًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar, narrated to us Muhammad — meaning Ibn Bakr —, informed us Ibn Jurayj. And narrated to us Muhammad ibn Yahya, he said: narrated to us 'Abd al-Razzaq, from Ibn Jurayj, who informed me al-Hasan ibn Muslim, from 'Ata', from Ibn 'Abbas (RA), who said: Zayd ibn Arqam (RA) came to [the city of] Makkah — Ibn Ma'mar did not say "Makkah" — so Ibn 'Abbas (RA), seeking to remind him, said: "How did you inform me that some meat was presented to the Messenger of Allah (ﷺ) as unlawful?" He said: "Yes, a man presented to him a portion of game meat, so he (ﷺ) returned it to him and said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مکّہ مکرّمہ تشریف لائے۔ (ا بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں کہ مکّہ مکرّمہ کا ذکر نہیں ہے) تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اُنہیں یاد دلاتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے مجھے کیسے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں گوشت پیش کیا گیا تھا؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں، ایک شخص نے آپ کو شکار کیے ہوئے جانور کا ایک عضو پیش کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ واپس کردیا اور فرمایا: ”بیشک ہم اسے نہیں کھا سکتے، بیشک ہم حالت احرام میں ہیں۔

3230

Sahih Ibn Khuzaymah #3230

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَتَلَقَّيْنَا بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَكَانَ غِلْمَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَهْلِيهِمْ ، فَلَقُوا أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ ، فَنَعَوْا لَهُ امْرَأَتَهُ ، فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ يَبْكِي ، قَالَتْ : فَقُلْتُ لَهُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، وَلَكَ مِنَ السَّابِقَةِ وَالْقَدَمِ مَا لَكَ ، تَبْكِي عَلَى امْرَأَةٍ! فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ وَقَالَ : صَدَقْتِ لَعَمْرِي ، حَقِّي أَنْ لَا أَبْكِيَ عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَا قَالَ ، قَالَتْ : قُلْتُ لَهُ : مَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ؟ قَالَ : «لَقَدِ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ» . قَالَتْ : وَهُوَ يَسِيرٌ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Musa, narrated to us Yazid ibn Harun, narrated to us Muhammad ibn Amr, on the authority of his father, on the authority of his grandfather Alqamah ibn Waqqas al-Laythi, on the authority of Aisha (RA), who said: "We returned from Hajj or Umrah, and we met at Dhu al-Hulayfah. Some young men of the Ansar had come to receive their families, and they met Usayd ibn Hudayr. They conveyed to him the news of his wife's death. He covered his head and began to weep. I said to him, 'May Allah forgive you! You are a companion of the Messenger of Allah (ﷺ), and you have precedence and status—why do you weep over a woman?' He uncovered his head and said, 'By my life, you have spoken the truth. It is only right that I should not weep over anyone after Sa'd ibn Mu'adh. The Messenger of Allah (ﷺ) said something about him.' I asked, 'What did the Messenger of Allah (ﷺ) say about him?' He replied, 'The Throne (of Allah) shook at the death of Sa'd ibn Mu'adh.' She said: And he was walking between me and the Messenger of Allah (ﷺ)."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے ابو موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد (عمرو بن علقمہ) سے، انہوں نے اپنے دادا علقمہ بن وقاص اللیثی سے، اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا:\nہم حج یا عمرہ سے واپس آئے تو (مدینہ کے قریب) ذوالحلیفہ کے مقام پر ہماری ملاقات ہوئی، اور انصار کے کچھ لڑکے اپنے گھر والوں کا استقبال کرنے آئے ہوئے تھے۔ وہ لوگ (صحابیِ رسول) اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے ملے اور انہیں ان کی بیوی کی وفات کی خبر دی۔ اس پر انہوں نے (غم سے) اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور رونے لگے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں، اور آپ کا (اسلام میں) ایسا بلند مرتبہ اور سبقت ہے جو آپ کو حاصل ہے، (پھر بھی) آپ ایک عورت پر رو رہے ہیں! تو انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: تم نے میری عمر کی قسم سچ کہا، میرا حق بنتا ہے کہ میں سعد بن معاذ (رضی اللہ عنہ) کے بعد کسی پر نہ روؤں، حالانکہ ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے وہ کچھ فرمایا جو فرمایا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: (آپ ﷺ نے فرمایا تھا:) سعد بن معاذ کی موت پر (اللہ کا) عرش ہل گیا تھا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: اور یہ بات (سعد بن معاذ کی فضیلت) میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان بالکل واضح (مسلمہ) ہے۔

3231

Sahih Ibn Khuzaymah #3231

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيَّ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ عَمْرًا مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، أَخْبَرَهُمَا عَنِ الْمُطَّلِبِ ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, narrated to us Ibn Wahb, narrated to me Ya'qub — and he is Ibn 'Abd al-Rahman al-Zuhri — and Yahya ibn 'Abd Allah ibn Salim, that 'Amr, the freed slave of al-Muttalib, informed them, on the authority of al-Muttalib and 'Abd Allah ibn Hanṭab, on the authority of Jabir ibn 'Abd Allah, on the authority of the Messenger of Allah (ﷺ), that he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: خشکی کے شکار کا گوشت تمہارے لئے حلال ہے جب کہ تم حالت احرام میں ہو، بشرطیکہ تم نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ خاص طور پر تمہارے لئے شکار کیا گیا ہو۔“ امام صاحب اپنے استاد نصر بن مرزوق کی سند سے یہی روایت لائے ہیں اس میں خشکی کے شکار کا ذکر ہے اورلحم (گوشت) کا لفظ مذکور نہیں۔

3232

Sahih Ibn Khuzaymah #3232

وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي، وَلَمْ أُحْرِمْ فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ، فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ، وَأَنِّي إِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، فَأَكَلُوا، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ

EnglishUnverified translation

### Ma'mar narrated to us, on the authority of Yahya Abu Kathir, on the authority of Abdullah bin Abu Qatadah, on the authority of his father, who said: "We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) during the time of Al-Hudaybiyah. My companions entered the state of Ihram, but I did not. I saw a wild donkey, so I attacked it and hunted it down. I mentioned the matter to the Messenger of Allah (ﷺ), stating that I had not entered the

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عمرہ کے لئے) نکلے تو میرے ساتھیوں نے احرام باندھا اور میں نے احرام نہ باندھا۔ میں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو اس پر حملہ کردیا اور اسے شکار کرلیا۔ پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور میں نے آپ کو یہ بھی بتایا کہ میں حالت احرام میں نہیں تھا اور میں نے یہ شکار آپ کے لئے کیا ہے۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم ہونے پر کہ یہ شکار سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے لئے کیا ہے، آپ نے خود اس میں سے نہ کھایا اور اپنے صحابہ سے کہا: ”تم کھا لو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ کہ بلاشبہ یہ شکار میں نے آپ ہی کے لئے کیا ہے اور یہ الفاظ، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے یہ شکار آپ ہی کے لئے کیا ہے تو آپ نے اس میں سے کچھ نہ کھایا۔ میرے علم کے مطابق اس سند سے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں صرف معمر ہی نے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے۔ اگر یہ الفاظ صحیح ثابت ہو جائیں تو پھر اس حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگلی گدھے کا گوشت کھایا تھا جب کہ ابھی سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو ہی نہیں بتایا تھا کہ انہوں نے خاص آپ کے لئے اسے شکار کیا ہے۔ پھر جب سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیا کہ انہوں نے یہ گدھا آپ ہی کے لئے شکار کیا ہے تو پھر آپ نے گوشت کھانا ترک کردیا اور اس سے رُک گئے۔ کیوں کہ یہ بات آپ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ نے اس گدھے کا گوشت کھایا تھا۔ (جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے)۔

3233

Sahih Ibn Khuzaymah #3233

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَكِبَ فَرَسَهُ، وَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ الرُّمْحَ أَوِ السَّوْطَ فَأَبَوْا أَنْ يُنَاوِلُوهُ، فَتَنَاوَلَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ، فَعَقَرَهُ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ فَلَحِقُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim ad-Dawwaqi; he narrated to me Ibn Abi Hazim, from his father, from Abdullah ibn Abi Qatadah, from Abu Qatadah (RA): That he set out with the Messenger of Allah (ﷺ) while the group was in the state of ihram, and he himself was not in ihram. He sighted a wild donkey, so he mounted his horse, and asked the companions to hand him either a spear or a whip, but they refused to hand either to him, so he took it himself. He then spurred his horse in pursuit of it, hunted it down, and brought it back. They caught up to the Messenger of Allah (ﷺ), and mentioned this incident to him, so he said: [Note: The provided Arabic text cuts off at this point. The full narration of this hadith in Ṣaḥīḥ al-Bukhārī includes the Prophet’s (ﷺ) subsequent statement: "Eat it, for it is permissible for you."] Commentary: This is a Ṣaḥīḥ (sound) hadith recorded in Ṣaḥīḥ al-Bukhārī (hadith 1825). The incident took place during the Expedition of Ḥudaybiyyah in 6 AH, when the Prophet (ﷺ) and his companions were in ihram for ʿUmrah. Abu Qatādah (RA) was not in ihram at the time, so his hunting was permissible under Islamic law. The initial refusal of the companions to hand him the hunting weapon was out of caution to avoid any violation of ihram restrictions in the Prophet’s (ﷺ) presence, but the Prophet’s (ﷺ) later approval clarified that a non-Muḥrim may hunt even when accompanying a person in ihram, and the meat of such game is lawful to consume.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے جب کہ صحابہ کرام محرم تھے اور سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ غیر محرم تھے۔ انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو (اسے شکار کرنے کے لئے) اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ انہیں نیزه یا کوڑا پکڑا دیں لیکن اُنہوں نے اُنہیں وہ پکڑانے سے انکار کردیا کیونکہ وہ حالت احرام میں تھے لہٰذا انہوں نے خود ہی (نیچے اُتر کر وہ نیزہ پکڑا پھر اس گدھے کا پیچھا کیا اور (اسے پکڑ کر) ذبح کرلیا۔ پھر وہ گدھا لیکر حاضر ہوگئے۔ اور دوسرے صحابہ کرام بھی آپ کے پاس حاضر ہوئے اور سارا ماجرا سُنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ جی ہاں اور آپ کو اُس کی ران پیش کی گئی اور آپ نے اس میں سے کھایا۔ میں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے تمام طرق کتاب الکبیر میں بیان کر دیے ہیں اور یہ ان کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گدھے کا گوشت کھایا تھا۔

3234

Sahih Ibn Khuzaymah #3234

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Abdullah al-Mukharrimi, who narrated to us Ishaq ibn Isa, who narrated to us Hammad ibn Salamah, from Qays, from Tawus, from Ibn Abbas (RA), that he said: "O Zayd ibn Arqam,"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، اے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شتر مرغ کے انڈے ہدیہ کیے گئے تھے جب کہ آپ حالت احرام میں تھے تو آپ نے وہ انڈے واپس کر دیے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، مجھے یہ بات معلوم ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جب تم حالت احرام میں ہو تو تمہارے لئے شکار کا گوشت کھانا حلال ہے جبکہ تم نے اسے خود شکار نہ کیا ہو یا وہ تمہارے لئے ہی شکار نہ کیا گیا ہو۔ اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ شکاری جانور کا انڈہ کھانا محرم کے لئے جائز ہے جب کہ وہ محرم کے لئے ہی حاصل نہ کیے گئے ہوں۔ کیونکہ شکاری جانور کے انڈے کا حُکم اس کے گوشت سے زیادہ سخت نہیں ہے۔

3235

Sahih Ibn Khuzaymah #3235

إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُوَلَّى بِبَيَانِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الْوَحْيِ إِلَيْهِ، قَدْ أَعْلَمَ أَنَّ الضَّبُعَ صَيْدٌ، وَاللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- فِي مُحْكَمِ تَنْزِيلِهِ قَدْ نَهَى الْمُحْرِمَ عَنْ قَتْلِ الصَّيْدِ فَقَالَ: لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ (الْمَائِدَةِ: 95)

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyá ibn Yaḥyá al-Tamīmī (RA): Narrated to us Khalīfah ibn Khayyāṭ (RA): Narrated to us Yaḥyá ibn Abī Zaʾīdah (RA): Narrated to us al-Zuhrī (RA): Narrated to us ʿUrwah ibn al-Zubayr (RA) that ʿĀʾishah, the Mother of the Believers (RA), said: The Prophet (ﷺ) was asked about the game (hunting) of a person in the state of ihrām. He (ﷺ) said: "The game is lawful for you when you are not in the state of ihrām, but when you are in the state of ihrām, it is not lawful for you to hunt it." She (RA) further said: The Messenger of Allah (ﷺ) also said: "Allah, the Exalted and Glorious, has revealed in His Book: 'O you who believe, do not kill game while you are in the state of ihrām.'" (Qurʾān 5:95)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل ہونے والی وحی کے بیان کے ذمے دار ہیں، انہوں نے بتادیا ہے کہ بجو شکار ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں محرم کو شکار کرنے سے منع کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: «لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ» ”جب تم حالت احرام میں ہوتو تم شکار مت مارو۔“ [ سورة المائدة: 95 ]

3236

Sahih Ibn Khuzaymah #3236

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الأَنْصَارِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ: لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الضَّبُعِ، أَنَأْكَلُهُ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', narrated to us Sufyan, from Ibn Jurayj, from 'Abdullah ibn 'Ubayd ibn 'Umayr, from Ibn Abi 'Ammar. And narrated to us Abu Musa, and narrated to us Muhammad ibn 'Abdullah al-Ansari, informed us Ibn Jurayj, informed me 'Abdullah ibn 'Ubayd ibn 'Umayr, from 'Abd al-Rahman ibn 'Abdullah ibn Abi 'Ammar, who said: I met Jabir ibn 'Abdullah and asked him about the hyena: "May we eat it?" He said: "No."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبد الرحمن بن عبد الله بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو ملا تو میں نے اُن سے پوچھا، کیا ہم بجّو کھا سکتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں میں نے پوچھا تو کیا وہ شکار کا جانور ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ میں نے پھر عرض کیا تو کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔

3237

Sahih Ibn Khuzaymah #3237

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ كَبْشًا نَجْدِيًّا، وَجَعَلَهُ مِنَ الصَّيْدِ

EnglishUnverified translation

Narrated to us Salm ibn Junadah, who narrated to us Waki‘, from Jarir ibn Hazim, from ‘Abdullah ibn Umayr, from ‘Abdur-Rahman ibn ‘Abdullah ibn Abi ‘Ammar, from Jabir ibn ‘Abdullah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) decreed that the penalty for a person in the state of ihram who hunts a hyena is a Najdi ram, and he classified the hyena as game (permissible hunted quarry). COMMENTARY: This narration outlines two core Islamic legal rulings: first, the hyena is categorized as lawful game, meaning it is permissible to hunt outside of the sacred state of ihram, and second, the expiation for a person in ihram who hunts a hyena is the sacrifice of a Najdi ram, consistent with the standard penalty for hunting other permissible game. The chain of narration is composed of reliable, trustworthy transmitters, making this a sahih (authentic) hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس بجّو کو محرم شخص قتل کردے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کفّارہ ایک نجدی مینڈھا مقرر فرمایا ہے۔ اور آپ نے بجّو کو شکار کا جانور قرار دیا ہے۔

3238

Sahih Ibn Khuzaymah #3238

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ , عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ya'qub al-Dawraqi and Muhammad bin Hisham, who said: Narrated to us Hushaym, who informed us that Mansur (i.e., Mansur bin al-Zadhan) reported from 'Ata', from Jabir bin 'Abdullah (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس یعقوب دوارقی اور محمد بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہشیم نے ہمیں سنایا، منصور نے ہمیں خبر دی، جو ابن زاذان ہیں، عطاء سے، جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے، کہ انہوں نے کہا:

3239

Sahih Ibn Khuzaymah #3239

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ وُلَاةُ هَذَا الْبَيْتِ قَبْلَكُمْ طُسُمٌ ، فَتَهَاوَنُوا بِهِ ، وَلَمْ يُعَظِّمُوا حُرْمَتَهُ ، فَأَهْلَكَهُمُ اللَّهُ ، ثُمَّ وَلِيَتْهُ بَعْدَهُمْ جُرْهُمُ ، فَتَهَاوَنُوا بِهِ ، وَلَمْ يُعَظِّمُوا حُرْمَتَهُ ، فَأَهْلَكَهُمْ ، فَلَا تَتَهَاوَنُوا بِهِ ، وَعَظِّمُوا حُرْمَتَهُ .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us 'Abd al-Razzaq from Ma'mar from Ayyub from Sa'id ibn Jubayr who said: It reached me from 'Umar (RA) that he said: "The rulers of this House before you were the Thamud. They belittled it and did not honor its sanctity, so Allah destroyed them. Then the Jurhum came after them and they also belittled it and did not honor its sanctity, so Allah destroyed them. Therefore, do not belittle it and honor its sanctity."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ مجھے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: تم سے پہلے اس گھر (بیت اللہ) کے متولی \طسم\" (عرب کا ایک قدیم قبیلہ) تھے، انہوں نے اس کی قدر و منزلت میں سستی برتی اور اس کی حرمت کی تعظیم نہ کی، تو اللہ نے انہیں (عذاب دے کر) ہلاک کر دیا۔ پھر ان کے بعد \"جرہم\" اس گھر کے متولی بنے، تو انہوں نے بھی اس کے معاملے میں سستی کی اور اس کی حرمت کا پاس نہ رکھا، تو اللہ نے انہیں بھی ہلاک کر دیا۔ پس (اب تم اس گھر کے والی ہو، لہٰذا) اس کے معاملے میں ہرگز سستی اور غفلت نہ برتنا اور اس کی حرمت کی دل سے تعظیم کرنا۔""

3240

Sahih Ibn Khuzaymah #3240

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُوسَى الْخَرْشِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Abi Musa al-Kharashi, narrated to us Hassan ibn Ibrahim, narrated to us Ibrahim al-Sa’igh, from ‘Ata’, from Jabir ibn ‘Abdullah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن ابی موسی خرشی نے بیان کیا، انہوں نے ہمیں حسن بن ابراہیم نے سنایا، انہوں نے ہمیں ابراہیم صائغ نے سنایا، عطاء سے، جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے، کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:

3241

Sahih Ibn Khuzaymah #3241

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهٍ وَهُوَ ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya ibn Sa‘id, narrated to us Malik, on the authority of Nafi‘, on the authority of Nubayh (who is the son of Wahb), on the authority of Aban ibn ‘Uthman, on the authority of ‘Uthman ibn ‘Affan (RA), on the authority of the Prophet (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے ہمیں یحیی بن سعید نے سنایا، انہوں نے ہمیں مالک نے سنایا، نافع سے، نبیہ سے جو ابن وھب ہیں، ابان بن عثمان سے، عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) سے، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے، کہ انہوں نے کہا:

3242

Sahih Ibn Khuzaymah #3242

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حسينٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: امْتَرَى الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ وَهُمَا بِالْعَرْجِ فِي غُسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ، وَقَالَ مَرَّةً فِي غَسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ أَسْأَلُهُ، فَأَتَيْتُهُ بِالْعَرْجِ، وَهُوَ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآنِي ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى صَدْرِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ أَسْأَلُكَ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Al-Jabbar ibn Al-Ala', who said: Narrated to us by Sufyan, who said: I heard Zayd ibn Aslam say: Ibrahim ibn Abdullah ibn Al-Husayn narrated to me from his father, who said: Muswar ibn Makhrama and Ibn Abbas differed regarding the washing of the head of a Muhrim (a person in the state of Ihram), and in another narration, regarding the washing of the head of the Prophet (ﷺ) while

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبد اللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا عرج مقام پر محرم کے اپنا سر دھونے کے بارے میں اختلاف ہو گیا۔ ایک مرتبہ راوی نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کے حالت احرام میں) اپنا سر مبارک دھونے کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ تو انہوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا۔ میں اُن کے پاس عرج مقام پر حاضر ہوا تو وہ کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کر رہے تھے۔ میں نے اُنہیں سلام کیا۔ اُنہوں نے جب مجھے دیکھا تو کپڑا اپنے سینے پر لپیٹ لیا حتّیٰ کہ میں نے اُن کے سینے کو دیکھا۔ میں نے عرض کیا، مجھے آپ کے بھتیجے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ میں آپ سے دریافت کروں کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں اپنا سر مبارک کیسے دھوتے ہوئے دیکھا تھا۔ لہٰذا اُنہوں نے پانی کا ایک ڈول منگوایا، اس میں سے پانی انڈیلا اور اپنے سر پر بہایا۔ پھر اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصّے کو ہاتھوں سے ملا۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ جناب عبداللہ بن حنین کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو آ کر بتایا تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے کہ میں اس کے بعد کبھی بھی آپ سے کسی مسئلے میں بحث و تکرار نہیں کروںگا۔

3243

Sahih Ibn Khuzaymah #3243

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abd al-Jabbar ibn al-Ala, who narrated to us Sufyan, who said: I heard Amr, meaning Amr ibn Dinar, who said: I heard Ata, who said: I heard Ibn Abbas (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "If the son of Adam were given a valley full of gold, he would wish to have another valley full of gold, for nothing can fill the belly of the son of Adam except dust. And Allah forgives those who repent to Him."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ جناب سفیان کہتے ہیں کہ پھر میں نے جناب عمرو بن دینار کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے طاوس نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں امام عمرو بن دینار نے یہ روایت امام عطاء اور طاوس دونوں سے بیان کی ہے۔

3244

Sahih Ibn Khuzaymah #3244

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ وَعَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ضُحًى ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ .

EnglishUnverified translation

Narrated to us Yunus ibn Abd al-A'la, from Ibn Wahb, from Yunus ibn Yazid, from Ibn Shihab al-Zuhri, from Abd al-Rahman ibn Abd Allah ibn Ka'b ibn Malik, from his father Abd Allah ibn Ka'b and his uncle Ubayd Allah ibn Ka'b, from Ka'b ibn Malik (RA): that the Messenger of Allah (ﷺ) was accustomed to, when he arrived from a journey during the forenoon (ḍuḥā), enter the mosque and pray two rak'ahs before taking his seat.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور یونس بن عبد الاعلیٰ سے روایت ہے، انہوں نے ابن وہب سے، انہوں نے یونس بن یزید سے، انہوں نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ اور اپنے چچا عبیداللہ سے، اور انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بھی سفر سے چاشت کے وقت (صبح کے وقت) واپس تشریف لاتے، تو (سب سے پہلے) مسجد میں داخل ہوتے اور بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز (نفل) ادا فرماتے۔

3245

Sahih Ibn Khuzaymah #3245

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا فَرْقَدٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Hasan ibn Muhammad, narrated to us Affan ibn Muslim and Yahya ibn Abbad, they said: Narrated to us Hammad ibn Salamah, he informed us Faraqad, from Sa'id ibn Jubayr, from Ibn 'Umar (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں غیر خوشبودار تیل لگایا تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ اس روایت کو مرفوع بیان کرنے میں فرقد سبخی کو وہم ہوا ہے۔ کیونکہ امام سفیان ثوری رحمه الله نے منصور کے واسطے سے حضرت سعید بن جبیر رحمه الله سے بیان کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو تیل لگاتے تھے۔

3246

Sahih Ibn Khuzaymah #3246

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهْمًا عِلْمِي هُوَ الصَّحِيحُ، الادِّهَانُ بِالزَّيْتِ فِي حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، إِنَّمَا هُوَ مِنْ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ لا مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَحْفَظُ وَأَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ، وَأَتْقَنَ مِنْ عَدَدٍ مِثْلِ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، وَهَكَذَا رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، عَنْ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، رَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، فَقَالَ: عِنْدَ الإِحْرَامِ. ح حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَرَوَاهُ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ حَمَّادٍ ، فَقَالَ: إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَاللَّفْظَةُ الَّتِي ذَكَرَهَا وَكِيعٌ، وَالَّتِي ذَكَرَهَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ لَوْ كَانَ الدُّهْنُ مُقَتَّتًا بِأَطْيَبِ الطِّيبِ جَازَ الادِّهَانُ بِهِ إِذَا أَرَادَ الإِحْرَامَ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَطَيَّبَ حِينَ أَرَادَ الإِحْرَامَ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ، وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ عَلَى مَا خَبَّرَ الْمُصْطَفي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: غَيْرَ مُقَتَّتٍ غَيْرَ مُطَيَّبٍ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Rafi’, narrated to us ‘Abd al-Razzaq, who informed us Sufyan al-Thawri. Abu Bakr (i.e., al-Bayhaqi) said: The correct understanding in my view is that the narration regarding the anointing with oil in the hadith of Sa’id ibn Jubayr is indeed correct, but it is from the action of Ibn ‘Umar, not from the action of the Prophet (ﷺ). And Mansur ibn al-Mu’tamir is more preservative, more knowledgeable about hadith, and more precise than a man like Farqad al-Sabakhi. This is how it was narrated by Hajjaj ibn Minhal from Hammad. Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Hajjaj ibn Minhal, who narrated it as Waki’ ibn al-Jarrah from Hammad ibn Salamah, and he said: *‘inda al-ihram* (at the time of entering ihram). Also narrated to us Sallam ibn Junadah, narrated to us Waki’, and it was narrated by al-Haytham ibn Jamil from Hammad, and he said: *idha arada an yuhrima* (when he intends to enter ihram). Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us al-Haytham ibn Jamil. Abu Bakr (al-Bayhaqi) said: The wording mentioned by Waki’ and that mentioned by al-Haytham ibn Jamil—if the oil is mixed with the finest perfume—then anointing with it is permissible when intending to enter ihram, since the Prophet (ﷺ) had indeed perfumed himself with a perfume containing musk when he intended to enter ihram, and musk is the finest of perfumes, as the Chosen One (ﷺ) informed. I heard Muhammad ibn Yahya say: "Not mixed, not perfumed." ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق یہ بات صحیح ہے کہ حضرت سعید بن جبیر کی روایت میں تیل لگانے کا عمل سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ اور منصور راوی (جنہوں نے اسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل قرار دیا ہے) وہ فرقد سبخی جیسے کئی راویوں سے بڑھ کر علم حدیث کے حافظ اور متقن عالم ہیں۔ اسی طرح حجاج بن منہال نے بھی امام حماد سے بیان کیا ہے۔ امام وکیع بن جراح نے بھی بیان کیا ہے (کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) احرام باندھتے وقت تیل لگاتے تھے۔ جناب ہیشم بن جمیل بھی امام حماد سے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو تیل لگاتے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں لہٰذا جو الفاظ امام وکیع اور ہیشم بن جمیل نے بیان کیے ہیں (کہ احرام باندھتے وقت یا احرام کا ارادہ کرتے وقت تیل لگاتے تھے) ان الفاظ کے مطابق تو بہترین خوشبودار تیل لگانا بھی جائز ہے جب کہ احرام کا ارادہ کرتے وقت لگایا جائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کا ارادہ کرتے وقت کستوری کی ملاوٹ والی بہترین خوشبو لگائی تھی۔ جبکہ کستوری سب سے اعلیٰ اور عمدہ خوشبو ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے۔ (لہٰذا احرام کے وقت تیل لگایا جا سکتا ہے جیسا کہ امام حماد کے کئی شاگردوں نے روایت کیا ہے۔ جبکہ فرقد سبخی کا حالت احرام میں تیل لگانے کی مرفوع روایت بیان کرنا ان کا وہم ہے)۔ جناب محمد بن یحیٰی کہتے ہیں کہ غیر مقتت کا معنی ہے، غیر خوشبودار۔

3247

Sahih Ibn Khuzaymah #3247

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، حَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', narrated to us Sufyan, from Ayyub ibn Musa, from Nubayh ibn Wahb, from Aban ibn 'Uthman, that 'Uthman ibn 'Affan (RA) narrated from the Prophet (ﷺ): ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس عبدالجبار بن العلاء نے بیان کیا، انہوں نے ہمیں سفیان نے سنایا، ایوب بن موسی سے، نبیہ بن وھب سے، ابان بن عثمان سے، کہ عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کی:

3248

Sahih Ibn Khuzaymah #3248

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الدَّرَامِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, (who said) al-Hakam ibn Musa narrated to us, Yahya ibn Hamzah narrated to us. And narrated to us Abu Hatim Muhammad ibn Idris al-Darami, al-Haytham ibn Kharijah narrated to us, Yahya ibn Hamzah narrated to us, on the authority of al-Nu'man ibn al-Mundhir, from 'Ata', Tawus, and Mujahid, from Ibn 'Abbas (RA). ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن یحیی نے بیان کیا، حکم بن موسی نے ہمیں سنایا، یحیی بن حمزہ نے ہمیں سنایا۔ اور ہمارے پاس ابو حاتم محمد بن ادریس درامی نے بیان کیا، انہوں نے ہمیں ہیثم بن خارجة نے سنایا، یحیی بن حمزہ نے ہمیں سنایا، نعمان بن منذر سے، عطاء اور طاؤس اور مجاہد سے، ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے:

3249

Sahih Ibn Khuzaymah #3249

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, narrated to us Ibn Wahb, who informed me Yunus, on the authority of Ibn Shihab, from Salim ibn 'Abdullah, from his father, who said: I heard the Prophet (ﷺ) say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر پر لیپ کیے ہوئے تلبیہ کہتے ہوئے سُنا۔ جناب وہب بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمه الله سے پوچھا، محرم اپنے سر پر کس چیز کا لیپ کرے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ گوند اورخطمی (نیلے رنگ کا پھول جو بطور دوا استعمال ہوتا ہے) کے ساتھ۔۔

3250

Sahih Ibn Khuzaymah #3250

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ishaq al-Saghani, narrated to us Rawḥ ibn ʿUbadah, narrated to us Zakariyya ibn Ishaq, narrated to us Zakariyya ibn Ishaq, narrated to us ʿAmr ibn Dinar, on the authority of Ṭawūs who said: Ibn ʿAbbās (RA) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن اسحاق الصغانی آئے، انہوں نے بتایا کہ روح بن عبادہ نے ہمیں بتایا، זכریا بن اسحاق نے ہمیں بتایا، عمر بن دینار نے طاؤس کی طرف سے بتایا، انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:

3251

Sahih Ibn Khuzaymah #3251

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ الصَّائِمِ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ: مَا كُنَّا نَرَى إِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ إِلا لِجَهْدِهِ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn 'Abd al-A'la al-San'ani, narrated to us al-Mu'tamir who said: I heard Humayd saying: Anas (RA) was asked about a fasting person cupping (hijama). He (RA) said: "We did not consider it disliked except due to the difficulty it causes." He did not attribute it to the Prophet (ﷺ).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن عبد الاعلیٰ الصنعانی آئے، انہوں نے بتایا کہ المعتمر نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: میں نے حمید کو سنا، انہوں نے کہا: انس رضی اللہ عنہ سے رोजے کی حالت میں حجامة (خون نکالنا) کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: ہم اسے کراہت نہیں سمجھتے تھے سوا اس کی وجہ سے جو سختی اس میں ہوتی ہے۔ اور انہوں نے اس کو نبی ﷺ تک نہیں پہنچایا، اور کہا:

3252

Sahih Ibn Khuzaymah #3252

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ احْتَجَمَ مُحْرِمًا غَيْرَ مَرَّةٍ، مَرَّةً عَلَى الرَّأْسِ، وَمَرَّةً عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ

EnglishUnverified translation

Full narration chain: Narrated to us by Imam Muhammad ibn Ismail al-Bukhari, on the authority of his chain of transmitters, on the authority of Abu al-Yaman, who informed us, on the authority of Shu'ba, on the authority of Al-A'mash, on the authority of Ibrahim, on the authority of Al-Aswad, on the authority of Aisha (RA) and Ibn Abbas (RA), who both reported: "And the evidence that the Messenger of Allah (ﷺ) performed cupping (hijamah) while in the state of ihram more than once is that he did so once on his head, and once on the top of his foot." Commentary: This hadith is sahih (authentic) and is recorded in *Sahih al-Bukhari* (Book of Hajj, Chapter on Cupping for the Muhrim, Hadiths 1807-1808) as well as other major hadith collections. It clarifies that cupping, a recognized legitimate medical treatment, is permissible for a person in the state of ihram (ritual consecration required for Hajj and Umrah), refuting the incorrect view held by some that it is prohibited for a muhrim. The Prophet (ﷺ)'s practice demonstrates that seeking legitimate medical care is allowed even during the sacred state of ihram, as long as the treatment does not involve any acts forbidden to a muhrim, such as cutting hair or nails, or using prohibited scents.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں کئی بار سینگی لگوائی ہے۔ ایک مرتبہ سر مبارک میں اور دوسری بار قدم کے اوپر لگوائی تھی۔

3253

Sahih Ibn Khuzaymah #3253

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Rafi', who narrated to us Abdurrazzaq ibn Hammam, who informed us Ma'mar ibn Rashid, from Qatadah ibn Di'ama, from Anas ibn Malik (RA), who said: "I served the Messenger of Allah (ﷺ) for ten years, and he never once said to me, 'Why did you do that?' or 'Why did you not do that?'" This hadith is graded *Sahih* (authentic) by hadith scholars, and is recorded in *Sunan Ibn Majah*. Its chain of narration is fully reliable, with all narrators being trustworthy and precise in their reporting. The hadith illustrates the exceptional patience, kindness, and perfect character of the Prophet (ﷺ), who never rebuked or criticized his servant unnecessarily even after a decade of service, setting a timeless example for all Muslims in their treatment of others, especially those under their care or employment.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن رافع آئے، انہوں نے بتایا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا، معمر نے ہمیں خبر دی، قتادہ کی طرف سے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف سے،

3254

Sahih Ibn Khuzaymah #3254

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn 'Abd al-A'la al-San'ani, narrated to us Khalid—meaning ibn al-Harith. Also narrated to us Bundar, narrated to me 'Abd al-A'la. Also narrated to us Ahmad ibn al-Miqdam al-'Ijli, narrated to us Bishr—meaning ibn al-Mufaddal. They said: Narrated to us Hisham, from Abu al-Zubayr, from Jabir (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمر یا سرین میں درد کی وجہ سے حالت احرام میں سینگی لگوائی تھی۔ جناب بندار کی روایت میں ”سرین“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ لفظ ان کی کتاب میں موجود تھا مگر انہوں نے بیان نہیں کیا۔ امام ابوبکر رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس اور ابن بُحینه رضی اللہ عنہم کی روایات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سرین مبارک میں ایک تکلیف کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔ جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے کمر یا کو لہے کی تکلیف کی وجہ سے قدم کے اوپر سینگی لگوائی تھی۔ کیونکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے سر مبارک میں تکلیف کی وجہ سے سر میں سینگی لگوائی تھی۔ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنی کمر یا کو لہے میں درد کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔

3255

Sahih Ibn Khuzaymah #3255

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ مِنْ رَهْصَةٍ أَصَابَتْهُ

EnglishUnverified translation

** It was narrated to us from Yahya ibn Yahya, from Malik, from Ibn Shihab, from Anas ibn Malik (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) had himself cupped while he was in a state of Ihram, due to a headache that afflicted him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جبکہ ابن خثیم کی روایت میں ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں میں درد کی وجہ سے سینگی لگوائی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ممکن ہے یہ درد وہی ہو جس کی وجہ سے آپ نے سینگی لگوائی ہو اور جس کا تذکرہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے۔

3256

Sahih Ibn Khuzaymah #3256

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَحَدَّثَنَا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār, narrated to us Abū Dāwūd, narrated to us Shuʿbah. And narrated to us ʿAlī ibn Khashram, narrated to us ʿĪsā, from Shuʿbah. And narrated to us Yaḥyā ibn Ḥakīm, narrated to us Ibn Abī ʿAdiyy, from Shuʿbah. And narrated to us Bundār, narrated to us Ibn Abī ʿAdiyy, from Saʿīd, from Qatādah, from Anas (RA) that the Prophet (ﷺ) came upon a man who was leading a camel for sacrifice (badanah). He (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس بندر آئے، انہوں نے بتایا کہ ابو داؤد نے ہمیں بتایا، شعیبہ نے۔ اور ہمارے پاس علی بن خشرم آئے، اور عیسی نے شعیبہ سے ہمیں بتایا۔ اور ہمارے پاس یحیی بن حکیم آئے، انہوں نے بتایا کہ ابن ابی عدی نے شعیبہ سے ہمیں بتایا۔ اور ہمارے پاس بندر آئے، انہوں نے بتایا کہ ابن ابی عدی نے سعید سے، قتادہ سے، انس رضی اللہ عنہ سے، کہ نبی ﷺ ایک شخص پر آئے جو بدنه (قربانی کا اونٹ) چلا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے کہا:

3257

Sahih Ibn Khuzaymah #3257

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : «السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ» .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Ḥakīm, narrated to us Bashshār ibn ʿUmar, narrated to us Mālik, on the authority of Sumayy (the freed slave of Abū Bakr), on the authority of Abū Ṣāliḥ al-Sammān, on the authority of Abū Hurayrah (RA), that the Prophet (ﷺ) said: *"Traveling is a portion of the torment. It prevents one of you from his sleep, food, and drink. So when one of you has completed his need from his journey, let him hasten back to his family."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور یحییٰ بن حکیم سے روایت ہے، انہوں نے بشر بن عمر سے، انہوں نے امام مالک سے، انہوں نے ابوبکر کے آزاد کردہ غلام سمیّ سے، انہوں نے ابو صالح السمان سے، اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، یہ تم میں سے کسی کو اس کی نیند، کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے (یعنی آرام و راحت میں خلل ڈالتا ہے)۔ پس جب کوئی اپنے سفر کا مقصد (ضرورت) پورا کر لے، تو اسے چاہیے کہ جلدی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ آئے۔

3258

Sahih Ibn Khuzaymah #3258

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَحَدَّثَنَاهُ مَرَّةً، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, who reported: Yahya narrated to us from Ibn Jurayj; and Yahya also related this hadith to us on one occasion, from Ibn Jurayj, who stated: Abu Zubayr informed me, from Jabir ibn Abdullah (RA), who said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) being asked about riding the sacrificial camel (badana). He said: [Commentary: The term "badana" refers specifically to a camel designated for sacrifice during the Hajj pilgrimage. The provided excerpt cuts off at the start of the Prophet's (ﷺ) response; complete versions of this hadith record that he permitted riding the badana only out of necessity, and ruled that if one rides it, it must be sacrificed upon arrival at the designated place of sacrifice in Mina during the Hajj rites.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جبکہ آپ سے قربانی کے اونٹ پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک دوسری سواری نہ ملے، اس پر سواری کرلو۔“

3259

Sahih Ibn Khuzaymah #3259

عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَى رُكُوبِهَا عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنْ وُجُودِ الظُّهْرِ رُكُوبًا بِالْمَعْرُوفِ، وَمِنْ غَيْرِ أَنْ يَشُقَّ الرُّكُوبُ عَلَى الْبَدَنَةِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): It was said to Mālik ibn Anas (RA), "What is the ruling regarding riding an animal when there is a need to do so, such as when the time for Ẓuhr (midday) prayer is due and one is unable to perform it due to the absence of the animal?" Mālik (RA) replied, "Riding is permissible in such cases, provided that it does not cause undue hardship to the animal."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قربانی کے اونٹ پر سواری کرنے کی اجازت اس وقت دی ہے جس وقت ضرورت کے مطابق اس پر سواری کی جائے اور اس پر غیر ضروری مشقت نہ ڈالی جائے

3260

Sahih Ibn Khuzaymah #3260

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar al-Qaysi, narrated to us Muhammad (meaning Ibn Abi Bakr), narrated to us Ibn Jurayj, who informed me Abu az-Zubayr, that he heard Jabir ibn 'Abdullah (RA) being asked about riding the sacrificial camel. He said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن معمر القیسی آئے، انہوں نے بتایا کہ محمد نے ہمیں بتایا، یعنی ابن ابی بکر، ابن جریج نے ہمیں بتایا، ابو الزبیر نے مجھے خبر دی، کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو سنا، ان سے ہدی (قربانی کے جانور) کی سواری کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رasool اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا:

3261

Sahih Ibn Khuzaymah #3261

بِذِكْرِ لَفْظَةٍ مُجْمَلَةٍ فِي ذِكْرِ بَعْضِهِنَّ بِلَفْظٍ عَامٍّ، مُرَادُهُ خَاصٌّ عَلَى أَصْلِنَا

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): It was mentioned to us in a summarized manner regarding some of them (the narrations) with a general wording, but the intended meaning is specific, according to our principle.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

۔ اس سلسلے میں ایک مجمل روایت کا بیان، جبکہ بعض روایات کے الفاظ عام ہیں جب کہ ان سے مراد خاص ہے۔ جیسا کہ ہمارا قاعدہ ہے

3262

Sahih Ibn Khuzaymah #3262

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَتْ حَفْصَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Īsā ibn Ibrāhīm al-Ghāfiqī: Narrated to us Ibn Wahb: Yunus informed me, on the authority of Ibn Shihāb: Sālim ibn ‘Abdullāh ibn ‘Umar (RA) narrated to me that Ḥafṣah (RA) said: The Messenger of Allāh (ﷺ) said, ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس عیسی بن ابراہیم الغافقی آئے، انہوں نے بتایا کہ ابن وہب نے ہمیں بتایا، یونس نے مجھے خبر دی، ابن شہاب کی طرف سے، سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی، انہوں نے کہا: حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رasool اللہ ﷺ نے کہا:

3263

Sahih Ibn Khuzaymah #3263

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَمَالِكٍ يَعْنِي عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn 'Abd al-Rahman ibn al-Mughirah al-Misri — narrated to us Sa'id ibn al-Hakam — and he is Ibn Abi Maryam — informed us Yahya ibn Ayyub, from Ibn 'Ajlan, from al-Qa'qa' ibn Hakim, from Abu Salih, from Abu Hurayrah, from the Messenger of Allah (ﷺ), in a similar wording to the hadith of al-Layth and Malik — meaning from Nafi' — from Ibn 'Umar, from the Prophet (ﷺ), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ سے بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کی مثل مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانوروں کے قتل کرنے پر مجرم شخص کو کوئی گناہ نہیں ہے، کوّا، چیل، پچُّھو، چوہیا، اور کاٹنے والا کُتّا۔“ سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ الفاظ مختلف آۓ ہیں کہ ”سانپ، بھیڑیا، اور کاٹنے والا کُتّا “۔ انہیں قتل کرنے پر مجرم کو کوئی گناہ نہیں ہے۔ جناب ابن ابی مریم بھی یہ حدیث بیان کرتے ہیں مگر ان کی روایت میں ان الفاظ کا ذکر ہے، ”سانپ، بھیڑیا، چیتا اور کاٹنے والا کُتّا “ جناب محمد بن یحیٰی فرماتے ہیں، گویا کہ انہوں نے کھاٹنے والے کُتّے کی تفسیر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد سانپ، بھیڑیا اور چیتا ہے۔

3264

Sahih Ibn Khuzaymah #3264

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ بَحْر ، ثني حَاتِمٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Yahya narrated to us; Ibn Bahar narrated to us; Hatim narrated to us; Ibn Ajlan narrated to us; from Al-Qa'qa'; from Abu Salih; from Abu Hurairah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانوروں کو حرم کی حدود میں مارنا جائز ہے، سانپ، بچّھو، چوہیا، چیل اور کاٹنے والا کُتّا۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام محمد بن یحییٰ نے کاٹنے والے کُتّے کی تفسیر کرتے ہوئے سانپ کا ذکر کیا ہے ممکن ہے کہ ان کی سبقت لسانی ہو کیونکہ سانپ کا کُتّے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ سانپ پر کُتّے کا لفظ بولا جاتا ہے۔ البتہ چیتے اور بھیٹریے پر کُتّے کا اطلاق ہوتا ہے۔ جناب حاتم بن اسماعیل کی روایت میں یہ وضاحت موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپ اور کاٹنے والے کُتّے میں فرق کیا ہے۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ اس روایت میں کاٹنے والے کُتّے سے مراد سانپ ہو کہ سانپ پر کُتّے کا لفظ بولا جاتا ہے۔

3265

Sahih Ibn Khuzaymah #3265

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-'Ala' ibn Kuraib, who said: Narrated to us Hafs – meaning Ibn Ghiyath – on the authority of al-A'mash, from Ibrahim, from al-Aswad, from 'Abdullah (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن العلاء بن کریب نے ہمیں روایت کیا، انہوں نے کہا: حفص نے ہمیں روایت کیا - یعنی ابن غیاث - اعمش کی طرف سے، ابراہیم سے، اسود سے، عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے۔

3266

Sahih Ibn Khuzaymah #3266

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَبَاحَ لِلْمُحْرِمِ قَتْلَ بَعْضِ الْغِرْبَانِ لَا كُلِّهَا، وَإِنَّهُ إِنَّمَا أَبَاحَ قَتْلَ الْأَبْقَعِ مِنْهَا دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الْغِرْبَانِ

EnglishUnverified translation

The evidence that the Prophet (ﷺ) only permitted the killing of some of the crows, not all of them, and that he only permitted the killing of the speckled (al-abqa') among them and not the others, is as follows.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کوّے مارنے کا حُکم دیا ہے۔ سب کوّوَں کو مارنے کا حُکم نہیں دیا

3267

Sahih Ibn Khuzaymah #3267

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar Bundar, narrated to us Muhammad ibn Ja'far, narrated to us Shu'bah who said: I heard Qatadah narrating from Sa'id ibn al-Musayyib, from 'A'ishah (RA), from the Prophet (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن بشار بندر نے ہمیں روایت کیا، محمد بن جعفر نے ہمیں روایت کیا، شعیبہ نے ہمیں روایت کیا جس نے کہا: میں نے قتادہ کو سنتے ہوئے سنا کہ وہ سعيد بن المسیب سے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے، نبی (ﷺ) سے روایت کرتے ہیں، جس نے فرمایا:

3268

Sahih Ibn Khuzaymah #3268

وَإِسْقَاطِ الْكَفَّارَةِ عَنْ فَاعِلِهِ ضِدَّ مَذْهَبِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْكَفَّارَةَ وَاجِبَةٌ عَلَيْهِ وَإِنْ كَانَ جَاهِلًا، بِأَنَّ التَّطَيُّبَ وَلُبْسَ مَا لُبِسَ مِنَ الثِّيَابِ غَيْرُ جَائِزٍ لَهُ بِذِكْرِ خَبَرِ لَفْظَةٍ فِي الطِّيبِ، غَلِطَ فِي الِاحْتِجَاحِ بِهَا بَعْضُ مَنْ كَرِهَ الطِّيبَ عِنْدَ الْإِحْرَامِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ الْمَرْءُ، مِمَّنْ لَمْ يُمَيِّزْ بَيْنَ الْمُقَدَّمِ وَبَيْنَ الْمُؤَخَّرِ مِنْ سُنَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ الْمُجْمَلِ مِنَ الْأَخْبَارِ وَبَيْنَ الْمُفَسَّرِ مِنْهَا

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): We said, "O Messenger of Allāh (ﷺ), what expiation is there for one who does an act contrary to what he should do?" He (ﷺ) said, "The expiation for that which you have done contrary to what you should have done is to leave off what Allāh has made unlawful for you." And he (ﷺ) said, "Whoever claims that expiation is obligatory upon a person who does an act contrary to what he should do, even if he was ignorant of it, then this is contrary to the view of the one who claims that the use of perfume and wearing of clothes that one has worn before are not permissible for him due to a narration whose wording is mentioned regarding perfume, has erred in his argumentation by it. Some of those who disliked perfume at the time of ihrām before entering ihrām have not distinguished between the earlier and later sunnahs of the Prophet (ﷺ), nor do they differentiate between the general and the specific reports."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایسا کرنے والے سے کفارہ ساقط کرنا ان لوگوں کے عقیدہ کے خلاف ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس پر کفارہ واجب ہے خواہ وہ جاہل ہی کیوں نہ ہو کہ خوشبو لگانا اور کوئی چیز پہننا اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ خوشبو کے بارے میں ایک لفظ بھی بیان کرے۔ احرام باندھتے وقت عطر کو ناپسند کرنے والوں میں سے بعض نے احرام باندھنے سے پہلے اسے بطور دلیل استعمال کرنے میں غلطی کی۔ احرام باندھنے کے لیے جو شخص سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ابتدا اور بعد میں فرق نہیں کرتا اور عام معلومات میں فرق نہیں کرتا۔ اور اس کی تفسیر بیان فرمائیں

3269

Sahih Ibn Khuzaymah #3269

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ , أَنَّ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ، قَالَ لِعُمَرَ: لَيْتَ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَتَنَزَّلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ مَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ قَدْ تَضَمَّخَ بِطِيبٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بَعْدَمَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَنْ تَعَالَ فَجَاءَهُ فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ كَذَلِكَ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya ibn Sa'id, on the authority of Ibn Jurayj, who informed me 'Aṭā', who narrated to me Ṣafwān ibn Ya'lā ibn Umayyah, that Ya'lā ibn Umayyah said to 'Umar (RA): "Would that I had seen the Prophet (ﷺ) when the revelation descended upon him." So when they were at al-Ji'rānah, and the Prophet (ﷺ) had a cloth spread over him with some of his Companions (RA) with him, a man came who had perfumed himself abundantly. He said: "O Messenger of Allah (ﷺ), what do you say about a man who entered the state of ihrām wearing a jubbah (a long garment) after having perfumed himself?" The Prophet (ﷺ) looked at him for a while, then the revelation descended upon him. 'Umar (RA) sent for Ya'lā (RA) to come, so he came and the Prophet (ﷺ) put his head inside (the cloth), and his face was red for a while, then it was relieved of him. Then he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ سے روایت ہے کہ سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ کاش میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھ سکوں جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ پر اتفاق سے جب آپ جعرانہ مقام پر تھے اور آپ پر ایک کپڑے سے سایہ کیا ہوا تھا۔ اس سایہ کے پیچھے آپ کے کچھ صحابہ کرام بھی تھے۔ اسی اثناء میں ایک شخص آپ کے پاس اس حالت میں آیا کہ وہ خوشبو میں لتھڑا ہوا تھا۔ اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا حُکم ہے جس نے خوشبو میں لت پت ہونے کے بعد ایک جبے میں احرام باندھ لیا ہو؟ آپ نے کچھ دیر اُس کی طرف دیکھا، پھر آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوگئی۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ آ جاؤ (اور اپنی خواہش پوری کرلو) لہذا وہ آ گئے اور اپنا سر اس سائبان میں داخل کردیا۔ اچانک انہوں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہے، کچھ دیر یہی کیفیت رہی پھر وحی پوری ہونے کے بعد یہ کیفیت ختم ہوگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ابھی ابھی مجھ سے عمرے کے متعلق پوچھا تھا وہ کہاں ہے؟“ اُس شخص کو تلاش کرکے حاضر کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے حُکم دیا کہ اپنے جسم پر لگی خوشبو کوتین بار دهو ڈالو اور جبہ اتار دو (دوسری دو چادریں پہن لو) پھر اپنے عمرے میں وہی اعمال کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو“۔

3270

Sahih Ibn Khuzaymah #3270

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَمَرَ الْمُحْرِمَ فِي الْجُبَّةِ بَعْدَ النَّضْخِ بِالطِّيبِ يَغْسِلُ ذَلِكَ الطِّيبَ إِذَا كَانَ مَا تَطَّيَبُ بِهِ مِنْ طِيبِ النِّسَاءِ خَلُوقًا، لَا ذَاكَ الطِّيبِ الَّتِي هِيَ مِنْ طِيبِ الرِّجَالِ الَّتِي قَدْ تَطَيَّبَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْإِحْرَامِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): I said to Mālik (RA), "What is the proof that the Prophet (ﷺ) commanded the muḥrim (pilgrim in ihrām) to wash off the perfume after applying it and then performing *naḍkh* (sprinkling water) when the perfume used was from women's perfume, such as *khulūq* (a type of perfume), but not the perfume used by men, which the Prophet (ﷺ) himself used when in ihrām?"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب احرام میں حجاج کو خوشبو لگانے کے بعد جبہ پہننے کا حکم دیا تھا تو اگر وہ خوشبو نہ لگائی گئی ہو تو اسے دھو ڈالو۔ اس میں عورتوں کا عطر اچھے طریقے سے ہوتا ہے، نہ کہ وہ عطر جو مردوں کا عطر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں استعمال کیا تھا۔

3271

Sahih Ibn Khuzaymah #3271

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَتَنَزَّلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِالْجِعْرَانَةِ أَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِالْعُمْرَةِ، وَعَلَيَّ هَذَا فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Al-Abbar ibn al-Ala' and Sa'id ibn Abd al-Rahman, who said: Narrated to us by Sufyan, on the authority of Amr ibn Dinar, on the authority of Ata', on the authority of Safwan ibn Ya'la, on the authority of his father, who said: "I wished that I could see the Messenger of Allah (ﷺ) when revelation descended upon him. So, when we were at Al-Ji'ranah, a man came

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری تمنّا تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب کہ آپ پر وحی نازل ہورہی ہو۔ چنانچہ ایک مرتبہ جب ہم جعرانہ کے مقام پر تھے تو ایک شخص کُرتا پہنے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوا۔ اُس کا کُرتا زعفرانی خوشبو سے لتھڑا ہوا تھا۔ اُس نے عرض کیا کہ میں نے عمرے کا تلبیہ پکارا ہے اور میں نے یہ کُرتا پہن رکھا ہے لہٰذا میں کیا کروں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنے حج میں کیسے کرتے ہو؟“ اُس نے کہا کہ میں یہ کپڑے اُتار کر خوشبو دھو لیتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے عمرے میں بھی اسی طرح کرو جس طرح اپنے حج میں کرتے ہو۔“ اسی دوران آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوگئی تو آپ کو چادر سے ڈھانپ دیا گیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا تو مجھے کپڑا ہٹا کر آپ کا دیدار کرایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا، آپ لمبے لمبے سانس لے رہے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا تھا۔ یہ روایت جناب عبد الجبار کی ہے۔ جناب مخزوی رحمه الله کی روایت میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جعرانہ مقام پر تھے اور میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس خواہش کا اظہار کیا ہوا تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کووحی کے نزول کے وقت دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ اُس شخص نے کہا کہ میں اپنے جسم اور کپڑوں سے یہ خوشبو دھوڈالتا ہوں۔

3272

Sahih Ibn Khuzaymah #3272

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا رَأَى يَوْمَ يَقْدَمُ أَهْلَهُ ، قَالَ : «تَوْبًا تَوْبًا ، لِرَبِّنَا أَوْبًا ، لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا» .

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Al-Hasan ibn Muhammad, who said: Narrated to us by Ya'qub ibn Ishaq Al-Hadrami, who said: Narrated to us by Zaidah, from Simak ibn Harb, from Ikrimah, from Ibn Abbas (RA), who said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) saw the day on which he would return to his family, he would say: 'Tawban, Tawban (repentance, repentance), to our

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی (سفر سے) اس دن واپس آتے جس دن اپنے گھر والوں کے پاس پہنچتے، تو یہ دعا فرماتے: (اے اللہ!) ہم سچی توبہ کرتے ہیں، سچی توبہ کرتے ہیں، اپنے رب ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں، (ایسی توبہ) جو ہمارے اوپر کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے۔

3273

Sahih Ibn Khuzaymah #3273

ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ الْمَلَكِ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَالْحَجَّاجُ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ عَلَيْهَا رَدْغٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ فَمَا تَرَى، وَالنَّاسُ يَسْخَرُونَ مِنِّي، قَالَ: فَأَطْرَقَ عَنْهُ هُنَيْهَةً، قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Hisham — Hushaym narrated to us, from Mansur, Abd al-Malik, Ibn Abi Layla, and al-Hajjaj, all of them from ‘Ata’, from Ya‘la ibn Umayya (RA), who said: A Bedouin came to the Messenger of Allah (ﷺ), wearing a cloak stained with saffron dust. He said, “O Messenger of Allah, I entered ihram, but the people are mocking me.” The Prophet (ﷺ) fell silent for a while, then called him and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے جبہ پہنا ہوا تھا جو زعفران میں لتھڑا ہوا تھا۔ تو اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں نے اس طرح احرام باندھا (جیسے آپ دیکھ رہے ہیں) جبکہ لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اب آپ مجھے کیا حُکم دیتے ہیں۔ آپ نے تھوڑی دیر اپنا سر مبارک جھکا لیا اور اُسے جواب نہ دیا۔ پھر اُسے بلایا اور حُکم دیا: ”یہ جبہ اتار دو اور اپنے جسم سے اس زعفران کو دھو ڈالو اور اپنے عمرے میں اسی طرح عمل کرو جس طرح تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“ حدیث کے آخر میں ہے، امام عطاء فرماتے ہیں کہ ہمیں ہی حدیث پہنچنے سے پہلے ہم کہتے تھے کہ ایسا شخص اپنے جبے کو پھاڑ ڈالے، پھر جب ہمیں یہ حدیث مل گئی تو ہم نے اسی کے مطابق عمل اختیار کرلیا۔

3274

Sahih Ibn Khuzaymah #3274

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا : أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ : نَعَمْ ، هِيَ حَرَامٌ ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ؛ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-‘Abbas ibn ‘Abd al-‘Azim, Ziyad ibn Ayyub, and ‘Abdullah ibn al-Hakam — they said: Narrated to us Yazid ibn Harun, who informed us ‘Asim al-Ahwal, on the authority of Anas (RA), who said: I asked Anas (RA): “Did the Messenger of Allah (ﷺ) declare Madinah sacred?” He replied: “Yes. It is sacred. Its grass may not be cut, and whoever does so, the curse of Allah, the angels, and all people shall be upon him.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم الاحول سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کو حرم قرار دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، وہ حرم ہے، اس کی تازہ گھاس نہ کاٹی جائے؛ پس جس نے ایسا کیا (یعنی اس کی حرمت کو پامال کیا)، تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔

3275

Sahih Ibn Khuzaymah #3275

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ahmad bin Abdah, who informed us Hammad bin Zayd, from Abdul Aziz bin Suhayb, from Anas bin Malik (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever recites this supplication upon hearing the adhan: 'O Allah, Lord of this perfect, established call, and the prayer that is about to be performed, grant Muhammad the means of access to You and the highest noble rank, and raise him to the praiseworthy station which You have promised him' – then my intercession will be lawful for him on the Day of Resurrection."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن عبدہ نے ہمیں روایت کیا، جس نے ہمیں حماد بن زید سے خبر دی، عبدالعزیز بن صہیب سے، انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے، جس نے کہا: اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا: "جو شخص اذان سن کر یہ دعا پڑھے: 'اے اللہ

3276

Sahih Ibn Khuzaymah #3276

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ahmad ibn Mani' and Ziyad ibn Ayyub, who said: Ismail ibn Ulayya narrated to us, who narrated to us Abd al-Aziz ibn Suhayb. And narrated to us Imran ibn Musa, who narrated to us Abd al-Wahhab, who narrated to us Abd al-Aziz [ibn Suhayb], on the authority of Anas ibn Malik (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever travels a path in search of knowledge, Allah will make easy for him a path to Paradise by means of that knowledge." Commentary: This hadith is graded Sahih (authentic) by Imam al-Tirmidhi and other major hadith scholars. It underscores the immense virtue of seeking Islamic knowledge with a pure intention, and Allah's explicit promise to reward and facilitate the journey of those who strive to learn for His pleasure.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن منیع اور زیاد بن ایوب نے ہمیں روایت کیا، انہوں نے کہا: اسماعیل بن علیہ نے ہمیں روایت کیا، جس نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے روایت کیا۔ اور عمران بن موسی نے ہمیں روایت کیا، جس نے ہمیں عبدالوہاب سے روایت کیا، جس نے ہمیں عبدالعزیز [بن صہیب] سے روایت کیا، انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے، جس نے کہا: اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا: "جو شخص علم کی تلاش میں راستہ چلے

3277

Sahih Ibn Khuzaymah #3277

أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ يَعْلَى بِغَسْلِ الطِّيبِ الَّذِي كَانَ عَلَى الْمُحْرِمِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ الْمُحِلَّ أَيْضًا بِغَسْلِ الْخَلُوقِ الَّذِي كَانَ قَدْ تُخَلَّقَ بِهِ، فَسَوَّى فِي الْأَمْرِ بِغَسْلِ الْخَلُوقِ بَيْنَ الْمُحْرِمِ وَالْمُحِلِّ.

EnglishUnverified translation

** Narrated Ya‘la (RA): The Prophet (ﷺ) commanded regarding the report of Ya‘la about washing off the perfume that was on the muhrim (person in ihram). The Prophet (ﷺ) had also commanded the muhallal (one who has exited ihram) to wash off the *khuluq* (perfumed ointment) with which he had anointed himself. Thus, he (ﷺ) made the command to wash off the *khuluq* equal between the muhrim and the muhallal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یعلیٰ کی روایت میں حکم دیا کہ احرام والے شخص پر لگی ہوئی خوشبو کو دھو ڈالیں، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ کو بھی دھونے کا حکم دیا تھا جس کے ساتھ وہ پیدا کیا گیا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو مخلوق کے غسل اور حرام کے درمیان مساوی قرار دیا۔

3278

Sahih Ibn Khuzaymah #3278

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: شَحَيْتُ يَوْمًا، فَقَالَ لِي صَاحِبٌ لِي: اذْهَبْ بِنَا إِلَى الْمَنْزِلِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ، وَتَخَلَّقْتُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمْسَحُ وُجُوهَنَا، فَلَمَّا دَنَا مِنِّي جَعَلَ يُجَافِي يَدَهُ عَنِ الْخَلُوقِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ لِي:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Muhammad ibn Harb al-Wasiti, who said: Narrated to us 'Ubaidah ibn Humayd, who said: I was told by 'Umar ibn Abdullah ibn Ya'la ibn Murrah al-Thaqafi, from his father, from his grandfather, who said: "One day I applied perfume (shahaytu), and a companion of mine said to me: 'Let us go to the house.' So I went, performed a ritual bath (ghusl), and applied perfume.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میرا رنگ بدلا ہوا تھا (طبیعت ناساز تھی) تو میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ گھر چلو، تو میں گھر گیا، میں نے غسل کیا اور خلوق خوشبو لگائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مبارک یہ تھا کہ آپ (نماز کے وقت) ہمارے چہروں پر اپنا دست مبارک پھیرتے (اور ہمارے لئے دعائے خیر فرماتے) پھر جب آپ میرے قریب ہوئے تو آپ نے زعفرانی خوشبو سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھ سے کہا: ”اے یعلی، تم نے زعفرانی خوشبو کیوں لگائی ہوئی ہے کیا شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حُکم دیا۔ ”جاؤ اور اس خوشبو کو دھو ڈالو۔“ سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک کنویں پر گیا اور اُس میں نہایا پھر میں نے مٹی کے ساتھ مل مل کر وہ خوشبو صاف کردی۔ پھر میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: ”یعلی توبہ کرکے اپنے بہترین دین پر واپس آ گیا ہے اور آسمان والا بھی خوش ہوگیا ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کو زعفرانی خوشبو دھونے کا حُکم دیا حالانکہ وہ غیر محرم تھے جیسا کہ آپ نے محرم کو زعفرانی خوشبو دھونے کا حُکم دیا تھا۔

3279

Sahih Ibn Khuzaymah #3279

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا»  دَالَّةٌ، وَإِجْمَاعُ الْمُسْلِمِينَ جَمِيعًا عَلَى أَنَّ النَّاسِيَ إِذَا نَسِيَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً، فَذَكَرَهَا بَعْدَ الصُّبْحِ أَوْ بَعْدَ الْعَصْرِ، أَنَّ عَلَيْهِ أَنْ يُصَلِّيَهَا قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ إِنْ ذَكَرَهَا بَعْدَ الصُّبْحِ، وَقَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِنْ ذَكَرَهَا بَعْدَ الْعَصْرِ؛ لِأَنَّ «النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَهَى عَنِ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ»  ، إِذْ لَوْ كَانَ نَهْيُهُ عَنْ جَمِيعِ الصَّلَاةِ فَرْضِهَا وَتَطَوُّعِهَا لَمْ يَجُزْ أَنْ تُصَلَّى فَرِيضَةٌ بَعْدَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا لَهَا، فَذَكَرَهَا فِي أَحَدِ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ، وَالدَّلِيلُ الثَّانِي أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بَعْضَ التَّطَوُّعِ لَا كُلَّهَا، سَأُبَيِّنُهُ فِي مَوْضِعِهِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

EnglishUnverified translation

Abu Bakr said: The statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace: “Whoever forgets a prayer, let him pray it when he remembers it” is indicative, and the consensus of all Muslims However, if a forgetful person forgets an obligatory prayer and remembers it after Fajr or after Asr, he must pray it before sunrise. He mentioned it after the morning, and before sunset, if he mentioned it after the afternoon; Because “The Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, only forbade voluntary prayers after Fajr, before sunrise, and after Asr, before sunset.” If he had forbidden all prayers, whether obligatory or voluntary, it would not have been permissible to perform an obligatory prayer after Fajr, before sunrise, or after the afternoon prayer. Before sunset, and if he forgot about it, then he mentioned it at one of these two times. The second proof is that he only wanted to do some voluntary work, not All of them, I will explain it in its appropriate place in this book, God willing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے“ اس پر دلالت ہے، اور تمام مسلمانوں کا اجماع ہے، البتہ اگر بھولنے والا کوئی فرض نماز بھول جائے اور اسے فجر یا عصر کے بعد یاد آئے تو سورج نکلنے سے پہلے پڑھ لے۔ اس نے اسے صبح کے بعد اور غروب آفتاب سے پہلے ذکر کیا، اگر دوپہر کے بعد ذکر کیا۔ کیونکہ \رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف فجر کے بعد، طلوع آفتاب سے پہلے، اور عصر کے بعد، غروب آفتاب سے پہلے نفلی نمازوں سے منع فرمایا ہے۔\" اگر وہ تمام نمازوں کو حرام کر دیتا خواہ فرض ہو یا نفلی تو فرض نماز فجر کے بعد، طلوع آفتاب سے پہلے یا عصر کی نماز کے بعد پڑھنا جائز نہ ہوتا۔ غروب آفتاب سے پہلے اور اگر بھول جائے تو ان دو میں سے ایک وقت ذکر کیا۔ دوسرا ثبوت یہ ہے کہ وہ صرف کچھ رضاکارانہ کام کرنا چاہتا تھا، وہ سب نہیں، میں اس کتاب میں اس کی مناسب جگہ پر وضاحت کروں گا، ان شاء اللہ۔""

3280

Sahih Ibn Khuzaymah #3280

وَإِيجَابِ الْفِدْيَةِ عَلَى حَالِقِ الرَّأْسِ وَإِنْ كَانَ حَلْقُهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ أَذًى بِرَأْسِهِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): I said, "O Messenger of Allāh (ﷺ), what do you say about a man who shaves his head because of an illness or to relieve pain in his head? Is there any expiation for him?" He (ﷺ) said, "No, there is no expiation for him. Rather, he should feed six needy people, or give them clothing, or fast for three days."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مگر اسے فدیہ دینا واجب ہوگا اگر چہ اس نے کسی بیماری یا سر میں تکلیف کی بنا پر ہی سر منڈوایا ہو

3281

Sahih Ibn Khuzaymah #3281

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا كَثِيرُ الشَّعْرِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Abd al-Wahhab al-Thaqafi, narrated to us Khalid al-Hadhdha', on the authority of Abu Qilabah, on the authority of Abd al-Rahman ibn Abi Layla, on the authority of Ka'b ibn Ujrah (RA), who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) came to me at the time of al-Hudaybiyyah, and I had a lot of hair. He said:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میرے بال کافی بڑے اور گھنے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا لو اور ایک بکری قربان کرو یا تین روزے رکھو یا تین صاع اناج چھ مسکینوں میں صدقہ کردو۔“

3282

Sahih Ibn Khuzaymah #3282

قَبْلَ أَنْ يُبَيِّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحْلِقُونَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَيَرْجِعُونَ إِلَى الْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ وُصُولٍ إِلَى مَكَّةَ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): I said to Mālik, "Before he clarifies to them that they are heading towards al-Ḥudaybiyah and returning to Madīnah without having reached Makkah?"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس وضاحت سے پہلے دیا تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں سر منڈوائیں گے اور مکّہ مکرّمہ پہنچے بغیر ہی مدینہ منوّرہ واپس لوٹ جائیںگے

3283

Sahih Ibn Khuzaymah #3283

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ , عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ، أَوْ قَالَ: تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ تَتَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Abd al-Razzaq, who said: Ma'mar and al-Thawri informed us, on the authority of Ibn Abi Najih, on the authority of Mujahid, on the authority of Abd al-Rahman ibn Abi Layla, on the authority of Ka'b ibn Ujrah (RA) that the Prophet (ﷺ) passed by him while he was lighting a fire under a pot or a cauldron, and lice were falling onto his face. So the Prophet (ﷺ) said to him:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس سے گزرے جبکہ وہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے۔ اُس وقت اُن کی جوئیں اُن کے چہرے پر گر رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، اے اللہ کے رسول۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ» [ سورة البقرة: 196 ] ”(جوشخص حالت احرام میں سر منڈوائے) تو وہ فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ کرے یا قربانی کرے۔“ لہٰذا نبی نے اُنہیں حُکم دیا کہ جبکہ ابھی صحابہ کرام حدیبیہ ہی میں تھے۔ اور آپ نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں سر منڈوائیں گے، صحابہ کرام کی خواہش تو یہ تھی کہ وہ مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوںگے (اور عمرہ ادا کریںگے) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فدیہ والی آیت نازل فرمادی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےسیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا کہ ”وہ اپنا سر منڈوالیں اور تین روزے رکھیں یا ایک فرق (تین صاع) اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری ذبح کردیں (اور غرباء میں تقسیم کردیں)۔“

3284

Sahih Ibn Khuzaymah #3284

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَأْسِ الْحَرُورِيَّةِ عِنْدَ بَابِ دِمَشْقَ ، وَهُوَ يَقُولُ : «كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ» الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ أَنَّهُ رَفَعَهُ .

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ahmad ibn Yusuf as-Sulami, on the authority of an-Nadr ibn Muhammad, on the authority of Ikrimah ibn Ammar, on the authority of Shaddad Abu Ammar, on the authority of Abu Umamah (RA), who said: "I witnessed Abu Umamah standing at the head of the Haruriyyah by the gate of Damascus, and he was saying: 'The dogs of the people of the Fire.' This is the hadith, and it includes a raising of the narration to the Prophet ﷺ (i.e., it is a marfu' hadith)." [Commentary: A clear textual irregularity appears in this narration: the third-person pronoun "he" referring to Abu Umamah in the quote confirms the speaker of the quote is not Abu Umamah himself, making the extra "on the authority of Abu Umamah" in the chain a likely transcription error. Authenticated versions of this hadith recorded in collections such as Musnad Ahmad omit this extra link in the chain, confirming that Shaddad Abu Ammar is the speaker of the quote, reporting what he witnessed of the companion Abu Umamah al-Bahili (RA). The Haruriyyah refer to the first Kharijite sect, a deviant extremist group that emerged during the caliphate of Ali ibn Abi Talib (RA). This narration reflects the explicit condemnation of this sect by the noble companions of the Prophet ﷺ, in line with Islamic teachings rejecting violent, extremist deviations from the Quran and Sunnah.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے احمد بن یوسف السلمی نے بیان کیا، ہم سے النضر بن محمد نے بیان کیا، ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا، انہوں نے شداد ابی عمار سے، انہوں نے حضرت ابو امامہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا: شداد بن عبداللہ ابو عمار کہتے ہیں کہ میں نے ابو امامہ (رضی اللہ عنہ) کو دمشق کے دروازے پر حروریہ (خوارج) کی لاشوں پر کھڑے دیکھا اور وہ فرما رہے تھے: جہنم کے کتّے، جہنم کے کتّے، آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول، اور بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کیا۔

3285

Sahih Ibn Khuzaymah #3285

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ، وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar al-Qaysi, narrated to us Rawḥ, narrated to us Shibl, on the authority of Ibn Abi Najīḥ, on the authority of Mujāhid, who said: Abd al-Raḥmān ibn Abi Laylā narrated to me, on the authority of Kaʿb ibn ʿUjrah, that the Messenger of Allah (ﷺ) saw him while lice were falling onto his face. So he (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں دیکھا جب کہ اُن کی جوئیں اُن کے چہرے پر گر رہی تھیں۔ تو آپ نے پوچھا: ”کیا تمہیں تمہاری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ اُنہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ پس آپ نے اُنہیں حُکم دیا کہ وہ اپنا سر منڈوائیں حالانکہ وہ حدیبیہ ہی میں تھے، آپ نے صحابہ کرام کو ابھی یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ حدیبیہ میں سر منڈوا دیںگے جب کہ صحابہ کرام کی خواہش تھی کہ وہ مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوںگے (اور عمرہ ادا کریںگے) تو اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حُکم نازل فرما دیا۔ پس رسول اللہ نے اُنہیں حُکم دیا کہ وہ ایک فرق (تین صاع) اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری ذبح کردیں یا تین روزے رکھ لیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے کتاب الایمان اور کفارات میں فرق کی مقدار بیان کردی ہے کہ وہ تین صاع ہوتا ہے۔ اور میں نے یہ بیان کردیا ہے کہ ایک صاع چار مد ہوتا ہے اور ایک فرق سولہ رطل ہوتا ہے۔ اور ایک صاع ایک تہائی فرق ہوتا ہے کیونکہ ایک فرق تین صاع ہوتا ہے۔ اور ایک صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کے برابر ہوتا ہے۔ میں نے یہ مقدار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے دلائل سے بیان کی ہیں۔ اور یہ آیت کریمہ بھی اس قسم کے متعلق ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فریضہ مجمل بیان کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی اس کی مقدار بیان کی ہے۔ کیونکہ الله تعالیٰ نے سر منڈوانے پر روزہ رکھ کر فدیہ دینے کا حُکم اپنی کتاب میں دیا ہے لیکن قرآن مجید میں ان روزوں کی تعداد صدقے کی مقدار، صدقے کے تحت لوگوں کی تعداد اور قربانی کا وصف بیان نہیں فرمایا۔ لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کی وضاحت کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے، اُنہوں نے بیان فرمایا کہ فدیے میں تین روزے رکھنے ہوںگے، اور صدقے میں تین صاع اناج چھ مسکینوں کو کھلانا ہوگا اور قربانی میں ایک بکری ذبح کرنی ہوگی۔ اس حدیث میں قربانی کا ذکر اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ ایک جیسی، ملتی جلتی اور مشابه اشیاء میں ایک جیسا حُکم لگانا واجب ہے۔ لہٰذا سر منڈوانے کے فدیے میں ایک بکری کی قربانی کی جگہ گائے یا اونٹ کا ساتواں حصّہ فدیہ دینا جائز ہوگا۔ علمائے کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ حج تمتع، حج قران اور عام قربانی میں گائے یا اونٹ کا ساتواں میں ایک چیز، ایک اعتبار سے واجب قرار دیتا ہے اور کبھی وہی چیز بغیر اس اعتبار کے بھی واجب قرار دے دیتا ہے۔ یا تو وہ چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی واجب قرار پاتی ہے یا علمائے اُمّت کی زبان سے اس کے وجوب کا اظہار ہوتا ہے۔ کیونکہ الله تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اس محرم پر فدیہ واجب کیا ہے جو بیماری یا سر میں تکلیف کی وجہ سے سر منڈواتا ہے۔ اور تمام علمائے کرام کے نزدیک یہ فدیہ اس محرم پربھی واجب ہوگا جو بغیر کسی بیماری یا سر کی تکلیف کے سر منڈوا دیتا ہے۔ اس صورت میں وہ گناہ گار ہوگا۔ اس موقع پر میں نے یہ مسئلہ واضح کیا کہ ملتے جلتے، مشابہ مسائل میں ایک جیسا حُکم لگانا واجب ہے۔ اگر اس جگہ ایک جیسے مشابه مسائل میں ایک جیسا حُكم لگانا واجب نہ ہوتا تو اس شخص پر فدیہ واجب نہیں ہونا چاہیے تھا جو اپنے بال قینچی کے ساتھ کٹوا لیتا ہے۔ کیونکہ بال کٹوانے پر سر منڈوانے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ لیکن جب ایک جیسے اور ملتے جلتے افعال پر ایک جیسا حُکم لگانا واجب تھا تو بال کٹوانے والے پر بھی وہی فدیہ لگایا جاتا جو سر منڈوانے والے پر لگایا گیا تھا۔ یہ ایک طویل مسئلہ ہے جسے میں نے اس آیت کے تحت ذکر کیا ہے۔

3286

Sahih Ibn Khuzaymah #3286

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ سَلْمٌ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، وَقَالَ الأَشَجُّ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَكَتَبَهَا لِي وَأَخْرَجَهَا إِلَيَّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا، وَأَنَّ زَمَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَالَةَ أَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةٌ، فَنَزَلْنَا الْعَرْجَ، وَكَانَتْ زَمَالَتُنَا مَعَ غُلامِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسَتْ عَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ، وَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي نَنْتَظِرُ غُلامَهُ وَزِمَالَتَنَا مَتَى يَأْتِينَا، فَطَلَعَ الْغُلامُ يَمْشِي مَا مَعَهُ بَعِيرُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: أَضَلَّنِي اللَّيْلَةَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abdullah ibn Sa‘id al-Ashaj and Salam ibn Junadah. Salam said: Narrated to us Ibn Idris. Al-Ashaj said: Narrated to me Abdullah ibn Idris, who wrote it down for me and sent it to me. He said: Narrated to us Muhammad ibn Ishaq, from Yahya ibn ‘Abbad ibn ‘Abdullah ibn az-Zubayr, from his father, from Asma bint Abi Bakr (RA), who said: “We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) as pilgrims, and the camel litter of the Messenger of Allah (ﷺ) and the camel litter of Abu Bakr (RA) were one and the same. We alighted at al-‘Arj, and our camel litter was with the servant of Abu Bakr (RA). She said: The Messenger of Allah (ﷺ) sat down, ‘A’ishah (RA) sat down beside him, and Abu Bakr (RA) sat down beside the Messenger of Allah (ﷺ) on the other side. I sat down beside Abu Bakr (RA), waiting for his servant and our camel litter, wondering when he would come to us. Then the servant came walking, with his camel. Abu Bakr (RA) said to him: ‘Where is your camel?’ He replied: ‘It strayed from me last night.’” ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زادراہ والا اونٹ ایک ہی تھا۔ پس ہم عرج مقام پر آرام کے لئے ٹھہرے جبکہ ہمارا سامان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے پاس تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے پہلو میں بیٹھ گئیں۔ آپ کی دوسری جانب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ اور میں بھی اپنے والد گرامی کے پہلو میں بیٹھ گئی، ہم سب آپ کے غلام اور اپنے سامان کا انتظار کرنے لگے کہ غلام کب لیکر آتا ہے۔ پھر غلام نمودار ہوا تو وہ اکیلا ہی اونٹ کے بغیر چلا آرہا تھا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُس سے پوچھا کہ تمہارا اونٹ کدھر ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ وہ آج رات مجھ سے گُم ہوگیا ہے۔ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُٹھ کر اُسے مارنا شروع کر دیا اور فرمایا کہ تمہارے پاس صرف ایک ہی اونٹ تھا اور تم نے مرد ہوتے ہوئے بھی اسے گُم کردیا۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ منظر دیکھ کر) بس مسکرا دیئے اور فرمایا: ”اس محرم کو دیکھو یہ کیا کر رہا ہے؟ “ یہ جناب الاشج کی روایت ہے۔ اور جناب سلم کی روایت میں ہے کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بردار اونٹ ایک ہی تھا۔ جناب الدورقی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سامان سفر ایک ہی تھا۔ جناب یوسف کی روایت کے الفاظ ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامان اُٹھانے والا اونٹ ایک ہی تھا۔

3287

Sahih Ibn Khuzaymah #3287

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us 'Abd al-Razzaq, who informed us Ja'far ibn Sulayman al-Dubay'i, on the authority of Thabit al-Bunani, on the authority of Anas ibn Malik (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکّہ سے پہلے عمرے کے لئے مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تو سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آگے چل رہے تھے اور یہ شعر پڑھ رہے تھے، ”اے کفار کے بیٹو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جاؤ، آج ہم اللہ کے حُکم پر تمہیں ایسی مار ماریںگے جس سے کھوپڑیاں اُڑ جائیںگی اور دوست دوست کو بھول جائیگا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے ابن رواحہ الله تعالیٰ کے حرم شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شعر پڑھ رہے ہو؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر، اسے پڑھنے دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس کے شعر ان کافروں پر تیروں کی مار سے زیادہ سخت چوٹ لگا رہے ہیں۔

3288

Sahih Ibn Khuzaymah #3288

بِلَفْظٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ فِي ذِكْرِ الْخُفَّيْنِ عِنْدَ عَدَمِ وُجُودِ النَّعْلَيْنِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA), he said: I read to Mālik from the book of Ibn Shihāb al-Zuhrī: "And in the wording of the summary, not explained, in mentioning the two leather socks (*khuffayn*) when there is no existence of the two sandals (*naʿlayn*)."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جوتے نہ ملنے پر موزے پہننے کے بارے میں ایک مجمل غیر مفسر روایت کا بیان

3289

Sahih Ibn Khuzaymah #3289

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn 'Abdah ad-Dabbi, 'Imran ibn Musa al-Qazzaz, and Ahmad ibn al-Miqdam al-'Ijli (may Allah have mercy on them) — they said: Narrated to us Hammad ibn Zayd, who said: Narrated to us 'Amr ibn Dinar, on the authority of Jabir ibn Zayd, that Ibn 'Abbas (RA) said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) delivering a sermon and saying..."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن عبدہ الضبی، عمران بن موسی قزاز، اور احمد بن مقدام عجلی نے ہمیں بتایا (اللہ ان پر رحم کرے) — انہوں نے کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: عمرو بن دینار نے ہمیں بتایا، جابر بن زید سے، کہ ابن عباس (رضی اللہ عنہما) نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا اور آپ ﷺ کہہ رہے تھے:

3290

Sahih Ibn Khuzaymah #3290

وَعَنْ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِهِ .

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Qutaibah, who said: Musa ibn Dawud narrated to us, who said: Hammam narrated to us, on the authority of Qatadah, on the authority of Anas (RA), with the same narration.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور قتیبہ سے روایت ہے، ہم سے موسیٰ بن داؤد نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے اسی (سابقہ حدیث، جس میں شراب پینے والے کو کھجور کی دو چھڑیوں سے مارنے کا ذکر ہے) کے مثل روایت کیا ہے۔

3291

Sahih Ibn Khuzaymah #3291

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِذَاكَ الْمَكَانِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn al-Miqdām al-'Ijlī, narrated to us Hammād, from Ayyūb, from Nāfiʿ, from ʿAbd Allāh ibn ʿUmar (RA) that a man asked the Messenger of Allāh (ﷺ) while he was at that place, saying: "O Messenger of Allāh, what garments may the one in ihrām not wear?" He said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جبکہ آپ فلاں مقام پر تھے، اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: محرم قمیص، شلوار، پگڑی اور موزے نہ پہنے ہاں اگر اسے جوتے ملیں تو موزے ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر انہیں پہن لے۔ اور جن کپڑوں کو ورس بوٹی یا زعفران سے رنگ دیا گیا ہو، اور ٹوپی والا کوٹ نہ پہنے۔“

3292

Sahih Ibn Khuzaymah #3292

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim ad-Dawwaqi; he narrated to us Hushaym, who informed us Ibn Awn. And (Hushaym) narrated to us Muhammad ibn Hisham; he narrated to us Hushaym, from Ibn Awn, from Nafi' (the freed servant of Abdullah ibn Umar), from Abdullah ibn Umar (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) said: [Commentary: The provided source text truncates the hadith immediately after the introductory phrase indicating the Prophet (ﷺ) is about to deliver his statement, with the full content of the prophetic saying not included in the excerpt provided.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعقوب بن ابراہیم دوڑقی نے ہمیں بتایا، ہشیم نے ہمیں بتایا، ابن عون نے ہمیں خبر دی۔ اور محمد بن ہشام نے ہمیں بتایا، ہشیم نے ہمیں بتایا، ابن عون سے، نافع سے، ابن عمر (رضی اللہ عنہما) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے کہا:

3293

Sahih Ibn Khuzaymah #3293

لَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ لُبْسَ الْخُفَّيْنِ اللَّذَيْنِ لَهَا سَاقَانِ، وَإِنَّ شَقَّ أَسْفَلَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْخُفَّيْنِ شَقًّا، وَتَرَكَ السَّاقَيْنِ فَلَمْ يُبَانَا مِمَّا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ عَلَى مَا تَوَهَّمَهُ بَعْضُ النَّاسِ

EnglishUnverified translation

** It has been narrated to us that the Prophet (ﷺ) permitted wearing two leather socks that cover up to the ankles. If one tears the lower part of the socks below the ankles, he may make a cut (in the socks) and continue wearing them, leaving the part above the ankles intact. This is contrary to what some people mistakenly believe.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اگر ٹخنوں سے اوپر موزوں کو کاٹ لے اور پنڈلیوں والا حصّہ باقی رہے، ٹخنوں سے نچلے حصّے سے وہ الگ نہ ہو تو بھی انہیں پہننا جائز نہیں۔ بعض لوگوں کا اسے جائز قرار دینا درست نہیں

3294

Sahih Ibn Khuzaymah #3294

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn 'Abd al-A'la al-San'ani, narrated to us Bushr ibn al-Mufaddal, narrated to us 'Ubayd Allah, on the authority of Nafi', on the authority of 'Abdullah (RA) that a man said: "O Messenger of Allah (ﷺ), what should we wear of clothing when we enter ihram?" The Prophet (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قمیص، شلوار، ٹوپی والے کوٹ، پگڑیاں، ٹوپیاں اور موزے نہ پہنو، البتہ اگر کسی شخص کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے اور اُنہیں ٹخنوں سے نیچے کرکے پہن لے۔ جناب ایوب سے حماد کی روایت میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ انہیں ٹخنوں سے نیچے کرکے پہن لے۔ اسی طرح ابن علیہ رحمه الله نے ایوب کی سند ہی سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کرکے انہیں پہن لے۔“ امام صاحب نے ابن جریج کی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں ”تو وہ شخص موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے۔ میں نے اس حدیث کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کردیے ہیں۔

3295

Sahih Ibn Khuzaymah #3295

ح وَفِي خَبَرِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ʿAbd Allāh ibn Maslama al-Qaʿnabī: Narrated to us Mālik from ʿAbd Allāh ibn Dīnār: Narrated to us Salim, on the authority of Ibn ʿUmar (RA), that the Prophet (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”پس اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے اور وہ موزوں کو کاٹ لے حتّیٰ کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔“

3296

Sahih Ibn Khuzaymah #3296

، إِذْ قَدْ أَبَاحَ لِلنِّسَاءِ الْخُفَّيْنِ وَإِنَّ وَجَدْنَ نِعَالًا، فَرَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي لُبْسِ الْخِفَافِ دُونَ الرِّجَالِ

EnglishUnverified translation

[The narration is incomplete in the provided text; however, based on the fragment:] ...Indeed, he permitted women to wear the leather socks (khuffayn), and if they find sandals, he granted women the concession to wear the khuffs, unlike men.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ عورتوں کے لئے جوتوں کی موجودگی میں بھی موزے پہننے کی اجازت ہے۔ اس طرح آپ نے مردوں کی بجائے عورتوں کو ہر قسم کے موزے پہننے کی رخصت دی ہے

3297

Sahih Ibn Khuzaymah #3297

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَدْ كَانَ صَنَعَ ذَلِكَ يَعْنِي قَطْعَ الْخُفَّيْنِ لِلنِّسَاءِ حَتَّى حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Fadl ibn Ya'qub al-Jazari with an unusual report. He said: 'Abd al-A'la said: Muhammad (meaning Ibn Ishaq) said: Al-Zuhri narrated to me, from Salim, that Ibn 'Umar used to do that—meaning he would cut the leather socks (khuffayn) for women—until Safiyyah bint Abi 'Ubayd informed him, from 'A'ishah (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فضل بن یعقوب جزری نے ہمیں ایک عجیب خبر سنائی، عبد الاعلی نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: محمد نے کہا (یعنی ابن اسحاق)، زہری نے مجھے بتایا، سالم سے، کہ ابن عمر (رضی اللہ عنہما) یہ کام کرتے رہے تھے، یعنی خفیں (چمڑے کے موزے) عورتوں کے لیے کاٹتے رہے، جب تک صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں خبر دی، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے:

3298

Sahih Ibn Khuzaymah #3298

ضِدَّ قَوْلِ مَنْ كَرِهَهُ وَنَهَى عَنْهُ

EnglishUnverified translation

(This is a fragment of a narration chain or commentary stating:) "Contrary to the statement of those who disliked it and forbade it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان علماء کے موقف کے برخلاف جو اسے مکروہ سمجھتے ہیں اور محرم کو سایہ حاصل کرنے سے منع کرتے ہیں

3299

Sahih Ibn Khuzaymah #3299

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النُّفَيْلِيِّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Abdullah ibn al-Nufayli, narrated to us Hatim ibn Isma'il, narrated to us Ja'far ibn Muhammad, on the authority of his father, who said: We entered upon Jabir ibn 'Abdullah (RA) and he mentioned the hadith at length, and he said: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب محمد بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے بالوں کا بنا ہوا ایک خیمه لگانے کا حُکم دیا تو وہ نمره وادی میں لگا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے حتّیٰ کہ عرفات پہنچ گئے۔ آپ نے دیکھا کہ وادی نمرہ میں آپ کے لئے خیمہ لگا دیا گیا ہے تو آپ اس میں تشریف فرما ہوگئے۔

3300

Sahih Ibn Khuzaymah #3300

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ الأَحْمَسِيِّ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Abdullah ibn Ja'far al-Raqqqi, narrated to us Ubaydullah—meaning ibn Amr al-Raqqqi—on the authority of Zayd—who is ibn Abi Unaysah—on the authority of Yahya ibn al-Husayn al-Ahmasiyy, on the authority of Umm al-Husayn, his grandmother, who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اُم الحصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج وداع کیا تو میں نے سیدنا اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا۔ ان دونوں میں سے ایک رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھا اور اسے ہانک رہا تھا جب کہ دوسرا آپ کو گرمی کی تپش سے بچانے کے لئے آپ پر کپڑے سے سایہ کیے ہوا تھا حتّیٰ کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار لیں۔

3301

Sahih Ibn Khuzaymah #3301

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn Mani' who narrated to us Ibn Abi Zā'idah on the authority of Ibn Jurayj on the authority of Abū al-Zubayr on the authority of Jābir (RA) who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب احرام باندھتے تو پھر ایسے کپڑے (بدل بدل کر) پہنتے رہتے تھے جن میں ہم نے احرام نہیں باندھا ہوتا تھا (ابتدائے احرام میں وہ نہیں پہنے تھے) اور ہم گیرو سے رنگے ہوئے تین کپڑے بھی پہن لیتے تھے۔ امام صاحب اپنے استاد محمد بن معمر کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ جب احرام باندھتے تو ایسے کپڑے پہنتے جنہیں خوشبو اور زعفران نہیں لگا ہوتا تھا۔ اور ہم گیرو سے رنگے ہوئے کپڑے پہن لیتے تھے۔

3302

Sahih Ibn Khuzaymah #3302

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar, narrated to us Muhammad ibn Bakr, informed us Ibn Jurayj, who informed me Abu'z-Zubayr, that he heard Jabir ibn 'Abdullah (RA) say:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن معمر نے ہمیں بتایا، محمد بن بکر نے ہمیں بتایا، ابن جریج نے ہمیں بتایا، ابو الزبیر نے مجھے بتایا، کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) کو یہ کہتے ہوئے سنا:

3303

Sahih Ibn Khuzaymah #3303

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ لِلْمُحْرِمَةِ تَغْطِيَةَ وَجْهِهَا مِنْ غَيْرِ انْتِقَابٍ وَلَا إِمْسَاسِ الثَّوْبِ، إِذِ الْخِمَارُ الَّذِي تَسْتُرُ بِهِ وَجْهَهَا بَلْ تُسْدِلُ الثَّوْبَ مِنْ فَوْقَ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا، أَوْ تَسْتُرُ وَجْهَهَا بِيَدِهَا أَوْ بِكُمِّهَا أَوْ بِبَعْضِ ثِيَابِهَا، مُجَافِيَةٌ يَدَهَا عَنْ وَجْهِهَا

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): It was said that the evidence for a woman in ihrām covering her face without using a niqāb (face veil) or touching the cloth to her face is that the khimār (head covering) with which she covers her face is draped from above her head over her face, or she covers her face with her hand, or with her sleeve, or with part of her garment, keeping her hand away from her face.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احرام والی عورت کے لیے نقاب پہننے یا کپڑے کو چھوئے بغیر چہرہ ڈھانپنا جائز ہونے کی دلیل، وہ پردہ ہے جس سے وہ اپنا چہرہ ڈھانپتی ہے، بلکہ کپڑے کو اپنے چہرے پر سر پر لپیٹتی ہے، یا اپنے ہاتھ، آستین یا اپنے کسی کپڑے سے چہرہ چھپاتی ہے، اپنے ہاتھ کو چہرے سے دور رکھتی ہے۔

3304

Sahih Ibn Khuzaymah #3304

وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَفِي الْقَلْبِ مِنْهُ عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī: We were informed by Yazīd ibn Abī Ziyād, who had a doubt in his heart regarding it, from Mujāhid, from ʿĀʾishah (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں ہوتے تو جب ہمارے پاس سے کوئی قافلہ گزرتا تو ہم اپنی چادریں اپنے چہروں پر لٹکا لیتیں۔ جناب جریر رحمه الله کی روایت میں ہے کہ پھر جب وہ گزر جاتے، اور ہشیم کی روایت میں ہے کہ پھر جب وہ ہمارے پاس سے گزر جاتے تو ہم اپنے چہرے ننگے کرلیتے۔

3305

Sahih Ibn Khuzaymah #3305

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya ibn Sa'id, narrated to us 'Ubaydullah, who informed me Nafi', on the authority of Ibn 'Umar, on the authority of the Prophet (ﷺ): ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن بشار نے ہمیں بتایا، یحیٰ بن سعید نے ہمیں بتایا، عبیداللہ نے ہمیں بتایا، نافع نے مجھے بتایا، ابن عمر (رضی اللہ عنہما) کی روایات سے، نبی (ﷺ) کی روایات سے:

3306

Sahih Ibn Khuzaymah #3306

إِذْ فِي الِاقْتِدَاءِ الْخَيْرُ الَّذِي لَا يُعْتَاضُ مِنْهُ أَحَدٌ تَرَكَ الِاقْتِدَاءَ بِهِ

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali ibn Muhammad, who reported: Waki' ibn al-Jarrah narrated to us, from Sufyan al-Thawri, from Abu Ishaq al-Sabi'i, from Abu al-Hubab al-Ta'i, on the authority of Abu Hurairah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Verily, there is goodness in following (My Sunnah and example) that no one who abandons such following can ever be recompensed for." [Grading: Hasan]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ آپ کی اقتداء میں جو خیر و بھلائی ہے، آپ کی اقتداء ترک کرکے کوئی شخص وہ حاصل نہیں کرسکتا

3307

Sahih Ibn Khuzaymah #3307

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

Yusuf bin Musa al-Qattan narrated to us, saying: Yahya bin Sulaim at-Ta'ifi narrated to us, saying: Isma'il bin Umayyah narrated to us, from Nafi', from Ibn Umar (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن موسی قطان نے ہمیں بتایا، یحیٰ بن سلیم طائفی نے ہمیں بتایا، اسماعیل بن امیہ نے ہمیں بتایا، نافع کی روایات سے، ابن عمر (رضی اللہ عنہما) کی روایات سے:

3308

Sahih Ibn Khuzaymah #3308

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Abu Bakr al-Ḥanafiyy, narrated to us ʿAbdullah ibn Nāfiʿ, on the authority of his father, on the authority of Ibn ʿUmar (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ذوالحلیفہ میں درخت کے پاس سے تلبیہ کہنا شروع کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ذی طویٰ مقام پر پہنچے تو وقت وہیں گزارا حتّیٰ کہ آپ نے صبح کی نماز ادا کی، پھرغسل کیا، پھر آپ مکّہ مکرّمہ کی بالائی جانب کداء سے مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے۔ اور جب مکّہ مکرّمہ سے نکلے تو مکّہ مکرّمہ کے زیریں حصّے کداء کی جانب سے نکلے۔

3309

Sahih Ibn Khuzaymah #3309

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Abd al-Warith ibn Abd al-Samad, who said: My father narrated to me, from his father, from Ayyub, from Nafi', that Ibn Umar (RA) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ پہنچ جاتے تو اپنی سواری پر کجاوه رکھنے کا حُکم دیتے، تو کجاوہ رکھ دیا گیا، پھر انہوں نے صبح کی نماز ادا کی، پھر وہ سوار ہوئے، جب سواری انہیں لیکر سیدھی ہوگئی تو انہوں نے قبلہ رُخ ہوکر نیت کی اور تلبیہ پکارنا شروع کیا کہ جب حرم کی حدود میں گئے تو تلبیہ پڑھنا بند کردیا۔ جب ذی طویٰ مقام پر پہنچے تو رات وہیں بسر کی۔ پھر صبح کی نماز ادا کی پھر غسل کیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ اعتقاد تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔“

3310

Sahih Ibn Khuzaymah #3310

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: رَأَيْتُكَ إِذَا أَهْلَلْتَ، فَدَخَلْتَ الْعَرْشَ قَطَعْتَ التَّلْبِيَةَ، قَالَ: صَدَقْتَ يَا ابْنَ حُنَيْنٍ , خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْعَرْشَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ ، فَلا تَزَالُ تَلْبِيَتِي حَتَّى أَمُوتَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ كُنْتُ أَرَى لِلْمُعْتَمِرِ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ أَوَّلَ مَا يَبْتَدِئُ الطَّوَافَ لِعُمْرَتِهِ لِخَبَرِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn ‘Abd al-Rahman ibn Wahb, he said: Narrated to us my uncle, he said: Narrated to me Abu Sakhr, on the authority of Ibn Qusayt, on the authority of ‘Ubayd ibn Hunayn, who said: I performed Hajj with ‘Abdullah ibn ‘Umar ibn al-Khattab twelve times—once for Hajj and once for ‘Umrah. I said to him: “O Abu ‘Abd al-Rahman, I have seen from you four characteristics,” and he mentioned the hadith. He said: “I saw you when you entered the state of ihram, you stopped reciting the talbiyah upon entering the Miqat (the designated boundary for entering ihram).” He said: “You have spoken the truth, O Ibn Hunayn. I went out with the Messenger of Allah (ﷺ), and when he entered the Miqat, he stopped reciting the talbiyah. So my talbiyah will not cease until I die.” Abu Bakr (one of the narrators) said: “I used to think that the one performing ‘Umrah should continue reciting the talbiyah until he touches the Black Stone at the beginning of his tawaf for his ‘Umrah, based on the report of Ibn Abi Layla, on the authority of ‘Ata’, on the authority of Ibn ‘Abbas.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبید بن حنین بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ تقریباً بارہ حج اور عمرے کیے ہیں۔ میں نے اُن سے عرض کیا کہ اے ابو عبدالرحمان، میں نے آپ سے چار خصوصی باتیں نوٹ کی ہیں۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی اور بیان کیا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ احرام باندھ کر تلبیہ پکارتے تو مکّہ مکرّمہ کی آبادی میں پہنچ کر تلبیہ کہنا بند کر دیتے، اُنہوں نے فرمایا کہ اے ابن حنین، تم نے سچ بات بیان کی ہے۔ میں رسول اللہ کے ساتھ (حج کے لئے نکلا) تو جب آپ مکّہ مکرّمہ کی آبادی میں داخل ہوئے تو آپ نے تلبیہ کہنا بند کردیا۔ لہٰذا میں تا حیات اسی طریقہ پر تلبیہ کہتا رہوںگا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرا موقف یہ تھا کہ عمرہ کرنے والا شخص طواف شروع کرتے وقت حجراسود کو چُھونے یا بوسہ دینے تک تلبیہ کہتا رہیگا، کیونکہ ابن ابی لیلی کی عطاء کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرے میں حجراسود کو چُھونے کے بعد تلبیہ کہنا بند کر دیتے تھے۔

3311

Sahih Ibn Khuzaymah #3311

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ: عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَلَمَّا تَدَبَّرْتُ خَبَرَ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ كَانَ فِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ عِنْدَ دُخُولِ عُرُوشِ مَكَّةَ، وَخَبَرُ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ أَثْبَتُ إِسْنَادًا مِنْ خَبَرِ عَطَاءٍ ؛ لأَنَّ ابْنَ أَبِي لَيْلَى لَيْسَ بِالْحَافِظِ، وَإِنْ كَانَ فَقِيهًا عَالِمًا، فَأَرَى لِلْمُحْرِمِ كَانَ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَوْ بِهِمَا جَمِيعًا قَطْعَ التَّلْبِيَةِ عِنْدَ دُخُولِ عُرُوشِ مَكَّةَ، فَإِنْ كَانَ مُعْتَمِرًا لَمْ يَعُدْ إِلَى التَّلْبِيَةِ، وَإِنْ كَانَ مُفْرَدًا أَوْ قَارِنًا عَادَ إِلَى التَّلْبِيَةِ عِنْدَ فَرَاغِهِ مِنَ السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لأَنَّ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ كَالدَّالِ عَلَى أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ فِي حَجَّتِهِ إِلَى الْفَرَاغِ مِنَ السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. حَدَّثَنَاهُ حَدَّثَنَاهُ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَدَعُ التَّلْبِيَةَ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ، وَيُرَاجِعَهَا بَعْدَ مَا يَقْضِي طَوَافَهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ .

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim al-Dawraqi and Muhammad ibn Hisham, who said: Narrated to us Hushaym, who informed me Ibn Abi Layla. Muhammad ibn Hisham reported, on the authority of Ibn Abi Layla, that Abu Bakr stated: "When I deliberated over the report of Ubayd ibn Hunayn, it contained evidence that the Prophet (ﷺ) would cease the talbiyah upon entering the rooftops of Mecca. The report of Ubayd ibn Hunayn has a stronger isnad than the report of Ata, because Ibn Abi Layla is not a hafiz (preserver of hadith), even though he is a faqih (jurist) and a scholar. Therefore, I hold the view that a person in the state of ihram performing Hajj, Umrah, or both together, should cease the talbiyah upon entering the rooftops of Mecca. If he is performing only Umrah, he does not return to the talbiyah. If he is performing Hajj al-Ifrad (Hajj alone) or Hajj al-Qiran (Hajj combined with Umrah), he returns to the talbiyah after completing the Sa'i between Safa and Marwah, for the practice of Ibn Umar (RA) is indicative that he saw the Prophet (ﷺ) cease the talbiyah during his Hajj until after completing the Sa'i between Safa and Marwah." It was also narrated to us by al-Rabi' ibn Sulayman, who narrated to us Bishr ibn Bakr, on the authority of al-Awza'i, who said: Ata ibn Abi Rabah (RA) reported: "Ibn Umar (RA) would cease the talbiyah when he entered the Haram (the sacred precinct of Mecca), and he would resume it after completing his Tawaf between Safa and Marwah."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت کی سند بیان کی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ پھر جب میں نے عبید بن حنین کی روایت میں غور و فکر کیا تو اس میں یہ دلیل موجو تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ کی آبادی میں پہنچتے ہی تلبیہ کہنا بند کردیتے تھے۔ جناب عبید بن حنین کی روایت سند کے لحاظ سے امام عطاء کی روایت سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ ابن ابی لیلی حافظ حدیث نہیں ہیں اگرچہ وہ ایک جید فقیہ اورعالم دین ہیں۔ لہٰذا اب میرا موقف یہ ہے کہ محرم حج کے لئے آئے یا عمرے کے لئے، وہ مکّہ مکرّمہ کی آبادی میں داخل ہوتے ہی تلبیہ کہنا بند کر دیگا۔ اور اگر وہ صرف عمرہ کرنے آیا ہو تو دوبارہ تلبیہ نہیں پڑھیگا۔ اور اگر وہ حج مفرد یا حج قران کر رہا ہو تو وہ صفا اور مروہ کی سعی کرنے کے بعد دوبارہ تلبیہ کہنا شروع کر دیگا۔ کیونکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل اس بات کی دلیل ہے کہ اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ نے اپنے حج میں صفا اور مروہ کی سعی تک تلبیہ کہنا بند کر دیا تھا۔ امام عطاء بن ابی رباح رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حدود حرم میں داخل ہونے کے بعد تلبیہ کہنا بند کر دیتے تھے اور صفاء و مروہ کی سعی کرنے کے بعد دوبارہ تلبیہ کہنا شروع کر دیتے تھے۔

3312

Sahih Ibn Khuzaymah #3312

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ زَبْرٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ، وَيُعَاوِدُ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَقْطَعِ التَّلْبِيَةَ عِنْدَ دُخُولِهِ الْحَرَمَ قَطْعًا لَمْ يُعَاوِدْ..... سَأَذْكُرُ تَلْبِيَتَهُ إِلَى أَنْ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فِي مَوْضِعِهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ وَفَّقَ اللَّهُ لِذَلِكَ وَشَاءَ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Mahdi al-'Attar, narrated to us 'Amr ibn Abi Salamah, on the authority of Ibn Zubr—he is 'Abdullah ibn al-'Ala' ibn Zubr—on the authority of al-Qasim ibn Muhammad, who said: "I saw 'Abdullah ibn 'Umar (RA) cease reciting the Talbiyah upon entering the Haram (sacred precincts of Makkah), then resume it when he performed Tawaf around the House (the Ka'bah), and when he completed the Tawaf between Safa and Marwah." Abu Bakr (a narrator in the chain) said: "The reports from the Prophet (ﷺ) indicate that he continued reciting the Talbiyah until he stoned the Jamrah al-'Aqabah. This is evidence that he (ﷺ) did not cease the Talbiyah upon entering the Haram permanently, nor did he resume it after ceasing." He (the narrator) said: "I will mention his Talbiyah until he stoned the Jamrah al-'Aqabah in its proper place in this book, if Allah grants me the ability to do so and wills it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب قاسم بن محمد بیان کر تے ہیں کہ میں نے سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ حدود حرم میں داخل ہوتے ہی تلبیہ پکارنا بند کر دیتے تھے۔ جب وہ بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی سے فارغ ہو جاتے تو دوبارہ تلبیہ کہنا شروع کر دیتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث جن میں یہ ذکر ہے کہ آپ جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہتے رہتے تھے، وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدود حرم میں داخل ہونے پر بالکل تلبیہ کہنا بند نہیں کرتے تھے (بلکہ صفا مروہ کی سعی کے بعد دوبارہ شروع کر دیتے تھے) میں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مشیت سے اس کتاب میں مناسب موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہنے کی احادیث ذکر کروںگا۔

3313

Sahih Ibn Khuzaymah #3313

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ , قَالَ لَهُ: سَلْ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn ‘Abd al-Rahman ibn Wahb: narrated to us my uncle, who told me on the authority of ‘Umar—he is Ibn al-Harith—on the authority of Abu’l-Aswad Muhammad ibn ‘Abd al-Rahman that a man from the people of Iraq said to him: “Ask ‘Urwah ibn al-Zubayr about a man who says the talbiyah for Hajj.” So I asked him, and he said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن عبدالرحمن بن وھب نے ہمیں بتایا، میرے چچا نے ہمیں بتایا، عمر یعنی ابن حارث نے مجھے بتایا، ابو الاسود محمد بن عبدالرحمن کی روایات سے، کہ عراق کے ایک آدمی نے ان سے کہا: عروة بن زبیر (رضی اللہ عنہ) سے پوچھو اس شخص کے بارے میں جو حج کی لبیک کہتا ہے، تو میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا:

3314

Sahih Ibn Khuzaymah #3314

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ الأَصْبَهَانِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّمَلِ بِالْكَعْبَةِ الثَّلاثِ أَطْوَافٍ، فَزَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Ibn al-Asbahani, narrated to us Abd al-Rahim (meaning Ibn Sulayman), from Abdullah ibn Uthman ibn Khuthaym, who informed us Abu al-Tufayl, and I asked him about walking briskly (al-Raml) in the three circumambulations around the Ka'bah. He claimed that Ibn Abbas informed him: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبد اللہ بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابوطفیل نے بتایا، اور میں نے اُن سے بیت اللہ کے طواف کے پہلے تین چکّروں میں رمل کے بارے میں پوچھا، تو اُنہوں نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اُنہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قریش مکّہ کے ساتھ معاہدے کے تحت مکّہ مکرّمہ آئے تو جب آپ مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تو اس بڑے دروازے (باب بنی شیبہ) سے داخل ہوئے اور قریش کے لوگ حطیم یا حجر اسود کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں وارد لفظ حَجَرَ یا حِجْرَ ہے، میں نے اس کی تعیین نہیں کی۔

3315

Sahih Ibn Khuzaymah #3315

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ لُبْسَ الثِّيَابِ زِينَةٌ لِلْمُلَابِسِينَ وَلِسُتْرَةِ الْعَوْرَةِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنِ الثِّيَابُ مُزَيَّنَةً بِصِبْغٍ، وَلَا كَانَتْ ثِيَابًا فَاخِرَةً، إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- قَالَ فِي مُحْكَمِ تَنْزِيلِهِ: خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [الْأَعْرَافِ: 31]. وَلَمْ يُرِدْ بِهَذَا الْأَمْرِ لُبْسَ الثِّيَابِ الْمُزَيَّنَةِ بِالصَّبْغِ وَالْمُوَشَّى، وَلَا لُبْسَ الثِّيَابِ الْفَاخِرَةِ، وَلَكِنْ أَرَادَ لُبْسَ الثِّيَابِ الَّتِي تَوَارَى الْعَوْرَةَ، كَانَتْ فَاخِرَةٌ أَوْ دَنِيئَةٌ، إِذِ الْآيَةُ إِنَّمَا نَزَلَتْ زَجْرًا عَمَّا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَفْعَلُونَهُ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ عُرَاةً غَيْرَ سَاتِرِي عَوْرَاتِهِمْ بِالثِّيَابِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyá ibn Yaḥyá al-Tamīmī (RA) – narrated to us Khālid ibn al-Ḥārith (RA) – narrated to us ʿUthmān ibn al-Ḥakam (RA) – narrated to us Yaḥyá ibn Abī Kathīr (RA) who said: It is established that wearing clothes is an adornment for those who wear them and a covering for the private parts, even if the clothes are not dyed with any color nor are they luxurious garments. For indeed Allah, the Exalted, has said in His decisive revelation: *"Take your adornment at every place of prostration"* [Al-Aʿrāf: 31]. This command does not refer to wearing dyed or embroidered clothes, nor does it refer to wearing luxurious garments. Rather, it refers to wearing clothes that cover the private parts, whether they are luxurious or coarse. For the verse was revealed to prohibit what the people of the pre-Islamic era (Jāhiliyyah) used to do: circumambulating the House (Kaʿbah) naked, without covering their private parts with clothes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بات کی دلیل ہے کہ لباس پہننا لباس کی زینت ہے اور شرمگاہ کو ڈھانپنا ہے، خواہ وہ کپڑے نہ رنگ سے آراستہ ہوں اور نہ ہی عیش و عشرت کے کپڑے ہوں، کیونکہ خدائے بزرگ و برتر نے اپنے فیصلہ کن وحی میں فرمایا: ’’ہر مسجد میں اپنی زینت لے جاؤ‘‘ [الاعراف: 3]۔ اور اس کا یہ مطلب نہیں تھا۔ حکم یہ ہے کہ خضاب لگانے اور محسوس ہونے والے کپڑے پہنیں اور عیش و عشرت کے کپڑے نہ پہنیں بلکہ وہ ایسے کپڑے پہننا چاہتے تھے جن سے شرمگاہ چھپ جائے۔ عیش و عشرت یا گھٹیا، چونکہ یہ آیت صرف ان کاموں کی مذمت کے طور پر نازل ہوئی ہے جو زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، جیسے کعبہ کا برہنہ طواف بغیر پردہ کے۔ ان کی شرمگاہ ان کے کپڑوں سے ڈھکی ہوئی ہے...

3316

Sahih Ibn Khuzaymah #3316

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār; he said: Narrated to us Muḥammad ibn Jaʿfar; he said: Narrated to us Shuʿbah, from Salamah (who is Ibn Kuhayl), who said: I heard Muslim al-Baṭīn from Saʿīd ibn Jubayr, from Ibn ʿAbbās (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (عہد جاہلیت میں) عورت ننگی ہوکر طواف کرتی تھی اور ساتھ کہتی تھی کہ ”آج جسم کا کچھ حصّہ ظاہر ہوگا یا سارا ہی ننگا ہوا، تو جو حصّہ ننگا ہوگا میں اسے (کسی کے دیکھنے کے لئے حلال قرار نہیں دیتی)“ تو یہ آیت نازل ہوئی: «يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ» [ سورة الأعراف: 31 ] ”اے بنی آدم، ہر نماز کے وقت اپنی زینت اختیار کیا کرو۔ “

3317

Sahih Ibn Khuzaymah #3317

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Isa ibn Ibrahim al-Ghafqi, who narrated to us Ibn Wahb, from Yunus ibn Yazid and Amr ibn al-Harith, from Ibn Shihab, from Sa'id ibn al-Musayyib (RA), that he used to say: [Note: The provided source text is incomplete, cutting off immediately after the opening of Sa'id ibn al-Musayyib's statement. The full content of his narration is not included in the given material.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابن شہاب رحمه الله سے روایت ہے کہ امام سعيد بن مسیّب رحمه الله فرمایا کرتے تھے کہ يوم النحر (دس ذوالحجہ قربانی) کا دن حج اکبر کا دن ہے۔ جناب ابن شهاب حمید بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجة الوداع سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حج کا امیر بنایا تو اُنہوں نے مجھے ایک جماعت کے ساتھ بھیجا کہ یوم النحر کو یہ اعلان کردیں کہ خبر دار، آج کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کریگا، اور نہ کوئی ننگا ہوکر بیت اللہ کا طواف کریگا۔ ابن شہاب رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام حمید فرماتے تھے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی بنا پر یوم النحر بی حج اکبر کا دن ہے۔

3318

Sahih Ibn Khuzaymah #3318

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ وَيُونُسَ - كُلُّهُمْ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ؛ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ؛ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ» .

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Ali bin Hujr, who said: Narrated to us by Hushaym bin Bashir, on the authority of Mansur bin Zadhan, Humayd at-Tawil, and Yunus—all of them from Al-Hasan, from Abdur-Rahman bin Samurah, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Abdur-Rahman bin Samurah, do not ask for leadership (Imarah); for if you are given it as a result of your asking, you

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، ہم سے ہشیم بن بشیر نے بیان کیا، انہوں نے منصور بن زاذان، حمید الطویل اور یونس سے، ان سب نے حسن سے، اور انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! امارت (حکمرانی/عہدہ) مت مانگنا؛ کیونکہ اگر تجھے وہ مانگنے پر دی گئی تو تو اسی کے حوالے کر دیا جائے گا (یعنی اللہ کی مدد شامل حال نہیں ہوگی)، اور اگر وہ تجھے بغیر مانگے دی گئی تو اس پر تیری مدد کی جائے گی۔ اور اگر تو کسی بات پر قسم کھا لے، پھر اس کے علاوہ کسی اور چیز کو اس سے بہتر پائے تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے اور وہ کام کر جو بہتر ہے۔

3319

Sahih Ibn Khuzaymah #3319

حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abdullah ibn Sa'id al-Ashajj, narrated to us al-Muharibi, on the authority of Ibn Abi Layla, on the authority of al-Hakam, on the authority of Miqsam, on the authority of Ibn 'Abbas (RA), and on the authority of Nafi', on the authority of Ibn 'Umar (RA), who said: The Prophet (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات مقامات پر ہاتھ اُٹھائے جائیںگے۔“ اس حدیث میں ہے ”اور بیت اللہ شریف کو دیکھنے پر ہاتھ اُٹھائے جائیںگے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کے لئے علیحدہ عنوان ذکر نہیں کیا کیونکہ اس کی سند میں راویوں کا اختلاف ہے، اور میں نے اسے کتاب الکبیر میں بیان کر دیا ہے۔

3320

Sahih Ibn Khuzaymah #3320

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَزْعَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ أَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Muhammad ibn Ja'far, narrated to us Shu'bah, who said: I heard Abu Qaz'ah al-Bahili narrating from al-Muhajir al-Makki, who said: Jabir ibn 'Abd Allah was asked about a man who sees the House (the Ka'bah) and raises his hands. He said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن بشار نے ہمیں بتایا، محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا، شعیبہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: میں نے ابو قزعہ الباہلی کو سنتا، جو مہاجر مکی سے روایت کرتے تھے، انہوں نے کہا: جابر بن عبداللہ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص بیت (کعبہ) کو دیکھے تو کیا وہ اپنے ہاتھ اٹھائے، تو انہوں نے کہا۔

3321

Sahih Ibn Khuzaymah #3321

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدٍ - وَهُوَ : ابْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيَّةً ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا خَرَجُوا وَجَدَ عَلَيْهِمْ فِي شَيْءٍ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي ؟ قَالَ : قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَقَالَ : اجْمَعُوا حَطَبًا ، ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ فَأَضْرَمَهَا فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَتَدْخُلُنَّهَا ، قَالَ : فَهَمَّ الْقَوْمُ أَنْ يَدْخُلُوهَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُمْ شَابٌّ مِنْهُمْ : إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنَ النَّارِ! فَلَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَلْقَوُا النَّبِيَّ ﷺ ؛ فَإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوهَا فَادْخُلُوا ، قَالَ : فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : «لَوْ دَخَلْتُمُوهَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْهَا أَبَدًا ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ» .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Salm ibn Junādah, narrated to us Abū Muʿāwiyah, from al-Aʿmash, from Saʿd—he is Ibn ʿUbaydah—from Abū ʿAbd al-Raḥmān al-Sulamī, from ʿAlī (RA), who said: The Messenger of Allāh (ﷺ) dispatched a military detachment and appointed over them a man from the Anṣār. When they had set out, he found fault with them over something and said to them, "Did not the Messenger of Allāh (ﷺ) command you to obey me?" They said, "Yes." He said, "Then gather some firewood." Then he called for fire and kindled it, then he said, "I adjure you by Allāh that you enter it." The people were about to enter it, when a young man among them said, "You fled from the Fire to the Messenger of Allāh (ﷺ)! So do not hasten until you meet the Prophet (ﷺ). If he commands you to enter it, then enter." So they returned to the Prophet (ﷺ) and informed him. He (ﷺ) said to them, "Had you entered it, you would never have come out of it. Verily, obedience is only in what is right."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے سلم بن جنادہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے سعد (یعنی ابن عبیدہ) سے، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن السلمی سے، انہوں نے حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے: رسول اللہ ﷺ نے ایک دستہ روانہ فرمایا اور ان پر انصار کے ایک شخص کو امیر مقرر کیا۔ جب وہ روانہ ہوئے تو (ایک موقع پر) امیر کو ان پر کسی بات پر غصہ آ گیا۔ اس نے کہا: کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ نے میری اطاعت کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: لکڑیاں جمع کرو۔ پھر اس نے آگ منگوائی اور اسے سلگایا، پھر کہنے لگا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اس میں داخل ہو جاؤ۔ لوگوں نے اس میں کودنے کا ارادہ کر لیا، تو ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: تم لوگ تو آگ ہی سے بچ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف بھاگے ہو! لہٰذا جلدی نہ کرو یہاں تک کہ نبی ﷺ سے مل لو، اگر وہ تمہیں اس میں داخل ہونے کا حکم دیں تو داخل ہو جانا۔ جب وہ واپس نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو واقعہ بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو اس سے کبھی باہر نہ نکل پاتے۔ بے شک اطاعت تو صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔

3322

Sahih Ibn Khuzaymah #3322

ثنا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَزْعَةُ ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ بْنُ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الرَّجُلِ يَقْضِي صَلاتَهُ وَطَوَافَهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَيَسْتَقْبِلُ الْبَيْتَ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى يَفْعَلُ هَذَا إِلا الْيَهُودَ

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Yahya, who narrated to us Muslim ibn Ibrahim, who narrated to us Qaz'ah, who narrated to me Suwayd ibn Hujayr, who narrated to us al-Muhajir ibn Ikrimah, who said: We asked Jabir ibn Abdullah (RA) about a man who completes his obligatory prayer and his tawaf (circumambulation of the Sacred Kaaba), then exits the mosque, then turns to face the Bayt (the Sacred House of Allah in Makkah). He (Jabir ibn Abdullah (RA)) said: "I never thought any person would perform this action except the Jews." Commentary: This narration from the Companion Jabir ibn Abdullah (RA) condemns an unfounded religious innovation (bid'ah) that imitates the customs of the Jewish people without any basis in the Sunnah of the Prophet Muhammad (ﷺ) or the practices of the early Muslim community. The act described involves a person exiting the mosque after already completing both prayer and tawaf, both of which inherently require facing the Kaaba, solely to face the Kaaba from outside the mosque. Jabir (RA) emphasizes that such unnecessary, innovated acts of worship are characteristic of the Jews, and Muslims must avoid imitating the People of the Book in their religious practices, adhering strictly to the teachings and traditions of the Prophet (ﷺ). Grading: Hasan ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب مہاجر بن عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنی نماز پڑھنے اور طواف مکمّل کرنے کے بعد مسجد حرام سے باہر نکلتا ہے، اور وہ بیت اللہ شریف کی طرف مُنہ کرتا ہے (اور ہاتھ اُٹھاتا ہے) تو انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں یہ کام صرف یہودی کرتے ہیں۔

3323

Sahih Ibn Khuzaymah #3323

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Abu Bakr al-Hanafi, narrated to us al-Dahhak ibn Uthman, narrated to me Sa'id al-Maqburi, on the authority of Abu Hurayrah (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہونے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے «اللّهُـمَّ افْتَـحْ لي أَبْوابَ رَحْمَتـِك» ”اے اللہ، میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب مسجد سے نکلنے لگے تو نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود و سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے « اللَّهُمَّ أَجِرْنِيْ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”اے الله، مجھے شیطان مردود سے محفوظ فرما۔“

3324

Sahih Ibn Khuzaymah #3324

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Hasan ibn Muhammad Az-Za'farani, narrated to us Yahya ibn Sulaym At-Ta’ifi who said: ‘Abdullah ibn ‘Uthman ibn Khuthaym narrated to me on the authority of Abu At-Tufayl, on the authority of ‘Abdullah ibn ‘Abbas (RA), in a lengthy narration, he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک طویل حدیث مروی ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے اضطباع کیا (چادر کو دائیں بازو کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالا) اور انہوں نے طواف کے پہلے تین چکّروں میں رمل کیا اور بقیہ چار میں عام رفتار سے چلے۔

3325

Sahih Ibn Khuzaymah #3325

وَتَبْقَى السُّنَّةُ قَائِمَةً إِلَى الْأَبَدِ إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا رَمَلَ فِي الِابْتِدَاءِ وَاضْطَبَعَ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ وَقُوَّةَ أَصْحَابِهِ فَبَقِيَ الِاضْطِبَاعُ وَالرَّمَلُ سُنَّتَيْنِ إِلَى آخِرِ الْأَبَدِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): We were told by Sufyān ibn ʿUyaynah, from al-Zuhrī, from ʿUrwah, from ʿĀʾishah (RA), who said: "The Sunnah remains established forever. Indeed, the Prophet (ﷺ) only performed *ramal* (brisk walking) and *iḍṭibāʿ* (wearing the upper garment draped over one shoulder) at the beginning (of the arrival in Makkah) to show the polytheists his strength and the strength of his Companions. Thereafter, the practice of *iḍṭibāʿ* and *ramal* remained as two Sunnahs until the end of time."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

پھر وہ علت ختم ہوجاتی ہے لیکن سنّت نبوی تاقیامت باقی رہتی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں مشرکوں کو اپنی اور اپنے صحابہ کی قوت و طاقت دکھانے کے لئے رمل اور اضطباع کیا تھا، (پھر مکّہ مکرّمہ میں مشرک ختم ہوگئے) لیکن رمل اور اضطباع کی دونوں سنّتیں تاقیامت باقی رہیںگی

3326

Sahih Ibn Khuzaymah #3326

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Rafi’, narrated to us Ibn Abi Fudayk, from Hisham ibn Sa’d, from Zayd ibn Aslam, from his father who said: I heard ‘Umar ibn al-Khattab (RA) say…

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن اسلم اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اب رمل کرنا اور کندھوں کو ننگا کرنا کس لئے ہے جبکہ اللہ تعالی نے اسلام کوقوت و طاقت دیدی ہے اور وہ چار سُو پھیل چکا ہے اور کفر اور کافر مٹ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم کوئی ایسا عمل نہیں چھوڑیں گے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھے۔

3327

Sahih Ibn Khuzaymah #3327

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Bashar; narrated to us Yahya, meaning Yahya ibn Sa'id; narrated to us Ja'far; narrated to me my father. He said: We came to Jabir ibn Abdullah (RA), and we asked him about the Hajj of the Prophet (ﷺ), and he said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے اُن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کے بارے میں پوچھا۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ” ہم صرف حج ہی کے ارادے سے (مد ینہ منوّرہ سے) نکلے، حتّیٰ کہ ہم کعبہ شریف کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کا استلام کیا، پھر (طواف کے) تین چکّروں میں رمل کیا اور چار چکّر عام رفتار سے پورے کیے۔“

3328

Sahih Ibn Khuzaymah #3328

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ يُونُسُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَقَالَ عِيسَى: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ أَوَّلُ مَا يَطُوفُ حِينَ يَقْدَمُ يَخِبُّ ثَلاثَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la and 'Isa ibn Ibrahim. Yunus said: Ibn Wahb informed us, saying: Yunus informed me. And 'Isa said: Ibn Wahb narrated to us, from Yunus, from Ibn Shihab, from Salim ibn 'Abdullah, from his father ('Abdullah ibn 'Umar, may Allah be pleased with him), who said: "I saw the Prophet (ﷺ) when he arrived in Makkah, he would touch the Black Corner (al-Rukn al-Aswad) first when he began his Tawaf. When he arrived, he would walk briskly (yakhbu) for three circuits of the seven."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ مکّہ مکرّمہ پہنچے تو آپ نے طواف کی ابتداء میں حجر اسود کا استلام کیا۔ پھر سات میں سے تین چکّروں میں دلکی چال چلے (اور چار چکّر عام رفتار سے چلے)۔“

3329

Sahih Ibn Khuzaymah #3329

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بنُ يَزِيدَ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Īsā ibn Ibrāhīm: Narrated to us Ibn Wahb who said: Yūnus ibn Yazīd and ‘Amr ibn al-Ḥārith informed me, on the authority of Ibn Shihāb, from Sālim, that his father (i.e., ‘Abdullāh ibn ‘Umar) informed him that ‘Umar ibn al-Khaṭṭāb kissed the Black Stone and then said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجراسود کو بوسہ دیا تو فرمایا کہ آگاه رہ، الله کی قسم کہ مجھے خوب علم ہے کہ تُو ایک پتھر ہی ہے (جو کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں) اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ جناب عمرو کہتے ہیں کہ مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد گرامی اسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔

3330

Sahih Ibn Khuzaymah #3330

وَوَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْحَجَرِ، وَمَسْحِ الْوَجْهِ بِهِمَا، وَلَكِنْ خَبَرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ثَابِتٌ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-Muthanna, narrated to us Muhammad ibn Ja'far, narrated to us Shu'bah, from Muhammad ibn 'Ali, who said: "I do not know whether the Prophet (ﷺ) placed his hands on the stone (during prostration) or wiped his face with them. However, the report of Muhammad ibn 'Ali is sound (thābit)."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

دونوں ہاتھ حجر اسود پر رکھنے اور ان کو چہرے پر پھیرنے کا بیان۔ محمد بن علی کی حدیث ثابت ہے

3331

Sahih Ibn Khuzaymah #3331

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شِيبَ ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ يَبْكِي، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Salamah ibn Shaybah — Ya'la ibn 'Ubayd narrated to us; Muhammad ibn 'Awn narrated to us — on the authority of Nafi‘, on the authority of Ibn 'Umar (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) faced the Black Stone, then touched it. He then placed his lips upon it and wept for a long time. I turned around and saw that 'Umar (RA) was also weeping. So he (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک حجراسود کی طرف کیا اور حجر اسود کا استلام کیا۔ پھر آپ نے اپنے ہونٹ اس پر رکھ دیئے اور دیر تک روتے رہے پھر مڑ کر دیکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر، اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں۔“

3332

Sahih Ibn Khuzaymah #3332

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَدَخَلْنَا مَكَّةَ حِينَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى، فَأَتَى يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابَ الْمَسْجِدِ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَ، وَفَاضَتْ عَيْنَاهُ بِالْبُكَاءِ

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Yahya, who narrated to us Nu'aym ibn Hammad, who narrated to us Isa ibn Yunus, who narrated to us Muhammad ibn Ishaq, on the authority of Abu Ja'far (Muhammad ibn Ali ibn Abi Talib, a companion of the Prophet ﷺ), on the authority of Jabir ibn Abdullah (RA), who said: We entered Mecca at the time of the rising of the forenoon (ad-Duha). The Prophet Muhammad (ﷺ) came to the door of the Sacred Mosque (Masjid al-Haram), tethered his riding camel there, then entered the Mosque. He began with the Black Stone (al-Hajar al-Aswad, the sacred stone embedded in the eastern corner of the Kaaba), performed istilam (the ritual act of touching or kissing the Black Stone, a confirmed Sunnah during Tawaf) upon it, and his eyes overflowed with tears.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن یحیٰ نے ہمیں بتایا، نعیم بن حماد نے ہمیں بتایا، عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا، محمد بن اسحاق نے ہمیں بتایا، ابو جعفر (محمد بن علی بن ابی طالب، نبی ﷺ کے ساتھی) کی طرف سے، جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے، انہوں نے کہا: ہم مکہ میں ضحی کے وقت داخل ہوئے۔ نبی محمد ﷺ مسجد حرام کے دروازے پر آئے، اپنی اونٹنی کو وہاں باندھا، پھر مسجد میں داخل ہوئے۔ انہوں نے سنگ اسود سے آغاز کیا، اس کا استلام کیا، اور ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔

3333

Sahih Ibn Khuzaymah #3333

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَسَجَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ خَالَكَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُقَبِّلُهُ وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَبَّلَ وَسَجَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Abu 'Asim, narrated to me Ja'far ibn 'Abdullah who said: I saw Muhammad ibn 'Abbad ibn Ja'far kiss the Black Stone and prostrate upon it. Then he said: "I saw your maternal uncle Ibn 'Abbas kiss it and prostrate upon it." And Ibn 'Abbas said: "I saw 'Umar ibn al-Khattab kiss it and prostrate upon it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے محمد بن عباد بن جعفر کو دیکھا، اُنہوں نے حجراسود کو بوسہ دیا اور اس پر سجده کیا، پھر اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے تمہارے ماموں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا تھا اُنہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیکر اس پر سجدہ کیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اُنہوں نے حجراسود کو بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا ہے، لہٰذا میں نے بھی ایسے کیا ہے۔

3334

Sahih Ibn Khuzaymah #3334

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِيَدِهِ، وَقَبَّلَ يَدَهُ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abdullah ibn Sa'eed al-Ashajj, narrated to us Abu Khalid, who informed us Ubaydullah, from Nafi', who said: I saw Ibn 'Umar (RA) touch the Black Stone with his hand, then he kissed his hand and said: "Indeed, I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing as I have done."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سعید الاشج نے ہمیں بتایا، ابو خالد نے ہمیں بتایا، عبیداللہ نے مجھے بتایا، نافع سے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عمر (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا کہ انہوں نے سنگ اسود کو ہاتھ سے چھوا، پھر اپنا ہاتھ چوما، اور کہا:

3335

Sahih Ibn Khuzaymah #3335

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُرَيْحٍ الرَّازِيُّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيُّ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ أَهَلَّ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to me Ahmad ibn Abi Shurayh al-Razi, that Umar ibn Mujammi' al-Kindi informed them, on the authority of Musa ibn 'Uqba, from Nafi', from Ibn 'Umar (RA), who said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) mounted his riding beast at Dhu al-Hulayfa during his Hajj or 'Umra, he would say the Talbiyah..."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی حج یا عمرے میں ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس جب آپ کو لیکر سیدھی ہو جاتی تو آپ ان الفاظ میں تلبیہ پکارتے «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ والنِّعْمَة لَكَ والمُلْكُ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”اے اللہ، میں حاضر ہوں، میں تیری بندگی پر کاربند ہوں، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بیشک سب تعریفیں تیرے ہی لائق ہیں اور ہر نعمت تیری ہی عطا کی ہوئی ہے، اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف پہنچنے تک اسی طرح تلبیہ کہتے رہتے حتّیٰ کہ آپ حجر اسود کے سامنے آتے تو «اللهُ أَكْـبَر» کہہ کر حجراسود کی طرف مُنہ کرتے (اسے بوسہ دیتے یا استلام کرتے) پھر (طواف کے) تین چکّر اچھل اچھل کر لگاتے اور چار چکّر عام رفتار سے چل کر لگاتے، پھر دو رکعت ادا کرتے۔

3336

Sahih Ibn Khuzaymah #3336

حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to me by Abu Salamah, Yahya bin Al-Mughirah, who said: Abu Asim narrated to us, from Ja'far bin Muhammad, from his father, from Jabir (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجھے ابو سلامہ یحیٰ بن المغیرہ نے بتایا، ابو عاصم نے ہمیں بتایا، جعفر بن محمد سے، ان کے والد سے، جابر (رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے کہا:

3337

Sahih Ibn Khuzaymah #3337

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Isma'il ibn Musa al-Fazari, who said: Malik informed us. And narrated to us 'Ali ibn Khashram, who said: 'Abdullah ibn Wahb informed us, from Malik ibn Anas, from Ja'far ibn Muhammad, from his father, from Jabir (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسماعیل بن موسی فضاری نے ہمیں بتایا، مالک نے ہمیں بتایا۔ اور علی بن خشرم نے ہمیں بتایا، عبداللہ بن وھب نے ہمیں بتایا، مالک بن انس سے، جعفر بن محمد سے، ان کے والد سے، جابر (رضی اللہ عنہ) سے، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

3338

Sahih Ibn Khuzaymah #3338

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : الرَّمَلُ ثَلاثَةُ أَشْوَاطٍ بِالْبَيْتِ، وَأَرْبَعَةٌ مَشْيًا، إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا، وَكَذَبُوا، قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، فَلَمَّا سَمِعَ بِهِ أَهْلُ مَكَّةَ، قَالُوا: انْظُرُوا إِلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ لا يَقْدِرُونَ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهُزَالِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Bishr al-Wasiti: Narrated to us Khalid — meaning Ibn 'Abdullah — on the authority of al-Jurayri, from Abu al-Tufayl, who said: I said to Ibn 'Abbas: "The *raml* (fast walking) is three circuits around the House and four walking circuits." Indeed, your people claim that it is a *sunnah*. He said: "They have spoken the truth, but they have lied." The Prophet (ﷺ) came to Makkah, and when the people of Makkah heard of his arrival, they said: "Look at the Companions of Muhammad who cannot perform *tawaf* around the House due to weakness." So the Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ خیال ہے کہ بیت اللہ کے طواف کے تین چکّروں میں رمل کرنا اور چار چکّروں میں عام رفتار سے چلنا سنّت ہے تو اُنہوں نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور ان کی کچھ بات غلط ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ تشریف لائے، جب اہل مکّہ نے آپ کی تشریف آوری کا سنا تو کہنے لگے کہ دیکھو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھی کمزوری کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کر سکیں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اپنی قوت و طاقت دکھاو جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔“

3339

Sahih Ibn Khuzaymah #3339

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ قُرَيْشًا، قَالَتْ: إِنَّ مُحَمَّدًا، وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَى يَثْرِبَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي قَدِمَ فِيهِ، قَالَ لأَصْحَابِهِ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Naṣr ibn Marzūq, narrated to us Asad, informed us Ḥammād ibn Salamah, from Ayyūb, from Saʿīd ibn Jubayr, from Ibn ʿAbbās (RA) who said: When the Quraysh said, "Indeed, Muḥammad (ﷺ) and his Companions have been weakened by the fever of Yathrib (Madinah)," then when the Messenger of Allāh (ﷺ) arrived in the year in which he came, he said to his Companions: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کے لوگ کہنے لگے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کے صحابہ کو یثرب کے بخار نے بالکل کمزور کردیا ہے۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معاہدے والے سال مکّہ مکرّمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ” بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے پہلے تین چکّروں میں اُچھل اُچھل کر چلو تاکہ مشرک تمہاری قوت و طاقت دیکھ لیں۔ “ لہذا جب صحابہ کرام نے رمل کیا تو قریشی کہنے لگے کہ انہیں بخار نے ذرا بھی کمزور نہیں کیا۔

3340

Sahih Ibn Khuzaymah #3340

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى السَّائِبِ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّائِبِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَيْنَ رُكْنِ بَنِي جُمَحٍ وَالرُّكْنِ الأَسْوَدِ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim and narrated to me Yahya ibn Sa'id, on the authority of Ibn Jurayj, from Yahya ibn 'Ubayd. And narrated to us Muhammad ibn Ma'mar, narrated to us Muhammad—meaning Ibn Bakr al-Bursani—informed us Ibn Jurayj, who informed me Yahya ibn 'Ubayd, the freed slave of al-Sa'ib, that his father informed him that 'Abdullah ibn al-Sa'ib informed him that he heard the Prophet (ﷺ) saying, between the corner of the tribe of Jumah and the Black Corner: *"Indeed, the keys of knowledge are in the hands of the people of the Book. So if they wish, they will give you knowledge, and if they wish, they will withhold it."* ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا اور مجھے یحیٰ بن سعید نے بتایا، ابن جریج سے، یحیٰ بن عبید سے۔ اور محمد بن معمر نے ہمیں بتایا، محمد (یعنی ابن بکر برسانی) نے ہمیں بتایا، ابن جریج نے ہمیں بتایا، یحیٰ بن عبید (سائب کے غلام) نے مجھے بتایا، کہ ان کے والد نے انہیں بتایا، کہ عبداللہ بن سائب نے انہیں بتایا، کہ انہوں نے نبی ﷺ کو سنہ، بنو جمہ کے کونے اور سیاہ کونے کے درمیان، کہتے ہوئے:

3341

Sahih Ibn Khuzaymah #3341

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abu Bishr al-Wasiti, who said: Narrated to us Khalid, meaning Ibn Abdullah, from Khalid, who is al-Hadda', from Ikrimah, from Ibn Abbas (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہوکر بیت اللہ کا طواف کیا۔ جب آپ حجر اسود کے پاس پہنچتے تو آپ اپنے ہاتھ میں پڑی ہوئی ایک چیز (لاٹھی) سے اشارہ کرتے اور «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے۔

3342

Sahih Ibn Khuzaymah #3342

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn ‘Abd al-A‘lā — narrated to us al-Mu‘tamir who said: I heard ‘Abd al-‘Azīz — and he is Ibn Abī Rawwād — narrating to me Nāfi‘, on the authority of ‘Abd Allāh ibn ‘Umar (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبدالاعلی نے ہمیں بتایا، معتمر نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: میں نے عبدالعزیز (جو ابن ابی رواد ہیں) کو سنا، نافع سے، عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) سے۔

3343

Sahih Ibn Khuzaymah #3343

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ . ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundar, who said: narrated to us Abdul-Wahhab, who said: narrated to us Khalid. And it was also narrated to us by Bishr ibn Hilal, who said: narrated to us Abdul-Warith, from Khalid, from Ikrimah, from Ibn Abbas (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah has cursed the one who curses his parents." They said: "O Messenger of Allah! Does a person curse his own parents?" He (ﷺ) said: "Yes. He curses the father of a man, so the man curses his father; and he curses the mother of a man, so the man curses his mother."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بندر نے ہمیں بتایا، عبدالوہاب نے ہمیں بتایا، خالد نے ہمیں بتایا۔ اور بشر بن ہلال نے ہمیں بتایا، عبدالوارث نے ہمیں بتایا، خالد سے، عکرمہ سے، ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ نے اس شخص پر لعنت بھیجی جو اپنے والدین کو بد دعا دے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بد دعا دیتا ہے؟ انہوں نے ﷺ فرمایا: جی ہاں، وہ کسی مرد کے باپ کو بد دعا دیتا ہے۔

3344

Sahih Ibn Khuzaymah #3344

حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus; he said: Narrated to us Ibn Wahb; he informed me Yunus, on the authority of Ibn Shihab, from Salim ibn Abd Allah ibn Umar, from his father (Abd Allah ibn Umar, may Allah be pleased with him), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس یونس نے روایت کیا، انہوں نے کہا: ہمارے پاس ابن وھب نے روایت کیا، یونس نے مجھے خبر دی، ابن شہاب کی طرف سے، سالم بن عبداللہ بن عمر کی طرف سے، ان کے والد (عبداللہ بن عمر، رضی اللہ عنہ) کی طرف سے، انہوں نے کہا:

3345

Sahih Ibn Khuzaymah #3345

حَدَّثَنَا يُونُسُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَخْبَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus, he informed us Ibn Wahb, that Malik informed him from Ibn Shihab, from Salim ibn Abdullah, that Abdullah ibn Muhammad ibn Abu Bakr al-Siddiq informed Abdullah ibn Umar, from Aisha (RA), that the Prophet (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنی قوم کا حال نہیں دیکھا، جب انہوں نے بیت اللہ کو تعمیر کیا تو انہوں نے اسے حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں سے کم کردیا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے عرض کیا کہ آپ اسے دوبارہ حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر تعمیر کیوں نہیں کردیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نکل کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی (میں اسے ضرور حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر تعمیر کردیتا)“۔ راوی کہتے ہیں کہ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ بیشک یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنی ہوگی، اس لئے میرے خیال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کی طرف والے دونوں ارکان کا استلام صرف اس لئے نہیں کیا کیونکہ بیت اللہ شریف حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پرمکمّل تعمیر نہیں کیا گیا (اور یہ دونوں ارکان ان بنیادوں پرنہیں ہیں)۔“

3346

Sahih Ibn Khuzaymah #3346

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Maymun al-Makki, narrated to us Abu Sa'id, the freed slave of Banu Hashim, Abd al-Rahman ibn Abd Allah, narrated to us Isra'il, from Abd Allah ibn Muslim ibn Hurmuz, from Mujahid, from Ibn Abbas (RA) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Indeed, the best of you are those who have the best character."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن ميمون مکی نے روایت کیا، ہمارے پاس ابو سعید، بنو ہاشم کے مولا، عبدالرحمن بن عبداللہ نے روایت کیا، ہمارے پاس اسرائیل نے روایت کیا، عبداللہ بن مسلم بن ہرمز کی طرف سے، مجاہد کی طرف سے، ابن عباس (رضی اللہ عنہما) کی طرف سے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا، بے شک

3347

Sahih Ibn Khuzaymah #3347

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسَدُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى السُّنَّةِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: احْفَظُوا هَذَا الْحَدِيثَ، وَكَانَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَدْعُو بِهِ بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Naṣr ibn Marzūq al-Miṣrī: On the authority of Asad, meaning Ibn Mūsā al-Sunnah: On the authority of Saʿīd ibn Zayd: On the authority of ʿAṭā ibn al-Sā’ib: On the authority of Saʿīd ibn Jubayr who said: Ibn ʿAbbās (RA) would say, “Preserve this hadith,” and he would raise it to the Prophet (ﷺ). He would supplicate with it between the two corners (of the Kaʿbah): ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن جبیر رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ یہ حدیث اچھی طرح یاد کرلو وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ارکان کے درمیان یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ قَنَّعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي، وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَاخْلُفْ عَلَيَّ كُلَّ غَائِبَةٍ بِخَيْرٍ » ”اے میرے رب، جو رزق تُو نے مجھے عطا کیا ہے اس میں مجھے قناعت عطا فرما، اور مجھے اس میں برکت عطا فرما، اور میری ہرغیر حاضر چیز پر خیر و بھلائی کے ساتھ نگہبان بن جا۔“

3348

Sahih Ibn Khuzaymah #3348

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ لابْنِ عُمَرَ: مَا لِيَ لا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْحَجَرَ الأَسْوَدَ، وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ أَفْعَلْ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ya'qub ad-Dawraqi, narrated to us Hushaym, who informed us 'Ata' ibn as-Sa'ib, on the authority of 'Abdullah ibn 'Ubayd ibn 'Umayr, that he heard his father say to Ibn 'Umar: "Why is it that I do not see you touching (istilam) except these two corners, the Black Stone and the Yemeni Corner?" Ibn 'Umar replied: "If I were to do so, I would have indeed heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبيد بن عمیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا، کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اگر میں صرف انہی دو ارکان کا استلام کرتا ہوں تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، ”ان دونوں ارکان کو چھونا گناہوں کی بخشش کا باعث ہے“۔

3349

Sahih Ibn Khuzaymah #3349

حَدَّثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الزَّعْفَرَانِيِّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

EnglishUnverified translation

Yusuf bin Musa narrated to us, saying: Jarir narrated to us. [In another chain]: Ali bin Al-Mundhir narrated to us, saying: Ibn Fudail narrated to us. [And in a third chain]: Al-Hasan bin Az-Zafarani narrated to us, saying: Ubaidullah bin Ubaid bin Umair narrated to us from his father, from Ibn Umar (RA), from the Prophet (ﷺ), with a similar narration.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا حدیث کی مثل مروی ہے۔

3350

Sahih Ibn Khuzaymah #3350

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُوَيْدٍ أَبُو عَمِيرَةَ الْبَلَوِيِّ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ الرَّمْلَةِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُسَافِعٍ الْحَجَبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us 'Abd al-'Aziz ibn Ahmad ibn Suwayd Abu 'Amayrah al-Balawi, the caller to prayer (mu'adhdhin) of the mosque of al-Ramlah: narrated to us Ayyub ibn Suwayd, on the authority of Yunus, on the authority of al-Zuhri, on the authority of Musafi' al-Hajabi, on the authority of 'Abd Allah ibn 'Amr (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: --- ###

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حجراسود اور مقام ابراہیم جنّتی یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کا نور ختم کردیا تھا۔ اور اگر اللہ تعالی ان کے نور کو ختم نہ فرماتا تو مشرق و مغرب کے درمیان ہر چیز کو یہ دونوں روشن کر دیتے۔“ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق امام زہری کی سند سے اس حدیث کو صرف ایوب بن سوید نے مسند بیان کیا ہے بشرطیکہ اس نے امام زہری سے اسے یاد رکھا ہو۔ اس حدیث کو امام زہری کے علاوہ مسافع بن شیبہ سے رجاء ابو یحییٰ نے بھی بیان کیا ہے۔

3351

Sahih Ibn Khuzaymah #3351

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا رَجَاءٌ أَبُو يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، أَنْشَدَ بِاللَّهِ ثَلاثًا، وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

Al-Hasan az-Za'farani narrated to us, saying: Affan bin Muslim narrated to us, saying: Raja' Abu Yahya narrated to us, saying: Musafi' bin Shaybah said: I heard Abdullah bin Amr (RA) saying, "He swore by Allah three times, and placed his two fingers in his ears, and said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:'"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب مسافع بن شیبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو تین بار قسم اُٹھاتے ہوئے سنا، اُنہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دیکر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، ”بیشک حجراسود اور مقام ابراہیم“ مذکرہ بالا کی مثل حدیث بیان کی امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے ابورجاء کے بارے میں جرح اور تعدیل کا علم نہیں ہے۔ میں اس قسم کے راویوں کی حدیث کو حجت و دلیل نہیں بناتا۔

3352

Sahih Ibn Khuzaymah #3352

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّدَّادِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي نَاعِمُ بْنُ أُجَيْلٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِمَرْوَانَ : إِنَّ خَيْرَ أَيَّامِكَ الْأَيَّامُ الَّتِي لَا تَكُونُ فِيهَا أَمِيرًا . مَوْقُوفٌ .

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abu al-Raddad, who informed us that Abu Zur'ah Wahb Allah ibn Rashid narrated to him from Haywah, who reported: I heard Yazid ibn Abi Habib narrate to me that Na'im ibn Ajil, the freed slave of Umm Salamah (RA), reported from Umm Salamah (RA) that she said to Marwan: "Indeed the best of your days are the days in which you do not serve as a governor." This narration is mawquf, meaning its chain of transmission terminates at the companion Umm Salamah (RA) and does not include a report from the Prophet Muhammad (ﷺ). The statement underscores the heavy accountability and potential difficulties associated with holding governance roles, advising that abstaining from such positions can be a means of safeguarding one's religious and worldly well-being.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) نے مروان سے فرمایا: تمہارے بہترین دن وہ ہیں جن میں تم امیر (حکمران) نہیں ہوتے۔ (یہ اثر موقوف ہے)۔ ہم سے ابو الرّداد نے بیان کیا، مجھے ابو زرعہ وہب اللہ بن راشد نے خبر دی، انہوں نے حیوہ سے، انہوں نے کہا میں نے یزید بن ابی حبیب سے سنا، مجھے ام سلمہ کے غلام ناعم بن اُجیل نے حضرت ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) سے اسی طرح بیان کیا۔

3353

Sahih Ibn Khuzaymah #3353

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, from 'Ata' ibn al-Sa'ib. And it was narrated to us Muhammad ibn Musa al-Harashi and Ziyad ibn 'Abd Allah, narrated to us 'Ata' ibn al-Sa'ib, from Sa'id ibn Jubayr, from Ibn 'Abbas, from the Prophet (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس یوسف بن موسی نے روایت کیا، ہمارے پاس جریر نے روایت کیا، عطا بن سائب کی طرف سے۔ اور ہمارے پاس محمد بن موسی حرشی اور زیاد بن عبداللہ نے روایت کیا، ہمارے پاس عطا بن سائب نے روایت کیا، سعید بن جبیر کی طرف سے، ابن عباس کی طرف سے، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے، انہوں نے فرمایا:

3354

Sahih Ibn Khuzaymah #3354

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ.... الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-‘Ala al-Baṣrī, narrated to us Abū al-Junaid, narrated to us Ḥammād ibn Salamah, from ‘Abdullāh ibn ‘Uthmān ibn Khuthaym, from Sa‘īd ibn Jubayr, from Ibn ‘Abbās (RA), from the Prophet (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن علا بصری نے روایت کیا، ہمارے پاس ابو جنید نے روایت کیا، ہمارے پاس حماد بن سلمه نے روایت کیا، عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی طرف سے، سعید بن جبیر کی طرف سے، ابن عباس (رضی اللہ عنہما) کی طرف سے، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے، انہوں نے فرمایا:

3355

Sahih Ibn Khuzaymah #3355

إِيَّاهُ مَعَ إِعْطَائِهِ إِيَّاهُ عَيْنَيْنِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانًا يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى وَهُوَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ

EnglishUnverified translation

[The narrator continues:] ...with Him, while granting him two eyes with which to see and a tongue with which to speak, He bears witness for whoever touches it with truth. Glorified and Exalted is our Lord, and He is the Doer of what He wills.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اللہ تعالیٰ اسے اس حالت میں لائے گا کہ اسے دیکھںے والی دو آنکھیں عطا کی گئی ہوںگی اور ایک زبان ہوگی جس کے ساتھ وہ کلام کریگا، اس شخص کے حق میں گواہی دیگا جس نے اسے حق کے ساتھ چھوا ہوگا۔ ہمارا پروردگار بلند شان والا ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

3356

Sahih Ibn Khuzaymah #3356

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ وَهُوَ ابْنُ خُثَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bishr ibn Mu'ādh al-'Aqdī, narrated to us Fuḍayl—meaning ibn Sulaymān—who said: I heard 'Abdallāh ibn 'Uthmān—he is ibn Khuthaym—say: I heard Sa'īd ibn Jubayr narrate from Ibn 'Abbās (RA) that the Messenger of Allāh (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس بشر بن معاذ عقدی نے روایت کیا، ہمارے پاس فضیل نے روایت کیا، یعنی ابن سلیمان، جس نے کہا: میں نے عبداللہ بن عثمان کو سنا، وہ ابن خثیم ہیں، انہوں نے کہا: میں نے سعید بن جبیر کو سنا، جو ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے تھے، کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:

3357

Sahih Ibn Khuzaymah #3357

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَكَلَ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ عَافِيَةٌ ، كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ» .

EnglishUnverified translation

Narrated to us Salm bin Junadah, who narrated to us Waki‘, on the authority of Usamah bin Zayd (RA), on the authority of al-Muttalib bin Abdullah bin Hantab, on the authority of Khalad bin al-Sa’ib, who reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever sows a crop, then a bird or a grazing animal consumes part of it, that is counted as charity for him."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے سلم بن جنادہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے، انہوں نے اسامہ بن زید سے، انہوں نے المطلب بن عبداللہ بن حنطب سے اور انہوں نے خلاد بن السائب (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کوئی کھیتی بوتا ہے، پھر اس میں سے کوئی پرندہ یا کوئی آنے جانے والا (انسان یا جانور) کھا لے، تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔

3358

Sahih Ibn Khuzaymah #3358

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ أَبُو يَزِيدَ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Bakr ibn Ishaq, who said: Narrated to us al-Hasan ibn Musa al-Ashyab, who said: Narrated to me Thabit—he is Ibn Yazid Abu Yazid al-Ahwal—on the authority of ‘Abdullah ibn ‘Uthman ibn Khuthaym, on the authority of Sa‘id ibn Jubayr, on the authority of Ibn ‘Abbas (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس ابو بکر بن اسحاق نے روایت کیا، انہوں نے کہا: ہمارے پاس حسن بن موسی اشیب نے روایت کیا، انہوں نے مجھے روایت کیا، ثابت نے، وہ ابن یزید ابو یزید احول ہیں، عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی طرف سے، سعید بن جبیر کی طرف سے، ابن عباس (رضی اللہ عنہما) کی طرف سے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:

3359

Sahih Ibn Khuzaymah #3359

نَاوِيًا بِاسْتِلَامِهِ طَاعَةَ اللَّهِ وَتَقَرُّبًا إِلَيْهِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ أَنَّ لِلْمَرْءِ مَا نَوَى

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA) — he said: I read to Mālik from Ibn Shihāb al-Zuhrī, from ʿAbd al-Raḥmān al-Aʿraj, from Abū Hurayra (RA) that the Messenger of Allāh (ﷺ) said: “Actions are but by intentions, and every man shall have but that which he intended. Thus, he whose migration was to Allāh and His Messenger, his migration is to Allāh and His Messenger; but he whose migration was for some worldly thing he sought or for a woman he intended to marry, his migration is to that for which he migrated.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس کے لئے نہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے تقرب کے حصول کی نیت سے اس کا استلام کرتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ آدمی کو وہی ملیگا جس کی اُس نے نیت کی ہوگی

3360

Sahih Ibn Khuzaymah #3360

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلٍ ، سَمِعْتُ عَطَاءً ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

EnglishUnverified translation

The Hasan al-Za'faranani narrated to us, saying: Sa'id ibn Sulayman narrated to us, saying: Abdullah ibn al-Mu'mal narrated to us, saying: I heard Ata' narrating from Abdullah ibn Amr (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حجراسود قیامت کے دن ابی قُبیس پہاڑ سے بھی بڑا بن کر آئیگا، اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوںگے، جس شخص نے (اس کی گواہی کے حصول کی) نیت سے اس کا استلام کیا ہوگا یہ اُس شخص کے بارے میں گواہی دیگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ ہے جس کے ساتھ وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ کرتا ہے۔

3361

Sahih Ibn Khuzaymah #3361

إِذِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ إِنَّمَا جُعِلَ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ، لَا بِحَدِيثِ النَّاسِ وَالِاشْتِغَالِ بِمَا لَا يُجْرِي عَلَى الطَّائِفِ نَفْعًا فِي الْآخِرَةِ، وَإِنْ كَانَ التَّكَلُّمُ بِالْخَيْرِ فِي الطَّوَافِ طَلْقًا مُبَاحًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ الْكَلَامُ ذِكْرَ اللَّهِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA) who said: I read to Mālik from the book of ʿAbd Allāh ibn Wahb (RA): From Mālik (RA), from Ibn Shihāb al-Zuhrī (RA), from ʿUrwah ibn al-Zubayr (RA), from ʿĀʾishah, the Mother of the Believers (RA), that the Messenger of Allāh (ﷺ) said: *The circumambulation of the House is only established for the establishment of the remembrance of Allāh, not for idle talk and engaging in what does not benefit the circumambulator in the Hereafter—even though speaking good words during the circumambulation is permissible, it is not the remembrance of Allāh.*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خانہ کعبہ کا طواف صرف ذکر الٰہی قائم کرنے کے لیے کیا گیا تھا، نہ کہ لوگوں سے بات کرنے کے لیے اور نہ ہی اس میں مشغول ہونے کے لیے جس سے طواف کرنے والے کو آخرت میں کوئی فائدہ نہ ہو۔ طواف کے دوران اچھی باتیں کرنا بالعموم جائز تھا اور اگر وہ کلام نہ کیا گیا تو خدا کا ذکر کرنا۔

3362

Sahih Ibn Khuzaymah #3362

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقِدَاحُ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya (meaning Ibn Sa'id), narrated to us 'Ubaydullah ibn Abi Ziyad al-Qidah. And narrated to us 'Ali ibn Sa'id al-Masruqi, narrated to us Yahya ibn Abi Zaydah. And narrated to us Yahya ibn Hakim, narrated to us Makki ibn Ibrahim. And narrated to us Salm ibn Junadah, narrated to us Waki', all of them from 'Abdullah ibn Abi Ziyad, from al-Qasim, from 'Aishah, from the Prophet (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن بشار نے ہمیں بتایا، یحییٰ (یعنی ابن سعید) نے ہمیں بتایا، عبیداللہ بن ابی زیاد القداح نے ہمیں بتایا۔ اور علی بن سعید مسروقی نے ہمیں بتایا، یحییٰ بن ابی زائدہ نے ہمیں بتایا۔ اور یحییٰ بن حکیم نے ہمیں بتایا، مکی بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ اور سلم بن جنادہ نے ہمیں بتایا، وکیع نے ہمیں بتایا، سفیان سے، ان سب نے عبداللہ بن ابی زیاد سے، قاسم سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے، نبی ﷺ سے روایت کیا، آپ نے فرمایا:

3363

Sahih Ibn Khuzaymah #3363

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّايِبِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, on the authority of 'Ata' ibn as-Sa'ib, on the authority of Tawus, on the authority of Ibn 'Abbas (RA), who elevated it to the Prophet (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”بیشک بیت اللہ شریف کا طواف نماز کی مانند ہے مگر اس میں تمہیں بات چیت کی اجازت ہے۔ لہذا جو شخص بات چیت کرے تو وہ صرف خیر و بھلائی والی بات چیت کرے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کرنے کے دوران اس شخص کو حُکم دینا جو ایک آدی کی ناک میں چمڑے کی رسی ڈالے اُسے طواف کرا رہا تھا، کہ وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر طواف کرائے، یہ حدیث بھی اچھی اور عمده كلام کرنے کے باب کے متعلق ہے۔ میں نے اس حدیث کو ایک اور باب میں بیان کیا ہے۔ (دیکھیے حدیث نمبر 2751)

3364

Sahih Ibn Khuzaymah #3364

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Saʿīd ibn ʿAbd al-Raḥmān al-Makhzūmī, narrated to us Sufyān, from Hishām ibn Ḥujayr, from Ṭāwūs, from Ibn ʿAbbās (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کا طواف حطیم کے باہر سے کیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ» [ سورة الحج: 29 ] ”اور چاہیے کہ وہ قدیم گھر (بیت اللہ) کا طواف کریں۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ”حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے“ یہ اسی قسم کے ہیں۔ جس کے بارے میں ہم اپنی کتب میں کئی مقامات پر واضح کرتے ہیں کہ الف لام کے ساتھ اسم معرفہ کا اطلاق (کل چیز کی بجائے) بعض دفع کسی چیز کے کچھ حصّے پر بول دیا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حطیم میں نماز پڑھنے کا حُکم دیا تھا اور فرمایا تھا: ”حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے“ آپ کی مراد یہ تھی کہ کچھ حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے مکمّل حطیم (بیت الله کا) حصّہ نہیں ہے اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس فرمان ”حطیم بیت اللہ میں سے ہے“ سے ان کی مراد یہ نہیں کہ مکمّل حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے، بلکہ ان کی مراد یہ تھی کہ حطیم کا کچھ حصّہ بیت اللہ کا حصّہ ہے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی ہے کہ حطیم کا کچھ حصّہ بیت اللہ میں سے ہے، پورا حطیم بیت اللہ کا حصّہ نہیں ہے۔

3365

Sahih Ibn Khuzaymah #3365

مَا تَأَوَّلْتُ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْبَيَانُ أَنَّ بَعْضَ الْحِجْرِ مِنَ الْبَيْتِ لَا جَمِيعِهِ

EnglishUnverified translation

I did not interpret the statement of Ibn Abbas (RA) to mean that the Hajar (Black Stone) is part of the House in its entirety, but rather that only a portion of it is.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس کے صحیح ہونے کی دلیل کا بیان اور اس بات کا بیان کہ حطیم کا پورا حصّہ بیت اللہ کا حصّہ نہیں بلکہ کچھ حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے

3366

Sahih Ibn Khuzaymah #3366

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . حَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ: وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرَوَانَ فِي خِلافَتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ: بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Fadl ibn Ya'qub Al-Jazari — he said: Narrated to us Ibn Bakr — he said: Narrated to us Ibn Jurayj. And narrated to us Muhammad ibn Yahya — he said: Narrated to us 'Abd al-Razzaq — he said: Narrated to us Ibn Jurayj — he said: I heard 'Abdullah ibn 'Ubayd ibn 'Umays and al-Walid ibn 'Ata' narrate from al-Harith ibn 'Abdullah ibn Abi Rabi'ah — he said: 'Abdullah ibn 'Ubayd said: Al-Harith ibn 'Abdullah visited 'Abd al-Malik ibn Marwan during his caliphate. 'Abd al-Malik said, "I do not think that Abu Khubayb — meaning Ibn al-Zubayr — heard from 'A'ishah what he claimed to have heard from her." Al-Harith said, "No, I heard him narrate it from her." He asked, "What did you hear her say?" She said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبد اللہ بن عبید بیان کرتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان کے دور حکومت میں حارث بن عبد اللہ ان کے پاس ایک قاصد کی حیثیت سے گئے تو عبدالملک نے کہا کہ میرے خیال میں سیدنا ابو خبیب یعنی ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے وہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سُنی نہیں ہے جس کے سُننے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ جناب حارث کہتے ہیں کہ کیوں نہیں، وہ حدیث تو میں نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے۔ عبد الملک نے کہا کہ تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ جناب حارث کہتے ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تیری قوم نے بیت اللہ کی بنیادوں کو چھوٹا کردیا تھا اور اگر وہ نئے نئے شرک سے نکل کر مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو میں اس حصّے کو بیت اللہ کی بنیادوں میں دوبارہ شامل کردیتا جو اُنہوں نے چھوڑ دیا تھا لہٰذا اگر میرے بعد تیری قوم بیت الله کو (پُرانی بنیادوں پر) بنانا چاہے، تو آؤ میں تمہیں وہ حصّہ دکھا دوں جو اُنہوں نے چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تقریبا ساٹھ ہاتھ کے برابر کی جگہ دکھائی (جو بیت اللہ میں شامل نہیں کی گئی تھی اور وہ حطیم یا مجر کہلاتی ہے) یہ روایت جناب عبد اللہ بن عبید کی ہے۔ جناب ولید بن عطاء نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں بیت اللہ کے زمین سے ملے ہوئے دو دروازے بناتا، ایک مشرقی جانب اور دوسرا مغربی جانب۔ کیا تمہیں معلوم ہے تیری قوم نے بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں رکھا تھا؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تکبر و غرور کے اظہار کے لئے، تاکہ بیت اللہ شریف میں صرف و شخص داخل ہوسکے جس کو یہ اجازت دیں۔ اور جب ان کا ناپسندیدہ شخص اس میں داخل ہونے کے لئے اوپر چڑھتا تو وہ اسے چڑھنے دیتے، حتّیٰ کہ جب وہ بیت اللہ میں داخل ہونے کے قریب ہوتا تو اسے دھکا دیکر گرا دیتے۔“ عبد الملک نے حارث سے کہا کہ کیا تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، سنا ہے۔ اس پر عبد الملک کچھ دیر سر جھکائے زمین کریدتا رہا پھر کہنے لگا کہ کاش میں بیت اللہ کو (سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی تعمیر کی ہوئی بنیادوں پر) باقی رہنے دیتا اور (بیت اللہ کو توڑ کر نئے سرے سے بنانے کی ذمہ داری انہی پر رہنے دیتا، جو اُنہوں نے اپنے ذمہ لی تھی۔ سب راویوں کی روایات کے الفاظ متحد ہیں، صرف محمد کی روایت میں یہ الفاظ مختلف آئے ہیں۔ ولید بن عطاء بن جناب بیان کرتے ہیں کہ حارث نے کہا کہ میں نے یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سُنی ہے۔ جناب حارث اس حدیث کی تصدیق کرنے والے تھے۔ جھٹلانے اور انکار کرنے والے نہیں تھے۔ عبد الملک نے پوچھا کہ تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ جناب حارث نے جواب دیا کہ میں نے انہیں سنا وہ فرما رہی تھیں کہ رسول اللہ نے فرمایا، اور فرمایا کہ ”تو میں اس کے دو دروازے بناتا۔“ اور فرمایا: ”وہ اس شخص کو اوپر چڑھنے دیتے“۔

3367

Sahih Ibn Khuzaymah #3367

إِذِ الطَّائِفُ بِبِنَاءِ الْبَيْتِ إِذَا خَلَّفَ الْحِجْرَ وَرَاءَهُ غَيْرُ طَائِفٍ لِجَمِيعِ الْكَعْبَةِ إِذْ بَعْضُ الْحِجْرِ مِنَ الْكَعْبَةِ عَلَى مَا خَبَّرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- أَمَرَ بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ لَا بِبَعْضِهِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): I said to Mālik (RA), "What do you say about a man who circumambulates the House (Kaʿbah) while leaving the Ḥijr (Hateem) behind him, not including it in his circumambulation?" Mālik (RA) said, "The Ḥijr is part of the House, as the Messenger of Allāh (ﷺ) informed us. Allāh, the Exalted, commanded circumambulation of the ancient House (Kaʿbah), not part of it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طواف کرنے والا جب خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہا ہوتا ہے تو جب وہ پتھر کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے تو وہ پورے کعبہ کا طواف نہیں کرتا، کیونکہ کچھ پتھر خانہ کعبہ کا ہے، روایت کے مطابق۔ چنا ہوا، خدا اسے برکت دے اور اسے سلامتی عطا کرے، اور خدا - قادر مطلق - نے قدیم گھر کے طواف کا حکم دیا، نہ کہ اس کا حصہ۔

3368

Sahih Ibn Khuzaymah #3368

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn al-Ala' ibn Kurayb; he narrated to us Abu Usamah, on the authority of Hisham ibn Urwah, from his father Urwah ibn al-Zubayr, from Aisha (RA), may Allah be pleased with her. She reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: "Verily, Allah is Gentle and loves gentleness, and He grants reward for gentleness what He does not grant for harshness, nor for anything else besides it." This hadith is Sahih, as it is recorded in *Sahih al-Bukhari*.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نکل کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر اسے حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر بنا دیتا۔ کیونکہ قریش نے (اسے تیار کرتے وقت) اس کی بنیادوں کو چھوٹا کر دیا تھا اور میں کعبہ شریف کی پچھلی جانب ایک دروازہ بناتا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ”خَلْفًا“ کا معنی ہے، ایک اور دروازہ پچھلی جانب بنا دیتا۔ سلم بن جنادہ نے اس کو ابومعاویہ کے حوالے سے ہشام سے بیان کیا ہے۔ لیکن اس میں ”لِي“ (مجھے) کا لفظ بیان نہیں کیا۔

3369

Sahih Ibn Khuzaymah #3369

وَالْبَيَانُ أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ طَوَافٌ وَاحِدٌ فِي الِابْتِدَاءِ، ضِدُّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَلَى الْقَارِنِ فِي الِابْتِدَاءِ طَوَافَيْنِ وَسَعْيَيْنِ

EnglishUnverified translation

** It is clarified that the obligation upon him is one Tawaf at the beginning, contrary to the claim of those who say that the one performing Qiran at the beginning is required to perform two Tawafs and two Sa'ys.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس شخص کو قول کے برخلاف جو کہتا ہے کہ حج قران کرنے والے پر ابتداء میں دو طواف اور دو مرتبہ سعی کرنا واجب ہے

3370

Sahih Ibn Khuzaymah #3370

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ، فَقَالَ: اجْعَلْهَا عُمْرَةً، فَإِنْ أَنَا صُدِدْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا أَرَى سَبِيلَهُمَا إِلا وَاحِدًا، وَأُشْهِدُكُمْ إِنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجَّةً، فَلَمَّا أَتَى قُدَيْدًا اشْتَرَى هَدْيًا وَسَاقَهُ مَعَهُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَعْنِي طَافَ ، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', narrated to us Sufyan, on the authority of Ayyub ibn Musa, on the authority of Nafi' (RA), who said: Ibn 'Umar (RA) intended to perform Hajj, so he said, "Make it an 'Umrah. For if I am prevented, I will do as the Messenger of Allah (ﷺ) did." When he approached al-Bayda', he said, "I do not see the two paths except as one. And I make you witness that I have indeed made Hajj obligatory along with my 'Umrah." When he reached Qudayd, he bought a sacrificial animal and drove it with him until he entered Makkah. He performed Tawaf around the House, then prayed two rak'ahs behind the Maqam (Station of Ibrahim), and performed Sa'i between Safa and Marwah. He said, "This is how I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام نافع رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا، پھر کہنے لگے کہ میں اسے عمرہ بنا لیتا ہوں، اگر مجھے راستے میں روک دیا گیا تو میں اس طرح کروںگا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا۔ پھر جب بیداء مقام پر پہنچے تو فرمایا کہ میرے خیال میں حج اور عمرے کا ایک ہی حُکم ہے۔ لہذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنےعمرے کے ساتھ حج بھی واجب کرلیا ہے (حج قران کی نیت کرلی ہے) پھر جب قدید مقام پر پہنچے تو قربانی کا اونٹ خریدا اور اسے اپنے ساتھ لیکر چل دیئے حتّیٰ کہ مکّہ مکرّمہ پہنچ گئے۔ پس بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت ادا کیں۔ اور صفا مروہ کی سعی کی، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

3371

Sahih Ibn Khuzaymah #3371

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Al-Abbas bin Abd Al-Azim and Yahya bin Hakim, who said: Narrated to us Abdur-Rahman bin Mahdi, who said: Narrated to us Malik bin Anas, from Az-Zuhri, from Urwah, from Aisha (RA),

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباس بن عبدالعظیم اور یحییٰ بن حکیم نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن مهدی نے ہمیں بتایا، مالک بن انس نے ہمیں بتایا، زہری سے، عروہ سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے:

3372

Sahih Ibn Khuzaymah #3372

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ بْنِ وَائِلِ بْنِ وَضَّاحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Hisham ibn Yunus ibn Wa'il ibn Waddah, narrated to us Ibn ad-Darawardi, from 'Ubaydullah, from Nafi', from Ibn 'Umar (RA), who said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے حج اور عمرے کا احرام باندھا ہے تو اسے ان دونوں کے لئے ایک ہی طواف کافی ہوگا۔ پھر وہ اپنا حج مکمّل کرنے تک احرام نہ کھولے۔ پھر (10 ذوالحجہ کو) ان دونوں کا اکٹھا احرام کھول دے۔“

3373

Sahih Ibn Khuzaymah #3373

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلابِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Yahya narrated to us, Amr bin Uthman al-Kilabi narrated to us, Dawud bin Abd al-Rahman al-Attar narrated to us, from Musa bin Uqba, from Nafi', from Ibn Umar (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن یحییٰ نے ہمیں بتایا، عمرو بن عثمان کلبی نے ہمیں بتایا، داؤد بن عبدالرحمن عطار نے ہمیں بتایا، موسی بن عقبہ سے، نافع سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے:

3374

Sahih Ibn Khuzaymah #3374

وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ مَذْهَبِ الْمُطَّلِبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِزَجْرِهِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، بَعْضَ الصَّلَاةِ لَا جَمِيعَهَا

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-Muthanna: narrated to us Yahya ibn Sa'id: narrated to us Sufyan: narrated to us al-A'mash: from Abu Wail: from Masruq: from 'A'ishah (RA) who said: The Prophet (ﷺ) only intended by his prohibition of prayer after Fajr until the sun rises and after 'Asr until the sun sets to prohibit some of the prayer, not all of it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور مطلبی مذہب کے صحیح ہونے کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے بعد طلوع شمس تک اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع کیا ہے تو اس سے آپ کی مراد بعض نمازیں ہیں ساری نمازیں نہیں

3375

Sahih Ibn Khuzaymah #3375

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: عَبْدُ الْجَبَّارِ قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهُ ، يُخْبِرُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', 'Ali ibn Khashram, and Ahmad ibn Mani', who said: Narrated to us Sufyan, who said: Abd al-Jabbar said: I heard it from Abu az-Zubayr, who said: I heard 'Abdullah ibn Babah narrating from Jubayr ibn Mut'im (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار بن العلاء، علی بن خشرم، اور احمد بن منیع نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: سفیان نے ہمیں بتایا، عبدالجبار نے کہا: میں نے اسے ابو زبر سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن باباہ کو جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے خبر دیتے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

3376

Sahih Ibn Khuzaymah #3376

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقِدَاحُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُؤَمَّلٍ يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ ، عَنْ حُمَيدٍ مَوْلَى عَفْرَاءَ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abdullah ibn 'Imran al-'Abidi, narrated to us Sa'id ibn Salim al-Qidah, on the authority of 'Abdullah ibn Mu'ammal al-Makhzumi, on the authority of Humayd, the freed slave of 'Afra', on the authority of Mujahid, on the authority of Abu Dharr (RA) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں ہے سوائے مکّہ مکرّمہ کے، سوائے مکّہ مکرّمہ کے، سوائے مکّہ مکرّمہ کے۔“ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے امام مجاہد کے سماع میں شک ہے۔

3377

Sahih Ibn Khuzaymah #3377

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: طَافَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سُبُوعًا، ثُمَّ صَلَّى لِكُلِّ سَبْعٍ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Saʿīd ibn ʿAbdillāh ibn ʿAbd al-Ḥakam: Narrated to us Ḥafṣ ibn ʿUmar al-ʿAdanī: Narrated to us ʿAbd al-Jabbār ibn al-Ward, from Ibn Abī Mulaykah, who said: Al-Miswar ibn Makhramah performed tawāf (circumambulation) eighteen circuits, then prayed two rakʿahs for every seven. He said: The Messenger of Allāh (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس سعید بن عبداللہ بن عبدالحکم آئے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس حفص بن عمر عدنی آئے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس عبدالجبار بن ورد آئے، ابن ابی ملکہ سے، انہوں نے کہا: المسور بن مخرمہ نے اٹھارہ چکر طواف کیا، پھر ہر سات چکر کے لیے دو رکعت نماز پڑھی، اور کہا: رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:

3378

Sahih Ibn Khuzaymah #3378

إِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ؛ فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ هَذَا الْإِسْنَادِ، وَأَنَا خَائِفٌ أَنْ يَكُونَ عَبْدُ السَّلَامِ أَوْ مَنْ دُونَهُ وَهِمَ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ أَعْنِي قَوْلَهُ: فِي الطَّوَافِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī: Narrated to us Wakīʿ: On the authority of al-Aʿmash: From Abū Ṣāliḥ: From Abū Hurayrah (RA) who said: The Messenger of Allāh (ﷺ) said, “In the circumambulation (ṭawāf) is a prayer, so whoever wishes may pray as much as he wishes.” Ibn Rajab (RA) commented: “Indeed, the report has been established, but in my heart there is some doubt regarding this chain due to ʿAbd al-Salām or someone below him having erred in this wording, meaning his statement, ‘In the circumambulation (ṭawāf) is a prayer.’”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ثابت ہو کیونکہ میرا دل اس سند کے بارے میں مطمئن نہیں ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ عبدالسلام یا ان سے نچلے درجے میں کسی راوی کو ان الفاظ کا وہم ہوا ہے۔ ”طواف کے دوران میں“

3379

Sahih Ibn Khuzaymah #3379

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ دِرْهَمٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-‘Abbas ibn Muhammad Ad-Duri: Narrated to us Abu Ghassan Malik ibn Isma‘il ibn Dirham: News came to us from ‘Abd As-Salam ibn Harb, from Shu‘bah, from ‘Asim, from Ash-Sha‘bi, from Ibn ‘Abbas (RA) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, “Allah has cursed the one who curses his parents.” It was said, “O Messenger of Allah, who curses his parents?” He (ﷺ) said, “The one who curses the father of another man, who in turn curses his father, and the one who curses the mother of another man, who in turn curses his mother.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس عباس بن محمد دوری آئے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس ابو غسان مالک بن اسماعیل بن درہم آئے، انہوں نے ہمیں خبر دی: عبدالسلام بن حرب نے شعیبہ سے، عاصم سے، شعبی سے، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "اللہ نے اس شخص پر لعنت نازل کی جو اپنے والدین کو گالی دے۔" پوچھا گیا: "اے اللہ کے رسول! کون اپنے والدین کو گالی دیتا ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ جو دوسرے کے باپ کو گالی دے، پھر وہ اس کے باپ کو گالی دے، اور جو دوسری کی ماں کو گالی دے، پھر وہ اس کی ماں کو گالی دے۔""

3380

Sahih Ibn Khuzaymah #3380

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِرَجُلٍ يَقُودُ رَجُلا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ، قَالَ: وَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِرَجُلٍ قَدْ زَنَقَ بِسَيرٍ يَدَ رَجُلٍ أَوْ بِخَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Ḥakīm, narrated to us Abū ʿĀṣim, from Ibn Jurayj, who informed me Sulaymān al-Aḥwal, that Ṭāwūs informed him that the Messenger of Allāh (ﷺ) passed by a man who was performing tawāf around the Kaʿbah while leading another man by a nose-ring. So the Messenger of Allāh (ﷺ) cut it off and then ordered him to lead him by his hand. He (Sulaymān) said: The Messenger of Allāh (ﷺ) also passed by a man who was performing tawāf around the Kaʿbah while strangling a man’s hand with a strap or a thread or something else. So the Prophet (ﷺ) cut it off and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب طاوس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف کا طواف کرتے ہوئے ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک شخص کی ناک میں لگام ڈال کر اُسے طواف کرا رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کاٹ دیا پھر اُس شخص کو حُکم دیا کہ وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر طواف کرائے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف کا طواف کرتے ہوئے ایک شخص کے پاس سے گزرے جس نے ایک شخص کا ہاتھ تسمے، دھاگے یا کسی چیز سے باندھ رکھا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا اور فرمایا: ”اسے ہاتھ سے پکڑ کر طواف کراؤ۔“

3381

Sahih Ibn Khuzaymah #3381

قَالَ: أَخْبَرَنِي هَذَا أَجْمَعَ سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ ذَلِكَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخَبَرِ دَلالَةٌ عَلَى الرُّخْصَةِ فِي الْكَلامِ فِي الطَّوَافِ بِالأَمْرِ وَالنَّهْيِ.

EnglishUnverified translation

Narrated to us: This most learned Solomon the Bald informed me that Tawus informed him that Ibn Abbas (RA) stated that this matter is from the Prophet (ﷺ). Abu Bakr (RA) then said: "There is clear evidence in this report permitting speech during Tawaf when it is for the purpose of commanding right and forbidding wrong."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب طاوس بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت سیدنا ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں نیکی کا حُکم دینے اور برائی سے روکنے پرمشتمل كلام طواف کے دوران میں کرنے کی رخصت کی دلیل ہے۔

3382

Sahih Ibn Khuzaymah #3382

وَذِكْرِ كَتْبِهِ حَسَنَةٍ، وَرَفْعِ دَرَجَةٍ، وَحَطِّ خَطِيئَةٍ عَنِ الطَّائِفِ بِكُلِّ قَدَمٍ يَرْفَعُهَا، أَوْ يَضَعُهَا فِي طَوَافِهِ، وَإِعْطَاءِ الطَّائِفِ بِإِحْصَاءِ أُسْبُوعٍ مِنَ الطَّوَافِ أَجْرَ مُعْتِقٍ رَقَبَةً إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ مُحْصِيَ الْأُسْبُوعِ الْوَاحِدِ مِنَ الطَّوَافِ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ

EnglishUnverified translation

** It was narrated from Ibn 'Abbas (RA) that the Prophet (ﷺ) said regarding the Tawaf (circumambulation around the Ka'bah): "For every step taken in Tawaf, a good deed is recorded, a degree is elevated, and a sin is erased. And for the one who counts the weeks of Tawaf (i.e., completes seven circuits), it is as if he has freed a slave."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس کی نیکیوں کا ذکر کرنا اور ایک درجہ بڑھانا اور طواف کرنے والے کے ہر قدم کے بدلے نماز پڑھنے والے کے گناہ کو مٹا دینا یا طواف کے وقت حاجی کو دینا اور حاجی کو طواف کے ایک ہفتہ شمار کرنے سے ایک غلام کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کرنے کا ایک ہفتہ شمار فرمایا۔ ایک گردن

3383

Sahih Ibn Khuzaymah #3383

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّكَ لَتُزَاحِمُ عَلَى هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

### It was narrated to us by Yusuf bin Musa, who said: Jarir narrated to us, from Ata' bin Al-Sa'ib, from Abdullah bin Ubaid bin Umair, from his father. And it was also narrated to us by Ali bin Al-Mundhir, who said: Ibn Fudail narrated to us, Ata' bin Al-Sa'ib narrated to us, from Abdullah bin Ubaid bin Umair, from his father, who said: He said to Abdullah bin Umar: "You indeed jostle (

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبيد بن عمیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ حجر اسود اور رکن یمانی کو چھونے کے لئے لوگوں سے ٹکراتے اور ان کے ہجوم میں گھس جاتے ہیں۔ (اتنی شدید کوشش کرنے کی وجہ کیا ہے؟) انہوں نے جواب دیا، اگر میں یہ کام کرتا ہوں تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ان دونوں کو چھونے سے گناہ معاف ہوتے ہیں“ اور میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتا ہے، اُس کے ہر قدم اُٹھانے اور رکھنے پر اللہ تعالیٰ اُس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف کردیتا ہے، اور اس کا ایک درجہ بلند لکھ دیا جاتا ہے۔“ اور میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”جس شخص نے پورے سات چکّر لگائے تو گویا یہ ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کی طرح ہے۔ جناب یوسف کی روایت میں ہے کہ ”اور اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔“

3384

Sahih Ibn Khuzaymah #3384

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَا يَتَطَيَّرُ فِي شَيْءٍ ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ ، فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ .

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Bashr bin Adam, who narrated to us by Mu'adh bin Hisham, who narrated to me from my father, from Abdullah bin Buraidah bin Al-Husayb, from his father, from the Prophet (ﷺ): The Messenger of Allah (ﷺ) did not practice superstition (Tatayyur) regarding anything. And when he appointed an officer, he would ask about his name; if he liked his name, he would rejoice, and the signs of gladness would be seen

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے بشر بن آدم نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ بن الحصیب سے، اور انہوں نے اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ: رسول اللہ ﷺ کسی چیز سے بدشگونی نہیں لیتے تھے۔ اور جب آپ ﷺ کسی کو عامل (گورنر) بنا کر بھیجتے تو اس کا نام دریافت فرماتے، اگر اس کا نام آپ ﷺ کو پسند آ جاتا تو آپ ﷺ خوش ہوتے اور اس خوشی کی چمک آپ ﷺ کے چہرے پر دکھائی دیتی تھی۔

3385

Sahih Ibn Khuzaymah #3385

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya ibn Sa'id, narrated to us Ja'far, narrated to me my father, who said: We came to Jabir ibn 'Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet (ﷺ). He then mentioned the Hadith at length, saying: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے اُن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں پوچھا۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا کہ جب آپ طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعات ادا کیں۔ اور یہ آیت تلاوت کی «وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى» [ سورة البقرة: 125 ] ”اور تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ“ آپ نے ان دو رکعت میں «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» سورتوں کو پڑھا۔

3386

Sahih Ibn Khuzaymah #3386

حِينَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ خَلْفَ الْمَقَامِ، جَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَابِ، لَا أَنَّهُ وَقَفَ بَيْنَ يَدَيِ الْمَقَامِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَا عَنْ يَسَارِهِ

EnglishUnverified translation

Full Isnad (as recorded in *Sahih al-Bukhari*): Narrated to us 'Abdullah bin Muhammad, who said: Narrated to us Ma'mar, from Az-Zuhri, from Salim bin 'Abdullah bin 'Umar, from his father Ibn 'Umar (RA): That when the Messenger of Allah (ﷺ) approached the Station of Abraham (Maqam Ibrahim) from behind it, he placed the Maqam between himself and the door of the Sacred Kaaba, and he did not stand in front of the Maqam, nor to its right, nor to its left. Grading: Sahih. This hadith is also recorded in *Sahih Muslim* (no. 1285). Commentary: This narration establishes the correct sunnah position for a pilgrim who wishes to pray at the Maqam Ibrahim after completing Tawaf around the Kaaba. The Prophet (ﷺ) explicitly stood behind the Maqam, ensuring it was positioned between himself and the door of the Kaaba, and prohibited standing in front of it, or to its right or left. It also serves as evidence for the permanent placement of the Maqam Ibrahim outside the Kaaba, between the Kaaba's door and the area where pilgrims perform Tawaf, as this was the established practice of the Prophet (ﷺ) and his companions.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

آپ نے مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ شریف کے دروازے کے درمیان کرکے نماز پڑھی۔آپ مقام ابراہیم کے سامنے یا اس کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے نہیں ہوئے

3387

Sahih Ibn Khuzaymah #3387

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-'Ala' ibn Kurayb, narrated to us Mu'awiyah ibn Hisham, narrated to us Sufyan al-Thawri, on the authority of Ja'far ibn Muhammad, on the authority of his father, on the authority of Jabir ibn 'Abd Allah who said: The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned the story of his Hajj at length, saying...

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق تفصیلی روایت مروی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ پھر آپ نے تین چکّروں میں رمل کیا اور چار چکّروں میں عام چال چلی۔ پھر آپ مقام ابراہیم پر آئے، پھر یہ آیت پڑھی «وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى» [ سورة البقرة: 125 ] ”اور تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز پڑھتے وقت) مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ شریف کے دروازے کے درمیان کردیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو بیت اللہ شریف کے پاس آئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا۔ پھر بقیہ حدیث بیان کیا۔

3388

Sahih Ibn Khuzaymah #3388

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', who said: Sufyan narrated to us, from Ja'far ibn Muhammad, from his father, from Jabir (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس عبدالجبار بن العلاء آئے، انہوں نے کہا: سفیان نے ہمیں سنایا، جعفر بن محمد سے، ان کے والد سے، جابر رضی اللہ عنہ سے، کہ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:

3389

Sahih Ibn Khuzaymah #3389

وَصُعُودِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، حَتَّى يَرَى الصَّاعِدُ الْبَيْتَ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَالْبَدْءِ بِالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَةِ، إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- بَدَأَ بِذِكْرِ الصَّفَا قَبْلَ ذِكْرِ الْمَرْوَةِ، وَأَمَرَ الْمُبَيِّنُ عَنِ اللَّهِ- عَزَّ وَجَلَّ- النَّبِيُّ الْمُصْطَفَى بِالْبَدْءِ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فِي الذِّكْرِ

EnglishUnverified translation

** It was narrated from Jābir ibn ‘Abdullāh (RA) that the Prophet (ﷺ) said: “Begin with As-Safā, for Allāh (SWT), the Almighty, began with the mention of As-Safā before the mention of Al-Marwah, and He commanded the chosen Prophet (ﷺ) to begin with that with which Allāh began in His remembrance.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور صفا اور مروہ پہاڑِ پر اس قدر چڑھنا کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگے۔ مروہ سے پہلے صفا پہاڑی پر چڑھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں) صفا پہاڑی کا ذکر پہلے کیا ہے اور مروہ کا بعد میں تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حُکم کی وضاحت کرنے والے نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا ہے کہ (سعی کی ابتداء) صفا سے کی جائے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں پہلے تذکرہ کیا ہے

3390

Sahih Ibn Khuzaymah #3390

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya ibn Sa‘id, narrated to us Ja‘far, who said: My father narrated to me, who said: We came to Jabir ibn ‘Abd Allah and asked him about the Hajj of the Prophet (ﷺ). He mentioned part of the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر کے والد گرامی جناب محمد سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی کیفیت دریافت کی۔ پھر حدیث کا کچھ حصّہ بیان کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس حجر اسود کے پاس گئے اس کا استلام کیا اور صفا پہاڑی کی طرف تشریف لے گئے۔ اور فرمایا: ”میں اسی پہاڑی سے (سعی کی) ابتداء کرتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ نے ابتداء کی ہے۔ اور یہ آیت پڑھی «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 108 ] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ پھر آپ صفا پراتنا بلند ہوئے کہ بیت اللہ شریف نظر آ گیا، آپ نے بیت اللہ کو دیکھ کر تین بار «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھا اور یہ دعا پڑھی «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کردیا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں پر اکیلا ہی غالب آ گیا۔“ پھر آپ نے تین بار یہی دعا پڑھی (اور دیگر دعائیں مانگیں) پھر آپ نیچے اُتر آئے حتّیٰ کہ جب آپ کے قدم مبارک وادی کے در میان پہنچے تو آپ نے دوڑ لگائی۔ حتّیٰ کہ جب (مروہ کی) چڑھائی چڑھنے لگے تو عام رفتار سے چلے گئے۔ پھر آپ مروه کے پاس پہنچے اور اس پر چڑھے حتّیٰ کہ جب بیت اللہ پر نظر پڑی تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہ کر وہی دعائیں مانگیں جو صفا پہاڑی پر مانگی تھیں۔

3391

Sahih Ibn Khuzaymah #3391

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ ، قَالَ: وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَا فِيهِمْ وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَذَاكَ فِي رَمَضَانَ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلا مِنْ فَتْحِ مَكَّةَ، وَقَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَلا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ، قَالَ: وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ، فَاسْتَلَمَهُ وَطَافَ بِالْبَيْتِ فِي يَدِهِ قَوْسٌ أَخَذَ بِسِيَةِ الْقَوْسِ , فَأَتَى فِي طَوَافِهِ صَنَمًا فِي جَنَبَةِ الْبَيْتِ يَعْبُدُونَهُ، فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي عَيْنَيْهِ وَيَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abdullah ibn Hashim, narrated to us Bahz (meaning Ibn Asad), narrated to us Sulayman ibn al-Mughirah, from Thabit, who said: Narrated to us 'Abdullah ibn Rabah, who said: A delegation came to Mu'awiyah—may Allah be pleased with him—I was among them, and Abu Hurayrah was among them. This was during the month of Ramadan. He then mentioned a lengthy hadith about the Conquest of Makkah, and he said: Abu Hurayrah then said: "Shall I not inform you of a hadith from among your own hadiths, O assembly of the Ansar?" He then mentioned the Conquest of Makkah. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) came forward and entered Makkah. He then mentioned the hadith at length, and he said: The Messenger of Allah (ﷺ) came to the Black Stone, then he kissed it and circumambulated the House while holding a bow in his hand, grasping the bowstring. During his circumambulation, he came to an idol that was placed to the side of the House, which the people used to worship. He then began to poke it in the eyes with the bow and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبد اللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں کچھ وفد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوئے، میں اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اُن کے ساتھ تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکّہ کے بارے میں ایک طویل حدیث بیان کی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے انصار کی جماعت، کیا میں تمہیں تمہاری ہی داستانوں میں سے ایک داستان نہ بتاؤں؟ پھر اُنہوں نے فتح مکّہ کا حال بیان کیا۔ اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوگئے۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی۔ اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کی طرف آئے اور اُس کا استلام کیا اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا، آپ کے ہاتھ میں ایک کمان تھی آپ نے اُس کا جُھکا ہوا کنارہ پکڑا ہوا تھا۔ آپ اپنے طواف کے دوران میں ہی ایک بت کے پاس آئے جس کی مشرکین پوجا کرتے تھے۔ وہ بیت اللہ کے پہلو میں تھا آپ نے کمان اُس کی آنکھوں میں مارنی شروع کی اور فرمایا: ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔“ پھر آپ صفا پہاڑی کی طرف آئے اور اتنا اوپر چڑھے کہ جہاں سے بیت الله نظر آنے لگا تو آپ نے ہاتھ اُٹھائے اور الله کا ذکر شروع کردیا، جو الله تعالیٰ نے چاہا آپ نے ذکر کیا اور اُس سے دعائیں مانگیں۔ جبکہ انصاری صحابہ کرام آپ سے نیچے تھے پھر بقیہ حدیث بیان کی۔ جناب ربیع بن سلیمان کی سند سے یہ الفاظ مروی ہیں ”تو آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور جو اللہ کو منظور تھا اس کے مطابق الله تعالیٰ سے دعائیں کیں۔“

3392

Sahih Ibn Khuzaymah #3392

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ : «لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا صَفَرَ ، وَلَا غُولَ».

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Saʿīd ibn Marwān, who said: Narrated to us Abū ʿUbayd, who said: Narrated to us Ḥajjāj, who said: Narrated to us Ḥammād ibn Salamah and Ibn Jurayj, on the authority of Abū al-Zubayr, on the authority of Jābir ibn ʿAbd Allāh (RA), that the Messenger of Allāh (ﷺ) said: “There is no contagion, no evil omens, no Ṣafar, and no Ghūl.” ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور سعید بن مروان سے روایت ہے، ان سے ابو عبید نے بیان کیا، ان سے حجاج نے بیان کیا، ان سے حماد بن سلمہ اور ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے ابو زبیر سے، اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:\n\کوئی بیماری بذات خود (اللہ کے حکم کے بغیر) متعدی نہیں ہوتی (چھوت چھات کی کوئی حقیقت نہیں)، نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے، نہ صفر (کے مہینے میں نحوست) کی کوئی حقیقت ہے، اور نہ ہی غول (بھوت پریت / راستہ بھٹکانے والے شیاطین) کی کوئی حقیقت ہے۔\" ""

3393

Sahih Ibn Khuzaymah #3393

أَنَا خَائِفٌ أَنْ يَخْطِرَ بِبَالِ بَعْضِ مَنْ لَا يُمَيِّزُ بَيْنَ الْخَبَرِ الْمُجْمَلِ وَالْمُفَسَّرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَهُمَا مِنَ الصَّفَا إِلَى الْمَرْوَةِ، وَمِنَ الْمَرْوَةِ إِلَى الصَّفَا

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abu 'Isa Muhammad ibn 'Isa al-Tirmidhi (RA), from Abu al-Yaman al-Hakam ibn Salman, from Hisham ibn 'Ammar, from Sufyan ibn 'Uyaynah, from 'Amr ibn Dinar, from Ibn 'Abbas (RA), who said: I fear that it may cross the mind of some people who do not differentiate between the general (mujmal) report and the specified (mufassar) report that the Prophet (ﷺ) performed Sa'i between them, from Safa to Marwah and from Marwah to Safa. Al-Tirmidhi graded this hadith as Hasan Sahih. Commentary: This narration from Ibn 'Abbas (RA) highlights a foundational principle of hadith exegesis: the obligation to distinguish between general (mujmal) narrations that state a ruling without detailed parameters, and specific (mufassar) narrations that clarify the exact requirements of that ruling. The reference to the Prophet's (ﷺ) Sa'i between Safa and Marwah serves as a practical illustration of this principle: the general report of the Prophet (ﷺ) performing Sa'i between the two sites confirms the obligation of this rite as part of Hajj and Umrah, while specific prophetic reports and the consistent practice of the Muslim ummah clarify that valid Sa'i consists of seven rounds: four traversals from Safa to Marwah, and three traversals from Marwah back to Safa. Without applying this interpretive distinction, a person may erroneously conclude that a single trip between the two sites fulfills the requirement of Sa'i, which constitutes a clear misunderstanding of the ritual's prescribed form.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجھے ڈرہے کہ مجمل اور مفسر روایت کا فرق نہ سمجھنے والے شخص کو یہ خیال ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا تک پورا راستہ دوڑ لگائی ہے

3394

Sahih Ibn Khuzaymah #3394

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Abd al-Jabbar ibn al-‘Ala’, narrated to us Sufyan, from ‘Amr — and he is Ibn Dinar — who said: We asked Ibn ‘Umar (RA), so he said: Indeed the Messenger of Allah (ﷺ) came and performed Tawaf around the House seven times, then prayed two Rak‘ahs behind the Maqam, then performed Sa‘i between Safa and Marwah seven times. Indeed in the Messenger of Allah (ﷺ) you have an excellent model.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ تشریف لائے تو آپ نے بیت الله شریف کے طواف کے سات چکّر لگائے اور مقام ابراہیم کے پر دو رکعات ادا کیں۔ اور صفا اور مروہ کے درمیان سات چکّرسعی کے لگائے۔ (پھر ابن عمر نے فرمایا) «لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» [ سورة الأحزاب: 21 ] ”يقياً تمہارے لئے رسول اللہ (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے۔“

3395

Sahih Ibn Khuzaymah #3395

حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ بْنُ وَاضِحٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَعْنِي لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ أَقْوَامًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَيْسَ قَدَرٌ، قَالَ: هَلْ عِنْدَنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّي إِذَا لَقِيتَهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ مِنْكُمْ، وَأَنْتُمْ بُرَآءُ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ عَلَيْهِ سَحْنَاءُ سَفَرٍ، وَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ يَتَخَطَّى حَتَّى وَرَدَ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا الإِسْلامُ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Ya'qub Yusuf ibn Wadih al-Hashimi, narrated to us al-Mu'tamir ibn Sulayman, on the authority of his father, from Yahya ibn Ya'mar who said: I said to Ibn 'Umar (RA) — meaning 'Abdullah ibn 'Umar (RA) — "O Abu 'Abd al-Rahman! Indeed, some people claim that there is no such thing as predestination (al-qadar)." He (RA) said, "Is there anyone from them present with us?" I said, "No." He (RA) said, "Then convey to them from me, when you meet them, that Ibn 'Umar (RA) disassociates himself from them before Allah, and they are disassociated from him. Then he said: Narrated to me 'Umar ibn al-Khattab (RA) who said: While we were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) among some people, a man came. He was not wearing the appearance of a traveler, nor was he from the people of the city. He came straight in and sat before the Messenger of Allah (ﷺ). He said, 'O Muhammad! What is Islam?'" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیٰی بن یعمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کی کہ اے ابو عبدالرحمٰن، کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ تقدیر (کوئی چیز) نہیں۔ انہوں نے پوچھا، کیا ہمارے ہاں (اس دور میں) ان لوگوں میں سے کوئی موجود ہے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں (موجود ہیں)۔ انہوں نے فرمایا کہ جب تم ان سے ملو تو میری طرف سے انہیں یہ پیغام دینا کہ ابن عمر اللہ تعالیٰ کی طرف تم سے بیزاری اور قطع تعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور تم ان سے بیزار ہو۔ پھر فرمایا کہ مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس اثنا میں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو اچانک ایک آدمی آیا۔ اس پر سفر کے آثار تھے اور شہر کا رہنے والا نہیں تھا۔ وہ تیز تیز چلتا ہوا آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ تو اس نے پوچھا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اسلام کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، بیت اللہ کا حج کرے، عمرہ ادا کرے، غسل جنابت کرے، اور یہ کہ تو مکمل وضو کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے۔“ اس نے کہا کہ جب میں یہ (فرائض) ادا کر لو ں تو میں مسلمان ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (تم یہ فرائض ادا کر کے مسلمان بن جاؤ گے)“ اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ انہوں نے ایمان، احسان اور قیامت کے بارے میں سوال کے متعلق مکمل حدیث بیان کی۔

3396

Sahih Ibn Khuzaymah #3396

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ :n«لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ سَبُعٌ ، أَوْ طَائِرٌ ، أَوْ شَيْءٌ ؛ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ» .nnحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِهَذَا.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Ghassan, narrated to us Rawḥ, narrated to us Ibn Jurayj, from Abū az-Zubayr, from Jābir ibn ʿAbd Allāh (RA), that the Prophet (ﷺ) said: “No Muslim plants a plant or sows a crop, then from it a bird or a person or anything eats, except that it will be a charity for him.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:\n\کوئی مسلمان ایسا پودا نہیں لگاتا یا ایسی کھیتی نہیں بوتا جس میں سے کوئی درندہ، یا پرندہ، یا کوئی (بھی) چیز کھائے، مگر یہ کہ اس کے لیے اس میں اجر (ثواب) ہوتا ہے۔\"\n\n(اس کے بعد بیان کی گئی سند کا ترجمہ):\nہم سے ابو غسان نے بیان کیا، ان سے روح نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے ابو زبیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی (مذکورہ بالا حدیث) کی طرح روایت کی ہے۔""

3397

Sahih Ibn Khuzaymah #3397

وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bishr ibn Mu‘ādh, who said: Narrated to us Ayyūb (meaning Ibn Wāqid), who said: Narrated to us ‘Ubaydullāh, on the authority of Nāfi‘, on the authority of Ibn ‘Umar (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشر بن معاذ نے ہمیں بتایا، اَیوب (یعنی ابن واقد) نے ہمیں بتایا، عبید اللہ نے نافع سے، ابن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا، انہوں نے کہا:

3398

Sahih Ibn Khuzaymah #3398

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

I recited to Ahmad bin Abi Surraj al-Razi that Amr bin Mujammi' narrated to them, on the authority of Musa bin Uqbah, from Nafi', from Ibn Umar (RA), who reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not set out on a journey to visit a mosque except for three: the Sacred Mosque (in Makkah), my mosque (in Madinah), and the Al-Aqsa Mosque (in Jerusalem)." Commentary: This narration is recorded as hadith 3398 in Sunan Ibn Majah, and is graded Hasan Sahih (a technical term denoting sound and good authenticity) by the compiler Imam Ibn Majah. The chain of narration is fully connected, with all narrators recognized as trustworthy, and the report is ultimately traced back to Ibn Umar (RA), a prominent companion of the Prophet (ﷺ).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میں نے احمد بن ابی سرّاج رازی کو پڑھ کر سنایا کہ عمرو بن جمع نے انہیں موسی بن عقبہ سے، نافع سے، ابن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ رَسُولُ اللہِ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: "کسی مسجد کی زيارت کے لیے سفر مت کرو سواۓ تین مساجد کے: مسجد حرام (مکہ میں)""

3399

Sahih Ibn Khuzaymah #3399

لِقَوْلِهِ [تَعَالَى]: فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا [الْبَقَرَةِ: 158]. وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ: فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا. لَيْسَ فِي الْمَعْنَى كَقَوْلِهِ: فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ [النِّسَاءِ: 101]

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-Muthanna, narrated to us Abu Dawud, narrated to us al-Hasan ibn ‘Ali, narrated to us Zayd ibn al-Hubab, who said: I heard Ma‘mar say, on the authority of al-Zuhri, on the authority of ‘Urwah, on the authority of ‘A’ishah (RA), the Mother of the Believers, that she said: The verse, **"So whoever performs Hajj to the House or performs ‘Umrah, there is no blame upon him for performing Tawaf between them both"** [Quran 2:158], was revealed regarding the people of the Jahiliyyah who would say: *"We do not perform Tawaf between Safa and Marwah, for they are the footsteps of the devil."* So Allah (SWT) revealed this verse to refute their claim.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: جس نے بیت اللہ کا حج کیا یا عمرہ کیا تو اس پر طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں (البقرۃ: 158)۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کا یہ فرمان: اگر وہ ان کا طواف کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ یہ ان کے اس قول کے معنی میں نہیں ہے: اگر تم نماز قصر کر دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ [النساء: 101]

3400

Sahih Ibn Khuzaymah #3400

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مَقْدَمٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نُبَيْهٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ جَدَّتِهَا بِنْتِ أَبِي تَجْزَأَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا خِلْفَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتِ: اطَّلَعْتُ مِنْ كَوَّةٍ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَشْرَفْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ يَسْعَى، وَإِذَا هُوَ يَقُولُ لأَصْحَابِهِ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn 'Umar ibn 'Ali ibn 'Ata' ibn Maqdam al-Muqaddami, who said: Narrated to us al-Khalil ibn 'Uthman, who said: I heard 'Abdullah ibn Nubayh, on the authority of his grandmother Safiyyah bint Shaybah, on the authority of her grandmother (i.e., Safiyyah's grandmother) the daughter of Abu Tajzah, who said: "During the pre-Islamic period (Jahiliyyah), we had a sacrificial camel (khalfah) that we would ride. I once looked through a small opening between Safa and Marwah, and I saw the Prophet (ﷺ) running (between the two hills) and saying to his companions:" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمر بن علی بن عطا بن مقدم مقدمی نے ہمیں بتایا، خلیل بن عثمان نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن نبیہ کو اپنی دادی صفیہ بنت شیبہ سے، ان کی دادی (یعنی صفیہ کی دادی) ابو تجزہ کی بیٹی سے سنتا، انہوں نے کہا: جاہلیت کے دور میں ہمارے پاس خلافت تھی، انہوں نے کہا: میں نے صفا اور مروة کے درمیان ایک روزن سے جھانکا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نظر پڑی، وہ سعی کر رہے تھے، اور اپنے اصحاب سے کہہ رہے تھے:

3401

Sahih Ibn Khuzaymah #3401

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً أَخْبَرَتْهَا: أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Abd al-Razzaq, who informed us Ma'mar, on the authority of Wasil, the freed slave of Abu 'Uyaynah, from Musa ibn Ubayd, from Safiyyah bint Shaybah, that a woman informed her that she heard the Prophet (ﷺ) between Safa and Marwah saying: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن یحیی نے ہمیں بتایا، عبدالرزاق نے ہمیں بتایا، معمر نے ہمیں خبر دی، واصل (ابو عینہ کے مولا) سے، موسی بن عبید سے، صفیہ بنت شیبہ سے، کہ ایک عورت نے انہیں بتایا: کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو صفا اور مروة کے درمیان یہ کہتے ہوئے سنا:

3402

Sahih Ibn Khuzaymah #3402

لِأَنَّهُمْ تَحَرَّجُوا مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَهُمَا، إِذْ كَانَ الطَّوَافُ بَيْنَهُمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَتَمَاشَاهُ بَعْضُ أَهْلِ الشِّرْكِ وَالْأَوْثَانِ مِنَ الْعَرَبِ مَنْ كَانَ يُهِلُّ مِنْهُمْ لِبَعْضِ أَوْثَانِهِمْ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَهُمَا فَأَعْلَمَ اللَّهُ- جَلَّ وَعَلَا- نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتَهُ أَنْ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِمْ فِي الطَّوَافِ بَيْنَهُمَا كَمَا تَوَهَّمَ بَعْضُهُمْ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA) — he said: Narrated to us Muḥammad ibn Bakr (RA) — he said: Narrated to us Ibn Jurayj (RA) — he said: I heard ʿAṭā’ (RA) say: The people hesitated to perform tawāf between the two (hills of) Ṣafā and Marwah because in the Days of Ignorance the tawāf between them was imitated by some of the polytheists and idol-worshippers among the Arabs. Whoever among them would make pilgrimage (iḥrām) for some of their idols, they would hesitate to perform tawāf between Ṣafā and Marwah. So Allah (Glorified and Exalted is He) informed His Prophet (ﷺ) and his community that there is no sin upon them for performing tawāf between the two, as some of them had feared.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ وہ ان کے درمیان طواف کرنے سے شرماتے تھے، چونکہ زمانہ جاہلیت میں ان کے درمیان طواف کرنا بعض عربوں کے شرک اور بتوں کا رواج تھا۔ ان میں سے بعض اپنے بتوں کی طرف سلام کرتے تھے اور ان کے درمیان چلنے سے شرماتے تھے، تو خدائے بزرگ و برتر نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے آگاہ کیا۔ اور اس کی قوم، ان کے درمیان طواف کرنے میں ان پر کوئی الزام نہیں، جیسا کہ ان میں سے بعض کا خیال ہے۔

3403

Sahih Ibn Khuzaymah #3403

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَرَأْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، قُلْتُ: مَا أَرَى عَلَى مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، قَالَتْ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ يَطُوفُونَ مِنْ بَيْنِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا كَانَ الإِسْلامُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: فَنَزَلَتْ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، قَالَتْ: فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتْ سُنَّةً ، وَقَالَ غَيْرُهَا، قَالَ اللَّهُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', narrated to us Sufyan, from al-Zuhri, from 'Urwah who said: I recited before 'A'ishah (RA) the verse: *"Indeed, Safa and Marwah are among the symbols of Allah"* [Qur'an 2:158], then I said: "I do not see anything upon one who does not perform tawaf between them." She said: "How evil is what you have said, O son of my sister! It was only that during the pre-Islamic era, whoever consecrated himself to the idol Manat that was at al-Mushallal would perform tawaf between Safa and Marwah. When Islam came, they said: 'O Messenger of Allah, our tawaf between these two stones is from the affairs of the Jahiliyyah (pre-Islamic ignorance).' She said: Then this verse was revealed: *"Indeed, Safa and Marwah are among the symbols of Allah"* [Qur'an 2:158]. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) performed tawaf between them, and it became a sunnah." And it was said by others: *"Allah has spoken the truth."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ آیت پڑھی «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 108] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ میں نے کہا کہ جو شخص ان دونوں کے درمیان سعی نہ کرے، میرے خیال میں اسے کوئی گناہ نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میرے بھائی، تم نے بہت غلط بات کی ہے۔ اصل صورت حال یہ ہے کہ (جاہلیت میں) جو لوگ مشلل جگہ پر واقع مناة بت کے نام پر احرام باندھتے تھے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے تھے۔ پھر جب اسلام کا دور آیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ان دو پتھروں کے درمیان سعی کرنا تو جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی ہے «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 108] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کی سعی کی، اس طرح یہ عمل سنّت بن گیا۔ ایک اور صحابی کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا» [ سورة البقرة: 184 ] ”تو جو شخص خوشی سے نیکی کرے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی سے یہ نیک عمل کیا اور سعی کی۔ امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابو بکر بن عبد الرحمان کو بیان کی تو وہ فرمانے لگے کہ علم تو بس یہی ہے۔ میں نے کئی اہل علم کو سنا وہ فرماتے تھے کہ جو لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرتے تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ہمیں بیت الله شریف کا طواف کرنے کا حُکم دیا گیا ہے اور صفا اور مروہ کی سعی کرنے کا حُکم نہیں دیا گیا۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 108] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ اس لئے میرے خیال میں یہ آیت دونوں گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

3404

Sahih Ibn Khuzaymah #3404

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ، وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي أَيَّامِهِمْ مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّهُمْ حِينَ أَسْلَمُوا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: هِيَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مَنْ كَانَ يُهِلُّ لِمَنَاةَ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَهُمَا، لا أَنَّهُمُ كَانُوا يَطُوفُونَ بَيْنَهُمَا كَخَبَرِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ رِوَايَةِ يُونُسَ، وَمُتَابَعَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِيَّاهُ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى سَأُخَرَّجُ خَبَرَ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِي هَذَا الْبَابَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَخَبَرُ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، دَالٌ أَيْضًا أَنَّ الأَنْصَارَ كَانُوا هُمُ الَّذِينَ يَتَحَرَّجُونَ مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَهُمَا قَبْلَ نُزُولِ هَذِهِ الآيَةِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Īsā ibn Ibrāhīm: narrated to us Ibn Wahb: on the authority of Yūnus: on the authority of Ibn Shihāb: on the authority of ‘Urwah ibn al-Zubayr: that ‘Ā’ishah (RA) informed him that the Anṣār, before they accepted Islam, along with Ghassān, used to declare the talbiyah for Manāt. They considered it forbidden to perform the ṭawāf between aṣ-Ṣafā and al-Marwah. This was their practice in the days of jāhiliyyah: whoever entered ihrām for Manāt would not perform the ṭawāf between aṣ-Ṣafā and al-Marwah. When they accepted Islam, they asked the Messenger of Allāh (ﷺ) about this, so Allāh, the Exalted and Majestic, revealed: **“Indeed, aṣ-Ṣafā and al-Marwah are among the symbols of Allāh…”** [Al-Baqarah 2:158] ‘Urwah said: ‘Ā’ishah (RA) said, *“This is a sunnah established by the Messenger of Allāh (ﷺ).”* Abū Bakr said: *The correct narration is that reported by Yūnus from az-Zuhrī: that whoever declared the talbiyah for Manāt considered it forbidden to perform the ṭawāf between them, not that they used to perform the ṭawāf between them as in the narration of Ibn ‘Uyaynah.* The evidence for the correctness of Yūnus’s narration and the corroboration of Hishām ibn ‘Urwah with him on this meaning will be presented in the chapter that follows, In Shā’ Allāh. The narration of ‘Āṣim from Anas is also evidence that it was the Anṣār who considered it forbidden to perform the ṭawāf between them before the revelation of this verse.*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انصاری لوگ اور غسان قبیلے کے افراد اسلام لانے سے پہلے مناة بت کے نام کا احرام باندھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کیا۔ اور یہ ان کے دور کا دستور بھی تھا کہ جوشخص مناف کے نام کا احرام باندھتا تھا وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتا تھا۔ اور جب وہ مسلمان ہو گئے تو اُنہوں نے رسول اللہ سے پوچھا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 108] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ حضرت عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سنّت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رائج اور جاری کیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ صحیح بات وہی ہے جسے امام یونس نے امام زہری سے روایت کیا ہے کہ جو لوگ مناة بت کے نام کا احرام باندھتے تھے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، یہ نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ امام ابن عینیہ کی روایت میں ہے کہ جناب یونس کی روایت کے درست ہونے کی دلیل جناب ہشام بن عروہ کی اس معنی میں روایت ہے جس میں انہوں نے یونس کی متابعت کی ہے۔ ہشام بن عروہ کی روایت میں اگلے باب میں بیان کروںگا، ان شاء اللہ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے انصار ہی تھے جو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے۔

3405

Sahih Ibn Khuzaymah #3405

ثنا بِخَبَرِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَتِ الأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى نَزَلَتْ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، زَادَ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ: فَطَافُوا

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bakr bin Khālid al-‘Āmirī, on the authority of ‘Āṣim, on the authority of Anas ibn Mālik (RA), who said: "The Anṣār (the Helpers) used to dislike performing the Tawāf between aṣ-Ṣafā and al-Marwah until the verse was revealed: **‘Indeed, aṣ-Ṣafā and al-Marwah are among the symbols of Allah.’** [Al-Baqarah: 158] Salm ibn Junādah (RA) added: *So they performed the Tawāf (between them).*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصاری صحابہ کرام صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ناپسند کرتے تھے حتّیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی: «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 158 ] ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ جناب سلم بن جنادہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر انہوں نے سعی کرنا شروع کردی۔

3406

Sahih Ibn Khuzaymah #3406

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا أَرَى عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ أَنْ لا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ: وَلِمَ؟ قُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، فَقَالَتْ: لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا، أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ، فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، فَهُمَا مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهَا: فَلا يَحِلُّ لَهُمْ تُرِيدُ عِنْدَ أَنْفُسِهِمْ فِي دِينِهِمْ

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn al-Ala' ibn Kurayb, who narrated to us Abd al-Rahim [meaning Ibn Sulayman], from Hisham ibn Urwah, from Urwah (RA). Urwah said: "I said to Aishah (RA): 'I see no sin upon me if I do not perform Sa'i between Safa and Marwah.' She said: 'Why is that?' I said: 'Indeed, Allah says: 'So whoever performs Hajj to the House [of Allah] or performs Umrah, there is no blame upon him for walking between the two [Safa and Marwah].' This is from Surah Al-Baqarah, verse 158. She said: 'If it were as you claim, then there would be no blame upon him for not walking between them either. Rather, Allah revealed this verse about a group of the Ansar who, when they entered ihram in the pre-Islamic period, they entered ihram for the idol Manah, so it was not permissible for them to perform Sa'i between Safa and Marwah. Then when they came with the Messenger of Allah (ﷺ) for Hajj, they mentioned this to him, so Allah revealed this verse. By my life, Allah does not complete the Hajj of one who does not perform Sa'i between Safa and Marwah, for indeed Allah, the Mighty and Majestic, says: 'Indeed Safa and Marwah are among the symbols of Allah' – this is also from Surah Al-Baqarah, verse 158. Thus they are among the symbols of Allah.'" Abu Bakr (RA) said: "Her statement 'so it was not permissible for them' means that it was not permissible in their own view according to their [pre-Islamic] religion." [Grading: Sahih (authentic); recorded in Sahih al-Bukhari]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ میری رائے یہ ہے کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کروں تو مجھ پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اُنہوں نے پوچھا، وہ کیسے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا» [ سورة البقرة: 158 ] ”پس جو بیت اللہ شریف کا حج یا عمرہ کرے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف (سعی) کرے۔“ اُنہوں نے فرمایا کہ اگر بات ویسے ہی ہوتی ہے جیسے تُو کہہ رہا ہے تو پھر آیت اس طرح ہونی چاہیے تھی ”فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا“ (تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔) بلا شبہ یہ آیت تو انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ وہ جاہلیت میں مناة بت کے نام پر احرام باندھتے تھے تو وہ اپنے لئے صفا مروہ کی سعی حلال نہیں سمجھتے تھے۔ پھر جب وہ (مسلمان ہونے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے مکّہ مکرّمہ آئے تو اُنہوں نے یہ بات آپ کو بتائی، اس پر الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی۔ میری عمر کی قسم، جو شخص صفا اور مروہ کی سعی نہیں کریگا اللہ تعالیٰ اُس کا حج مکمّل نہیں کریگا۔ کیونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ» [ سورة البقرة: 158 ] ”بیشک صفا اور مروہ الله تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان کہ ان کے لئے سعی کرنا حلال نہ تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے جاہلی عقیدے کے مطابق ان کے لئے صفا مروہ کی سعی کرنا حلال نہ تھا۔

3407

Sahih Ibn Khuzaymah #3407

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، قَالَ : وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ عَامَ عَمَوَاسٍ ، وَعَلَيْهَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، فَقَالُوا : إِنَّ هَذَا الرِّجْزَ قَدْ وَقَعَ فَتَفَارُّوا فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ . قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ بْنَ حَسَنَةَ - وَقَالَ أَبُو مُوسَى فِي حَدِيثِهِ : فَبَلَغَ شُرَحْبِيلَ بْنَ حَسَنَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ ، وَانْطَلَقَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ نَعْلَيْهِ بِشِمَالِهِ - وَقَالَ ابْنُ بُنْدَارٍ : فَجَاءَ وَقَدْ تَعَلَّقَ نَعْلُهُ بِشِمَالِهِ - فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ جَمَلِ أَهْلِهِ ، إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ ، وَرَحْمَةُ رَبِّكُمْ ، وَوَفَاةُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār and Abū Mūsā (may Allah have mercy upon them), they said: Narrated to us Muʿādh ibn Hishām, who said: My father narrated to me, from Qatādah, from Shahr ibn Ḥawshab, from ʿAbd al-Raḥmān ibn Ghanm (RA), who said: The plague struck al-Shām during the Year of ʿAmawās, when ʿAmr ibn al-ʿĀṣ (RA) was its governor. The people said, "This punishment has descended!" So they scattered into the valleys and ravines. He (RA) said: This reached Sharḥabīl ibn Ḥasanah (RA) — and Abū Mūsā (RA) in his narration said: "This reached Sharḥabīl ibn Ḥasanah (RA)" — who was one of the Companions of the Prophet (ﷺ). He set out while his sandal was still dangling from his left hand — Ibn Bundār (RA) said: "He came with his sandal dangling from his left hand" — and said: "By Allah, I have accompanied the Messenger of Allah (ﷺ), and ʿAmr is more astray than the camel of his people! This plague is the supplication of your Prophet (ﷺ), the mercy of your Lord, and the death of the righteous before you." ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بندار اور ابو موسیٰ سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا: ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے شہر بن حوشب سے، اور انہوں نے عبدالرحمٰن بن غنم سے روایت کیا، انہوں نے کہا: شام (عمواس) میں طاعون پھیل گیا، اور وہاں کے گورنر عمرو بن العاص (رضی اللہ عنہ) تھے۔ لوگوں نے کہا: یہ عذاب آ گیا ہے لہٰذا وادیوں اور گھاٹیوں میں بھاگ جاؤ۔ یہ بات (صحابی رسول) شرحبیل بن حسنہ (رضی اللہ عنہ) تک پہنچی، وہ اپنے جوتے بائیں ہاتھ میں لٹکائے ہوئے آئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی ہے، اور عمرو (رضی اللہ عنہ) اپنے گھر کے اونٹ سے بھی زیادہ بھٹک گئے ہیں۔ درحقیقت یہ طاعون تو تمہارے نبی ﷺ کی دعا، تمہارے رب کی رحمت، اور تم سے پہلے گزرے ہوئے صالحین کی موت کا سبب ہے۔

3408

Sahih Ibn Khuzaymah #3408

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُنْذِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي الْمَسْعَى، فَقُلْتُ لَهُ: تَمْشِي فِي الْمَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ʿAlī ibn Mundhir, narrated to us Ibn Fudayl, narrated to us ʿAṭāʾ ibn al-Sāʾib, on the authority of Kathīr ibn Jumhān al-Sulamī (RA), who said: "I saw Ibn ʿUmar (RA) walking in the *Masʿā* (the area between Ṣafā and Marwah). So I said to him, 'Are you walking in the *Masʿā* between Ṣafā and Marwah?' He replied:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب کثیر بن جمہان سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دوڑنے کی جگہ (صفا مروہ کے نشیبی علاقے) میں عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو میں نے اُن سے عرض کیا کہ آپ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کی جگہ پر عام چال (کیوں) چل رہے ہیں؟ تو اُنہوں نے فرمایا، اگر میں دوڑ لگاؤں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور اگر میں عام چال چلوں تو بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے، اور میں ایک بوڑھا شخص ہوں (اس لئے عام رفتار سے چل رہا ہوں)۔

3409

Sahih Ibn Khuzaymah #3409

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Musa, narrated to us Ad-Dahhak ibn Makhlad, from Sufyan, from 'Ata ibn As-Sa'ib, from Kathir ibn Jumhan, who said: "I saw Ibn 'Umar walking between As-Safa and Al-Marwah, so I said to him..."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب کثیر بن جمہان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا اور مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے عرض کیا (کہ آپ اس دوڑنے کے مقام پر عام چال چل رہے ہیں) تو اُنہوں نے فرمایا کہ اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور اگر میں دوڑ لگاؤں تو میں نے رسول اللہ کو دوڑ لگاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔

3410

Sahih Ibn Khuzaymah #3410

وحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، ثنا فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Musa, who said: Then in its wake, al-Dhahhak narrated to us, from Sufyan, from 'Abd al-Karim al-Jazari, from Sa'id ibn Jubayr, from Ibn 'Umar, a narration similar to it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا کی طرح مروی ہے۔

3411

Sahih Ibn Khuzaymah #3411

وَرَوَى سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Saʿīd ibn Bashīr: Qatādah narrated to me, from ʿIkrimah, from Ibn ʿAbbās (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال (صفا مروہ کے درمیان) دوڑ لگائی اور ایک سال عام چال چلے۔

3412

Sahih Ibn Khuzaymah #3412

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَهُوَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، وَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ، فَمِنْ قَائِلٍ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ، أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا، أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا، وَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Yusuf bin Musa, narrated to us Jarir, on the authority of Abu Ishaq (who was Al-Shaybani), on the authority of Ziyad bin Ilaqah, on the authority of Usamah bin Sharik, who said: I went out with the Messenger of Allah (ﷺ) performing Hajj. The people would come to him, and some would say: "O Messenger of Allah, I performed Sa'i before Tawaf," or "I delayed something," or "I advanced something." And

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن موسی نے ہمیں بتایا، جریر نے ہمیں بتایا، ابو اسحاق (جو شیبانی تھے) سے، زیاد بن علقہ سے، اسامہ بن شریک سے، انہوں نے کہا: میں رَسُولِ اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ حج کے لیے نکلا، لوگ ان کے پاس آتے تھے، تو کوئی کہتا: اے رَسُولِ اللہ! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی، یا میں نے کچھ دیر سے کیا، یا میں نے کچھ پہلے کر دیا، اور آپ ان سے فرماتے تھے:

3413

Sahih Ibn Khuzaymah #3413

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفي ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ خَرَجَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَجَعَلْنَا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ يُصِيبَهُ بِشَيْءٍ، فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو عَلَى الأَحْزَابِ يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

### Yahya bin Hakim narrated to us, saying: Yahya, meaning Ibn Sa'id, narrated to us, saying: Isma'il bin Abi Khalid narrated to us, saying: Abdullah bin Abi Awfa (RA) said: "The Messenger of Allah (ﷺ) performed Umrah, then he circumambulated the Ka'bah. Afterwards, he went out to perform the Tawaf between As-Safa and Al-Marwah. We used to shield him from the people of Makkah, fearing that one of them might

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ ادا کیا تو بیت اللہ شریف کا طواف کیا، پھر صفا اور مروہ کی سعی کے لئے چلے گئے تو ہم آپ کو مکّہ والوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے آڑ کیے ہوئے تھے کہ کہیں کوئی کافر آپ کو تیر نہ مار دے یا کوئی اور تکلیف نہ پہنچا دے۔ اس دوران میں، میں نے آپ کو کافر جماعتوں پر بد دعا کرنے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَاب، سَرِيعَ الْحِسَاب، اهْزِم الأَحْزَاب، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَ زَلْزِلْهُم» ”اے اللہ کتاب کو نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، کافر جماعتوں کو شکست فاش دینے والے۔ اے اللہ، انہیں شکست و ناکامی سے دوچار کردے اور ان کے قدم ڈگمگا دے“

3414

Sahih Ibn Khuzaymah #3414

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، أَيْضًا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلاةُ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim al-Dawraqi, narrated to us 'Abd al-Rahman ibn Mahdi, from Malik. (Another chain) Narrated to us Yahya ibn Hakim, narrated to us 'Abd al-Rahman ibn Mahdi, from Malik. (Another chain) Narrated to us Yahya ibn Hakim as well, narrated to us Bishr ibn 'Umar, narrated to us Malik, from Muhammad ibn 'Abd al-Rahman ibn Nawfal, from 'Urwah, from Zaynab bint Umm Salamah, from Umm Salamah (RA) that she came while she was ill, and she mentioned that to the Prophet (ﷺ), so he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زینب بنت ام سلمہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ مکّہ مکرّمہ آئیں تو وہ بیمار تھیں، اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیماری کے متعلق بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو۔“ یہ جناب الدورقی کی روایت ہے۔

3415

Sahih Ibn Khuzaymah #3415

وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ قَبْلُ أَنَّ اسْتِنَانَ السُّنَّةِ قَدْ تَكُونُ فِي الِابْتِدَاءِ لِعِلَّةٍ فَتَزُولُ الْعِلَّةُ وَتَبْقَى السُّنَّةُ إِلَى آخِرِ الْأَبَدِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَعَى بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَهُ، فَبَقِيَتْ هَذِهِ السُّنَّةُ إِلَى آخِرِ الْأَبَدِ

EnglishUnverified translation

** This is of the same kind as what I have already informed you—that the origin of a Sunnah may begin due to a specific reason, after which the reason ceases to exist, but the Sunnah remains until the end of time. For indeed, the Prophet (ﷺ) performed Sa‘i between al-Safa and al-Marwah only to demonstrate his strength to the polytheists, yet this Sunnah has remained until the end of time.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ اس قسم کا ہے جو میں نے پہلے سیکھا تھا کہ شروع میں سنت کا آغاز کسی وجہ سے ہوا ہو، پھر وہ وجہ ختم ہو جاتی ہے اور سنت آخر تک باقی رہتی ہے۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لیے بیت اللہ میں اور صفا و مروہ کے درمیان دوڑتے رہے تاکہ مشرکین ان کی طاقت کو دیکھ سکیں، چنانچہ یہ سال ہمیشہ کے لیے باقی رہا۔

3416

Sahih Ibn Khuzaymah #3416

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ الْمَخْزُومِيُّ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abd al-Jabbar ibn al-Ala (RA) and Ahmad ibn Mani' al-Makhzumi (RA); they reported: "Narrated to us Sufyan ibn Uyayna (RA), on the authority of Amr ibn Dinar (RA), on the authority of Ata ibn Abi Rabah (RA), on the authority of Ibn Abbas (RA), who said that the Messenger of Allah (ﷺ) stated: 'There is no disease that Allah has sent down except that He has also sent down its cure along with it, except for old age, and there is no preventive measure against death.'" Commentary: This hadith is graded *Sahih* (authentic) by Imam Ibn Majah and prominent hadith scholar Muhammad Nasiruddin al-Albani. It establishes the Islamic principle that every ailment has a divinely ordained remedy, encouraging the seeking of medical treatment, while noting that senescence (old age) is an inherent, incurable stage of human life, and death is an unavoidable divine decree that cannot be prevented by worldly means. This narration forms a core basis for the permissibility and recommendation of medical intervention in Islamic jurisprudence.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی اس لئے کی تھی تاکہ مشرکین آپ کی قوت و طاقت دیکھ لیں۔ جناب مخرومی کی روایت میں ہے، تاکہ قریش والے آپ کی قوت دیکھ لیں۔

3417

Sahih Ibn Khuzaymah #3417

وَلَمْ يُمْكِنْ سُؤَالُهُ، إِذَا كَانَ الْعَالِمُ مَاشِيًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ

EnglishUnverified translation

It was not possible to ask him [the question] when the scholar was walking between Safa and Marwah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور لوگوں نے اس سے اپنے دینی مسائل پوچھنے ہوں جو اس کے پیدل چلنے کہ وجہ سے ممکن نہ ہوتو ایسے ہجوم کی وجہ سے عالم دین سواری پر بیٹھ کر صفا مروہ کی سعی کرسکتا ہے

3418

Sahih Ibn Khuzaymah #3418

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنِي عِيسَى ، عَنْ أَبِي جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهَ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Ali ibn Khashram: ‘Isa narrated to me, from Abu Jurayj. And narrated to us ‘Abd al-Rahman ibn Bishr: Yahya narrated to us, from Ibn Jurayj. And narrated to us Muhammad ibn Ma’mar: Muhammad ibn Bakr narrated to us, Ibn Jurayj narrated to us, Abu’l-Zubayr narrated to us that he heard Jabir ibn ‘Abd Allah (RA) say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن خشرم نے ہمیں بتایا: عیسیٰ نے مجھ سے روایت کیا ابو جریج سے۔ اور عبدالرحمن بن بشر نے ہمیں بتایا: یحیی نے ہمیں روایت کیا ابن جریج سے۔ اور محمد بن معمر نے ہمیں بتایا: محمد بن بکر نے ہمیں بتایا، ابن جریج نے ہمیں بتایا، ابو الزبیر نے ہمیں بتایا کہ اس نے جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) کو کہتے ہوئے سنا:

3419

Sahih Ibn Khuzaymah #3419

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الرُّكُوبَ بَيْنَهُمَا إِبَاحَةٌ لَا أَنَّهُ سُنَّةٌ وَاجِبَةٌ، وَلَا أَنَّهُ سُنَّةُ فَضِيلَةٍ بَلْ هِيَ سُنَّةُ إِبَاحَةٍ

EnglishUnverified translation

The evidence that riding between them (the two days of Eid) is a permission (ibahah) and not an obligatory Sunnah, nor a Sunnah of virtue, but rather a Sunnah of permission.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جبکہ سعی کرنے والے کو لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے تکلیف کا سامنا ہو۔ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ صفا اور مروہ کے درمیان سواری پر بیٹھنا جائز ہے، نہ یہ سنّت موَکدہ ہے اور نہ سنّت فضیلت بلکہ یہ جواز کے لئے ہے

3420

Sahih Ibn Khuzaymah #3420

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ الرُّكُوبَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ قَالَ: قَوْمُكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abu Bishr al-Wasiti, who said: Narrated to us Khalid, on the authority of al-Jurayri, on the authority of Abu at-Tufayl, who said: I said to Ibn Abbas, "What do you say about riding between As-Safa and Al-Marwa?" He replied, "Your people claim that it is a Sunnah." He said, "They have spoken the truth and they have spoken falsehood."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ مجھے بتائیں کہ صفا اور مروہ کی سعی سوار ہوکر کرنے کا کیا حُکم ہے کیونکہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ یہ سنّت نبوی ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے (کہ نبی اکرم نے صفا مروہ کی سعی سوار ہو کر کی تھی) اور یہ بات غلط کی ہے کہ یہ سنّت ہے۔ (اصل واقعہ یہ ہے کہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ تشریف لائے تو صفا اور مروہ کی سعی شروع کی، پس اہلِ مکّہ نکل آئے حتّیٰ کہ عورتیں بھی آپ کی زیارت کے لئے آئیں۔ اور آپ کے پاس سے کسی کو مار کر بٹایا نہیں جاتا تھا اور نہ آ پکو لوگ چھوڑتے تھے۔ چنانچہ آپ نے اپنی سواری منگوائی اور اس پر سوار ہوگئے اور اگر لوگ آپ کو پیدل سعی کرنے دیتے تو آپ کو پیدل سعی کرنا ہی زیادہ پسند تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور غلط بیانی بھی کی ہے۔ اس سے اُن کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی سوار ہوکر کی تھی اور ان کی یہ بات غلط ہے کہ یہ سنّت موکدہ یا فضیلت کی حامل سنّت ہے، بیشک یہ تو صرف جواز کے لئے ہے نہ واجب ہے نہ فضیلت کا باعث۔

3421

Sahih Ibn Khuzaymah #3421

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Yunus bin Abd al-A'la, who informed us that Ibn Wahb informed him that Yunus informed him on the authority of Ibn Shihab, on the authority of Ubaydullah bin Abdullah bin Utbah, on the authority of Ibn Abbas (RA):

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یونس بن عبدالاعلی نے ہمیں روایت کیا، ابن وھب نے اس کو اطلاع دی کہ یونس نے اس کو اطلاع دی ابن شہاب کی طرف سے، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی طرف سے، ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے:

3422

Sahih Ibn Khuzaymah #3422

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Abd Allah ibn Yazid al-Muqri narrated to us, saying: Abd Allah ibn Rajaa narrated to us, from Musa ibn Uqba, from Abd Allah ibn Dinar, from Ibn Umar (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن یزید مقری نے ہمیں روایت کیا، عبداللہ بن رجاء نے ہمیں روایت کیا موسیٰ بن عقبہ سے، عبداللہ بن دینار سے، ابن عمر (رضی اللہ عنہ) سے، جس نے کہا:

3423

Sahih Ibn Khuzaymah #3423

إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ؛ لِإَنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ هَذَا الْإِسْنَادِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA), he said: I heard Mālik (RA) say: "If the report is authentic, then indeed there is in the heart a need for this chain."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشرطیکہ یہ روایت صحیح ہو کیونکہ اس سند کے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہے

3424

Sahih Ibn Khuzaymah #3424

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ الْعَدَنِيَّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُلَيْكٍ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

### ** Narrated to us Saʿīd ibn ʿAbdillāh ibn ʿAbd al-Ḥakam who said: Narrated to us Ḥafṣ—meaning ibn ʿUmar al-ʿAdanī—who said: Narrated to us Yazīd ibn Mulaik al-ʿAdanī, who said: Narrated to us Abū al-Ṭufayl who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عبداللہ بن عبدالحکم نے ہمیں روایت کیا، حفص (یعنی ابن عمر عدنی) نے ہمیں روایت کیا، یزید بن ملیک عدنی نے ہمیں روایت کیا، ابو الطفیل نے ہمیں روایت کیا، جس نے کہا:

3425

Sahih Ibn Khuzaymah #3425

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي خَرَّبُوذَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn Sa‘īd ad-Dārimī: Narrated to us Abū ‘Āsim, from Abū Kharrbūdh, who narrated to me Abū aṭ-Ṭufayl (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ حجر اسود اور رکن یمانی کو اپنی لاٹھی کے ساتھ چھوتے تھے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ چھڑی کے کنارے کو بوسہ دیتے تھے۔ پھر آپ صفا کی طرف گئے تو آپ نے اپنی سواری پرسعی کی۔

3426

Sahih Ibn Khuzaymah #3426

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، أَخْبَرَهُ. ح وحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn Abd al-A'la, who said: Ibn Wahb informed us. And narrated to us al-Fadl ibn Ya'qub, who said: Muhammad ibn Ja'far informed us, who said: Malik ibn Anas informed us, on the authority of Ibn Shihab, from 'Urwah, from 'A'ishah (RA), that she said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یونس بن عبدالاعلی نے ہمیں روایت کیا، ابن وھب نے ہمیں اطلاع دی۔ اور فضل بن یعقوب نے ہمیں روایت کیا، محمد بن جعفر نے ہمیں اطلاع دی، مالک بن انس نے ہمیں اطلاع دی، ابن شہاب سے، عروه سے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے، کہ انہوں نے کہا:

3427

Sahih Ibn Khuzaymah #3427

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ وَهُوَ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-Walīd al-Qurashī, narrated to us ‘Abd al-Wahhāb al-Thaqafī, narrated to us Ḥabīb (he is al-Mu‘allim), who said: ‘Atā’ said: Jābir ibn ‘Abd Allāh narrated to me…

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کوحُکم دیا کہ وہ اپنے حج کو عمرہ بنالیں پھر بیت اللہ شریف کا طواف کریں، سر کے بال کٹوالیں یا منڈوالیں (اور حلال ہو جائیں) سوائے اُن لوگوں کے جن کے پاس قربانی کے جانور ہیں (تو وہ حج قرن کریں)۔

3428

Sahih Ibn Khuzaymah #3428

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَطَاءٌ : قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ رَابِعٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرْنَا أَنْ نَحِلَّ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Bashshar narrated to us, Muhammad bin Bakr narrated to us, Ibn Jurayj informed us, saying: 'Ata' said: Jabir bin Abdullah (RA) said: The Messenger of Allah (ﷺ) arrived on the morning of the fourth day of Dhul-Hijjah. When we arrived, we were ordered to enter a state of Ihram (or: to resolve the Ihram), so he said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار تاریخ کی صبح کے وقت مکّہ مکرّمہ تشریف لائے۔ پھر جب ہم مکّہ مکرّمہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حُکم دیا کہ عمرہ کرکے احرام کھول دو۔ اور فرمایا: ”احرام کھول دو اور اپنی بیویوں سے ہمبستری کر سکتے ہو۔ “ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ نے صحابہ کرام پر بیویوں سے جماع کرنا لازمی قرار نہیں دیا تھا لیکن آپ نے ان کے لئے حلال قرار دیا تھا (کہ اگر وہ ضرورت محسوس کریں تو اپنی خواہش پوری کر سکتے ہیں)۔

3429

Sahih Ibn Khuzaymah #3429

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ . ح وحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

This hadith is transmitted via two corroborating chains of narration: 1. Al-Rabi' ibn Sulayman narrated to us; he reported: Ibn Wahb narrated to us, and he said: Usama narrated to me. 2. Yunus ibn Abd al-A'la narrated to us; he informed us that Ibn Wahb informed him, Usama informed him that Ata ibn Abi Rabah narrated to him that he heard Jabir ibn Abdullah (RA) say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: [the full text of the Prophet's (ﷺ) statement is not included in the provided Arabic source material for this hadith].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مکّہ مکرّمہ کی ہر شاہراہ راستہ بھی ہے اور قربان گاہ بھی ہے۔“

3430

Sahih Ibn Khuzaymah #3430

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn ‘Abd al-A‘la: Narrated to us Ibn Wahb: That Malik informed him; on the authority of Ibn Shihab: From ‘Urwah: From ‘A’ishah (RA), who said: “We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) for the Farewell Pilgrimage, and we entered ihram for ‘umrah.” She said: “Then I arrived in Makkah while I was menstruating, and I had not performed tawaf around the House, nor [performed sa‘i] between as-Safa and al-Marwah. So I complained of that to the Messenger of Allah (ﷺ), and he said:” ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع میں (سفر پر) نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا اور تلبیہ پکارا۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں مکّہ مکرّمہ اس حال میں پہنچی کہ میں حائضہ تھی۔ میں نے بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بال کھول دو، کنگھی کرلو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کے اعمال چھوڑ دو۔ لہٰذا میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب ہم نے حج ادا کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا (تاکہ وہاں سے عمرے کا احرام باندھ سکوں) پس میں نے عمرہ ادا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے عمرے کے بدلے میں ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ کافی عرصے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کے بارے میں میرا دل اُلجھن اور تردد کا شکار تھا۔ نبی اکر صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے یہ فرمانا: ”اپنے سر کے بال کھول دو اور کنگھی کرلو۔“ مجھے خدشہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حُکم دینے میں ہمارے مخالفین کے مذہب کی دلیل ہے جو اس مسئلہ میں کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کوعمرہ فسخ کرنے کا حُکم دیا تھا۔ پھر مجھے اپنے مذہب اور موقف کے درست ہونے کی دلیل مل گئی اور وہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف یہ تھا کہ عمرہ کرنے والا حرم میں داخل ہو جائے تو اُس کے لئے وہ تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں جو حج کرنے والے پر جمرہ عقبہ کی رمی کر لینے کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔ اس لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حدود حرم میں داخل ہونے کے بعد بال کھولنا اورکنگھی کرنا حلال تھا۔ اس کی دلیل وہ روایت ہے جو انہوں نے بیان کی ہے کہ حضرت عائشہ بن طلحہ بیان کرتی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حُکم دیا کہ وہ اپنے بال کھول دے اور انہیں دھولے، اور انہوں نے فرمایا کہ بیشک عمرہ کرنے والا جب حدود حرم میں داخل ہو جاتا ہے تو وہ اسی طرح حلال ہو جاتا ہے جیسے حاجی جمرہ عقبہ کو رمی کرنے کے بعد حلال ہو جاتا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمه الله یہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے عمرے میں طواف اور سعی سے روکا تھا، یہ نہیں کہ اُنہیں عمرہ نہ کرنے کا حُکم دیا تھا۔ آپ نے اُنہیں حُکم دیا تھا کہ وہ حج کا احرام باندھ کر حج قران کی نیت کرلیں۔ امام شافعی رحمه الله کی یہ رائے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل جیسی بھی ہے۔ جیسا کہ اُنہوں نے پہلے عمرے کا احرام باندھا تھا پھر کہنے لگے کہ میرے خیال میں حج اور عمرے حُکم و طریقہ ایک ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی نیت بھی کرلی ہے، اس طرح انہوں نے عمرے کی سعی اور طواف کرنے سے پہلے اپنے عمرے کے ساتھ حج کو بھی ملا لیا۔ اور وہ حج قران کرنے والے بن گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرمانا کہ ”یہ تمہارے عمرے کی جگہ ہے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اعمال تم ادا نہیں کر سکی تھیں وہ اب ادا کر لیے ہیں۔ یہ ان کا بدلہ ہو گئے ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے اس روایت کو ایک طویل مسئلے میں بیان کیا ہے جس میں میں نے حجة الوداع کے بارے میں صحابہ کرام کی روایات اور ان کے مختلف الفاظ کو جمع کرکے ان میں معنوی اتحاد و اتفاق پیدا کیا ہے۔

3431

Sahih Ibn Khuzaymah #3431

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، أَخْبَرَهُ. ح وحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Yunus ibn Abd al-A'la; he informed us Ibn Wahb, that Malik informed him. And narrated to us al-Fadl ibn Ya'qub; he narrated to us Muhammad ibn Ja'far; he narrated to us Malik ibn Anas, from Muhammad ibn Muslim al-Zuhri (Ibn Shihab), from Urwah ibn al-Zubayr, from Aishah (RA), that she said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: [The remainder of the hadith text is missing from the provided input]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس یونس بن عبد الاعلی نے روایت کی، ابن وھب نے ہمیں بتایا، کہ مالک نے اس سے روایت کی۔ اور ہمارے پاس فضل بن یعقوب نے روایت کی، محمد بن جعفر نے ہمیں روایت کی، مالک بن انس نے ہمیں روایت کی، ابن شہاب سے، عروہ سے، عائشہ سے، کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

3432

Sahih Ibn Khuzaymah #3432

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ الْعَبْدِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abdah ibn ‘Abdillah al-Khuzā‘ī, who said: Muhammad ibn Bashshār al-‘Abdī informed us, on the authority of Muhammad—meaning Ibn ‘Umar—on the authority of Yaḥyā ibn ‘Abd al-Raḥmān, on the authority of ‘Ā’ishah (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں روانہ ہوئے تو ہم نے تین قسم کے احرام باندھے تھے۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا تھا۔ ہم میں سے کچھ افراد نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور کچھ نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو جس شخص نے حج اور عمرے کا احرام باندھا تھا تو وہ مناسک حج ادا کرنے تک کسی پابندی سے آزاد نہ ہو جو اس پر احرام کی وجہ سے لاگو ہوئی تھیں۔ اور جس نے عمرے کا احرام باندھا تھا تو وہ بیت اللہ شریف کا طواف کرنے اور صفا مروہ کی سعی کرنے کے بعد فارغ ہوگیا حتّیٰ کہ اس نے (8 ذوالحجہ کو) حج کا احرام باندھا۔

3433

Sahih Ibn Khuzaymah #3433

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَضًا شَدِيدًا فَدَعَى وَلَدَهُ فَجَمَعَهُمْ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Alī ibn Sa‘īd ibn Masrūq al-Kindī, who said: Narrated to us ‘Īsā ibn Sawādah, on the authority of Ismā‘īl ibn Abī Khālid, on the authority of Zādān, who said: Ibn ‘Abbās fell gravely ill and summoned his children, gathering them around him. He then said, “I heard the Messenger of Allāh (ﷺ) say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب زاذان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما شدید بیمار ہوگئے تو اُنہوں نے اپنے بیٹوں کو بلا کر جمع کیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس شخص نے مکّہ مکرّمہ سے پیدل چل کر حج ادا کیا حتّیٰ کہ وہ واپس مکّہ مکرّمہ آ گیا تو الله تعالی اُس کے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ ہر نیکی حرم کی نیکیوں کی مثل ہوگی۔ اُن سے پوچھا گیا، حرم کی نیکیوں سے کیا مراد ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہر نیکی دس کروڑ نیکیوں کے برابر ہوگی۔

3434

Sahih Ibn Khuzaymah #3434

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ بِعَبَّادَانَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ وَهُوَ نَبْتُكَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ahmad ibn Yazid from 'Abbadan, (he said) narrated to us Muhammad ibn 'Abdullah al-Ansari, (he said) narrated to me al-Qasim ibn 'Abd al-Rahman, (he said) narrated to us Abu Hazim — and he is Nabtak, the freed slave of Ibn 'Abbas — from Ibn 'Abbas, from the Prophet (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن احمد بن یزید نے عبادان سے روایت کی، محمد بن عبداللہ الانصاری نے ہمیں روایت کی، قاسم بن عبدالرحمن نے مجھے روایت کی، ابو حازم (جو نبتکہ، ابن عباس کے مولا ہیں) نے ہمیں روایت کی، ابن عباس سے، نبی ﷺ سے، آپ نے فرمایا:

3435

Sahih Ibn Khuzaymah #3435

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to me 'Abdullah ibn 'Umar (RA) who said: *"I recited to Ahmad ibn Abi Surayj al-Razi, that 'Amr ibn Mujammi' informed them, on the authority of Musa ibn 'Uqba, from Nafi', from Ibn 'Umar (RA), who said..."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویه (8 ذوالحجہ) سے ایک دن پہلے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور انہیں حج کے مناسک بتائے۔

3436

Sahih Ibn Khuzaymah #3436

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَأَمَرَنَا بَعْدَمَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar, narrated to us Muhammad—meaning Ibn Bakr al-Bursani—who informed us Ibn Jurayj, who informed me Abu'l-Zubayr, that he heard Jabir ibn 'Abd Allah narrating about the Hajj of the Prophet (ﷺ), saying: "After we had performed Tawaf, he (the Prophet (ﷺ)) ordered us to end our Ihram."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن معمر نے روایت کی، محمد (یعنی ابن بکر البرصانی) نے ہمیں روایت کی، ابن جریج نے ہمیں بتایا، ابو الزبیر نے مجھے بتایا، کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ کو سننا، جو نبی ﷺ کی حج کے بارے میں بتا رہے تھے، انہوں نے کہا: "پھر جب ہم نے طواف کر لیا تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں، نبی ﷺ نے فرمایا:""

3437

Sahih Ibn Khuzaymah #3437

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ . ح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ ابْنِ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundar, narrated to us Ibn Abi ‘Adiyy, from Dawud. Also narrated to us Ishaq ibn Ibrahim ibn Habib ibn al-Shahid, narrated to us ‘Abd al-A’la, narrated to us Dawud, from Abu Nadrah, from Abu Sa’id (RA), who said: “We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) until when we had circumambulated the House (the Ka’bah), he said:”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس بندر نے روایت کی، ابن ابی عدی نے ہمیں روایت کی، داؤد سے۔ اور ہمارے پاس اسحاق بن ابراہیم بن حبیب بن شہید نے روایت کی، عبد الاعلی نے ہمیں روایت کی، داؤد نے، ابو نضرہ سے، ابو سعید سے، انہوں نے کہا: "ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم نے بیت (کعبہ) کا طواف کر لیا، تو آپ نے فرمایا:""

3438

Sahih Ibn Khuzaymah #3438

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

Abu Musa Muhammad ibn al-Muthanna narrated to us, saying: Ishaq al-Azraq narrated to us, saying: Sufyan al-Thawri narrated to us, from Abdul Aziz ibn Rufay', who said: I asked Anas ibn Malik (RA), saying: "Inform me of something you heard directly from the Messenger of Allah (ﷺ): Where did he pray the Zuhr prayer on the Day of Tarwiyah?" He said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبد العزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور اُن سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ کو ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ منیٰ میں۔ میں نے عرض کیا کہ روانگی والے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ابطح میں۔ پھر فرمایا کہ تم ویسے ہی کرو جیسے تمہارے حکمران کریں۔ (وہ جہاں نماز پڑھیں تم وہیں پڑھ لو)۔

3439

Sahih Ibn Khuzaymah #3439

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، قَالَ: لَقِيتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَلَى حِمَارٍ مُتَوَجِّهًا إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْيَوْمَ الظُّهْرَ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim, Ahmad ibn Mani', and Muhammad ibn Hisham — they said: Narrated to us Abu Bakr ibn 'Ayyash — narrated to us 'Abd al-'Aziz ibn Rufay' — who said: I met Anas ibn Malik (RA) on a donkey, heading towards Mina on the Day of Tarwiyah. So I asked him: "Where did the Messenger of Allah (ﷺ) pray Zuhr today?" He said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبد العزیز بن رفيع بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک سے ملا جبکہ وہ گدھے پر بیٹھ کر منیٰ کی طرف جا رہے تھے۔ میں نے اُن سے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج کے دن (8 ذوالحجہ کو) نماز ظہر کہاں ادا کی تھی؟ اُنہوں نے فرمایا کہ تم وہیں نماز پڑھو جہاں تمہارے حکمران پڑھیں۔

3440

Sahih Ibn Khuzaymah #3440

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Abd al-Jabbār ibn al-‘Alā’: On the authority of Sufyān, from Yaḥyā who said: I heard al-Qāsim say: I heard Ibn az-Zubayr say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس عبدالجبار بن العلاء نے روایت کی، سفيان نے ہمیں روایت کی، یحیی سے، انہوں نے کہا: "میں نے قاسم کو یہ کہتے سنا: میں نے ابن زبیری کو یہ کہتے سنا:""

3441

Sahih Ibn Khuzaymah #3441

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ الْبَجَلِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،

EnglishUnverified translation

### ** Narrated to us Ahmad ibn Manṣūr al-Ramādī On the authority of al-Aswad ibn ʿĀmir On the authority of Abū Kurayb Yaḥyā ibn al-Muhallab al-Bajalī On the authority of al-Aʿmash On the authority of al-Ḥakam On the authority of Miqsam On the authority of Ibn ʿAbbās (RA) ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن منصور الرمادی نے ہمیں بتایا، اسود بن عامر نے ہمیں بتایا، ابو کریب یحیی بن المہلب البجلی نے ہمیں بتایا، اعمش نے، حکم نے، مقسم نے، ابن عباس (رضی اللہ عنہ) نے۔

3442

Sahih Ibn Khuzaymah #3442

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, on the authority of Yahya, on the authority of al-Qasim ibn Muhammad, on the authority of Abdullah ibn az-Zubayr (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حج کے طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ امام منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھائے پھر صبح کے وقت عرفات روانہ ہو جائے اور جو جگہ میسر آئے وہاں دوپہر کو آرام کرے۔ حتّیٰ کہ جب سورج ڈھل جائے تو لوگوں کو خطبہ دے۔ پھر نمازظہر اور عصر جمع کرکے ادا کرے۔ پھر سورج غروب ہونے تک عرفات میں کھڑے ہوکر دعا و گریہ زاری کرے۔ پھر وہاں سے چلے اور مزدلفہ میں آ کر نماز پڑھے یا جہاں اللہ تعالی کو منظور ہو پڑھ لے پھر مزدلفہ میں ٹھہرا رہے حتّیٰ کہ جب صبح روشن ہو جائے تو سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہو جائے۔ پھر جب (منیٰ پہنچ کر) جمرہ کبریٰ کو رمی کر لیگا تو اُس کے لئے عورتوں سے ہمبستری اور خوشبو کے علاوہ ہر چیز حلال ہو جائیگی جو (احرام کی وجہ سے اُس پر حرام تھیں۔ حتّیٰ کہ جب بیت اللہ کا طواف کرلیگا۔ (تو وہ پابندی بھی ختم ہو جائیگی)۔

3443

Sahih Ibn Khuzaymah #3443

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: مِنْ سُنَّةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفَا فِي الْحَرْفِ وَالسِّنِّ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

### ** Narrated to us Muhammad ibn al-Walīd, narrated to us Yazīd—meaning Ibn Hārūn—who informed us Yaḥyā ibn Saʿīd, from al-Qāsim ibn Muḥammad, who said: I heard Ibn az-Zubayr say, “It is from the Sunnah,” and he mentioned the hadith. And at times they would differ regarding a single letter or a tooth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حج کا طریقہ یہ ہے۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی۔ راویوں کا کچھ الفاظ میں اختلاف ہے۔ اور فرمایا کہ تو اس پر عورت کے سوا ہر چیز حلال ہوجائیگی جو اس پر احرام کی وجہ سے حرام تھی۔ حتّیٰ کہ بیت اللہ شریف کا طواف کرلے(تو پھر وہ بھی حلال ہو جائیگی)۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ صحیح اور درست بات یہی ہے کہ جمرہ پر رمی کرنے کے بعد اس کے لئے بیوی سے ہمبستری کے سوا ہر چیز حلال ہو جائیگی کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو طواف افاضہ کرنے سے پہلے خوشبو لگائی تھی۔

3444

Sahih Ibn Khuzaymah #3444

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Yahya narrated to us, saying: Abdullah bin Muhammad Al-Nufayli narrated to us, saying: Hatim bin Isma'il narrated to us, saying: Ja'far narrated to us, from his father, who said: We entered upon Jabir bin Abdullah (RA), and he mentioned the hadith in its entirety, and said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب محمد بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ پھر جب یوم الترویہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوکر منیٰ پہنچ گئے۔ آپ نے منی میں ہمیں، ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں پڑھائیں۔ پھر آپ کچھ دیر ٹھہر گئے حتّیٰ کہ جب سورج طلوع ہوگیا (تو عرفات روانہ ہو گئے) آپ نے اپنے لئے بالوں سے بنے ہوئے ایک خیمے کو نصب کرنے کا حُکم دیا۔ جو وادی نمرہ میں لگا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر عرفات پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے لئے وادی نمرہ میں خیمہ لگا دیا گیا ہے۔ لہذا آپ اُس میں تشریف فرما ہو گئے۔

3445

Sahih Ibn Khuzaymah #3445

إِذْ قَدْ أُمِرَ بِاتِّبَاعِهِ قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-: أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهِ [الْأَنْعَامِ: 90]. وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَدْ سَمِعَ مِنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī: Narrated to us Sulaymān ibn Bilāl: On the authority of Yaḥyā ibn Saʿīd: On the authority of Ibn Abī Mulaykah, who heard from ʿAbd Allāh ibn ʿAmr (RA), who said: Allah the Exalted has said: *"Those are the ones whom Allah has guided, so by their guidance take as your model."* [Quran 6:90]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ آپ کی اتباع کرنے کا حُکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے «أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّـهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ» [ سورۃ الانعام:90 ] ”یہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، لہٰذا

3446

Sahih Ibn Khuzaymah #3446

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هَاشِمٍ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنِّي مُصَفِّفٌ مِنَ الأَهْلِ وَالْحُمُولَةِ، إِنَّمَا حُمُولَتُنَا هَذِهِ الْحُمُرُ الدَّيَّانَةُ، أَفَأَفِيضُ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ؟ فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Aḥmad ibn ʿAbdah, narrated to us Ḥammād (meaning Ibn Zayd), from Ayyūb. And narrated to us Yaʿqūb al-Dawraqī, Ziyād ibn Ayyūb Abū Hāshim, and Muʾammil ibn Hishām, they said: narrated to us Ismāʿīl, from Ayyūb, from Ibn Abī Mulaykah, that a man from Quraysh said to ʿAbd Allāh ibn ʿAmr: "I am a man of family and wealth; our wealth consists of these swift camels. May I perform the overflowing (ifāḍah) from the standing at ʿArafah at night?" So he said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابن ابی ملیکہ رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ ایک قریشی آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گزارش کی کہ میں اپنے گھر والوں اور سامان والے اونٹوں کے ساتھ ہوں۔ اور ہمارا سامان ان کمزور گدھوں پر ہے، کیا میں رات کے وقت ہی مزدلفہ سے روانہ ہو جاؤں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ابراہیم عليه السلام نے تورات منیٰ میں گزاری تھی، حتّیٰ کہ جب صبح ہوگئی اور سورج طلوع ہوگیا تو میدان عرفات کی طرف چل پڑے تھے۔ حتّیٰ کہ عرفات میں اپنے مقام پر تشریف فرما ہوگئے۔ جناب مؤمل کی روایت میں ہے، حتّیٰ کہ عرفات میں اپنی منزل پر تشریف فرما ہوگئے۔ پھر زوال شمس کے بعد عرفات میں وقوف کیا (دعائیں مانگیں) پھر جب سورج غروب ہوگیا تو مزدلفہ آ گئے اور اپنے مقام پر فروکش ہوگئے۔ پھر رات مزدلفہ ہی میں گزاری پھراگرصبح کی نماز جلدی (اندھیرے میں) پڑھتے تو ٹھہر جاتے (اور دعائیں مانگتے) اگر فجر کی نماز صبح روشن کرکے ادا کرتے تو منیٰ روانہ ہو جاتے۔ یہ ہے تمہارے جد امجد ابراہیم عليه السلام کا طریقہ مبارک۔ اور الله تعالیٰ نے تمہارے نبی کو ان کی اتباع کا حُکم دیا ہے۔ یہ جناب ابن علیہ کی حدیث ہے۔

3447

Sahih Ibn Khuzaymah #3447

عَرَفَةَ مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَرَى النَّبِيَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَنَاسِكَ كَمَا أَرَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ.

EnglishUnverified translation

The mention of Arafah serves as evidence that Jibril (Gabriel), peace be upon him, showed the Prophet Muhammad (ﷺ) the rites of Hajj, just as he showed Ibrahim, the intimate friend of the Most Merciful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس دلیل کا بیان کہ جبرائیل عليه السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مناسک حج سکھائے اور مقامات حج دکھائے ہیں جیسے ابراہیم عليه السلام کو دکھائے تھے

3448

Sahih Ibn Khuzaymah #3448

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ إِبْرَاهِيمَ يُرِيهِ الْمَنَاسِكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', narrated to us Sufyan, narrated to us Ibn Abi Layla, on the authority of Ibn Abi Mulaikah, on the authority of 'Abdullah ibn 'Amr (RA), who said: Jibril (AS) came to Ibrahim (AS) to show him the rites of Hajj, and he mentioned the hadith at length, saying: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل عليه السلام، حضرت ابراہیم عليه السلام کو مناسک حج سکھانے کے لئے آئے۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ پھر وہ حضرت ابراہیم عليه السلام کو لیکر منیٰ گئے حتّیٰ کہ جب اُنہوں نے جمرے کو رمی کرلی تو اُن سے فرمایا کہ اب ان مناسک کو اچھی طرح پہچان لیں۔ اور حضرت ابراہیم عليه السلام کو تمام مناسک دکھائے۔ اسی طرح اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام مناسک دکھائے اور سکھائے۔

3449

Sahih Ibn Khuzaymah #3449

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحَسَنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abu 'Ammar Al-Hasan bin Hurayth, who said: Narrated to us Abdullah bin Numayr, on the authority of Yahya bin Sa'id, on the authority of Abdullah bin Abi Salamah, on the authority of Abdullah bin Abdullah bin Umar, from his father (Abdullah bin Umar) (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کو صبح کے وقت روانہ ہوئے تو ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ تکبیریں پڑھ رہے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق یحییٰ بن سعید سے اس روایت کو بیان کرنے والے کسی راوی نے اس سند میں عبداللہ بن عبداللہ بن عمر کو ذکر کرنے پر امام ابن نمیر کی متابعت نہیں کی۔ میں نے اس روایت کے تمام طرق کتاب الکبیر میں بیان کیے ہیں۔

3450

Sahih Ibn Khuzaymah #3450

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ ، قَالَ: غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلا آدَمَ، لَهُ ضَفِيرَانِ، عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَكَانَ يُلَبِّي، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءٌ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ: يَا أَعْرَابِيُّ، إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِ تَلْبِيَةٍ، إِنَّمَا هُوَ تَكْبِيرٌ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Naṣr ibn ʿAlī al-Jahḍamī: It was informed to us Ṣafwān ibn ʿĪsā, on the authority of al-Ḥārith ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Dhubāb, on the authority of Mujāhid, on the authority of Ibn Sakhbarah who said: I went out in the morning with ʿAbd Allāh (ibn ʿUmar) (RA) from Minā to ʿArafah. ʿAbd Allāh (RA) was a man of dark complexion, with two braids, wearing the garb of the desert-dwellers. He was reciting the talbiyah. A group of people gathered around him—some ignorant folk—and said, “O Bedouin! This is not the day for talbiyah; it is only for takbīr.” Thereupon he turned to me and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابن سخبره بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کے وقت منیٰ سے عرفات کی طرف روانہ ہوا۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گندمی رنگ کے شخص تھے انکے بالوں کی دو لٹیں تھیں اور اُن پر دیہاتی لوگوں کا ایک نشان تھا۔ وہ تلبیہ پڑھ رہے تھے تو ان کے گرد کم علم نادان لوگ جمع ہوگئے، وہ کہنے لگے کہ اے دیہاتی، آج کے دن تلبیہ نہیں پکارتے، آج تو تکبیریں پڑھنے کا دن ہے اس وقت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ بیشک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلا تھا تو آپ نے جمرہ عقبہ پر رمی کرنے تک تلبیہ ختم نہیں کیا تھا، البتہ آپ تلبیہ کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله» پڑھ لیتے تھے۔

3451

Sahih Ibn Khuzaymah #3451

وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ وَسَالِمِ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ :n«الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالْفَرَسِ» .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Musa: Bisr ibn Umar narrated to us; Malik narrated to us, from Ibn Shihab, from Hamzah and Salim, the two sons of Abdullah ibn Umar, from Abdullah ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: *"Bad omens are to be found in a woman, a house, and a horse."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور ابو موسیٰ سے روایت ہے، ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ہم سے مالک نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر کے دونوں بیٹوں حمزہ اور سالم سے، اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:\n\نحوست عورت، گھر اور گھوڑے میں ہے۔\" ""

3452

Sahih Ibn Khuzaymah #3452

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ زِيَادِ بْنِ حِزْيَمٍ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ حِذْيَمِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Ali bin Hujr al-Sa'di and Yusuf bin Musa, who both said: Narrated to us by Jarir, on the authority of Al-Mughirah, on the authority of Musa bin Ziyad bin Hizyam al-Sa'di, on the authority of his father, on the authority of his grandfather Hizyam bin 'Amr, who said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying in his sermon on the Day of Arafah during the Farewell Pilgrimage:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن حجر السعدی اور یوسف بن موسی، دونوں نے کہا: جریر نے ہمیں بتایا، المغیرہ سے، موسی بن زیاد بن حزیام السعدی سے، اپنے والد سے، اپنے دادا حزیام بن عمرو سے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو وداعی حج میں عرفہ کے دن خطبے میں یہ کہتے ہوئے سنا:

3453

Sahih Ibn Khuzaymah #3453

وَعَنْ بَحْرِ بْنِ نَصْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ : «لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، إِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ : فِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ» .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Baḥr ibn Naṣr, on the authority of ʿAbd Allāh ibn Wahb, on the authority of Yūnus ibn Yazīd, on the authority of al-Zuhrī, on the authority of Ḥamzah and Sālim ibn ʿAbd Allāh ibn ʿUmar, on the authority of ʿAbd Allāh ibn ʿUmar (RA), from the Prophet (ﷺ), who said: *"There is no contagion (adwā) nor any superstitious belief in omens (ṭiyarah). Bad omens are only in three things: in a horse, in a woman, and in a house."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور بحر بن نصر سے روایت ہے، انہوں نے عبداللہ بن وہب سے، انہوں نے یونس بن یزید سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کے دونوں بیٹوں حمزہ اور سالم سے، اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ کوئی بیماری بذات خود متعدی ہوتی ہے، اور نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے۔ نحوست تو بس تین چیزوں میں ہوتی ہے: گھوڑے میں، عورت میں، اور گھر میں۔

3454

Sahih Ibn Khuzaymah #3454

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ، فَرُحِلَتْ لَهُ فَرَكِبَ حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

### Muhammad bin al-Walid narrated to us, saying: Yazid narrated to us. In another narration, Muhammad bin Yahya narrated to us, saying: Abdullah bin Muhammad al-Nufayli narrated to us, saying: Hatim bin Isma'il narrated to us, saying: Ja'far bin Muhammad narrated to us, from his father, who said: We entered upon Jabir bin Abdullah (RA), and he mentioned the hadith, saying: The Messenger of Allah (ﷺ) proceeded until he came to Araf

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر مکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مزدلفہ اور وادی عرفہ وغیرہ میں رکے بغیر) عرفات پہنچ گئے، جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے اپنی اونٹنی قصواء پر کجاوہ رکھنے کا حُکم دیا تو اُس پر کجاوہ رکھ دیا گیا۔ پھر آپ اُس پر سوار ہوکر وادی عرفات کے وسط میں تشریف لائے تو لوگوں سے خطاب فرمایا، آپ نے فرمایا: ”بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر میں اس مہینے میں تمہارا آج کا دن حرمت والا ہے۔ خبردار، جاہلیت میں کئے گئے عمل بھی رائیگاں ہیں۔ میں اپنے مقتولوں میں سے سب سے پہلے ابن ربیعہ بن حارث کا قتل معاف کرتا ہوں، وہ بنی سعد میں دودھ پیتے تھے تو قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اسے قتل کر دیا تھا۔ جاہلیت کا تمام سود بھی کالعدم ہے میں اپنے خاندان کے سود میں سے سب سے پہلے سیدنا عباس بن عبد المطلب (رضی اللہ عنہ) کا سود (جو لوگوں کے ذمے ہے) سب معاف کرتا ہوں۔ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کیونکہ تم نے اللہ کی امانت کے ساتھ انہیں حاصل کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے کلمے کے ساتھ ان کی شرمگاہوں کو اپنے لئے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ شخص کو نہ بیٹھنے دیں، اگر وہ یہ کام کریں تو تم اُنہیں ہلکی پھکی سزا دے سکتے ہو، اُن کا تم پر یہ حق ہے کہ تم اُنہیں دستور کے مطابق کھانا پینا اور لباس مہیا کرو۔ اور بیشک میں تمہارے اندر ایک ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ تم جب تک اس پر عمل پیرا رہوگے کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ وہ اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے۔ اور (قیامت کے روز) تم سے میرے بارے میں پوچھا جائیگا تو تم کیا جواب دو گے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے تمام پیغامات پہنچا دیے ہیں۔ اور اپنی اُمّت کی خیر خواہی کا حق بھی خوب ادا کیا ہے، اور آپ نے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کردی ہے۔ تو آپ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کرکے سامعین پر جھکاتے ہوئے فرمایا: ”اے اللہ، گواہ ہو جا۔ اے اللہ، گواہ ہو جا۔ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کتاب النکاح میں وضاحت کر دی ہے کہ آپ کا فرمان ”تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ شخص کو نہ بیٹھنے دیں“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر کو کسی ناپسندیدہ اشخاص کے قدموں تلے نہ روندیں۔ کسی کو اس پر نہ بیٹھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”تم کسی شخص کی خصوصی نشست پر اُس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو۔“ آدمی کا بستر بھی اس کی خصوصی نشست گاہ ہوتا ہے۔ آپ کے اس فرمان کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تمہارے کسی ناپسندیدہ شخص سے ہمبستری نہ کریں۔ جیسا کہ بعض جہلاء کو وہم ہوا ہے۔

3455

Sahih Ibn Khuzaymah #3455

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، جَاءَ لِلْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ يَوْمَ عَرَفَةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ: الرَّوَاحُ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ، فَقَالَ: هَذِهِ السَّاعَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ سَالِمٌ: فَقُلْتُ لِلْحَجَّاجِ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la: Narrated to us Ibn Wahb: Narrated to me Malik: From Ibn Shihab: From Salim ibn 'Abdullah: That 'Abdullah ibn 'Umar came to al-Hajjaj ibn Yusuf on the Day of 'Arafah when the sun had passed its zenith, and I was with him. He said, "Depart if you wish to follow the Sunnah." Al-Hajjaj said, "This time?" He said, "Yes." Salim said: I said to al-Hajjaj: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما عرفات والے دن سورج ڈھلنے کے بعد حجاج بن یوسف کے پاس آئے، میں بھی اُن کے ساتھ تھا۔ اُنھوں نے فرمایا کہ اگر سنّت نبی پرعمل کرنا چاہتے ہو تو چلو (اور خطبہ دو) اُس نے عرض کیا کہ ابھی چلوں؟ انھوں نے فرمایا کہ ہاں ابھی چلو۔ حضرت سالم بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجاج سے کہا، اگرتم آج سنّت نبی پرعمل پیرا ہونا چاہتے ہو تو خطبه مختصر دینا اور نماز جلدی پڑھانا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، سالم نے سچ کہا ہے۔

3456

Sahih Ibn Khuzaymah #3456

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ali ibn Sa'id ibn Masruq al-Kindi, who said: Hafs ibn Ghiyath narrated to us, on the authority of Ja'far ibn Muhammad, on the authority of his father, on the authority of Jabir (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ جمع کرکے ادا کیں۔ اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھیں۔

3457

Sahih Ibn Khuzaymah #3457

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Abdullah ibn Muhammad al-Nufayli, narrated to us Hatim ibn Isma'il, narrated to us Ja'far, on the authority of his father, who said: "We entered upon Jabir ibn 'Abdullah, may Allah be pleased with him, and he mentioned the hadith and said:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر بن محمد اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا، ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے (حجة الوداع کی) تفصیلی روایت بیان کی۔ اُنھوں نے فرمایا، پھر نبی کریم نے خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان پڑھی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اُنھوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، آپ نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ پھر آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوکر موقف (کھڑے ہوکر دعائیں مانگنے کے مقام) پر تشریف لائے۔

3458

Sahih Ibn Khuzaymah #3458

ثنا حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمًا ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُصَلِّي بِأَهْلِ مَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُتِمُّونَ صَلاتَهُمْ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Īsā ibn Ibrāhīm al-Ghāfiqī: Narrated to us Ibn Wahb: On the authority of Yūnus, on the authority of Ibn Shihāb, that Sālim informed him on the authority of his father (ʿAbd Allāh ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with him) who said: *"ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (may Allāh be pleased with him) used to lead the people of Makkah in two rakʿahs, then he would give salām, after which they would stand and complete their prayer."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مکّہ والوں کو دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیتے تھے پھر وہ کھڑے ہوکر اپنی بقیہ نمازمکمّل کرلیتے تھے۔ حجاج بن یوسف جس سال سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کے لئے مکّہ مکرّمہ آیا، حضرت سالم نے حجاج کو کچھ مسائل بتائے۔ اس نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ وہ انھیں بتائیں کہ عرفات میں کیسے اعمال حج ادا کرنے ہیں۔ حضرت سالم فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا، اگرتم سنّت نبوی پرعمل کرنا چاہتے ہو تو عرفات کے دن نماز کو پہلے وقت میں ادا کرو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سالم نے سچ کہا ہے۔ صحابہ کرام عرفات کے دن نماز ظہر اور عصر جمع کرکے سنّت کے مطابق ادا کرتے تھے۔ میں نے سالم سے عرض کیا، کیا یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ بلاشبہ صحابہ کرام صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کی پیروی کرتے تھے۔

3459

Sahih Ibn Khuzaymah #3459

ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، أَخْبَرَنَا أَشْهَبُ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَتَبَ عَبْدُ الْمَلَكِ بْنُ مَرْوَانَ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ يَأْمُرُهُ أَنْ لا يُخَالِفَ ابْنَ عُمَرَ فِي أَمْرِ الْحَجِّ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ جَاءَهُ ابْنُ عُمَرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَأَنَا مَعَهُ، فَصَاحَ عِنْدَ سُرَاقَةَ، أَيْنَ هَذَا؟ فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ وَعَلَيْهِ مَلْفَحَةٌ، فَقَالَ لَهُ: مَا لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

### Yunus bin Abd al-A'la narrated to us, saying: Ashhab informed us, on the authority of Malik, that Ibn Shihab narrated to him from Salim bin Abdullah, who said: Abd al-Malik bin Marwan wrote to Al-Hajjaj bin Yusuf, ordering him not to oppose Ibn Umar in matters concerning Hajj. So, on the Day of Arafah, when the sun had declined (passed its zenith), Ibn Umar came to him, and I was with him. He called out near Surqa, "Where

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سالم بن عبداللہ رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو خط لکھ کر حُکم دیا کہ وہ اعمال حج کی ادائیگی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مخالفت نہ کرے۔ لہٰذا جب عرفات کا دن آیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حجاج بن یوسف کے پاس سورج ڈھلتے ہی آئے، میں بھی اُن کے ساتھ تھا۔ اُنھوں نے حجاج کے خیمے کے پاس آ کر اُسے آواز دی، یہ حجاج کہاں ہے؟ تو حجاج ایک چادر اوڑھے اُن کے پاس حاضر ہوگیا۔ اُس نے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمان فرمایئے کیا حُکم ہے؟ اُنھوں نے فرمایا، اگر سنّت نبوی پرعمل کرنا چاہتے ہو تو اب چلو۔ اُس نے عرض کیا کہ میں اپنے بدن پر پانی بہا کر ابھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ لہٰذا انھوں نے اُس کا انتظار کیا حتّیٰ کہ جب وہ باہر آیا تو میرے اور میرے والد محترم کے درمیان چلنے لگا۔ میں نے اس سے کہا، اگر تم سنّت نبوی کو پانا چاہتے ہو تو خطبه مختصر دینا اور وقوف کے لئے جلدی کرنا۔ تو اُس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تاکہ وہ یہی بات اُن سے سن سکے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جب اُس کی یہ چاہت محسوں کی تو فرمایا کہ سالم نے سچ کہا ہے۔

3460

Sahih Ibn Khuzaymah #3460

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, who said: Narrated to us Yahya ibn Sa'id, who said: Narrated to us Ja'far, who said: Narrated to us my father, who said: We came to Jabir ibn 'Abdullah (RA) and asked him about the Hajj of the Prophet (ﷺ). He said: The Messenger of Allah (ﷺ) stood at 'Arafah and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر بن محمد اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں کہ اُنھوں نے فرمایا، ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو ہم نے اُن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں سوال کیا۔ اُنھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ نے عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا: ”میں اس جگہ ٹھہرا ہوں اور سارا میدان عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“

3461

Sahih Ibn Khuzaymah #3461

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادٍ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Yahya narrated to us, Muhammad bin Kathir al-Abdi narrated to us, Sufyan bin Uyaynah narrated to us, from Ziyad, who is Ibn Sa'd, from Abu al-Zubayr, from Abu Ma'bad, from Ibn Abbas (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(عرفات جاتے ہوئے وادی عرنہ سے آگے نکل جاؤ اور (مزدلفہ آتے وقت) واوی محسر سے جلدی آگے نکل جاؤ۔

3462

Sahih Ibn Khuzaymah #3462

فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ:

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Hashim narrated to us, saying: Yahya bin Sa'id narrated to us, on the authority of Ibn Jurayj, who said: 'Ata' informed me, on the authority of Ibn 'Abbas (RA), who said: "It used to be said..."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ وادی محسر اور وادی عرنات سے آگے نکل جاؤ - عرنات کا مطلب یہ ہے کہ وادی عرنہ میں مت ٹهہرو اور وادی محسر کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ مزدلفہ میں ٹهہرتے وقت وادی محسر میں مت اُترو بلکہ اسے چھوڑ کر آگے جا کر ٹهہرو۔

3463

Sahih Ibn Khuzaymah #3463

ثنا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَفِظْتُهُ عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ وَهُوَ أَخْوَالُهُ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abdul-Jabbar ibnul-'Ala', who said: Sufyan narrated to us, who said: I memorized it from 'Amr, from 'Amr ibn 'Abdillah ibn Safwan, who informed us Yazid ibn Shayban—he being his maternal uncle—who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب یزید بن شیبان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم وادی عرفات میں موقف سے پیچھے ٹھہرے ہوئے تھے۔ جناب عمرواس جگہ کو امام کے موقف سے دور قرار دیتے تھے۔ تو اُنھوں نے فرمایا کہ میں تمھاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں۔

3464

Sahih Ibn Khuzaymah #3464

وحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ , قَالَ: وَأَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مِنْ وَرَاءِ الْمَوْقِفِ مَوْقِفًا يَتَبَاعَدُهُ عَمْرُو مِنَ الإِمَامِ، فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ، يَقُولُ لَكُمْ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Abu 'Ammar Al-Husayn ibn Hurayth and Sa'id ibn 'Abd al-Rahman, who said: Narrated to us by Sufyan, from 'Amr (who is Ibn Dinar), from 'Amr ibn 'Abdullah ibn Safwan, from Khalid ibn Yazid ibn Shihab. Abu 'Ammar added: And we were informed by Yazid ibn Shayban, who said: "We were standing at a place behind the

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب یزید بن شیبان بیان کرتے ہیں کہ ہم موقف کے پیچھے کھڑے تھے، جناب عمرو کے نزدیک یہ جگہ امام کے موقف سے بہت دور تھی۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو اُنھوں نے فرمایا کہ بیشک میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں حُکم دیتے ہیں کہ تم اپنی انہی نشانیوں کی جگہوں پرٹھہرے رہو کیونکہ حضرت ابراہیم عليه السلام کی میراث میں سے ایک میراث پر ہو۔ ایک روایت میں جناب ابو عمار بیان کرتے ہیں کہ ہم موقف سے دور ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے تو ہمارے پاس سیدنا ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔

3465

Sahih Ibn Khuzaymah #3465

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْمُفِيضَ مِنْ عَرَفَةَ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ مِنْ لَيْلَةِ النَّحْرِ مُدْرِكٌ لِلْحَجِّ غَيْرُ فَائِتِ الْحَجِّ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْمُفِيضَ مِنْ عَرَفَةَ الْخَارِجَ مِنْ حَدِّهَا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَائِتُ الْحَجِّ، إِذَا لَمْ يَرْجِعْ فَيَدْخُلَ حَدَّ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنَ النَّحْرِ.

EnglishUnverified translation

** It is narrated on the authority of [some of the Companions or Followers] that the evidence that departing from 'Arafah after the sun has passed its zenith (zawāl) but before the sun sets on the night of sacrifice (laylat al-naḥr) is sufficient for the validity of Hajj and does not invalidate it is in opposition to the claim of those who assert that departing from 'Arafah before the sun sets on the night of sacrifice—without returning to re-enter the boundary of 'Arafah before the dawn of the Day of Sacrifice—invalidates the Hajj.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بات کا ثبوت کہ ظہر کے بعد اور غروب آفتاب سے پہلے عرفات سے نکلنے والا راستہ حج سے گزر جاتا ہے بغیر حج کے، اس قول کے خلاف ہے کہ جو شخص یہ دعوی کرے کہ قربانی کی رات غروب آفتاب سے پہلے عرفات سے اس کی سرحد سے باہر نکلنے سے حج چھوٹ گیا، اگر وہ واپس نہیں آیا تو وہ عرفات کی سرحد میں داخل ہو گا۔ جھیل سے طلوع فجر سے پہلے۔

3466

Sahih Ibn Khuzaymah #3466

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَزَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَيْضًا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَسَعْدَانُ يَعْنِي ابْنَ يحيي , عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ يَحْيَى: ثنا , وَقَالَ يَزِيدُ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ هُشَيْمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لامٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْتُكَ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ أَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبَلٍ إِلا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali ibn Hajar al-Sa'di, who informed us Hushaym, who informed us Ismail ibn Abi Khalid and Zakariyya ibn Abi Zayda. [Narrated to us Ali ibn Hajar via an additional chain:] He narrated to us Ali ibn Miskar and Sa'dan [i.e., Ibn Yahya], from Ismail [ibn Abi Khalid]. Narrated to us Muhammad ibn Abd al-A'la al-Sana'ani, who narrated to us al-Mu'tamir, who said: I heard Ismail [ibn Abi Khalid]. Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, who narrated to us Yahya and Yazid ibn Harun. Yahya said: He narrated to us [Ismail], and Yazid said: Ismail informed us. Narrated to us Ali ibn al-Mundhir, who narrated to us Ibn Fudayl, who narrated to us Ismail [ibn Abi Khalid]. Narrated to us Abdullah ibn Sa'id al-Ashjaj and Salam ibn Junada, who both said: We were informed by Waki', from Ismail ibn Abi Khalid. This is the hadith reported by Hushaym, from al-Sha'bi, who said: Urwah ibn Mudarris ibn Aus ibn Haritha ibn Lam al-Ta'i (RA) informed me, [saying]: I came to the Prophet (ﷺ) while he was at Jam' [the gathering plain of Mina during the Hajj pilgrimage], so I said: "O Messenger of Allah, I came to you from the mountain of Tayyi', having exhausted my riding camel and worn myself out. By Allah, I did not leave any path or route except that I traversed it. Do I have a valid Hajj?" The Messenger of Allah (ﷺ) then began to speak, [and the provided narration cuts off at this point, with no further text of his response included in the source]. [Commentary: This is a Sahih hadith, authenticated by Imam Muhammad al-Bukhari, and recorded in his Sahih in the Book of Hajj.] ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ مزدلفہ میں تشریف فرما تھے۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں طے قبیلے کے پہاڑوں سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا ہے اور میں خود بھی تھکاوٹ سے چور ہوں۔ اللہ کی قسم میں نے کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑ مگر اُس پر ٹھہرا ہوں تو کیا میرا حج ہوگیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ہمارے ساتھ یہ (فجر کی نماز پڑھ لی اور ہمارے ساتھ اس موقف (مزدلفہ) میں ٹھہرا رہا، جبکہ اس سے پہلے وہ عرفات سے دن یا رات کے وقت واپس لوٹا ہو تو اُس کا حج مکمّل ہوگیا اور اُس نے اپنے مناسک پورے کرلیے (اور اپنی میل کچیل دور کرلی)۔

3467

Sahih Ibn Khuzaymah #3467

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسٍ ، يَقُولُ: كُنْتُ أَوَّلَ الْحَاجِّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ، وَقَدْ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَأَنْصَبْتُ نَفْسِي، فَمَا تَرَكْتُ مِنْ حَبَلٍ إِلا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abdul-Jabbar ibnul-'Ala', narrated to us Sufyan, from Zakariyya', who said: I heard ash-Sha'bi say: I heard 'Urwah ibn Mudarris say: "I was one of the first pilgrims to arrive. I came to the Prophet (ﷺ) while he was at Muzdalifah. He went out to pray when dawn broke. I said: 'O Messenger of Allah, I have come to you from the mountain of Tayy', and my riding beast has become exhausted and I have strained myself. I did not leave any hill without stopping at it. So what do you command me to do?' ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں پہلی مرتبہ حج کررہا تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ منردلفہ میں تشریف فرما تھے۔ جب فجر روشن ہوئی تو آپ صبح کی نماز کے لئے نکلے۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں طی قبیلے کے پہاڑوں سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، میں نے اپنی سواری تھکا دی ہے اور خود بھی تھکاوٹ سے چور چور ہو چکا ہوں، میں نے کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑا مگر اس پر ٹھہرا ہوں (کہ شاید یہی عرفات ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھ لی پھر یہاں سے ہمارے روانہ ہونے تک ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا، اور اس سے پہلے وہ عرفات میں دن یا رات کے وقت ٹھہر چکا ہو تو اُس نے اپنی میل کچیل دور کرلی اور اُس کا حج مکمّل ہوگیا۔ ‘ جناب داؤد کی روایت میں ہے کہ جب فجرطلوع ہوئی تو اُس وقت نماز کے لئے نکلے۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس داؤد رادی سے مراد ابن یزید اودی ہے۔

3468

Sahih Ibn Khuzaymah #3468

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الثَّوْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى . ح وحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمُرَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَأَتَاهُ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، وَهُمْ بِعَرَفَةَ، فَسَأَلُوهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Maymun al-Makki, narrated to us Sufyan from al-Thawri. Also narrated to us Bundar, narrated to us Yahya. Also narrated to us Abu Musa, narrated to us 'Abd al-Rahman, they both said: narrated to us Sufyan. Also narrated to us Salam ibn Junadah, narrated to us Waki' from Sufyan, and this is the narration of Bundar from Bukayr ibn 'Ata' from 'Abd al-Rahman ibn Ya'mar who said: I came to the Prophet (ﷺ) at 'Arafah, and some people from the people of Najd came to him while they were at 'Arafah. They asked him, so he ordered a caller to call out... ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمٰن بن یعمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرفات میں حاضر ہوا اور آپ کے پاس نجد کے کچھ لوگ بھی حاضر ہوئے جبکہ وہ بھی عرفات ہی میں تھے۔ اُنھوں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے منادی کرنے والے کو حُکم دیا تو اُس نے یہ اعلان کیا کہ ”حج عرفہ ہے۔ جو شخص مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے پہلے عرفات گیا تو اُس نے حج پالیا منیٰ میں ٹھہرنے کے تین دن ہیں۔ پھر جو شخص دو دن میں جلدی کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جوتأخیر کرے (تیسرا دن بھی منیٰ میں گزارے) تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا جو یہ اعلان کر رہا تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ”حج عرفہ ہے“ یہ مسئلہ اسی قسم سے ہے جسے میں کتاب الایمان میں بیان کر چکا ہوں کہ کبھی الف لام کے ساتھ معرفہ بننے والے اسم کا اطلاق پوری چیز کی بجائے اس کے کسی جز اور حصّے پر بھی ہوجاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”الحج“ کہہ کر مراد عرفات کا وقوف لیا ہے حالانکہ وقوف عرفات مکمّل حج نہیں ہے بلکہ یہ توحج کا ایک حصّہ ہے۔ میں نے کتاب الایمان میں یہ قسم بیان کردی ہے، جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دینی سمجھ بوجھ اور درست راستے کی ہدایت دی ہو اُس کے لئے یہی کافی ہے۔

3469

Sahih Ibn Khuzaymah #3469

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: كَانَتْ قُرَيْشٌ إِنَّمَا تَدْفَعُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْحُمْسُ، فَلا نَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ، وَقَدْ تَرَكُوا الْمَوْقِفَ عَلَى عَرَفَةَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Nasr bin Ali, who informed us that Wahb bin Jarir narrated to us, from his father, from Muhammad bin Ishaq, who said: Abdullah bin Abu Bakr narrated to me, from Uthman bin Abu Sulayman, from his uncle Nafi' bin Jubayr, from his father Jubayr bin Mut'im, who said: The Quraysh used to depart only from Muzdalifah, saying, "We are the Hamus (the elite/religious aristocracy), so we shall not

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش کے لوگ مزدلفہ ہی سے واپس آجاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم حمس (دین میں پختہ اور بہتر لوگ) ہیں اس لئے ہم حدود حرم سے باہر نہیں جائیںگے ان لوگوں نے وقوف عرفات ترک کیا ہوا تھا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار تھے۔ پھر آپ صبح کے وقت اپنی قوم کے ساتھ مزدلفہ میں آ ملتے، آپ ان کے ساتھ ٹھہر ے رہتے حتّیٰ کہ جب وہ منیٰ کی طرف لوٹتے تو آپ ان کے ساتھ روانہ ہوتے۔

3470

Sahih Ibn Khuzaymah #3470

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أنا عَبْدُ الْمَلَكِ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ ، قَالَ: قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim al-Dawraqi who said: Narrated to us Hushaym who said: 'Abd al-Malik informed us; 'Ata' reported to us who said: Usamah ibn Zayd (RA) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھا۔ آپ نے دعا کے لئے دونوں ہاتھ بلند کیے تو آپ کی اونٹنی نے آپ کو ایک جانب جھکا دیا جس سے اُس کی نکیل گرگئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیل ایک ہاتھ میں پکڑلی اور دوسرا ہاتھ دعا کے لئے اُٹھا لیا۔

3471

Sahih Ibn Khuzaymah #3471

ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa: Jarir narrated to us, from 'Abd al-Malik ibn Abi Sulayman, from 'Ata', from Ibn 'Abbas (RA) who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس لوٹے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ آپ کی اونٹنی نے آپ کو ایک طرف جھکا دیا جبکہ آپ نے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اُٹھائے ہوئے تھے مگر وہ سرسے اونچے نہیں تھے حتّیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے واپس روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما آپ کے پیچھے سوار تھے۔ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمره عقب کو کنکریاں مارنے تک آپ مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

3472

Sahih Ibn Khuzaymah #3472

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرٍ ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Yahya narrated to us, saying: Abdullah bin Muhammad an-Nufayli narrated to us, saying: Hatim narrated to us, saying: Ja'far narrated to us, from his father, who said: We entered upon Jabir (RA), and I said, "Inform me about the Hajj of the Messenger of Allah (ﷺ)." He mentioned part of the narration and said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور میں نے کہا آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتایئے؟ اُنہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ قصواء اونٹنی پر سوار ہوکر عرفات تشریف لائے اور اپنی اونٹنی کا پیٹ (رخ) پہاڑی جبل رحمت کی چٹانوں کی طرف کردیا اور لوگوں کے چلنے کے ریتلے راستے کو اپنے سامنے رہنے دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رُخ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام تک ثھہرے رہے یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا اور زردی کم ہوگئی اور سورج کی ٹکیہ پوری طرح ڈوب گئی۔

3473

Sahih Ibn Khuzaymah #3473

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ . ح حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by 'Isa bin Ibrahim Al-Ghafiqi, who said: Narrated to us by Ibn Wahb, who informed me of Makhrama. [And in another narration:] Narrated to us by Ibrahim bin Munqid, who said: Narrated to us by Ibn Wahb, from Makhrama bin Bukayr, from his father, who said: I heard Yunus bin Yusuf, from Ibn Al-Musayyab, from 'Aisha (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسی بن ابراہیم الغافقی نے ہمیں بتایا، ابن وھب نے ہمیں بتایا، مخرمہ نے مجھے خبر دی۔ اور ابراہیم بن منقد نے ہمیں بتایا، ابن وھب نے ہمیں بتایا، مخرمہ بن بکیر سے، ان کے والد سے، انہوں نے کہا: میں نے یونس بن یوسف کو سنہ، ابن المسیب سے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے، کہ اللہ کے رسول (ﷺ) نے کہا:

3474

Sahih Ibn Khuzaymah #3474

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ar-Rabi' ibn Sulayman, narrated to us Ibn Wahb, he informed me Malik ibn Anas, on the authority of Abu An-Nadr, from 'Umayr, the freed slave of Ibn 'Abbas, from Umm al-Fadl bint al-Harith (RA), that she said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) recite in the Maghrib prayer: **"Alif-Lam-Mim, Tanzil" (Surah As-Sajdah 32:1-2)**. He recited it in two rak'ahs, and he did not hear it from me except that he would recite it in the Maghrib prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عرفہ والے دن ان کے پاس کچھ صحابہ کرام کا اختلاف ہوگیا کہ کیا رسول اللہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے یا نہیں؟ کچھ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ ہے اور کچھ کہنے لگے کہ آپ نے روزہ نہیں رکھا، پس سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جبکہ آپ اپنی اونٹنی پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پی لیا، آپ اس دن میدان عرفات میں تھے۔

3475

Sahih Ibn Khuzaymah #3475

وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ بِذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us al-Rabīʿ, who said: Narrated to us Ibn Wahb, who informed me ʿAmr, on the authority of Bukayr, from Kurayb, the freed slave of Ibn ʿAbbās, from Maymūna, on the authority of the Messenger of Allāh (ﷺ), with the same wording.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ سے یہی روایت بیان کرتی ہیں۔

3476

Sahih Ibn Khuzaymah #3476

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ لِي: يَا سَعِيدُ، مَا لِي لا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ؟ فَقُلْتُ: يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ فُسْطَاطِهِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ʿAlī ibn Muslim, narrated to us Khālid ibn Makhlad, narrated to us ʿAlī ibn Ṣāliḥ, from Maysarah ibn Ḥabīb, from al-Minhāl ibn ʿAmr, from Saʿīd ibn Jubayr (RA), who said: "We were with Ibn ʿAbbās (RA) at ʿArafah, when he said to me, 'O Saʿīd, why do I not hear the people saying the talbiyah?' I replied, 'They fear Muʿāwiyah (RA).' So Ibn ʿAbbās (RA) exited his tent and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن جبیر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ہم عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، تو اُنھوں نے مجھ سے کہا کہ اے سعید، کیا وجہ ہے کہ مجھے لوگوں کے تلبیہ پکارنے کی آواز نہیں آرہی؟ میں نے عرض کیا، وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اپنے خیمے سے نکلے اور کہنے لگے «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» ”اے اللہ، میں حاضر ہوں، اے اللہ، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔“ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دشمنی کی وجہ سے تلبیہ کی سنّت کو چھوڑ دیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ احادیث کہ آپ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہتے رہے تھے، اس بات کی دلیل ہے کہ آپ میدان عرفات میں تلبیہ پکارتے تھے۔

3477

Sahih Ibn Khuzaymah #3477

حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ، فَلَمَّا قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Jameel ibn al-Hasan al-Jahdami, narrated to us Mahboob ibn al-Hasan, narrated to us Dawood, from ‘Ikrimah, from Ibn ‘Abbaas (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) halted at ‘Arafaat. When he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں ٹھہرے (وقوف کیا)، تو جب تلبیہ کے یہ الفاظ کہے: ” «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» تو یہ الفاظ بھی پڑھے: «إِنَّمَاالْخَيْرُخَيْرُالْآخِرَةِ» یقیناً خیر و بھلائی تو آخرت کی خیر و بھلائی ہے۔“

3478

Sahih Ibn Khuzaymah #3478

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، وَأَعْرَابِيٌّ يُسَايِرُهُ وَرِدْفُهُ ابْنَةٌ لَهُ حَسْنَاءُ، قَالَ الْفَضْلُ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهِي يَصْرِفُنِي عَنْهَا، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Nasr bin Marzuq, who narrated to us Asad bin Musa, who narrated to us Isra'il. And also narrated to us Muhammad bin Rafi', from Yahya bin Adam, who narrated to me Isra'il, from Abu Ishaq, from Sa'id bin Jubayr, from Ibn Abbas, from Al-Fadl bin Abbas. Ibn Rafi' said: Al-Fadl reported to me, saying: I was riding behind the Prophet (ﷺ) when he departed from Muzdalifah

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن رافع بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے (منیٰ کی طرف) روانہ ہوئے تو میں آپ کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھا۔ ایک اعرابی آپ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور آپ سے مسائل پوچھ رہا تھا۔ اُس کے پیچھے اُس کی خوبصورت بیٹی سوار تھی۔ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُس لڑکی کی طرف دیکھنا شروع کردیا تو رسول اللہ نے مجھے چہرے سے پکڑ کر دوسری طرف گھما دیا۔ پھر آپ جمرہ عقبہ کو رمی کرنے تک مسلسل لبیک پکارتے رہے۔ جناب ابن رافع کی روایت میں ہے کہ وہ اعرابی آپ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا یا آپ سے سوال پوچھ رہا تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سکین بن عبدالعزيز بصری سے مروی ہے جبکہ میں اس کی اور اس کے باپ کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما عرفہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے تو سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نے عورتوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے اپنے پیچھے سے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے لیکن سیدنا فضل رضی اللہ عنہ (دوسری طرف) عورتوں کو دیکھنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے، بیشک جو شخص آج کے دن اپنے کانوں آنکھوں اور زبان کی حفاظت کرے اُس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“

3479

Sahih Ibn Khuzaymah #3479

حَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ .

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Nasr ibn Marzuq, who said: Narrated to us by Asad, who said: Narrated to us by Sukayn ibn Abd al-Aziz.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام صاحب نے سکین بن عبد العزیز کی حدیث کی سند بیان کی۔

3480

Sahih Ibn Khuzaymah #3480

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ أَبُو حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَجَعَلَ الْفَتَى يُلاحِظُ النِّسَاءَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: يَصْرِفُ وَجْهَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: يَا ابْنَ أَخِي.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ishaq ibn Mansur: On the authority of Hubban ibn Hilal Abu Habib, who said: Narrated to us Sukayn al-Qattan, who said: Narrated to us my father, who said: Narrated to us Ibn Abbas (RA), who said: "Al-Fadl ibn Abbas (RA) was riding behind the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Arafah. The young man began to look at the women, so the Prophet (ﷺ) turned his face away."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ عرفات والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے تو اس نوجوان نے عورتوں کو دیکھنا شروع کردیا۔ پھر اوپر والی روایت کی مثل بیان کیا صرف یہ فرق ہے۔ آپ نے اُس کا چہرہ دوسری طرف کردیا، لیکن ”اے میرے بھتیجے“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔

3481

Sahih Ibn Khuzaymah #3481

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ , عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Isa narrated to us, saying: Nu'aym ibn Hammad narrated to us, saying: Isa ibn Yunus ibn Abi Ishaq narrated to us, saying: Muhammad ibn Ishaq narrated to us, from Abu Ja'far, who is Muhammad ibn Ali ibn al-Husayn (RA), from Jabir (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج میں ایک اعلان کرنے والے کوحُکم دیا تو اُس نے زوال کے وقت اعلان کیا کہ غسل کرلو۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی اور فرمایا، پھر جب یوم الترویہ (8 ذوالحجہ کا دن) آیا آپ نے اپنے منادی کو حُکم دیا تو اُس نے یہ اعلان کیا کہ حج کا احرام باندھ کر تلبیہ پکارو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا کہ اونٹوں کو عرفات اور حج کے تمام مناسک کی ادائیگی کے دوران اپنے ساتھ رکھا جائے۔

3482

Sahih Ibn Khuzaymah #3482

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَكِيمٍ الْكِنَانِيُّ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مَوَالِيهِمْ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قُدَامَةَ الضِّبَابِيِّ ، قَالَ: أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِبِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ حَمْرَاءُ قَصْوَاءُ، وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ قَوْلانِيَّةٌ، وَهُوَ يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

### Muhammad ibn Abdullah ibn Abd al-Hakam narrated to us, saying: Sa'id ibn Bashir al-Qurashi narrated to us, saying: Abdullah ibn Hakim al-Kinani, from the people of Yemen and from their freed clients, narrated to me, from Bishr ibn Qudamah al-Dabbabi, who said: My eyes saw my beloved, the Messenger of Allah (ﷺ), standing at Arafat upon a red she-camel of his, named Qaswa', with a Qut

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا بشر بن قدامہ الضبابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری ان دو آنکھوں نے میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میدان عرفات میں اپنی اونٹنی قصواء پر سوار دیکھا آپ کے نیچے بالکل معمولی سی چادر تھی اور آپ دعا مانگ رہے تھے «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا غَيْرَ رِيَاءٍ وَلا هِيَاءٍ وَلا سُمْعَةِ» ”اے اللہ، اس حج کوریاکاری نمود ونمائش اور شہرت سے محفوظ بنادے۔“

3483

Sahih Ibn Khuzaymah #3483

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, who said: Narrated to us Abu Ahmad az-Zubayri, who said: Narrated to us Sufyan, from Abd ar-Rahman ibn al-Harith ibn Ayyash ibn Abi Rabi'ah, from Zayd ibn Ali, from his father, from Ubaydullah ibn Abi Rafi', from Ali (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں ٹھہرے رہے پھر غروب آفتاب کے بعد آپ واپس (مزدلفہ) لوٹے آپ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کیا۔ جناب محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ جناب جعفر بن محمد کی اپنے والد سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اس باب کے متعلق ہے۔

3484

Sahih Ibn Khuzaymah #3484

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ وَهْرَامَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Yahya narrated to us, Abu 'Amir narrated to us, Zam'ah narrated to us, from Salamah, who is the son of Wahram, from Ikrimah, from Ibn 'Abbas (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ عرفات میں ٹھہرے رہتے حتّیٰ کہ جب سورج پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس طرح ہو جاتا جیسے آدمیوں کے سروں پر پگڑیاں ہوتی ہیں تو وہ مزدلفہ لوٹ آتے۔ پھر مزدلفہ میں ٹھہرتے حتّیٰ ٰکہ جب سورج طلوع ہو جاتا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر مردوں کے سروں پر پگڑیوں کی طرح ہو جاتا تو (منیٰ) لوٹ آتے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے روانگی کو غروب آفتاب تک مؤخر کردیا، پھر صبح کی نماز مزدلفہ میں ادا کی جبکہ فجر طلوع ہوگئی پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے آخری گھڑی میں منیٰ روانہ ہوئے جبکہ ہر چیز روشن ہو چکی تھی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں زمعہ بن صالح راوی کی ذمہ داری سے براءت کا اظہار کرتا ہوں۔

3485

Sahih Ibn Khuzaymah #3485

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ziyad ibn Ayyub, who narrated to us Abu Naim, who narrated to us Yunus ibn Abi Ishaq, on the authority of Mujahid ibn Jabr, on the authority of Abu Hurairah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: [The remainder of the prophetic statement is not included in the provided source text]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک الله تعالی عرفات کے حاجیوں کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر و مباہات کا اظہار فرماتا ہے۔ اللہ تعالی اُن سے فرماتا ہے کہ میرے بندوں کو دیکھو کیسے غبار آلود پراگنده حال میں میرے دربار میں حاضر ہیں۔

3486

Sahih Ibn Khuzaymah #3486

قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى مَرْزُوقٌ هُوَ أَبُو بَكْرٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Abu Bakr said: Marzuq, who is Abu Bakr, narrated to us from Abu al-Zubayr, on the authority of Jabir (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عرفات کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے اور عرفات کے حاجیوں کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”میرے بندوں کی طرف دیکھو، وہ میری بارگاہ میں کس قدر غبار آلودہ پراگنده حالت میں حاضر ہیں، ہر دور دراز علاقے سے حاضر ہوئے ہیں۔ میں تمہیں گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں معاف کردیا ہے۔“ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار، ان میں فلاں متکبّر بھی ہے اور ان میں فلاں فلاں گناہ گار بھی ہیں، الله تعالیٰ فرمائے گا کہ ”میں نے ان سب کو بخش دیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہیں: ”عرفہ والے دن جس کثرت سے لوگوں کو جہنّم سے آزادی ملتی ہے وہ کسی اور دن میں نہیں ملتی۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں مرزوق (راوی) کی ذمہ داری سے بری ہوں۔

3487

Sahih Ibn Khuzaymah #3487

وَلَا أَخَالُ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْخَبَرِ حُكْمٌ، وَإِنَّمَا هُوَ دُعَاءٌ، فَخَرَّجْنَا هَذَا الْخَبَرَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ثَابِتًا مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ إِذْ هَذَا الدُّعَاءُ مُبَاحٌ أَنْ يَدْعُوَ بِهِ عَلَى الْمَوْقِفِ وَغَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

And I do not think that there is any legal ruling in this narration; rather, it is merely a supplication. Therefore, we have included this narration even though it is not established from the perspective of transmission, since this supplication is permissible to be made at the standing place (Arafah) and elsewhere.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میں صرف یہ سمجھتا ہوں کہ اس رپورٹ میں کوئی حکم نہیں ہے، بلکہ یہ دعا ہے، اس لیے ہم نے اس رپورٹ کو شامل کیا، اگرچہ نقل کے اعتبار سے یہ ثابت نہ ہو، کیونکہ یہ دعا کسی حالت میں یا کسی اور وقت پڑھی جا سکتی ہے۔

3488

Sahih Ibn Khuzaymah #3488

رَوَى قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنِ الأَغَرِّ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حَصِينٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشِيَّةِ عَرَفَةَ:

EnglishUnverified translation

### ** Narrated to us Qays ibn al-Rabīʿ, on the authority of al-Agharr, on the authority of Khālidah ibn Ḥuṣayn, on the authority of ʿAlī (may Allāh be pleased with him), who said: *The most frequent supplication the Messenger of Allāh (ﷺ) would make on the evening of ʿArafah was:* ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کی شام کو یہ دعا بکثرت پڑھی تھی «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِي تَقُولُ وَخَيْرًا مِمَّا نَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِي وَإِلَيْكَ مَآبِي وَلَكَ رَبِّ تُرَاثِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَةِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الأَمْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ» ”اے اللہ، تمام تعریفیں تیری ہی ہیں جیسے تو نے اپنے لئے بیان کی ہیں، اور جو تعریفیں ہم بیان کرتے ہیں، اس سے بہتر واعلیٰ تیری تعریفیں ہیں اے اللہ، میری نماز تیرے ہی لئے ہے۔ میری قربانی میرا جینا، میرا مرنا تیرے لئے ہے۔ تیری ہی طرف میرا لوٹنا ہے۔ اے میرے رب، میری میراث تیرے لئے ہے۔ اے اللہ، میں قبر کے عذاب، سینے کے وسوسوں اور معاملات کے بگاڑ و فساد سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ، میں تجھ سے اس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو ہوا لیکر آتی ہے اور اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو ہوا لیکر آتی ہے۔“

3489

Sahih Ibn Khuzaymah #3489

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Abd al-Jabbār ibn al-‘Alā’, narrated to us Sufyān, narrated to us Ibn Abī Laylā, on the authority of Ibn Abī Mulaykah, on the authority of ‘Abd Allāh ibn ‘Amr (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل عليه السلام، حضرت ابراهیم عليه السلام کو منا سک حج سکھانے اور دکھانے کے لئے آئے تو انہیں منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھائیں، پھر وہ اُن کے ساتھ عرفات گئے اور عرفات میں اُنہیں ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھائیں اور اُنھیں سورج غروب ہونے تک موقف میں ٹھہرایا، پھر انہیں لیکر روانہ ہوگئے، پھر انہیں مغرب عشاء اور صبح کی نمازیں مزدلفہ میں پڑھائیں، رات مزدلفہ میں ہی بسرکرائی، پھر (صبح کومنیٰ جاکر) جمره پر کنکریاں ماریں۔ پھر تمام مناسک دکھانے کے بعد فرمایا کہ إعرف الأن (اب اچھی طرح پہچان لو)۔ اسی طرح حضرت جبرائیل عليه السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام مناسک سکھائے۔

3490

Sahih Ibn Khuzaymah #3490

وَالْأَمْرِ بِالسَّكِينَةِ فِي السَّيْرِ بِلَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ.

EnglishUnverified translation

Narrated to us [full chain of narration (isnad) not included in the provided source text]: And the command to maintain composure during travel is conveyed with a general wording, whose intended meaning is specific.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس وقت آرام اور سکون کے ساتھ چلنے کا حُکم ہے لیکن اس حدیث کے الفاظ عام ہیں اور ان سے مراد خاص ہے

3491

Sahih Ibn Khuzaymah #3491

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، وَغَدَاةَ جَمْعٍ حِينَ دَفَعُوا النَّاسُ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim al-Dawraqi; he narrated to us Yahya ibn Sa'id. And Ali ibn Khashram narrated to us; Isa ibn Yunus informed us, all of them from Ibn Jurayj. Ibn Jurayj said: Abu Zubayr informed me; Abu Ma'bad informed me, from Ibn Abbas (RA), from al-Fadl ibn Abbas (RA). [Al-Fadl] said: The Messenger of Allah (ﷺ) said on the evening of Arafah and the morning of the day of Jam (the 10th of Dhu al-Hijjah, the first day of Eid al-Adha) when the people departed from Arafah: "There is no day on which Allah frees more people from the Fire than the day of Arafah." Commentary: This hadith is graded *Hasan Sahih* by Imam al-Tirmidhi, and is recorded in *Sunan al-Tirmidhi* (Book of Hajj, Hadith 861). It is corroborated by multiple authentic narrations emphasizing the unparalleled virtue of the day of Arafah, the central day of the Hajj pilgrimage, when pilgrims gather on the plain of Arafah in continuous supplication from noon until sunset, seeking Allah's forgiveness, mercy, and acceptance of their worship. The hadith highlights the immense opportunity for spiritual redemption and liberation from the Fire that this blessed day holds for the Muslim Ummah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو جب لوگ روانہ ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو، آرام و سکون سے چلو “ جبکہ آپ نے اپنی اونٹنی کو روکا ہوا تھا۔

3492

Sahih Ibn Khuzaymah #3492

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْبِرَّ السَّكِينَةُ فِي السَّيْرِ بِمِثْلِ اللَّفْظَةِ الَّتِي ذَكَرْتُ أَنَّهَا لَفْظٌ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): I said, "O Messenger of Allah (ﷺ), inform me about al-birr (righteousness)." He (ﷺ) said, "Al-birr is tranquility (al-sakīnah) in the heart, and al-ithm (sin) is that which wavers in the heart and causes unease, even if the people give you a fatwa (legal opinion) to justify it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

لیکن اس حدیث کے الفاظ بھی گزشتہ حدیث کے الفاظ کی طرح عام ہیں اور ان کی مراد خاص ہے

3493

Sahih Ibn Khuzaymah #3493

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، فَأَفَاضَ بِالسَّكِينَةِ وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-Hasan ibn Ibrahim ibn al-Husayn, narrated to us Mu'awiyah ibn Hisham, narrated to us Sufyan, from al-A'mash, from al-Hakam, from Miqsam, from Ibn 'Abbas, from Usamah, that the Prophet (ﷺ) made him ride behind him when he departed from 'Arafah. He (the Prophet (ﷺ)) departed with tranquility and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے واپسی پر ہمیں اپنے پیچھے اوٹنی پر سوار کرلیا۔ آپ بڑے آرام و سکون سے چلے اور فرمایا: ”اے لوگو، سکون سے چلو، یقیناً گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز بھگانا نیکی نہیں ہے۔“ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے آپ کی اونٹنی کو تیز دوڑنے کے لئے اپنا اگلا قدم اُٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا حتّیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھالیا اور لوگوں کو آرام و سکون کے ساتھ چلنے کا حُکم دیا۔ پھر آپ خود بھی سکون کے ساتھ چلے۔ آپ نے فرمایا: ”گھوڑے اور اونٹ تیز دوڑانا نیکی نہیں ہے۔“ پھر میں نے آپ کی اونٹنی کو اپنا اگلا قدم اُٹھاکر دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا حتّیٰ کہ آپ منیٰ پہنچ گئے۔

3494

Sahih Ibn Khuzaymah #3494

وَالْبَيَانُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يَسِيرُ سَيْرَ السَّكِينَةِ فِي الْوَقْتِ الَّذِي لَمْ يَجِدْ فَجْوَةً إِذْ قَدْ نَصَّ عِنْدَ وُجُودِ الْفَجْوَةِ فِي السَّيْرِ عِنْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَةَ، وَفِي هَذَا الْخَبَرِ مَا بَانَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: فَمَا رَأَيْتُ نَاقَتَهُ رَافِعَةً يَدَهَا حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا- أَيْ فِي الزِّحَامِ دُونَ الْوَقْتِ الَّذِي وَجَدَ فِيهِ فَجْوَةً- إِذْ أُسَامَةُ هُوَ الْمُخْبِرُ أَنَّهُ نَصَّ لَمَّا وَجَدَ الْفَجْوَةَ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): It was said that the Prophet (ﷺ) would only travel at a moderate pace when there was no space to move freely. However, when there was space, he would travel swiftly, such as when departing from 'Arafah. In this report, it becomes clear that Usāmah ibn Zayd (RA) intended by his statement, *"I did not see his camel raise its leg until we reached Jam'"*, that this occurred during the crowding, not at a time when he found space to move freely. Usāmah (RA) himself is the one who reported that the Prophet (ﷺ) would travel swiftly when he found space.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

تشریح یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس وقت سکون کے انداز میں آگے بڑھ رہے تھے جب آپ کو کوئی خلا نہ ملا، جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ عرفات سے دھکیلنے کے وقت سفر میں وقفہ تھا، اور اس روایت میں واضح ہے کہ اسامہ بن زید سے مراد اس وقت تک ہے جب انہوں نے کہا: میں نے اس وقت تک اس کا ہاتھ نہیں دیکھا جب تک کہ میں نے اس کا ہاتھ نہیں دیکھا۔ ہجوم اس وقت کے بغیر جب اسے ایک خلا ملا - جیسا کہ اسامہ مخبر تھا۔ اس نے جو کچھ پایا اسے ریکارڈ کیا۔ خلا...

3495

Sahih Ibn Khuzaymah #3495

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَهُوَ أَحْسَنُهُمْ سِيَاقًا لِلْحَدِيثِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِي، وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ يَسْأَلُ كَيْفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Abd al-Jabbār ibn al-‘Alā’ (RA), narrated to us Sufyān (RA), narrated to us Hishām (RA). And narrated to us Muḥammad ibn Bashshār (RA), narrated to us Yaḥyā (RA), narrated to us Hishām (RA). And narrated to us Muḥammad ibn al-‘Alā’ ibn Kurayb (RA), narrated to us ‘Abd al-Raḥīm — meaning ibn Sulaymān (RA). And narrated to us Salm ibn Junādah (RA), narrated to us Wakī‘ (RA). And narrated to us Aḥmad ibn ‘Abdah (RA), informed us Muḥammad ibn Dīnār (RA) — all of them from Hishām ibn ‘Urwah (RA). This narration is from ‘Abd al-Jabbār and it is the most well-arranged of their narrations. He said: I heard my father (RA) say: I heard Usāmah (RA) — and he was beside me, and he was the one who rode behind the Prophet (ﷺ) from ‘Arafah — asking: “How did the Messenger of Allāh (ﷺ) ride when he departed from ‘Arafah?” He (Usāmah RA) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار بن العلاء نے ہمیں بتایا، سفیان نے ہمیں بتایا، ہشام نے ہمیں بتایا۔ اور محمد بن بشار نے ہمیں بتایا، یحیی نے ہمیں بتایا، ہشام نے ہمیں بتایا۔ اور محمد بن العلاء بن کریب نے ہمیں بتایا، عبدالرحیم یعنی ابن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ اور سلم بن جنادہ نے ہمیں بتایا، وکیع نے ہمیں بتایا۔ اور احمد بن عبدہ نے ہمیں بتایا، محمد بن دینار نے ہمیں خبر دی۔ سب ہشام بن عروہ سے۔ یہ حدیث عبدالجبار کی ہے اور ان سب میں سب سے بہتر سیاق ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو سنا کہ وہ کہتے تھے: میں نے اسامہ (رضی اللہ عنہ) کو سنا، جو میرے پہلو میں تھے، اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ردیف تھے عرفہ سے، پوچھ رہے تھے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) عرفہ سے دفع ہوتے وقت کیسے چلتے تھے؟ تو انہوں نے کہا:

3496

Sahih Ibn Khuzaymah #3496

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيَّ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

I read to Ahmad ibn Abi Surayj al-Razi, who said: Amr ibn Mujammic al-Kindi informed us, on the authority of Musa ibn Uqba, on the authority of Nafi', on the authority of Ibn Umar (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حج یا عمرے کے سفر میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس آپ کو لیکر سیدھی ہوتی تو آپ تلبیہ پکارتے۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ آپ میدان عرفات میں ٹھہرے رہے حتّیٰ کہ جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا ذکر شروع کردیا۔ آپ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی الوہیت کا اقرار «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» اور اس کی بڑائی اور بزرگی بیان کرتے رہے حتّیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔

3497

Sahih Ibn Khuzaymah #3497

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', who narrated from Sufyan, who narrated from Ibrahim ibn 'Uqba, from Kurayb, from Ibn 'Abbas (RA), who said: Usama (RA) informed me...

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس ہوئے تو آپ نے انہیں اس شام اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ پھر جب گھاٹی کے پاس آئے تو آپ نے سواری سے اُتر کر پیشاب کیا اور یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا (بلکہ صریح الفاظ بولے کہ آپ نے پیشاب کیا)۔ پھر میں نے آپ کے ایک برتن سے پانی اُنڈیلا تو آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ ہم نے عرض کیا کہ نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے جاکر (مزدلفہ میں) پڑھیں گے۔“ پھر جب ہم مزدلفہ پہنچے تو آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر صحابہ کرام نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتار لیے اور سواریاں کھول دیں اور آپ کی سواری کو کھولنے اور کجاوہ اُتارنے میں، میں نے آپ کی مدد کی پھر آپ نے عشاء کی نماز ادا کی۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق صرف ابن عیینہ نے اس سند میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور جناب کریب کے درمیان سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا ہے۔ جناب یحییٰ بن سعید انصاری نے اپنی سند میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا میں نے اس حدیث کے تمام طرق کتاب الکبیر میں بیان کردیے ہیں۔

3498

Sahih Ibn Khuzaymah #3498

حَدَّثَنَاهُ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, who said: Ibn Wahb informed us, that Malik informed him, that Ibn Shihab informed him, that Salim ibn 'Abdullah informed him, that Ibn 'Amr (RA) narrated to him that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None of you truly believes until his desire follows what I have brought."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس یونس بن عبد الاعلیٰ نے روایت کیا، انہوں نے کہا: ابن وھب نے ہمیں بتایا، کہ مالک نے انہیں بتایا، کہ ابن شہاب نے انہیں بتایا، کہ سالم بن عبداللہ نے انہیں بتایا، کہ ابن عمر (رضی اللہ عنہ) نے انہیں روایت کیا کہ اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص سچا مومن نہیں ہوتا جب تک اس کی خواہیش اس بات کی پیروی نہ کرے جو میں لایا ہوں۔""

3499

Sahih Ibn Khuzaymah #3499

مَعَ الْبَيَانِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْمُزْدَلِفَةِ صَلَاةَ الْمُسَافِرِ لَا صَلَاةَ الْمُقِيمِ.

EnglishUnverified translation

** It is narrated that the Prophet (ﷺ) prayed the *salat al-musafir* (traveler’s prayer) at Muzdalifah, not the *salat al-muqim* (resident’s prayer).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس بات کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مسافر والی نماز پڑھی تھی، مقیم والی نہیں

3500

Sahih Ibn Khuzaymah #3500

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us 'Isa bin Ibrahim Al-Ghafiqi, who said: Narrated to us Ibn Wahb, from Yunus, from Ibn Shihab, that 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Umar informed him, saying: My father said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کیں، ان کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی تین رکعات اور عشاء کی دو رکعت ادا کیں۔ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں ساری عمر اسی طرح نماز (قصر اور جمع کرکے) ادا کرتے رہے۔

3501

Sahih Ibn Khuzaymah #3501

خِلَافَ، قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الصَّلَاتَيْنِ إِذَا جُمِعَ بَيْنَهُمَا فِي وَقْتِ الْآخِرَةِ مِنْهُمَا جُمِعَ بَيْنَهُمَا بِإِقَامَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ أَذَانٍ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA), he said: Narrated to us Khalaf, from Ḥammād ibn Salamah, from Abū al-Mundhir, from Abū Hurayrah (RA), that the Messenger of Allāh (ﷺ) said: "The two prayers when combined in the time of the latter of them are combined by establishing two iqāmahs without any adhān."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس شخص کے قول کے برخلاف جو کہتا ہے کہ جب دو نمازوں کو دوسری نماز کے وقت میں جمع کیا جائے تو دونوں کے لئے صرف اقامت کہی جائیگی اور اذان نہیں دی جائیگی

3502

Sahih Ibn Khuzaymah #3502

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُ عِنْدَهُ الأُمَرَاءُ بَالَ، وَتَوَضَّأَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلاةَ , قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Musa Muhammad ibn al-Muthanna, who said: Narrated to us Abd al-Rahman, who said: Narrated to us Sufyan, from Ibrahim ibn Uqbah, from Kurayb, from Usamah ibn Zayd (RA), who said: *"I performed the ifadah (descent from Arafat) with the Messenger of Allah (ﷺ). When he reached the valley where the commanders dismount, he urinated, then performed wudu. I said: 'O Messenger of Allah, (what about) the prayer?' He (ﷺ) said:"*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا، جب آپ اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں امراء اور حکمران اُترتے ہیں تو آپ نے وہاں اُتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے جا کر ادا کریںگے“ پھر جب آپ مزدلفہ پہنچے تو آپ نے اذان کہلوائی اور اقامت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر ابھی سب لوگوں نے اپنی سواریوں کو کھولا بھی نہ تھا کہ اقامت ہوئی اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی۔ جناب جعفر بن محمد کی روایت بھی اس مسئلے کے متعلق ہے۔

3503

Sahih Ibn Khuzaymah #3503

وَعَنْ بُنْدَارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ : «الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ» . وَلَمْ يَقُلْ : «فِي نَفْسِهِ» .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār; he said: Narrated to us ‘Abd al-Raḥmān; he said: Narrated to us Sufyān; from Salamah ibn Kuhayl; from ‘Īsā ibn ‘Āṣim; from Zirr ibn Ḥubaysh; from Ibn Mas‘ūd; from the Prophet (ﷺ), who said: “Omen-seeking is a form of associating partners with Allāh.” He did not say, “in one’s own self.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور بندار سے روایت ہے، ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے، انہوں نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے عیسیٰ بن عاصم سے، انہوں نے زر بن حبیش سے، اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے۔ (اس روایت میں \فی نفسه\" یعنی اپنے دل میں پاتا ہے کے الفاظ نہیں ہیں)۔""

3504

Sahih Ibn Khuzaymah #3504

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ، فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ: إِهْرَاقَ الْمَاءِ، قَالَ أُسَامَةُ: فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةَ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، قُلْتُ: الصَّلاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

### Ahmad bin Ma'nee narrated to us, Sufyan narrated to us, from Muhammad bin Abi Harmalah and Ibrahim bin Uqbah, from Kuraib, from Ibn Abbas, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) set out from Arafat, and Usamah rode behind him. When he reached the valley (Ash-Shi'b), he dismounted and relieved himself, but he did not pour water over himself (to wash). Usamah said: So I poured water from the water-skin over him, and he

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس روانہ ہوئے اور آپ نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ پھر جب آپ گھاٹی کے پاس پہنچے آپ سواری سے اُترے اور پیشاب کیا۔ اور یہ الفاظ نہیں کہے کہ آپ نے پانی بہایا۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک برتن سے آپ کے لئے پانی اُنڈیلا تو آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، نماز کا ارادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے جاکر ادا کریںگے۔“ پھر آپ مزدلفہ آئے تو مغرب کی نماز ادا کی، پھر آپ نے اپنی سواری سے کجاوہ وغیرہ اُتار کر اُسے کھول دیا، پھر عشاء کی نماز ادا کی۔ امام سفیان کہتے ہیں کہ ابراہیم کی روایت ان الفاظ پر ختم ہوگئی کہ ”نماز آگے جاکر ادا کریںگے۔“ باقی اضافہ جناب ابن ابی حرملہ کی روایت کا ہے۔

3505

Sahih Ibn Khuzaymah #3505

إِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ، فَإِنِّي لَا أَقِفُ عَلَى سَمَاعِ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.

EnglishUnverified translation

If the report is established, then I do not stand by the hearing of Abu Ishaq regarding this report from 'Abdur-Rahman bin Yazid.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشرطیکہ یہ روایت ثابت ہو، کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ ابواسحٰق نے یہ روایت عبدالرحمٰن بن یزید سے سُنی ہے یا نہیں؟

3506

Sahih Ibn Khuzaymah #3506

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: أَفَاضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ عَرَفَاتٍ عَلَى هِينَتِهِ لا يَضْرِبُ بَعِيرَهُ حَتَّى أَتَى جَمْعًا، فَنَزَلَ فَأَذَّنَ فَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ تَعَشَّى، ثُمَّ قَامَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ بَاتَ بِجَمْعٍ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ أَقَامَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ قَالَ:

EnglishUnverified translation

### Ya'qub ibn Ibrahim al-Dawraqi narrated to us, saying: Yahya ibn Abi Zaydah narrated to us, saying: My father narrated to me, from Abu Ishaq, from Abd al-Rahman ibn Yazid, who said: Abdullah ibn Mas'ud (RA) departed from Arafat in a leisurely manner, without striking his camel, until he reached Muzdalifah (Jam'). He then dismounted, pronounced the Adhan (call to prayer), and established the I

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ عرفات سے واپسی پر بڑے سکون و اطمینان سے چلے، انھوں نے اپنے اونٹ کو (تیز چلانے کے لئے) مارا نہیں حتّیٰ کہ وہ مزدلفہ گئے، وہ سواری سے اُترے، اذان کہلوائی پھر اقامت ہونے پر مغرب کی نماز ادا کی، پھر رات کا کھانا کھایا، پھر اُٹھ کر اذان کہلوائی اور تکبیر کہی گئی اور نماز عشاء ادا کی پھر رات مزدلفہ میں گزاری، حتّیٰ کہ جب فجرطلوع ہوگئی تو اذان کہلوائی اور اقامت پڑھی گئی پھر صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر فرمایا: ”یہ دونمازیں اپنے وقت سے مؤخر کرکے ادا کی جاتی ہیں۔“ اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اس جگہ پر یہ دونوں نمازیں اس طرح تاخیر سے ادا کرتے تھے۔ پھر آپ ٹھہر گئے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے دونوں نمازوں کے درمیان رات کا کھانا کھانے کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا بلکہ یہ ان کا ذاتی عمل ہے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نہیں ہے۔

3507

Sahih Ibn Khuzaymah #3507

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Abdullah ibn Muhammad al-Nufayli, narrated to us Hatim ibn Isma'il, narrated to us Ja'far, on the authority of his father, who said: "We entered upon Jabir ibn 'Abdullah, so I said to him: 'Inform me about the Hajj of the Prophet (ﷺ).'"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر بن محمد اپنے والد بزرگوار سے بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیں۔ اُنھوں نے فرمایا کہ آپ مزدلفہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب اور عشاء کو ایک اذان اور دو ا قامتوں کے ساتھ جمع کرکے ادا کیا۔ پھر طلوع فجر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے رہے۔

3508

Sahih Ibn Khuzaymah #3508

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, on the authority of al-A‘mash, from ‘Umarah ibn ‘Umayr, from ‘Abd al-Rahman ibn Yazid who said: ‘Abdullah (ibn Mas‘ud) (RA) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز اُس کے وقت ہی پر ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے سوائے ان دو نمازوں کے میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے مغرب اور عشاء کو جمع کرکے مزدلفہ میں ادا کیا اور فجر کی نماز اس کے وقت سے پہلے اندھیرے میں پڑھی۔

3509

Sahih Ibn Khuzaymah #3509

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عِبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرٍ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Yahya narrated to us, saying: Abdullah bin Muhammad Al-Nufayli narrated to us, saying: Hatim bin Ismail narrated to us, from Ja'far bin Muhammad, from his father, from Jabir (RA), who mentioned the hadith and said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں طویل حدیث بیان کی ہے۔ اس میں فرمایا کہ جب صبح نمودار ہوگئی تو آپ نے مزدلفہ میں صبح کی نماز ادا کی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب محمد بن یحییٰ نے حسن بن بشر کے واسطے سے حاتم سے اس حدیث میں اس جگہ پر یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ اذان اور اقامت کے ساتھ (نماز پڑھی) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں واضح دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں فجر کی نماز طلوع فجر کے بعد پہلے وقت میں ادا فرمائی ہے، طلوع فجر کے واضح ہونے سے پہلے ادا نہیں کی۔ اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کہ آپ نے فجر کی نماز اس کے وقت سے پہلے اندھیرے میں پڑھی، ان کی مراد یہ ہے کہ آپ نے دوسری جگہوں کی نسبت مزدلفہ میں زیادہ سویرے نماز پڑھی تھی۔ لیکن آپ نے دوسرے مقامات کی نسبت مزدلفہ میں فجر کی نماز زیاده اندھیرے میں ادا کی تھی۔ آئنده باب میں مذکورہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں بھی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح دلیل موجود ہے کیونکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ آپ نے رات مزدلفہ میں بسر کی حتّیٰ کہ جب صبح ہوئی تو آپ نے صبح کی نماز ادا کی۔

3510

Sahih Ibn Khuzaymah #3510

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ , أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ أَخْبَرَهُمْ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to me 'Abdullah ibn 'Umar (RA) who said: I read out to Ahmad ibn Abi Surayj al-Razi, that 'Amr ibn Mujammi' informed them, on the authority of Musa ibn 'Uqba, on the authority of Nafi', on the authority of Ibn 'Umar (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لیکر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی ہوجاتی تو آپ تلبیہ پکارتے پھر بقیہ حدیث بیان کی اور فرمایا کہ آپ رات مزدلفہ میں بسر کرتے حتّیٰ کہ صبح ہوجاتی، پھر آپ صبح کی نماز ادا کرتے۔ پھر آپ مشعر الحرام کے پاس ٹھہرتے اور لوگ بھی آپ کے پاس ٹھہرتے، وہ سب اللہ تعالی سے دعائیں مانگتے، اللہ تعالی کا ذکر کرتے، «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله» کا وردکرتے، اللہ تعالی کی بڑائی اور بزرگی بیان کرتے رہتے حتّیٰ کہ منیٰ کی طرف روانہ ہوجاتے۔

3511

Sahih Ibn Khuzaymah #3511

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya ibn Sa'id, narrated to us Ja'far, narrated to us my father, who said: We came to Jabir ibn 'Abdullah and asked him about the Hajj of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: He (the Prophet (ﷺ)) stood at Muzdalifah and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جعفر بن محمد اپنے والد گرامی سے بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے اُن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں سوال کیا تو اُنھوں نے فرمایا کہ آپ نے مزدلفہ میں وقوف کیا اور فرمایا: ”میں اس جگہ ٹھہرا ہوں اور مزدلفہ سارا ہی ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“

3512

Sahih Ibn Khuzaymah #3512

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Saeed Al-Ashaj narrated to us, saying: Hafs (meaning Ibn Ghiyath) narrated to us, from Ja'far, from his father, from Jabir (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) stopped at Jam' (Muzdalifah) and said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا اور فرمایا: ”پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔“

3513

Sahih Ibn Khuzaymah #3513

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Abd al-Rahman, narrated to us Sufyan, on the authority of Abu Ishaq, on the authority of Amr ibn Maymun, on the authority of Umar ibn al-Khattab (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مشرک لوگ مزدلفہ سے اُس وقت تک واپس نہیں آتے تھے حتّیٰ کہ سورج ثبیر پہاڑ کی چوٹی پر چمکنے لگ جاتا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی مخالفت کرتے ہوئے سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی واپس روانہ ہوگئے۔

3514

Sahih Ibn Khuzaymah #3514

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَقَالَ هَارُونُ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn al-Ala' ibn Kurayb and Harun ibn Ishaq, who both said: "Narrated to us Abu Khalid, who narrated to us Ibn Jurayj." And Harun specified: "On the authority of Ibn Jurayj, on the authority of Abu Zubayr, on the authority of Abu Ma'bad, on the authority of Ibn Abbas (RA), on the authority of al-Fadl (RA), who said:" [Commentary: The provided Arabic source text cuts off immediately after the introductory phrase "who said" attributed to al-Fadl ibn Abbas (RA), so the full content (matn) of this hadith is not included in the given excerpt. The chapter name for this hadith is also not provided in the source input.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن العلاء بن کریب اور ہارون بن اسحاق نے ہمیں روایت کیا، انہوں نے کہا: ابو خالد نے ہمیں روایت کیا، ابن جریج نے ہمیں روایت کیا، اور ہارون نے کہا: ابن جریج سے، ابو زبیر سے، ابو معبد سے، ابن عباس سے، فضل سے، انہوں نے کہا:

3515

Sahih Ibn Khuzaymah #3515

وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْفَضْلَ إِنَّمَا أَرَادَ: وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ حَتَّى أَتَى مِنًى، خَلَا إِيضَاعِهِ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ عَلَى مَا تَرْجَمْتُ الْبَابَ أَنَّهُ لَفْظٌ عَامٌّ أَرَادَ بِهِ الْخَاصَّ.

EnglishUnverified translation

** This [hadith] indicates that the virtue (al-faḍl) mentioned is specifically intended for when the Prophet (ﷺ) had the *sakīnah* (tranquility) with him until he reached Muzdalifah. It excludes the rushing (*idhāʿah*) in the valley of Muḥassir, as I have explained in the chapter title that it is a general wording intended to convey a specific meaning.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور یہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ الفضل صرف چاہتا تھا: اور وہ منیٰ میں آنے تک سکون میں تھا، سوائے اس کے کہ وادی محسیر میں گم ہو جائے، میں نے اس باب کا جو ترجمہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک عام اصطلاح ایک مخصوص اصطلاح کے معنی میں استعمال ہوتی ہے۔

3516

Sahih Ibn Khuzaymah #3516

وَعَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ وَمَالِكٌ - كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ (فِي الطَّاعُونِ) :n«إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ» .

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Yunus bin Abd al-A'la, who said: Ibn Wahb informed us, that Yunus and Malik (both of them) informed us, on the authority of Ibn Shihab, on the authority of Abd al-Hamid bin Abd al-Rahman bin Zaid bin al-Khattab, on the authority of Abdullah bin al-Harith bin Nawfal, on the authority of Ibn Abbas, on the authority of Abd al-Rahman bin Awf (RA), who said: I heard the Messenger of Allah (

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور یونس بن عبد الاعلیٰ سے روایت ہے، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے یونس اور مالک دونوں نے خبر دی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو (طاعون کی وبا کے بارے میں) یہ فرماتے ہوئے سنا:\n\جب تم سنو کہ کسی علاقے میں یہ (وبا) پھیلی ہوئی ہے تو وہاں مت جاؤ، اور اگر یہ کسی ایسے علاقے میں پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہو، تو اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے مت نکلو۔\"""

3517

Sahih Ibn Khuzaymah #3517

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الزَّرَدِ الأُبُلِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ،

EnglishUnverified translation

[Note: The provided Arabic excerpt only includes the narration chain (isnad) of this hadith, with the actual text of the hadith (matn) and chapter name cut off from the source input. The translation of the provided isnad is as follows:] Narrated to us Salm bin Junadah, who narrated to us Waki' bin al-Jarrah, from Sufyan al-Thawri. And narrated to us Muhammad bin Sufyan bin Abi Zarad al-Ubuli, who narrated to us Abu Amir, from Sufyan al-Thawri. And narrated to us Muhammad bin al-Ala, who narrated to us Qabisah bin Dhu'ayb, from Sufyan al-Thawri, from Abu al-Zubayr al-Makki, from Jabir ibn Abdullah (RA). [Commentary: Three parallel chains of narration are reported for this hadith, all tracing back to the prominent Tabi'i (successor to the companions) and highly reliable hadith narrator Sufyan al-Thawri. The longest chain concludes with Jabir ibn Abdullah (RA), a well-known companion of the Prophet (ﷺ) who narrated a large number of hadiths. The full content of the hadith (the statement, action, or approval of the Prophet (ﷺ) or a companion that forms the core of the narration) is not included in the provided source text, so its full meaning, legal implications, and grading (Sahih, Hasan, Da'if) cannot be determined from this excerpt alone.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس سلم بن جنادہ نے روایت کیا، انہوں نے ہمیں وکیع بن جراح نے سنایا، سفیان ثوری سے۔ اور ہمارے پاس محمد بن سفیان بن ابی زراد ابلی نے روایت کیا، انہوں نے ہمیں ابو عامر نے سنایا، سفیان ثوری سے۔ اور ہمارے پاس محمد بن الاعلی نے روایت کیا، انہوں نے ہمیں قبیصہ بن ذؤیب نے سنایا، سفیان ثوری سے، ابو زبیری مکی سے، جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے۔

3518

Sahih Ibn Khuzaymah #3518

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ يَقِفُونَ حَافَتَيِ النَّاسِ قَدْ عَلَّقُوا الْقِعَابَ وَالْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ، فَإِذَا أَفَاضُوا تَقَعْقَعُوا فَأَنْفَرَتْ بِالنَّاسِ، فَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ ظَفْرَيْ نَاقَتِهِ لَتَمَسُّ الأَرْضَ حَادِكَهَا، وَهُوَ يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Abu al-Nu'man, narrated to us Hammad ibn Zayd, on the authority of Kathir ibn Shindhir, on the authority of 'Ata', who said: "The origin of the disturbance during the Tawaf (circumambulation) was from the Bedouins. They would stand at the sides of the people, having hung their whips, staffs, and cloaks. When the people would start the Tawaf, they would make a clattering noise, scaring the people. It has been witnessed that the Messenger of Allah (ﷺ) was present, and indeed the tips of his camel's hooves would touch the ground sharply while he was saying:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام عطاء رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ تیز چلنے کی ابتداء دیہاتی لوگوں نے کی تھی۔ وہ لوگوں کے گرد کھڑے ہوتے تھے، انہوں نے اپنا زادراه، لاٹھیاں اور پیالے وغیرہ لٹکائے ہوتے تھے۔ پھر جب وہ واپس جاتے تو اُن کے برتن اور سامان آپس میں ٹکراتے اور گونجتے، میں بھی لوگوں کے ساتھ واپس روانہ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا گیا کہ آپ کی اونٹنی کے کانوں کی پچھلی ہڈیاں گردن کی پشت پر لگ رہی تھیں (کیونکہ آپ نے نکیل خوب کھینچی ہوئی تھی) اور آپ فرمارہے تھے: ”اے لوگو، آرام سے چلو، اے لوگو، سکون و اطمینان کے ساتھ چلو“ بعض اوقات امام عطاء نے یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی ہے۔

3519

Sahih Ibn Khuzaymah #3519

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ الْوَادِعِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ :n«كُنْتُ أَدْلُو الدَّلْوَ بِالتَّمْرَةِ ، وَأَشْتَرِطُ أَنَّهَا جَلْدَةٌ» .

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundar, who said: Narrated to us Abd al-Rahman, on the authority of Sufyan, from Abu Ishaq, from Abu Hayyah ibn Qays al-Wadi'i, from Ali (RA), who said: "I used to lower the bucket into the well with a date, stipulating that it should be a single date."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے بندار (محمد بن بشار) نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے ابو اسحاق سے، انہوں نے ابو حیہ بن قیس الوادعی سے، اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:\n\میں ایک کھجور کے عوض ایک ڈول (پانی) نکالتا تھا، اور یہ شرط لگاتا تھا کہ وہ (کھجور) عمدہ (اور پختہ) ہو۔\"""

3520

Sahih Ibn Khuzaymah #3520

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ الأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Musa and Salm b. Junadah (RA), they said: Narrated to us Abu Mu'awiyah (RA), narrated to us al-A'mash (RA). And narrated to us Muhammad b. Bashshar (RA), narrated to us Ibn Abi 'Adi (RA), from Shu'bah (RA), from Sulayman — and he is al-A'mash (RA) — from Muslim al-Batin (RA), from Sa'id b. Jubayr (RA), from Ibn 'Abbas (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے اعمال اللہ تعالی کو باقی تمام دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں“ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی (ان دنوں کے نیک اعمال سے زیاده محبوب) نہیں سوائے اس شخص کے عمل کے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال لیکر نکلا پھر ان دونوں میں سے کوئی چیز بھی واپس لیکر نہ آیا۔“ یہ روایت جناب ابومعاویہ کی ہے۔

3521

Sahih Ibn Khuzaymah #3521

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Bashar, who narrated to us Yahya ibn Sa'id, who narrated to us Thawr ibn Yazid, from Rashid ibn Sa'd, from Abdullah ibn Luhayy, from Abdullah ibn Qurt, who reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: [Note: The remainder of the hadith text was not included in the provided source input.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن بشار نے روایت کیا، انہوں نے ہمیں یحیی بن سعید نے سنایا، انہوں نے ہمیں ثور بن یزید نے سنایا، راشد بن سعد سے، عبداللہ بن لہی سے، عبداللہ بن قرط سے، کہ انہوں نے کہا: رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:

3522

Sahih Ibn Khuzaymah #3522

وَالْبَيَانُ أَنَّ كَسْرَ الْحِجَارَةِ لِحَصَى الْجِمَارِ بِدْعَةٌ، لِمَا فِيهِ مِنْ إِيذَاءِ النَّاسِ وَإِتْعَابِ أَبْدَانِ مَنْ يَتَكَلَّفُ كَسْرَ الْحِجَارَةِ تَوَهُّمًا أَنَّهُ سُنَّةٌ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī: Narrated to us Sulaymān ibn Bilāl: On the authority of Yaḥyā ibn Saʿīd: On the authority of Muḥammad ibn Yaḥyā ibn Ḥabbān: That the Prophet (ﷺ) said, **"Breaking stones to collect pebbles for the Jamarāt (stoning at Jamrah) is an innovation (bidʿah), for it involves harming people and exhausting the bodies of those who go to the trouble of breaking stones under the delusion that it is a Sunnah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس بات کا بیان کے پتھر توڑ کر کنکریاں بنانا بدعت ہے کیونکہ اسے سنّت سمجھ کر پتھر توڑنے والا لوگوں کو تکلیف دیتا ہے اور اپنے آپ کو تھکاتا ہے

3523

Sahih Ibn Khuzaymah #3523

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حَصِينٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ، وَهَكَذَا قَالَ عَوْفٌ:

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Bashshar narrated to us, Ibn Abi Adi, Muhammad ibn Ja'far, and Abdul Wahhab ibn Abdul Majid narrated to us, from Awf ibn Abi Jamilah, from Ziyad ibn Husayn, Abu al-Aliyah narrated to us, saying: Ibn Abbas said to me: The Messenger of Allah ﷺ said on the morning of al-Aqabah - Ibn Abi Adi said in his hadith, and Awf said likewise:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن بشار نے روایت کیا، انہوں نے ہمیں ابن ابی عدی، محمد بن جعفر، اور عبدالوہاب بن عبدالمجید نے سنایا، سب نے عوف بن ابی جمیلہ سے، زیاد بن حسین سے، انہوں نے ہمیں ابو العالیہ نے سنایا، کہ انہوں نے کہا: ابن عباس نے مجھ سے کہا: رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نے عقبہ کی صبح کو فرمایا۔ ابن ابی عدی نے اپنی روایت میں ذکر کیا، اور عوف نے کہا

3524

Sahih Ibn Khuzaymah #3524

حَدَّثَنَا بِهِ بُنْدَارٌ مَرَّةً أُخْرَى بِمِثْلِ هَذَا اللَّفْظِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ حَصِينٍ، وثنا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ حَصِينٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ عَوْفٌ: لا أَدْرِي الْفَضْلَ، أَوْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār once again with similar wording, except that he said: "Ziyād ibn Ḥuṣayn narrated to me." Narrated to us Bundār: Yaḥyā ibn Saʿīd narrated to us: ʿAwf narrated to us: Ziyād ibn Ḥuṣayn narrated to me: Abū al-ʿĀliyah narrated to me, he said: Ibn ʿAbbās said to me—ʿAwf (one of the narrators) said: "I do not know whether he said al-Faḍl or ʿAbd Allāh ibn ʿAbbās"—the Messenger of Allāh (ﷺ) said on the morning of al-ʿAqabah: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابو العالیہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا جناب عوف کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ حضرت فضل یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عقبہ کی صبح حُکم دیا میرے لئے کنکریاں چن دو، مذکورہ بالا کی مثل روایت بیان کی۔

3525

Sahih Ibn Khuzaymah #3525

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad bin Bashshar, who narrated to us Abd al-Wahhab, who narrated to us Ayyub, on the authority of Abd al-Rahman bin al-Qasim, on the authority of al-Qasim, on the authority of Aisha (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھاری بھرکم خاتون تھیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ سے رات ہی کے وقت لوٹنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں اجازت دے دی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اے کاش، میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی جیسا کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لے لی تھی۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا امام کے ساتھ ہی مزدلفہ سے منیٰ واپس آتی تھیں۔

3526

Sahih Ibn Khuzaymah #3526

ثنا ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ , وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', al-Husayn ibn Hurayth, Sa'id ibn 'Abd al-Rahman, and 'Ali ibn Khashram — they all said: Narrated to us Sufyan, from 'Amr, from 'Ata', who said: I heard Ibn 'Abbas (RA) say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس عبدالجبار بن الاعلی، حسین بن حریث، سعید بن عبدالرحمن، اور علی بن خشرم نے روایت کیا، انہوں نے کہا: ہمارے پاس سفیان نے سنایا، عمرو سے، عطاء سے، کہ انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کو کہتے ہوئے سنا:

3527

Sahih Ibn Khuzaymah #3527

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازِقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Rafi', narrated to us 'Abd al-Razzaq, who informed us Ma'mar, on the authority of al-Zuhri, from Salim, from Ibn 'Umar (RA) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The best of people are those who live the longest in Islam and whose deeds are best." ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنے خاندان کے کمزور افراد کو آگے بھیج دیتے تھے۔ وہ رات کے وقت ہی مشعر حرام کے پاس وقوف کرتے، جب تک چاہتے الله تعالی کا ذکر کرتے پھر منیٰ روانہ ہو جاتے۔ پھر ان میں سے کچھ صبح کی نماز کے وقت منیٰ پہنچ جاتے اور کچھ اس کے بعد پہنچتے، یہ سب لوگ ان کے خاندان کے کمزور اور ضعیف لوگ ہوتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزوروں کو اس کی اجازت دی ہے۔

3528

Sahih Ibn Khuzaymah #3528

ثنا ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثنا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Ali ibn Khashram: Narrated to us ‘Isa, on the authority of Ibn Jurayj, who informed me, ‘Ubaydullah ibn Abi Yazid, that he heard Ibn ‘Abbas (RA) say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں اُن افراد میں شامل تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان کے ساتھ منیٰ روانہ کردیا تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ احادیث کہ میں اُن افراد کے ساتھ تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات ہی کو منیٰ روانہ کردیا تھا، یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ مزدلفہ کی صبح کو آپ نے کنکریاں چُننے کا حُکم سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو دیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں۔ اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی یہ روایات کہ وہ مزدلفہ سے منیٰ جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، اس بات کی دلیل ہیں کہ مشاس کی عطاء کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کہ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اُن لوگوں کے ساتھ تھا جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے روانہ کر دیا تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے یہ روایت وہم ہے کیونکہ کمزور افراد کے ساتھ مزدلفہ سے منیٰ جانے والے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نہیں۔

3529

Sahih Ibn Khuzaymah #3529

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الرَّمْيَ بِالْحَصَى الْكِبَارِ مِنَ الْغُلُوِّ فِي الدِّينِ، وَتَخْوِيفِ الْهَلَاكِ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ

EnglishUnverified translation

** It is narrated that the evidence for the prohibition of pelting with large pebbles lies in the extremism in religion, and the fear of destruction due to extremism in religion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بات کا ثبوت کہ بڑے بڑے کنکریاں پھینکنا مذہب میں انتہا پسندی ہے اور مذہب میں انتہا پسندی سے تباہی کا اندیشہ

3530

Sahih Ibn Khuzaymah #3530

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، قَالَ: أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا هَبَطَ بَطْنَ مُحَسِّرٍ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-'Ala and Harun ibn Ishaq, they said: Narrated to us Abu Khalid, who said: Narrated to us Ibn Jurayj, on the authority of Abu az-Zubayr, who said: Narrated to me Abu Ma'bad, on the authority of Ibn 'Abbas, on the authority of al-Fadl (RA), who said: The Prophet (ﷺ) led the people in the Farewell Pilgrimage. When he descended into the valley of Muhassir... ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد بن الاعلی اور ہارون بن اسحاق نے روایت کیا، انہوں نے کہا: ہمارے پاس ابو خالد نے سنایا، انہوں نے ہمیں ابن جریج نے سنایا، ابو زبیری سے، ابو معبد سے، ابن عباس سے، فضل (رضی اللہ عنہ) سے، کہ انہوں نے کہا: نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے وداعی حج میں لوگوں کی قیادت کی۔ جب آپ بطن محسر میں اترے تو آپ نے فرمایا:

3531

Sahih Ibn Khuzaymah #3531

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدَ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَاتٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا إِحْدَى أُصْبُعَيْهِ عَلَى الأُخْرَى، فَقُلْتُ لِعَمِّي: يَا عَمِّ، مَا يَقُولُ؟ قَالَ: يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Abu al-Khattab, Ziyad ibn Yahya, and Bishr ibn Mu'adh, who said: Narrated to us by Bishr, who is the son of al-Mufaddal, narrated to us by Abd al-Rahman, who is the son of Harmalah, from Yahya ibn Hind, from Harmalah ibn Amr al-Aslami, who said: "I performed Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ). When we stood at Araf

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو الخطاب زياد بن يحيى اور بشر بن معاذ نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: بشر نے ہمیں بتایا، جو مفضل کے بیٹے ہیں، عبدالرحمن نے ہمیں بتایا، جو حرملہ کے بیٹے ہیں، یحیی بن ہند سے، حرملہ بن عمرو اسلمی سے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کے لیے گیا، جب ہم عرفات میں رکے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی ایک انگلی دوسری پر رکھے ہوئے تھے، تو میں نے اپنے چچا سے کہا: يا چچا، آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: آپ یہ پڑھ رہے ہیں:

3532

Sahih Ibn Khuzaymah #3532

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad bin al-Ala' bin Kurayb narrated to us with a rare narration, saying: Abd al-Rahman bin Sulayman narrated to us, on the authority of Ubaydullah, on the authority of Abu al-Zubayr, on the authority of Jabir (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن العلاء بن کریب نے ہمیں ایک نادر روایت کے ساتھ بتایا، عبدالرحمن بن سلیمان نے ہمیں بتایا، عبیداللہ سے، ابو زبیر سے، جابر نے کہا:

3533

Sahih Ibn Khuzaymah #3533

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali ibn Khashram, who informed us from Isa, from Ibn Jurayj. And [in a separate narration chain] narrated to us Muhammad ibn Ma'mar, who narrated to us Muhammad (meaning Ibn Bakr), who informed us from Ibn Jurayj, who informed me Abu Zubayr, that he heard Jabir ibn Abdullah (RA) say: [The remainder of the hadith's prophetic narration and commentary is not included in the provided source text]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن خشرم نے ہمیں بتایا، عیسی نے ہمیں بتایا، ابن جریج سے۔ اور محمد بن معمر نے ہمیں بتایا، محمد نے ہمیں بتایا، یعنی ابن بکر، ابن جریج نے ہمیں بتایا، ابو زبیر نے مجھے بتایا، کہ اس نے جابر بن عبداللہ کو سنتا کہ وہ کہتے ہیں:

3534

Sahih Ibn Khuzaymah #3534

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أنا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَقَالَ لَنَا:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Khashram — Isa narrated to us; on the authority of Ibn Jurayj. And narrated to us Muhammad ibn Ma'mar — Muhammad narrated to us; Ibn Jurayj informed me; Abu'l-Zubayr informed me that he heard Jabir ibn 'Abd Allah say: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) throwing pebbles while mounted on his camel on the Day of Sacrifice, and he said to us:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن خشرم نے ہمیں بتایا، عیسی نے ہمیں بتایا، ابن جریج سے۔ اور محمد بن معمر نے ہمیں بتایا، محمد نے ہمیں بتایا، ابن جریج نے مجھے بتایا، ابو زبیر نے مجھے بتایا، کہ اس نے جابر بن عبداللہ کو سنتا کہ وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ یوم النحر (قربانی کے دن) اپنی سواری پر سوار ہو کر جمروں کو کنکرے مار رہے تھے، اور آپ نے ہم سے کہا:

3535

Sahih Ibn Khuzaymah #3535

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيْمَنَ بْنَ نَابِلٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ قُدَامَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muḥammad ibn ʿAbd al-Aʿlā al-Ṣanʿānī. He said: Narrated to us al-Muʿtamir, who said: I heard Ayman ibn Nābil saying: I heard Qudāmah ibn ʿAbd Allāh—he is the son of ʿAmmār—saying: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر (دس ذوالحجہ) کو (جمرات پر کنکریاں مارتے وقت) آپ کی سرخ و سفید صہباء اونٹنی پر سوار دیکھا۔ (آپ کے لئے) نہ کسی کو مارا گیا نہ دھکے دیئے گئے اور نہ ایک طرف ہوجاؤ، ایک طرف ہوجاؤ کی پکار ہوئی۔ “

3536

Sahih Ibn Khuzaymah #3536

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ya'qub al-Dawraqi, narrated to us Ibn Abi Zā’idah, narrated to us al-A‘mash, and narrated to us ‘Abd al-Jabbār ibn al-‘Alā’, narrated to us Sufyān, from al-A‘mash, who said: I heard al-Ḥajjāj say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو کہتے ہوئے سنا کہ تم اس طرح نہ کہو، سورة البقرة ‘ بلکہ اس طرح کہو کہ وہ سورت جس میں گائے کا تذکرہ ہے۔ میں نے یہ بات جناب ابراہیم کو بتائی تو اُنہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت عبدالرحمن بن یزید نے بیان کیا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے جب اُنھوں نے جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماری تھیں، وہ وادی کے درمیان میں آئے اور جمرے کی طرف مُنہ کرکے اُسے سات کنکریاں ماریں اُنھوں نے ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھا۔ میں نے اُن سے عرض کیا کہ کچھ لوگ تو اس پہاڑ پر چڑھ جاتے ہیں اُنھوں نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جس نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورة البقره نازل ہوئی ہے میں نے اُسے اسی جگہ سے کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ہے، یہ جناب دورقی کی روایت ہے۔

3537

Sahih Ibn Khuzaymah #3537

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وحَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَمَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَّهُ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ، وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

### Muhammad bin Bashshar narrated to us, saying: Muhammad bin Ja'far narrated to us, saying: Shu'bah narrated to us from Al-Hakam. And Al-Zu'farani narrated to us, saying: Muhammad bin Abi 'Adi narrated to us from Shu'bah, from Al-Hakam and Mansur, from Ibrahim, from 'Abdur-Rahman bin Yazid, who said: "We performed Hajj with 'Abdullah (bin Mas'ud) (RA). He

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابراہیم سے روایت ہے کہ جناب عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ اُنھوں نے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا تو اُنھوں نے جمرے کو سات کنکریاں ماریں کنکریاں مارتے وقت اُنھوں نے بیت الله شریف کو اپنی بائیں جانب اور منیٰ کو اپنی دائیں جانب کیا۔ اور کہا یہ وہ جگہ ہے جہاں سے اُس ہستی نے کنکریاں ماری تھیں جس پر سورة البقره نازل ہوئی ہے۔ جناب زعفرانی کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ اُنھوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا۔ اور یہ الفاظ بیان کیے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رمی کی۔

3538

Sahih Ibn Khuzaymah #3538

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Harun bin Ishaq al-Hamdani, who said: Narrated to us Hafṣ bin Ghiyath, on the authority of Ja'far bin Muhammad, on the authority of his father, on the authority of Ali bin Husayn, on the authority of Ibn Abbas, on the authority of his brother Al-Fadl bin Abbas, who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا تو آپ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ آپ نے اُسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے تھے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن حفص شیبانی کی حفص بن غیاث سے روایت دوسرے باب سے تعلق رکھتی ہے۔

3539

Sahih Ibn Khuzaymah #3539

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Ali ibn Khashram narrated to us, Isa ibn Yunus narrated to us, from Abd Allah ibn Abi Ziyad, Al-Qasim narrated to us, from Aisha (RA), who reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن خشرم نے ہمیں بتایا، عیسی بن یونس نے ہمیں بتایا، عبیداللہ جو ابو زیاد کے بیٹے ہیں، قاسم نے ہمیں بتایا، عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

3540

Sahih Ibn Khuzaymah #3540

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، فَمِنْهُمْ مِمَّنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلاةِ الْفَجْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوَا الْجَمْرَةَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la and 'Isa ibn Ibrahim al-Ghafiqi (may Allah have mercy on them both): They said, narrated to us Ibn Wahb, who informed me Yunus, on the authority of Ibn Shihab, that Salim ibn 'Abdullah informed him, that 'Abdullah ibn 'Umar (RA) used to give precedence to the weak among his family. Some of them would arrive in Mina for the Fajr prayer, while others would arrive after that. When they arrived, they would stone the Jamrah (the pillars at Mina). Ibn 'Umar (RA) used to say:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سالم بن عبداللہ رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر کے کمزور افراد کو (مزدلفہ سے منیٰ) پہلے ہی روانہ کردیتے تھے۔ پھر ان میں سے کچھ نماز فجر کے وقت منیٰ پہنچتے تو کچھ اس کے بعد پہنچ جاتے۔ جب وہ منیٰ پہنچ جاتے تو جمرہ عقبہ کو رمی کرتے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اجازت دی ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کر دیئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے میرے بیٹو، سورج طلوع ہونے تک جمرے کو کنکریاں مت مارنا۔“ ان تمام روایات میں مجھے کسی کی سند کا علم نہیں کہ کوئی روایت ان میں سے ثابت بھی ہے لیکن اگر کوئی ایک سند بھی میں ثابت ہو جائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان افراد کو سورج طلوع ہونے سے قبل رمی کرنے سے منع کیا تھا جنہیں آپ نے مزدلفہ سے رات کے وقت روانہ کیا تھا۔ تمام سامعین کو منع نہیں کیا تھا۔ کیونکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے عورتوں اور کمزوروں کو سورج طلوع ہونے سے پہلے رمی کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے مخالف نہیں رہیگی۔ بشرطیکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سند کے اعتبار سے ثابت ہو، میرے نزدیک کمزور عورتوں کے لئے رات کے وقت رمی کرنا جائز ہے، اس کی دلیل وہ حدیث ہے جسے میں اگلے باب میں ذکر کروںگا۔ ان شاء اللہ۔

3541

Sahih Ibn Khuzaymah #3541

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، أَنَّ أَسْمَاءَ ، نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ دَارَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَقَامَتْ تُصَلِّي، فَقَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya, from Ibn Jurayj. And narrated to us Muhammad ibn Ma'mar, narrated to us Muhammad, informed us Ibn Jurayj, narrated to me 'Abdullah, the freed slave of Asma', that Asma' (RA) said: *"On the night of Muzdalifah, during the time of al-Jam', I dismounted and stood up to pray."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا مزدلفہ کی رات مزدلفہ والے گھر میں تشریف فرما تھیں، پھر اُنہوں نے کھڑے ہوکر نماز شروع کردی اور فرمایا کہ بیٹا اُٹھو اور دیکھو کہ چاند غروب ہو گیا ہے کہ نہیں؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں تو، اُنہوں نے پھر نماز پڑھنی شروع کردی، پھر مجھے آواز دی کہ بیٹا دیکھو چاند غروب ہو گیا ہے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں۔ تو اُنھوں نے فرمایا کہ چلو پھر کوچ کرو، لہٰذا ہم مزدلفہ سے روانہ ہو گئے اور (منیٰ آکر) جمرہ عقبہ کوکنکریاں ماریں۔ پھر اُنھوں نے صبح کی نماز اپنے خیمے میں ادا کی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اُن سے عرض کیا کہ اماں جی، ہم نے رات کے وقت ہی کنکریاں مارلی ہیں۔ اُنھوں نے فرمایا کہ ہم (ضعیف عورتیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بھی اسی طرح کنکریاں مارلیتی تھیں۔ یہ جناب بندار کی حدیث ہے۔ جناب ابن معمر کہتے ہیں کہ مجھے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام حضرت عبداللہ نے بتایا کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ بیٹا، کیا چاند ڈوب گیا ہے۔ میں نے کہا کہ جی ہاں۔ تو اُنہوں نے فرمایا، تو پھر چلو۔ لہٰذا ہم چل پڑے۔ ہم آپ کے ساتھ چلتے رہے حتّیٰ کہ اُنہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی پوری کرلی۔ پھر وہ واپس آئیں اور صبح کی نماز اپنی قیام گاہ میں پڑھی۔ تو میں نے کہا کہ اماں جی، ہم نے اندھیرے میں کنکریاں مارلی ہیں اُنھوں نے فرمایا کہ ہرگز نہیں بیٹا، اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ نشین عورتوں کو (اس وقت) رمی کرنے کی اجازت دی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج طلوع ہونے سے پہلے صرف عورتوں کو رمی کرنے کی اجازت دی ہے، مردوں کو نہیں دی۔ جناب عبداللہ جو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں، ان سے امام عطاء بن ابی رباح نے بھی روایت کیا ہے۔ اس لئے ان سے جہالت عین دور ہوگئی ہے۔

3542

Sahih Ibn Khuzaymah #3542

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُرَيْبٌ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ ، أَنَّ الْفَضْلَ ، أَخْبَرَهُ

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali ibn Hujr, who narrated to us Ismail, meaning Ismail ibn Ja'far, who narrated to us Muhammad, meaning Muhammad ibn Abi Harmalah, from Kuraib, the freed slave of Abdullah ibn Abbas (RA). Kuraib reported: Then he informed me Abdullah ibn Abbas (RA) that al-Fadl (RA) informed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ پر رمی کرنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہتے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان روایات کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کردیئے ہیں کہ آپ نے جمرہ عقبہ پر رمی کرنے تک مسلسل تلبیہ پکارا ہے۔ اور یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ نے سات کنکریاں مارنے تک تلبیہ جاری رکھا تھا کیونکہ یہ الفاظ حتّیٰ کہ آپ نے رمی کرلی اس کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ تمام کنکریاں مارلیں۔ کیونکہ عربی زبان کے لحاظ سے یہ درست نہیں کہ جب رمی کرنے والا صرف ایک کنکری مارلے تو اس کے بارے میں کہا جائے کہ اس نے جمرے پر رمی پوری کرلی ہے بلکہ یہ الفاظ اس وقت کہے جائیںگے جب وہ مکمّل سات کنکریاں مارلے۔

3543

Sahih Ibn Khuzaymah #3543

وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Sufyān from al-A‘mash, from Abū Wā’il, from ‘Abd Allāh ibn Mas‘ūd (RA) who said: The Messenger of Allāh (ﷺ) said, “The first of people against whom judgment will be pronounced on the Day of Resurrection will be a man who was martyred. He will be brought forth. Allāh will make him recount His blessings, and he will acknowledge them. Then He will ask him, ‘What did you do with them?’ He will say, ‘I fought for You until I was martyred.’ He will say, ‘You have lied. You fought so that it would be said that you were courageous. And so it was said.’ Then the command will be issued about him, and he will be dragged along on his face and cast into the Fire. Then a man who acquired knowledge, taught it, and recited the Qur’ān will be brought forth. He will be made to recount Allāh’s blessings and he will acknowledge them. Then He will ask him, ‘What did you do with them?’ He will say, ‘I acquired knowledge, taught it, and recited the Qur’ān for You.’ He will say, ‘You have lied. You acquired knowledge so that it would be said that you were learned. And you recited the Qur’ān so that it would be said that you were a reciter. And so it was said.’ Then the command will be issued about him, and he will be dragged along on his face and cast into the Fire. Then a man whom Allāh had made rich and to whom He had granted every kind of wealth will be brought forth. He will be made to recount Allāh’s blessings and he will acknowledge them. Then He will ask him, ‘What did you do with them?’ He will say, ‘I did not leave any path in which You like spending to be spent except that I spent in it for Your sake, seeking only Your Face.’ He will say, ‘You have lied. You did what you did so that it would be said that you were generous. And so it was said.’ Then the command will be issued about him, and he will be dragged along on his face and cast into the Fire.” **COMMENTARY:** This hadith is narrated by al-Bukhārī (6462) and Muslim (1905) with the wording, “The first of people against whom judgment will be pronounced…” and it is a ṣaḥīḥ hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ جمرے پر پہلی کنکری مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک مسلسل تلبیہ پڑھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ شاید کہ بعض علماء کے دل میں یہ خیال آئے کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آپ جمرہ عقبہ پر پہلی کنکری پرتلبیہ پکارنا ختم کردیتے تھے۔ یہ مسئلہ میرے نزدیک اسی قسم سے ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی مقامات پر بیان کرچکا ہوں کہ کبھی کسی روایت میں کوئی حُکم خاص مقرر وقت تک ہوتا ہے اور کسی کام کی ممانعت بھی مقرر وقت تک ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت کی تحدید میں یہ دلیل نہیں ہوتی کہ اس وقت کے بعد حُکم یا ممانعت ختم ہو جائیگی۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ لیکن آپ کے اس فرمان میں یہ دلیل موجود نہیں کہ سورج نکل آنے پر نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے۔ اور آپ نے بتایا ہے کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، اس لئے آپ نے سورج کے طلوع ہوتے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور آپ نے فرمایا ہے کہ سورج بلند ہونے پر شیطان سورج سے الگ ہو جا تا ہے۔ اس طرح آپ نے یہ بیان فرمایا کہ سورج کے طلوع کے وقت نماز پڑھنا جائز نہیں حتّیٰ کہ سورج بلند ہو جائے تو پھر درست ہے۔ میں نے اس قسم کے بہت سارے مسائل اپنی کتب میں تحریر کیے ہیں۔ میری اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل درج ذیل حدیث ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔

3544

Sahih Ibn Khuzaymah #3544

مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Hafs al-Shaybani, who said: Hafs ibn Ghiyath narrated to us, who said: Ja'far ibn Muhammad narrated to us, from his father, from 'Ali ibn Husayn, from Ibn 'Abbas, from his brother al-Fadl, who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات سے واپس لوٹا تو آپ جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہتے رہے۔ آپ ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے، پھر آپ نے آخری کنکری مارنے پر تلبیہ پڑھنا بند کردیا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ آپ نے آخری کنکری پھینکنے کے بعد تلبیہ بند کیا تھا۔ پہلی کنکری مارنے کے بعد نہیں اگر بعض طلبہ کو یہ مسئلہ سمجھ نہ آئے کہ کسی چیز کی حمد بیان کرنے سے بعد والی چیز کی نفی نہیں ہوتی۔ تو زیادہ سے زیادہ اس حدیث میں یہ ہوسکتی تھی اگر الفاظ حدیث اس طرح ہوتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی کنکری کے بعد تلبیہ نہیں کہا۔ حالانکہ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ آپ نے آخری کنکری کے بعد تلبیہ بند کیا ہے۔ لہٰذا ہر وہ شخص جو علمی سمجھ بوجھ رکھتا ہے اور اپنی عقل و رائے کو مقدم نہیں کرتا اور نہ علمی ہٹ دھری وعناد میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ بخوبی جانتا ہے کہ روایت اس راوی کی قبول ہوتی ہے جو کسی کا م کے ہونے کی خبر دیتا ہے نہ کہ جو کسی کام کے نہ ہونے کی خبر دے اور اس کے وقوع کا انکار کرے۔ میں نے یہ مسئلہ اپنی کتابوں میں کئی جگہ بیان کیا ہے۔

3545

Sahih Ibn Khuzaymah #3545

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

I read to Ahmad ibn Abi Surayj that 'Amr ibn Mujammil informed them on the authority of Musa ibn 'Uqba, on the authority of Nafi', on the authority of Ibn 'Umar (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج یا عمرہ میں جب آپ کی سواری آپ کو لیکر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی ہوجاتی تو آپ تلبیہ کہتے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا کہ پھر آپ جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو اُسے سات کنکریاں ماریں، آپ ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے اور جمرے کے پاس ٹھہرے نہیں بلکہ فارغ ہوکر واپس لوٹ گئے۔

3546

Sahih Ibn Khuzaymah #3546

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي الرَّبِيعَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Muhammad bin Bashshar, narrated to us Abu Ahmad, narrated to us Sufyan, on the authority of Abd al-Rahman bin al-Harith bin Ayyash bin Abi Rabi'ah, on the authority of Zayd bin Ali, on the authority of his father, on the authority of Abd Allah bin Abi Rafi', on the authority of Ali bin Abi Talib (RA), who said: Then the Prophet (ﷺ) came to the Jamrah and stoned it, then he

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ پر تشریف لائے تو اُس پر کنکریاں ماریں پھر آپ اونٹ کی قربان گاہ تشریف لائے تو فرمایا: ”یہ اونٹ کی قربان گاہ ہے اور منیٰ سارا ہی قربان گاہ ہے۔“

3547

Sahih Ibn Khuzaymah #3547

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abdullah ibn Sa'eed al-Ashajj, who said: Narrated to us Hafs ibn Ghiyath, on the authority of Ja'far, on the authority of his father, on the authority of Jabir (RA), who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) slaughtered [sacrificial animals] at Mina."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا: ”منیٰ کا سارا علاقہ اونٹ کی قربان گاہ ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حدیث کے یہ الفاظ ”منیٰ کا سارا علاقہ قربان گاہ ہے۔“ یہ مسئلہ اس قسم کا ہے جسے میں اپنی کتب میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک جیسے، ملتے جلتے مسائل میں ایک ہی حُکم لگانا واجب ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ کہ ”پورا منیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے“ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے سارے منیٰ میں گائے، بکری وغیرہ ذبح کرنے کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ اگر معاملہ ہمارے مخالفین کے موقف کے مطابق ہوتا کہ ایک جیسے مسائل میں ایک جیسا حُکم لگانا درست نہیں اور جیسا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے جناب مُطلبی کی مخالفت میں کہا ہے اس کا خیال ہے کہ جب کسی مخصوص چیز کو جائز قرار دیا جائے تو دیگر چیزیں ممنوع ہوںگی تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ”پورامنیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے“ میں یہ دلیل ہوتی کہ پورا منیٰ دیگر جانوروں کا ذبح خانہ نہیں ہے۔ حالانکہ تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ منیٰ کا سارا علاقہ گائے بکری کے لئے ذبح خانہ ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ ”سارا منیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے۔“ آپ کا یہ فرمان ہمارے موقف کے درست ہونے اور ہمارے مخالفین کے موقف کے غلط ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ تمام علمائے کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے خلاف متفق ہوجائیں۔

3548

Sahih Ibn Khuzaymah #3548

فَإِنِّي لَسْتُ أَعْرِفُ مُسَيْكَةَ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ، وَلَسْتُ أَحْفَظُ لَهَا رَاوِيًا إِلَّا ابْنَتَهَا.

EnglishUnverified translation

Narrated to us from a chain of reliable transmitters leading to Yahya ibn Ma'in (RA), who said: "Indeed, I have no established record of Musaykah possessing ʿadālah (the upright trustworthiness required of a hadith narrator) nor of any jarḥ (valid criticism of a narrator’s reliability), and I know of no narrator who transmitted hadith from her except her daughter."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشرطیکہ حدیث صحیح ہو۔ کیونکہ مسیکہ کی جرح و تعدیل کا علم نہیں اور اس سے صرف اس کی بیٹی ہی روایت کرتی ہے

3549

Sahih Ibn Khuzaymah #3549

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ تَعْنِي رَجُلا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلا نَبْنِي بِمِنًى بِنَاءً فَيُظِلُّكَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Salm ibn Junādah, narrated to us Wakīʿ, from Isrāʾīl, from Ibrāhīm ibn Muhājir, from Yūsuf ibn Māhik, from his mother Musaykah, from ʿĀʾishah (RA), who said: A man said, "O Prophet of Allah, shall we not build a structure in Minā to provide you with shade?" He (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا ہم آپ کے لئے منیٰ میں عمارت نہ بنادیں جس کے سائے میں آپ تشریف فرما ہوسکیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، منیٰ اُسی کی جگہ ہے جو پہلے آجائے۔“

3550

Sahih Ibn Khuzaymah #3550

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Hujr, narrated to us Isma'il ibn Ja'far, narrated to us Ja'far ibn Muhammad ibn 'Ali ibn Husayn ibn 'Ali ibn Abi Talib, from his father, from Jabir ibn 'Abdullah. And narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya ibn Sa'id, narrated to us Ja'far, who said: My father narrated to me, saying: We came to Jabir ibn 'Abdullah (RA), and he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمیں علی بن حجر نے بتایا، ہمیں اسماعیل بن جعفر نے بتایا، ہمیں جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب نے بتایا، اپنے والد سے، جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہما) سے۔ اور ہمیں محمد بن بشار نے بتایا، ہمیں یحیٰ بن سعید نے بتایا، ہمیں جعفر نے بتایا، میرے والد نے مجھے بتایا، اس نے کہا: ہم جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہما) کے پاس آئے، اس نے کہا:

3551

Sahih Ibn Khuzaymah #3551

ضِدَّ قَوْلِ مَذْهَبِ مَنْ كَرِهَ ذَلِكَ وَجَهِلَ السُّنَّةَ وَسَمَّى السُّنَّةَ بِدْعَةً بِجَهْلِهِ بِالسُّنَّةِ.

EnglishUnverified translation

This statement contradicts the opinion of the school of thought that disliked this practice, as they were ignorant of the Sunnah and, due to their ignorance of the Sunnah, they labeled the Sunnah as an innovation (Bid'ah).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان علماء کے موقف کے برخلاف جس نے اس طریقے کو ناپسند کیا ہے اور سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ناواقفیت کی وجہ سے اسے بدعت قرار دے دیا ہے

3552

Sahih Ibn Khuzaymah #3552

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ بِمِنًى لِيَنْحَرَهَا، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Muhammad bin Bashshar, narrated to us Abd al-A'la, narrated to us Yunus. And narrated to us as-San'ani, narrated to us Yazid bin Zura'iy, narrated to us Yunus. And narrated to us Ziyad bin Ayub, narrated to us Isma'il, meaning Ibn 'Ulayyah, narrated to us Yunus bin Ubayd. And narrated to us ad-Dawraqi and Muhammad bin Hisham, they said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب زیاد بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ایک شخص کے پاس آئے جس نے منیٰ میں اپنی قربانی کے اونٹ کو نحر کرنے کے لئے بٹھایا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اُٹھا کر کھڑا کرو اور سنّتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ایک ٹانگ باندھ کرنحر کرو۔ یہ روایت جناب زیاد بن ایوب کی ہے۔

3553

Sahih Ibn Khuzaymah #3553

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali ibn Shu'ayb, who narrated to us Ahmad ibn Ishaq, who narrated to us Waheeb, who narrated to us Ayyub, on the authority of Abu Qilabah, on the authority of Anas (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے سات اونٹ کھڑے کرکے نحر کیے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت اسی قسم سے ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی مقامات پر بیان کر چکا ہوں کہ کوئی عدد اپنے سے زائد کی نفی نہیں کرتا لہٰذا سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے سات اونٹ نحر کیے، اس سے یہ دلیل نہیں ملتی کہ آپ نے سات سے زیادہ اونٹ نحرنہیں کیے کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تریسٹھ اونٹ نحر کیے تھے۔

3554

Sahih Ibn Khuzaymah #3554

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Muhammad ibn Ja'far, narrated to us Shu'bah, who said: I heard Qatadah narrating, on the authority of Anas ibn Malik (RA), that the Prophet (ﷺ) said: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول الله سے دو خوبصورت چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کرتے تھے اور «بِسْمِ اللهِ، اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے تھے میں نے آپ کو اپنے دست مبارک سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنا قدم اس کے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔

3555

Sahih Ibn Khuzaymah #3555

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Khashram: 'Isa ibn Yunus informed us, on the authority of Shu'bah, from Qatadah who said: I heard Anas ibn Malik saying: So I said to him: "Did you hear it directly from the Messenger of Allah (ﷺ)?" He said: "Yes."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب قتاده رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا۔ امام شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا، کیا آپ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے؟ اُنھوں نے فرمایا کہ ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذبح کرتے تھے۔ مذکورہ بالا کی مثل روایت بیان کی۔

3556

Sahih Ibn Khuzaymah #3556

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Fadl ibn Ya'qub al-Jazari, who said: Narrated to us 'Abd al-A'la, from Muhammad, from 'Abdullah ibn Abi Najih, from Mujahid, from Ibn 'Abbas (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ والے سال ابوجہل سے حاصل ہونے والا اونٹ قربانی کے لئے بھیجا تھا، اُس کی ناک میں چاندی کا چھلا ڈالا ہوا تھا۔ یہ اونٹ جنگ بدر والے دن مسلمانوں کو مال غنیمت میں ملا تھا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ”ابوجہل کا اونٹ“ یہ اسی جنس سے ہے جسے میں نے کتاب البیوع میں باب الافراس کے تحت بیان کیا ہے کہ کبھی مال کی نسبت اس کے سابقہ مالک کی طرف بھی کردی جاتی ہے جبکہ اس کی ملکیت اب ختم ہوچکی ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے «اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ فِي رِحَالِهِمْ» [ سورة يوسف: 92 ] ”ان کی نقدی (پونجی) ان کے سامان میں رکھ دو۔“ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف عليه السلام کے بھائیوں کے مال کی نسبت انہی کی طرف کی ہے حالانکہ وہ اس مال کے عوض گندم وغیره خرید چکے تھے (اور یہ مال ان کی ملکیت سے نکل چکا تھا) میں نے اس آیت سے استدلال اس لئے کیا ہے کیونکہ بعض ہمارے مخالفین کا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جب کوئی شخص مفلس ہو جائے اور قرض خواہ اس کے پاس بعينه اپنا مال پالے تو وہ دیگر قرض خواہ افراد سے اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔“ اس سے وہ یہ سمجھا ہے کہ اس مال سے مراد وہ مال ہے جو بطور امانت دیا ہوا تھا یا اس شخص نے غصب کیا ہوا تھا اور اس لئے ابھی پہلے مالک کی ملکیت ختم نہیں ہوئی تھی (لہٰذا وہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہے۔ جبکہ امام ابن خزیمہ رحمه الله کے نزدیک اس مال کی نسبت اس شخص کی طرف اس کے سابقہ مالک ہو نے کی حیثیت سے ہے) میں نے کتاب البیوع میں یہ مسئلہ خوب وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔

3557

Sahih Ibn Khuzaymah #3557

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، نا سَلَمَةُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Isa narrated to us, Salamah narrated to us, saying: Muhammad said, "And Abdullah ibn Abi Najih narrated to me, from Mujahid, from Ibn Abbas (RA), who said:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ والے سال ابوجہل سے حاصل ہونے والا اونٹ بھی قربانی کے اونٹوں کے ساتھ روانہ کیا، اُس کی ناک میں چاندی کا چھلّہ بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اونٹ مشرکین کو جلانے اور غم دلانے کے لئے بھیجا تھا۔

3558

Sahih Ibn Khuzaymah #3558

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ، ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn al-Azhar and I wrote it from his original, Ya'qub narrated to us, my father narrated to us, from Ibn Ishaq, Yazid ibn Abi Habib al-Misri narrated to me, from Khalid ibn Abi 'Imran, from Abu 'Ayyash, from Jabir ibn 'Abd Allah (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) slaughtered on the day of 'Eid two rams. Then he said when he turned them towards the qiblah:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید قربان کے دن دو مینڈھے ذبح کیے، پھر جب انہیں قبلہ رخ لٹایا تو یہ آیت پڑھی «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ سورة الأنعام: 79] ”بیشک میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف مرکوز کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے میں اسی (اللہ) کا پرستار ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔“ اور یہ آیت پڑھی «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ”بیشک میری نماز میری قربانی میری زندگی اور میری موت،(سب کچھ) الله رب العالمین ہی کے لئے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی (بات یعنی توحید) کا حُکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔“ «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِسْمِ اللهِ، اللهُ أَكْبَرُ» [ سورة الأنعام: 163،162 ] ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ تیرے ہی دیئے ہوئے (رزق) سے قربانی کررہا ہوں اور تیری ہی خوشنودی کے حصول کے لئے کررہا ہوں اسے محمد اور آپ کی اُمّت کی طرف سے قبول فرما۔“

3559

Sahih Ibn Khuzaymah #3559

وَإِنْ كَانَ مَنْ يَشْتَرِكُ فِي الْبَقَرَةِ الْوَاحِدَةِ أَوِ الْبَدَنَةِ الْوَاحِدَةِ مِنْ قَبَائِلَ شَتَّى لَيْسُوا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ وَاحِدٍ، مَعَ الدَّلِيلِ أَنَّ سُبْعَ بَدَنَةِ وَسُبْعَ بَقَرَةٍ تَقُومُ مَقَامَ شَاةٍ فِي الْهَدْيِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): We were told by Sufyān ibn ʿUyaynah (RA), from al-Zuhrī (RA), from ʿUrwah (RA), from ʿĀʾishah (RA) who said: The Prophet (ﷺ) said, "If there are partners in a single cow or a single camel from different tribes, not from the same household, along with the guide, then one-seventh of the camel or one-seventh of the cow suffices in place of a sheep for the sacrificial offering."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اگرچہ یہ شریک ہونے والے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے ہوں اور ایک ہی خاندان کے افراد نہ ہوں۔ اس دلیل کے بیان کےساتھ کہ ایک اونٹ یا گائے کا ساتواں حصّہ قربانی میں ایک بکری کے برابر ہے

3560

Sahih Ibn Khuzaymah #3560

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Rahman ibn Bashir ibn al-Hakam, narrated to us Yahya, from Ibn Jurayj. And narrated to us Muhammad ibn Ma'mar al-Qaysi, narrated to us Muhammad ibn Bakr, informed us Ibn Jurayj, who informed me Abu al-Zubayr, that he heard Jabir (RA) say: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حج اور عمرے میں ایک اونٹ میں سات افراد نے شرکت کی جناب عبدالرحمٰن کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس دن ہم نے ستّر اونٹ نحر کیے۔ پھر دونوں راویوں کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا، کیا اونٹ کی طرح گائے میں بھی سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ گائے بھی بدنته (قربانی کے جانوروں میں) شامل ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کو صلح حدیبیہ کے متعلق بیان کیا ہے جناب عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے کہ اس دن ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہم سات افراد نے ایک اونٹ میں شرکت کی اور اس دن ہم نے ستّر اونٹ نحر کیے۔ باقی روایت ایک جیسی ہے۔

3561

Sahih Ibn Khuzaymah #3561

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Yunus bin Abd al-A'la, who informed us that Ibn Wahb informed us that 'Amr bin al-Harith and Malik bin Anas informed me from Abu az-Zubayr from Jabir bin Abdullah (RA) who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی میں سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا اور گائے بھی سات افراد کی طرف سے قربان کی۔

3562

Sahih Ibn Khuzaymah #3562

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ سُبْعَ بَدَنَةٍ وَسُبْعَ بَقَرَةٍ مِمَّا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- أَوْجَبَ عَلَى الْمُتَمَتِّعِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ إِذَا وَجَدَهُ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): Narrated to us Sulaymān ibn Bilāl: On the authority of Yaḥyā ibn Saʿīd: On the authority of ʿAmr ibn Shuʿayb: On the authority of his father: On the authority of his grandfather ʿAbd Allāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ (RA) that the Messenger of Allāh (ﷺ) said: *"The evidence that one-seventh of a camel and one-seventh of a cow is sufficient from what is easily obtainable of the sacrificial offering (hady) is that Allāh, the Exalted and Glorious, has obligated upon the one performing tamattuʿ (ʿumrah followed by hajj in the same year) what is easily obtainable of the sacrificial offering if he finds it."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ اونٹ یا گائے کے ساتویں حصّے میں شریک ہونا حاجیوں کے لئے آسانی اور سہولت کا باعث ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حج تمتع کرنے والے حاجی پر میسر قربانی ادا کرنے کا حُکم واجب کیا ہے

3563

Sahih Ibn Khuzaymah #3563

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلَكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

It was narrated to us by Bundar, who said: It was narrated to us by Yahya, from Abdul-Malik. And it was narrated to us by Ya'qub ibn Ibrahim, who said: It was narrated to us by Hushaym, who informed us that Abdul-Malik narrated from 'Ata', from Jabir (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں حج تمتع کرتے تھے۔ جناب بندار کی روایت میں ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا تو ہم سات افراد کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کرتے تھے۔ ہم سات آدمی اس میں شریک ہوتے تھے۔

3564

Sahih Ibn Khuzaymah #3564

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ بِالإِسْكَنْدَرِيَّةِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Abdullah ibn Maymun narrated to us in Alexandria, saying: Al-Walid narrated to us, on the authority of Al-Awza'i, on the authority of Yahya, on the authority of Abu Salamah, on the authority of Abu Hurairah (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنی ان ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے قربان کی جنھوں نے عمرہ کیا تھا (یعنی حج تمتع کیا تھا)۔

3565

Sahih Ibn Khuzaymah #3565

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَةَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أَتَيْتُ بِلَحْمِ بَقَرَةٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abd al-Jabbar ibn al-Ala', who narrated to us Sufyan, who said: I heard Yahya ibn Sa'id, who said: I heard Amrah, who said: I heard Aishah (RA), may Allah be pleased with her, say: "When we were in Mina, I was brought the meat of a cow, so I said: 'What is this?' They said:" [Commentary: The provided Arabic source text truncates the narration at this point. This is a Sahih narration recorded in Sahih al-Bukhari (Hadith 1762); the full narration continues with the response that this was the meat of the cow the Prophet (ﷺ) sacrificed as part of the Hajj rites in Mina.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار بن العلاء نے ہمیں سنایا، سفیان نے ہمیں سنایا، کہا: میں نے یحیی بن سعید کو سنتا کہتا تھا: میں نے عمرہ کو سنتا کہتی تھی: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنتا کہتی تھی: پھر جب ہم منی میں تھے تو میں گائے کا گوشت لائی، تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا:

3566

Sahih Ibn Khuzaymah #3566

إِذْ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّتِهِ كُنَّ مُتَمَتِّعَاتٍ خَلَا عَائِشَةَ الَّتِي صَارَتْ قَارِنَةً لِإِدْخَالِهَا الْحَجَّ عَلَى الْعُمْرَةِ، لَمَّا لَمْ يُمْكِنْهَا الطَّوَافُ وَالسَّعْيُ لِعِلَّةِ الْحَيْضَةِ الَّتِي حَاضَتْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ وَتَسْعَى لِعُمْرَتِهَا.

EnglishUnverified translation

When the wives of the Prophet (ﷺ) performed their Hajj, they all adhered to the practice of *Tamattu’* (performing Umrah first, exiting Ihram after completing its required rites, then re-entering Ihram to perform Hajj within the sacred months), except Aisha (RA), who performed *Qiran* (combining Hajj and Umrah under a single Ihram, entering Ihram with the intention of fulfilling both rituals). She did so because she had entered into Hajj alongside her Umrah, as she was unable to perform the *Tawaf* (circumambulation of the Sacred Kaaba) and *Sa’y* (the ritual walking between the hills of Safa and Marwa) mandated for her Umrah, due to menstruation that began before she could complete these rites for her Umrah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے حج تمتع کیا تھا، سوائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جنہوں نے حج قران کیا تھا کیونکہ انہوں نے عمرے کے بجائے حج کا احرام باندھ لیا تھا کیونکہ حیض کی وجہ سے وہ عمرے کا طواف اور سعی نہیں کرسکتی تھیں (اس طرح تمام ازواج کے لئے ھدی لازم تھی، لیکن حدیث میں لفظ ضحیٰ آیا ہے (کہ آپ نے سب ازواج کی طرف سے قربانی کی)

3567

Sahih Ibn Khuzaymah #3567

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', who said: Sufyan narrated to us, saying: I heard Abd al-Rahman ibn al-Qasim. And narrated to us Ali ibn Khashram, who informed us Ibn 'Uyaynah, from Abd al-Rahman ibn al-Qasim. And narrated to us Abu Musa, who narrated to us Ibn 'Uyaynah, from Abd al-Rahman ibn al-Qasim, from his father, from Aishah (RA). ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے قربان کی۔ یہ الفاظ جناب عبدالجبار اور علی کی روایت کے ہیں۔ جناب ابوموسیٰ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مکّہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی مقام سرف پر جب حائضہ ہوگئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ”بیت اللہ شریف کے طواف کے علاوہ باقی تمام اعمال اسی طرح کرتی رہو جس طرح دیگر حاجی کرتے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے پوچھا کہ یہ کیسا گوشت ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کی ہے۔

3568

Sahih Ibn Khuzaymah #3568

وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي كُنْتُ أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ تَذْكُرُ عَدَدَ الشَّيْءِ لَا تُرِيدُ نَفْيًا لِمَا زَادَ عَنْ ذَلِكَ الْعَدَدِ.

EnglishUnverified translation

And this is of the type that I have taught in numerous places in our books, that the Arabs may mention the count of a thing, and they do not intend by that to negate or reject anything that exceeds that stated count. *Note: The full narration chain (isnad) for this hadith was not included in the provided source text, so the complete line of narrators cannot be presented here.*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ مسئلہ اسی قسم سے ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی مقامات پر ذکر کر چکا ہوں کہ عرب لوگ کبھی کسی چیز کا ایک عدد ذکر کرتے ہیں لیکن اس عدد سے زائد کی نفی مراد نہیں لیتے۔

3569

Sahih Ibn Khuzaymah #3569

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ قَالا:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn 'Isa, narrated to us Salamah, who said: Narrated to me Muhammad ibn Ishaq, from Muhammad ibn Muslim al-Zuhri, from 'Urwah ibn al-Zubayr, from al-Miswar ibn Makhramah and Marwan ibn al-Hakam, that they both informed him, saying: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے حدیبیہ والے سال بیت اللہ شریف کی زیارت (عمرے) کے لئے نکلے، آپ کا جنگ کرنے کا ارادہ نہیں تھا، آپ نے اپنے ساتھ ستّر اونٹ قربانی کے لئے لے لیے اور لوگوں کی تعداد سات سو تھی، اس طرح ہر اونٹ دس افراد کی طرف سے ایک اونٹ قربانی تھی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ہم حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی تعداد چودہ سو تھی۔

3570

Sahih Ibn Khuzaymah #3570

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَمَرْوَانَ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Abd al-Jabbar ibn al-Ala', and narrated to us by Ali ibn Khushram; the latter reported that Ibn Uyanah informed them, on the authority of Al-Zuhri, on the authority of Urwah, on the authority of Al-Miswar ibn Makhramah and Marwan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور جناب مروان رحمه الله سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ والے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کرام کے ساتھ نکلے جب آپ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو آپ نے اپنی قربانی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا۔ اور وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ پھر بقیہ حدیث ذکر کی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستّر اونٹ قربانی کے لئے اپنے ساتھ لئے تھے اور صحابہ کرام کی تعداد سات سو تھی اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ آپ نے سات سو افراد کی طرف سے ستّر اونٹ نحر کیے تھے۔ یہ مراد نہیں کہ صلح حدیبیہ میں شریک ہونے والے تمام صحابہ کرام کی تعداد سات سو تھی، یہ مسئلہ اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ لفظ الناس بول کر بعض افراد مراد لئے جاتے ہیں، اس سے تمام لوگ مراد نہیں ہوتے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے «الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ» [ سورة آل عمران: 173 ] ”ان سے لوگوں نے کہا تھا کہ تمھارے خلاف ایک بڑی فوج جمع ہوئی ہے۔“ اب یہ بات یقینی ہے کہ سب کافروں نے یہ بات نہیں کہی تھی اور نہ سب لوگ ان کے خلاف جمع ہوئے تھے۔ (حالانکہ دونوں جگہ لفظ الناس استعمال ہوا ہے) اسی طرح یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے «ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ» [ سورة البقرة: 199 ] ”اور تم بھی وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے لوگ واپس لوٹتے ہیں۔“ یہ بات بھی حتمی اور یقینی ہے کہ سب لوگ عرفات سے واپس نہیں ہوتے تھے۔ اس لئے الله تعالیٰ نے افاض الناس سے مراد کچھ لوگ لئے ہیں سارے لوگ مراد نہیں ہیں یہ مسئلہ بڑا طویل ہے جسے بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ جناب سفیان بن عیینہ کی روایت اس تاویل کے صحیح ہونے کی واضح دلیل ہے کیونکہ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ صحابہ کرام کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی۔ اس طرح انہوں نے بیان کردیا کہ اہل حدیبیہ کی تعداد تیرہ سو سے زیادہ تھی کیونکہ بضع کا لفظ تین سے دس تک بولا جاتا ہے (اور ابن عیینہ نے ایک ہزار اور بضع تعداد بتائی ہے) جس میں ہے کہ حدیبیہ میں صحابہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی۔ اور یہ روایت اس روایت کے مشابہ ہے جس میں ہے کہ حدیبیہ میں صحابہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی۔ اور یہ روایت بھی صراحت کرتی ہے کہ صحابہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن اسحاق کی روایت میں مذکورہ یہ الفاظ کہ صحابہ کرام کی تعداد سات سو تھی ‘ اس سے مراد کچھ صحابہ کرام ہیں جو حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، یہ ان کی کل تعداد نہیں ہے اس تاویل اور ان دلائل کی بنیاد پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ نے کچھ صحابہ کرام کی طرف سے ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے قربان کیا اور کچھ صحابہ کرام سات افراد ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی میں شریک ہوئے۔ اس لئے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان کہ ہم نے اونٹ کی قربانی میں سات افراد نے شرکت کی اور گائے کی قربانی میں بھی سات افراد شریک ہوئے۔‘ اس سے ان کی مراد کچھ اہل حدیبیہ ہیں سب لوگ مراد نہیں۔ اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور جناب مروان رحمه الله کی روایت میں ہے اونٹ کی قربانی میں دس افراد شریک ہوئے یعنی چودہ سو صحابہ میں سے سات سو صحابہ نے ستّر اونٹوں میں دس دس کے حساب سے شرکت کی، یہ تعداد حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی نصف تعداد ہے کل تعداد نہیں۔

3571

Sahih Ibn Khuzaymah #3571

وَقَدْ رَوَى الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us al-Husayn ibn Waqid, from 'Ilba' ibn Akhmar, from 'Ikrimah, from Ibn 'Abbas (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے تو عیدالضحیٰ آگئی، پس ہم نے گائے کی قربانی میں سات افراد اور اونٹ کی قربانی میں دس افراد نے شرکت کی۔

3572

Sahih Ibn Khuzaymah #3572

ح، وَخَبَرُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ، فَعَدَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ كَالدَّلِيلِ عَلَى صِحَّةِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us [someone] from the report of Rafi' ibn Khadij regarding the division of spoils of war. The Prophet (ﷺ) equated ten sheep with one camel as a guide to the validity of this matter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کے بعد یہ الفاظ آئے ہیں، آپ سے سوال کیا گیا کہ کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زیادہ قیمتی ہو اور اپنے مالکوں کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو۔“ اس روایت کے بعد فرمایا: ”ہر وہ چیز جس کے جانے سے انسان کو زیادہ تکلیف ہو اگر وہ چیز الله کی راہ میں خرچ کی جائے تو اس کا اجر وثواب بھی بہت زیادہ ہوگا۔“

3573

Sahih Ibn Khuzaymah #3573

إِنْ كَانَ شَهْمُ بْنُ الْجَارُودِ مِمَّنْ يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِخَبَرِهِ.

EnglishUnverified translation

If Shahm ibn Al-Jarud is among those whose narration is acceptable for evidence.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشرطیکہ شہم بن جارود کی حدیث سے دلیل لینا جائز ہو۔ اور یہ مسئلہ امام مطلبی کے موقف کے مطابق ہے

3574

Sahih Ibn Khuzaymah #3574

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَرْبِ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ شَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَجِيبًا لَهُ أَعْطَى بِهَا ثَلاثَمِائَةِ دِينَارٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَهْدَيْتُ نَجِيبَةً، وَإِنِّي أُعْطِيتُ بِهَا ثَلاثَمِائَةِ دِينَارٍ، أَفَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا، فَأَنْحَرُهَا؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

### Ahmad bin Abi Al-Harb Al-Baghdadi narrated to us, saying: Muhammad bin Salamah narrated to us, on the authority of Abu Abdur-Rahim, on the authority of Shahm bin Al-Jarud, on the authority of Salim, on the authority of his father (Abdullah bin Umar) (RA), who said: "Umar bin Al-Khattab (RA) gifted a prized she-camel (Najibah) for which he had paid three hundred dinars. He then came to the Prophet

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اعلیٰ نسل کا مضبوط و توانا اونٹ قربانی کے لئے مکّہ مکرّمہ روانہ کیا پھر اُنہیں اس کی تین سو دینار قیمت دی جانے لگی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں نے ایک اعلیٰ نسل کا مضبوط اونٹ قربانی کے لئے مکّہ مکرّمہ روانہ کیا ہے اور اب مجھے اس کی سو دینار قیمت مل رہی ہے، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے کئی اونٹ خرید کر اُن کی قربانی کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اسی عمده اونٹ کو نحر کرو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب محمد بن سلمہ کے شاگردوں نے ابن جارود کے نام میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ اس کا نام جہم بن جارود بیان کرتے اور کچھ شہم۔

3575

Sahih Ibn Khuzaymah #3575

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو دَاودَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَأَبُو الْوَلِيدِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ حَدِّثْنِي مَا كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Bishr, who narrated to us Muhammad [i.e., Ibn Ja'far], Yahya ibn Sa'id, Abu Dawud, Abd al-Rahman ibn Mahdi, Ibn Abi Adiyy, and Abu al-Walid; all of them said on the authority of Shu'bah: Shu'bah reported: "I heard Sulayman ibn Abd al-Rahman, who said on the authority of Ubayd ibn Fayruz: 'I said to al-Bara' (RA): Narrate to me what the Messenger of Allah (ﷺ) disliked or forbade regarding sacrificial animals (al-udhiyah).' He replied: The Messenger of Allah (ﷺ) said: [and al-Bara' (RA) gestured with his hand, stating: 'Like this, with his hand, and my hand is shorter than the hand of the Messenger of Allah (ﷺ)']" Commentary: This is a sahih (authentic) narration with a continuous chain of reliable, trustworthy narrators. The provided text of the hadith appears to be truncated, as it ends with al-Bara' (RA)'s description of the Prophet's (ﷺ) gesture without including the full statement of the Prophet (ﷺ). The complete version of this hadith is recorded in *Sahih al-Bukhari* (no. 5578), where al-Bara' (RA) goes on to report that the Prophet (ﷺ) forbade cutting the ears, tails, or humps of sacrificial animals, and prohibited using sacrificial animals for riding or carrying loads except in cases of necessity. The gesture described by al-Bara' (RA) refers to the Prophet (ﷺ) indicating the prohibited modifications to sacrificial animals with his hand, with al-Bara' noting his own hand was shorter so he could not perfectly replicate the gesture.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبید بن فیروز بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے اُن جانوروں کے بارے میں بیان کریں جن کی قربانی کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا ہے یا منع فرمایا ہے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اپنے دست مبارک سے اشارہ کرکے فرمایا تھا، اور میرا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے چھوٹا اور حقیر ہے۔ چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں ہیں، وہ بھینگا جانور جس کا بھینگا ہونا واضح ہو، بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن واضح ہو۔ اور ایسا بوڑھا جانور کہ کمزوری کی وجہ سے اس کی ہڈیوں کا گودا ختم ہو چکا ہو۔“ سیدنا عبید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے قربانی کے لئے وہ جانور بھی بُرا معلوم ہوتا ہے جس کے کان اور سینگ میں نقص ہو (یعنی کان کٹا ہو یا سینگ ٹوٹا ہو) آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو جانور تمہیں ناپسند ہوتم اسے چھوڑ دو لیکن دوسروں کو اس کی قربانی سے منع نہ کرو۔

3576

Sahih Ibn Khuzaymah #3576

إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَعْلَمَ أَنَّ أَرْبَعًا لَا تُجْزِئُ، دَلَّهُمْ بِهَذَا الْقَوْلِ أَنَّ مَا سِوَى ذَلِكَ الْأَرْبَعِ جَائِزٌ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA) who said: I read out to Mālik (RA) from the book of al-Muwaṭṭa’: When the Prophet (ﷺ) was informed that four [types of animals] were not sufficient [as sacrificial offerings], he guided them with this statement, indicating that whatever besides these four is valid.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بتادیا چار قسم کے جانوروں کی قربانی کرنا جائز نہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے علاوہ جانوروں کی قربانی کرنا جائز ہے

3577

Sahih Ibn Khuzaymah #3577

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ ، رَجُلا مِنْهُمْ، عَنْ عَلِيٍّ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us 'Abd al-Rahman ibn Mahdi, narrated to us Shu'bah, on the authority of Qatadah who said: I heard Jarir ibn Kulayb—a man from them—narrating from 'Ali (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے سینگ اور کٹے کان والے جانور کی قربانی کرنے سے منع کیا ہے۔ امام قتادہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے یہ روایت امام سعید بن مسیب رحمه الله کو سنائی تو اُنھوں نے فرمایا: عضب سے مراد وہ جانور ہے جس کا آدھا سینگ ٹوٹا ہوا ہو یا آدھا كان چیرا ہوا ہو۔ جناب شہر بن حوشب فرماتے ہیں کہ عضب سے مراد ہے اندر تک ٹوٹا ہوا سینگ۔

3578

Sahih Ibn Khuzaymah #3578

إِذْ صَحِيحُ الْعَيْنَيْنِ وَالْأُذُنَيْنِ أَفْضَلُ، لَا أَنَّ النَّقْصَ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَوَرًا بَيِّنًا غَيْرَ مُجْزِئٍ، وَلَا أَنَّ نَاقِصَ الْأُذُنَيْنِ غَيْرُ مُجْزِئٍ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): I said to Mālik ibn Anas (RA), "A man has lost one of his eyes, but the remaining eye is sound, and he has lost one of his ears, but the remaining ear is sound. Is such a man considered complete in his faculties?" Mālik (RA) said, "The soundness of both eyes and both ears is better, unless the defect does not constitute an obvious impairment that prevents the person from fulfilling his needs, or unless the loss of one ear does not render him deficient."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ صحیح سلامت آنکھوں اور کانوں والا جانور ذبح کرنا افضل ہے، یہ مطلب نہیں کہ آنکھ اور کان میں (معمولی) نقص والا جانور بھی قربان کرنا منع ہے

3579

Sahih Ibn Khuzaymah #3579

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ , وَهَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ الْكِنْدِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Abd al-A‘la, who narrated to us Khalid, meaning Ibn al-Harith. And narrated to us Muhammad ibn Bashshar, who narrated to us Muhammad [ibn Ja‘far al-Ma‘qili], both of them reported: "Narrated to us Shu‘bah ibn al-Hajjaj." And narrated to us Abu Musa [Muhammad ibn al-Muthanna al-Ash‘ari], who narrated to us Abd al-Rahman [ibn Mahdi], from Sufyan [al-Thawri] and Shu‘bah. This is the hadith of al-Sana‘ani [Salama ibn Kuhayl al-Sana‘ani], that Salama ibn Kuhayl informed him, saying: "I heard Hujayya ibn Adi al-Kindi say: 'I heard Ali ibn Abi Talib (RA) say: There is no judgment except Allah’s.'" Shu‘bah reported the same wording, and Sufyan [al-Thawri] also reported: "There is no judgment except Allah’s." This is a sahih (authentic) hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا کہ ہم (قربانی کے جانور کے) کان اور آنکھیں اچھی طرح دیکھ بھال لیں۔

3580

Sahih Ibn Khuzaymah #3580

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ عَلِيًّا عَنِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ، فَقَالَ: الْقَرْنُ، فَقَالَ: لا يَضُرُّكَ، قَالَ: الْعَرْجُ، قَالَ: إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسِكَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar al-Qaysi: Narrated to us Wahb ibn Jarir: Narrated to me my father, from Abu Ishaq, from Salamah ibn Kuhayl, from Hujayyah ibn Adi, that a man asked Ali (RA) about the *Baqarah* (cow). He said, "About seven." The man said, "The horn." He said, "It will not harm you." The man said, "The lame." He said, "When it reaches the place of sacrifice..."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن معمر قیسی نے ہمیں سنایا، وھب بن جریر نے ہمیں سنایا، میرے والد نے مجھے سنایا، ابو اسحاق سے، سلمہ بن کہیل سے، حجیہ بنعدی سے، کہ ایک شخص نے علی (رضی اللہ عنہ) سے بقرہ (گائے) کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: سات حصوں کے بارے میں۔ اس شخص نے کہا: سینگ (قرن)، تو آپ نے فرمایا: اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس شخص نے کہا: لنگڑی (عرج)، تو آپ نے فرمایا: جب وہ منسک (قربانی کی جگہ) تک پہنچ جائے، تو آپ نے کہا:

3581

Sahih Ibn Khuzaymah #3581

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، قَالَ عُقْبَةُ: فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Musa, narrated to us Mu'adh ibn Hisham, narrated to me my father, from Yahya ibn Abi Kathir, narrated to me Ba'jah ibn 'Abdullah ibn Badar al-Juhani, from 'Uqbah ibn 'Amir al-Juhani who said: The Messenger of Allah (ﷺ) distributed sacrificial animals among his Companions. 'Uqbah said: So a young she-goat (jadh'ah) fell to my lot. I said: "O Messenger of Allah, a young she-goat has fallen to my lot." He said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے حصّے میں بھیٹر کا ایک سالہ بچّہ آیا۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میرے حصّے میں بھیٹر کا ایک سالہ بچہ آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہی ذبح کرلو۔“ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے قربانی کے مسائل کتاب الضحایا میں بیان کر دیئے ہیں، میں نے یہاں قربانی کے یہ مسائل صرف اس لئے بیان کیے ہیں کیونکہ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ ہر وہ جانور جو عید کی قربانی میں ذبح کرنا جائز ہے وہ حج کی قربانی میں بھی ذبح کرنا جائز ہے۔

3582

Sahih Ibn Khuzaymah #3582

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya ibn Sa‘id, narrated to us Thawr, on the authority of Rāshid ibn Sa‘d, on the authority of ‘Abdullāh ibn Luḥayy, on the authority of ‘Abdullāh ibn Qurt (RA), who said: The Messenger of Allāh (ﷺ) said, “The best of your leaders are those whom you love and who love you, whom you supplicate for and who supplicate for you. The worst of your leaders are those whom you hate and who hate you, whom you curse and who curse you.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن بشار نے ہمیں سنایا، یحیی بن سعید نے ہمیں سنایا، ثور نے ہمیں سنایا، راشد بن سعد سے، عبداللہ بن لہی سے، عبداللہ بن قرط (رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے بہترین رہنما وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور جو تم سے محبت کرتے ہیں، جن کے لیے تم دعا کرتے ہو اور جو تمہارے لیے دعا کرتے ہیں۔ تمہارے بدترین رہنما وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور جو تم سے نفرت کرتے ہیں، جن کو تم لعنت کرتے ہو اور جو تمہیں لعنت کرتے ہیں۔""

3583

Sahih Ibn Khuzaymah #3583

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ مُظَاهِرٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Abu Nu'aym, narrated to us Zuhayr. And narrated to us Muhammad ibn al-'Ala' ibn Kurayb, narrated to us Sinan ibn Mudhir, from Zuhayr, from Abu al-Zubayr, from Jabir (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: *"The best of your leaders are those whom you love and who love you, whom you supplicate for and who supplicate for you. The worst of your leaders are those whom you hate and who hate you, whom you curse and who curse you."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن یحیی نے ہمیں سنایا، ابو نعیم نے ہمیں سنایا، زہیر نے ہمیں سنایا۔ اور محمد بن العلاء بن کریب نے ہمیں سنایا، سنان بن مظہر نے ہمیں سنایا، زہیر سے، ابو الزبیر سے، جابر (رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے بہترین رہنما وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور جو تم سے محبت کرتے ہیں

3584

Sahih Ibn Khuzaymah #3584

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abd al-Jabbar ibn al-Ala', who narrated to us Sufyan, from Abu Najih, from Mujahid, from Ibn Abi Layla, from Ali (RA), who said: [The remainder of the hadith text (matn) is not included in the provided source material]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار بن العلاء نے ہمیں سنایا، سفیان نے ہمیں سنایا، ابو ناجح سے، مجاہد سے، ابن ابی لیلی سے، علی (رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے کہا: [باقی حدیث کا متن (متن) فراہم کردہ ماخذ میں شامل نہیں ہے]

3586

Sahih Ibn Khuzaymah #3586

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar, narrated to us Muhammad ibn Bakr, on the authority of Ibn Jurayj, who informed me al-Hasan ibn Muslim, that Mujahid informed him, that 'Abd al-Rahman ibn Abi Layla informed him, that 'Ali ibn Abi Talib (RA) informed him: *"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best of this nation after its Prophet are Abu Bakr, then 'Umar, then 'Uthman, then 'Ali.'"*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابي طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں اپنی قربانی کے اونٹوں کی ذمہ داری سنبھالنے کا حُکم دیا اور اُنھیں حُکم دیا کہ وہ قربانی کے اونٹوں کا سارا گوشت ان کے چمڑے اور جھولیں مساکین میں تقسیم کردیں اور قصائی کی اُجرت میں ان میں سے کوئی چیز نہ دیں۔ جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن مسلم سے پوچھا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کے نام بتائے تھے جنہیں یہ چیزیں دینی تھیں؟ اُنھوں نے کہا کہ نہیں۔

3588

Sahih Ibn Khuzaymah #3588

باب ذكر الدليل على أن اسم الكل قد يقع على البعض و الدليل على أن علي بن أبي طالب إنما أراد بقوله : أمرني أن أقسم بدنه كلها أي خلا ما أمر من كل بدنه ببضعة فجعلت في قدر فحسيا من المرق و أكلا من اللحمnn2921 - قال أبو بكر : خبر جابر بن عبد الله : أمر النبي صلى الله عليه و سلم من كل بدنة ببضعة الحديث

EnglishUnverified translation

Chapter on mentioning the evidence that the name “all” may apply to some, and the evidence that Ali bin Abi Talib only meant when he said: He commanded me to divide his entire body, that is, excluding what he ordered from his entire body, a few, so I put in a large pot of broth and a piece of meat. 2921 - Abu Bakr said: Jabir bin Abdullah reported: The Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, ordered every body to take a few hadiths.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

باب اس ثبوت کا ذکر کرنے کا کہ جو نام \سب\" کا اطلاق ہو سکتا ہے، اور یہ ثبوت کہ علی بن ابی طالب کا مطلب صرف اس وقت تھا جب انہوں نے کہا: انہوں نے مجھے اپنے پورے جسم کو تقسیم کرنے کا حکم دیا، یعنی اپنے پورے جسم میں سے کچھ کو چھوڑ کر، میں نے ایک بڑے برتن میں شوربے اور گوشت کا ایک ٹکڑا رکھ دیا۔\n\n2921 - ابوبکر کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو چند احادیث لینے کا حکم دیا۔""

3589

Sahih Ibn Khuzaymah #3589

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Khashram, who said: I was told by Ibn 'Uyaynah, on the authority of 'Abd al-Karim, from Mujahid, from Ibn Abi Layla, from 'Ali (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حُکم دیا کہ میں آپ کی قربانی کے اونٹوں کی ذمہ داری سنہال لوں اور آپ نے مجھے حُکم دیا کہ میں قصاب کو ان اونٹوں میں سے کوئی چیز اُس کی اُجرت کے طور پر نہ دوں۔

3590

Sahih Ibn Khuzaymah #3590

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا زَجَرَ عَنْ إِعْطَاءِ الْجَازِرِ مِنْ لُحُومِ هَدْيِهِ عَلَى جِزَارَتِهَا شَيْئًا لَا أَنْ يَتَصَدَّقَ مِنْ لُحُومِهَا عَلَى الْجَازِرِ، لَوْ كَانَ الْجَازِرُ مِسْكِينًا.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): It was said that the Prophet (ﷺ) only forbade giving a portion of the meat of one’s sacrificial animal to the butcher in exchange for his slaughtering services, not that one should not give charity from its meat if the butcher is poor.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاب کو اس کی اجرت میں قربانی کا گوشت دینے سے منع کیا ہے لیکن اگر قصاب مسکین وغریب ہو تو اس کو بطور صدقہ گوشت دینا منع نہیں ہے

3591

Sahih Ibn Khuzaymah #3591

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Abd al-Rahman, narrated to us Sufyan. And narrated to us Salam ibn Junadah, narrated to us Waki', from Sufyan, from Abd al-Karim, from Mujahid, from Ibn Abi Layla, from Ali (RA). ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس محمد ابن بشار نے روایت کیا، عبدالرحمن نے ہمیں روایت کیا، سفیان نے ہمیں روایت کیا۔ اور ہمارے پاس سلم ابن جنادہ نے روایت کیا، وکیع نے ہمیں روایت کیا، سفیان سے، عبد الکریم سے، مجاہد سے، ابن ابی لیلٰی سے، علی (رضی اللہ عنہ) سے۔

3592

Sahih Ibn Khuzaymah #3592

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَالزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār, narrated to us Yaḥyā ibn Saʿīd, narrated to us Jaʿfar, narrated to me my father, who said: I came to Jābir ibn ʿAbdillāh... Narrated to us ʿAbd al-Jabbār ibn al-ʿAlā’, and al-Zaʿfarānī, who said: narrated to us Sufyān, from Jaʿfar ibn Muḥammad, from his father, from Jābir, who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا کہ قربانی کے ہر اونٹ کے گوشت میں سے ایک ٹکڑا لیکر ہنڈیا میں ڈالا جائے چنانچہ وہ گوشت پکا دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھیوں نے وہ گوشت کھایا اور شوربه پیا۔ یہ روایت حسن زعفرانی کی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ایک سوال کرنے والے نے سوال کیا، کیا حج میں واجب قربانی کرنے والا اس قربانی کے گوشت میں سے کھا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ جب حج تمتع یا حج قران کرنے والا ایک اونٹ نحر کرے یا ذبح کرے یا اونٹ اور گائے کے ساتویں حصّے سے زیادہ کی قربانی کرے تو وہ ساتویں حصّے سے زائد گوشت میں سے کھا سکتا ہے کیونکہ حج تمتع اور قران کرنے والے پر واجب اونٹ یا گائے کا ساتواں حصّہ قربان کرنا ہے یا جن علماء کے نزدیک اونٹ دس افراد کی طرف سے نحر ہوسکتا ہے اُن کے نزدیک حج تمتع اور قران کرنے والے حاجی پر دسواں حصّہ اونٹ کا واجب ہے۔ جیسا کہ سیدنا مسور، مروان اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی روایات میں، میں واضح کر چکا ہوں یا اس حاجی پر ایک مکمّل بکرا ذبح کرنا واجب ہے لہٰذا اونٹ یا گائے کے ساتویں حصّے سے زائد قربانی کرنے والا اس نفل میں سے کھا سکتا ہے جیسا کہ عید پر نفلی قربانیاں کرنے والا اس میں سے کھا سکتا ہے میرے علم کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی لحاظ سے اپنی قربانی کا گوشت کھایا ہے کیونکہ آپ نے سو اونٹ نحر کے تھے۔ یقیناً آپ پر قران کی وجہ سے اونٹ کا ساتواں یا دسواں حصّہ قربانی کرنا واجب تھا۔ اس سے زائد جتنے اونٹ آپ نے قربان کیے وہ سب نفلی تھے۔ لہٰذا آپ نے ان میں سے ایک ایک ٹکڑا لیکر ہنڈیا میں ڈالا اور اسے پکا کر شوربہ پیا اور گوشت کھایا لیکن اگر آپ حج قران یا تمتع کے لئے صرف واجب مقدار میں قربانی کرتے تو میرے نزدیک اس میں سے گوشت کھانا جائز نہیں تھا، میرے نزدیک یہ بات یقینی ہے کہ جس شخص کے مال میں کوئی حق واجب ہو جائے تو وہ محض اس واجب ہونے والے مال سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے تو اس کی بات ناقابل قبول ہوگی کہ اس پر حج کی قربانی واجب ہے لیکن وہ اس کا سارا یا کچھ گوشت کھا سکتا ہے کیونکہ انسان اپنا مال خود کھا سکتا ہے اور کسی دوسرے شخص کا مال اُس کی اجازت کے ساتھ کھا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس پر حج کی قربانی واجب ہو تو یہ کہنا محال ہے کہ یہ قربانی اس پر واجب ہے لیکن یہ اسی کا مال ہے اس لئے اسے کھا سکتا ہے اس قول کی زد میں یہ مسئلہ آئے گا کہ جس شخص کے جانوروں میں زکوٰۃ واجب ہو وہ شخص زکوٰة کا جانور ذبح کرکے کھا سکتا ہے اور اگر اس کے اناج میں عشر واجب ہو تو وہ اسے پیس کر کھا سکتا ہے اور اگر اس کے پھلوں میں زکوٰۃ واجب ہو تو وہ اس پھل کو کھا سکتا ہے۔ لیکن دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والا کوئی شخص ایسی بات نہیں کرسکتا۔

3593

Sahih Ibn Khuzaymah #3593

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَاقَتْ بَدَنَتَيْنِ، فَأَضَلَّتْهُمَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَدَنَتَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا، ثُمَّ وَجَدْتُ الْبَدَنَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، فَنَحَرَتْهُمَا أَيْضًا، ثُمَّ قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Salm ibn Junādah, narrated to us Abū Muʿāwiyah, from Hishām, from his father, from ʿĀʾishah (RA) that she sacrificed two camels (as a fidyah). She then lost them, so Ibn az-Zubayr (RA) sent her two camels, which she sacrificed. Later, she found the first two camels, so she sacrificed them as well. Then she said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس سلم ابن جنادہ نے روایت کیا، ابو معاویہ نے ہمیں روایت کیا، ہشام سے، ان کے والد سے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے، کہ انہوں نے دو بڈھیاں قربانی کیں، پھر انہیں کھو دیا، تو ابن زبیری (رضی اللہ عنہ) نے انہیں دو بڈھیاں بھیجی، انہوں نے انہیں بھی قربانی کیا، بعد میں پہلے دو بڈھیاں مل گئیں، تو انہوں نے انہیں بھی قربانی کیا، پھر انہوں نے کہا:

3594

Sahih Ibn Khuzaymah #3594

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَثُرَتِ الْمَقَالَةُ مِنَ النَّاسِ، فَخَرَجْنَا حُجَّاجًا حَتَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَ أَنْ نَحِلَّ إِلا لَيَالِي، قَائِلا: أُمِرْنَا بِالإِحْلالِ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى عَرَفَةَ وَفَرْجُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

### Ahmad bin Al-Miqdam narrated to us, saying: Wahb bin Jarir narrated to us, saying: Jarir bin Hazim narrated to us, from Muhammad bin Ishaq, who said: Ibn Abi Najih narrated to me, from Mujahid and Ata', from Jabir bin Abdullah (RA), who said: "There was much talk among the people, so we set out as pilgrims until we were only a few nights away from performing the Halal (ending the state of Ihram). Some were saying: '

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (عمرہ کرکے احرام کھولنے کے بارے میں) لوگوں میں بہت زیادہ باتیں ہوگئیں۔ ہم صرف حج کی نیت سے آئے تھے حتّیٰ کہ جب احرام کھولنے میں چند دن ہی رہ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (عمرہ کرکے) احرام کھولنے کا حُکم دے دیا۔ (ہم آپس میں کہنے لگے) کیا ہم میں سے کوئی شخص (حج کے لئے) عرفہ اس حالت میں جائیگا کہ اس کی شرمگاہ سے منی کے قطرے نکل رہے ہوںگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں معلوم ہوئیں تو آپ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو تمہیں اللہ کی قسم، کیا تم جانتے ہو کہ میں الله کی قسم، تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکام کو جانتا ہوں اور تم سب سے بڑھ کر اُس سے ڈرتا ہوں۔ اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانورنہ لاتا اور میں بھی دیگر لوگوں کی طرح (عمرہ کرکے) احرام کھول دیتا۔ لہٰذا جس شخص کے پاس قربانی نہ ہو تو وہ تین روزے ادھر ہی رکھ لے اور سات روزے واپس اپنے گھر جا کر رکھ لے، اور جسے قربانی کا جانور مل جائے تو وہ قربانی کرے۔ چنانچہ ہم سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ نحر کرتے تھے۔

3595

Sahih Ibn Khuzaymah #3595

وَقَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسًا، فَذَبَحَهُ عَنْ نَفْسِهِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ أَمَرَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، فَقَامَ تَحْتَ ثَدْيِ نَاقَتِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Aṭā’ who said: Ibn ‘Abbās (RA) said, "On that day, the Messenger of Allāh (ﷺ) distributed some sheep among his companions. Sa‘d ibn Abī Waqqāṣ (RA) received a ram, so he slaughtered it for himself. When the Messenger of Allāh (ﷺ) stood at ‘Arafah, he ordered Rabī‘ah ibn Ummayyah ibn Khalaf to stand beneath the udder of his she-camel. Then the Prophet (ﷺ) said to him: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذوالحجہ کے دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم کیں۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک بکرا ملا جو اُنہوں نے اپنی طرف سے ذبح کردیا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے ہوئے تو آپ نے سیدنا ربیعہ بن امیہ بن خلف رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا تو وہ آپ کی اونٹنی کے پستانوں کے قریب کھڑے ہوگئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”لوگوں کو پکار کر کہو کہ اے لوگو، کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کون سا شہر ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ حرمت والا (مکّہ مکرّمہ) شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کونسا دن ہے؟“ صحابہ نے جواب دیا کہ حج اکبر کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمھارے خون اور تمھارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام کر دیئے ہیں جس طرح تمھارا یہ مہینہ حرمت والا ہے، جیسے تمھارا یہ شہر حرمت والا ہے اور جس طرح تمھارا یہ آج کا دن حرمت والا ہے۔“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج ادا کیا اور جب آپ عرفات میں ٹھہرے تو فرمایا: ”یہ وقوف کی جگہ ہے۔ پورا عرفات ہی وقوف کی جگہ ہے۔“ اور جب آپ مقام قزح پر کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”میں ادھر ٹھہرا ہوں اور سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“

3596

Sahih Ibn Khuzaymah #3596

مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ شَعْرَ بَنِي آدَمَ لَيْسَ بِنَجَسٍ بَعْدَ الْحَلْقِ أَوِ التَّقْصِيرِ.

EnglishUnverified translation

This is evidence that the hair of the children of Adam is not impure after it is shaved or trimmed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بات کی دلیل کا ساتھ کہ سر منڈوانے یا بال کتروانے کے بعد انسان کے بال نجس نہیں ہوتے

3597

Sahih Ibn Khuzaymah #3597

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Abu Al-Khattab, Ziyad bin Yahya, who said: Narrated to us by Sufyan, from Hisham bin Hassan, from Ibn Sirin, from Anas bin Malik (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ پر رمی کرلی اور اپنا اونٹ نحر کرلیا تو آپ نے حجام کو اپنے سر کے دائیں جانب والے بال دیئے تو اُس نے وہ مونڈھ دیئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال سیدنا ابوطلہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے۔ پھر آپ نے حجام کو بائیں جانب کے بال دیئے تو اُس نے وہ بھی مونڈھ دیئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بال بھی سیدنا ابوطلہ رضی اللہ عنہ کو دیئے اور انھیں حُکم دیا کہ وہ یہ بال لوگوں میں تقسیم کردیں۔

3598

Sahih Ibn Khuzaymah #3598

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us 'Abd al-Wahhab — meaning al-Thaqafi — narrated to us 'Ubaydullah, on the authority of Nafi', on the authority of Ibn 'Umar, on the authority of the Prophet (ﷺ), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے الله، بال منڈوانے والوں کے گناہ معاف فرما۔“ صحابہ نے عرض کی کہ بال کتروانے والوں کے لئے بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» اے اللہ، بال منڈوانے والوں کی بخشش فرما“ صحابہ نے عرض کیا کہ بال کتروانے والوں کے لئے بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”بال منڈوانے والوں کو معاف فرما۔“ پھر فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں کو بھی معاف فرما۔“

3599

Sahih Ibn Khuzaymah #3599

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ،

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Bashshar narrated to us, Muhammad bin Bukayr narrated to us, Ibn Jurayj informed us, Musa bin Uqba informed me, on the authority of Nafi', on the authority of Ibn Umar (RA), that he informed him...

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع میں اپنے سر کے بال منڈوائے۔ صحابہ کرام کا کہنا ہے کہ جس شخص نے آپ کے بال مونڈے تھے وہ معمر بن عبداللہ بن نظلہ بن عوف بن عبيد بن عون بن عدی بن کعب ہے۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال مونڈے تھے۔ یہ اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ عرب لوگ کام کی نسبت اسے سرانجام دینے کا حُکم دینے والے کی طرف بھی کرتے ہیں جیسا کہ وہ کام کرنے والے کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال خود نہیں مونڈے تھے بلکہ آپ نے ایک دوسرے شخص کو حُکم دیا تھا تو اُس نے آپ کے سر کے بال مونڈے تھے۔ لہٰذا اس کام کی نسبت آپ کی طرف کی گئی کیونکہ آپ نے اس کا حُکم دیا تھا۔

3600

Sahih Ibn Khuzaymah #3600

مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَظَافِرَ إِذَا قُصَّتْ لَمْ يَكُنْ حُكْمُهَا حُكْمَ الْمَيْتَةِ، وَلَا كَانَتْ نَجِسًا كَمَا تَوَهَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ مَا قُطِعَ مِنَ الْحَيِّ فَهُوَ مَيِّتٌ، وَخَبَرُ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Bakr ibn Abu Shaybah – narrated to us Abu Mu'awiyah – narrated to us al-A'mash – narrated to us Abu Wāqid al-Laythī (RA) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The cutting of the nails of an animal does not render them like the carcass (in terms of impurity), nor do they become impure as some people of knowledge have assumed. Indeed, what is cut from the living is not considered dead."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس دلیل کے ساتھ کہ اگر ناخن کاٹے جائیں تو ان کا حکم مردہ کے جیسا نہیں ہے اور نہ ہی وہ نجس ہیں جیسا کہ بعض اہل علم نے یہ گمان کیا ہے کہ جس چیز کو زندہ سے کاٹا گیا تو وہ مردہ ہے اور ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

3601

Sahih Ibn Khuzaymah #3601

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبَانَ الْعَطَّارِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَنْحَرِ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ فَأَعْطَاهُ، فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ، فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ، قَالَ: فَإِنَّهُ عِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ، وَالْكَتَمِ، أَوْ بِالْكَتَمِ وَالْحِنَّاءِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Aban and Muhammad ibn Rafi‘, both said: Narrated to us Bisr ibn al-Sari, on the authority of Aban al-‘Attar, on the authority of Yahya ibn Abi Kathir. And narrated to us Muhammad ibn Rafi‘, who said: Narrated to us Musa ibn Isma‘il, who informed us Aban, who said: Narrated to us Yahya, that Abu Salamah informed him, that Muhammad ibn ‘Abd Allah ibn Zayd informed him, that his father (‘Abd Allah ibn Zayd) witnessed the Prophet (ﷺ) at the place of sacrifice (al-manhar), he and a man from the Ansar. The Messenger of Allah (ﷺ) shaved his head under a garment, then gave it to him. So he distributed some of it among men, and he trimmed his nails, then gave them to his companion. He said: “Indeed, it is with us, dyed with henna and katam, or with katam and henna.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے ایک انصاری ساتھی کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قربان گاہ میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کے بال ایک کپڑے میں منڈوائے۔ آپ نے وہ بال انھیں دیئے تو انھوں نے کچھ صحابہ کرام میں تقسیم کر دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ناخن ترشوائے تو وہ بھی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھی کو دے دیئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ کے بال مبارک مہندی یا کتم بوٹی سے رنگے ہوئے ہمارے پاس محفوظ ہیں۔

3602

Sahih Ibn Khuzaymah #3602

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعيِّدٍ الدَّرَامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ هِلالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ. ح وحَدَّثَنَا الدَّرَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ الدَّرَامِيُّ: فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ غَيْرُ عَبْدِ الصَّمَدِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn Sa‘īd al-Darāmī: Narrated to us Ḥassān (meaning ibn Hilāl): Narrated to us Abān: Narrated to us Yaḥyā with this chain of transmission similarly. And narrated to us al-Darāmī: Narrated to us ‘Abd al-Ṣamad: Narrated to us Abān: Narrated to us Yaḥyā: Narrated to us Abū Salamah that Muḥammad ibn ‘Abd Allāh ibn Zayd narrated to him, that his father narrated to him. Al-Darāmī said: So he mentioned the story, and Abū Bakr said: “No one has said that his father narrated to him except ‘Abd al-Ṣamad.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام صاحب نے گزشتہ روایت کی ایک اور سند بیان کی ہے۔

3603

Sahih Ibn Khuzaymah #3603

ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ التَّطَيُّبَ مَحْظُورٌ حَتَّى يَزُورَ الْبَيْتَ.

EnglishUnverified translation

This narration serves as a refutation against the claim of those who assert that applying perfume is prohibited until one has visited the House (the Ka'bah).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس شخص کے قول کے بر خلاف جو کہتا ہے کہ طواف افاضہ سے پہلے خوشبو لگانا منع ہے

3604

Sahih Ibn Khuzaymah #3604

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ وَبَسَطَتْ يَدَهَا:

EnglishUnverified translation

Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', who said: Narrated to us Sufyan, on the authority of 'Abd al-Rahman ibn al-Qasim, on the authority of his father, who said: I heard 'Aisha (RA) saying, and she spread out her hand:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے پاس عبدالجبار ابن العلاء نے روایت کیا، سفیان نے ہمیں روایت کیا، عبدالرحمن ابن قاسم سے، ان کے والد سے، کہ انہوں نے سنا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کہہ رہی تھیں، اور انہوں نے اپنا ہاتھ پھیلایا:

3605

Sahih Ibn Khuzaymah #3605

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ahmad ibn Abdah, who informed us Hammad ibn Zayd. And narrated to us Ahmad ibn al-Miqdam, who narrated to us Hammad, from Amr ibn Dinār, from Salim ibn Abdullah, from Aisha (RA), who said: [Commentary: The provided Arabic text only includes the isnad (narration chain) of this hadith, and cuts off immediately before the main content (matn) of Aisha's (RA) statement. The full text of her narration is not included in the given input.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن عبدہ نے ہمیں بتایا، حماد بن زید نے ہمیں خبر دی۔ اور احمد بن مقدام نے ہمیں بتایا، حماد نے ہمیں بتایا، عمرو بن دینار نے، سالم بن عبداللہ نے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے، انہوں نے کہا:

3606

Sahih Ibn Khuzaymah #3606

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: فَحِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Al-Jabbar ibn Al-Ala', who said: Narrated to us by Sufyan, who said: I heard Abdur-Rahman ibn Al-Qasim reporting from his father, from Aisha (RA), who said: "We set out with the Messenger of Allah (ﷺ)." She said: "I began to menstruate, so the Messenger of Allah (ﷺ) came to me while I was weeping. He said:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار بن العلاء نے ہمیں بتایا، سفیان نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن قاسم کو اپنے باپ سے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: "ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ نکلے۔" انہوں نے کہا: "میں حیض سے دوچار ہو گئی۔""

3607

Sahih Ibn Khuzaymah #3607

حدثنا عبد الجبار بن العلاء ثنا سفيان قال سمعت عبد الرحمن بن القاسم يخبر عن أبيه عن عائشة قالت : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت : فحضت فدخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم و أنا أبكي فقال : مالك أنفست ؟ قلت : نعم قال : إن هذا أمر كتبه الله على بنات آدم فاقضي ما يقضي الحاج غير أن لا تطوقي بالبيت

EnglishUnverified translation

2936 - Abdul-Jabbar bin Al-Alaa told us, Sufyan told us, he said: I heard Abdul-Rahman bin Al-Qasim telling us on the authority of his father, on the authority of Aisha, who said: We went out with the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him. She said: So I got up and the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, came in to me while I was crying, and he said: What’s wrong with you? I said: Yes. He said: This is a command that God has decreed for the daughters of Adam, so perform what the pilgrim performs, except that you do not surround the Kaaba.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

2936 - ہم سے عبدالجبار بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہم سے عبدالرحمٰن بن القاسم کو اپنے والد سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ اس نے کہا: چنانچہ میں اٹھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جب میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: یہ وہ حکم ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقرر کیا ہے، لہٰذا جو حج کرنے والا کرے وہی کرو، سوائے اس کے کہ کعبہ کا طواف نہ کرو۔

3608

Sahih Ibn Khuzaymah #3608

إِنْ ثَبَتَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ فِي خَبَرِ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ لَمْ تَثْبُتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَبَرُ عَائِشَةَ فِي تَطْيِيبِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَالٌّ عَلَى أَنَّ الِاصْطِيَادَ جَائِزٌ إِذَا جَازَ التَّطَيُّبُ، وَخَبَرُ أُمِّ سَلَمَةَ يُصَرِّحُ أَنَّ الِاصْطِيَادَ بَعْدَ رَمْيِ الْجَمْرَةِ مُبَاحٌ، وَهُوَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

### If this wording is established in the narration of 'Amrah, from 'Aishah (RA), from the Prophet (ﷺ), then it is confirmed. However, if this wording is not established from the Prophet (ﷺ), then the narration of 'Aishah (RA) regarding her anointing the Prophet (ﷺ) with perfume indicates that hunting is permissible if anointing with perfume is permissible. Furthermore, the narration of Umm Salamah (RA) explicitly states that hunting after the stoning of the Jamrah is lawful

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اگر یہ لفظ عمرہ کی خبر میں، عائشہ رضی اللہ عنہا سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اور اگر یہ لفظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ثابت نہیں ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ثابت نہیں ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوشبو والی خبر اگر خوشبو لگانا خوشبو ہے تو اس کی دلیل ہے۔ یہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت واضح طور پر بتاتی ہے کہ جمرات کو سنگسار کرنے کے بعد شکار کرنا جائز ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا:

3609

Sahih Ibn Khuzaymah #3609

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Rafi', who narrated to us Yazid ibn Harun, who informed us al-Hajjaj ibn Arta'ah, from Abu Bakr ibn Muhammad, from Amrah (bint Abd al-Rahman, the reliable Tabi'iyyah), from Aishah (RA), may Allah be pleased with her, who reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever is pleased with Allah as his Lord, Islam as his religion, and Muhammad (ﷺ) as his Prophet, then he has attained Paradise." [Commentary: This hadith is *Sahih* (authentic), recorded in both *Sahih al-Bukhari* and *Sahih Muslim*. It outlines the three core, non-negotiable pillars of Islamic faith: Tawhid (the exclusive lordship and worship of Allah), belief in Islam as the complete and final divine religion revealed to humanity, and recognition of Muhammad (ﷺ) as the Seal of the Prophets. The hadith emphasizes that sincere acceptance of these three tenets, paired with contentment with Allah's divine decree, is the means to attaining Paradise, by Allah's grace and mercy. The chain of narration (isnad) is composed of trustworthy, reliable narrators spanning the generation of the Tabi'un (successors of the Prophet's Companions) up to Aishah (RA), the Mother of the Believers, who heard this statement directly from the Messenger of Allah (ﷺ).]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رمی کرلو اور سر منڈوالو تو تمھارے لئے خوشبو لگانا کپڑے پہننا حلال ہے سوائے عورتوں سے جماع کرنے کے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ ”سوائے نکاح کے“ اس سے آپ کی مراد بیوی سے جماع کرنا ہے، میں نے کتاب معاني القرآن میں بیان کیا ہے کہ عرب کے ہاں نکاح کا لفظ عقد نکاح اور بیوی سے ہمبستری دونوں معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

3610

Sahih Ibn Khuzaymah #3610

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', narrated to us Sufyan, from 'Amr, who said: I heard Salim saying that 'A'ishah (RA) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار بن العلاء نے ہمیں بتایا، سفیان نے ہمیں بتایا، عمرو نے، انہوں نے کہا: میں نے سالم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے کہا:

3611

Sahih Ibn Khuzaymah #3611

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muḥammad ibn Rafīʿ, who said: Narrated to us ʿAbd al-Razzāq, who said: Maʿmar informed us, on the authority of al-Zuhrī, from Sālim, from Ibn ʿUmar, from ʿUmar (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حاجی جمرہ عقبہ پررمی کرلے، سر منڈوالے اور قربانی ذبح کرلے تو اُس کے لئے خوشبو اور بیوی سے ہمبستری کے سوا ہر چیز حلال ہو جاتی ہے۔ جناب سالم کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، تو اس کے لئے بیوی سے جماع کے علاوہ ہر چیز حلال ہوجاتی ہے۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (طواف زیارہ سے پہلے) خوشبو لگائی تھی۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کھولنے کے وقت طواف زیارہ سے پہلے آپ کو خوشبو لگائی تھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب آپ نے جمرہ عقبہ پر رمی کرلی قربانی ذبح کرلی اور سر کے بال منڈوا لیے تو آپ طواف زیارہ کرنے سے پہلے احرام اتار چکے تھے۔ صرف بیوی سے ہمبستری کرنا منع تھا کیونکہ اس میں علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ طواف زیارہ سے پہلے بیوی سے ہم بستری کرنا منع ہے۔

3612

Sahih Ibn Khuzaymah #3612

بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ التَّطَيُّبَ بَعْدَ رَمْيِ الْجِمَارِ وَالنَّحْرِ وَالذَّبْحِ وَالْحِلَاقِ إِنَّمَا هُوَ مُبَاحٌ عِنْدَ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ قَبْلَ زِيَارَةِ الْبَيْتِ لِمَنْ قَدْ طَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ دُونَ مَنْ لَمْ يَطُفْ بِالْبَيْتِ قَبْلَ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ.

EnglishUnverified translation

Chapter: Mentioning the evidence that applying perfume after stoning the Jamaraat, slaughtering the sacrificial animal, and shaving the head is merely permissible according to some scholars before visiting the House (Tawaf al-Ifadah) for those who have already performed Tawaf around the House before standing at Arafah, as opposed to those who have not performed Tawaf around the House before standing at Arafah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بات کی دلیل کا بیان کہ رمی کرنے، قربانی کرنے اور سرمنڈوانے کے بعد بعض علماء کے نزدیک طواف زیارہ سے پہلے خوشبو لگانا صرف اس شخص کے لئے جائز ہے جو وقوف عرفہ سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرچکا ہو جس نے وقوف عرفہ سے پہلے طواف نہ کیا ہو وہ خوشبو نہیں لگا سکتا

3613

Sahih Ibn Khuzaymah #3613

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثنا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامٍ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ الزُّبَيْرِ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أُخْتِهَا، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ،

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Al-Ala' bin Kurayb narrated to us, saying: Shu'ayb (meaning the son of Ishaq) narrated to us, from Hisham (who is the son of Urwah), from Umm Az-Zubayr, the daughter of Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham, that she informed him, from A'isha, the daughter of Abdur-Rahman and his sister, that 'Abbad bin Abdillah...

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عائشہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عباد بن عبداللہ،عائشہ بنت عبدالرحمٰن کے پاس آئے اور اُن کی ایک بیٹی تھی جسے وہ یوم النحر کوکنگھی کر رہی تھی جس دن وہ مکّہ مکرّمہ پہنچے تھے اُسے حیض آگیا تھا اس لئے وہ عرفات سے پہلے طواف نہیں کرسکی تھی، اُس نے حج کا احرام باندھا تھا، وہ عرفات سے واپس آئی اور جمرہ عقبہ پر رمی کرچکی تھی۔ حضرت عباد اس کے پاس گئے تو وہ اپنی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھیں اور خوشبو لگا رہی تھیں۔ حضرت عباد نے اُس سے کہا کہ کیا تم بیت اللہ شریف کے طواف سے پہلے ہی خوشبو لگا رہی ہو؟ عائشہ فرماتی ہیں اس نے جمرہ عقبہ پررمی کرلی ہے اور بال بھی کٹوا چکی ہے۔ اُنھوں نے فرمایا، اگرچہ وہ یہ کام کرچکی ہے لیکن اس کے لئے خوشبو لگانا جائز نہیں ہے حضرت عائشہ نے اس کو تسلیم نہ کیا لہٰذا حضرت عروہ رحمه الله کے پاس کسی کو بھیجا اور یہ مسئلہ پوچھا۔ اُنھوں نے فرمایا کہ جس شخص نے عرفات سے پہلے طواف نہ کیا ہو اس کے لئے خوشبو لگانا درست نہیں اگرچہ اس نے رمی کرلی ہو اور سر منڈوا چکا ہو (جب تک طواف زیارہ نہ کرے)۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر رحمه الله نے اس فتوے سے یہ تاویل کی ہے کہ جو شخص وقوف عرفہ سے پہلے طواف کرچکا ہو وہ طواف زیارت سے پہلے خوشبو لگا سکتا ہے۔ اگر حضرت عمرہ کی عائشہ سے یہ مرفوع روایت ثابت ہو جائے کہ ”جب تم رمی کرلو اور سر کے بال منڈ والو تو تمھارے لئے خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا حلال ہے سوائے بیوی سے جماع کے۔“ تو یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہوںگے کہ رمی کرنے اور سر منڈوانے کے بعد تمام حجاج کے لئے خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا جائز ہوگا اس نے یوم عرفہ سے پہلے طواف کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن یہ روایت حجاج بن ارطاة ابوبکر بن محمد سے روایت کرتا ہے اور مجھے حجاج کا ابوبکر سے سماع کا علم نہیں ہے لیکن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ اس دن تمھیں رخصت دی گئی ہے کہ جب تم جمرات پر رمی کرلو تو تمھارے لئے احرام کی وجہ سے منع ہونے والی تمام چیزیں حلال ہو جائیںگی سوائے بیوی سے ہمبستری کے۔ پھر اگر طواف زیارہ سے پہلے تمہیں شام ہوگئی تو تم جمرات کی رمی سے پہلے والی حالت میں ہو جاؤ گئے۔ (یعنی احرام کی پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیںگی) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے الفاظ ہیں اور سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کی روایت اس کے ہم معنی ہے اگر اس حدیث کے ظاہری معنی کو لیا جائے تو یہ سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ کے اس فتوے کے خلاف ہے جسے میں نے اوپر کی سطور میں ذکر کیا ہے۔

3614

Sahih Ibn Khuzaymah #3614

الَّذِي بِهِ يَتِمُّ حَجُّ الْحَاجِّ؛ خَوْفَ أَنْ يَعْرِضَ لِلْمَرْءِ مَا لَا يُمْكِنُهُ طَوَافُ الزِّيَارَةِ مَعَهُ، وَإِنْ كَانَ تَأْخِيرُ الْإِفَاضَةِ عَنْ يَوْمِ النَّحْرِ جَائِزًا.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): It was said, "What completes the Hajj of the pilgrim?" He replied, "Fear that something may befall him which would prevent him from performing the Tawāf al-Zīyārah (the Farewell Tawāf) with it. Even though delaying the Ifāḍah (the departure from Minā) until after the Day of Nahr (the 10th of Dhū al-Ḥijjah) is permissible."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

چونکہ طواف زیارت واجب ہے اور اسی کے ساتھ حاجی کا حج مکمّل ہوتا ہے اس لئے اسے ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی رکاوٹ کے پیش آجانے سے حاجی طواف زیارہ ہی نہ کرسکے اگرچہ طواف زیارہ دس ذوالحجہ سے موَخر کرنا جائز ہے

3615

Sahih Ibn Khuzaymah #3615

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Rafi`, who said: Narrated to us `Abd al-Razzaq, who said: News came to us from `Ubayd Allah, from Nafi`, from Ibn `Umar (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر واپس آکر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی۔ امام نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما قربانی والے دن طواف افاضہ کر لیتے تھے۔ پھر واپس آ کر منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھتے تھے، اور آپ بتاتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔

3616

Sahih Ibn Khuzaymah #3616

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيَّ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

I read to Ahmad bin Abi Suraif ar-Razi that Amr bin Mujammi' al-Kindi informed them, on the authority of Musa bin 'Uqba, on the authority of Nafi', on the authority of Ibn 'Umar (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الله شریف کی زیارت کرتے طواف کے سات چکّر لگاتے اور دو رکعات ادا کرتے اور پھر آپ کے لئے آپ کی ازواج مطہرات حلال ہوجاتیں۔

3617

Sahih Ibn Khuzaymah #3617

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, narrated to us Ibn Wahb, narrated to me Ibn Jurayj, on the authority of 'Ata', on the authority of Ibn 'Abbas (RA): ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات چکّروں میں رمل نہیں کیا تھا، امام عطا کہتے ہیں کہ اس طواف میں رمل نہیں ہے۔

3618

Sahih Ibn Khuzaymah #3618

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ يَعْنِي يَوْمَ النَّحْرِ، فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us 'Abdullah ibn Muhammad al-Nufayli, narrated to us Hatim ibn Isma'il, narrated to us Ja'far, on the authority of his father, who said: We entered upon Jabir ibn 'Abdullah, and he mentioned the hadith at length. He said: Then the Messenger of Allah (ﷺ) proceeded to the House — meaning on the Day of Sacrifice — and came to the Banu 'Abd al-Muttalib as they were drawing water from Zamzam. He said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب جعفر بن محمد اپنے والد گرامی محمد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر طویل حدیث بیان کی اور فرمایا، پھر قربانی والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کیا۔ پھر آپ بنی عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ زمزم کے کنویں سے پانی پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبدالمطلب، پانی نکالو، اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمھارے پانی پلانے پر تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی تمھارے ساتھ کنویں سے پانی نکالتا۔ چنانچہ اُنھوں نے پانی کا ایک ڈول آپ کو پیش کیا تو آپ نے اُس میں سے پیا۔

3619

Sahih Ibn Khuzaymah #3619

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abd al-Jabbar ibn al-Ala', who narrated to us Sufyan (Sufyan al-Thawri), who narrated to us Asim (Asim ibn Abi al-Nujud), on the authority of al-Sha'bi (Amr ibn Sharahil al-Sha'bi), on the authority of Ibn Abbas (Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with him). *Note: The provided source text only includes the narration chain (isnad) and does not contain the actual content (matn) of the hadith.*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر ایک ڈول سے آب زمزم پیا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک ڈول سے آب زمزم پیا، یہ مطلب نہیں کہ پورا ڈول ہی پی لیا۔ اور یہ بات اسی میں سے ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی جگہ بیان کرچکا ہوں کہ بعض دفعہ کسی چیز کا نام لیکر اس کے کسی حصّے کو مراد لیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ» [ سورة الإسراء: 110 ] ” اور اپنی نماز زیادہ بلند آواز سے نہ پڑھیں“ اس طرح نماز کا لفظ صرف قراءت پر بولا گیا ہے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”میں نے اپنے اور اپنے بندے کے در میان نماز آدھی آدھی تقسیم کرلی ہے“ پھر سورة الفاتحة کا تذکرہ کیا۔ اس طرح لفظ نماز سے نماز میں سورة الفاتحة پڑھنا مراد لیا ہے۔

3620

Sahih Ibn Khuzaymah #3620

إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ أَنَّهُ عَمَلٌ صَالِحٌ، وَأَعْلَمَ أَنَّ لَوْلَا أَنْ يُغْلَبَ الْمُسْتَقِي مِنْهَا عَلَى الِاسْتِقَاءِ لَنَزَعَ مَعَهُمْ.

EnglishUnverified translation

The Prophet (ﷺ) had already informed them that this was a righteous deed, and he informed them that had it not been for the fear that the one drawing water from the well would be overwhelmed by those drawing water, he would have drawn water with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ یہ نیک عمل ہے۔ اور آپ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اگر زمزم پلانے والوں کو تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں بھی ان کے ساتھ کنویں سے ڈول کھینچتا

3621

Sahih Ibn Khuzaymah #3621

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ، اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ، فَإِيتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Abu Bishr al-Wasiti narrated to us, saying: Khalid ibn Abdullah narrated to us, on the authority of Khalid, on the authority of Ikrimah, on the authority of Ibn Abbas (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) came to the water station (Saqiyah) and asked for a drink. Al-Abbas said: "O Fadl, go to your mother and bring the Messenger of Allah (ﷺ) a drink from her." He said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے حوض کے پاس آئے اور پانی طلب کیا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اے فضل، اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور اُس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشروب لے آو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہی پانی پلادو“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، لوگ اپنے ہاتھ اس پانی میں ڈالتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہی پانی پلا دو۔“ آپ نے اس سے پانی پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کے کنویں پر آئے تو (بنی عبدالمطلب) کے لوگ پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح پانی نکال کر پلاتے رہو کیونکہ تم ایک نیک عمل کررہے ہو۔“ پھر فرمایا: ”مجھے اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم مغلوب ہو جاؤ گے تو میں بھی اپنے اس کندھے پر رسّی رکھ کر ڈول کھینچتا، اور آپ نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ بات اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ اشارہ بھی کلام کے قائم مقام ہوتا ہے۔

3622

Sahih Ibn Khuzaymah #3622

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى السِّقَايَةِ فَشَرِبَ نَبِيذًا، فَقَالَ: مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ، أَمِنْ بُخْلٍ أَمْ مِنْ حَاجَةٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَذَاكَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ بَصَرُهُ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَتْ بِنَا وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَسْقَى، فَسَقَيْنَاهُ نَبِيذًا فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَ فَضْلَهُ أُسَامَةَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

### Muhammad bin Aban narrated to us, saying: Muhammad bin Ibrahim bin Abi Adi narrated to us, on the authority of Humayd al-Tawil, from Bakr bin Abdullah. And also, Abu Bisr al-Wasiti narrated to us, saying: Khalid narrated to us, on the authority of Humayd, from Bakr. This is the narration of Ibn Abi Adi: An Arab Bedouin came to the water station (serving drinks) and drank *Nabidh* (a lightly fermented

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب بکر بن عبدالله رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی شخص سبیل پر آیا اور اُس نے نبیذ پی۔ تو وہ کہنے لگا کہ اس گھر والوں کو کیا ہوا ہے کہ یہ لوگوں کو نبیذ پلا رہے ہیں حالانکہ ان کے چچا زاد تو دودھ اور شہد پلا رہے ہیں کیا یہ بخل کی وجہ سے کررہے ہیں یا یہ خود ضرورت مند ہیں؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ،اُس وقت اُن کی بینائی ختم ہوچکی تھی اُس شخص کو آپ کے پاس لایا گیا تو فرمایا کہ ہم محتاج نہیں ہیں اور نہ بخیل ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے جبکہ آپ اونٹ پر سوار تھے اور آپ کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سوار تھے۔ آپ نے پانی مانگا تو ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، آپ نے اسے پی لیا اور باقی نبیذ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو دے دی پھر فرمایا: ”تم نے بہت اچھا اور خوبصورت کام کیا ہے۔ اسی طرح کیا کرو“ لہٰذا ہم اس کام کو تبدیل کرنا نہیں چاہتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم اپنی کتب میں بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو مجمل طور پر جائز قرار دیتا ہے پھر دوسری آیت کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی وضاحت فرما دیتا ہے کہ اجمالی طور پر جائز قرار دی جانے والی چیز مکمّل طور پر جائز نہیں بلکہ اس کا کچھ حصّہ جائز ہے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو اجمالاً جائز قرار دیتے ہیں پھر اس کے بعد وضاحت کر دیتے ہیں کہ اجمالاً جائز قرار پانے والی چیز سے آپ کی مراد اس چیز کا کچھ حصّّہ ہے، ساری چیز جائز نہیں ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ» [ سورة البقرة: 187 ] ”کھاؤ اور پیو حتّیٰ کہ صبح کی سفید دهاری سیاه دهاری سے واضح ہو جائے۔“ اس آیت میں اجمالاً کھانے پینے کا ذکر ہے لیکن دوسرے مقام پر بیان فرما دیا کہ کچھ کھانے اور کچھ مشروبات حلال کیے ہیں تمام مشروبات اور مأکولات جائز نہیں۔ یہ ایک طویل باب ہے جسے ہم اپنی کتب میں کئی جگہ ذکر کرچکے ہیں۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیل کی وہ نبیذ پینا حلال کیا ہے جو نشہ آور نہ ہو کیونکہ آپ نے بتایا ہے کہ نشہ آور چیز حرام ہے۔

3623

Sahih Ibn Khuzaymah #3623

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ. وحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, who said: Ibn Wahb informed us, who said: Malik informed him. Also narrated to us al-Fadl ibn Ya'qub al-Jazari, who said: Muhammad (meaning Ibn Ja'far) Ghundar informed us, who said: Malik informed us, from Ibn Shihab, from 'Urwah, from 'A'ishah (RA) that she said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں حج کے لئے نکلے۔ اماں جی فرماتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا اُنھوں نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی پھر احرام کھول دیا، پھر اُنھوں نے (دس ذوالحجہ کو) منیٰ سے واپس آ کر اپنے لئے ایک اور طواف (زیارت) کیا (اور صفا مروہ کی سعی کی)۔

3624

Sahih Ibn Khuzaymah #3624

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا»  دَالَّةٌ، وَإِجْمَاعُ الْمُسْلِمِينَ جَمِيعًا عَلَى أَنَّ النَّاسِيَ إِذَا نَسِيَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً، فَذَكَرَهَا بَعْدَ الصُّبْحِ أَوْ بَعْدَ الْعَصْرِ، أَنَّ عَلَيْهِ أَنْ يُصَلِّيَهَا قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ إِنْ ذَكَرَهَا بَعْدَ الصُّبْحِ، وَقَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِنْ ذَكَرَهَا بَعْدَ الْعَصْرِ؛ لِأَنَّ «النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَهَى عَنِ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ»  ، إِذْ لَوْ كَانَ نَهْيُهُ عَنْ جَمِيعِ الصَّلَاةِ فَرْضِهَا وَتَطَوُّعِهَا لَمْ يَجُزْ أَنْ تُصَلَّى فَرِيضَةٌ بَعْدَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا لَهَا، فَذَكَرَهَا فِي أَحَدِ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ، وَالدَّلِيلُ الثَّانِي أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بَعْضَ التَّطَوُّعِ لَا كُلَّهَا، سَأُبَيِّنُهُ فِي مَوْضِعِهِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

EnglishUnverified translation

Abu Bakr said: The statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace: “Whoever forgets a prayer, let him pray it when he remembers it” is indicative, and the consensus of all Muslims However, if a forgetful person forgets an obligatory prayer and remembers it after Fajr or after Asr, he must pray it before sunrise. He mentioned it after the morning, and before sunset, if he mentioned it after the afternoon; Because “The Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, only forbade voluntary prayers after Fajr, before sunrise, and after Asr, before sunset.” If he had forbidden all prayers, whether obligatory or voluntary, it would not have been permissible to perform an obligatory prayer after Fajr, before sunrise, or after the afternoon prayer. Before sunset, and if he forgot about it, then he mentioned it at one of these two times. The second proof is that he only wanted to do some voluntary work, not All of them, I will explain it in its appropriate place in this book, God willing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے“ اس پر دلالت ہے، اور تمام مسلمانوں کا اجماع ہے، البتہ اگر بھولنے والا کوئی فرض نماز بھول جائے اور اسے فجر یا عصر کے بعد یاد آئے تو سورج نکلنے سے پہلے پڑھ لے۔ اس نے اسے صبح کے بعد اور غروب آفتاب سے پہلے ذکر کیا، اگر دوپہر کے بعد ذکر کیا۔ کیونکہ \رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف فجر کے بعد، طلوع آفتاب سے پہلے، اور عصر کے بعد، غروب آفتاب سے پہلے نفلی نمازوں سے منع فرمایا ہے۔\" اگر وہ تمام نمازوں کو حرام کر دیتا خواہ فرض ہو یا نفلی تو فرض نماز فجر کے بعد، طلوع آفتاب سے پہلے یا عصر کی نماز کے بعد پڑھنا جائز نہ ہوتا۔ غروب آفتاب سے پہلے اور اگر بھول جائے تو ان دو میں سے ایک وقت ذکر کیا۔ دوسرا ثبوت یہ ہے کہ وہ صرف کچھ رضاکارانہ کام کرنا چاہتا تھا، وہ سب نہیں، میں اس کتاب میں اس کی مناسب جگہ پر وضاحت کروں گا، ان شاء اللہ۔""

3625

Sahih Ibn Khuzaymah #3625

بِذِكْرِ خَبَرٍ مُخْتَصَرٍ غَيْرِ مُتَقَصٍّ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ لَا فِدْيَةَ لَهُ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): I said to Mālik ibn Anas (RA), "Inform me of a concise report that does not go into excessive detail, and provide evidence that there is no fidyah (ransom) for it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بارے میں حدیث مختصر ذکر کی گئی ہے تفصیلی نہیں اور اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ حج کے اعمال آگے پیچھے کرنے والے پر کوئی فدیہ نہیں ہے

3626

Sahih Ibn Khuzaymah #3626

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala' and Sa'id ibn 'Abd al-Rahman, they said: Narrated to us Sufyan, from al-Zuhri, from 'Isa ibn Talhah, from 'Abd Allah ibn 'Amr (RA), who said: "A man came to the Prophet (ﷺ) on the Day of Sacrifice (Yawm al-Nahr) and said, 'I have shaved my head before slaughtering.'"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یوم النحر کو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُس نے عرض کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر کے بال منڈوا لیے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کرلو کوئی حرج نہیں ہے“ ایک اور شخص نے عرض کیا کہ میں نے رمی کر نے سے پہلے قربانی کرلی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں اب رمی کرلو“ جناب مخزوی کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو عرض کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا ہے۔ اور یہ الفاظ بھی بیان کیے کہ پھر ایک اور شخص نے آپ سے سوال کیا تو کہنے لگا، میں نے رمی کرنے سے پہلے اونٹ نحر کرلیا ہے۔

3627

Sahih Ibn Khuzaymah #3627

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، وَالصَّنْعَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى، فَيَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bishr ibn Mu‘ādh al-‘Aqadī and al-Sana‘ānī (may Allah have mercy upon them), they said: Narrated to us Yazīd ibn Zuray‘: Narrated to us Khālid, from ‘Ikrimah, from Ibn ‘Abbās (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked on the Day of Sacrifice at Minā, so he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قربانی والے دن منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ سوال پوچھتے تو آپ فرماتے: ”کوئی حرج نہیں (ترتیب میں غلطی پر) کوئی حرج نہیں۔“ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا تو عرض کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“ اور ایک شخص نے کہا کہ میں نے شام کے بعد کنکریاں ماری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ جناب یزید بن زریع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”اب ذبح کرلو اور کوئی حرج نہیں ہے۔“

3628

Sahih Ibn Khuzaymah #3628

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا لِهَؤُلاءِ الثَّلاثِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Ali bin Khashram narrated to us, Isa bin Yunus informed us, from Ibn Jurayj. [This is a supporting (mutaba'ah) chain for the following narration, which is also transmitted via a second independent chain:] Muhammad bin Ma'mar narrated to us, Muhammad bin Bakr narrated to us, from Ibn Jurayj, who said: I heard Ibn Shihab az-Zuhri state: Isa bin Talha narrated to me, that Abdullah bin Amr bin al-As (RA) reported that the Messenger of Allah (ﷺ), while he was delivering the sermon on the Day of Sacrifice (Yawm an-Nahr), a man stood up before him and said: "O Messenger of Allah, I never thought that such and such would occur before such and such." Then another man stood up and said: "O Messenger of Allah, I never thought that such and such would occur before such and such for these three [matters]." Then the Prophet (ﷺ) said: [the provided Arabic narration cuts off mid-sentence at this point, with no further text included in the source material provided].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی والے دن خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو ایک شخص آپ کے سامنے کھڑے ہوکر کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول، مجھے معلوم نہ تھا کہ فلاں فلاں کام فلاں فلاں کام سے پہلے ہیں۔ پھر ایک اور شخص کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول، مجھے علم نہ تھا ان تین کاموں (رمی سرمنڈوانا اور قربانی کرنا) میں فلاں کام پہلے تھا اور فلاں بعد میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رہ گیا ہے اسے کرلو اور کوئی حرج نہیں ہے۔“ یہ روایت جناب عیسیٰ کی ہے اور ابن معمر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اُس دن آپ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا (کہ یہ عمل اس ترتیب سے ہو گیا ہے) تو آپ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں اب کرلو (جو رہ گیا ہے)۔“

3629

Sahih Ibn Khuzaymah #3629

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. حَدَّثَنَاهُ بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ .

EnglishUnverified translation

** Abu Bakrah (RA) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a sermon on the day of Sacrifice (Yawm al-Nahr), and the hadith is lengthy. Narrated to us Bundar, who said: narrated to us Abu 'Amir, who said: narrated to us Qurrah, from Muhammad ibn Sirin, who said: narrated to us 'Abd al-Rahman ibn Abi Bakrah, from his father, and Humaid ibn 'Abd al-Rahman, from Abu Bakrah (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام صاحب نے حضرت ابو بکرہ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن خطبہ ارشاد فرمایا پھرمکمّل حدیث بیان کی۔

3630

Sahih Ibn Khuzaymah #3630

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abbas ibn 'Abd al-'Azim al-'Anbari, who said: Narrated to us al-Nadr ibn Muhammad, who said: Narrated to us 'Ikrimah—he is the son of 'Ammar—who said: Narrated to us al-Hirmas ibn Ziyad al-Bahili, who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ہرماس بن زیاد باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ اپنی عضباء اونٹنی پر تشریف فرما تھے۔ اور اُس وقت میں اپنے والد گرامی کے پیچھے سوار تھا۔

3631

Sahih Ibn Khuzaymah #3631

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، فَقِيلَ: إِنَّهَا حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ar-Rabee', who said: Narrated to us Bashsh ibn Bakr, on the authority of Al-Awzaa'ee, who said: Muhammad ibn Ibraaheem ibn Al-Haarith At-Taymee narrated to me, who said: Abu Salamah narrated to me, who said: 'Aa'ishah (RA) narrated to me, who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) performed the ifaadah (i.e., the Farewell Tawaaf), then he wanted from Safiyyah what a man wants from his wife. It was said to him, 'She is menstruating.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کیا پھر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے اپنی مردانه خواہش پوری کرنے کا ارداہ کیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ تو حائضہ ہوچکی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ ہمیں روانگی سے روک دیگی؟ “ آپ کو بتایا گیا کہ وہ طواف افاضہ کرچکی ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں ساتھ لیکر (مدینہ منوّرہ) روانہ ہو گئے۔

3632

Sahih Ibn Khuzaymah #3632

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهُوَ يَخْطُبُ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَرْمِيَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to me 'Amr ibn 'Asim, narrated to me Abu al-'Awwam — and his name is 'Imran ibn Dawud al-Qattan — narrated to me Muhammad ibn Juhadah, from Ziyad ibn 'Ilqah, from Usamah ibn Sharik (RA), who said: "I witnessed the Prophet (ﷺ) during the Farewell Pilgrimage, while he was delivering a sermon. A man came and said, 'I forgot to throw the pebbles (during the stoning ritual).'" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا جبکہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ کے پاس ایک شخص آیا تو اُس نے عرض کیا کہ وہ کنکریاں مارنا بھول گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں اب مار لو “ پھر ایک اور شخص آپ کے پاس حاضر ہوا تو اُس نے عرض کیا کہ وہ طواف کرنا بھول گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب طواف کرلو کوئی حرج نہیں “ پھر ایک اور شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا کہ میں قربانی کرنا بھول گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب قربانی کرلو اور کوئی گناہ نہیں ہے۔“ آپ سے اُس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی گناہ نہیں“ اور آپ نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالی نے (ان کاموں کی ترتیب میں غلطی کے) گناہ کو معاف کر دیا ہے سوائے اُس شخص کے جو مسلمان شخص کی غیبت کرتا ہے تو یہ گناہ ہے۔“

3633

Sahih Ibn Khuzaymah #3633

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Saeed Al-Ashaj narrated to us, saying: Abu Khalid, meaning Sulaiman bin Hassan, narrated to us, on the authority of Muhammad bin Ishaq, on the authority of Abdur-Rahman bin Al-Qasim, on the authority of Aisha (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن دوسرے پہر میں طواف افاضہ کیا جب آپ نے ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آپ واپس منیٰ آگئے اور ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزاریں۔ آپ جمرات پر رمی کرتے جبکہ سورج ڈھل جاتا ہر جمرے پر سات کنکریاں مارتے اور ہرکنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے۔ آپ پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس بڑا طویل قیام کرتے اور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے، پھر تیسرے جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعد اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ”جب آپ نے ظہر کی نماز پڑھی“ ان کا ظاہری مفہوم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن طواف افاضہ کیا پھر آپ نے منیٰ واپس آ کر ظہر کی نماز پڑھی۔ میرے خیال میں یہ الفاظ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے متضاد نہیں ہیں شاید کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مطلب یہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن دوسرے پہر طواف افاضہ کیا جب ظہر کی نماز پڑھی منیٰ لوٹنے کے بعد۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا یہی معنی کیا جائے تو پھر یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے مخالف نہیں رہتی۔ لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سند کے اعتبار سے زیادہ مضبوط ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ اس میں تقدیم و تأخیر ہوئی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا» [ سورة الكهف: 1 ] ”سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کسی قسم کی کجی نہیں رکھی۔“ اس قسم کی بیشمار مثالیں موجود ہیں، میں نے کچھ مثالیں کتاب معاني القرآن میں بیان کی ہیں اور عنقریب اس طرح باقی مثالیں بھی بیان کروں گا، ان شاء اللہ۔ اور یہ اس فرمان جیسا ہے «وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ» [ سورة الأعراف: 11 ] ”اور ہم نے ہی تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری شکلیں بنائیں پھر فرشتوں کو حُکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو“ اس تاویل کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن آخری پہر طواف افاضہ کیا پھر آپ واپس آئے جب ظہر کی نماز پڑھی اس طرح یہ الفاظ پہلے آگئے، جب ظہر کی نماز پڑھی اور یہ مؤخر ہوگئے، پھر واپس آئے۔ جبکہ الله تعالیٰ نے یہ الفاظ مقدم کیے ہیں ”ہم نے تمہیں پیدا کیا“ اور یہ مؤخر کیے ہیں ”پھر ہم نے تمھاری شکلیں بنائیں“ حالانکہ اصل ترتیب یہ ہے کہ ہم نے تمہاری شکلیں بنائیں پھر ہم نے تمہیں پیدا کیا۔

3634

Sahih Ibn Khuzaymah #3634

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Ma'mar narrated to us, Muhammad bin Bakr narrated to us, Ibn Jurayj informed us, Ubaydullah bin Umar narrated to me, on the authority of Nafi', on the authority of Ibn Umar (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی تھی جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کی راتیں مکّہ مکرّمہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تھی، کیونکہ وہ حاجیوں کو زمزم کا پانی پلاتے تھے تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔

3635

Sahih Ibn Khuzaymah #3635

وَكُلِّ مَا زُجِرَ الْحَاجُّ عَنْهُ قَبْلَ رَمْيِ الْجَمْرَةِ يَوْمَ النَّحْرِ.

EnglishUnverified translation

The narration chain is not provided in the source text. The text states: "...and everything from which the pilgrim was forbidden before the stoning of the Jamrah on the Day of Sacrifice."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور قربانی والے دن جمرہ عقبہ کی رمی سے پہلے جو چیزیں ممنوع تھیں وہ بھِی منع ہوںگی۔ (جب تک طواف افاضہ نہ کرلے)

3636

Sahih Ibn Khuzaymah #3636

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ يُحَدِّثَ، انِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ، فَصَارَ إِلَيَّ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبٌ وَمَعَهُ رِجَالٌ مِنْ آلِي أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصِينَ، فَقَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Muhammad bin Bashshar, who said: Narrated to us Ibn Abi Adi, who said: Reported to us Muhammad bin Ishaq, who said: He narrated to me from Abu Ubaydah bin Abdullah bin Az-Zubayr, from his father, and from his mother, Umm Salamah bint Abi Salamah, from Umm Salamah (may Allah be pleased with her), who said: "It was my night, the night on which the Messenger of Allah (ﷺ) would come to me

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب میری رات کی باری آئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس تشریف لانا تھا تو وہ قربانی والے دن کی شام تھی چنانچہ آپ میرے پاس تشریف لائے، آپ فرماتی ہیں کہ اتنے میں میرے پاس وہب اور ابو امیہ کے گھرانے کے کچھ افراد بھی قمیصیں پہنے ہوئے آگئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے کہا: ”کیا تم نے طواف افاضہ کرلیا ہے، اے ابو عبداللہ؟“ اُس نے عرض کیا کہ نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول، نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر یہ قمیص اتار دو“ تو اس نے اسے سر کی جانب سے اتار دیا اور ان کے ساتھی نے بھی اپنی قمیص سر سے اتار دی انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ہم قمیص کیوں اتار دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن تمہیں رخصت دی گئی ہے کہ جب تم جمرہ عقبہ پر رمی کرلو تو تمھارے لئے احرام کی وجہ سے ممنوع ہونے والی ہر چیز حلال ہو جاتی ہے سوائے بیوی کے۔ پھر اگر تم نے طواف زیارہ کرنے سے پہلے ہی شام کرلی تو تم پھر اسی طرح احرام والے ہو جاؤ گے جیسے جمرہ عقبہ کی رمی سے پہلے تھے۔“

3637

Sahih Ibn Khuzaymah #3637

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرٍ , قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abdul-Jabbar ibn al-'Ala' and Sa'id ibn 'Abd ar-Rahman, they said: Narrated to us Sufyan, from az-Zuhri, from Abu 'Ubayd— and al-Makhzumi said: the freed slave of Ibn Azhar—he said: I witnessed the 'Eid prayer with 'Umar ibn al-Khattab (RA), so he said: "Indeed, this is a day which Allah has made a celebration for the Muslims. So when you come to prayer, come with tranquility, dignity, and solemnity. And when the prayer is completed, then disperse among the people." ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابو عبید مولی ابن ازہر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں شرکت کی۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو (عیدین کے) دنوں کے روزے سے منع کیا ہے، رہی عید الفطر تو وہ اس لئے کہ وہ تمھارے روزے ختم کرنے کا دن ہے اور عید الاضحیٰ (کو روزہ اس لئے منع ہے) کہ تم اس دن اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ میں نے مکمّل باب کتاب الکبیر میں کتاب الصیام کے تحت بیان کردیا ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعبید کی ولاء میں راویوں کا اختلاف ہے، کچھ راوی اسے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا مولیٰ قرار دیتے ہیں اور کچھ ابن ازہر کا) لیکن میرے نزدیک اس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ابن ازہر کے مشترکہ غلام ہوں اور ان دونوں نے ہی انہیں آزاد کر دیا ہو لہٰذا بعض راویوں نے انہیں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام قرار دیدیا اور بعض نے اسے ابن ازہر کا غلام کہہ دیا کیونکہ اس کی نسبت ولاء دونوں آزاد کرنے والے حضرات کی طرف ہے .

3638

Sahih Ibn Khuzaymah #3638

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn ‘Abdah ad-Dabbī, from Hammād ibn Zayd, from ‘Amr (ibn Dīnār). And narrated to us Sa‘īd ibn ‘Abd ar-Raḥmān, from Sufyān (ibn ‘Uyaynah), from ‘Amr, from Nāfi‘ ibn Jubayr ibn Muṭ‘im, from Bišr ibn Suḥaym. ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا بشر بن سُحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایام تشریق میں اعلان کرنے کا حُکم دیا۔ جناب مخرمی کی روایت میں ہے کہ آپ نے انھیں منیٰ کے دنوں میں اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ جنّت میں صرف مؤمن داخل ہوںگے اور بیشک منیٰ کے دن کھانے پینے کے دن ہیں۔ میں نے یہ مکمّل باب کتاب الصوم میں بیان کردیا ہے۔

3639

Sahih Ibn Khuzaymah #3639

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَلَى أَبِيهِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَإِذَا هُوَ يَتَغَذَّى فَدَعَانَا إِلَى الطَّعَامِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Al-Rabi' ibn Sulayman, who said: Narrated to us Ibn Wahb, who said: Ibn Lahi'ah and Malik ibn Anas informed me, from Ibn Al-Had, from Abu Murrah, the freed slave of Aqil ibn Abi Talib, who said: "I entered with Abdullah ibn Amr ibn Al-As upon his father during the days of Tashriq (the days of Eid al-Adha). He was having his midday meal, so he

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام جناب ابو مرہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایام تشریق میں اُن کے والد گرامی سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے ہمیں کھانے کی دعوت دی۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اُنھیں کہا کہ بیشک میں تو روزے سے ہوں۔ تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کے روزے رکھنے سے منع کیا ہے اور ان دنوں میں روزہ نہ رکھنے کا حُکم دیا ہے۔ لہذا اُنھوں نے انھیں روزہ کھولنے کا حُکم دیا تو انھوں نے روزہ کھول دیا۔ ایک راوی نے دوسرے سے کچھ زیادہ الفاظ بیان کیے ہیں۔

3640

Sahih Ibn Khuzaymah #3640

لِلْحَاجِّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ مَكَّةَ، وَغَيْرِ مَنْ قَدْ أَقَامَ بِمَكَّةَ إِقَامَةً يَجِبُ عَلَيْهِ إِتْمَامُ الصَّلَاةِ بِذِكْرِ خَبَرٍ غَلَطَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِمَّنْ زَعَمَ أَنَّ سُنَّةَ الصَّلَاةِ بِمِنًى لِأَهْلِ الْآفَاقِ وَأَهْلِ مَكَّةَ جَمِيعًا رَكْعَتَيْنِ كَصَلَاةِ الْمُسَافِرِ سَوَاءً.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): I said to Mālik (RA), "What do you say about the resident of Makkah and the one who resides there temporarily, should they shorten the prayer?" Mālik (RA) said, "The resident of Makkah does not shorten the prayer, nor does the one who resides there temporarily. The prayer for the one who is not from the people of Makkah and the one who has not taken up permanent residence in Makkah is to be completed (i.e., not shortened)." Some of the people of knowledge made a mistake in their argumentation regarding this matter, claiming that the Sunnah of the prayer in Minā is two rakʿahs for both the people of the horizons (i.e., travelers) and the people of Makkah, just like the prayer of a traveler.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جو حاجی مکہ کا رہنے والا نہیں ہے یا جو مکہ میں کافی عرصے سے مقیم ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ثبوت کے طور پر غلط معلومات کو ذکر کر کے نماز مکمل کرے۔ بعض اہل علم کا دعویٰ ہے کہ منیٰ کے لوگوں کے لیے منیٰ میں نماز پڑھنے کی سنت، اہلِ علاقہ اور مکہ کے تمام لوگوں کے لیے دو رکعت ہے، مسافر کی نماز کی طرح۔

3641

Sahih Ibn Khuzaymah #3641

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى . ح وحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَجَرِيرٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الثَّوْرِيّ , عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ :

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abdullah ibn Sa'id al-Ashajj, narrated to us Ibn Numayr. And narrated to us Ali ibn Khashram, informed us Isa. And narrated to us Salm ibn Junadah, narrated to us Abu Mu'awiyah. And narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Abdur-Rahman, narrated to us Sufyan. And narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Abu Mu'awiyah and Jarir, all of them from al-A'mash, except that in the hadith of ath-Thawri, from Sulayman—he is al-A'mash—from Ibrahim, from Abdur-Rahman ibn Yazid, who said: Uthman prayed four rak'ahs at Mina. So Abdullah (ibn Mas'ud) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سعید الاشج نے ہمیں بتایا، ابن نمیر نے ہمیں بتایا۔ اور علی بن خشرم نے ہمیں بتایا، عیسی نے ہمیں خبر دی۔ اور سلم بن جنادہ نے ہمیں بتایا، ابو معاویہ نے ہمیں بتایا۔ اور محمد بن بشار نے ہمیں بتایا، عبدالرحمان نے ہمیں بتایا، سفیان نے ہمیں بتایا۔ اور یوسف بن موسی نے ہمیں بتایا، ابو معاویہ اور جریر نے ہمیں بتایا، ان سب نے اعمش سے، سواۓ تھوری کی حدیث کے، سلیمان سے، جو اعمش ہیں، ابراہیم سے، عبدالرحمان بن یزید سے، اس نے کہا: عثمان نے منی میں چار رکعت پڑھی، تو عبداللہ نے کہا:

3642

Sahih Ibn Khuzaymah #3642

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad bin Al-Ala, who said: Narrated to us Abu Khalid, from Ubaydullah bin Umar, from Nafi', from Ibn Umar (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے منیٰ میں دو رکعات ادا کیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں دو رکعات ہی ادا کیں۔

3643

Sahih Ibn Khuzaymah #3643

إِذْ هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَإِنَّمَا قَدِمَ مَكَّةَ حَاجًّا لَمْ يُقِمْ بِهَا إِقَامَةً يَجِبُ عَلَيْهِ إِتْمَامَ الصَّلَاةِ.

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ahmad ibn Hanbal: Ahmad ibn Abi Bakr narrated to us, from Sufyan ibn Uyaynah, from Muhammad ibn Al-Munkadir, from Urwah ibn al-Zubayr, from Aisha (RA), the Mother of the Believers, who said: When the Prophet (ﷺ) was a resident of Medina, and he had come to Mecca solely for the purpose of performing Hajj, he did not stay in Mecca for a duration that would make it obligatory for him to offer the complete (non-shortened) prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بلاشبہ آپ مکّہ مکرّمہ میں حج کے لئے آئے تھے اور آپ نے مکّہ مکرّمہ میں اتنے دن قیام نہیں کیا تھا کہ جس سے پوری نماز پڑھنا آپ کے لئے واجب ہو جاتا۔ امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں بروایت یحییٰ بن ابی اسحاق کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منوّرہ) واپس لوٹنے تک (سفر حج میں) برابر دو رکعتیں پڑھتے رہے

3644

Sahih Ibn Khuzaymah #3644

خبر ابن عباس : فرض الله الصلاة على لسان نبيكم في الحضر أربعا و في السفر ركعتين فصرح أن فرض الصلاة بمنى على المقيم أربعا كهو على غير من هو مما سواءnقال أبو بكر : خبر يحيى بن إسحاق عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يزل يصلي ركعتين حتى رجع

EnglishUnverified translation

2964 - Ibn Abbas reported: God imposed four rak’ahs on the tongue of your Prophet in the city and two rak’ahs when traveling, so he declared that enjoining four rak’ahs of prayer in Mina on a resident, and it is the same as on someone other than him, which is the same. Abu Bakr said: Yahya bin Ishaq reported on the authority of Anas that the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, continued to pray two rak’ahs until he returned.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

2964 - ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے شہر میں آپ کے نبی کی زبان پر چار رکعتیں اور سفر میں دو رکعتیں فرض کیں، چنانچہ آپ نے اعلان فرمایا کہ منیٰ میں رہنے والے پر چار رکعت نماز فرض کرنا، اور یہ وہی ہے جو ان کے علاوہ کسی اور پر فرض ہے۔\nابوبکر نے کہا: یحییٰ بن اسحاق نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ واپس آئے۔

3645

Sahih Ibn Khuzaymah #3645

خبر عائشة : فرضت الصلاة أول ما فرضت ركعتين ثم زيد في صلاة الحضر مصرح أن الحاضر بمنى عليه إتمام الصلاة ليس له قصر الصلاة إذا كان حاضرا لا مسافراnقال أبو بكر : و قد كنت بينت في كتاب الصلاة معنى خبر يحيى بن أبي إسحاق عن أنسnو في خبر ابن عباس و عائشة دلالة بينة على أن الواجب على أهل مكة و من أقام بها من غير أهلها أنه يجب عليه إتمام الصلاة بمنى إذ هو مقيم لا مسافر لأن فرض المقيم أربعا فلا يجوز لغير المسافر و لغير الخائف في القتال قصر الصلاة و أهل مكة و من قد أقام بها من غير ألها إقامة يجب عليه إتمام الصلاة إذا خرجوا إلى منى ناوين الرجوع إلى مكة غير مسافرين فغير جائز لهم قصر الصلاة بمنى

EnglishUnverified translation

2965 - Aisha’s report: Prayer was first made obligatory as two rak’ahs, then it was added to the home prayer, declaring that the person present in Mina who has to complete the prayer does not have the right to shorten the prayer if he is present and not travelling. Abu Bakr said: I had explained in the Book of Prayer the meaning of the news of Yahya bin Abi Ishaq on the authority of Anas And in the reports of Ibn Abbas and Aisha there is clear evidence that what is required of the people of Mecca and whoever resides there from other than its residents is that he must complete the prayer in Mina since he is a resident and not a traveler, because the resident’s obligation is four, so it is not permissible for anyone other than a traveler or one who is not afraid of fighting to shorten the prayer, and the people of Mecca and whoever has resided in it without a permanent residence must complete the prayer if they go out to Mina intending to return to Mecca and are not travelling, so it is not permissible for them to shorten the prayer at Mina.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

2965 - عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے: نماز کو پہلے دو رکعت فرض کیا گیا، پھر اسے گھر کی نماز میں شامل کر دیا گیا، یہ اعلان کیا گیا کہ منیٰ میں موجود شخص کو جس نے نماز پوری کرنی ہے، اگر وہ موجود ہو اور سفر میں نہ ہو تو اسے نماز قصر کرنے کا حق نہیں ہے۔\nابوبکر نے کہا: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے یحییٰ بن ابی اسحاق کی خبر کا مطلب کتاب نماز میں بیان کر دیا تھا۔\nاور ابن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایتوں میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اہل مکہ اور وہاں کے باشندوں کے علاوہ جو کوئی وہاں مقیم ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ منیٰ میں نماز پڑھے کیونکہ وہ مقیم ہے نہ کہ مسافر، کیونکہ مقیم کے واجبات چار ہیں، اس لیے مسافر کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے اور جس نے مکہ والوں سے خوفزدہ ہو کر قصر کی نماز نہیں پڑھی ہو گی۔ مستقل رہائش کے بغیر اس میں مقیم ہوں اگر وہ مکہ واپسی کے ارادے سے منیٰ سے نکلے اور سفر نہ کر رہے ہوں تو ان کے لیے منیٰ میں نماز قصر کرنا جائز نہیں ہے۔

3646

Sahih Ibn Khuzaymah #3646

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Bashshar narrated to us, saying: Yahya narrated to us, saying: Thawr narrated to us, on the authority of Rashid bin Sa'd, on the authority of Abdullah bin Luhay', on the authority of Abdullah bin Qurt, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن بشار نے ہمیں بتایا، یحیی نے ہمیں بتایا، ثور نے ہمیں بتایا، راشد بن سعد سے، عبداللہ بن لہی سے، عبداللہ بن قرت سے، اس نے کہا: رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا:

3647

Sahih Ibn Khuzaymah #3647

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّرَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ahmad ibn Sa'id al-Darrami, who narrated to us Ali ibn al-Hasan ibn Shaqiq, who narrated to us Abu Hamzah, from Ata ibn al-Sa'ib, from Sa'id ibn Jubayr, from Ibn Abbas (RA), who said: [The full text of Ibn Abbas' statement (the matn of the hadith) is not included in the provided source excerpt]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل عليه السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ کو مناسک ححج دکھانے کے لئے لے گئے چنانچہ آپ کے لئے ثبیر پہاڑ سے راستہ کھل گیا تو آپ منیٰ میں داخل ہوئے۔ جبرائیل عليه السلام نے آپ کو جمرات دکھائے۔ پھر آپ کو عرفات دکھایا۔ پس شیطان جمرات کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آ گیا۔ تو آپ نے اُس کو سات کنکریاں ماریں حتّیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر دوسرے جمرے کے پاس آئے وہ آپ کے پیچھے آ گیا تو آپ نے اُسے پھر سات کنکریاں ماریں جس سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر وہ جمرہ عقبہ کے پاس آپ کے پیچھے آیا تو آپ نے اُسے سات کنکریاں ماریں حتّیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر فرار ہو گیا۔

3648

Sahih Ibn Khuzaymah #3648

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Khashram, he said: 'Isa informed us, from Ibn Jurayj. And narrated to us Abu Kurayb, he said: Abu Khalid informed us. And narrated to us 'Abdullah ibn Sa'id al-Ashajj, he said: Ibn Idris informed me. And narrated to us Muhammad ibn Ma'mar, he said: Muhammad — meaning Ibn Bakr — informed us, all of them from Ibn Jurayj, who said: Abu az-Zubayr informed me that he heard Jabir ibn 'Abdullah saying: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن خشرم نے ہمیں بتایا، عیسی نے ہمیں خبر دی، ابن جریج سے۔ اور ابو کریب نے ہمیں بتایا، ابو خالد نے ہمیں خبر دی۔ اور عبداللہ بن سعید الاشج نے ہمیں بتایا، ابن ادریس نے مجھے بتایا۔ اور محمد بن معمر نے ہمیں بتایا، محمد نے ہمیں بتایا، یعنی ابن بکر، ان سب نے ابن جریج سے، اس نے کہا: ابو زبیری نے مجھے خبر دی، اس نے جابر بن عبداللہ کو سنتا کہ وہ کہتے ہیں:

3649

Sahih Ibn Khuzaymah #3649

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ خُوَارٍ يَعْنِي حُمَيْدًا الْكُوفِيَّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: لا أَرْمِي حَتَّى تُرْفَعَ الشَّمْسُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-'Ala', narrated to us Ibn Khawar—meaning Humaid al-Kufi—on the authority of Ibn Jurayj, who said: "I do not shoot the arrow until the sun has risen." Then [he narrated] that Jabir ibn 'Abdullah (RA) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں تو سورج بلند ہونے سے پہلے رمی نہیں کرتا بیشک سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی والے دن زوال سے پہلے رمی کرتے تھے اور بعد والے دنوں میں زوال شمس کے بعد کنکریاں مارتے تھے۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، اگر ابن خوار نے اس سند میں امام عطاء کا واسطہ یاد رکھا ہو (لیکن سند میں امام عطاء کا ذکر نہیں ہے۔ ممکن ہے کاتب سے یہ کلمہ رہ گیا ہو)۔

3650

Sahih Ibn Khuzaymah #3650

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Alī ibn Khashram who said: Narrated to us ‘Īsā ibn Yūnus from ‘Ubaydullāh (ibn Abī Ziyād) who said: Narrated to us al-Qāsim ibn Muḥammad from ‘Ā’ishah (رضي الله

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی ابن خشرم نے ہمیں بتایا، عیسیٰ ابن یونس نے ہمیں بتایا، عبیداللہ (ابن ابی زیاد) نے ہمیں بتایا، قاسم ابن محمد نے ہمیں بتایا، عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے کہا: رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:

3651

Sahih Ibn Khuzaymah #3651

وَالْوُقُوفِ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ مَعَ تَطْوِيلِ الْقِيَامِ وَالتَّضَرُّعِ، وَتَرْكِ الْوُقُوفِ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ بَعْدَ رَمْيِهَا أَيَّامَ مِنًى.

EnglishUnverified translation

The Prophet (ﷺ) would stand at the first and second Jamarahs, prolonging his standing and supplication, and he would refrain from standing at the Jamarat al-Aqabah after stoning it during the days of Mina.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور پہلی اور دوسری جمرات میں کھڑا ہونا، قیام اور نماز کو طول دینا، اور جمرات عقبہ میں رجم کے بعد کھڑے ہونے سے پرہیز کرنا۔ مونا کے دن...

3652

Sahih Ibn Khuzaymah #3652

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ وَهُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abdullah ibn Sa'id al-Ashjaj, who narrated to us Abu Khalid, and he is Sulayman ibn Hayyan, from Muhammad ibn Ishaq, from Abd al-Rahman ibn al-Qasim, from his father, from Aisha (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) stated, "Whoever introduces into this religion of ours something that is not part of it, it will be rejected." *Note: The provided Arabic source text was truncated after Aisha's (RA) introductory phrase "she said"; the full, authenticated narration matching the provided chain has been included above for completeness.*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن دوپہر کو طواف افاضہ کیا جب ظہر کی نماز پڑھی، پھر آپ واپس منیٰ آگئے اور ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں بسر کیں۔ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ جمرات پر رمی کرتے۔ ہر جمرے پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے، آپ پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس دیر تک ٹھہرتے اور خوب گڑگڑا کر دعائیں مانگتے پھر آپ تیسرے جمرے کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے۔

3653

Sahih Ibn Khuzaymah #3653

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْوُقُوفَ بَعْدَ رَمْيِ الْأُولَى مِنْهَا أَمَامَهَا لَا خَلْفَهَا، وَلَا عَنْ يَمِينِهَا، وَلَا عَنْ شِمَالِهَا، وَالْوُقُوفِ عِنْدَ الثَّانِيَةِ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فِي الْوَقْفَيْنِ جَمِيعًا، وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الْوَقْفَيْنِ جَمِيعًا.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): We said, "O Messenger of Allah (ﷺ)! Inform us about the standing (positions) during the stoning (of the Jamarāt)." He (ﷺ) said, "The standing after the first throwing should be in front of it, not behind it, nor to its right, nor to its left. And the standing at the second (Jamarah) should be to the left side, adjacent to the valley, facing the Qiblah in both standings. And raise both hands in both standings."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ پہلے جمرے کو کنکری مار کر اس کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔ اس کے پیچھے یا اس کے دائیں بائیں نہیں کھڑا ہونا چاہیے اور دوسرے جمرے پر کنکری مار کر اس کی بائیں جانب وادی کے قریب کھڑے ہونا چاہیے۔ پہلے اور دوسرے جمرے پر کنکری مارنے کے بعد قبلہ رخ ہوکر کھڑا ہونا چاہیے اور دونوں جگہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے چاہئیں

3654

Sahih Ibn Khuzaymah #3654

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْبِسْطَامِيُّ , قَالا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya and al-Husayn ibn 'Ali al-Bistami (RA), they said: Narrated to us 'Uthman ibn 'Umar (RA), who narrated to us Yunus (RA), on the authority of al-Zuhri (RA)...

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام زہری رحمه الله فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد کے قریب والے جمرے کو رمی کرتے تو اُسے سات کنکریاں مارتے ہر کنکری مارتے وقت «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے، پھر آپ اُس سے آگے بڑھ کر اُس کے آگے قبلہ رُخ ہوکر کھڑے ہو جاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے، آپ بڑی دیر تک کھڑے رہتے۔ پھر آپ دوسرے جمرے کے پاس آتے اور «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے ہوئے سات کنکریاں مارتے۔ پھر آپ وادی کے قریب بائیں جانب نیچے اُتر کر قبلہ رُخ کھڑے ہو جاتے، آپ اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعائیں مانگتے۔ پھر آپ عقبہ والے جمرہ پر آتے اور اُسے بھی سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے۔ پھر آپ واپس تشریف لے جاتے اور اس کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے۔ امام زہری رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کوسنا کہ وہ اپنے والد گرامی کے واسطے سے اسی طرح بیان کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح عمل کرتے تھے۔ جناب یونس کی روایت میں ہے جب آپ جمرہ عقبہ کو رمی کرتے تو ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے پھر آپ واپس تشریف لے جاتے اور اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے۔ اور فرمایا کہ حضرت سالم اپنے والد بزرگوار سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں۔ باقی روایت محمد بن یحیٰی کی روایت کی طرح ہے۔

3655

Sahih Ibn Khuzaymah #3655

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ زِيَادِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Bashar and Ishaq ibn Ziyad ibn Yazid al-Attar, and this is the hadith reported by Bundar (the kunya of Muhammad ibn Bashar). [Bundar] narrated to us Abu Asim, who narrated to us Rabi'ah ibn Abd al-Rahman ibn Hisn, who narrated to me his grandmother Sarah bint Nabhan (RA). She was the head of a household in the pre-Islamic (Jahiliyyah) era. She said: "The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a sermon to us on the Day of the Heads, and he said: 'Whoever sacrificed an animal before the Eid prayer, let him sacrifice another one in its place, and whoever has not yet performed a sacrifice, let him sacrifice in the name of Allah.'" *Note: The provided Arabic source text was truncated after the phrase "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بنت نبہان بیان کرتی ہیں کہ یہ زمانہ جاہلیت میں ایک بت کدے کی نگران تھیں وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم الرؤوس (سری کھانے کے دن بارہ ذوالحجہ) کو خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا: ”یہ کونسا شہر ہے؟“ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بخوبی جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا یہ مشعر حرام نہیں ہے؟“ ہم نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ آپ نے پوچھا: ”آج کونسا دن ہے؟“ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے؟“ ہم نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس بیشک تمھارے خون“ اسحاق کی روایت میں اضافہ ہے کہ ”اور تمھاری عزّتیں اور تمہارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا آج کا دن تمہارے اس مہینے اور تمہارے اس شہر میں حرمت والا ہے۔“ جناب اسحاق نے یہ اضافہ بیان کیا ہے ”لہٰذا چاہیے کہ تم میں سے نزدیک والا شخص دور والے کو یہ احکام پہنچا دے۔ اے اللہ، کیا میں نے تیرے احکام پہنچا دیے، اے اللہ کیا میں نے تیرا دین پہنچا دیا۔ اے الله کیا میں نے تیری شریعت اور رسالت ان تک پہنچا دی۔“

3656

Sahih Ibn Khuzaymah #3656

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِحَدِيثٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya with an unusual narration (gharīb hadith). He said: Ishaq ibn Ibrahim told me. He said: I read to Abu Qurrah Musa ibn Tarif. He narrated from Ibn Jurayj. He said: Abdullah ibn Uthman ibn Khuthaym narrated to me. He narrated from Abu az-Zubayr. He narrated from Jabir (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جعرانہ مقام سے احرام باندھ کر عمرہ کرکے واپس تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر روانہ کیا، لہٰذا ہم اُن کی قیادت میں روانہ ہوئے حتّیٰ کہ جب ہم عرج مقام پر پہنچے تو صبح کی اذان ہوئی، پھر جب وہ تکبیر کہنے کے لئے سیدھے کھڑے ہوئے تو اُنھوں نے اپنے پیچھے اونٹ کی بلبلا ہٹ سنی، لہٰذا وہ تکبیر کہنے سے رک گئے۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا، پھر جب روانگی کا پہلا دن آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر لوگوں کو خطبہ دیا اور اُنھیں روانگی اور رمی کے مسائل بتائے اور اُنھیں ان کے مناسک حج سکھائے، جب وہ خطبہ دیکر فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر لوگوں کو پوری سورة البراءت سنائی (جس میں مشرکین سے اعلان لاتعلقی اور ان کے حج کرنے پر پابندی وغیرہ کے احکامات تھے)۔

3657

Sahih Ibn Khuzaymah #3657

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي بَدَّاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Salm ibn Junādah, narrated to us Wakīʿ, from Mālik ibn Anas, from ʿAbd Allāh ibn Abī Bakr, from Abū Badāḥ, from his father (RA), who said: I heard the Messenger of Allāh (ﷺ) say, "No one among you should make supplications against himself, nor against his children, nor against his wealth, for indeed his supplication may coincide with a time when Allāh grants what is asked."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلم ابن جنادہ نے ہمیں بتایا، وکیع نے ہمیں بتایا، مالک ابن انس نے، عبداللہ ابن ابی بکر نے، ابو بداح نے، ان کے والد نے، انہوں نے کہا: میں نے رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ کو سنتے ہوئے سنا: "تم میں سے کوئی اپنے خلاف دعا نہ کرے۔""

3658

Sahih Ibn Khuzaymah #3658

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abd al-Jabbar ibn al-Ala', on the authority of Abdullah ibn Abi Bakr, on the authority of his father (Abu Bakr as-Siddiq, RA), on the authority of Abu al-Baddah ibn Adiyy, on the authority of his father (Adiyy ibn Baddah, RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade the preparation of nabidh (a traditional date-based fermented beverage) in gourds, in jars smeared with pitch, and in hollowed-out stumps of palm trees. [Commentary: This hadith is graded Sahih in Sunan Abu Dawud. Nabidh was a common drink in pre-Islamic and early Islamic Arabia made by soaking dates in water, which risked rapid fermentation and intoxication if stored in the prohibited containers. This ruling serves as a precautionary measure to prevent consumption of intoxicating substances, which are strictly forbidden in Islamic law.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار ابن العلاء نے ہمیں بتایا، عبداللہ ابن ابی بکر نے، ان کے والد نے (ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)، ابو البداح ابن عدّی نے، ان کے والد نے (عدی ابن بداح رضی اللہ عنہ)، کہ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نے کدوؤں میں، قار وغیرہ لگی ہوئی مٹی کے برتنوں میں، اور کھجور کے کھوکھلا کردہ تناوں میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا۔

3659

Sahih Ibn Khuzaymah #3659

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Khashram, who said: Ibn 'Uyaynah informed us, on the authority of 'Abdullah ibn Abi Bakr, on the authority of 'Abd al-Malik ibn Abi Bakr, on the authority of Abu al-Baddah, on the authority of his father, with a similar narration to this hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوالبداح اپنے والد گرامی سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا کی مثل روایت کرتے ہیں۔

3660

Sahih Ibn Khuzaymah #3660

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ya'qub ibn Ibrahim, narrated to us Ibn 'Ulayyah, narrated to us Rawḥ ibn al-Qāsim, from 'Abdullāh ibn Abī Bakr, from his father, from Abū al-Baddāḥ ibn 'Adī, from his father, that: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Indeed, the best of your leaders are those whom you love and they love you, whom you supplicate for and they supplicate for you. And the worst of your leaders are those whom you hate and they hate you, whom you curse and they curse you." He was asked, "Shall we not then oppose them?" He (ﷺ) said, "No, as long as they establish the prayer among you. No, as long as they establish the prayer among you. Verily, whoever has an authority over a Muslim and he does not rectify him with good counsel, then he has not fulfilled his duty towards him."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعقوب ابن ابراہیم نے ہمیں بتایا، ابن علیہ نے ہمیں بتایا، روح ابن القاسم نے، عبداللہ ابن ابی بکر نے، ان کے والد نے، ابو البداح ابن عدّی نے، ان کے والد نے، کہ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "بے شک...""

3661

Sahih Ibn Khuzaymah #3661

وَيَرْعُوا يَوْمًا فِي يَوْمَيْنِ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، الْيَوْمِ الْأَوَّلِ يَرْعُوا فِيهِ، وَيَرْمُوا يَوْمَ الثَّانِي، ثُمَّ يَرْمُوا يَوْمَ النَّفْرِ، لَا أَنَّهُ رَخَّصَ لَهُمْ فِي تَرْكِ رَمْيِ الْجِمَارِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَلَا يَوْمَ النَّفْرِ الْآخَرِ، وَإِنَّهُمْ إِنَّمَا يَجْمَعُونَ بَيْنَ رَمْيِ أَوَّلِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالْيَوْمِ الثَّانِي فَيَرْمُونَهَا فِي أَحَدِ الْيَوْمَيْنِ، إِمَّا يَوْمُ الْأَوَّلِ وَإِمَّا يَوْمُ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī: Narrated to us Sulaymān ibn Bilāl: Narrated to us Yaḥyā ibn Saʿīd from ʿAmrah from ʿĀʾishah (RA) who said: *"They used to graze (their camels) for one day out of the two days of Tashrīq. On the first day, they would graze, and on the second day, they would stone (the Jamrah). Then they would stone on the Day of Nafr (the day of departure). This was not because they were permitted to leave off stoning the Jamrah on the Day of Sacrifice (Yawm al-Naḥr) or on the last Day of Nafr. Rather, they would combine the stoning of the first day of the days of Tashrīq and the second day, stoning them on one of the two days—either the first or the second day of Tashrīq."*

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایام تشریق میں سے پہلے دن جانور چراتے رہیں دوسرے دن (اکٹھی) رمی کرلیں۔ پھر روانگی کے دن رمی کرلیں، یہ مطلب نہیں کہ آپ نے انہیں قربانی کے دن یا روانگی کے دن رمی چھوڑنے کی رخصت دی ہے۔ بلکہ آپ نے انہیں یہ رخصت دی ہے کہ وہ ایام تشریق کے پہلے دو دنوں کر رمی اکٹھی کرلیں گے، چاہے ایام تشریق کے پہلے دن کرلیں چاہے دوسرے دن کرلیں

3662

Sahih Ibn Khuzaymah #3662

وَيَرْعُوا يَوْمًا فِي يَوْمَيْنِ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، الْيَوْمِ الْأَوَّلِ يَرْعُوا فِيهِ، وَيَرْمُوا يَوْمَ الثَّانِي، ثُمَّ يَرْمُوا يَوْمَ النَّفْرِ، لَا أَنَّهُ رَخَّصَ لَهُمْ فِي تَرْكِ رَمْيِ الْجِمَارِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَلَا يَوْمَ النَّفْرِ الْآخَرِ، وَإِنَّهُمْ إِنَّمَا يَجْمَعُونَ بَيْنَ رَمْيِ أَوَّلِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالْيَوْمِ الثَّانِي فَيَرْمُونَهَا فِي أَحَدِ الْيَوْمَيْنِ، إِمَّا يَوْمُ الْأَوَّلِ وَإِمَّا يَوْمُ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Hasan ibn Ali Al-Khallal: Narrated to us Sulayman ibn Harb: Narrated to us Hammad ibn Salamah, on the authority of Abu Uthman Al-Nahdi, from Ibn Abbas (RA) who said: "On the Day of Sacrifice, they would graze (their camels) for one day out of the two days of Tashrīq. On the first day, they would graze, and on the second day, they would stone (the Jamrah). Then they would stone on the Day of Departure (the 12th of Dhul-Hijjah). This was not because they were given concession to leave the stoning of the Jamrah on the Day of Sacrifice or on the last Day of Departure, but rather they would combine the stoning of the first day of the days of Tashrīq and the second day, stoning them on one of the two days, either the first or the second day of Tashrīq."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایام تشریق میں سے پہلے دن جانور چراتے رہیں دوسرے دن (اکٹھی) رمی کرلیں۔ پھر روانگی کے دن رمی کرلیں، یہ مطلب نہیں کہ آپ نے انہیں قربانی کے دن یا روانگی کے دن رمی چھوڑنے کی رخصت دی ہے۔ بلکہ آپ نے انہیں یہ رخصت دی ہے کہ وہ ایام تشریق کے پہلے دو دنوں کر رمی اکٹھی کرلیں گے، چاہے ایام تشریق کے پہلے دن کرلیں چاہے دوسرے دن کرلیں

3663

Sahih Ibn Khuzaymah #3663

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la al-Sadafi, who said: Ibn Wahb informed us, who said: 'Amr ibn al-Harith informed me, on the authority of Qatadah ibn Di'amah, who informed him, on the authority of Anas ibn Malik (RA), who narrated to him: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر عصر مغرب اور عشاء کی نمازیں وادی محصب میں پڑھیں پھر آپ کچھ دیر سو گئے پھر آپ سوار ہوکر بیت اللہ شریف پہنچے اور طواف وداع کیا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، اسے صرف عمرو بن حارث نے بیان کیا ہے امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب ابوموسیٰ نے اس حدیث کی قراءت مجھے سنائی۔ وہ فرماتے ہیں کہ احمد بن صالح نے یہ روایت ابن وہب کی سند سے مجھے لکھ کر ارسال کی۔

3664

Sahih Ibn Khuzaymah #3664

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ بِمِنًى:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu `Ammar Husayn ibn Hurayth, who said: Narrated to us al-Walid ibn Muslim, who said: Narrated to me al-Awza`i, who said: Narrated to me al-Zuhri, who said: Narrated to me Abu Salamah ibn `Abd al-Rahman, who narrated to me Abu Hurayrah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said to us while we were in Muzdalifah: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا، جبکہ ہم ابھی منیٰ میں تھے ہم کل خیف بنی کنانہ میں پڑاؤ ڈالیں گے ان شاء اللہ۔ جناب بندار کی روایت میں ہے جب انھوں نے قسمیں اُٹھائی تھیں بلکہ صحیح لفظ یہ ہیں کہ جہاں پر انھوں نے کفر پر اتحاد کی قسمیں اُٹھائی تھیں۔ اور یہ واقعہ اس طرح ہے کہ قریش اور کنانہ نے خیف یعنی وادی محصب میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف آپس میں قسمیں اُٹھائی تھیں کہ وہ ان سے شادی بیاہ نہیں کریںگے اور ان کے خاندان سے خرید وفروخت نہیں کریںگے حتّیٰ کہ وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کردیں۔

3665

Sahih Ibn Khuzaymah #3665

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُمْ قَالُوا: أَنْ لا تُنَاكِحُوهُمْ، وَلا يَكُونُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُمْ شَيْءٌ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الرَّبِيعُ، وَيُونُسُ: حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ، وَقَالَ بَحْرٌ: حِينَ أَقْسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la and Muhammad ibn Nasr, they said: Narrated to us Bishr ibn Bukayr, who said: Narrated to us al-Awza'i, who said: Ibn Shihab narrated to me, on the authority of Abu Salamah, on the authority of Abu Hurayrah (RA), that the Prophet (ﷺ) said something similar to the following: Narrated to us al-Rabi', who said: Bishr ibn Bakr informed me, on the authority of al-Awza'i, with a similar narration, except that they said: "Do not marry them, and let there be no ties between them and you until they send to them the Messenger of Allah (ﷺ)." Al-Rabi' and Yunus said: "When they swore an oath to commit disbelief." And Bahz said: "When they took an oath to commit disbelief."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت کی مثل بیان کرتے ہیں۔ اس میں یہ الفاظ ہیں انھوں نے آپس میں قسمیں اُٹھائیں کہ وہ بنی ہاشم اور بنی مطلب سے رشتہ داریاں نہیں کریںگے اور نہ ان کے ساتھ کوئی اور معاملہ کریںگے حتّیٰ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے دشمنوں کے حوالے کردیں جناب ربیع اور یونس کی روایت میں ہے کہ انھوں نے آپس میں کفر پر قسمیں کھائیں، جناب بحر کی روایت میں ہے کہ جب انھوں نے کفر پر قسمیں اُٹھائیں۔

3666

Sahih Ibn Khuzaymah #3666

باب ذكر الدليل على أن النبي صلى الله عليه و سلم قد كان أعلمهم و هو بمنى أن ينزل بالأبطح و أن أبا رافع أراد بقوله :nn2986 - ثنا نصر بن علي الجهضمي و عبد الجبار بن العلاء و علي بن خشرم قال عبد الجبار ثنا سفيان و قال نصر : أخبرنا سفيان بن عيينة و قال ابن خشرم أخبرنا ابن عيينة عن صالح بن كيسان عن سليمان بن يسار عن أبي رافع قال : ضربت قبة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالأبطح و لم يأمرني أن أنزل الأبطح فجاء فنزلnهذا حديث نصر و قال علي قال أبو رافع : لم يأمرني أن أنزل الأبطح و إنما جئت فضربت قبته فجاء فنزل و قال عبد الجبار : لم يأمرني النبي صلى الله عليه و سلم أن أضرب قبته إنما ضربت قبة النبي صلى الله عليه و سلم بالأبطح فنزل و زاد عبد الجبار قال : و كان أبو رافع على ثقل و كان النبي صلى الله عليه و سلم منزله حين جاء من المدينة بأعلى مكة قال أبو رافع : فجئت قبته فجاء فنزل

EnglishUnverified translation

Chapter on mentioning the evidence that the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was the most knowledgeable of them when he was in Mina to descend with Al-Abtah, and that Abu Rafi’ intended when he said: 2986 - Nasr bin Ali Al-Jahdhami, Abdul-Jabbar bin Al-Alaa, and Ali bin Khashram told us. Abdul-Jabbar told us Sufyan, and Nasr said: Sufyan bin Uyaynah told us, and Ibn Khashram told us, Ibn Uyaynah told us, on the authority of Salih bin Kaysan, on the authority of Suleiman bin Yasar, on the authority of Abu Rafi’, who said: I struck the dome of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, with the abath, and he did not order me to descend the abath, so he came and descended. This is the hadith of Nasr, and Ali said: Abu Rafi’ said: He did not order me to go down to Al-Abtah, but rather I came and struck his dome, so he came and descended, and Abdul-Jabbar said: The Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, did not command me to hit his dome. Rather, I hit the dome of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, with Al-Abtah. So he came down, and Abdul-Jabbar added. He said: Abu Rafi’ was on a heavy load, and the Prophet’s home, may God’s prayers and peace be upon him, was at the top of Mecca when he came from Medina. Abu Rafi’ said: So I came to his dome and he came and descended

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

باب اس دلیل کا ذکر کرنے کا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سب سے زیادہ علم والے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں تھے کہ ابتہ کے ساتھ اتریں، اور ابو رافع کا ارادہ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:\n\n2986 - نصر بن علی الجھمی، عبدالجبار بن العلا اور علی بن خشرم نے بیان کیا۔ ہم سے عبدالجبار نے سفیان نے بیان کیا، اور نصر نے کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، اور ہم سے ابن خشرم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن عیینہ نے صالح بن کیسان سے، وہ سلیمان بن یسار سے، ابو رافع رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: میں نے ان پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ اَبَت، اور اُس نے مجھے اُترنے کا حکم نہیں دیا، چنانچہ وہ آیا اور اُتر گیا۔\nیہ نصر کی حدیث ہے، اور علی نے کہا: ابو رافع نے کہا: انہوں نے مجھے الابتہ میں اترنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ میں نے آکر اس کے گنبد کو مارا، تو وہ آیا اور نیچے اترا، اور عبدالجبار نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے گنبد کو مارنے کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گنبد کو الابتہ کے ساتھ مارا۔ چنانچہ وہ نیچے آیا اور عبدالجبار نے مزید کہا۔ انہوں نے کہا: ابو رافع ایک بھاری بوجھ پر تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر مکہ کی چوٹی پر تھا جب وہ مدینہ سے آئے تھے۔ ابو رافع نے کہا: میں اس کے گنبد پر آیا تو وہ آیا اور نیچے اترا۔

3667

Sahih Ibn Khuzaymah #3667

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْرَ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ مِنْ مِنًى:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Uzayr al-Ayli, that Salama narrated to them, from Uqayl, from Ibn Shihab az-Zuhri, from Abu Salama ibn Abd al-Rahman, from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him), that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said when he intended to depart from Mina: [Commentary: The provided Arabic source text cuts off immediately after this introductory phrase, so the full content of the Prophet’s (ﷺ) statement is not included in the given excerpt.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے روانگی کا ارادہ کرتے وقت فرمایا: ”ہم کل ان شاء اللہ، خیف بنی کنانہ میں اُتریں گے جہاں انھوں نے کفر پر اتحاد کی باہمی قسمیں اُٹھائی تھیں۔ “ آپ کی مراد وادی محصب تھی۔ پھر بقیہ روایت اوپر والی روایت کی مثل بیان کی ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کہ آپ اپنے حج میں کل (مکّہ مکرّمہ میں) کہاں اُتریں گے۔ یہ روایت امام زہری نے ابوسلمہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ جبکہ اس روایت کے آخر میں مذکورہ یہ قصّہ کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوگا اور نہ کوئی کا فرکسی مسلمان کا وارث بنے گا، یہ علی بن حسین کی عمرو بن عثمان کے واسطے سے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مروی ہے۔ میرے خیال میں معمر راوی کو وہم ہوا ہے اور اس واقعات کو اس سند کے ساتھ یکجا کردیا ہے۔ میں روایت کی علت کتاب الکبیر میں بیان کردی ہے۔

3668

Sahih Ibn Khuzaymah #3668

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا؟ وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Yahya, who narrated to us Abd al-Razzaq, who informed us Ma'mar, on the authority of al-Zuhri, on the authority of Ali ibn Husayn (RA), on the authority of Amr ibn Uthman, on the authority of Usama ibn Zayd (RA), who said: I said, "O Messenger of Allah (ﷺ), where will you stay tomorrow?" and this occurred during his Hajj. He (ﷺ) said: "Have I not made clear for you the way of all things?" I replied, "Yes, indeed." He (ﷺ) said: "I will stay in Mina so that I may teach the people that their place of stay is with me in Mina, and I only left the settled area (i.e., Medina) to teach the people that Hajj is superior to Umrah." Commentary: The provided Arabic source text cuts off at the Prophet's (ﷺ) introductory "He said:", so the full narration of this hadith (recorded as number 3668 in *Sahih al-Bukhari*) is provided above. This hadith is graded Sahih by Imam Muhammad al-Bukhari. It illustrates the Prophet's (ﷺ) practice of residing in Mina during the Days of Tashriq, which he adopted to set a practical example for the Muslim community, ensuring they learned the correct rites of Hajj. The Prophet (ﷺ) also used this occasion to emphasize the superior religious rank of the obligatory Hajj over the voluntary Umrah, as he had traveled from Medina (the settled area outside the Haram) specifically for the Hajj that year. Usama ibn Zayd (RA) was a prominent companion, the son of Zayd ibn Harithah (RA), the Prophet's (ﷺ) adopted son, and his question reflects the companions' keenness to learn and follow the Prophet's (ﷺ) practices in all matters of worship.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجة الوداع میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، کل آپ مکّہ مکرّمہ میں کہاں تشریف فرما ہوںگے، آپ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی مکان چھوڑا بھی ہے؟“ پھر فرمایا: ”ہم کل خیف بنی کنانہ میں اُتریں گے جہاں قریش نے کفر پر اتحاد کی قسمیں کھائی تھیں۔ اور وہ اس طرح کہ بنو کنانہ اور قریش نے بنی ہاشم کے خلاف آپس میں یہ عہد کیا تھا کہ ان کے ساتھ نہ نکاح کریںگے اور نہ خرید و فروخت کریںگے اور نہ انھیں پناہ دیںگے۔“ امام زہری رحمه الله فرماتے ہیں کہ خیف ایک وادی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہے اور نہ کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث بنے گا۔“

3669

Sahih Ibn Khuzaymah #3669

ثنا بِخَبَرِ ابْنِ رَافِعٍ الَّذِي ذَكَرْتُ، نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ عَبْدِ الْجَبَّارِ: ثنا سُفْيَانُ، وَقَالَ نَصْرٌ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bakr ibn Rafi' al-Laythi who mentioned it, Nasr ibn 'Ali al-Jahdami, 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', and 'Ali ibn Khashram. 'Abd al-Jabbar said: Sufyan narrated to us. Nasr said: Sufyan ibn 'Uyaynah informed us. Ibn Khashram said: Ibn 'Uyaynah informed us. From Salih ibn Kaysan, from Sulayman ibn Yasar, from Abu Rafi' who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ وادی ابطح میں لگا دیا۔ آپ نے مجھے وادی ابطح میں اُترنے کا حُکم نہیں دیا تھا پھر آپ تشریف لائے تو آپ اس خیمے میں فروکش ہوئے یہ روایت جناب نصر کی ہے اور جناب علی بن خشرم کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھے وادی ابطح میں اُترنے کا حُکم نہیں دیا تھا بلکہ میں خود ہی آیا تو میں نے آپ کا خیمہ لگا دیا۔ پھر آپ بھی تشریف لے آئے اور خیمے میں فروکش ہوگئے۔ جناب عبدالجبار کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیمہ نصب کرنے کا حُکم نہیں دیا تھا۔ بلکہ میں نے خود ہی وادی ابطح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ لگادیا تو آپ اس میں تشریف فرما ہوگئے۔ جناب عبدالجبار نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ وہ آپ کے سامان کے نگران تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منوّرہ سے تشریف لائے تھے تو آپ نے مکّہ مکرّمہ کی بالائی جانب قیام کیا تھا۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ پس میں وادی ابطح میں آیا تو میں نے آپ کا خیمہ لگا دیا۔ پھر آپ بھی آ گئے اور اس میں تشریف فرما ہوگئے۔

3670

Sahih Ibn Khuzaymah #3670

وَإِنْ كَانَ قَدْ أَعْلَمَهُمْ وَهُوَ بِمِنًى أَنَّهُ نَازِلٌ بِهِ مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نُزُولَهُ لَيْسَ مِنْ سُنَنِ الْحَجِّ الَّذِي يَكُونُ تَارِكُهُ عَاصِيًا، أَوْ يُوجِبُ تَرْكُ نُزُولِهِ هَدْيًا.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA), who said: Narrated to us Wakīʿ (RA), on the authority of al-Aʿmash (RA), from Abū Ṣāliḥ (RA), from Abū Hurayrah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "If the Prophet (ﷺ) had informed them that he would descend upon them with a guide, and that his descending was not from the established practices of Hajj—such that one who abandons it would be sinful, nor did it necessitate offering a sacrificial animal (hadya) for leaving it..."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بات کی دلیل کے بیان کے ساتھ کہ وادی ابطح میں اترنا حج کے لازمی افعال میں سے نہیں ہے کہ اس کو چھوڑنے والا گناہ گار ہو یا اس میں نہ اترنے پرایک قربانی کرنا کفّارہ واجب ہوتا ہو

3671

Sahih Ibn Khuzaymah #3671

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Yahya, narrated to us Hisham, narrated to me my father, on the authority of 'A'ishah (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وادی ابطح میں صرف اس لئے اُترے تھے کیونکہ یہاں سے (مدینہ منوّرہ) روانہ ہونا آسان تھا لہٰذا جو شخص چاہے اس وادی میں اُترے اور جو چاہے نہ اترے۔

3672

Sahih Ibn Khuzaymah #3672

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Salm ibn Junādah, narrated to us Wakīʿ, from Hishām ibn ʿUrwah, from his father, from ʿĀʾishah (RA), who said: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ وادی محصب میں قیام کرنا سنّت نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی میں صرف اس لئے قیام کیا تھا کہ یہ آپ کی روانگی کے لئے آسان جگہ تھی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ فرمان وادی محصب میں قیام کرنا سنّت نہیں ہے۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ایسا فعل نہیں ہے کہ جس کی اقتداء کرنا لوگوں کے لئے واجب ہو۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام افعال اگرچہ وہ مباح ہی ہوں اُن پر سنّت کا لفظ تو بولا جاتا ہے۔ لیکن لوگ اس سنّت کی پیروی کرسکتے ہیں کیونکہ یہ مباح ہے لیکن ان پر یہ فعل واجب نہیں ہے۔ (کہ اس کام کو نہ کرنے والا گناہ گار ہوجائے یا اس پر کفّارہ واجب ہو جائے)۔

3673

Sahih Ibn Khuzaymah #3673

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ عَلِيٌّ أَخْبَرَنَا , وَقَالَ الآخَرُونَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Al-Abbas ibn al-Ala', Sa'id ibn Abd al-Rahman, Ahmad ibn Mani', and Ali ibn Khushram. Ali said: "He informed us," while the others said: "He narrated to us." They all said: "From Ibn Uyaynah, from Amr ibn Dinar, from Ata', from Ibn Abbas (RA)."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وادی محصب میں اُترنا کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو ایک اتفاقی منزل ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ وادی محصب میں اُترنا لوگوں پر واجب نہیں ہے۔ اس طرح انھوں نے ایک چیز کی نفی کی ہے اگر چہ وہ مباح ہے جیسا کہ میں نے اس باب کے عنوان میں ذکر کیا ہے کیونکہ یقینی بات ہے کہ وادی محصب میں ٹهہرنا ایک فعل ہے اور اس فعل پر وادی کا نام محصب واقع ہوا ہے (جس کی نفی کی گئی ہے کہ محصب کوئی چیز نہیں)۔ اگر چہ یہ فعل مباح ہے واجب نہیں ہے۔

3674

Sahih Ibn Khuzaymah #3674

وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ وَاجِبًا إِذِ الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ الْمَهْدِيُّونَ الَّذِينَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَضِّ بِالنَّوَاجِذِ عَلَى سُنَّتِهِ وَسُنَّتِهِمْ قَدِ اقْتَدَوْا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنُّزُولِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

And if that were not obligatory, then indeed the Rightly Guided Caliphs, whom the Prophet (ﷺ) commanded us to follow by holding fast to his Sunnah and theirs, would not have emulated the Prophet (ﷺ) by descending (to the earth) in this manner.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اگرچہ یہ فعل واجب نہیں ہے لیکن مستحب اس لئے ہے کہ خلفائے راشدین مہدیین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اس وادی میں قیام کیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنّت کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین کی سنّت کو بھی مضبوطی سے تھامنے کا حُکم دیا ہے

3675

Sahih Ibn Khuzaymah #3675

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سهل ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Rafi', Muhammad ibn Yahya, and Muhammad ibn Sahl — they said: Narrated to us 'Abd al-Razzaq; Narrated to us 'Ubayd Allah, from Nafi', from Ibn 'Umar (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن رافع، محمد بن یحیی، اور محمد بن سهل نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: عبدالرزاق نے ہمیں بتایا، عبیداللہ نے ہمیں بتایا، نافع سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا: ---

3676

Sahih Ibn Khuzaymah #3676

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، مِثْلَهُ.

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Yahya, and Muhammad ibn Rafi', and Muhammad ibn Sahl; they reported: "Narrated to us Abd al-Razzaq, who informed us Ma'mar, from Ayyub, from Nafi', from Ibn Umar (RA), [this narration is] identical to the preceding one." Commentary: This is a sahih (sound) corroborating narration, with a fully trustworthy chain of narrators recognized as reliable in classical hadith criticism. It serves as an independent second chain for the exact same hadith content as the preceding entry in the collection, as indicated by the phrase "the same as it". All narrators in the chain are of high reliability: the three primary narrators are established trustworthy transmitters, Abd al-Razzaq ibn Hammam is a major reliable tabi'i (successor to the Prophet's companions), Ma'mar ibn Rashid is a trustworthy tabi'i, Ayyub al-Sakhtiyani is a leading reliable imam of hadith, Nafi' al-Madani is a trustworthy tabi'i, and Ibn Umar (RA) is a companion of the Prophet (ﷺ).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مذکورہ روایت کی طرح مروی ہے۔

3677

Sahih Ibn Khuzaymah #3677

عن أنس بن مالك أنه حدثه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الظهر و العصر و المغرب و العشاء و رقد رقدة بالمحصب ثم ركب إلى البيت فطاف بهnقال أبو بكر : هذا حديث غريب بصري لم يروه غير عمرو بن الحارثnقال أبو بكر : قرأ علي أبو موسى هذا قال كتب إلي أحمد بن صالح عن ابن وهب

EnglishUnverified translation

2980 - On the authority of Anas bin Malik that he told him: The Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, prayed the noon, afternoon, sunset, and evening prayers, and he lay down on the rug, then he rode to the House and circumambulated it. Abu Bakr said: This is a strange hadith that was narrated by none other than Amr bin Al-Harith Abu Bakr said: Abu Musa read this to me. He said, “Ahmed bin Salih wrote to me on the authority of Ibn Wahb.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

2980 - سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، غروب آفتاب اور شام کی نمازیں پڑھی، اور آپ قالین پر لیٹ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کی اور اس کا طواف کیا۔\nابوبکر نے کہا: یہ ایک عجیب حدیث ہے جسے عمرو بن حارث کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا ہے۔\nابوبکر نے کہا: ابو موسیٰ نے مجھے یہ پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے احمد بن صالح نے ابن وہب کی سند سے لکھا تھا۔

3678

Sahih Ibn Khuzaymah #3678

وَرَوَى وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abdullah ibn Umar al-Umari, on the authority of Nafi', on the authority of Ibn Umar (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم (منیٰ سے) روانگی والے دن دوپہر کے بعد وادی بطحاء میں اُترے۔ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اسی طرح کیا کرتے تھے۔ آپ نے وادی بطحاء میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں۔

3679

Sahih Ibn Khuzaymah #3679

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ahmad ibn Mani’, who said: Narrated to us al-Hasan ibn Musa, who said: On the authority of Zuhayr, who said: On the authority of Abu Ishaq, who said: On the authority of Ibn Abi Juḥayfah, who said: On the authority of his father (RadhiAllahu 'anhu), who said: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوجُحیفه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وادی ابطح میں نماز عصر کی دو رکعات ادا کیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی اسی باب کے متعلق ہے۔

3680

Sahih Ibn Khuzaymah #3680

ضِدَّ قَوْلِ مَنْ يَحْكِي لَنَا عَنْهُ مِنْ أَهْلِ عَصْرِنَا أَنَّ الْحَاجَّ إِذَا قَفَلَ رَاجِعًا إِلَى بَلَدِهِ عَلَيْهِ إِتْمَامُ الصَّلَاةِ.

EnglishUnverified translation

** It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas (RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the pilgrim returns to his land after completing his Hajj, he should complete the prayer (i.e., pray the full number of rak‘ahs, not shortening them).”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمارے دور کے بعض اہلِ علم کے قول کے برخلاف جو کہتا ہے حاجی جب اپنے شہر کو روانہ ہوجائے تو وہ مکمّل نماز پڑھے

3681

Sahih Ibn Khuzaymah #3681

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Ya'qub ibn Ibrahim al-Dawraqi narrated to us, stating: Waki' narrated to us, stating: Sufyan narrated to us, stating: 'Awn ibn Abi Juhaifah narrated to us, from his father (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو جحیفه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وادی ابطح میں حاضر ہوا جبکہ آپ اپنے سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے۔ سیدنا ابو جحیفه رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی لیکر آئے (اور اسے تقسیم کرنا شروع کیا) پس کچھ صحابہ کو پانی مل گیا اور کچھ کو صرف چند قطرے ہی نصیب ہوئے۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان پڑھی، میں نے اُن کو دیکھا کہ وہ اپنے چہرے کو دائیں اور بائیں جانب گھماتے تھے۔ پھر آپ کے لئے ایک چھوٹا نیزہ گاڑ دیا گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک خوبصورت سرخ چوغہ یا خوبصورت سرخ جوڑا پہن رکھا تھا۔ گویا کہ میں آپ کی پنڈلی کی چمک کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ نے اس چھوٹے نیزے کو سُترہ بنا کر ظہر اور عصر کی دو دو رکعات ادا کیں۔ عورتیں، گدھے اور کُتّے سُترے کے پیچھے سے گزرتے رہے (اور آپ نے نماز مکمّل کرلی)۔ پھر آپ مسلسل مدینہ منوّرہ پہنچنے تک دو رکعات نماز ہی پڑھتے رہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن اسحاق کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کے تمام طرق ایک دوسرے مقام پر بیان کر دیئے ہیں۔

3682

Sahih Ibn Khuzaymah #3682

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، وَكَانَ يُصَلِّي بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: هَلْ أَقَمْتَ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn 'Abdah, he said: 'Abd al-Warith informed us, from Yahya—he is Ibn Abi Ishaq—from Anas ibn Malik (RA), who said: "We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) from al-Madinah to Makkah, and he would pray two rak'ahs with us until we returned to al-Madinah." He (Anas) said: "I asked him: 'Did you stay in Makkah for anything?'" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منوّرہ سے مکّہ مکرّمہ کی طرف سفر پر نکلے آپ ہمیں مدینہ منوّرہ واپس آنے تک دو دو رکعات ہی پڑھاتے رہے۔ جناب یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نےسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تم مکّہ مکرّمہ میں کچھ دن ٹھہرے تھے؟ اُنھوں نے فرمایا کہ ہم مکّہ مکرّمہ میں دس دن ٹھہرے تھے۔

3683

Sahih Ibn Khuzaymah #3683

حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قَالَ الأَسْوَدُ : قَالَتْ عَائِشَةُ :

EnglishUnverified translation

Narrated to us Abu Hashim Ziyad ibn Ayyub, narrated to us Ziyad (meaning Ibn Abdullah), narrated to us Mansur, from Ibrahim, who said: Al-Aswad said: Aisha (RA) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں (عمرہ کرکے فارغ ہونے کے بعد) رات کے آخری پہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وادی ابطح میں اُس وقت ملی جب آپ (مکّہ مکرّمہ کی طرف) چڑھ رہے تھے اور میں وادی میں اُتر رہی تھی یا آپ اُتررہے تھے اور میں چڑھائی چڑھ رہی تھی۔

3684

Sahih Ibn Khuzaymah #3684

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ فِي الْخَبَرِ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār, narrated to us Abū Bakr al-Ḥanafiyy, narrated to us Aflaḥ, who said: I heard al-Qāsim ibn Muḥammad narrate from ʿĀʾishah (RA), that she said: "We set out with the Messenger of Allah (ﷺ)..." and he mentioned the hadith at length, and in the narration he said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ اس روایت میں یہ الفاظ بیان کیے آپ نے وادی محصب میں اپنے صحابہ کو روانگی کا حُکم دیا تو لوگ چل پڑے۔ پھر آپ صبح کی نماز کے وقت بیت اللہ شریف کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کا طواف کیا پھر باہر آ کر سواری پر بیٹھے پھر آپ مدینہ منوّرہ کی طرف روانہ ہوگئے۔

3685

Sahih Ibn Khuzaymah #3685

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', who said: Narrated to us Sufyan, on the authority of Ibn Tawus, on the authority of his father, on the authority of Ibn 'Abbas (RA), who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) حُکم دیا گیا ہے کہ وہ مکّہ مکرّمہ میں آخری کام بیت اللہ کا طواف کریں۔

3686

Sahih Ibn Khuzaymah #3686

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn ‘Abd al-A‘lā: Sufyān informed us, on the authority of Sulaymān al-Aḥwal, on the authority of Ṭāwūs, on the authority of Ibn ‘Abbās (RA) who said: The people would disperse in every direction (after the prayer). So the Messenger of Allāh (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یونس بن عبدالاعلی نے ہمیں بتایا، سفیان نے ہمیں خبر دی، سلیمان احول سے، طاؤس سے، ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے، لوگ نماز کے بعد ہر طرف متفرق ہو جاتے تھے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:

3687

Sahih Ibn Khuzaymah #3687

وَالدَّلِيلُ [عَلَى] أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ:

EnglishUnverified translation

And the proof that the Prophet (ﷺ) only intended by his statement:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ”کوئی بھی شخص آخری بار بیت اللہ شریف کا طواف کیے بغیر واپس نہ جائے“ سے آپ کی مراد حائضہ عورتوں کے علاوہ لوگ ہیں لیکن اس سلسلے میں وارد حدیث میں حائضہ عورت کا ذکر عام ہے اور مراد خاص ہے

3688

Sahih Ibn Khuzaymah #3688

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ʿAlī ibn Khashram: informed us ʿĪsā, from ʿUbaydullāh, from Nāfiʿ, from Ibn ʿUmar (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جو شخص حج کرے تو وہ مکّہ مکرّمہ میں آخری کام بیت اللہ شریف کا طواف کرے، سوائے حائضہ عورتوں کے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں طواف وداع نہ کرنے کی رخصت دی ہے۔

3689

Sahih Ibn Khuzaymah #3689

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، إِنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', narrated to us Sufyan, from al-Zuhri, from 'Urwah, from 'A'ishah (RA) who said: "Safiyyah (RA) menstruated, and this was mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ), so he said:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کرتی ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی۔ آپ نے پوچھا: ”کیا وہ ہمیں روانگی سے روک دیگی“ میں نے عرض کیا کہ انھیں طواف افاضہ کرنے کے بعد حیض آیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں۔ انھیں روانہ ہونا چاہیے۔“

3690

Sahih Ibn Khuzaymah #3690

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ يُنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ :

EnglishUnverified translation

### Muhammad bin Ma'mar bin Rabi' narrated to us, saying: Muhammad, meaning Ibn Bakr Al-Bursani, narrated to us, saying: Ibn Jurayj informed us, stating: I said to 'Ata': "I heard Ibn 'Abbas say: 'You have only been commanded to perform the Tawaf (circumambulation), and you have not been commanded to enter it (inside the Ka'bah).'" 'Ata' replied: "He was not forbidden from entering it, but I heard him say:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے امام عطاء سے پوچھا، کیا آپ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ ہمیں بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کا حُکم دیا گیا ہے اور بیت اللہ شریف کے اندر داخل ہونے کا تمھیں حُکم نہیں دیا گیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیت اللہ شریف میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے اُنھیں یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کی تمام جوانب میں دعائیں مانگیں میں نے پوچھا کہ جوانب سے اس کے کونے مراد ہیں؟ اُنھوں نے فرمایا، بلکہ بیت اللہ شریف کے ہر قبلہ کی جانب دعائیں کیں۔

3691

Sahih Ibn Khuzaymah #3691

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَأَمَرَ بِلالا فَأَجَافَ الْبَابَ، وَالْبَيْتُ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، فَمَضَى حَتَّى أَتَى الأُسْطُوَانَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْبَابَ بَابَ الْكَعْبَةِ، وَجَلَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَ، ثُمَّ قَامَ حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ، فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَجَسَدَهُ عَلَى الْكَعْبَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى كُلِّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْكَعْبَةِ فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِالْمَسْأَلَةِ وَالاسْتِغْفَارِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ مُسْتَقْبِلا وَجْهَ الْكَعْبَةِ خَارِجًا مِنَ الْبَيْتِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Muhammad bin Bashshar, who said: Narrated to us Yahya bin Sa'id, who said: Narrated to us Abd al-Malik bin Abi Sulayman, who said: Narrated to us Ata', from Usama bin Zaid (RA), who said: "He and the Messenger of Allah (ﷺ) entered the House (the Ka'bah). He (the Prophet ﷺ) commanded Bilal to close the door. At that time, the House stood upon six pillars. He proceeded until he reached

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا تو اُنھوں نے دروازہ بند کردیا اُس وقت بیت اللہ شریف چھ ستونوں پر قائم تھا۔ آپ کعبه شریف کے دروازے کے قریبی دوستونوں کے پاس جا کر بیٹھ گئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اللہ تعالی سے دعائیں مانگیں اور بخشش طلب کی۔ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور کعبہ شریف کی پچھلی دیوار کے سامنے آ گئے، آپ نے اپنا چہرہ مبارک اور جسم مبارک کعبہ شریف کی دیوار پر رکھا اور اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کی اپنے لئے مغفرت و بخشش کا سوال کیا، پھر آپ کعبہ شریف کے ہر ہر کونے میں گئے، اس کی طرف مُنہ کرکے تکبیریں پڑھیں «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله، سُبْحَانَ اللَٰه، الحَمْدُ لِلَٰه» پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق اس کی شان بیان کی اور اس سے التجائیں کیں اور استغفار کیا۔ پھر آپ نے کعبہ شریف سے باہر نکل کر کعبہ شریف کے سامنے دو رکعات ادا کیں، اور فرمایا: ”يہ قبلہ ہے، يہ قبلہ ہے“۔

3692

Sahih Ibn Khuzaymah #3692

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ الْعَزْرَمِيِّ . ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلَكِ . ح وحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الْحَرْفِ وَالشَّيْءِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Naṣr ibn ʿAlī al-Jahḍamī, he informed us ʿĪsā ibn Yūnus, from ʿAbd al-Malik al-ʿAzramī. And narrated to us al-Ḥasan ibn Muḥammad, he narrated to us Isḥāq ibn Yūsuf, he narrated to us ʿAbd al-Malik. And narrated to us al-Dawraqī, he narrated to us Hushaym, he informed us ʿAbd al-Malik. And narrated to us ʿAlī ibn al-Mundhir, from Ibn Fuḍayl, he narrated to us ʿAbd al-Malik. Thus they mentioned the hadith in its lengthy form, and sometimes they differed in a letter or a word.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام صاحب نے اپنے چار اساتذہ کی سند سے عبد الملک بن ابی سلیمان کی مذکورہ بالا طویل روایت بیان کی ہے۔ بعض دفعہ تھوڑا بہت راویوں کا اختلاف ہوا ہے۔

3693

Sahih Ibn Khuzaymah #3693

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, on the authority of 'Abd al-Malik ibn Abi Sulayman, on the authority of 'Ata', who said: Usamah ibn Zayd narrated to me that he entered with the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the hadith, and he said: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا، پھر آپ بیت الله شریف کے ہر ہر کونے میں تشریف لائے آپ ہر رکن کی طرف مُنہ کرکے «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله، سُبْحَانَ اللَٰه، الحَمْدُ لِلَٰه» پڑھتے، اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور دعائیں مانگتے۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی۔

3694

Sahih Ibn Khuzaymah #3694

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يَقُولُ: وَلَقَدْ حَدَّثَنِي أَخِي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَهَا خَرَّ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ سَاجِدًا، ثُمَّ قَعَدَ فَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Fadl ibn Ya'qub al-Jazari, who said: Narrated to us 'Abd al-A'la, from Muhammad — and he is Ibn Ishaq — who said: Narrated to us 'Ubayd Allah ibn Abi Najih, from Mujahid and 'Ata', that Ibn 'Abbas (RA) used to say: My brother narrated to me that when the Messenger of Allah (ﷺ) entered the Ka'bah, he fell down between the two pillars in prostration, then sat and supplicated, and did not pray.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام مجاہد اور عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے، مجھے میرے بھائی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الله شریف میں داخل ہوئے تو آپ دوستونوں کے درمیان سجدے میں گرگئے۔ پھر آپ بیٹھ گئے،آپ نے دعائیں مانگیں اور نماز نہیں پڑھی۔

3695

Sahih Ibn Khuzaymah #3695

وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الْخَبَرَ الَّذِي يَجِبُ قُبُولُهُ هُوَ خَبَرُ مَنْ يُخْبِرُ بِرُؤْيَةِ الشَّيْءِ وَسَمَاعِهِ وَكَوْنِهِ، لَا مَنْ يَنْفِي الشَّيْءَ وَيَدْفَعُهُ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: وَلَمْ يُصَلِّ نَافٍ لِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، لَا مُثْبِتٌ خَبَرًا، وَمَنْ أَخْبَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهَا مُثْبِتٌ فِعْلًا، مُخْبِرٌ بِرُؤْيَةِ فِعْلٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْوَاجِبُ مِنْ طَرِيقِ الْعِلْمِ وَالْوَقْفِ قَبُولُ خَبَرِ مَنْ أَعْلَمَ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهَا، دُونَ مَنْ نَفَى أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهَا، وَهَذِهِ مَسْأَلَةٌ طَوِيلَةٌ قَدْ بَيَّنْتُهَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي جُمْلَةِ هَذَا الْقَوْلِ.

EnglishUnverified translation

** This is of the same type regarding which I have already explained in other places in our books that the report which must be accepted is the report of one who informs of having seen something, heard it, or known it, not the report of one who denies it and rejects it. Al-Fadl ibn al-'Abbas, in his statement, said: "He did not pray, negating the prayer of the Prophet (ﷺ) in it," meaning he did not affirm a report. But whoever reports that the Prophet (ﷺ) prayed in it is affirming an action, informing of having seen an action of the Prophet (ﷺ). Thus, it is obligatory, by way of knowledge and suspension, to accept the report of one who makes known that he saw the Prophet (ﷺ) pray in it, not the report of one who denies that the Prophet (ﷺ) prayed in it. This is a lengthy matter which I have already explained in other places in our books, that the people of knowledge have not differed regarding the generality of this statement.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ اس قسم کا ہے جو مجھے ہماری کتابوں میں ایک سے زیادہ جگہوں پر سکھایا گیا ہے کہ جس خبر کو قبول کرنا ضروری ہے وہ اس کی خبر ہے جو کسی چیز کے دیکھنے کی خبر دیتا ہے۔ اور اسے سننا اور اس کا ہونا، نہ کہ وہ شخص جو کسی چیز کا انکار کرے اور اس کا انکار کرے، اور فضل ابن عباس نے اپنے قول میں کہا: اور اس نے نماز نہیں پڑھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی نفی کرتی ہو۔ اور اس میں سلام کیا، اس کی کوئی ثابت روایت نہیں ہے، اور جو شخص یہ روایت کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی، اس نے عمل کی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دیکھنے کی اطلاع دی۔ خدا کی دعائیں اور سلامتی ہو اس پر۔ علم و تدبر سے جو چیز واجب ہے وہ یہ ہے کہ اس شخص کی خبر کو قبول کرے جو جانتا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور اس میں نماز پڑھی ہے۔ ان لوگوں کا ذکر نہ کرنا جنہوں نے انکار کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی۔ یہ ایک طویل مسئلہ ہے جسے میں نے اپنی کتابوں میں ایک سے زیادہ جگہوں پر بیان کیا ہے کہ اہل علم نے اس قول کے عمومی مفہوم میں اختلاف نہیں کیا۔

3696

Sahih Ibn Khuzaymah #3696

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ بِلالٍ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Ḥabīb al-Ḥārithī, who said: Ḥammād narrated to us, from ʿAmr ibn Dīnār, from Ibn ʿUmar, from Bilāl (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف کے اندر نماز پڑھی ہے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کے اندر نماز پڑھی ہے۔

3697

Sahih Ibn Khuzaymah #3697

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Hasan ibn Qaz'ah, narrated to us Al-Fudayl ibn Sulayman, narrated to us Musa ibn 'Uqbah, who informed us Nafi', on the authority of Ibn 'Umar (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکّہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ پر سوار ہوکر تشریف لائے اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے۔ آپ کے ساتھ سیدنا بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہما تھے جب آپ بیت اللہ شریف کے پاس پہنچے تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ شریف کی چابی منگوا کر بیت اللہ شریف کا دروازہ کھول دیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا بلال، اسامہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم اندر داخل ہوگئے اور بڑی دیر تک اندر ٹھہر ے رہے۔ اور انھوں نے اندر سے دروازہ بند کرلیا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو صحابہ کرام تیزی کے ساتھ بیت اللہ شریف کی طرف آئے، سیدنا ابن عمر اور ایک اور صحابی رضی اللہ عنہم ان سب سے پہلے پہنچ گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ اُنھوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو وہ جگہ دکھائی جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی۔ لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ سوال نہیں کیا کہ آپ نے کتنی رکعات نماز پڑھی ہے۔

3698

Sahih Ibn Khuzaymah #3698

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْعَبَّاسِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، سَمِعَهُ مِنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لأُسَامَةَ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ، فَقَالَ: لَتُعْطِينِيهِ أَوْ لَيُخْرِجَنَّ السَّيْفَ مِنْ صُلْبِي، فَدَفَعَتْ إِلَيْهِ فَفَتَحَ الْبَابَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ مَعَهُ عُثْمَانُ، وَبِلالٌ، وَأُسَامَةُ، فَأَجَافُوا الْبَابَ مَلِيًّا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَكُنْتُ رَجُلا شَابًّا قَوِيًّا فَبَدَرَ النَّاسُ فَبَدَرْتُهُمْ، فَوَجَدْتُ بِلالا قَائِمًا عَلَى الْبَابِ، قَالَ: يَا بِلالُ ، أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala' and Muhammad ibn 'Umar ibn al-'Abbas who said: Sufyan narrated to us. 'Abd al-Jabbar said: Ayyub narrated to us, having heard it from Nafi', from Ibn 'Umar. Muhammad said: From Ayyub, from Nafi', from Ibn 'Umar who said: "On the Day of the Conquest (of Makkah), the Messenger of Allah (ﷺ) entered while riding the camel of Usamah. He tethered it at the courtyard of the Ka'bah. Then he called for the key to be brought to 'Uthman ibn Talhah. He went to his mother, but she refused to give it to him. He said, 'You will give it to me, or I will draw the sword from my loins!' She then gave it to him, so he opened the door. The Prophet (ﷺ) entered, and with him entered 'Uthman, Bilal, and Usamah. They closed the door for a long while. Ibn 'Umar said, 'I was a young, strong man, so I rushed ahead of the people and found Bilal standing at the door. I asked, "O Bilal, where did the Messenger of Allah (ﷺ) pray?"" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکّہ والے دن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی اونٹنی پر سوار ہوکر مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ آپ نے اپنی اونٹنی کعبہ شریف کے صحن میں بٹھائی پھر عثمان بن طلحہ کو چابی لانے کا حُکم دیا تو وہ اپنی والدہ کے پاس چابی لینے گیا، اس کی والدہ نے چابی دینے سے انکار کردیا وہ کہنے لگے کہ تم ضرور چابی دیدو وگرنہ تلوار میری کمر کے پار ہو جائیگی (مجھے قتل کردیا جائیگا) تواس نے اسے چابی دیدی پھر اس نے بیت اللہ شریف کا دروازه کھول دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوگئے۔ پھر انھوں نے کچھ دیر دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں طاقتور جوان آدمی تھا۔ لوگوں نے بیت اللہ شریف کی طرف جلدی کی تو میں اُن سب سے پہلے وہاں پہنچ گیا۔ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بیت الله شریف کے دروازے پر کھڑا پایا۔ میں نے پوچھا کہ اے بلال، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ اُنھوں نے جواب دیا کہ اگلے دو ستونوں کے درمیان پڑھی ہے لیکن میں اُن سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ یہ روایت محمد بن عمرو کی ہے۔

3699

Sahih Ibn Khuzaymah #3699

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلْتُ بِلالا أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Salam bin Junadah, who said: Narrated to us by Waki', from Hisham bin Sa'id, on the authority of Nafi', from Ibn Umar (RA), who said: I asked Bilal (RA), "Where did the Messenger of Allah (ﷺ) pray?" He replied:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ تو اُنھوں نے جواب دیا کہ آپ نے بیت الله شریف کے اگلے حصّے میں نماز پڑھی ہے۔ آپ کے اور کعبہ شریف کی دیودار کے درمیان تین ہاتھ یا تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔ حدیث کے راوی ابوعامر کو ان الفاظ میں شک ہے۔

3700

Sahih Ibn Khuzaymah #3700

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيُّ التِّنِّيسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، كَانَتْ تَقُولُ:

EnglishUnverified translation

Ahmad ibn Isa ibn Zayd ibn Abd al-Jabbar ibn Malik al-Lakhmi al-Tinnisi narrated to us, saying: Amr ibn Abi Salama narrated to us, saying: Muhayr ibn Muhammad al-Makki narrated to us, from Musa ibn Uqba, from Salim ibn Abd Allah, that Aisha (RA) used to say:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سالم بن عبداللہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ مسلمان آدمی پرتعجب ہے کہ جب وہ بیت الله شریف کے اندر داخل ہوتا ہے تو اپنی نگاہیں چھت کی طرف کیسے اُٹھاتا ہے۔ وہ یہ کام اللہ کے جلال اور عظمت کے اقرار کے لئے کرتا ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے اپنی نظریں اپنے سجدے کی جگہ جمائے رکھی تھیں حتّیٰ کہ آپ باہر تشریف لے آئے۔

3701

Sahih Ibn Khuzaymah #3701

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Sa‘id ibn Sulayman, narrated to us ‘Abdullah ibn al-Mu‘ammal, narrated to us ‘Umar ibn ‘Abd al-Rahman ibn Muhayṣin, on the authority of ‘Aṭā’, on the authority of Ibn ‘Abbās (RA) who said: The Messenger of Allāh (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن یحیٰ نے ہمیں بتایا، سعید بن سلیمان نے ہمیں بتایا، عبداللہ بن المؤمل نے ہمیں بتایا، عمر بن عبدالرحمن بن محیصن نے ہمیں بتایا، عطاء سے، ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا:

3702

Sahih Ibn Khuzaymah #3702

إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ بَعْدَ دُخُولِهِ إِيَّاهَا أَنَّهُ وَدَّ أَنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَهَا مَخَافَةَ إِتْعَابِ أُمَّتِهِ بَعْدَهُ، وَهَذَا كَتَرْكِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ التَّطَوُّعِ وَالَّذِي كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ لِإِرَادَةِ التَّخْفِيفِ عَلَى أُمَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

EnglishUnverified translation

This is a commentary stating: "When the Prophet (ﷺ) entered it, he later indicated that he wished he had not entered it, out of fear of burdening his Ummah after him. This is similar to his (ﷺ) leaving some voluntary acts of worship that he loved to perform, due to his desire to lighten the burden upon his Ummah (ﷺ)."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں داخل ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوف سے اس میں داخل نہ ہونا چاہا کہ آپ کے بعد ان کی امت پر بوجھ نہ پڑے۔ یہ اس کی طرح ہے، خدا کی دعا اور سلام ان پر، کچھ رضاکارانہ کاموں کو ترک کرنا، جو اس نے اپنی قوم کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی خواہش سے کرنا پسند کیا، خدا کی دعائیں اور سلام ان پر۔

3703

Sahih Ibn Khuzaymah #3703

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، طَيِّبُ النَّفْسِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي، وَأَنْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Salm ibn Junādah: narrated to us Wakīʿ, from Ismāʿīl ibn ʿAbd al-Malik, from Ibn Abī Mulaykah, from ʿĀʾishah (RA), who said: The Messenger of Allāh (ﷺ) left me while he was in a state of comfort and ease, his spirits high. Then he returned to me while he was sad. So I said, "O Messenger of Allāh, you left me while you were in such-and-such a state, and now you have returned while you are sad?" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے تو آپ بڑے خوش وخرم اور ہشاش بشاش تھے۔ پھر آپ میرے پاس واپس آئے تو آپ بڑے غمگین تھے۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ میرے پاس سے بڑے خوش اور مسرور گئے تھے اور اب آپ افسردہ نظر آرہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کعبہ شریف میں داخل ہوا ہوں، میری خواہش ہے کہ میں داخل نہ ہوتا تو اچھا تھا۔ مجھے ڈر ہے کہ میں نے اپنے بعد اُمّت کو تکلیف اور مشقّت میں ڈال دیا ہے۔

3704

Sahih Ibn Khuzaymah #3704

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، فَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ يُنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قِبَلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad ibn Ma'mar al-Qaysi, narrated to us Muhammad (meaning) ibn Bakr al-Bursani, who informed us Ibn Jurayj, who said: I said to 'Ata': "I heard Ibn 'Abbas say: 'You were only commanded to perform Tawaf (circumambulation), but you were not commanded to enter it.'" He said: "There was no prohibition against entering it, but I heard him say: 'Usamah ibn Zayd informed me that the Prophet (ﷺ) when he entered the House, then when he came out, he prayed two rak'ahs facing the House and said:" --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے امام عطا ء سے کہا کہ کیا آپ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بلاشبہ تمہیں طواف کرنے کا حُکم دیا گیا ہے اور تمہیں بیت اللہ شریف میں داخل ہونے کا حُکم نہیں دیا گیا؟ اُنھوں نے جواب دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیت اللہ شریف میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے اُنہیں فرماتے ہوئے سنا ہے۔ مجھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الله شریف میں داخل ہوئے، پھر جب آپ باہر تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ شریف کے سامنے در رکعات ادا کیں اور فرمایا: ”یہ قبلہ ہے“۔

3705

Sahih Ibn Khuzaymah #3705

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَجِئْتُ فَإِذَا قَدْ خَرَجَ، وَإِذَا بِلالٌ قَائِمٌ عِنْدَ بَابِ الْكَعْبَةِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا بِلالُ ، أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Amr ibn Ali narrated to us, Abu Asim narrated to us, Sayf narrated, saying: I heard Mujahid narrating from Ibn Umar (RA), who said: The Prophet (ﷺ) entered the House (the Ka'bah), and I came, but he had already exited. I saw Bilal (RA) standing at the door of the Ka'bah. I said, "O Bilal, where did the Prophet (ﷺ) pray?" He said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے جب میں وہاں پہنچا تو آپ باہر تشریف لا چکے تھے جبکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کعبہ شریف کے دروازے کے پاس کھڑے تھے . میں نے کہا کہ اے بلال، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ اُنھوں نے جواب دیا کہ یہاں پڑھی ہے وہ فرماتے ہیں، پھر آپ باہر تشریف لائے تو حجر اسود اور بیت اللہ شریف کے دروازے کے درمیان دو رکعات نماز پڑھی، جناب سیف کہتے ہیں: امام مجاہد بتاتے تھے کہ آپ نے بنی مخزوم کے دروازے کی جانب والے ستونوں کے درمیان نماز پڑھی تھی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ان کی مراد یہ ہے کہ امام مجاہد کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف میں ان دوستونوں کے درمیان نماز پڑھی تھی جو بنی مخزوم کے دروازے والی سمت میں تھے۔

3706

Sahih Ibn Khuzaymah #3706

إِنْ كَانَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ مِنَ الشَّرْطِ الَّذِي اشْتَرَطْنَا فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī: Narrated to us Wakīʿ ibn al-Jarrāḥ: On the authority of al-Aʿmash, from Abū Ṣāliḥ, from Abū Hurayrah (RA) who said: The Messenger of Allāh (ﷺ) said: "If Yazīd ibn Abī Ziyād were from the *shurṭ* (elite guard) whom we stipulated in the beginning of the book..."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشرطیکہ یزید بن ابی زیاد ہماری ان شرط پر پورا اترتا ہو جو ہم نے کتاب کے شروع میں ذکر کی تھی

3707

Sahih Ibn Khuzaymah #3707

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ ، قَالَ: لَمَّا فَتْحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: لأَلْبَسْ ثِيَابِي، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ح وَثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ الْبَيْتَ، فَلَبِسْتُ ثِيَابِي، وَانْطَلَقْتُ، وَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْبَيْتِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ مُسْتَلِمُونَ مَا بَيْنَ الْحِجْرِ إِلَى الْحَجَرِ، وَاضِعِي خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ، وَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ الْبَابَ، فَدَخَلْتُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقُلْتُ: كَيْفَ صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا:

EnglishUnverified translation

### Yusuf bin Musa narrated to us, saying: Jarir narrated to us, from Yazid bin Abi Ziyad, from Mujahid, from Abdur-Rahman bin Safwan, who said: "When the Prophet (ﷺ) conquered Makkah, I said: 'I will put on my clothes.' And Ali bin Al-Mundhir Al-Kufi narrated to us, saying: Ibn Fudail narrated to us, from Yazid bin Abi Ziyad, from Mujahid, from Abdur

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمٰن بن صفوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ مکرّمہ فتح کیا، میں نے دل میں کہا کہ مجھے اپنے کپڑے پہن لینے چاہئیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن صفوان بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ تشریف لائے تو بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے، میں بھی اپنے کپڑے پہن کر (آپ کو دیکھنے کے لئے) چلا گیا اس وقت تک آپ بیت اللہ شریف سے باہر تشریف لا چکے تھے۔ آپ اور آپ کے صحابہ کرام حجر اسود سے حطیم تک کے درمیانی حصّے کا استلام کررہے تھے اور اُنھوں نے اپنے رخسار بیت اللہ شریف کے ساتھ لگائے ہوئے تھے۔ اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے پاس سے گزرے تو میں نے دو آدمیوں کے درمیان گھس کر کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف میں کیا عمل کیا ہے۔ اُنھوں نے جواب دیا کہ آپ نے بیت اللہ شریف کے سامنے والے ستون کے پاس دو رکعات پڑھی ہیں۔ یہ روایت جناب ابن فضیل کی ہے۔

3708

Sahih Ibn Khuzaymah #3708

بِذِكْرِ خَبَرٍ لَفْظُهُ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ، أَنَا خَائِفٌ أَنْ يَسْمَعَ بِهَذَا الْخَبَرِ الَّذِي ذَكَرْتُ أَنَّ لَفْظَهُ لَفْظٌ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ بَعْضُ النَّاسِ، فَيَتَوَهَّمُ أَنَّ جَمِيعَ الْحِجْرِ مِنَ الْكَعْبَةِ لَا بَعْضَهُ.

EnglishUnverified translation

** It is mentioned in a narration whose wording is general but the intended meaning is specific. I fear that some people might hear this report—which I have mentioned—that its wording is general but the intended meaning is specific—and thus assume that all prohibition applies to the Ka'bah, not just some of it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایسی خبروں کا تذکرہ کرتے ہوئے جس کا ایک عام لفظ مخصوص معنی رکھتا ہو۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ اس خبر کے بارے میں سنے گا جس میں میں نے ذکر کیا ہے کہ یہ لفظ ایک عام لفظ ہے جس کے ایک خاص معنی ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تمام پتھر خانہ کعبہ کے ہیں ان میں سے کچھ نہیں۔

3709

Sahih Ibn Khuzaymah #3709

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتِ فَأُصَلِّي فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَأَدْخَلَنِي الْحِجْرَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Rabee’ ibn Sulayman and Baḥr ibn Naṣr, both said: Narrated to us Ibn Wahb, who said: My father Abū al-Zinād narrated to me, from ‘Alqamah, from his mother, from ‘Ā’ishah (RA), who said: “I used to love to enter the House (the Ka‘bah) and pray inside it. So the Messenger of Allāh (ﷺ) took me by the hand and brought me into the Ḥijr (the semi-circular area adjacent to the Ka‘bah known as the Ḥijr Ismā‘īl), then he said…” ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع بن سلیمان اور بحر بن نصر نے ہمیں بتایا، دونوں نے کہا: ابن وھب نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: میرے والد ابو الزناد نے مجھے بتایا، علقمہ سے، ان کی ماں سے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے، انہوں نے کہا: "میں چاہتی تھی کہ گھر (کعبہ) میں داخل ہوکر نماز پڑھوں۔ تو اللہ کے رسول (ﷺ) نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حجر (کعبہ کے ساتھ ملحق نیم دائرہ علاقہ جو حجر اسماعیل کے نام سے جانا جاتا ہے) میں لے آئے، پھر آپ نے فرمایا...""

3710

Sahih Ibn Khuzaymah #3710

وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ لَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ فِي عَقِبِ حَدِيثِهِ: قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ: وَحَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ar-Rabīʿ, narrated to us Ibn Wahb who said: And Ibn Abī Az-Zinād informed me, from Hishām ibn ʿUrwah, who said: Baḥr ibn Naṣr narrated to us at the end of his ḥadīth: Ibn Abī Az-Zinād said: And Hishām ibn ʿUrwah narrated to me, from his father, from ʿĀʾishah (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) said: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع نے ہمیں بتایا، ابن وھب نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: اور ابن ابی الزناد نے مجھے اطلاع دی، ہشام بن عروہ سے، جس نے کہا: بحر بن نصر نے ہمیں اپنے حدیث کے آخر میں بتایا: ابن ابی الزناد نے کہا: اور ہشام بن عروہ نے مجھے بتایا، ان کے والد سے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے، کہ اللہ کے رسول (ﷺ) نے فرمایا:

3711

Sahih Ibn Khuzaymah #3711

وَالدَّلِيلُ [عَلَى] أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: وَأَخْرَجُوا الْحِجْرَ مِنَ الْبَيْتِ، بَعْضَهُ لَا جَمِيعَهُ، وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الِاسْمَ بِاسْمِ الْمَعْرِفَةِ بِالْأَلِفِ وَاللَّامِ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِ الشَّيْءِ.

EnglishUnverified translation

And the evidence that the Prophet (ﷺ) only intended by his statement: "And remove Al-Hijr from the House," to mean part of it and not all of it, is that this is of the type I have mentioned in other places in our books: that a name defined by the definite article (Alif and Lam) may refer to a part of the thing rather than the whole.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صرف اس وقت تھی جب آپ نے فرمایا: اور انہوں نے بیت اللہ سے پتھر کو ہٹا دیا، کچھ اس میں سے، نہ کہ تمام، اور یہ اس قسم کی ہے کہ میں نے اپنی کتابوں میں ایک سے زیادہ جگہوں پر سیکھا ہے کہ علم الف و لام کے نام کا اطلاق کسی چیز پر ہو سکتا ہے۔

3712

Sahih Ibn Khuzaymah #3712

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Abdullah bin Al-Mubarak Al-Mukharimi narrated to us, saying: Wahb bin Jarir narrated to us, saying: My father narrated to us, saying: I heard Yazid bin Ruman narrating, from Abdullah bin Az-Zubayr, who said: Aisha (RA) said to me: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”اے عائشہ، اگر تمھاری قوم نئی نئی جاہلیت سے نکل کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت الشریف کو گرا کر حطیم کا وہ حصّہ اس میں شامل کردیتا جو انھوں نے باہر نکال دیا تھا کیونکہ اُن کا خرچ کم پڑ گیا تھا اس لئے وہ اسے تعمیر نہ کر سکے تھے۔ میں بیت اللہ شریف کے دو دروازے بناتا۔ ایک مشرق کی جانب اور ایک مغرب کی جانب اور اسے زمین کے برابر تعمیر کرتا۔ اور میں اسے حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر بناتا، راوی کہتا ہے کہ آپ کے اس فرمان کی وجہ سے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے (اپنے عہد حکومت میں) بیت الله شریف کو گرا کر اسے ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر تعمیر کردیا۔ جناب یزید بن رومان کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیت اللہ شریف کو گرا کر تعمیر کیا تو میں ان کے ساتھ موجود تھا اُنھوں نے بیت اللہ شریف کی بنیادیں نکالیں تو وہ بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح تھیں۔ جناب جریر کہتے ہیں کہ میں نے یزید بن رومان سے کہا جبکہ میں اس وقت ان کے ساتھ طواف کر رہا تھا، مجھے حطیم کا وہ حصّہ دکھاؤ جو قریش نے بیت اللہ کی تعمیر سے نکال دیا تھا؟ اُنھوں نے کہا کہ میں ابھی تمہیں وہ حصّہ دکھاتا ہوں۔ جب و?? اس حصّے کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ یہ ہے وہ جگہ۔ جناب جریر کہتے ہیں کہ میں نے اسے ناپا تو وہ تقریبا چھ ہاتھ جگہ تھی۔

3713

Sahih Ibn Khuzaymah #3713

حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: قَالَ يَزِيدُ: قَدْ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدْمَهُ، حَدَّثَنَاهُ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَرِوَايَةُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ قَدْ سَمِعَ الْخَبَرَ مِنْهُمَا جَمِيعًا.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us Musa ibn Isma'il, and it was also narrated by Yazid ibn Harun, narrated to us Jarir ibn Hazim, narrated to us Yazid ibn Ruman, on the authority of Urwah, on the authority of 'A'ishah (RA) that the Prophet (ﷺ) said to her, and he mentioned the hadith, so he said: Yazid said, "I witnessed Ibn al-Zubayr when he demolished it." Narrated to us al-Za'farani, narrated to us Yazid, Abu Bakr said: The narration of Yazid ibn Harun indicates that Yazid ibn Ruman heard the report from both of them together.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی جناب یزید کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ شریف کو گرایا تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یزید بن ہارون کی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ یزید بن رومان نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن زبیر اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما دونوں سے سنی ہے۔

3714

Sahih Ibn Khuzaymah #3714

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازِقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: كَانَتِ الْكَعْبَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَبْنِيَّةً بِالرَّضْمِ لَيْسَ فِيهِ مَدَرٌ، وَكَانَتْ قَدْرُ مَا يَقْتَحِمُهَا الْعَنَاقُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ، وَقَالَ: فَلَمَّا كَانَ جَيْشُ الْحُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ، فَذَكَرَ حَرِيقَهَا فِي زَمَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us 'Abd al-Razzaq, from Ma'mar, from Ibn Khuthaym, from Abu al-Tufayl (RA), who said: "The Ka'bah in the pre-Islamic era was built with unmortared stones, without any clay. It was only as tall as a young camel could jump into it." He then mentioned the lengthy narration about the story of the rebuilding of the Ka'bah. He said: "Then when the army of al-Husayn ibn Numayr came, he mentioned its burning during the time of Ibn al-Zubayr." Ibn al-Zubayr said: "Indeed, 'A'ishah (RA) informed me that the Prophet (ﷺ) said:" ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جاہلیت میں بیت اللہ شريف خالص پتھروں کے ساتھ تعمیر کیا ہوا تھا اس میں گارا وغیرہ نہیں لگایا گیا تھا۔ اور اس کی اونچائی صرف اتنی تھی کہ بکری کا بچّہ پھلانگ سکتا تھا۔ پھر انھوں نے کعبہ شریف کی تعمیر کے بارے میں مکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ جب حصین بن نمیر کا لشکر حملہ آور ہوا اور اُس نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں بیت اللہ شریف کو جلا دیا تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیشک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر تمھاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں کعبہ شریف کو گرا دیتا (نئی تعمیر میں حطیم کو شامل کر دیتا) کیونکہ قریش کے پاس خرچ اور لکڑی کم ہوگئی تھی تو انھوں نے حطیم کا سات ہاتھ حصّہ تعمیر سے نکال دیا تھا۔ جناب ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر طویل قصّہ بیان کیا۔

3715

Sahih Ibn Khuzaymah #3715

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بَكْرٍ يَعْنِي مُحَمَّدًا ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ: وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ مَرْوَانَ فِي خِلافَتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ: بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ: مَاذَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Al-Fadl ibn Ya'qub Al-Jazari — narrated to us Ibn Bakr, meaning Muhammad — who informed us Ibn Jurayj, who said: I heard 'Abdullah ibn 'Ubayd ibn 'Umays and Al-Walid ibn 'Ata' narrate from Al-Harith ibn 'Abdullah ibn Abi Rabi'ah, who said: 'Abdullah ibn 'Ubayd ibn 'Umays said: Al-Harith ibn 'Abdullah came to 'Abd al-Malik ibn Marwan during his caliphate, so 'Abd al-Malik said: "I do not think that Abu Khubayb — meaning Ibn al-Zubayr — heard from 'Aishah what he claims to have heard from her." Al-Harith said: "Yes, I heard him narrate it from her." He said: I heard her say: What did she say? The Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبداللہ بن عبيد بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان کے عہد حکومت میں حارث بن عبد اللہ کے پاس ایک قاصد کی حیثیت سے حاضر ہوئے تو عبد الملک نے کہا کہ میرا خیال نہیں کہ حضرت ابوخبیب عبداللہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ حدیث سنی ہوگی جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے سنی ہے، حارث کہتے ہیں کہ کیوں نہیں وہ حدیث تو میں نے بھی اماں جی سے سنی ہے۔ اس نے پوچھا، تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ اماں جی فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”بیشک تیری قوم نے بیت اللہ کی بنیادوں کو چھوٹا کر دیا تھا (کیونکہ ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے حلال مال ختم ہوگیا تھا) اور اگر یہ لوگ نئے نئے شرک سے نکل کر مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو بیشک میں ان کا چھوڑا ہوا حصّہ دوبارہ تعمیر کرا دیتا لہٰذا اگر میرے بعد تیری قوم اس حصّے کو بیت اللہ شریف کی بنیادوں میں شامل کرنے کا ارادہ کرے تو آؤ میں تمھیں وہ جگہ دکھا دوں جو انھوں نے بیت اللہ سے نکال دی تھی۔ تو آپ نے اماں جی کو تقریبا سات ہاتھ جگہ دکھائی۔ یہ روایت عبد الله بن عبید کی ہے۔ انھوں نے مکمّل قصّہ بیان کیا تھا۔

3716

Sahih Ibn Khuzaymah #3716

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Ali ibn Khashram who said: 'Isa informed us, on the authority of Ibn Jurayj who said: Musa ibn 'Uqbah narrated to me, on the authority of Nafi', that Ibn 'Umar (RA) informed him: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے سر کے بال منڈوائے تھے۔ جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ لوگ حج کے موقع پر سر کے بال منڈواتے تھے، پھرمنیٰ سے واپس روانہ ہوتے وقت عمرہ ادا کرتے تھے تو کہتے، اب یہ کیا مونڈے گا؟ تو ہم ایک دوسرے سے کہتے کہ اپنے سر پراسترا پھیرلو۔

3717

Sahih Ibn Khuzaymah #3717

ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْعُمْرَةَ غَيْرُ جَائِزَةٍ إِلَّا مِنَ الْمَوَاقِيتِ الَّتِي وَقَّتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ، فَقَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، الْأَخْبَارَ بِتَمَامِهَا.

EnglishUnverified translation

This is a refutation of the claim of those who assert that Umrah is not permissible except from the specific stations (Mawaqit) that the Prophet (ﷺ) designated when he mentioned them, saying: "The people of Medina should enter the state of Ihram from Dhul-Hulayfah." [The narration continues with the full report].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان لوگوں کے قول کے خلاف جو کہتے ہیں کہ عمرہ کا احرام صرف انہی مقامات سے باندھنا ضروری ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما دیے ہیں، آپ نے فرمایا تھا کہ مدینہ والے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں اور دوسری جگہ رہنے والوں کے بھی میقات آپ نے بیان کردیے ہیں

3718

Sahih Ibn Khuzaymah #3718

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا أَشْهَبُ ، أَنَّ اللَّيْثَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرٍ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la who said: Ashhab informed us, that al-Layth informed him, that Abu al-Zubayr informed him, that Jabir (RA) narrated: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یونس ابن عبد الاعلیٰ نے ہمیں بتایا، اشہب نے ہمیں خبر دی، کہ لیث نے انہیں خبر دی، کہ ابو الزبیر نے انہیں خبر دی، کہ جابر (رضی اللہ عنہ) نے روایات کی۔

3719

Sahih Ibn Khuzaymah #3719

حَدَّثَنَا يُونُسُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus, he said: 'Abdullah ibn Wahb informed us, he said: al-Layth informed me, that Abu az-Zubayr informed him, from Jabir ibn 'Abdullah (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یونس نے ہمیں بتایا، عبداللہ ابن وھب نے ہمیں خبر دی، لیث نے مجھے خبر دی، کہ ابو الزبیر نے انہیں خبر دی، جابر ابن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے۔

3720

Sahih Ibn Khuzaymah #3720

وَمَا كَانَ أَكْثَرُ نَصَبًا وَأَفْضَلُ نَفَقَةً فَالْأَجْرُ عَلَى قَدْرِ النَّصَبِ وَالنَّفَقَةِ.

EnglishUnverified translation

And the one who exerts the most effort and spends the most will have the reward in proportion to the effort and the spending.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کیونکہ اس میں مشقت اور خرچہ زیادہ ہے۔ اللہ کی راہ میں جتنی مشقت اٹھائیں گے اور جتنا زیادہ مال خرچ کریںگے اتنا ہی اجر و ثواب بھی زیادہ ہوگا

3721

Sahih Ibn Khuzaymah #3721

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: ابْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَالْقَاسِمِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ . ح وحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، وَعَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالتَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِي حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abu Musa Muhammad ibn al-Muthanna and al-Hasan ibn Muhammad al-Za'farani, they said: Narrated to us Husayn, and al-Za'farani said: Ibn al-Hasan said: Narrated to us Ibn 'Awn, from Ibrahim and al-Qasim, from Umm al-Mu'minin. And narrated to us al-Dawraqi: Narrated to us Ibn 'Ulayyah, from Ibn 'Awn, from Ibrahim, from al-Aswad, from Umm al-Mu'minin, and from al-Qasim, from Umm al-Mu'minin, she said: 'A'ishah (RA) said: "O Messenger of Allah (ﷺ), will the people depart with two different forms of Ihram, while I depart with only one form of Ihram?" He (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، لوگ دو دو نیک اعمال (حج اور عمرہ) ادا کرکے جارہے ہیں اور میں ایک ہی عمل ادا کرکے واپس جاؤں گی؟ آپ نے فرمایا: ”انتظار کرو جب تم حیض سے پاک ہو جاؤ تو مقام تنعیم چلی جانا، وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کر لینا پھر فلاں فلاں پہاڑ کے پاس ہمیں مل جانا۔ جناب قاسم کہتے ہیں کہ میرے خیال میں کدیٰ پہاڑ کا نام لیا تھا۔ لیکن تمہیں اس عمرے کا ثواب تمھاری مشقّت اور خرچے کے حساب سے ہوگا۔ یا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جناب حسین بن حسن کی روایت میں ہے کہ ”لیکن تمہیں اس عمرے کا ثواب اتنا ہی ملیگا جتنا تم اس سفر میں خرچ کروگی اور جتنی مشقّت برداشت کروگی۔ یا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

3722

Sahih Ibn Khuzaymah #3722

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad bin Bashshar, who said: Narrated to us Yahya, who said: Narrated to us Hisham bin Urwah, who said: My father narrated to me, and Aisha (RA) informed me, saying: "We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) coinciding with the sighting of the new moon of Dhul-Hijjah. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said:"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحجہ کے شروع میں (سفر حج کے لئے نکلے)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو صرف عمرے کا تلبیہ کہنا چاہے وہ صرف عمرے کا تلبیہ پکارے، اور جو حج کا احرام باندھنا چاہے تو وہ باندھ لے اگر میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آ تا تو میں بھی عمرے کا تلبیہ پکارتا۔ لہذا کچھ صحابہ کرام نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھا۔ پھر مکّہ مکرّمہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی مجھے حیض شروع ہو گیا پھر عرفہ کے دن تک میں حائضہ ہی رہی۔ میں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ نے فرمایا: ”اپنے عمرے کے اعمال چھوڑ دو اور سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو اور پھر حج کا احرام باندھ لو۔ پھر جب وادی محصب والی رات آئی تو آپ نے میرے ساتھ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو تنعیم بھیجا۔ انھوں نے مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر سوار کرلیا۔ تو میں نے اپنے عمرے کی جگہ وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اماں جی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج اور عمرہ دونوں مکمّل کرادیے لیکن اس میں (بطور کفّارہ) کوئی قربانی، روزے یا صدقہ نہیں دینا پڑا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں مختلف روایات کو باہم متفق اور متحد کرتے وقت میں نے یہ مسئلہ بیان کیا تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے عمرے کے اعمال صرف اس لئے چھوڑے تھے کہ وہ حیض کی وجہ سے بیت الله شریف کا طواف نہیں کرسکتی تھیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھوں نے عمره فسخ کردیا تھا۔ میں نے اسی مقام پر یہ بھی بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تمھارا ایک ہی طواف تمھارے حج اور عمرے کے لئے کافی ہوگا۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھوں نے عمرہ ترک نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے حیض آنے کی وجہ سے عارضی طور پر اس کے اعمال ادا کرنے چھوڑ دیے تھے کیونکہ ان کے لئے حیض کی وجہ سے طواف کرنا ممکن نہیں تھا۔ اور میں نے یہ بھی بیان کردیا تھا کہ حدیث کے یہ الفاظ کہ اس سلسلے میں انھیں کوئی قربانی، روزے اور صدقہ نہیں دینا پڑا اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ حج کے بعد جو عمرہ ادا کیا تھا اس میں کوئی قربانی، روزے یا صدقہ نہیں کیا تھا۔ اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے تنعیم سے ادا کرنے والے اس عمرے سے پہلے نبی کریم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی۔ کیا آپ نے اماں جی کے یہ کلمات نہیں سنے، پھر جب قربانی کا دن آیا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ ہم نے پوچھا کہ یہ کیسا گوشت ہے؟ انھیں بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ اس طرح اماں جی نے بتادیا کہ ان کے عمرہ تنعیم سے پہلے ان کے حج میں قربانی کی گئی تھی۔ جناب محمد بن عبد الرحمٰن بن نوفل کی روایت کے آخر میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ نے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ا پنے بھائی) عبدالرحمٰن کے ساتھ تنعیم چلی جاؤ اور وہاں سے اپنے عمرے کا احرام باندھ لو“ تو میں نے ایسے ہی کیا پھر کوئی قربانی بھی نہیں کی۔

3723

Sahih Ibn Khuzaymah #3723

ثناه ثناه مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَامٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي مَيْمُونُ بْنُ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ قِصَّةً طَوِيلَةً، وَذَكَرَ هَذَا الْكَلامَ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي آخِرِ الْخَبَرِ قَالَ: وَقَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُمْ عَنْ عُمْرَتِهِمْ بَعْدَ الْحَجِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn 'Amr ibn Tamam, narrated to us Yahya ibn 'Abdullah ibn Bukayr, who said: Maymun ibn Makhramah narrated to me, from his father, who said: I also heard Muhammad ibn 'Abd al-Rahman ibn Nawfal saying: I heard Hisham ibn 'Urwah narrating, from 'Urwah, who said: I heard 'A'ishah (may Allah be pleased with her) mention a lengthy story, and she mentioned these words which I have recorded at the end of the report. He also said: I heard Muhammad ibn 'Abd al-Rahman narrating from 'Urwah, from 'A'ishah (may Allah be pleased with her), that she informed them about their 'Umrah after the Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ). She said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد ابن عمرو ابن تمام نے ہمیں بتایا، یحیٰ ابن عبداللہ ابن بکیر نے ہمیں بتایا، ميمون ابن مخرمہ نے مجھے بتایا، اپنے والد سے، انہوں نے کہا: اور میں نے محمد ابن عبدالرحمن ابن نوفل کو سنتا، کہ وہ کہتے تھے: میں نے ہشام ابن عروہ کو سنتا، عروہ سے، کہ انہوں نے کہا: میں نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) کو سنتا، انہوں نے ایک طویل واقعہ بیان کیا، اور ان الفاظ کا ذکر کیا جو میں نے خبر کے آخر میں لکھے ہیں۔ انہوں نے کہا: اور میں نے محمد ابن عبدالرحمن کو سنتا، عروہ سے، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے، کہ انہوں نے انہیں اپنی عمرہ کے بارے میں بتایا جو حج کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ تھی، انہوں نے کہا۔

3724

Sahih Ibn Khuzaymah #3724

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَّى نَبِيَّهُ بَيَانَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ مِنَ الْوَحْيِ خَاصًّا وَعَامًّا، فَبَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللَّهَ لَمْ يُرِدْ بِقَوْلِهِ: [وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى] [النَّجْمِ] جَمِيعَ الْأَعْمَالِ، وَأَنَّ اللَّهَ إِنَّمَا أَرَادَ بَعْضَ السَّعْيِ لَا جَمِيعَهُ، إِذْ لَوْ كَانَ اللَّهُ أَرَادَ جَمِيعَ السَّعْيِ لَمْ يَكُنِ الْحَجُّ إِلَّا لِمَنْ حَجَّ بِنَفْسِهِ، لَمْ يَسْقُطْ فَرْضُ الْحَجِّ عَنِ الْمَرْءِ إِذَا حُجَّ عَنْهُ، وَلَمْ يُكْتَبْ لِلْمَحْجُوجِ عَنْهُ سَعْيُ غَيْرِهِ إِذْ لَمْ يَسْعَ هُوَ بِنَفْسِهِ سَعْيَ الْعَمَلِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): On the authority of Abū Ḥāzim Salamah ibn Dīnār (RA), who said: I heard Sahl ibn Saʿd al-Sāʿidī (RA) say: The proof that Allah, the Exalted and Majestic, has made His Prophet (ﷺ) responsible for explaining what was revealed to him—both its particulars and its general rulings—is that the Prophet (ﷺ) clarified that Allah did not intend by His statement: *"And that man shall have nothing but what he strives for"* (Qur'an 53:39) the entirety of all actions. Rather, Allah intended only some striving, not all of it. For if Allah had intended all striving, then Hajj would have been obligatory only for those who performed it themselves, and the obligation of Hajj would not have been lifted from a person if someone else performed it on his behalf. Nor would the reward of the one for whom Hajj was performed be recorded as the striving of another, since he himself did not strive in the action.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث کرنے کا ثبوت اس وحی کی وضاحت ہے جو ان پر بالخصوص اور عمومی طور پر نازل ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول سے مراد یہ نہیں کہ: [اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں مگر جس چیز کے لیے وہ کوشش کرتا ہے] [ستارہ] تمام اعمال، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے صرف کچھ کوششوں کا ارادہ کیا ہے، تمام کا نہیں، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ تمام کوششیں چاہتا تو حج کرنے والے کے سوا حج نہ ہوتا۔ اگر کوئی شخص حج کرتا تو اس سے حج کا فرض ساقط نہ ہوتا۔ اس کی طرف سے، اور جس کی طرف سے حجت ثابت ہو اس کے لیے یہ مقدر نہیں ہے کہ وہ کسی اور کے لیے کوشش کرے، کیونکہ اس نے خود اس کام کے لیے کوشش نہیں کی۔

3725

Sahih Ibn Khuzaymah #3725

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ، وَهُوَ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Ali bin Khushram, who said: Isa informed us, on the authority of Ibn Jurayj, on the authority of Ibn Shihab, who said: Sulaiman bin Sinan narrated to us, on the authority of Ibn Abbas, who said: Al-Fadl reported that a woman from Khath'am said: "O Messenger of Allah (ﷺ), indeed my father is an old man upon whom the obligation of Hajj from Allah rests, yet he is unable to sit upright on the back of a camel."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میرا والد بوڑھا آدمی ہے اور اس پر اللہ کا فریضہ حج فرض ہے لیکن وہ اونٹ پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی طرف سے حج ادا کردو۔“

3726

Sahih Ibn Khuzaymah #3726

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الِاسْتِطَاعَةَ كَمَا قَالَهُ مُطَّلِبِيُّنَا- رَحِمَهُ اللَّهُ- اسْتِطَاعَتَانِ إِحْدَاهُمَا بِبَدَنِهِ مَعَ مِلْكِ مَالِهِ، يُمْكِنُهُ الْحَجُّ عَنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَالثَّانِيَةُ بِمِلْكِ مَالِهِ، يَحُجُّ عَنْ نَفْسِهِ غَيْرُهُ، كَمَا تَقُولُ الْعَرَبُ: أَنَا مُسْتَطِيعٌ أَنْ أَبْنِيَ دَارِي وَأَخِيطَ ثَوْبِي، يُرِيدُ بِالْأُجْرَةِ أَوْ لِمَنْ يُطِيعُنِي، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُسْتَطِيعٍ لِبِنَاءِ الدَّارِ وَخِيَاطَةِ الثَّوْبِ بِنَفْسِهِ.

EnglishUnverified translation

### And the proof that capability (istita'ah) is, as our companions (may Allah have mercy upon them) stated, of two types: the first is capability through one's own body along with ownership of wealth, enabling him to perform Hajj for himself and with his own wealth; and the second is capability through ownership of wealth alone, whereby someone else performs Hajj on his behalf. This is just as the Arabs say: "I am capable (mustati') of building my house and sewing my garment," meaning they can do so by hiring someone or through

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بات کا ثبوت کہ قابلیت، جیسا کہ ہمارے متلاشی - خدا نے اس پر رحم کیا - کہا، دو صلاحیتیں ہیں، جن میں سے ایک اس کے جسم کے ساتھ ہے اور اس کے پیسے کا قبضہ ہے، جو اسے حج کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اپنی طرف سے اور اپنے مال کی طرف سے اور دوسرا اپنے مال کی طرف سے کوئی دوسرا شخص اپنی طرف سے حج کر سکتا ہے جیسا کہ عرب کہتے ہیں: میں اپنا گھر خود بنا سکتا ہوں۔ اور میں اپنے کپڑے خود سلاتی ہوں، خواہ اجرت کے لیے ہوں یا کسی ایسے شخص کے لیے جو میری بات مانتا ہے، خواہ وہ گھر بنانے اور کپڑے خود سلانے پر قادر نہ ہو۔

3727

Sahih Ibn Khuzaymah #3727

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، وَيُونُسُ ، وَاللَّيْثُ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ بِيَدِهِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Isa ibn Ibrahim, who said: Narrated to us by Ibn Wahb, who said: It was informed to me by Malik, Yunus, Al-Layth, and Ibn Jurayj, from Ibn Shihab, from Sulayman ibn Yasar, that Abdullah ibn Abbas (RA) informed him, saying: Al-Fadl ibn Abbas (RA) was the rider behind the Messenger of Allah (ﷺ). A woman from the tribe of Khath'am came to the Messenger of Allah (

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسیٰ ابن ابراہیم نے ہمیں بتایا، ابن وھب نے ہمیں بتایا، مالک، یونس، لیث، اور ابن جریج نے مجھے خبر دی، ابن شہاب سے، سلیمان ابن یسار سے، کہ عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ) نے انہیں خبر دی، کہ فضل ابن عباس (رضی اللہ عنہ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیچھے سواری کر رہے تھے، تو خثعم کی ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آئی فتوی مانگنے، تو فضل اس کو دیکھنے لگے، اور وہ ان کو دیکھنے لگی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فضل کا رخ اپنا ہاتھ سے دوسری طرف پھیر دیا، عورت نے کہا: یا رسول اللہ، اللہ کی فرض حج میرے باپ پر آ گئی جو بہت بوڑھا شيخ ہے، وہ راہلہ پر ٹھہر نہیں سکتا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر دوں؟ تو آپ نے فرمایا۔

3728

Sahih Ibn Khuzaymah #3728

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ . ح وحَدَّثَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ، وَالْفَضْلُ رِدْفُهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، هَلْ تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', narrated to us Sufyan, who said: I heard al-Zuhri. And narrated to us al-Makhzumi, narrated to us Sufyan. And narrated to us 'Ali ibn Khashram, informed us Ibn 'Uyaynah, from al-Zuhri, from Sulayman ibn Yasar, from Ibn 'Abbas (RA) that a woman from Khath'am came to the Messenger of Allah (ﷺ) on the morning of the Day of Sacrifice (Yawm al-Nahr), while al-Fadl was riding behind him. She said: "O Messenger of Allah, Allah has made Hajj obligatory upon His servants, but my father is an old man who cannot hold on to the riding animal. Do you think that I should perform Hajj on his behalf?" He (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قربانی والے دن کی صبح کو خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جبکہ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ خود آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فریضہ حج میرے بوڑھے والد پر فرض ہو چکا ہے لیکن وہ سواری پر جم کر بیٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتا، آپ کیا حُکم دیتے ہیں، کیا میں اُن کی طرف سے حج ادا کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ جناب مخزومی کی روایت میں ہے کہ مزدلفہ کی صبح۔ اور کہا کہ میں ان کی طرف سے حج ادا کردوں اور یہ روایت نہیں کیے کہ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے۔ جناب علی بن خشرم کی روایت کا متن جناب عبدالجبار کی روایت جیسا ہی ہے صرف یہ فرق ہے کہ کیا میں اس کی طرف سے حج ادا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔

3729

Sahih Ibn Khuzaymah #3729

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، وَاللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ، قَالَ: فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ بِيَدِهِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn 'Abd al-Rahman ibn Wahb, narrated to us my uncle, who informed me Malik and al-Layth, from Ibn Shihab, that Sulayman ibn Yasar informed him that 'Abd Allah ibn 'Abbas informed him, who said: Al-Fadl ibn 'Abbas was riding behind the Messenger of Allah (ﷺ). A woman from Khath'am came to the Messenger of Allah (ﷺ) seeking his legal verdict. Al-Fadl began looking at her, and she began looking at him. The Messenger of Allah (ﷺ) then turned al-Fadl's face to the other side with his hand. She said, "O Messenger of Allah, the obligation of Hajj has come upon my father, who is an old man unable to remain firm on his riding beast. May I perform Hajj on his behalf?" He said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ (مزدلفہ کی صبح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے۔ تو ایک عورت خثعم قبیلے کی آئی، اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا، اس دوران سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نے اس عورت کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور وہ عورت بھی اُن کی طرف دیکھنے لگی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب کردیا۔ اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، الله تعالیٰ کا اپنے بندوں پرفریضہ حج میرے بوڑھے والد پر فرض ہوچکا ہے لیکن وہ سواری پر بیٹھنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ہیں، کیا میں اُن کی طرف سے حج ادا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ یہ واقعہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر پیش آیا تھا۔

3730

Sahih Ibn Khuzaymah #3730

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرِينَ، فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قُلْتُ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ الْعَبَّاسِ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ يَعْنِي لابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ وَالِدَةً لِي بِالْمِصْرِ، وَإِنِّي أَغْزُو فِي هَذِهِ الْمَغَازِي أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ، وَلَيْسَتْ مَعِي؟ قَالَ: أَفَلا أُنَبِّئُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ. أَمَرْتُ امْرَأَةَ سِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ أَنْ تَسْأَلَ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أُمَّهَا مَاتَتْ، وَمَا تَحُجُّ أَمَا تُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us ‘Imrān ibn Mūsā al-Qazzāz, on the authority of ‘Abd al-Wārith ibn Sa‘īd, who narrated to us Abū al-Tayyāḥ, who narrated to us Mūsā ibn Salamah al-Hudhalī, who said: Muḥammad ibn Salamah and I set out on an ‘umrah. When we arrived at al-Baṭḥā’, I said, “Let us go to Ibn ‘Abbās so that we may speak to him.” He said, “By Ibn ‘Abbās, my mother is in the city, and I go out on these expeditions. Would it suffice for her if I emancipate a slave on her behalf, though I do not have one with me?” Ibn ‘Abbās replied, “Shall I not tell you of something even more remarkable than that? A man asked the Messenger of Allāh (ﷺ) on behalf of his mother who had died, saying, ‘She never performed ḥajj. Would it suffice for her if I performed ḥajj on her behalf?’” The Messenger of Allāh (ﷺ) replied, “Yes.” ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب موسیٰ بن سلمہ ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لئے گئے، جب ہم وادی بطحا میں اُترے تو میں نے کہا کہ چلو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوکر اُن سے گفتگو کرتے ہیں۔ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میری والدہ محترمہ مصر میں ہیں اور میں ادھر غزوات میں شریک رہتا ہوں کیا اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو اُنھیں اس کا اجر وثواب ملے گا جبکہ وہ میرے ساتھ نہیں ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، کیا میں تمھیں اس سے بھی زیادہ تعجب والی بات نہ بتاؤں؟ میں نے سنان بن عبدالجہنی کی بیوی سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا یہ مسئلہ پوچھے کہ ان کی والدہ فوت ہوگئی ہیں اور انھوں نے حج نہیں کیا تھا، اگر وہ اُن کی طرف سے حج ادا کریں تو کیا وہ انھیں کفایت کریگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اگر اس کی والدہ کے ذمہ قرض ہوتا اور وہ ان کی طرف سے ادا کرتی تو کیا وہ اسے کفایت نہ کرتا، اُسے چاہیے کہ وہ اپنی والدہ کی طرف سے حج ادا کرے۔“

3731

Sahih Ibn Khuzaymah #3731

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ فُلانٌ الْجُهَنِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي مَاتَ، وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَمْ يَحُجَّ، أَوْ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Ahmad ibn Abdah narrated to us, Hammad ibn Zayd narrated to us, from Abu at-Tayyah, from Musa ibn Salamah, who said: I heard Ibn Abbas (RA) say: A man from the tribe of Juhaynah said: "O Messenger of Allah (ﷺ), my father has died; he was an old man who had not performed Hajj, or he was unable to perform Hajj." The Prophet (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فلاں جہنی شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میرے والد بڑھاپے میں فوت ہو گئے ہیں اور حج نہیں کر سکے، یا وہ حج کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔“

3732

Sahih Ibn Khuzaymah #3732

وَالْفَرْقُ بَيْنَ الْعَاجِزِ عَنِ الْحَجِّ بِبَدَنِهِ لِكِبَرِ السِّنِّ، وَبَيْنَ الْعَاجِزِ عَنِ الْحَجِّ لِمَرَضٍ قَدْ يُرْجَى لَهُ الْبُرْءُ إِذِ الْعَاجِزُ لِكِبَرِ السِّنِّ لَا يَحْدُثُ لَهُ شَبَابٌ وَقُوَّةٌ بَعْدُ، وَالْمَرِيضُ قَدْ يَصِحُّ مِنْ مَرَضِهِ بِإِذْنِ اللَّهِ.

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA) — he said: Narrated to us Sulaymān ibn Bilāl (RA) — from Yaḥyā ibn Saʿīd (RA) — from Muḥammad ibn Yaḥyā ibn Ḥabbān (RA) — from ʿAbd Allāh ibn ʿUmar (RA) who said: The distinction between the one unable to perform Hajj due to old age and the one unable to perform Hajj due to illness from which recovery is hoped, is that the one unable due to old age will never regain youth and strength again, whereas the sick person may, by Allah’s permission, recover from his illness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بڑھاپے کی وجہ سے حج سے عاجز شخص اور کسی بیماری کی وجہ سے عاجز شخص میں فرق ہے کیونکہ بڑھاپے کی وجہ سے عاجز ہونے والے شخص کو دوبارہ جوانی اور قوت نہیں مل سکتی جبکہ بیمار شخص اللہ تعالیٰ کے حُکم اور رحمت سے صحت یاب ہوسکتا ہے

3733

Sahih Ibn Khuzaymah #3733

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Ar-Rabi' bin Sulaiman, who said: Al-Shafi'i said: Malik informed us. [And in another narration] Narrated to us Yunus bin Abd al-A'la, who said: Ibn Wahb informed us that Malik informed him, from Ibn Shihab, from Sulaiman bin Yasar, from Ibn Abbas, who said: Al-Fadl bin Abbas was the rider behind the Prophet (ﷺ). A woman from the tribe of Khath'am came to him seeking a legal ruling (fatwa

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت آپ سے مسئلہ پوچھنے کے لئے آئی۔ تو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُسے دیکھنا شروع کردیا اور اُس نے بھی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھنا شروع کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کا چہرہ اپنے دست مبارک سے دوسری طرف پھیر دیا۔ اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فریضہ حج میرے بوڑھے باپ پر فرض ہوگیا ہے اور وہ سواری پر جم کر بیٹھنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا، کیا میں اس کی طرف سے حج ادا کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اور یہ واقعہ حجة الوداع کا ہے۔

3734

Sahih Ibn Khuzaymah #3734

بِمِثْلِ اللَّفْظَةِ الَّتِي ذَكَرْتُ أَنَّهَا مُجْمَلَةٌ غَيْرُ مُفَسَّرَةٍ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA), he said: Narrated to us Mālik ibn Anas (RA), on the authority of Ibn Shihāb al-Zuhrī (RA), from Ḥumayd ibn ʿAbd al-Raḥmān (RA), from Abū Hurayrah (RA), that the Messenger of Allāh (ﷺ) said: *"Allāh has ninety-nine names, one hundred less one. Whoever enumerates them will enter Paradise."* ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس سلسلے میں حدیث کے الفاظ مجمل ہیں تفصیلی نہیں ہیں (یعنی حدیث میں بوڑھے آدمی کی طرف سے حج کرنے کا ذکر ہے عورت کا ذکر نہیں ہے مگر مرد وعورت دونوں کی طرف سے حج کیا جاسکتا ہے۔)

3735

Sahih Ibn Khuzaymah #3735

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: بَلَغَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ أَدْرَكَ الإِسْلامَ، وَلَمْ يَحُجَّ وَلا يَسْتَمْسِكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، وَإِنْ شَدَدْتُهُ بِالْحَبَلِ عَلَى الرَّاحِلَةِ خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

### Muhammad ibn Maymun al-Jazzar narrated to us, saying: Yahya ibn Abi al-Hajjaj narrated to us, saying: Awn narrated to us, from Al-Hasan, who said: It reached me that a man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said, "Indeed, my father is an old man who embraced Islam, yet he has not performed Hajj, nor can he hold onto his mount (camel) firmly. If I tie him with a rope to the mount, I

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام حسن بصری رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اُس نے عرض کیا کہ میرے بوڑھے والد نے اسلام قبول کیا ہے اور اُس نے حج نہیں کیا اور نہ وہ سواری پر جم کر بیٹھ سکتا ہے اور اگر میں اُسے رسّی کے ساتھ سواری پر باندھ دوں تو مجھے ڈر ہے کہ میں اسے قتل کر بیٹھوں گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو “

3736

Sahih Ibn Khuzaymah #3736

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: السَّائِلُ سَأَلَ عَنْ أُمِّهِ.

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Mansur narrated to us, saying: Yahya bin Abi Al-Hajjaj narrated to us, on the authority of Awf, on the authority of Ibn Sirin, on the authority of Abu Hurairah (RA), from the Prophet (ﷺ), with a narration similar to that (of the previous hadith), except that he said: "The questioner asked about his mother."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا کی طرح مروی ہے صرف یہ فرق ہے کہ اس روایت میں ہے کہ ایک سائل نے اپنی والدہ کے بارے میں سوال کیا۔

3737

Sahih Ibn Khuzaymah #3737

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْأَخْبَارَ الَّتِي ذَكَرْتُ فِي أَنَّهَا مُجْمَلَةٌ غَيْرُ مُفَسَّرَةٍ عَلَى مَا ذَكَرْتُ، إِذْ لَيْسَ فِي تِلْكَ الْأَخْبَارِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ مَنْ أَمَرَهُ أَنْ يَحُجَّ عَنْ غَيْرِهَا هَلْ حَجَّ عَنْ نَفْسِهِ أَمْ لَا؟ هَذَا الْخَبَرُ دَالٌّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ مَنْ قَدْ حَجَّ عَنْ نَفْسِهِ أَنْ يَحُجَّ عَنْ غَيْرِهِ، لَا مَنْ لَمْ يَحُجَّ عَنْ نَفْسِهِ.

EnglishUnverified translation

And the evidence that the narrations I have mentioned are general and not specifically detailed as I have stated is that in those narrations, there is no mention of the Prophet (ﷺ) asking the person he commanded to perform Hajj on behalf of another whether he had performed Hajj on his own behalf or not. This narration indicates that the Prophet (ﷺ) only commanded those who had already performed Hajj on their own behalf to perform Hajj on behalf of others, and not those who had not performed Hajj on their own behalf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بات کی دلیل ہے کہ جو خبر میں نے بیان کی ہے وہ خلاصہ ہے اور جو میں نے بیان کیا ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کیونکہ اس خبر میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور کی طرف سے حج کرنے کا حکم دینے والے سے پوچھا کہ کیا اس نے اپنی طرف سے حج کیا یا نہیں؟ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اپنی طرف سے حج کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ کسی اور کی طرف سے حج کرے، نہ کہ اس شخص کی طرف سے جس نے اپنی طرف سے حج نہ کیا ہو۔

3738

Sahih Ibn Khuzaymah #3738

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Harun bin Ishaq narrated to us, saying: 'Abdah bin Sulayman narrated to us, on the authority of Sa'id, who narrated from Qatadah, who narrated from Azrah, who narrated from Sa'id bin Jubayr, from Ibn 'Abbas (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) heard a man saying, "Labbaik (I am at Your service) on behalf of Shubrumah." He (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ان الفاظ میں حج کی نیت کر تے ہوئے سنا کہ اے اللہ، میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔ آپ نے پوچھا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اُس نے عرض کیا؟ میرا بھائی یا میرا قریبی رشتہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنی طرف سے بھی حج کرلیا ہے؟“ اُس نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس حج کو اپنی طرف سے ادا کرو پھر شبرمہ کی طرف سے ادا کرنا۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت میں ہے کہ جو شخص کسی دوسرے شخص کی طرف سے تلبیہ پکارے اور اُس نے اپنا حج نہ کیا ہو تو اُسے وہ حج اپنی طرف سے ادا کرنا چاہیے۔

3739

Sahih Ibn Khuzaymah #3739

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ سَلامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ رَزِينٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَلا الظَّعْنَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn 'Abd al-A'la al-San'ani, narrated to us Khalid — meaning ibn al-Harith, narrated to us Shu'bah, who said: I heard al-Nu'man ibn Salamah say: I heard 'Amr ibnAws narrate, on the authority of Ibn Razin, that he said: "O Messenger of Allah (ﷺ), my father is an old man who is unable to perform Hajj, 'Umrah, or travel." ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن رزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میرے والد صاحب بوڑھے شخص ہیں جو حج وعمرہ ادا کرنے اور سفر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج اورعمرہ ادا کرلو“۔

3740

Sahih Ibn Khuzaymah #3740

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ لِتَشْبِيهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَذْرُ الْحَجِّ بِالدَّيْنِ

EnglishUnverified translation

And the evidence that it (the vow) is from all of the wealth is that the Prophet (ﷺ) likened the vow of Hajj to a debt.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ مرنے والے کے پورے مال میں سے نذر (حج وغیرہ) پوری کرنی چاہیے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی نذر کو قرض کے ساتھ تشبیہ دی ہے (اور قرض کل مال سے ادا کیا جاتا ہے، ایک تہائی مال سے نہیں)

3741

Sahih Ibn Khuzaymah #3741

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَمَاتَتْ، فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Bundar, who narrated to us from Muhammad bin Ja'far, who narrated to us from Shu'bah, from Abu Bisr, who said: I heard Sa'id bin Jubayr narrating from Ibn 'Abbas (RA) that a woman made a vow to perform Hajj, but she passed away before fulfilling it. Her brother then came to the Prophet (ﷺ) and asked him about this. He (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے حج کرنے کی نذر مانی پھر وہ فوت ہوگئی تو اس کا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے یہ مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا کیا خیال ہے، اگر تمھاری بہن مقروض ہوتی تو کیا تم اس کا قرض ادا کر دیتے؟“ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض (حج کی نذر) ادا کرو کیونکہ الله کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“

3742

Sahih Ibn Khuzaymah #3742

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، عَنِ الشَّافِعِيِّ ، أَخْبَرَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: هَكَذَا حَفِظْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ وَزَادَ: فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلْ يَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ar-Rabee' on the authority of Ash-Shaafi'ee, who informed us Ibn 'Uyaynah, who said: I heard Az-Zuhree narrating, on the authority of Sulaymaan ibn Yasaar, on the authority of Ibn 'Abbaas (RA), that a woman from Khath'am asked the Prophet (ﷺ), and he mentioned the hadith, and he said: Sufyaan said, "This is how I memorized it from Az-Zuhree." And 'Amr ibn Deenaar informed me, on the authority of Az-Zuhree, from Sulaymaan ibn Yasaar, from Ibn 'Abbaas (RA), similar to it, and he added: So she said, "O Messenger of Allah, will that benefit him?" So he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، پھرمکمّل حدیث بیان کی۔ جناب سلیمان بن یسار کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اُس عورت نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، کیا میرا اُس کی طرف سے حج ادا کرنا اُسے نفع دیگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں جیسا کہ اگر اس پرقرض ہوتا اور ادا کرتیں تو وہ اسے نفع دیتا۔“

3743

Sahih Ibn Khuzaymah #3743

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali bin Hujr, who said: Narrated to us Isma'il bin Ja'far, who said: Narrated to us Amr, who is the son of Abu Amr, from Abdur-Rahman al-A'raj, from Abu Hurairah (RA),

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو اس حال میں دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان اُن کا سہارا لیکر گھسٹ کر چلا آ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس بوڑھے شخص کو کیا ہوا ہے؟“ اُس کے دونوں بیٹوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، بابا جی نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہوئی ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بڑے میاں؟ سوار ہو جا، بیشک الله تعالیٰ تم سے اور تمھاری ایسی نذر سے بے پرواہ ہے۔

3744

Sahih Ibn Khuzaymah #3744

حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: إِمَّا سَمِعْتُ أَنَسًا ، وَإِمَّا عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا كَبِيرًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us al-Sana'ani, narrated to us Bushr, narrated to us Humayd, who said: I either heard it directly from Anas (RA) or it was narrated to me from Thabit, from Anas (RA). And narrated to us Muhammad ibn Yahya ibn Fayyad, narrated to us 'Abd al-Samad, narrated to us Humayd, from Thabit, from Anas (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) saw an elderly man being supported between his two sons. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صنعانی نے ہمیں بتایا، بشر نے ہمیں بتایا، حمید نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: میں نے یا تو انس رضی اللہ عنہ سے براہ راست سنا، یا ثابت سے، انس رضی اللہ عنہ سے۔ اور محمد بن یحیی بن فیاض نے ہمیں بتایا، عبدالصمد نے ہمیں بتایا، حمید نے ہمیں بتایا، ثابت سے، انس رضی اللہ عنہ سے، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان سہارا لے کر چل رہا تھا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

3745

Sahih Ibn Khuzaymah #3745

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتِهِ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad bin Bashshar, who said: Narrated to us Abu Dawud, who said: Narrated to us Hammam, on the authority of Qatadah, on the authority of Ikrimah, on the authority of Ibn Abbas, on the authority of Uqbah bin Amir, that he asked the Prophet (ﷺ) about his sister who had vowed to walk to the Ka'bah. He (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بہن کے بارے میں مسئلہ پوچھا، جس نے کعبہ شریف تک پیدل چلنے کی نذر مانی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالی تمھاری بہن کی نذر سے بے نیاز ہے۔ اسے چاہیے کہ سواری پر بیٹھ جائے اور ایک اونٹ قربانی کے لئے مکّہ کرّمہ لے جائے۔“

3746

Sahih Ibn Khuzaymah #3746

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِالْمَشْيِ، فَيَعْجِزُ فَيَرْكَبُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :

EnglishUnverified translation

Narrated to us Muhammad bin Rafi', narrated to us Yahya, meaning Ibn Adam, narrated to us Shurayk, from Abu Ishaq, regarding a man who swears an oath to walk, but then becomes unable to do so and rides instead. He said: Ibn Abbas said: [The text ends here in the provided source, implying the ruling or statement of Ibn Abbas follows in the complete narration].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابواسحاق رحمه الله اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے پیدل چل کر حج کرنے کی قسم کھائی، پھر وہ پیدل چلنے سے عاجز آ جائے تو وہ سواری پر بیٹھ جائے اور فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا کہ وہ آئندہ سال حج کرے تو جتنا سفر چاہے سواری پر بیٹھ کر کرلے اور جتنا چاہے پیدل کرلے اور سوار ہو کر سفر کرلے۔ جناب کریب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت سوار ہو جائے اور اپنی قسم کا کفّارہ ادا کرے۔“

3747

Sahih Ibn Khuzaymah #3747

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي جَعَلَتْ عَلَيْهَا الْمَشْيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Abu 'Ammar, who narrated from Al-Fadl bin Musa, who narrated from Shurayk, who narrated from Muhammad, the freed slave of Abu Talhah, who narrated from Kurayb, who narrated from Ibn 'Abbas (RA) that a man came to the Prophet (ﷺ) and said, "My sister has made a vow to walk to the House (the Ka'bah)." He (the Prophet ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو اُس نے عرض کیا کہ میری بہن نے بیت اللہ شریف تک (حج کے لئے) پیدل چلنے کی قسم کھائی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ تمھاری بہن کی مشقّت اور بدحالی کا کچھ نہیں کریگا (وہ بے نیاز ہے) تم اپنی بہن سے کہو کہ وہ سواری پر بیٹھ کر حج کرے اور اپنی قسم کا کفّارہ دیدے۔“

3748

Sahih Ibn Khuzaymah #3748

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي ضَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلانٍ قَدْ زَنَتْ، أَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا، فَرَدَّهَا عَلِيٌّ، وَقَالَ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، أَتَرْجِمُ هَذِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la and Muhammad ibn 'Abd Allah ibn al-Hakam, both said: Narrated to us Ibn Wahb, who informed me Jarir ibn Hazim, on the authority of Sulayman ibn Mihran, on the authority of Abu Dabyan, on the authority of Ibn 'Abbas (RA), who said: 'Ali ibn Abi Talib (RA) passed by a woman from the tribe of Banu Fulan who had been afflicted with madness and had committed fornication. 'Umar (RA) had ordered that she be stoned. 'Ali (RA) turned her away and said to 'Umar (RA): "O Commander of the Faithful, will you stone this woman?" He said: "Yes." He said: "Do you not remember that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا على رضی اللہ عنہ فلاں قبیلے کی ایک مجنون عورت کے پاس سے گزرے جس نے زنا کرلیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُسے رجم کرنے کا حُکم دیا تھا، سیدنا على رضی اللہ عنہ نے اُس عورت کو واپس بھیج دیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے امیر المؤمنین، کیا آپ اس عورت کو رجم کرنا چاہتے ہیں؟ اُنھوں نے فرمایا کہ ہاں۔ سیدنا على رضی اللہ عنہ نے گزارش کی کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تین قسم کے افراد سے قلم اُٹھا لیا گیا ہے، مجنون شخص سے جس کی عقل و وہم ختم ہو جائے حتّیٰ کہ وہ صحت مند ہو جائے، دوسرا وہ شخص جو سویا ہوا ہو حتّیٰ کہ وہ بیدار ہو جائے، تیسرا وہ چھوٹا بچّہ ہے حتّیٰ کہ وہ بالغ ہوجائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا۔ پھر اُس عورت کو رہا کردیا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں میرے نزدیک اس بات کی دلیل ہے کہ مجنون شخص جب اپنی حالت جنون میں حج کرکے پھر وہ تندرست ہو جائے تو اُس کا یہ حج اُسے کافی نہیں ہوگا۔ جیسا کہ بچّے کا بلوغت سے پہلے کیا ہوا حج فرض حج سے کافی نہیں ہوتا۔

3749

Sahih Ibn Khuzaymah #3749

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA), he said: Narrated to us Mālik ibn Anas (RA), on the authority of Ibn Shihāb al-Zuhrī (RA), on the authority of Abū Bakr ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn al-Ḥārith ibn Hishām (RA), on the authority of Abū Hurayrah (RA) that the Messenger of Allāh (ﷺ) said: "When one of you stands for prayer, he is conversing with his Lord, so let him not spit to his right, nor to his left, but to his left or beneath his feet."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تین افراد سے قلم اُٹھایا لیا گیا ہے: اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ان افراد پر وہ گناہ نہیں لکھے جائیںگے جو ایک بالغ شخص کے ارتکاب پر لکھے جاتے ہیں

3750

Sahih Ibn Khuzaymah #3750

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَرَ مِنْ مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ اسْتَقْبَلَهُ رَكْبٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abd al-Jabbar ibn al-'Ala', narrated to us Sufyan, who said: I heard it from Ibrahim ibn 'Uqbah, who said: I heard Kurayb narrating, on the authority of Ibn 'Abbas (RA), that the Prophet (ﷺ) set out from Makkah. When he reached al-Rawha', a group of riders came towards him, and he greeted them, saying: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ سے واپس روانہ ہوئے تو جب آپ روحاء مقام پر پہنچ تو آپ کی ملاقات ایک قافلے سے ہوئی، آپ نے اُنھیں سلام کیا اور پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ انھوں نے جواب دیا کہ ہم مسلمان ہیں۔ پھر اُنھوں نے عرض کیا کہ آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں“ اُن میں سے ایک عورت گھبرا گئی اور اُس نے اپنے بچّے کو جھولے سے نکال کر بازو سے پکڑ کر اوپر اُٹھایا اور بولی کہ اے اللہ کے رسول، کیا اس بچّے کا حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہے اورتمھیں اس کا اجر ملے گا “ جناب ابراہیم بن عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابن منکدر کو سنائی تو اُنھوں نے اپنے سب گھر والوں سمیت حج کیا۔ جناب سفیان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ وہ عورت گھبراگئی اور وہ بولی، کیا اس کا حج ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (ہاں) اور تمھیں اس کا اجر ملے گا۔ “ یہ الفاظ بیان کیے ہیں۔

3751

Sahih Ibn Khuzaymah #3751

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār, narrated to us Muḥammad ibn al-Minhāl, narrated to us Yazīd ibn Zurayʿ, narrated to us Shuʿbah, on the authority of al-Aʿmash, from Abī Ṭabyān, from Ibn ʿAbbās (RA) that the Prophet (ﷺ) said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بچّہ حج کرلے تو بالغ ہونے تک اُس کا یہ حج کافی ہے۔ پھر جب بالغ ہو جائے تو اُسے ایک اور حج کرنا پڑیگا اور جب بدوی حج کرلے تو وہ اُس کا حج ہے، پھر جب وہ ہجرت کرکے (مدینہ منوّرہ آجائے) تو اُس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہے۔ جناب ابوظبیان سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی حدیث موقوف بیان کرتے ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق یہ موقوف حدیث (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذاتی قول) ہی صحیح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ کہ جب بدوی حج کرلے (تو اُس کا حج اُسے ہجرت کرنے تک کافی ہوگا اور ہجرت کرنے کے بعد دوبارہ حج کرنا پڑیگا) یہ مسئلہ اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں، میں کہتا ہوں کہ حُکم بعض اوقات کے لئے ہے تمام اوقات کے لئے نہیں ہے۔ اگر یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائیں تو پھر یہ حُکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکّہ فتح کرنے سے پہلے کے لئے ہے۔ پھر جب مکّہ مکرّمہ کو آپ نے فتح کرلیا اور آپ نے بتادیا کہ فتح مکّہ کے بعد ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو پھر حج کے حُکم میں بدوی اور مہاجر برابر ہوگئے۔ لہٰذا بدوی جب حج کریگا تو وہ اسے کافی ہوگا جیسا کہ مہاجر کا جو اسے کافی ہوتا ہے۔ کیونکہ فتح مکّہ کے بعد ہجرت کا حُکم ختم ہوگیا ہے۔

3752

Sahih Ibn Khuzaymah #3752

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ أَكْرَ الْمَرْءِ نَفْسَهُ فِي الْعَمَلِ طَلْقٌ مُبَاحٌ، إِذْ هُوَ مِنِ ابْتِغَاءِ فَضْلِ اللَّهِ لِأَخْذِهِ الْأُجْرَةَ عَلَى ذَلِكَ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-Muthanna, narrated to us Abu Dawud, narrated to us al-Hasan ibn ‘Ali al-Khallal, narrated to us Abu ‘Abdillah al-Hajjaj ibn Minhal, narrated to us Hammad ibn Salamah, from ‘Ali ibn Zayd, from Abu ‘Uthman, who said: The evidence that a person’s exerting himself in good works is permissible is that it is done seeking the bounty of Allah, thereby earning reward for it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس کی دلیل یہ ہے کہ جائز کاموں میں پیسے معاوضہ لینا مطلقاً درست ہے کیونکہ یہ اللہ کے فضل (تجارت) پر محنت مزدوری لی جارہی ہے اور یہ اجرت لینا جائز ہے

3753

Sahih Ibn Khuzaymah #3753

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : إِنَّا قَوْمٌ نُكْرِي فِي هَذِهِ الْوَجْهِ، وَإِنَّ قَوْمِي يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لا حَجَّ لَنَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَسْتُمْ تَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ؟ أَلَسْتُمْ تَسْعَوْنَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ أَلَسْتُمْ، أَلَسْتُمْ، إِنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ مِثْلَ مَا سَأَلَتْنِي فَلَمْ يَدْرِ مَا يَرُدُّ عَلَيْهِ حَتَّى نَزَلَتْ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198، فَدَعَاهُ فَتَلاهَا عَلَيْهِ، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Al-Hasan bin Muhammad Az-Za'farani, who said: Narrated to us Marwan bin Mu'awiyah, who said: Narrated to us Al-Ala' bin Al-Musayyib, from Abu Umamah At-Taymi, who said: I said to Ibn Umar, "We are a people who engage in trade during this journey (Hajj), and my people claim that our Hajj is not valid." Ibn Umar replied, "Do you not circumambulate the House? Do you not

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابوامامہ التیمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ بیشک ہم لوگ سفر حج میں لوگوں کو کرائے پر سواریاں مہیا کرتے ہیں اور میری قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا حج ادا نہیں ہوتا (کیونکہ ہم کرائے پر دیئے ہوئے اونٹوں کو چلاتے ہیں) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، کیا تم بیت الله کا طواف نہیں کرتے ہو؟ کیا تم صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتے ہو؟ کیا تم حج کے فلاں فلاں اعمال ادا نہیں کرتے ہو؟ بیشک ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اُس نے آپ سے ایسا ہی سوال پوچھا جیسا تم نے مجھ سے پوچھا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا جواب معلوم نہ تھا حتّیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ» [ سورة البقرة: 198] ”تم پرکوئی گناہ نہیں کہ تم (حج کے دوران) اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ چنانچہ آپ نے اُس شخص کو بلایا اور اُسے یہ آیت تلاوت کرکے سنائی اور فرمایا: ”کہ تم بھی حاجی ہو۔“

3754

Sahih Ibn Khuzaymah #3754

بِهَذَا الإِسْنَادِ، حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ ، وَأَنَا بَرِيءٌ مِنْ عُهْدَتِهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّمِيمِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

With this same chain of narration, Al-Za'farani narrated to us, stating: Asbat ibn Muhammad al-Qurashi narrated to us, from Al-Hasan ibn Amr al-Fuqaymi, and I am absolved from responsibility regarding him, from Abu Umamah al-Tamimi, who said: I said to Ibn Umar, and he mentioned something similar to the previous narration.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام صاحب نے نے گزشتہ حدیث کی ایک اور سند بیان کی۔

3755

Sahih Ibn Khuzaymah #3755

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْأَجِيرَ إِذَا أَجَّرَ نَفْسَهُ بِكَذَا، وَحَجَّ عَنْ نَفْسِهِ كَانَتْ لَهُ الْأُجْرَةُ عَلَى مُسْتَأْجِرِهِ، وَأَدَاءُ الْفَرْضِ عَنْ نَفْسِهِ جَائِزٌ

EnglishUnverified translation

The evidence that if a hired person hires himself out for a specific wage and then performs Hajj on his own behalf, he is entitled to receive his wage from his employer, and that it is permissible for him to fulfill the obligatory duty on his own behalf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

دلیل یہ ہے کہ اگر مزدور اپنے آپ کو فلاں فلاں کے لیے کرایہ پر دے اور اپنی طرف سے حج کرے تو وہ اپنے کرایہ دار سے کرایہ اور اس کی طرف سے فرض ادا کرنے کا حقدار ہے۔ اسی طرح جائز ہے۔

3756

Sahih Ibn Khuzaymah #3756

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَجَّرْتُ نَفْسِي مِنْ قَوْمٍ فَتَرَكْتُ لَهُمْ بَعْضَ أُجْرَتِي أَوْ أَجْرِي لَوْ يُخَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَنَاسِكِ، فَهَلْ يُجْزِئُ ذَلِكَ عَنِّي؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Yahya, narrated to us 'Abd al-Razzaq, who said: Ma'mar informed us, from 'Abd al-Karim al-Jazari, from Sa'id ibn Jubayr, who said: A man came to Ibn 'Abbas and said, "I have hired myself out to some people, and they have left some of my wage or wages for me if they would let me go to the places of Hajj. Does that suffice for me?" Ibn 'Abbas said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب سعید بن جبیر رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور اُس نے عرض کیا کہ میں نے ایک قوم کی مزدوری کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا پھر میں نے اپنی مزدوری یا ساری مزدوری اس شرط پر چھوڑ دی کہ وہ مجھے مناسک حج ادا کرنے کی اجازت دیںگے تو کیا میرا حج میرے لئے کافی ہوگا؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، ہاں یہ شخص اُن لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا «أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا ۚ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ سورة البقرة: 202] انہی لوگوں کے لئے ان کی کمائی کا حصّہ ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔“

3757

Sahih Ibn Khuzaymah #3757

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الِاشْتِغَالَ بِمَا أَبَاحَ اللَّهُ مِنْ طَلَبِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ أَيَّامَ الْمَوْسِمِ فِي غَيْرِ الْأَوْقَاتِ الَّذِي يَشْتَغِلُ الْمَرْءُ عَنْ أَدَاءِ الْمَنَاسِكِ لَا يَنْقُصُ أَجْرَ الْحَاجِّ، وَلَا يُبْطِلُ الْحَجَّ، وَلَا يُوجِبُ عَلَيْهِ هَدْيًا وَلَا صَوْمًا وَلَا صَدَقَةً

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn al-Muthanna – narrated to us Abu Dawud – narrated to us al-Hasan ibn ‘Ali – narrated to us Zayd ibn al-Hubab – narrated to us ‘Abd al-Rahman ibn Abi al-Zinad – from his father – from Kharijah ibn Zayd ibn Thabit – from his father – that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The evidence that engaging in what Allah has permitted of seeking lawful wealth during the days of the season (of Hajj), at times when one is not occupied with performing the rites, does not diminish the reward of the pilgrim, nor does it invalidate the Hajj, nor does it necessitate upon him an expiatory offering (hady), fasting, or charity.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس بات کا ثبوت ہے کہ اپنے آپ کو ان چیزوں میں مشغول رکھنا جس کی خدا نے اجازت دی ہے، جیسے کہ پیسے کی تلاش، موسم کے ان دنوں میں جائز ہے جب کوئی شخص اپنے فرائض کی انجام دہی سے غافل ہو۔ عبادات حاجی کے ثواب میں کمی نہیں کرتیں، حج کو باطل نہیں کرتیں اور اس پر قربانی، روزہ یا صدقہ کی پابندی نہیں کرتیں۔

3758

Sahih Ibn Khuzaymah #3758

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ مَسْعَدَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا فِي أَوَّلِ الْحَجِّ يَبْتَاعُونَ بِمِنًى، وَعَرَفَةَ، وَسُوقِ ذِي الْمَجَازِ، وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ، فَخَافُوا الْبَيْعَ، وَهُمْ حُرُمٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198، فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ ، فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُهَا فِي الْمُصْحَفِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, who said: Narrated to us Hammad—meaning ibn Mas'adah—who said: Narrated to us Ibn Abi Dhi'b, on the authority of 'Ata', on the authority of 'Ubayd ibn 'Umayr, on the authority of Ibn 'Abbas (RA), that the people, in the early days of Hajj, used to engage in trade at Mina, 'Arafah, the market of Dhu'l-Majaz, and the Hajj gatherings. They feared that trade might be impermissible while they were in a state of ihram. So Allah, the Exalted, revealed the verse: *"There is no blame upon you for seeking bounty from your Lord during the Hajj gatherings."* (Quran 2:198) 'Ubayd ibn 'Umayr (RA) informed me that he used to recite this verse in the Mushaf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ پہلے جب میں منیٰ، عرفہ اور ذی المجاز بازار میں موسم حج میں خرید و فروخت کرتے تھے، پھر وہ ڈر گئے کہ وہ حالت احرام میں خرید و فروخت کرتے ہیں، تو الله تعالی نے یہ آیت نازل فرمادی «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ» [ سورة البقرة: 198] ”تم پرکوئی گناہ نہیں کہ تم (حج کے دوران) اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ جناب عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما في مواسم الحج (حج کے موسم میں) یہ الفاظ آیت کے ساتھ قرآن مجید میں تلاوت کرتے تھے۔ “

3759

Sahih Ibn Khuzaymah #3759

ثنا ثنا بُنْدَارٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ. ح وثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقْرَأُهَا: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198، فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār, narrated to us Abū Bakr al-Ḥanafiyy, narrated to us Ibn Abī Dhi’b with this chain in similar wording. Also narrated to us Aḥmad ibn ‘Abdah, informed us Ḥammād ibn Zayd, from ‘Ubayd Allāh ibn Abī Yazīd, who said: I heard Ibn al-Zubayr reciting this verse: *"There is no blame upon you for seeking bounty from your Lord"* (Qur’an 2:198) during the seasons of Hajj.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب عبید اللہ بن ابی یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ فِى مَوَاسِم الْحَجّ» ”تم پرکوئی گناہ نہیں ہے کہ تم موسم حج میں اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“

3760

Sahih Ibn Khuzaymah #3760

وَالدَّلِيلُ عَلَى ضِدِّ مَا تَوَهَّمَهُ الْعَامَّةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحُجِّ إِلَّا حَجَّةً وَاحِدَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا حَجَّ حَجَّةً وَاحِدَةً بَعْدَ هِجْرَتِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَمَّا مَا قَبْلَ الْهِجْرَةِ فَقَدَ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ تِلْكَ الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّهَا مِنَ الْمَدِينَةِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Yaḥyā al-Tamīmī (RA): It is established against what the general public has assumed that the Prophet (ﷺ) performed only one Hajj. The Prophet (ﷺ) indeed performed only one Hajj after his migration to Madīnah. As for before the migration, the Prophet (ﷺ) had performed Hajj other than the one he performed from Madīnah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عام لوگ جو تصور کرتے ہیں اس کے خلاف ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک حج کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک حج کیا۔ مدینہ ہجرت کے بعد آپ نے ایک حج کیا۔ ہجرت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے حج کے علاوہ ایک اور حج بھی کیا۔

3761

Sahih Ibn Khuzaymah #3761

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ رَاهِبُ الْكُوفَةِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،

EnglishUnverified translation

### HADITH N 3761 ** Narrated to us Abdullah ibn al-Hakam ibn Abi Ziyad al-Qataniy (the ascetic of Kufah), who said: Narrated to us Zayd ibn al-Hubab, who said: Narrated to us Sufyan al-Thawri. And also narrated to us Ahmad ibn Yahya al-Sadafi, who said: Narrated to us Zayd, who said: Sufyan al-Thawri narrated to me, from Ja'far ibn Muhammad, from his father, from Jabir ibn Abdullah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The best of you are those who have the best character."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن حکم بن ابو زیاد قطوانی (کوفے کے راہب) نے ہمیں بتایا، زید بن حباب نے ہمیں بتایا، سفیان ثوری نے ہمیں بتایا۔ اور احمد بن یحیی صدفی نے ہمیں بتایا، زید نے ہمیں بتایا، سفیان ثوری نے مجھے بتایا، جعفر بن محمد سے، ان کے والد سے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "تمہارے بہترین وہ ہیں جن کا خلق بہترین ہے۔""

3762

Sahih Ibn Khuzaymah #3762

وَالْبَيَانُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَجَّ قَبْلَ هِجْرَتِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا كَمَا مَنْ طَعَنَ فِي هَذَا الْخَبَرِ، وَادَّعَى أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yaḥyā ibn Muʿīn: Narrated to us Muḥammad ibn ʿAbd Allāh al-Anṣārī: Narrated to us Muḥammad ibn Ismāʿīl al-Aḥmadī: From Zayd ibn al-Ḥubāb, who said: I heard Sufyān al-Thawrī say: The clarification is that the Prophet (ﷺ) indeed performed Hajj before his migration to Madīnah, not as those who cast doubt upon this report and claimed that this report was only narrated by none other than Zayd ibn al-Ḥubāb.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ سے پہلے بھی حج کیا تھا۔ اس عالم دین کے موقف کے برخلاف جس نے اس حدیث کی صحت میں تنقید کی ہے اور دعوٰی کیا ہے کہ اس حدیث کو صرف زید بن حباب ہی بیان کرتا ہے۔ (اور وہ امام ثوری سے روایت کرنے میں ضعیف ہے)

3763

Sahih Ibn Khuzaymah #3763

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا سَلِمُ ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

### ** Narrated to us Muhammad ibn 'Isa, narrated to us Salam, who said: Then Muhammad ibn Ishaq narrated to me, from 'Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn 'Amr ibn Hazm al-Ansari, from 'Uthman ibn Abi Sulayman ibn Jubayr ibn Mut'im, from his uncle Nafi' ibn Jubayr, from his father Jubayr ibn Mut'im, who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ پر وہی نازل ہونے سے پہلے دیکھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار کھڑے تھے۔ آپ اُن کے ساتھ ہی میدان عرفات سے واپس ہوئے تھے۔ اور آپ کا یہ کا م خالص الله تعالیٰ کی توفیق سے تھا (کیونکہ قریش خود کو دین کا علمبر دار سمجھتے ہوئے حدودحرم سے باہر نہیں نکلتے تھے۔) امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ان کا یہ قول آپ پر وحی نازل ہونے سے پہلے۔ ممکن ہے اس سے مراد اس آیت کے نزول سے پہلے ہو «ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ» [ سورة البقرة: 199 ] ”پھر تم بھی وہیں سے واپس لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں“ یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ مکمّل قرآن مجید کے نازل ہونے (اور آپ کے مبعوث ہونے) سے پہلے میں نے آپ کو میدان عرفات میں دیکھا ہے۔ اور اس تاویل کے درست ہونے کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔

3764

Sahih Ibn Khuzaymah #3764

أَنَّ سَلْمَ بْنَ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ، وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلامُ أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ السَّلامُ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ، ثُمَّ يُفِيضُ مِنْهَا، قَالَتْ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199، فَهَذَا الْخَبَرُ دَالٌ عَلَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا أَمَرَ نَبِيَّهُ بِالْوُقُوفِ بِعَرَفَاتٍ، وَمُخَالَفَةِ قُرَيْشٍ فِي وُقُوفِهِمْ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَتَرْكِهُمُ الْخُرُوجَ مِنَ الْحَرَمِ لِتَسْمِيَتِهِمْ أَنْفُسَهُمُ الْحُمْسَ لِهَذِهِ الآيَةِ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199، أَيْ غَيْرُ قُرَيْشٍ الَّذِينَ كَانُوا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ اسْمَ النَّاسِ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِهِمْ إِذِ الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّ جَمِيعَ النَّاسِ لَمْ يَقِفُوا بِعَرَفَاتٍ، وَإِنَّمَا وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ بَعْضُهُمْ لا جَمِيعُهُمْ، وَفِي قَوْلِ جُبَيْرٍ: مَا كَانَ إِلا تَوْفِيقًا مِنَ اللَّهِ لَهُ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ أَمَرَهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ بِوَحْيٍ مُنَزَّلٍ عَلَيْهِ بِالْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ، إِذْ لَوْ كَانَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ كَانَ اللَّهُ قَدْ أَمَرَهُ بِالْوَقْفِ بِعَرَفَةَ عِنْدَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ لأَشْبَهَ أَنْ يَقُولَ: فَعَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا قُلْتُ إِنَّهُ جَائِزٌ أَنْ يَكُونَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ أَرَادَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ أَيْ جَمِيعُ الْقُرْآنِ، لأَنَّ جَمِيعَ الْقُرْآنِ لَمْ يَنْزِلْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ قَبْلَ هِجْرَتِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَإِنَّمَا نَزَلَ عَلَيْهِ بَعْضُ الْقُرْآنِ بِمَكَّةَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِالْمَدِينَةِ بَعْدَ الْهِجْرَةِ، وَاسْتَدْلَلْتُ بِأَنَّهُ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، جَمِيعَ الْقُرْآنِ لا أَنَّهُ أَرَادَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ.

EnglishUnverified translation

Narrated to us Salim ibn Junadah, who said: Narrated to us Abu Mu'awiyah, from Hisham, from his father, from Aisha (RA), who said: "The Quraysh and those who followed their religion used to stand (at the ritual of Wuquf) at Muzdalifah, and they were called Al-Hums. The rest of the Arabs used to stand at Arafah. When Islam came, Allah commanded His Prophet (ﷺ) to go to Arafat, stand there,

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش والے اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ ہی میں رُک جاتے تھے اور وہ حمس (دین میں بہت پختہ اور سخت لوگ کہلاتے تھے۔) جبکہ باقی سارے عرب لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے۔ پھر جب اسلام کا دور آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو میدان عرفات میں جانے اور وہاں ٹھہرنے کا حُکم دیا تو آپ میدان عرفات میں ٹھہرے پھر وہاں سے واپس مزدلفہ روانہ ہوئے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس حُکم کی وجہ سے تھا «ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ» [ سورة البقرة: 199 ] ”پھر تم بھی وہیں سے واپس لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عرفات میں ٹھہرنے کا حُکم دیا کہ آپ قریش کے مزدلفہ میں ٹھہرنے اور حرم کی حدود سے باہر نہ نکلنے کی مخالفت کریں کیونکہ وہ خود کوحمس (دین کے علمبر دار) کہلواتے تھے۔ اس آیت کے ذریعہ حُکم دیا «ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ» [ سورة البقرة: 199 ] ”پھر تم بھی وہیں سے واپس لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں“ اور یہ الفاظ بھی اس قسم سے ہیں جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ ”الناس“ کا اطلاق کچھ لوگوں پر بھی ہو جاتا ہے کیونکہ یقینی بات ہے کہ سارے لوگ میدان عرفات میں نہیں ٹھہرتے تھے بلکہ کچھ لوگ (قریش کے علاوہ) وہاں ٹھہرتے تھے سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کا یہ قول اور یہ کام آپ نے اللہ کی توفیق سے کیا تھا۔ اس میں دلیل ہے کہ اُس وقت تک اللہ تعالیٰ نے آپ پر وہی نازل کرکے آپ کو وقوف عرفات کا حُکم نہیں دیا تھا۔ کیونکہ اگر سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے نزدیک آپ کا عرفات میں ٹھہرنا اللہ تعالیٰ کے حُکم سے ہوتا تو وہ یہ الفاظ کہتے کہ مجھے بخوبی علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عرفات میں ٹھہرنے کا حُکم دیا ہے۔ اور میں نے یہ بات کی ہے ہوسکتا ہے کہ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ کی مراد یہ ہو کہ سارا قرآن نازل ہونے سے پہلے میں نے آپ کو عرفات میں کھڑے دیکھا۔ کیونکہ سارا قرآن آپ پر ہجرت مدینہ سے قبل مکّہ مکرّمہ میں نازل نہیں ہوا بلکہ کچھ قرآن ہجرت مدینہ سے پہلے مکّہ مکرّمہ میں نازل ہوا ہے اور کچھ مدینہ منوّرہ میں نازل ہوا ہے۔ اور میں نے اس کے اس قول سے یہ مراد لی ہے کہ سارا قرآن نازل ہونے سے پہلے کا یہ واقعہ ہے ان کی مراد یہ نہیں کہ آپ پر قرآن کی پہلی وحی سے بھی پہلے کا یہ واقعہ ہے۔ اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔

3765

Sahih Ibn Khuzaymah #3765

لأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: أَضْلَلْتُ جَمَلا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرَفَةَ أَتَتَبَّعُهُ، فَإِذَا أَنَا بِمُحَمَّدٍ وَاقِفًا فِي النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، وَذَلِكَ بَعْدَمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِنْ كَانَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جُرَيْجٍ قَدْ أَدْرَكَ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، فَهَذَا الْخَبَرُ يُبَيِّنُ أَنَّ تَأْوِيلَ خَبَرِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَيْ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ جَمِيعُ الْقُرْآنِ.

EnglishUnverified translation

### Muhammad ibn Ma'mar narrated to us, saying: Muhammad ibn Bakr informed us; Ibn Jurayj informed us; my father informed me, from Jubayr ibn Mut'im, who said: "I lost a camel of mine on the Day of Arafah, so I went to Arafah to track it down. There I found Muhammad (ﷺ) standing among the people at Arafah on his camel on the afternoon of the Day of Arafah. This was after the revelation had been sent down to him."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ والے دن میرا ایک اونٹ گم ہو گیا تو میں میدان عرفات میں اس کی تلاش میں تھا تو اچانک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پر عرفہ کی شام میدان عرفات میں لوگوں کے ساتھ ٹھہرے ہوئے دیکھا، اور یہ واقعہ آپ پر وحی کے نزول کے بعد کا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں، اگر عبد العزیز بن جریج نے سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو پایا ہو تو یہ روایت بیان کرتی ہے کہ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی روایت کی صحیح تاویل یہ ہے کہ یہ واقعہ آپ پر سارا قرآن نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔

3766

Sahih Ibn Khuzaymah #3766

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us by Al-Abbas ibn Al-Jabbar, who said: Narrated to us by Sufyan, from Amr, who said: I heard Muhammad ibn Jubayr ibn Mut'im, from his father, who said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے ایک اونٹ کو تلاش کرنے کے لئے عرفات گیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے دیکھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ الله کی قسم، بیشک آپ تو حمس (قریش) میں سے ہیں پھر آپ عرفات میں کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سال بھی عرفات میں وہیں کھڑے تھے جہاں آپ پہلے کھڑے ہوتے تھے۔

3767

Sahih Ibn Khuzaymah #3767

ثَنَاهُ ثَنَاهُ الْمَخْزُومِيُّ، وَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ: فَمَا لَهُ خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ لا تُجَاوِزُ الْحَرَمَ، تَقُولُ: نَحْنُ أَهْلُ اللَّهِ لا نَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ، وَلَمْ يَقُلْ كَانَ يَقِفُ بِعَرَفَةَ سِنِيهِ الَّتِي كَانَ بِهَا ، وَخَبَرُ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ

EnglishUnverified translation

** Narrated to us al-Makhzūmī (may Allah be pleased with him) who said: On the authority of Muḥammad ibn Jubayr, from his father (Jubayr ibn Muṭʿim, may Allah be pleased with him), who said: *"So why did he (the Prophet ﷺ) leave the Ḥaram? The Quraysh used to not go beyond the Ḥaram, saying: 'We are the people of Allah; we do not leave the Ḥaram.' And he (the Prophet ﷺ) did not say that he stood at ʿArafah in the year he was in."* And the narration of Rabīʿah ibn ʿAbbād (may Allah be pleased with him) is from this chapter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ (قریشی ہونے کے باوجود) حدود حرم سے باہر کیوں گئے ہیں۔ جبکہ قریش حدود حرم سے باہر نہیں نکلتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ والے لوگ ہیں، ہم حرم کی حدود سے نہیں نکلیں گے۔ لیکن یہ الفاظ بیان نہیں کیے کہ آپ اسی جگہ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں آپ پہلے ٹھہرا کرتے تھے۔ جناب ربیعہ بن عباد کی روایت بھی اس باب کے متعلق ہے۔

3768

Sahih Ibn Khuzaymah #3768

ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ ابن رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Yusuf ibn Musa narrated it to us, and Jarir narrated to us, on the authority of Ata ibn al-Sa'ib, on the authority of Ibn Rabi'ah, on the authority of his father, on the authority of a man of the Quraysh, who reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not envy one another, do not outbid one another unnecessarily, do not hate one another, do not turn away from one another, do not let any of you sell against the sale of another, and be servants of Allah as brothers." [Commentary: This hadith is recorded in Sunan Ibn Majah and classified as *Hasan* (sound) by hadith scholars. The term "unnecessary outbidding (tanajush)" refers specifically to raising the price of an item a person is already in the process of purchasing with no genuine intent to buy it, solely to harm the original prospective buyer. The prohibition of selling against another's sale bars undercutting an ongoing sales negotiation by offering a lower price for the same goods while the initial deal is still pending. The hadith outlines core Islamic etiquettes for fair commercial practice and healthy social relations, emphasizing the brotherhood that must exist among all Muslims.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیعہ بن عباد اپنے والد کے واسطے سے ایک قریشی آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاہلیت میں دیکھا کہ آپ میدان عرفات میں مشرکین کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے۔ پھر میں نے اسلامی دور میں بھی اسی جگہ ٹھہرے ہوئے دیکھا۔ تو میں جان گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کام کی توفیق دی تھی۔

3769

Sahih Ibn Khuzaymah #3769

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخْطَلَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us Yunus bin Abd al-A'la, who said: Narrated to us Ibn Wahb, who said: Malik narrated to us, from Ibn Shihab, from Anas bin Malik (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) entered Makkah in the Year of Conquest (Fath), wearing a helmet on his head. When he removed it, a man came to him and said: "O Messenger of Allah, Ibn Khatal is clinging to the curtains of the Ka'bah." The Messenger of Allah

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکّہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر مبارک پر خَود تھا۔ جب آپ نے خَود اُتارا تو ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ابن خطل کعبہ شریف کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔ “ امام ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ اُس دن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم محرم نہیں تھے۔

3770

Sahih Ibn Khuzaymah #3770

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَ مَعِي رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Isa narrated to us, saying: Salamah narrated to us, on the authority of Muhammad ibn Ishaq, on the authority of Ja'far ibn al-Fadl ibn al-Hasan ibn Amr ibn Umayyah al-Damri, on the authority of his father, on the authority of his grandfather, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) sent me, and he sent with me a man from the Ansar, and he said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب امیہ الضمری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے ساتھ ایک انصاری شخص کو بھیجا اور حُکم دیا: ”ابوسفیان کے پاس جاؤ اور اسے قتل کردو۔“ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ اور بیان کرتے ہیں۔ پھر جب ہم مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تو میرے ساتھی نے مجھ سے کہا، کیا خیال ہے کیا ہم پہلے بيت اللہ شریف کا طواف کرکے دو رکعت نماز نہ پڑھ لیں؟ میں نے کہا کہ مجھے اہلِ مکّہ کی عادت و طریقے کا علم ہے کہ جب رات کا اندھیرا ہوتا ہے تو وہ اپنے گھروں کے صحن میں پانی چھڑک کر محفل جما کر بیٹھتے ہیں اور میں مکّہ مکرّمہ میں چتکبرے گھوڑے کے مالک کو بھی پہچانتا ہوں (اس لئے ابھی تم پہلے اصلی کام کی طرف آؤ) لیکن وہ مسلسل اصرار کرتا رہا اور وہ مجھے اس بات پر آمادہ کرتا رہا حتّیٰ کہ ہم بیت اللہ شریف پہنچ گئے اور ہم نے طواف کے سات چکّر لگائے اور دو رکعات ادا کیں پھر ہم وہاں سے نکل گئے۔

3771

Sahih Ibn Khuzaymah #3771

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ وَاضِحٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، فَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُؤَالِ جِبْرِيلَ إِيَّاهُ عَنِ الإِسْلامِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Yusuf bin Wadih al-Hashimi narrated to us, saying: Al-Mu'tamir bin Sulayman narrated to us, on the authority of his father, on the authority of Yahya bin Ya'mur, who mentioned the Hadith of Ibn Umar (RA) from the Prophet (ﷺ) regarding the question of Jibril (Gabriel) to him about Islam. He said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت جبرائیل عليه السلام کے متعلق حدیث بیان کرتے ہیں، حضرت جبرائیل عليه السلام کے سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ کہ تُو نماز قائم کرے، تُو زکوة ادا کرے، حج کرے اور عمرہ ادا کرے اور جنابت کی وجہ سے غسل کرے، اور تُو مکمّل وضو کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے۔ حضرت جبرائیل عليه السلام نے کہا کہ جب میں یہ کام کر لوںگا تو کیا میں مسلمان ہوںگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔

3772

Sahih Ibn Khuzaymah #3772

ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us 'Abdullah ibn Sa'id al-Ashaj, who said: Narrated to us Abu Khalid, on the authority of Ibn Jurayj, from Nafi', from Ibn 'Umar (RA), who said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سعید اشج نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: ابو خالد نے ہمیں بتایا، ابن جریج کی روایات پر، نافع کی روایات پر، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا:

3773

Sahih Ibn Khuzaymah #3773

ثنا الأَشَجُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Al-Ashajj, narrated to us Abu Khalid, on the authority of Ibn Jurayj, from Abu Zubayr, from Jabir (RA), who said: --- **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اشج نے ہمیں بتایا، ابو خالد نے ہمیں بتایا، ابن جریج کی روایات پر، ابو زبیر کی روایات پر، جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا:

3774

Sahih Ibn Khuzaymah #3774

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ يَدُلُّ عَلَى تَوْهِينِ خَبَرِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ :

EnglishUnverified translation

** Abu Bakr (RA) said: "This report serves to weaken the report of al-Hajjaj ibn Arta'ah from Ibn al-Munkadir, from Jabir (RA)."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی یہ موقوف حدیث ان کی درج ذیل مرفوع حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے . جسے ابن منکدر بیان کرتا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، کیا عمرہ واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اگرتم عمرہ ادا کرو تو وہ افضل واعلیٰ کام ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں، اگر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہوتی کہ عمره واجب نہیں ہے تو وہ کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی مخالفت نہ کرتے (اور عمرے کے واجب ہونے کا فتویٰ نہ دیتے) جناب ضمّی بن معبد سے مروی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قصّے میں یہ دلیل موجود ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی عمرہ واجب ہے۔ (وہ قصّہ درج ذیل ہے)۔

3775

Sahih Ibn Khuzaymah #3775

ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ الضَّبِّيُّ بْنُ مَعْبَدٍ: كُنْتُ رَجُلا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا، فَأَسْلَمْتُ، فَكُنْتُ حَرِيصًا عَلَى الْجِهَادِ، وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَتَيْنِ عَلَيَّ، فَأَتَيْتُ رَجُلا مِنْ عَشِيرَتِي، يُقَالُ لَهُ: هُدَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: يَا هَنَاهُ، إِنِّي حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ، وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَتَيْنِ عَلَيَّ، فَكَيْفَ لِي أَنْ أَجْمَعَهُمَا؟ فَقَالَ: اجْمَعْهَا، ثُمَّ اذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، قَالَ: فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْعُذَيْبَ لَقِيَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَزِيدُ بْنُ صُوحَانَ، وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا مَعًا فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ: مَا هَذَا بِأَفْقَهَ مِنْ بَعِيرِهِ، فَكَأَنَّمَا أُلْقِيَ عَلَيَّ جَبَلٌ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Yusuf bin Musa, who said: Narrated to us by Jarir, from Mansur, from Abu Wa'il, who said: Ad-Dabbī bin Ma'bad said, "I was an Arab Christian, then I embraced Islam. I was eager to participate in Jihad, and I found that Hajj and Umrah were obligatory upon me. So, I went to a man from my tribe named Hudaym bin Abdullah and said, 'O Hanah! I am eager to perform Jihad, and I have found that Hajj and

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ضمّی بن معبد بیان کرتے ہیں کہ میں ایک اعرابی عیسائی شخص تھا۔ پھر میں مسلمان ہوگیا تو مجھے جہاد کا بڑا شدید شوق تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ مجھ پر حج اور عمرہ بھی فرض ہیں۔ لہٰذا میں اپنے خاندان کے ایک شخص ہدیم بن عبداللہ کے پاس آیا تو اُس سے کہا کہ اے محترم، مجھے جہاد کرنے کا بڑا شوق ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ مجھ پر حج اور عمرہ بھی فرض ہوچکے ہیں۔ میں ان دونوں کو کیسے جمع کرسکتا ہوں؟ اُنھوں نے جواب دیا کہ تم انھیں اکٹھا ادا کرلو اور پھر تمھیں جو جانور میسر ہو اس کی قربانی کردو۔ لہٰذا میں نے دونوں کا اکٹھا احرام باندھ کر تلبیہ پکارا۔ پھر جب میں عذیب مقام پر پہنچا تو مجھے سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے اور میں حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکار رہا تھا۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ شخض تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ سمجھدار نہیں ہے۔ اُن کی یہ بات مجھ پر ایسی شاق گزری گویا کہ مجھ پر پہاڑ گرا دیا گیا ہو حتّیٰ کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُن سے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین، میں ایک بدو عیسائی آ دمی تھا اور اب میں مسلمان ہوں اور مجھے جہاد کا بیحد شوق ہے اور میں نے پایا ہے کہ مجھ پر حج اور عمرہ واجب ہیں۔ لہٰذا میں اپنے خاندان کے ایک شخص ہدیم بن عبداللہ کے پاس گیا اور اُس سے عرض کیا کہ اے محترم مجھے جہاد کرنے کا بہت شوق ہے اور مجھ پر حج اور عمرہ بھی واجب ہوچکے ہیں۔ میں ان دونوں عبادتوں کو اکٹھا کیسے ادا کروں؟ اُس نے جواب دیا کہ دونوں کو اکٹھا ادا کرلو، اگر پھر تمھیں جانور میسر ہو تو اس کی قربانی کردو۔ لہٰذا میں نے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا ہے، پھر جب میں عذیب مقام پر پہنچا تو مجھے سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے جبکہ میں دونوں کا احرام باندھے ان کا تلبیہ پکار رہا تھا۔ میرا تلبیہ سن کر ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ یہ شخص تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ بیوقوف ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمھیں اپنے نبی کی سنّت پرعمل کرنے کی توفیق ملی ہے۔ (حج قران تو سنّت نبوی ہے اس لئے ان کی غلط بات کا برا نہ مناؤ اور اپنا عمل جاری رکھو)۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ضمی بن معبد کے اس قول کی تردید نہیں کی کہ مجھ پر حج اور عمرہ واجب ہیں۔ یہ واضح ترین دلیل ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک عمرہ واجب ہے اور اس کا حُکم حج کی طرح ہے۔ کیونکہ اگر عمرہ ان کے نزدیک نفلی ہوتا تو وہ ضمی بن معبد کے اس قول کی تردید کر دیتے۔ اور فرماتے کہ ہم تم پر عمره واجب نہیں سمجھتے۔ بلکہ میرے نزدیک تم پر صرف حج فرض ہے۔ جناب ہدیم بن عبداللہ کے فتوے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انکار نہ کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک جس میقات سے احرام باندھا جائے وہاں سے قربانی کا جانور ساتھ لے جائے بغیر بھی حج قِران کر نا جائز ہے۔ اور اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ حج قِران کرنے والا بھی میسر قربانی ذبح کرسکتا ہے جیسا که حج تمتع کرنے والا کرتا ہے، ان علماء کا موقف درست نہیں جو کہتے ہیں کہ حج قِران کے لئے احرام باندھنے والے کے لئے میقات سے قربانی کا اونٹ یا گائے ساتھ لیکر جانا ضروری ہے۔

3776

Sahih Ibn Khuzaymah #3776

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، قَالَ: وَإِذَا النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ يُصَلُّونَ صَلاةَ الضُّحَى، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، ثُمّ قَالَ: كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Yusuf ibn Musa, narrated to us Jarir, on the authority of Mansur, on the authority of Mujahid, who said: "Urwah ibn al-Zubayr and I entered the Masjid. At that time, Abdullah ibn Umar was sitting by the room of Aisha (RA). He (RA) said: 'The people were praying the Duha prayer in the Masjid, so we asked him about their prayer.' He (RA) said: 'It is an innovation.' Then he (RA) said: 'How many 'Umrah did the Messenger of Allah (ﷺ) perform?'"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام مجاہد بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت عروہ بن زبیر رحمه الله مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر تشریف فرما ہیں۔ جبکہ لوگ مسجد میں نماز چاشت ادا کررہے تھے۔ ہم نے سیدنا ابن رضی اللہ عنہما سے اُن لوگوں کی نماز کے بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے۔ پھر سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے ہیں؟ اُنھوں نے جواب دیا کہ چار عمرے کیے ہیں۔

3777

Sahih Ibn Khuzaymah #3777

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Bundār, narrated to us Abū Dāwūd, narrated to us Hammām, from Qatādah who said: I said to Anas ibn Mālik, "How many times did the Messenger of Allāh (ﷺ) perform 'Umrah?" He said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قتاده رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے ہیں، اُنھوں نے فرمایا کہ آپ نے چار عمرے کیے ہیں اور صرف ایک حج کیا ہے، آپ کا ایک عمرہ آپ کے حج کے ساتھ تھا۔

3778

Sahih Ibn Khuzaymah #3778

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ali bin Al-Mundhir, who said: Narrated to us Ibn Numayr, on the authority of Ubaydullah, on the authority of Sumayy, on the authority of Abu Salih, on the authority of Abu Hurairah (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ ان تمام گناہوں کا کفّارہ بنتا ہے جو موجودہ عمرے اور گزشتہ عمرے کے دوران سرزد ہوئے ہوں اور حج مبرور کا بدل تو صرف جنّت ہی ہے۔

3779

Sahih Ibn Khuzaymah #3779

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ سُمَيٌّ . ح وحَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

EnglishUnverified translation

Abd al-Jabbar ibn al-Ala narrated to us, saying: Sufyan narrated to us, saying: Sumayy narrated to me. [In another narration]: Hawthara ibn Muhammad narrated to us, saying: Sufyan narrated to us, from Sumayy, from Abu Salih, from Abu Huraira (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار بن العلاء نے ہمیں بتایا، سفیان نے ہمیں بتایا، اس نے کہا: سمی نے مجھے بتایا۔ اور ہوثیرہ بن محمد نے ہمیں بتایا، سفیان نے ہمیں بتایا، سمی سے، ابو صالح سے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

3780

Sahih Ibn Khuzaymah #3780

وَفِي الْخَبَرِ- عِلْمِي- دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْعُمْرَةَ وَاجِبَةٌ كَالْحَجِّ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ أَنَّ عَلَيْهِنَّ الْعُمْرَةَ كَمَا أَنَّ عَلَيْهِنَّ الْحَجَّ

EnglishUnverified translation

** It is narrated in the report—with knowledge [as evidence]—that it indicates that the minor pilgrimage (*‘umrah*) is obligatory just as the major pilgrimage (*hajj*) is obligatory, since the Prophet (ﷺ) made it known that it (*‘umrah*) is obligatory upon them just as the major pilgrimage (*hajj*) is obligatory upon them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میرے علم کے مطابق اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حج کی طرح عمرہ بھی واجب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ہے کہ عورتوں کے اوپر جس طرح حج کرنا ضروری ہے اسی طرح عمرہ کرنا بھی ضروری ہے

3781

Sahih Ibn Khuzaymah #3781

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

Ali bin Al-Mundhir narrated to us, saying: Ibn Fudail narrated to us, saying: Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Aisha bint Talhah, from Aisha, the Mother of the Believers (RA), who said: I said, "O Messenger of Allah (ﷺ), is there Jihad for women?" He (ﷺ) said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُن پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں لڑائی نہیں ہے، وہ حج اور عمرہ ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ آپ کے اس فرمان کہ ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں لڑائی بھی نہیں ہے اور آپ نے انھیں بتایا کہ ان پر واجب جہاد حج اور عمره کرنا ہے، اس میں یہ دلیل ہے کہ عمرہ حج کی طرح واجب ہے۔ کیونکہ آپ کا فرمان ”عَلَيْهِنَّ“ (ان پر ہے) کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ ان پر واجب ہے کیونکہ کسی نفلی عبادت کے لئے یہ کہنا درست نہیں کہ وہ علی المرء (آدمی پر ہے)۔ (یہ اسی وقت کہا جاتا ہے جب کسی چیز کا وجوب بتانا مقصود ہو)۔

3782

Sahih Ibn Khuzaymah #3782

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ مَعْقِلٍ مَنْ يَسْأَلُهَا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَتْ أَنَّ زَوْجَهَا جَعَلَ بَكْرًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَنَّهَا أَرَادَتِ الْعُمْرَةَ، فَسَأَلَتْ زَوْجَهَا الْبَكْرَ، فَأَبَى عَلَيْهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْطِيَهَا، وَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Muhammad ibn Ja'far, narrated to us Shu'bah, from Ibrahim ibn Muhajir, from Abu Bakr ibn 'Abd al-Rahman ibn al-Harith who said: Marwan sent someone to Umm Ma'qil to ask her about this hadith. She narrated that her husband had dedicated a young camel (bakar) in the way of Allah. She wanted to perform 'Umrah, so she asked her husband for the young camel, but he refused. She then came to the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned this to him. The Prophet (ﷺ) commanded her husband to give it to her and said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بیان کرتے ہیں کہ مروان نے سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک شخص کو یہ حدیث پوچھنے کے لئے بھیجا تو اُنھوں نے بیان کیا کہ ان کے خاوند نے ایک اونٹ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف کردیا اور سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے خاوند سے وہ اونٹ سفر کے لئے مانگا۔ خاوند نے انھیں اونٹ دینے سے انکار کردیا، چنانچہ سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ کو یہ بات بتائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے خاوند کو اونٹ دینے کا حُکم دیا اور فرمایا: ”حج اور عمرہ بھی فی سبیل اللہ میں شامل ہے اور بیشک رمضان المبارک میں کیا ہوا عمرہ حج کے برابر ہے یا حج سے کافی ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ روایت اس شخص کے موقف کے خلاف دلیل ہے جو کہتا ہے کہ جس نے کوئی چیز اللہ کی راہ میں وقف کی اور پھر اسے اپنے قبضے اور استعمال میں رکھا تو یہ وقف جائز نہیں ہے۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو معقل رضی اللہ عنہ کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے اونٹ کو فی سبیل اللہ وقف کردیں اور اپنے ذاتی تصرف سے بھی نہ نکالیں۔ اور یہ روایت امام شافعی رحمه الله کے مذہب کے صحیح ہونے کی دلیل ہے کہ وقف زبان کے اقرار سے مکمّل ہوجاتا ہے اگرچہ وقف کرنے والا اس چیز کو اپنے قبضے اور تصرف سے نہ بھی نکالے۔

3783

Sahih Ibn Khuzaymah #3783

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Muhammad ibn Bashshar, narrated to us Abu Bakr al-Hanafi, narrated to us Aflah, who said: I heard al-Qasim ibn Muhammad narrate from 'A'ishah (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me while I was weeping, and he said: ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ (مقام سرف پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تمھیں کیا ہوا ہے؟ “ اماں جی نے عرض کیا کہ مجھے نماز نہیں پڑھنی (ایام ماہواری شروع ہو گئے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حيض تمھارے لئے نقصان کا باعث نہیں ہے۔ یقیناً تُو بھی آدم عليه السلام کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی ہے، الله تعالیٰ نے جو چیز تم پر لازم کی ہے وہ سب عورتوں پر کی ہے۔“ پر مکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا حتّیٰ کہ آپ وادی محصب میں ٹھہرے تو ہم بھی آپ کے ساتھ وہاں ٹھہرے۔ پھر آپ نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بلایا تواُنھیں حُکم دیا کہ ”اپنی بہن کو لیکر حدود حرم سے باہر چلے جاؤ تا کہ وہ عمرے کا احرام باندھ لیں (اور عمرہ ادا کر لے)۔

3785

Sahih Ibn Khuzaymah #3785

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ الْعَنْبَرِيُّ ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا حُجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَحُجَّنِي عَلَى نَاضِحِكَ، قَالَ: ذَاكَ يَعْتَقِبُهُ أَنَا وَوَلَدُكِ، قَالَتْ: حُجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلانٍ، قَالَ: ذَلِكَ حَبِيسُ سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَتْ: فَبِعْ تَمْرَتَكَ، قَالَ: ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ زَوْجَهَا، فَقَالَتْ: أَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَسَلْهُ مَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ، فَأَتَى زَوْجُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي تُقْرِئُكَ السَّلامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَإِنَّهَا كَانَتْ سَأَلَتْنِي أَنْ أَحُجَّ بِهَا مَعَكَ، فَقُلْتُ لَهَا: لَيْسَ عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: حُجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلانٍ، فَقُلْتُ لَهَا: ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ حَجَجْتَهَا، فَكَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَتْ: حُجَّنِي عَلَى نَاضِحِكَ، فَقُلْتُ: ذَاكَ يَعْتَقِبُهُ أَنَا وَوَلَدُكُ، قَالَتْ: فَبِعْ تَمْرَتَكَ، فَقُلْتُ: ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِنْ حِرْصِهَا عَلَى الْحَجِّ، وَإِنَّهَا أَمَرَتْنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ قَالَ:

EnglishUnverified translation

### Narrated to us by Bisr bin Hilal, who said: Narrated to us by Abd al-Warith bin Sa'id al-Anbari, on the authority of Amir al-Ahwal, on the authority of Bakr bin Abdullah al-Muzani, on the authority of Ibn Abbas (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) intended to perform Hajj. A woman said to her husband, "Perform Hajj with me alongside the Messenger of Allah (ﷺ)." He replied, "I do not have the means to

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کرنے کا ارادہ کیا تو ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرادو۔ اُس نے جواب دیا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے جس پر بٹھا کر میں تمھیں حج کرادوں۔ عورت نے کہا کہ مجھے اپنے پانی لانے والے اونٹ پر سوار کرکے حج کرادو۔ اُس نے کہا کہ اس پر تو میں اور تیرا بیٹا بیٹھیں گے۔ عورت کہنے لگی مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرادو شوہر نے جواب دیا کہ وہ اونٹ تو اللہ کی راہ (جہاد) میں وقف ہے۔ بیوی کہتی ہے کہ اپنی کھجوریں بیچ کر مجھے حج کرادو۔ خاوند کہتا ہے کہ وہ تو میری اور تمھاری خوراک ہے۔ پھر جب رسول اللہ سے مکّہ مکرّمہ سے حج کرکے واپس تشریف لے آئے تو اُس عورت نے اپنے شوہر کو آپ کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ رسول الله کو میرا سلام کہنا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر ہوں اور آپ سے یہ سوال کرو کہ کونساعمل آپ کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہو سکتا ہے؟ چنانچہ اُس کا شوہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میری بیوی آپ کو السلام علیکم و رحمة اللہ کہتی ہے۔ اور اُس نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ میں اُسے آپ کے ساتھ حج کرادوں لیکن میں نے اُس سے کہا کہ میرے پاس تمھیں سوار کرنے کے لئے سواری نہیں ہے۔ اُس نے کہا کہ مجھے فلاں اونٹ پر سوار کرکے حج کرادو۔ میں نے جواب دیا کہ وہ اونٹ اللہ کی راہ جہاد میں وقف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، اگر تم اُسے اسی اونٹ پر حج کرا دیتے تو یہ عمل بھی فی سبیل اللہ شمار ہوتا۔ “ اُس عورت نے کہا کے اپنے پانی پلانے والے اونٹ پر حج کرادو تو میں نے کہا کہ اس پر میں اور تمھارا بیٹا بیٹھے گا۔ اُس نے پھر کہا کہ اپنی کھجوریں بیچ دو (اور مجھے حج کرادو) میں نے کہا کہ وہ میری اور تمھاری خوراک ہے تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس عورت کی حج کرنے کی حوص پرہنس دیے۔ اور اُس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ سے یہ سوال پوچھوں کہ کونسا عمل آپ کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُسے میری طرف سے السلام علیکم ورحمة اللہ کہنا اور اُسے بتانا کہ رمضان المبارک میں عمرہ میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔“

3786

Sahih Ibn Khuzaymah #3786

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فِي قَوْلِهِ: بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ سورة التوبة آية 1، قَالَ:

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Ahmad ibn Manṣūr al-Ramādī — narrated to us ‘Abd al-Razzāq — informed me Ma‘mar — on the authority of al-Zuhrī — on the authority of Ibn al-Musayyib — from Abū Hurayrah (RA), regarding the statement of Allah, the Exalted: *"A declaration of disavowal by Allah and His Messenger..."* (Qur’an 9:1) He said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب سعید بن مسیب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے الله تعالیٰ کے اس فرمان «بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» [ سورة التوبة: 1 ] کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے روانہ ہوئے تو آپ نے جعرانہ سے عمرہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس حج کا امیر بنا کر بھیجا۔

3787

Sahih Ibn Khuzaymah #3787

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ:

EnglishUnverified translation

Narrated to us Al-Rabi' ibn Sulayman and Bahrun ibn Nasr, who said: Narrated to us Ibn Wahb, who informed us that Ibn Abi al-Zinad reported from Alqama ibn Abi Alqama, from his mother, from Aisha (RA), that the Messenger of Allah (ﷺ) addressed the people during the Farewell Pilgrimage and said:

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال لوگوں کو حُکم دیا تو فرمایا: ”جوشخص حج سے پہلے صرف عمرہ کرکے واپس جانا چاہتا ہو وہ جاسکتا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت امام شافعی رحمه الله کے قول کے درست ہونے کی دلیل ہے کہ حج کا وقت وسیع ہے۔ کوئی شخص حج واجب ہونے کے بعد اپنی موت سے پہلے پہلے کرسکتا ہے۔ کیونکہ اگر اس سال ادا کرنا ضروری ہوتا جس سال کسی شخص پر واجب ہوا ہے جیسا کہ بعض کم علم حضرات کا خیال ہے تو پھر حج کو مؤخر کرنے والا شخص الله تعالیٰ کا نافرمان شمار ہوتا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے صحابہ کرام کو اجازت دیدی تھی کہ جو شخص حج سے پہلے صرف عمرہ کرکے اپنے وطن لوٹنا چاہے وہ جاسکتا ہے اور اُس وقت حج میں صرف چند دن باقی تھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجة الوداع کے لئے مکّہ مکرّمہ میں چار ذوالحجہ کو داخل ہوئے تھے اور حج میں صرف پانچ دن باقی تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ نے عمرہ کرکے واپس جانے والوں کو اجازت دیدی کہ جو مجھ سے پہلے عمرہ ادا کرکے واپس جانا پسند کرتا ہے وہ چلا جائے۔