Sahih Ibn Khuzaymah #3077
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ الْعَنْبَرِيُّ ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا حُجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَحُجَّنِي عَلَى نَاضِحِكَ، قَالَ: ذَاكَ يَعْتَقِبُهُ أَنَا وَوَلَدُكِ، قَالَتْ: حُجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلانٍ، قَالَ: ذَلِكَ حَبِيسُ سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَتْ: فَبِعْ تَمْرَتَكَ، قَالَ: ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ زَوْجَهَا، فَقَالَتْ: أَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَسَلْهُ مَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ، فَأَتَى زَوْجُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي تُقْرِئُكَ السَّلامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَإِنَّهَا كَانَتْ سَأَلَتْنِي أَنْ أَحُجَّ بِهَا مَعَكَ، فَقُلْتُ لَهَا: لَيْسَ عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: حُجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلانٍ، فَقُلْتُ لَهَا: ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ حَجَجْتَهَا، فَكَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَتْ: حُجَّنِي عَلَى نَاضِحِكَ، فَقُلْتُ: ذَاكَ يَعْتَقِبُهُ أَنَا وَوَلَدُكُ، قَالَتْ: فَبِعْ تَمْرَتَكَ، فَقُلْتُ: ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِنْ حِرْصِهَا عَلَى الْحَجِّ، وَإِنَّهَا أَمَرَتْنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ قَالَ: أَقْرِئْهَا مِنِّي السَّلامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ"""
EnglishUnverified translation
** Narrated to us Bishr ibn Hilal who said: Narrated to us Abd al-Warith ibn Sa'id al-'Anbari, on the authority of 'Amir al-Ahwal, on the authority of Bakr ibn 'Abd Allah al-Muzani, on the authority of Ibn 'Abbas (RA) who said: The Messenger of Allah (ﷺ) intended to perform Hajj. A woman said to her husband, "Let me perform Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ)." He replied, "I do not have anything with which I can take you for Hajj." She said, "Then let me perform Hajj on your riding camel." He said, "That is used by me and my child." She said, "Then let me perform Hajj on so-and-so's camel." He said, "That is held in trust for the cause of Allah." She said, "Then sell your dates." He said, "That is my and your sustenance." When the Messenger of Allah (ﷺ) returned from Makkah, her husband sent her to him. She said, "Convey my greetings and the mercy of Allah to the Messenger of Allah (ﷺ), and ask him what equals performing Hajj with him." So her husband came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Messenger of Allah, my wife sends her greetings and the mercy of Allah to you. She had asked me to take her for Hajj with you. I told her I did not have anything with which I could take her for Hajj. She said, 'Then let me perform Hajj on your riding camel.' I told her that is used by me and my child. She said, 'Then let me perform Hajj on so-and-so's camel.' I told her that is held in trust for the cause of Allah. The Prophet (ﷺ) said, 'If you had taken her for Hajj, it would have been in the cause of Allah.' She said, 'Then let me perform Hajj on your riding camel.' I told her that is used by me and my child. She said, 'Then sell your dates.' I told her that is my and your sustenance." The Messenger of Allah (ﷺ) laughed in amazement at her eagerness for Hajj. Then she instructed me to ask you what equals performing Hajj with you. He (ﷺ) said: "Convey my greetings and the mercy of Allah to her, and inform her that performing 'Umrah in Ramadan is equivalent to Hajj with me." ---
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کرنے کا ارادہ کیا تو ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرادو۔ اُس نے جواب دیا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے جس پر بٹھا کر میں تمھیں حج کرادوں۔ عورت نے کہا کہ مجھے اپنے پانی لانے والے اونٹ پر سوار کرکے حج کرادو۔ اُس نے کہا کہ اس پر تو میں اور تیرا بیٹا بیٹھیں گے۔ عورت کہنے لگی مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرادو شوہر نے جواب دیا کہ وہ اونٹ تو اللہ کی راہ (جہاد) میں وقف ہے۔ بیوی کہتی ہے کہ اپنی کھجوریں بیچ کر مجھے حج کرادو۔ خاوند کہتا ہے کہ وہ تو میری اور تمھاری خوراک ہے۔ پھر جب رسول اللہ سے مکّہ مکرّمہ سے حج کرکے واپس تشریف لے آئے تو اُس عورت نے اپنے شوہر کو آپ کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ رسول الله کو میرا سلام کہنا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر ہوں اور آپ سے یہ سوال کرو کہ کونساعمل آپ کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہو سکتا ہے؟ چنانچہ اُس کا شوہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میری بیوی آپ کو السلام علیکم و رحمة اللہ کہتی ہے۔ اور اُس نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ میں اُسے آپ کے ساتھ حج کرادوں لیکن میں نے اُس سے کہا کہ میرے پاس تمھیں سوار کرنے کے لئے سواری نہیں ہے۔ اُس نے کہا کہ مجھے فلاں اونٹ پر سوار کرکے حج کرادو۔ میں نے جواب دیا کہ وہ اونٹ اللہ کی راہ جہاد میں وقف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، اگر تم اُسے اسی اونٹ پر حج کرا دیتے تو یہ عمل بھی فی سبیل اللہ شمار ہوتا۔ “ اُس عورت نے کہا کے اپنے پانی پلانے والے اونٹ پر حج کرادو تو میں نے کہا کہ اس پر میں اور تمھارا بیٹا بیٹھے گا۔ اُس نے پھر کہا کہ اپنی کھجوریں بیچ دو (اور مجھے حج کرادو) میں نے کہا کہ وہ میری اور تمھاری خوراک ہے تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس عورت کی حج کرنے کی حوص پرہنس دیے۔ اور اُس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ سے یہ سوال پوچھوں کہ کونسا عمل آپ کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُسے میری طرف سے السلام علیکم ورحمة اللہ کہنا اور اُسے بتانا کہ رمضان المبارک میں عمرہ میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔“