Sahih Ibn Khuzaymah #227
نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، نا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا، وَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الأَنْصَارِ: لا حَتَّى يَدْفُقَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: أَنَا آتِيكُمْ بِالْخَبَرِ، فَقَامَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأنَا أَسْتَحِي مِنْهُ، فَقَالَتْ: لا تَسْتَحِ أَنْ تَسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ تَسْأَلُ عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ، فَإِنَّمَا أنَا أُمُّكَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ، وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، وَجَبَ الْغُسْلُ"""
EnglishUnverified translation
On the authority of Abu Musa Muhammad bin Al-Muthanna, on the authority of Muhammad bin Abdullah Al-Ansari, on the authority of Hisham bin Hassan, on the authority of Humaid bin Hilal, on the authority of Abu Burdah, On the authority of Abu Musa Al-Ash’ari, they were sitting, and the Ansar who were present said: Not until it flows. Abu Musa said: I will bring you the news. So he went to Aisha, may God Almighty be pleased with her, and greeted her. Then he said: I want to ask you about something that I am ashamed of. She said: Do not be ashamed. To ask about something that you would ask your mother who gave birth to you about, for I am only your mother. He said: I said: What necessitates washing? She said: I fell upon the expert. The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “If he sits among its four people, and the circumcision touches the circumcision, it is obligatory "washing"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (صحابہ کرام) بیٹھے ہوئے تھے تو اُنہوں نے غسل واجب کرنے والی چیز کا تذکرہ کیا۔ حاضرین میں ایک مہاجر صحابی نے فرمایا کہ جب ختنہ (شرمگاہ) ختنے سے مل جائے تو غسل واجب ہو جا تا ہے حاضرین میں سے ایک انصاری صحابی نے فرمایا کہ نہیں حتیٰ کہ وہ (منی) زوراور جوش سے نکل جا ئے۔ (اس تذکرے کو سن کر) سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں اس کے متعلق خبر لا کر دیتا ہوں۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اُنہیں سلام کیا، پھر عرض کی کہ میں آپ سے ایک چیز کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں مگر اس سے شرماتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، ایسا سوال پوچھتے ہوئے مت شرماؤ جسے تم اپنے جننے والی (حقیقی) ماں سے پوچھ سکتے ہو۔ بیشک میں بھی تمہاری ماں ہوں “ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم علم والے (باخبر اور مسئلے سےواقف) کے پاس آئے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب (مرد) عورت کےچاروں شاخوں کےدرمیان بیٹھ گیا اور ختنہ ختنے سے مل گیا تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔“